<     >  

11 - سورۂ ھود ()

|

(1) الرٰ، یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں*، پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں **ایک حکیم باخبر کی طرف سے.***
* یعنی الفاظ و نظم کے اعتبار سے اتنی محکم اور پختہ ہیں کہ ان کی ترکیب اور معنی میں کوئی خلل نہیں۔ **- پھر اس میں احکام و شرائع، مواعظ و قصص، عقائد و ایمانیات اور آداب و اخلاق جس طرح وضاحت اور تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں، پچھلی کتابوں میں اس کی نظیر نہیں آئی۔ ***- یعنی اپنے اقوال میں حکیم ہے، اس لئے اس کی طرف سے نازل کردہ باتیں حکمت سے خالی نہیں اور وہ خبر رکھنے والا بھی ہے۔ یعنی تمام معاملات اور ان کے انجام سے باخبر ہے۔ اس لئے اس کی باتوں پر عمل کرنے سے ہی انسان برے انجام سے بچ سکتا ہے۔

(2) یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو میں تم کو اللہ کی طرف سے ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں.

(3) اور یہ کہ تم لوگ اپنے گناه اپنے رب سے معاف کراؤ پھر اسی کی طرف متوجہ رہو، وه تم کو وقت مقرر تک اچھا سامان *(زندگی) دے گا اور ہر زیاده عمل کرنے والے کو زیاده ﺛواب دے گا۔ اور اگر تم لوگ اعراض کرتے رہے تو مجھ کو تمہارے لیے ایک بڑے دن **کے عذاب کا اندیشہ ہے.
* یہاں اس سامان دنیا کو جس کو قرآن نے عام طور پر " متاع غرور " دھوکے کا سامان کہا ہے، یہاں اسے " متاع حسن " قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو آخرت سے غافل ہو کر متاع دنیا سے استفادہ کر لے گا، اس کے لئے یہ متاع غرور ہے، کیونکہ اس کے بعد اسے برے انجام سے دو چار ہونا ہے اور جو آخرت کی تیاری کے ساتھ ساتھ اس سے فائدہ اٹھائے گا، اس کے لئے یہ چند روزہ سامان زندگی متاع حسن ہے، کیونکہ اس نے اللہ کے احکام کے مطابق برتا ہے۔ **- بڑے دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔

(4) تم کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے اور وه ہر شے پر پوری قدرت رکھتا ہے.

(5) یاد رکھو وه لوگ اپنے سینوں کو دہرا کیے دیتے ہیں تاکہ اپنی باتیں (اللہ) سے چھپا سکیں*۔ یاد رکھو کہ وه لوگ جس وقت اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں وه اس وقت بھی سب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وه ﻇاہر کرتے ہیں۔ بالیقین وه دلوں کے اندر کی باتیں جانتا ہے.
* اس کی شان نزول میں مفسرین کا اختلاف ہے، اس لئے اس کے مفہوم میں بھی اختلاف ہے۔ تاہم صحیح بخاری (تفسیر سورت ہود) میں بیان کردہ شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو غلبہ حیا کی وجہ سے قضائے حاجت اور بیوی سے ہم بستری کے وقت برہنہ ہونا پسند نہیں کرتے تھے کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے، اس لئے ایسے موقع پر وہ شرم گاہ کو چھپانے کے لئے اپنے سینوں کو دوہرا کر لیتے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ رات کے اندھیرے میں جب وہ بستروں میں اپنے آپ کو کپڑوں میں ڈھانپ لیتے تھے، تو اس وقت بھی وہ ان کو دیکھتا اور ان کی چھپی اور اعلانیہ باتوں کو جانتا ہے۔ مطلب یہ کہ شرم و حیا کا جذبہ اپنی جگہ بہت اچھا ہے لیکن اس میں اتنا غلو اور افراط بھی صحیح نہیں، اس لئے کہ جس ذات کی خاطر وہ ایسا کرتے ہیں اس سے تو پھر بھی وہ نہیں چھپ سکتے، تو پھر اس طرح کے تکلف کا کیا فائدہ؟۔

(6) زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر ہیں* وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہےاور ان کے سونپے جانے** کی جگہ کو بھی، سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے.
* یعنی وہ کفیل اور ذمے دار ہے۔ زمین پر چلنے والی ہر مخلوق، انسان ہو یا جن، چرند ہو یا پرند، چھوٹی ہو یا بڑی، بحری ہو یا بری۔ ہر ایک کو اس کی ضروریات کے مطابق وہ خوراک مہیا کرتا ہے۔ **- مستقر اور مستودع کی تعریف میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک منتہائے سیر (یعنی زمین میں چل پھر کر جہاں رک جائے) مستقر ہے اور جس کو ٹھکانا بنائے وہ مستودع ہے۔ بعض کے نزدیک رحم مادر مستقر اور باپ کی صلب مستودع ہے اور بعض کے نزدیک زندگی میں انسان یا حیوان جہاں رہائش پذیر ہو وہ اس کا مستقر ہے اور جہاں مرنے کے بعد دفن ہو وہ مستودع ہے (تفسیر ابن کثیر) امام شوکانی کہتے ہیں مستقر سے مراد رحم مادر اور مستودع سے وہ حصہ زمین ہے جس میں دفن ہو اور امام حاکم کی ایک روایت کی بنیاد پر اسی کو ترجیح دی ہے بہرحال جو بھی مطلب لیا جائے آیت کا مفہوم واضح ہے کہ چونکہ اللہ تعالٰی کو ہر ایک کے مستقر ومستودع کا علم ہے اس لیے وہ ہر ایک کو روزی پہنچانے پر قادر ہے اور ذمے دار ہے اور وہ اپنی ذمے داری پوری کرتا ہے۔

