حُصولِ شفا کیلئے قربانی کرنا ()

محمد صالح المنجد

شیخ محمد صالح المنجد -حفظه الله- سے پوچھا گیا : میرا چچا زاد ایک حادثے میں زخمی ہوگیا ہے، اور ڈاکٹروں کے مطابق اسکے بچنے کی پچاس فیصد امید ہے، ہمیں کسی نے نصیحت کی کہ ایک بکری اللہ کیلئے ذبح کردو، تو کیا ہمارے لئے ایسا کرنا جائز ہوگا؟
    حُصولِ شفا کیلئے قربانی کرنا

    |

    حُصول شِفا کے لئے قُربانی کرنا

    الأُضحية بقصد الشفاء

    [ أردو - اردو - urdu ]

    محمد صالح المنجد

    ترجمہ:اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    تنسیق: اسلام ہا ؤس ویب سائٹ

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب
    تنسيق: موقع islamhouse

    2013 - 1434

    حُصولِ شفا کیلئے قربانی کرنا

    میرا چچا زاد ایک حادثے میں زخمی ہوگیا ہے، اور ڈاکٹروں کے مطابق اسکے بچنے کی پچاس فیصد امید ہے، ہمیں کسی نے نصیحت کی کہ ایک بکری اللہ کیلئے ذبح کردو، تو کیا ہمارے لئے ایسا کرنا جائز ہوگا؟

    الحمد للہ :

    اگر اللہ کیلئے ذبح کرنے کے بعد اس گوشت کے کچھ حصے کو فقراء اور مساکین پر تقسیم کرنا مقصود ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ‘‘اپنے مریضوں کا علاج صدقہ سے کرو’’۔ ابو داود نے اسے مراسیل میں ذکر کیا ہے، اسے طبرانی اور بیہقی وغیرہ نے متعدد صحابہ کرام سے روایت کیا ہے، جسکی تمام تر اسانید ضعیف ہیں، جبکہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح ترمذی (744) پر حسن لغیرہ قرار دیا ہے۔

    دائمی کمیٹی برائے فتوی کے علمائے کرام سے پوچھا گیا:

    "برائے مہربانی - اللہ آپکی حفاظت فرمائے- حدیث (داووا مرضاكم بالصدقة) ‘‘ ا پنے مریضوں کا علاج صدقہ سے کرو’’ کا مطلب سمجھا دیں، جسے بیہقی نے سنن الکبری (3/382) میں بیان کیا ہے، اورجسے اکثر محدثین کرام مریض کا علاج جانور کے ذبح کرنے کے حوالے سے ضعیف قرار دیتے ہیں، تو کیا مریض سے مصیبت ٹالنے کیلئے ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟

    تو انہوں نے جواب دیا:

    "مذکورہ حدیث درست نہیں ہے، لیکن مریض کی جانب سے اللہ کا قرب حاصل کرنے اور شفا یابی کی امید رکھتے ہوئے صدقہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، اس لئے کہ صدقہ کی فضیلت میں عام دلائل موجود ہیں، اور صدقہ سے گناہ مٹا دئے جاتے ہیں، اور بری موت سے انسان دور ہوجاتا ہے" ا۔ھ۔ (دیکھیں : (دائمی کمیٹی کا فتوی :24/441).

    شیخ ابن جبرین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    ‘‘ صدقہ مفید اور سود مند علاج ہے، اس کے سبب بیماریوں سے شفا ملتی ہے، اور مرض کی شدت میں کمی بھی واقع ہوتی ہے، اس بات کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے ہوتی ہے:‘‘صدقہ گناہوں کو ایسے مٹادیتا ہے جیسے پانی آگ کو بھجا دیتا ہے’’ -اسے احمد (3/399) نے روایت کیا ہے ۔، ہو سکتا ہے کہ کچھ مرض گناہوں کی وجہ سے سزا کے طور پر لوگوں کو لاحق ہو جاتے ہوں، تو جب مریض کے ورثاء اسکی جانب سے صدقہ کرتے ہیں تو اس کے سبب اسکا گناہ دُھل جاتا ہے اور بیماری جاتی رہتی ہے، یا پھر صدقہ کرنے کی وجہ سے نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، جس سے دل کو سکون اور راحت حاصل ہوتی ہے، اور اس سے مرض کی شدت میں کمی واقع ہوجاتی ہے’’ ۔ا.ھ.

    دیکھیں: (الفتاوى الشرعية في المسائل الطبية:2/سوال نمبر: 15).

    چنانچہ اللہ تعالی ٰ کیلئے ذبح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس قربانی کا مقصد مریض کی جانب سے شفا کی امید کرتے ہوئے صدقہ کرنا ہے، جس سے امید ہے کہ اللہ تعالی اسے شفا دے گا۔

    لیکن بکری خاص کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، اس لئے کہ اصل مقصود صدقہ یا قربانی کی شکل میں جانور ذبح کرنا ہے، اس لئے قربانی کے لائق جو بھی جانور میسر ہو اسے آپ ذبح کردیں، چاہے بکری ہو یا کوئی اور قابلِ قربانی جانور۔ واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب