اگرمُسلمان رمضان کے دوران ایک مُلک سے دوسرے مُلک منتقل ہوجائے ()

علمی تحقیق وافتاء ودعوت وارشاد کی دائمی کمیٹی

 

سوال:وہ مسلمان جو رمضان میں ایک ملک سےدوسرے ملک میں منتقل ہو جائےجہاں پرروزوں کی ابتداءمیں اختلاف ہوتووہ کیا کرے ؟
اگرمُسلمان رمضان کے دوران ایک مُلک سے دوسرے مُلک منتقل ہوجائے

|

اگرمُسلمان رمضان کے دوران ایک مُلک سے دوسرے مُلک جائے

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی :مستقل دائمی کمیٹی،سعودی عرب

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق:اسلام ہاؤس ڈاٹ کام

 إذا انتقل المسلم إلى بلد آخر أثناء رمضان

فتوى: اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء بالمملكة العربية السعودية

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:موقع دارالإسلام

اگرمُسلمان رمضان کے دوران ایک مُلک سے دوسرے مُلک منتقل ہوجائے

 :1277 سوال:وہ مسلمان جو رمضان میں ایک ملک سےدوسرے ملک میں منتقل ہو جائےجہاں پرروزوں کی ابتداءمیں اختلاف ہوتووہ کیا کرے ؟

Published Date: 2004-11-23

جواب:

الحمد للہ :

جب انسان کسی ملک میں وہاں کےباشندوں کودیکھےکہ انہوں نےروزوں کی ابتدا کردی ہےتواس پر بھی ان کےساتھ روزے رکھناواجب ہےکیونکہ اس کاحکم وہاں کےرہائشی لوگوں کے مطابق ہوگا، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :

( الصوم يوم تصومون ، والإفطار يوم تفطرون والأضحى يوم تضحون )

’’روزہ اس دن ہےجس دن تم روزہ رکھواورعیدالفطراس دن ہےجس دن تم افطارکرو اورعیدالاضحی اس دن ہےجس دن تم عیدالاضحی مناؤ ‘‘۔سنن ابوداوودمیں اسےجیدسند کےساتھ روایت کیا گیاہے۔ابوداوود میں اوراس کے علاوہ بھی شواہد موجودہیں ۔

اوربالفرض اگروہ اس ملک سےجہاں اس نےاپنےگھروالوں کےساتھ روزوں کی ابتداکی اورپھردوسرےملک میں منتقل ہوا توروزہ رکھنےاورافطارکرنےمیں اس کا حکم اس ملک کے باشندوں کےساتھ ہی ہوگاجہاں وہ منتقل ہواہے اوروہ انہی لوگوں کے ساتھ عیدالفطر کرےگااگرچہ وہ لوگ اس کےملک سےپہلےہی عیدکریں لیکن اگراس نےانتیس دن سےپہلےعیدکرلی تواس کے ذمہ ایک دن کی قضالازم ہوگی کیونکہ مہینہ انتیس دن سےکم نہیں ہوتا .

دیکھیں:فتاوی اللجنۃ الدائمۃ جلدنمبر:(10) صفحہ نمبر۔(124)

(مُحتاج دُعا:عزیزالرحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ [email protected])