(7) اللہ ہی وه ہے جس نے چھ دن میں آسمان وزمین کو پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا* تاکہ وه تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل واﻻ کون ہے**، اگر آپ ان سے کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد اٹھا کھڑے کئے جاؤ گے تو کافر لوگ پلٹ کر جواب دیں گے کہ یہ تو نرا صاف صاف جادو ہی ہے.
* یہی بات صحیح احادیث میں بھی بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ”اللہ تعالٰی نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل، مخلوقات کی تقدیر لکھی ' اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا“۔ (صحيح مسلم، كتاب القدر, نیز دیکھئے, صحيح بخاري، كتاب بدء الخلق) **- یعنی یہ آسمان و زمین یوں ہی عبث اور بلا مقصد نہیں بنائے، بلکہ اس سے مقصود انسانوں (اور جنوں) کی آزمائش ہے کہ کون اچھے اعمال کرتا ہے؟۔ ملحوظہ: اللہ تعالٰی نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ کون زیادہ عمل کرتا ہے بلکہ فرمایا کون زیادہ اچھے عمل کرتا ہے۔ اس لیے کہ اچھا عمل وہ ہوتا ہے جو صرف رضائے الہی کی خاطر ہو اور دوسرا یہ کہ وہ سنت کے مطابق ہو۔ ان دو شرطوں میں سے ایک شرط بھی فوت ہو جائے گی تو وہ اچھا عمل نہیں رہے گا، پھر وہ چاہے کتنا بھی زیادہ ہو، اللہ کے ہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

(8) اور اگر ہم ان سے عذاب کو گنی چنی مدت تک کے لئے پیچھے ڈال دیں تو یہ ضرور پکار اٹھیں گے کہ عذاب کو کون سی چیز روکے ہوئے ہے، سنو! جس دن وه ان کے پاس آئے گا پھر ان سے ٹلنے واﻻ نہیں پھر تو جس چیز کی ہنسی اڑا رہے تھے وه انہیں گھیر لے گی.*
* یہاں استعجال (جلد طلب کرنے) کو استہزا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ وہ استعجال، بطور اسہزا ہی ہوتا تھا بہرحال مقصود یہ سمجھانا ہے کہ اللہ تعالٰی کی طرف سے تاخیر پر انسان کو غفلت نہیں کرنی چاہیے اس کی گرفت کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔

(9) اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی نعمت کا ذائقہ چکھا کر پھر اسے اس سے لے لیں تو وه بہت ہی ناامید اور بڑا ہی ناشکرا بن جاتا ہے.*
* انسانوں میں عام طور پر جو مذموم صفات پائی جاتی ہیں اس میں اور اگلی آیت میں ان کا بیان ہے۔ نا امیدی کا تعلق مستقبل سے ہے اور ناشکری کا ماضی و حال سے۔

(10) اور اگر ہم اسے کوئی نعمت چکھائیں اس سختی کے بعد جو اسے پہنچ چکی تھی تو وه کہنے لگتا ہے کہ بس برائیاں مجھ سے جاتی رہیں*، یقیناً وه بڑا ہی اترانے واﻻ شیخی خور ہے.**
* یعنی سمجھتا ہے کہ سختیوں کا دور گزر گیا، اب اسے کوئی تکلیف نہیں آئے گی۔ أُمَّةٌ کے مختلف مفہوم: آیت نمبر ۸ میں أُمَّةٌ کا لفظ آیا ہے۔ یہ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ یہ ام سے مشتق ہے، جس کے معنی قصد کے ہیں۔ یہاں اس کے معنی اس وقت اور مدت کے ہیں جو نزول عذاب کے لیے مقصود ہے۔ (فتح القدیر) سورہ یوسف کی آیت 45«وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ» میں یہی مفہوم ہے اس کے علاوہ جن معنوں میں اس کا استعمال ہوا ہے، ان میں ایک امام وپیشوا ہے۔ جیسے «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً» ( النحل:120) ملت اور دین ہے، جیسے «إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ» ( الزخرف:23) جماعت اور طائفہ ہے۔ جیسے «وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِنَ النَّاسِ» ( القصص:23)، «وَمِنْ قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ» (الأعراف:159) وغیرھا۔ وہ مخصوص گروہ یا قوم ہے جس کی طرف کوئی رسول مبعوث ہو۔«وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَسُولٌ» (يونس:47) اس کو امت دعوت بھی کہتے ہیں اور اسی طرح پیغمبر پر ایمان لانے والوں کو بھی امت یا امت اتباع یا امت اجابت کہا جاتا ہے۔ (ابن کثیر) **- یعنی جو کچھ اس کے پاس ہے، اس پر اتراتا اور دوسروں پر فخر و غرور کا اظہار کرتا ہے۔ تاہم ان صفات مذمومہ سے اہل ایمان اور صاحب اعمال صالحہ مستشنٰی ہیں جیسا کہ اگلی آیت سے واضح ہے۔

(11) سوائے ان کے جو صبر کرتے ہیں اور نیک کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ انہی لوگوں کے لئے بخشش بھی ہے اور بہت بڑا نیک* بدلہ بھی.
* یعنی اہل ایمان، راحت و فراغت ہو یا تنگی اور مصیبت، دونوں حالتوں میں اللہ کے احکام کے مطابق طرز عمل اختیار کرتے ہیں جیسا کہ حدیث میں آتا ہے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے قسم کھا کر فرمایا ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ تعالٰی مومن کے لئے جو بھی فیصلہ فرماتا ہے، اس میں اس کے لئے بہتری کا پہلو ہوتا ہے۔ اگر اس کو کئی راحت پہنچتی ہے تو اس پر اللہ کا شکر کرتا ہے اور اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لئے بہتر (یعنی اجر و ثواب کا باعث) ہے۔ یہ امتیاز ایک مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں“۔ (صحيح مسلم، كتاب الزهد، باب المؤمن أمره كله خير) اور ایک اور حدیث میں فرمایا کہ ”مومن کو جو بھی فکر و غم اور تکلیف پہنچتی ہے حتی کہ اسے کانٹا چبھتا ہے تو اللہ تعالٰی اس کی وجہ سے اس کی غلطیاں معاف فرما دیتا ہے“۔(ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺟﻠﺪ ٣ ،ﺹ٤) سورہ معاج کی آیات ۱۹-۲۲ میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔

