کُتّا رکھنے،اُسے چھونے اور چومنے کا حُکم؟ ()

محمد صالح المنجد

شیخ محمد بن صالح المنجد ۔ حفظہ اللہ۔ سے پوچھا گیا ": كُتّا ركھنا نجاست میں سے شمارکیا جاتا ہے، ليكن اگر انسان گھر كى چوكيدارى كے ليےكُتّاركھے اور اسے گھر سے باہر ہى باندھے، يا پھر كسى اور جگہ مجلس کے آخرميں باندھے، تو وہ اپنے آپ كو كس طرح پاك ركھے گا ؟ اور اگر اسے اپنے آپ کو پاك كرنے كے ليے مٹى وغيرہ نہ ملے تو پھر كيا حكم ہو گا ؟ اور كيا مسلمان كے لئے اپنے آپ کوپاك صاف ركھنے كے ليے اس كے علاوہ كوئى اور طريقہ ہے؟ اور بعض اوقات وہ شخص دوڑكے وقت کُتّا اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے، اور اسے تھپكياں ديتا اور چومتا ہے ..."؟ـ

    |

    کُتّا رکھنے،اُسے چُھونے اور چُومنے کا حُکم؟

    اقتناء الكلب ولمسه وتقبيله

    « باللغة الأردية »

    شیخ محمد صالح المنجد ۔حفظہ اللہ۔

    ترجمہ: اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    تنسیق: اسلام ہا ؤس ویب سائٹ

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب
    تنسيق: موقع islamhouse

    2015 – 1436

    کُتّا رکھنے،اُسے چُھونے اور چُومنے کا حُکم؟

    کُتّا رکھنے،اُسے چھونے اور چومنے کا حُکم؟

    سوال : کُتّا رکھنا اورپالنا نجاست میں سےشمارکیا جاتا ہے، ليكن اگر انسان گھر كى چوكيدارى كے ليےكُتّاركھے اور اسے گھر سے باہر ہى باندھے، يا پھر كسى اور جگہ مجلس کے آخرميں باندھے، تو وہ اپنے آپ كو كس طرح پاك ركھے گا؟
    اور اگر اسے اپنے آپ کو پاك كرنے كے ليے مٹى وغيرہ نہ ملے تو پھر كيا حكم ہو گا ؟
    اور كيا مسلمان كے لئے اپنے آپ کوپاك صاف ركھنے كے ليے اس كے علاوہ كوئى اور طريقہ ہے؟اور بعض اوقات وہ شخص دوڑ كے وقت کُتّا اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے، اور اسے تھپكياں ديتا اور چومتا ہے ... ؟

    الحمد للہ:

    اوّل:

    شريعتِ مُطہّرہ نے مسلمان شخص كے ليے کُتّاركھنا حرام قرار ديا ہے اور اس كى مخالفت كرنے والے كواس طرح سزا دی ہے کہ اُ س کی نیکیوں میں سے ہر دن ایک قیراط یا دوقیراط کی کمی کردی جاتی ہے،ليكن اس سزا سے اُس کتّا کو الگ کردیا ہے جسے شکار کے لئے، یا جانوروں کی حفاظت کے لئے یا کھیتی (فصل) کی نگرانی کے لئے رکھا جاتا ہے۔

    ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روایت ہے کہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " جس نے جانوروں،یا شكار ، يا كھيت كى ركھوالى كے علاوہ کوئی کُتّا ركھا ،اُس کے اجر سے ہر دن ایک قیراط کم کردیا جاتا ہے‘‘۔صحيح مسلم حديث نمبر ( 1575 (

    اور عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے روایت ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " جس نے جانوروں كى ركھوالى يا شكار كے علاوہ کوئی کُتّاركھا ،اُس كےعمل سے ہر دن دو قیراط کم کردیا جائے گا‘‘۔

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 5163 ) ،صحيح مسلم حديث نمبر ( 1574)

    كيا گھرکی رکھوالی كے لئےکُتّا ركھنا جائز ہے ؟

    امام نووى رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہيں:

    " ان تين امور كے علاوہ كسى اور كام مثلا گھروں اور راستوں وغيرہ كى حفاظت اور رکھوالی كے ليےکُتّا ركھنے ميں اختلاف ہے، اورراجح يہى ہے كہ حدیث سے سمجھی جانے والی علّت یعنی ضرورت پر عمل کرتے ہوئے اور اوپر ذکر کردہ تینوں امور پر قیاس کرتے ہوئے کُتّاركھنا جائز ہے " ا.ھ۔

    ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 10 / 236 )۔

    شيخ ابن عثيمين رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہيں:

    " اس بنا پر جو گھر شہر كے وسط ( آبادى ) ميں ہو اس كى چوكيدارى كے ليے کُتّا ركھنا جائز نہيں، چنانچہ اس حالت ميں اس طرح كى غرض كے ليے کُتّا ركھنا حرام اور ناجائز ہے،اور اس کے رکھنے والے کے اجر سے ہر روز ایک یا دو قیراط کم کردیا جائے گا۔

    اس لئے ان لوگوں پر ضروری ہے کہ وہ اس کُتّے کو بھگا دیں اور اسے اپنے پاس نہ رکھیں، ليكن اگر یہ گھر خالى اور بيابان جگہ ميں ہے اور اس كے ارد گرد كوئى اور مكان نہیں ہے تو اس کے لئے گھر کی رکھوالی اور اس میں رہنے والوں کی حفاظت کے لئے کُتّا رکھنا جائز ہے،اور گھر والوں كى حفاظت ونگرانی کرنا جانوروں اور كھيت كى حفاظت سے زيادہ اہم ہے " ا.ھ۔

    ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( ۴؍۲۴۶)

    ايك قيراط اور دو قيراط كى دونوں روايتوں ميں موافقت كے متعلق كئى ايك اقوال بيان كيے جاتے ہيں:

    حافظ عينى رحمۃاللہ علیہ كہتے ہيں:

    ا - ہو سكتا ہے کہ یہ دونوں دو طرح کے کتّوں کے بارے میں ہو،جن میں سے ایک دوسرے سے زیادہ تکلیف کا باعث ہو۔

    ب – ایک قول یہ ہے کہ :دو قیراط بستيوں اور شہروں کے بارے میں ہے، اور ایک قیراط دیہات کے بارے میں ہے۔

    ج ـایک قول یہ ہے کہ: یہ دونوں روایتیں دو وقتوں کے بارے میں ہیں، پہلے ایک قیراط کا ذکر کیا گیا، پھر مزیدسختی کرتے ہوئے دو قیراط کردیا گیا۔

    ديكھيں: عمدۃ القارى ( 12 / 158 )۔

    دوم:

    سائل كا يہ كہنا كہ:

    " کُتّاركھنا نجاست میں سےشمارکیا جاتا ہے" تو یہ بات مطلق طور پر صحیح نہیں ہے،كيونكہ نجاست فى نفسہ كتّے ميں نہيں ہے، بلكہ اُس کے تھوک میں ہے جب وہ کسی برتن سے پانی پیتا ہے،اسی لئے جس نے کسی کُتّے کو چھو لیا،یا اُسے کسی کُتّے نے چھولیا تو اس کے لئے اپنے آپ کو پانی یا مٹی سے صاف کرنا ضروری نہیں ہے،اگر کُتّا کسی برتن سے پانی پی لے تو اس پر پانی کو پھینک دینا اور اسے سات بار پانی سے اور آٹھویں بار مٹی سے دھونا ضروری ہے، اگر وہ اس برتن کو استعمال کرنا چاہتا ہے، اگر اس نے اس برتن کو کُتّے کے لئے مخصوص کردیا ہے تو اس کے لئے اسے صاف کرنا ضروری نہیں ہے۔

    ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ روایت کرتے ہیں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " تم میں سے کسی کے برتن کی پاکی جب کہ کُتّا اس میں منھ ڈال دے ،یہ ہے کہ وہ اسے سات بار دھوئے ،ان میں سے پہلی بار مٹی کے ذریعہ ہو‘‘۔ صحيح مسلم حديث نمبر ( 279 )۔

    اور مسلم كى ايك روايت ميں يہ الفاظ ہيں:

    " جب کُتّا برتن ميں منھ ڈال دے تو اسے سات بار دھوؤ، اور آٹھويں باراسے مٹى سے (خوب)صاف کرو "

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 280 )۔

    شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہيں:

    "کُتّے کے متعلق علماء كرام كے تين اقوال ہيں:

    پہلا قول:

    وہ پاک ہے یہاں تک کہ اس کا تھوک بھی پاک ہے، یہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک ہے۔

    دوسرا قول:

    وہ نجس ہے، حتى كہ اس كے بال بھى نجس ہيں.