(12) پس شاید کہ آپ اس وحی کے کسی حصے کو چھوڑ دینے والے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی جاتی ہے اور اس سے آپ کا دل تنگ ہے، صرف ان کی اس بات پر کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اترا؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہی آتا، سن لیجئے! آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں* اور ہر چیز کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے.
* مشرکین نبی (صلى الله عليه وسلم) کی بابت کہتے رہتے تھے کہ اس کے ساتھ کوئی فرشتہ نازل کیوں نہیں ہوتا، یا اس کی طرف سے کوئی خزانہ کیوں نہیں اتار دیا جاتا، (الفرقان-18)ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا ”ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ آپ کی بابت جو باتیں کہتے ہیں“ ان سے آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے۔ (سورۃ الحجر:98) اس آیت میں انہی باتوں کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ شاید آپ کا سینہ تنگ ہو اور کچھ باتیں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہیں اور وہ مشرکین پر گراں گزرتی ہیں ممکن ہے آپ وہ انہیں سنانا پسند نہ کریں آپ کا کام صرف انذار و تبلیغ ہے، وہ آپ ہر صورت میں کئے جائیں۔

(13) کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو اسی نے گھڑا ہے۔ جواب دیجئے کہ پھر تم بھی اسی کی مثل دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے چاہو اپنے ساتھ بلا بھی لو اگر تم سچے ہو.*
* امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالٰی نے چلینج دیا کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے کہ یہ محمد (صلى الله عليه وسلم) کا بنایا ہوا قرآن ہے، تو اس کی نظیر پیش کر کے دکھا دو، اور تم جس کی چاہو، مدد حاصل کر لو، لیکن تم کبھی ایسا نہیں کر سکو گے۔ فرمایا «قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا»(الاسراء:88) «اعلان کر دیجئے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل لانا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا مشکل ہے، گو وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں»۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی نے یہ چیلنج دیا کہ پورا قرآن بنا کر پیش نہیں کر سکتے تو دس سورتیں ہی بنا کر پیش کر دو۔ جیسا کہ اس مقام پر ہے۔ پھر تیسرے نمبر پر چیلنج دیا کہ چلو ایک سورت بنا کر پیش کرو جیسا کہ سورہ یونس کی آیت نمبر ۳۹ اور سورہ بقرہ کے آغاز میں فرمایا (تفسیر ابن کثیر، زیر بحث آیت سورہ یونس) اور اس بنا پر آخری چیلنچ یہ ہو سکتا ہے کہ اس جیسی ایک بات ہی بنا کر پیش کر دو۔ «فَلْيَاْتُوْا بِحَدِيْثٍ مِّثْلِهٖٓ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ» (الطور:34) مگر ترتیب نزول سے چیلنج کی اس ترتیب کی تائید نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم با الصواب۔

(14) پھر اگر وه تمہاری اس بات کو قبول نہ کریں تو تم یقین سے جان لو کہ یہ قرآن اللہ کے علم کے ساتھ اتارا گیا ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، پس کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟*
* یعنی کیا اس کے بعد بھی کہ تم اس چیلنج کا جواب دینے سے قاصر ہو، یہ ماننے کے لئے، کہ یہ قرآن اللہ ہی کا نازل کردہ ہے، آمادہ نہیں ہوا اور نہ مسلمان ہونے کو تیار ہو؟

(15) جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال (کا بدلہ) یہی بھرپور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی.

(16) ہاں یہی وه لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ ان کےاعمال تھے سب برباد ہونے والے ہیں.*
* ان دو آیات کے بارے میں بعض کا خیال ہے اس میں اہل ریا کار کا ذکر ہے، بعض کے نزدیک اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور بعض کے نزدیک طالبان دنیا کا ذکر ہے۔ کیونکہ دنیادار بھی بعض اچھے عمل کرتے ہیں، اللہ تعالٰی ان کی جزا انہیں دنیا میں دے دیتا ہے، آخرت میں ان کے لئے سوائے عذاب کے اور کچھ نہیں ہوگا۔ اسی مضمون کو قرآن مجید سورہ بنی اسرائیل آیات 18-21اور سور، شوریٰ آیت 20 میں بیان کیا گیا ہے۔

(17) کیا وه شخص جو اپنے رب کے پاس کی دلیل پر ہو اور اس کے ساتھ اللہ کی طرف کا گواه ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (گواه ہو) جو پیشوا اور رحمت ہے (اوروں کے برابر ہو سکتا ہے؟)* یہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں**، اور تمام فرقوں میں سے جو بھی اس کا منکر ہو اس کے آخری وعدے کی جگہ جہنم ہے***، پس تو اس میں کسی قسم کے شبہ میں نہ ره، یقیناً یہ تیرے رب کی جانب سے سراسر برحق ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے نہیں ہوتے.****
* منکرین اور کافرین کے مقابلے میں اہل فطرت اور اہل ایمان کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ”اپنے رب کی طرف سے دلیل“ سے مراد وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالٰی نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور وہ اللہ واحد کا اعتراف اور اسی کی عبادت جس طرح کہ نبی(صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے کہ ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے بعد اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں“(صحيح بخاري- كتاب الجنائز ومسلم- كتاب القدر) یتلوہ کے معنی ہیں اس کے پیچھے یعنی اس کے ساتھ اللہ کی طرف سے ایک گواہ بھی ہو گواہ سے مراد قرآن ، یا محمد (صلى الله عليه وسلم) ہیں ، جو اس فطرت صحیحہ کی طرف دعوت دیتے اور اس کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس سے پہلے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی کتاب تورات بھی جو پیشوا بھی ہے اور رحمت کا سبب بھی یعنی کتاب موسیٰ (عليه السلام) بھی قرآن پر ایمان لانے کی طرف رہنمائی کرنے والی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک وہ شخص ہے جو منکر اور کافر ہے اور اس کے مقابلے میں ایک دوسرا شخص ہے جو اللہ تعالٰی کی طرف سے دلیل پر قائم ہے، اس پر ایک گواہ (قرآن، یا پیغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم) بھی ہے، اسی طرح اس سے قبل نازل ہونے والی کتاب تورات، میں بھی اس کے لئے پیشوائی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اور وہ ایمان لے آتا ہے کیا یہ دونوں شخص برابر ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ایک مومن ہے اور دوسرا کافر۔ ہر طرح کے دلائل سے لیس ہے اور دوسرا بالکل خالی ہے۔ **- یعنی جن کے اندر مذکورہ اوصاف پائے جائیں گے وہ قرآن کریم اور نبی پر ایمان لائیں گے۔ ***- تمام فرقوں سے مراد روئے زمین پر پائے جانے والے مذاہب ہیں، یہودی، عیسائی، زرتشی، بدھ مت، مجوسی اور مشرکین و کفار وغیرہ، جو بھی حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) پر ایمان نہیں لائے گا، اس کا ٹھکانا جہنم ہے یہ وہی مضمون ہے جسے اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت کے جس یہودی، یا عیسائی نے بھی میری نبوت کی بابت سنا اور پھر مجھ پر ایمان نہیں لایا وہ جہنم میں جائے گا“(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب وجوب الإيمان برسالة نبينا صلى الله عليه وسلم إلى جميع الناس) یہ مضمون اس سے پہلے سورہ بقرہ آیت 62 اور سورہ نساء آیت ۱۵۰-۱۵۲ میں بھی گزر چکا ہے۔ ****- یہ وہی مضمون ہے جو قرآن مجید کے مختلف مقامات پر بیان کیا گیا «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» (سورۃ یوسف:103) ”تیری خواہش کے باوجود اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے“، «وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلا فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» ( سورة سبأ:20) ”ابلیس نے اپنا گمان سچا کر دکھایا، مومنوں کے ایک گروہ کے سوا، سب اس کے پیروکار بن گئے“۔

(18) اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہوگا جو اللہ پرجھوٹ باندھے* یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور سارے گواه کہیں گے کہ یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا، خبردار ہو کہ اللہ کی لعنت ہے ﻇالموں پر.**
* یعنی جن کا اللہ نے کائنات میں تصرف کرنے کا یا آخرت میں شفاعت کا اختیار نہیں دیا ہے۔ ان کی بابت یہ کہا جائے کہ اللہ نے انہیں یہ اختیار دیا ہے۔ **- حدیث میں اس کی تفسیر اس طرح آتی ہے کہ " قیامت والے دن اللہ تعالٰی ایک مومن سے اس کے گناہوں کا اقرار و اعتراف کروائے گا کہ تجھے معلوم ہے کہ تو نے فلاں گناہ بھی کیا تھا، فلاں بھی کیا تھا، وہ مومن کہے گا ہاں ٹھیک ہے اللہ تعالٰی فرمائے گا۔ میں نے ان گناہوں پر دنیا میں بھی پردہ ڈالے رکھا تھا، جا آج بھی انہیں معاف کرتا ہوں، لیکن دوسرے لوگ یا کافروں کا معاملہ ایسا ہوگا کہ انہیں گواہوں کے سامنے پکارا جائے گا اور گواہ یہ گواہی دیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا (صحيح بخاري- تفسير سورة هود)۔

(19) جو اللہ کی راه سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کر لیتے ہیں*۔ یہی آخرت کے منکر ہیں.
* یعنی لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کے لئے، اس میں کجیاں تلاش کرتے اور لوگوں کو متنفر کرتے ہیں۔

(20) نہ یہ لوگ دنیا میں اللہ کو ہرا سکے اور نہ ان کا کوئی حمایتی اللہ کے سوا ہوا، ان کے لئے عذاب دگنا کیا جائے گا نہ یہ سننے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ یہ دیکھتے ہی تھے.*
* یعنی ان کا حق سے اعراض اور بغض اس انتہا تک پہنچا ہوا تھا کہ یہ اسے سننے اور دیکھنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے تھے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے ان کو کان اور آنکھیں تو دی تھیں لیکن انہوں نے ان سے کوئی بات نہ سنی اور نہ دیکھی۔ گویا: «فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ اَبْصَارُهُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ» (الاحقاف:26) ”نہ ان کے کانوں نے انہیں کوئی فائدہ پہنچایا، نہ ان کی آنکھوں اور دلوں نے“، کیونکہ وہ حق سننے سے بہرے اور حق دیکھنے سے اندھے بنے رہے، جس طرح کہ وہ جہنم میں داخل ہوتے ہوئے کہیں گے، «لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ» (الملک:10) ”اگر ہم سنتے اور عقل سے کام لیتے تو آج جنہم میں نہ جاتے“۔

(21) یہی ہیں جنہوں نے اپنا نقصان آپ کر لیا اور وه سب کچھ ان سے کھو گیا، جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا.

(22) بیشک یہی لوگ آخرت میں زیاں کار ہوں گے.

(23) یقیناً جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے اور اپنے پالنے والے کی طرف جھکتے رہے، وہی جنت میں جانے والے ہیں، جہاں وه ہمیشہ ہی رہنے والے ہیں.