    يہ امام شافعى رحمۃ اللہ علیہ كا مسلك ہے،اورایک روایت کے مطابق امام احمد کا بھی ایک قول ہے۔

    تيسرا قول:

    اس کابال پاک ہے، اور اس کا تھوک ناپاک ونجس ہے، یہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک ہے، اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کا بھی قول ہے۔ اور یہی سب سے صحیح قول ہے، چنانچہ جب کپڑے یا بدن پر اس کے بال کی نمی (رطوبت) لگ جائے تو وہ اِس سے ناپاک نہیں ہوگا۔ا.ھ۔

    ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 21 / 530).

    اور ايك دوسرے مقام پر فرمایا:

    " يہ اس ليے كہ(اعیان) اشياء ميں اصل تو طہارت ہے، اس ليے كسى بھى چيز كو اس وقت حرام يا نجس نہيں كہا جا سكتا جب تك اس كى كوئى دليل نہ ہو، جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالىٰ كا فرمان ہے:

    ( وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلاَّ مَا اضْطُّرِرْتُم إِلَيْهِ )

    ’’ حاﻻنکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب جانوروں کی تفصیل بتادی ہے جن کو تم پر حرام کیا ہے، مگر وه بھی جب تم کو سخت ضرورت پڑجائے تو حلال ہے ‘‘۔سورہ انعام: 119 )

    اور فرمایا:

    ( وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَدَاهُم حَتَّى يُبَيِّنَ لَهُم مَا يَتَّقُونَ )

    ’’ اور اللہ ایسا نہیں کرتا کہ کسی قوم کو ہدایت کر کے بعد میں گمراه کر دے جب تک کہ ان چیزوں کو صاف صاف نہ بتلادے جن سے وه بچیں ‘‘۔ (التوبۃ : 115 )

    اور جب معاملہ ايسے ہى ہے تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    ’’جب تم میں سے کسی کےبرتن ميں کُتّا منھ ڈال دے تو اس كى پاکی يہ ہے كہ وہ اسے سات بار دھوئے، ان میں سے پہلی بار مٹی کے ذریعہ ہو)‘‘۔

    اور ايك دوسرى حديث ميں ہے:

    " جب كُتّا برتن ميں منھ ڈال دے تو اسے سات بار دھلو، اور آٹھویں بار اسے مٹی سے صاف کرو" ۔

    چنانچہ ان سب احاديث ميں صرف كتّے كے منھ ڈالنے كا ذكر ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كے سارے اجزاء كا ذكر نہيں كيا، اس ليے اسے نجس كہنا بطور قياس ہے ....

    اور يہ بھى كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے شكار، جانور اور كھیتی كى ركھوالى كے ليے كتّا ركھنا جائز قرار ديا ہے، اس ليے جو بھى اس غرض كے ليے كتّا ركھے گا اس كے بالوں كى رطوبت اور پسینہ اس کو لگنا ضروری ہے،جس طرح خچر اور گدھے كا پسينہ اسے لگ جایا کرتا ہے، اس لئے اس کے بالوں کی نجاست کی بات کرناجبکہ حال یہ ہے اسے اس تنگی میں ڈالنا ہے جو امّت سے اٹھا لی گئی ہے‘‘۔ا.ھ۔

    ديكھيں: مجموع الفتاوى(21؍۶۱۷،و۶۱۹)

    اوراحتياط يہى ہے كہ جو شخص کُتّے كو چھوئے اور اس كے ہاتھ پر رطوبت لگا ہو، يا کُتّے پر رطوبت ہو تو وہ ہاتھ كو سات بار دھوئے، ان ميں سے ايك بار مٹى سے ہو۔

    شيخ ابن عثيمين رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہيں:

    " اور رہا اس كُتّے كو چھونے كا مسئلہ اگر وہ بغير پسينہ اور رطوبت كے اسے چھوتا ہے تو اس كا ہاتھ نجس نہيں ہو گا، اور اگر رطوبت اور پسنہ كى حالت ميں چھوئے تو اكثراہل علم كى رائے ميں اس كا ہاتھ نجس ہو جائيگا، اس كے بعد اسے اپنا ہاتھ سات بار دھونا لازمى ہے،ان ميں ايك بار مٹى سے " ا.ھ۔

    ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 11 ؍۲۴۶)