(24) ان دونوں فرقوں کی مثال اندھے، بہرے اور دیکھنے، سننے والے جیسی ہے۔ کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہیں؟ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
* پچھلی آیات میں مومنین اور کافرین اور سعادت مندوں اور بدبختوں، دونوں کا تذکرہ فرمایا۔ اب اس میں دونوں کی مثال بیان فرما کر دونوں کی حقیقت کو مزید واضح کیا جا رہا ہے۔ فرمایا، ایک کی مثال اندھے اور بہرے کی طرح ہے اور دوسرے کی دیکھنے اور سننے والے کی طرح۔ کافر دنیا میں حق کا روئے زیبا دیکھنے سے محروم اور آخرت میں نجات کے راستہ سے بےبہرہ، اسی طرح حق کے دلائل سننے سے بےبہرہ ہوتا ہے، اسی لئے ایسی باتوں سے محروم رہتا ہے جو اس کے لئے مفید ہوں۔ اس کے برعکس مومن سمجھ دار، حق کو دیکھنے والا اور حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنے والا ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ حق اور خیر کی پیروی کتا ہے، دلائل کو سنتا اور ان کے ذریعے سے شبہات کا ازالہ کرتا اور باطل سے اجتناب کرتا ہے، کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ استفہام نفی کے لیے ہے۔ یعنی دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔«لا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ» (الحشر:20) ”جنتی دوزخی برابر نہیں ہو سکتے جنتی تو کامیاب ہونے والے ہیں“، ایک اور مقام پر اسے اس طرح بیان فرمایا ”اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں۔ اندھیرے اور روشنی، سایہ اور دھوپ برابر نہیں، زندے اور مردے برابر نہیں“۔ (سورہ فاطر:۱۹-۲۰)

(25) یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا کہ میں تمہیں صاف صاف ہوشیار کر دینے واﻻ ہوں۔

(26) کہ تم صرف اللہ ہی کی عبادت کرو*، مجھے تو تم پر دردناک دن کے عذاب کا خوف ہے**۔
* یہ وہی دعوت توحید ہے جو ہر نبی نے آ کر اپنی اپنی قوم کو دی۔ جس طرح فرمایا «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» (الانبیاء: 25) ”جو پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے بھیجے، ان کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری ہی عبادت کرو“۔ **- یعنی اگر مجھ پر ایمان نہیں لائے اور اس دعوت توحید کو نہیں اپنایا تو عذاب الٰہی سے نہیں بچ سکو گے۔

(27) اس کی قوم کے کافروں کے سرداروں نے جواب دیا کہ ہم تو تجھے اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں* اور تیرے تابعداروں کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ واضح طور پر سوائے نیچ** لوگوں کے*** اور کوئی نہیں جو بے سوچے سمجھے (تمہاری پیروی کر رہے ہیں)، ہم تو تمہاری کسی قسم کی برتری اپنے اوپر نہیں دیکھ رہے، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھ رہے ہیں۔
* یہ وہی شبہ ہے، جس کی پہلے کئی جگہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ کافروں کے نزدیک بشریت کے ساتھ نبوت و رسالت کا اجتماع بڑا عجیب تھا، جس طرح آج کے اہل بدعت کو بھی عجیب لگتا ہے اور وہ بشریت رسول (صلى الله عليه وسلم) کا انکار کرتے ہیں۔ **- حق کی تاریخ میں یہ بات بھی ہر دور میں سامنے آتی رہی ہے کہ ابتداء میں اس کو اپنانے والے ہمیشہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں معاشرے میں بےنوا کم تر سمجھا جاتا تھا اور صاحب حیثیت اور خوش حال طبقہ اس سے محروم رہتا۔ حتی کہ پیغمبروں کے پیروکاروں کی علامت بن گئی۔ چنانچہ شاہ روم ہرقل نے حضرت ابو سفیان (رضي الله عنه) سے نبی (صلى الله عليه وسلم) کی بابت پوچھا تو اس میں ان سے ایک بات یہ بھی پوچھی کہ ”اس کے پیروکار معاشرے کے معزز سمجھے جانے والے لوگ ہیں یا کمزور لوگ“ حضرت ابو سفیان (رضي الله عنه) نے جواب میں کہا ”کمزور لوگ“ جس پر ہرقل نے کہا ”رسولوں کے پیروکار یہی لوگ ہوتے ہیں“۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 7) قرآن کریم میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ خوش حال طبقہ ہی سب سے پہلے پیغمبروں کی تکذیب کرتا رہا ہے۔ (سورہ زخرف: ۲۳) اور یہ اہل ایمان کی دنیاوی حیثیت تھی اور جس کے اعتبار سے اہل کفر انہیں حقیر اور کم تر سمجھتے تھے، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ حق کے پیروکار معزز اور اشراف ہیں چاہے وہ مال و دولت کے اعتبار سے فروتر ہی ہوں اور حق کا انکار کرنے والے حقیر اور بےحیثیت ہیں چاہے وہ دنیوں اعتبار سے مال دار ہی ہوں۔ ***- اہل ایمان چونکہ، اللہ اور رسول کے احکام کے مقابلے میں اپنی عقل و دانش اور رائے کا استعمال نہیں کرتے، اس لئے اہل باطل یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بےسوچ سمجھ والے ہیں کہ اللہ کا رسول انہیں جس طرف موڑ دیتا ہے، یہ مڑ جاتے ہیں جس چیز سے روک دیتا ہے، رک جاتے ہیں۔ یہ بھی اہل ایمان کی ایک بڑی بلکہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ لیکن اہل کفر و باطل کے نزدیک یہ خوبی بھی ”عیب“ ہے۔

(28) نوح نے کہا، میری قوم والو! مجھے بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی دلیل پر ہوا اور مجھے اس نے اپنے پاس کی کوئی رحمت عطا کی ہو*، پھر وه تمہاری نگاہوں میں** نہ آئی تو کیا زبردستی میں اسے تمہارے گلے منڈھ دوں، حاﻻنکہ تم اس سے بیزار ہو۔***
* بَيِّنَةٍ سے مراد ایمان و یقین ہے اور رحمت سے مراد نبوت۔ جس سے اللہ تعالٰی نے حضرت نوح (عليه السلام) کو سرفراز کیا تھا۔ **- یعنی تم اس کے دیکھنے سے اندھے ہوگئے۔ چنانچہ تم نے اس کی قدر پہچانی اور نہ اسے اپنانے پر آمادہ ہوئے، بلکہ اس کو جھٹلایا اور اس کی تکذیب اور رد کے درپے ہوگئے۔ ***- جب یہ بات ہے تو ہدایت و رحمت تمہارے حصے میں کس طرح آ سکتی ہے؟۔

(29) میری قوم والو! میں تم سے اس پر کوئی مال نہیں مانگتا*۔ میرا ﺛواب تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے نہ میں ایمان والوں کو اپنے پاس سے نکال سکتا ہوں**، انہیں اپنے رب سے ملنا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت کر رہے ہو۔***
* تاکہ تمہارے دماغوں میں یہ شبہ نہ آ جائے کہ اس دعوائے نبوت سے اس کا مقصد تو دولت دنیا اکٹھا کرنا ہے۔ میں تو یہ کام صرف اللہ کے حکم پر اسی کی رضا کے لئے کر رہا ہوں، وہی مجھے اجر دے گا۔ **- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح (عليه السلام) کے سرداروں نے بھی معاشرے میں کمزور سمجھے جانے والے اہل ایمان کو حضرت نوح (عليه السلام) سے اپنی مجلس یا اپنے قرب سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا ہوگا، جس طرح روسائے مکہ نے رسول اللہ سے اس قسم کا مطالبہ کیا تھا، جس پر اللہ تعالٰی نے قرآن کریم کی آیت نازل فرمائیں تھیں «وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ» (سورة الأنعام: 52)، ”اے پیغمبر ان لوگوں کو اپنے سے دور مت کرنا جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں“، «وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ» (الكهف: 28)۔ ”اپنے نفسوں کو ان لوگوں کے ساتھ جوڑے رکھئے! جو اپنے رب کو صبح شام پکارتے ہیں، اپنے رب کی رضا چاہتے ہیں، آپ کی آنکھیں ان سے گزر کر کسی اور کی طرف تجاوز نہ کریں“۔ ***- یعنی اللہ اور رسول کے پیروکار کو حقیر سمجھنا اور پھر انہیں قرب نبوت سے دور کرنے کا مطالبہ کرنا، یہ تمہاری جہالت ہے۔ یہ لوگ تو اس لائق ہیں کہ انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا جائے نہ کہ دور دھتکارا جائے۔

(30) میری قوم کے لوگو! اگر میں ان مومنوں کو اپنے پاس سے نکال دوں تو اللہ کے مقابلہ میں میری مدد کون کر سکتا ہے*؟ کیا تم کچھ بھی نصیحت نہیں پکڑتے۔
* گویا ایسے لوگوں کو اپنے سے دور کرنا، اللہ کے غضب اور ناراضگی کا باعث ہے۔

(31) میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، (سنو!) میں غیب کا علم بھی نہیں رکھتا، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، نہ میرا یہ قول ہے کہ جن پر تمہاری نگاہیں ذلت سے پڑ رہی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کوئی نعمت دے گا ہی نہیں*، ان کے دل میں جو ہے اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے، اگر میں ایسی بات کہوں تو یقیناً میرا شمار ﻇالموں میں ہو جائے گا۔**
* بلکہ اللہ تعالٰی نے انہیں ایمان کی صورت میں خیر عظیم عطا کر رکھا ہے جس کی بنیاد پر وہ آخرت میں بھی جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور دنیا میں بھی اللہ تعالٰی چاہے گا، تو بلند مرتبے سے ہمکنار ہوں گے۔ گویا تمہارا ان کو حقیر سمجھنا ان کے لئے نقصان کا باعث نہیں، البتہ تم ہی عند اللہ مجرم ٹھہرو گے کہ اللہ کے نیک بندوں کو، جن کا اللہ کے ہاں بڑا مقام ہے، تم حقیر اور فرومایہ سمجھتے ہو۔ **- کیونکہ میں ان کی بابت ایسی بات کہوں جس کا مجھے علم نہیں، صرف اللہ جانتا ہے، تو یہ ظلم ہے۔

(32) (قوم کے لوگوں نے) کہا اے نوح! تو نے ہم سے بحﺚ کر لی اور خوب بحث کر لی۔ اب تو جس چیز سے ہمیں دھمکا رہا ہے وہی ہمارے پاس لے آ، اگر تو سچوں میں ہے۔**
* لیکن اس کے باوجود ہم ایمان نہیں لائے۔ **- یہ وہی حماقت ہے جس کا ارتکاب گمراہ قومیں کرتی آئی ہیں کہ وہ اپنے پیغمبر سے کہتی رہی ہیں کہ اگر تو سچا ہے تو ہم پر عذاب نازل کروا کر ہمیں تباہ کروا دے۔ حالانکہ ان میں عقل ہوتی، تو وہ کہتیں کہ اگر سچا ہے اور واقعی اللہ کا رسول ہے، تو ہمارے لئے دعا کر کہ اللہ تعالٰی ہمارا سینہ بھی کھول دے تاکہ ہم اسے اپنا لیں۔

(33) جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ ہی ﻻئے گا اگر وه چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔*
* یعنی عذاب کا آنا خالص اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، یہ نہیں ہے کہ جب میں چاہوں، تم پر عذاب آ جائے۔ تاہم جب اللہ عذاب کا فیصلہ کر لے گا یا بھیج دے گا، تو پھر اس کو کوئی عاجز کرنے والا نہیں ہے۔

(34) تمہیں میری خیر خواہی کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی، گو میں کتنی ہی تمہاری خیر خواہی کیوں نہ چاہوں، بشرطیکہ اللہ کا اراده تمہیں گمراه کرنے کا ہو*، وہی تم سب کا پروردگار ہے** اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
* إِغْوَاءٌ بمعنی اضلال (گمراہ کرنا ہے)۔ یعنی تمہارا کفر وجحود اگر اس مقام پر پہنچ چکا ہے، جہاں سے کسی انسان کو پلٹ کر آنا اور ہدایت کو اپنا لینا ناممکن ہے، تو اسی کیفیت کو اللہ تعالٰی کی طرف سے مہر لگا دینا کہا جاتا ہے، جس کے بعد ہدایت کی کوئی امید باقی نہیں رہ جاتی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم بھی اسی خطرناک موڑ تک پہنچ چکے ہو تو پھر میں تمہاری خیر خواہی بھی کرنی چاہوں یعنی ہدایت پر لانے کی اور زیادہ کوشش کروں، تو یہ کوشش اور خیر خواہی تمہارے لئے مفید نہیں، کیونکہ تم گمراہی کے آخری مقام پر پہنچ چکے ہو۔ **- ہدایت اور گمراہی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے، جہاں وہ تمہیں تمہارے عملوں کی جزا دے گا۔ نیکوں کو انکے نیک عمل کی جزا اور بروں کو ان کی برائی کی سزا دے گا۔