    سوم:رہی بات کُتّے کی نجاست کو پاک کرنے کا طریقہ، تو اس کا بیان سوال نمبر ( 41090 ) اور ( 46314 ) كے جواب میں گزر چکا ہے۔

    اور واجب یہ ہے کہ کُتّے کی نجاست کو سات بار دھویا جائے جن میں سے ایک بار مٹی سے ہونا چاہئے، اور مٹی کی موجودگی میں اسی کا استعمال ضروری ہے، اور اس کے علاوہ کوئی دوسری چیز کفایت نہیں کرے گی، لیکن جب مٹی نہ ملے تو اس کے علاوہ دوسری صفائی کرنے والی چیز جیسے صابن کے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    چہارم:

    اور سائل نےکُتّے كو چومنے اور اس كا بوسہ لينے كا جو ذكر كيا ہے، تو يہ بہت ساری بیماریوں کا سبب ہے،اور شريعت مطہرہ كى مخالفت كرتے ہوئےکُتّے كو چومنے، يا اس کے منھ ڈالے ہوئے برتن سےاس کو دھونے سے پہلے پانی پینے کی صورت میں جو بیماریاں لاحق ہوتی ہیں بہت زیادہ ہیں:

    ان ہی بیماریوں میں سے ایک (pasturella ) کی بیماری ہے، يہ ايك جراثیمی مرض ہے،جس کی بیماری کاسبب طبعی طور سے انسانوں اور جانوروں کے اوپری سانس لینے والے نظام میں پایا جاتا ہے، اور خاص ظروف كے تحت يہ جرثومہ جسم پر حملہ آور ہوکر مرض کو جنم دیتا ہے۔

    اور انہی بیماریوں ميں سے(پانی کی تھیلیوں)(parasitic disease ) كى بيمارى بھى شامل ہے يہ ايك طفيلى بيمارى ہے جو انسان اور حيوان كے اندرونى اعضاء كو لگتى ہے، اور سب سے زیادہ جگر اور پھیپڑوں میں خرابی پیدا کرتی ہے، اور اس کے بعد پيٹ اور جسم كے باقى اعضاء کو کھوکھلا بنادیتی ہے۔

    اس بيمارى كى بنا پر ايك كيڑا(tapeworm) پيدا ہوتا ہے جسے ايكائنکوس كرانيلسس ( Aakanicos Kraniloses) كا نام ديا جاتا ہے، يہ ايك چھوٹا سا كيڑا ہے جس كى لمبائى دو سے نو ملى ميٹر ہوتى ہے، جو تين اجزاء اور سر اور گردن سے مل کر بنتا ہے، اور سر چار مونہوں(Mmsat) پر مشتمل ہوتا ہے.

    يہ كيڑے(adult worms) ان کے میزبانوں جیسے کُتّوں ،بلّیوں ،لومڑیوں اور بھیڑیوں کی آنتوں میں رہتے ہیں۔

    اوریہ مرض کُتّوں کو پالنے کے شوقین انسان کی طرف اس وقت منتقل ہوتا ہے جب وہ اسے بوسہ دیتا ہے، یا اس کے برتن سے پانی پیتا ہے۔

    ديكھيں: "كتاب أمراض الحيوانات الأليفۃ التى تصيب الإنسان" (پالتو جانوروں کے امراض جو انسانوں کو لاحق ہوتے ہیں) تالیف: ڈاكٹر اسماعيل عبيد السنافى.

    خلاصہ یہ کہ:

    شكار يا مویشی اور کھیت كى ركھوالى كے علاوہ کسی اور غرض سے کُتّے ركھنا جائز نہيں ہے، اور گھروں كى ركھوالى كے ليے کُتّوں کو اس شرط پر ركھنا جائز ہے كہ وہ( گھر) شہر سے باہر ہوں،اوریہ بھی کہ(گھر کی رکھوالی کا) کوئی اور ذریعہ نہ ہو۔ اور مسلمان شخص کے لئے کُتّوں کے ساتھ دوڑنے میں کافروں کی تقلید کرنا درست نہیں ہے،اور اس کے منھ کو چھونا اور اسے بوسہ دینا بہت ساری بیماریوں کا سبب ہے۔

    اس پاکیزہ وکامل شریعت پر ہر طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے، جو (شریعت) لوگوں کے دین ا وردُنیا کی درستگی کے لئے آئی ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے ہی نہیں ۔

    واللہ اعلم .

    محمد صالح المنجد