(35) کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے خود اسی نے گھڑ لیا ہے؟ تو جواب دے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہو تو میرا گناه مجھ پر ہے اور میں ان گناہوں سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو۔*
* بعض مفسرین کے نزدیک یہ مکالمہ قوم نوح (عليه السلام) اور حضرت نوح (عليه السلام) کے درمیان ہوا اور بعض کا خیال ہے کہ یہ جملہ معترضہ کے طور پر نبی اکرم اور مشرکین مکہ کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ قرآن میرا گھڑا ہوا ہے اور میں اللہ کی طرف سے منسوب کرنے میں جھوٹا ہوں تو میرا جرم ہے، اس کی سزا میں ہی بھگتوں گا۔ لیکن تم جو کچھ کر رہے ہو، جس سے میں بری ہوں، اس کا بھی تمہیں پتہ ہے؟ اس کا وبال تو مجھ پر نہیں، تم پر ہی پڑے گا کیا اس کی بھی تمہیں کچھ فکر ہے؟۔

(36) نوح کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان ﻻ چکے ان کے سوا اور کوئی اب ایمان ﻻئے گا ہی نہیں، پس تو ان کے کاموں پر غمگین نہ ہو۔*
* یہ اس وقت کہا گیا کہ جب قوم نوح (عليه السلام) نے عذاب کا مطالبہ کیا اور حضرت نوح (عليه السلام) نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی کہ یا رب! زمین پر ایک کافر بھی بسنے والا نہ رہنے دے۔ اللہ نے فرمایا: اب مزید کوئی ایمان نہیں لائے گا، تو ان پر غم نہ کھا۔

(37) اورایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے تیار کر* اور ﻇالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر وه پانی میں ڈبو دیئے جانے والے ہیں۔**
* ”یعنی ہماری آنکھوں کے سامنے“ اور ”ہماری دیکھ بھال میں“ اس آیت میں اللہ رب العزت کے لئے صفت 'عین' کا اثبات ہے جس پر ایمان رکھنا ضروری ہے اور 'ہماری وحی سے' کا مطلب، اس کے طول و عرض وغیرہ کی جو کیفیات ہم نے بتلائی ہیں، اس طرح اسے بنا۔ اس مقام پر بعض مفسرین نے کشتی کے طول و عرض، اس کی منزلوں اور کس قسم کی لکڑی اور دیگر سامان اس میں استعمال کیا گیا، اس کی تفصیل بیان کی ہے، جو ظاہر بات ہے کہ کسی مستند ماخذ پر مبنی نہیں ہے۔ اس کی پوری تفصیل کا صحیح علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ **- بعض نے اس سے مراد حضرت نوح (عليه السلام) کے بیٹے اور اہلیہ کو لیا ہے جو مومن نہیں تھے اور غرق ہونے والوں میں سے تھے۔ بعض نے اس سے غرق ہونے والی پوری قوم مراد لی ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان کے لئے کوئی مہلت طلب مت کرنا کیونکہ اب ان کے ہلاک ہونے کا وقت آ گیا ہے یا یہ مطلب ہے کہ ان کی ہلاکت کے لئے جلدی نہ کریں، وقت مقرر میں یہ سب غرق ہو جائیں گے۔ (فتح القدیر)۔

(38) وه (نوح) کشتی بنانے لگے ان کی قوم کے جو سردار ان کے پاس سے گزرتے وه ان کا مذاق اڑاتے*، وه کہتے اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی تم پر ایک دن ہنسیں گے جیسے تم ہم پر ہنستے ہو۔
* مثلا کہتے، نوح! نبی بنتے بنتے اب بڑھئی بن گئے ہو؟ یا اے نوح! خشکی میں کشتی کس لئے تیار کر رہے ہو؟

(39) تمیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے اور اس پر ہمیشگی کی سزا* اتر آئے۔
* اس سے مراد جہنم کا دائمی عذاب ہے، جو اس دنیوی عذاب کے بعد ان کے لئے تیار ہے۔

(40) یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور ابلنے لگا* ہم نے کہا کہ اس کشتی میں ہر قسم کے (جانداروں میں سے) جوڑے (یعنی) دو (جانور، ایک نر اور ایک ماده) سوار کرا لے** اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی، سوائے ان کے جن پر پہلے سے بات پڑ چکی ہے*** اور سب ایمان والوں کو بھی****، اس کے ساتھ ایمان ﻻنے والے بہت ہی کم تھے۔*****
* اس سے بعض نے روٹی پکانے والے تنور، بعض نے مخصوص جگہیں مثلا عین الوردہ اور بعض نے سطح زمین مراد لی ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اسی آخری مفہوم کو ترجیح دی ہے یعنی ساری زمین ہی چشموں کی طرح ابل پڑی، اوپر سے آسمان کی بارش نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ **- اس سے مراد مذکر اور مؤنث یعنی نر مادہ ہے اس طرح ہر ذی روح مخلوق کا جوڑا کشتی میں رکھ لیا گیا اور بعض کہتے ہیں کہ نباتات بھی رکھے گئے تھے۔ وللہ اعلم۔ ***- یعنی جن کا غرق ہونا تقدیر الٰہی میں ثبت ہے اس سے مراد عام کفار ہیں، یا یہ استشناء ”أَهْلَكَ“ سے ہے یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کرا لے، سوائے ان کے جن پر اللہ کی بات سبقت کر گئی ہے یعنی ایک بیٹا (کنعان یا۔ یام) اور حضرت نوح (عليه السلام) کی اہلیہ (وَاعِلَة) یہ دونوں کافر تھے، ان کو کشتی میں بیٹھنے والوں سے مستشنٰی کر دیا گیا۔ ****- یعنی سب اہل ایمان کو کشتی میں سوار کرا لے۔ *****- بعض نے ان کی کل تعداد (مرد اور عورت ملا کر) ٨٠ اور بعض نے اس سے بھی کم بتلائی ہے۔ ان میں حضرت نوح (عليه السلام) کے تین بیٹے، جو ایمان والوں میں شامل تھے، سام، حام، یافت اور ان کی بیویاں اور چوتھی بیوی، یام کی تھی، جو کافر تھا، لیکن اس کی بیوی مسلمان ہونے کی وجہ سے کشتی میں سوار تھی۔ (ابن کثیر)

(41) نوح ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا، اس کشتی میں بیٹھ جاؤ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے*، یقیناً میرا رب بڑی بخشش اور بڑے رحم واﻻ ہے۔
* یعنی اللہ ہی کے نام سے اس کا پانی کی سطح پر چلنا اور اسی کے نام پر اس کا ٹھہرنا ہے۔ اس سے ایک مقصد اہل ایمان کو تسلی اور حوصلہ دینا بھی تھا کہ بلا خوف و خطر کشتی میں سوار ہو جاؤ، اللہ تعالٰی ہی اس کشتی کا محافظ اور نگران ہے اسی کے حکم سے چلے گی اور اسی کے حکم سے ٹھہرے گی۔ جس طرح اللہ تعالٰی نے دوسرے مقام پر فرمایا کہ 'اے نوح! جب تو اور تیرے ساتھی کشتی میں آرام سے بیٹھ جائیں تو کہو «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّانَا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ، وَقُلْ رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ» (المومنون: 28،29) ”سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی اور کہہ کہ اے میرے رب! مجھے بابرکت اتارنا اتار اور تو ہی بہتر اتارنے والا ہے“۔ بعض علماء نے کشتی یا سواری پر بیٹھتے وقت «بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا» کا پڑھنا مستحب قرار دیا ہے، مگر حدیث سے «سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ» (الزخرف: 13) پڑھنا ثابت ہے۔

(42) وه کشتی انہیں پہاڑوں جیسی موجوں میں لے کر جا رہی تھی* اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے لڑکے کو جو ایک کنارے پر تھا، پکار کر کہا کہ اے میرے پیارے بچے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں شامل نہ ره۔**
* یعنی جب زمین پر پانی تھا، حتٰی کے پہاڑ بھی پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، یہ کشتی حضرت نوح (عليه السلام) اور ان کے ساتھیوں کو دامن میں سمیٹے، اللہ کے حکم سے اور اس کی حفاظت میں پہاڑ کی طرح رواں دواں تھی۔ ورنہ اتنے طوفانی پانی میں کشتی کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے؟ اسی لئے دوسرے مقام پر اللہ تعالٰی نے اسے بطور احسان ذکر فرمایا: «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ * لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» (الحاقہ :12-11) ”جب پانی میں طغیانی آ گئی تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا تاکہ اسے تمہارے لئے نصیحت اور یادگار بنا دیں اور تاکہ یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں“۔ «وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ * تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِمَنْ كَانَ كُفِرَ»۔ (القمر: 13۔14) ”اور ہم نے اسے تخنوں اور کیلوں والی کشتی میں سوار کر لیا جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی بدلہ اسکی طرف سے جس کا کفر کیا گیا تھا“۔ **- یہ حضرت نوح (عليه السلام) کا چوتھا بیٹا تھا جس کا لقب کنعان اور نام 'یام' تھا، اسے حضرت نوح (عليه السلام) نے دعوت دی کہ مسلمان ہو جا اور کافروں کے ساتھ شامل رہ کر غرق ہونے والوں میں سے مت ہو۔

(43) اس نے جواب دیا کہ میں تو کسی بڑے پہاڑ کی طرف پناه میں آجاؤں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا*، نوح ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا آج اللہ کے امر سے بچانے واﻻ کوئی نہیں، صرف وہی بچیں گے جن پر اللہ کا رحم ہوا۔ اسی وقت ان دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی اور وه ڈوبنے والوں میں سے ہوگیا۔**
* اس کا خیال تھا کہ کسی بڑے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر میں پناہ حاصل کرلوں گا، وہاں پانی کیونکر پہنچ سکے گا۔ **- باپ بیٹے کے درمیان یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ ایک طوفانی موج نے اسے اپنی طغیانی کی زد میں لے لیا۔

(44) فرما دیا گیا کہ اے زمین اپنے پانی کو نگل جا* اور اے آسمان بس کر تھم جا، اسی وقت پانی سکھا دیا گیا اور کام پورا کر دیا گیا** اور کشتی جودی نامی*** پہاڑ پر جا لگی اور فرما دیا گیا کہ ﻇالم لوگوں پر لعنت نازل ہو۔****
* نگلنا، کا استعمال جانور کے لئے ہوتا ہے کہ وہ اپنے منہ کی خوراک کو نگل جاتا ہے۔ یہاں پانی کے خشک ہونے کو نگل جانے سے تعبیر کرنے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ پانی بتدریخ خشک نہیں ہوا تھا بلکہ اللہ کے حکم سے زمین نے سارا پانی دفعتا اس طرح اپنے اندر نگل لیا جس طرح جانور لقمہ نگل جاتا ہے۔ **- یعنی تمام کافروں کو غرق آب کر دیا گیا۔ ***- جودی، پہاڑ کا نام ہے جو بقول بعض موصل کے قریب ہے، حضرت نوح علیہ السام کی قوم بھی اسی کے قریب آباد تھی۔ ****- بُعْدٌ، یہ ہلاکت اور لعنت الٰہی کے معنی میں ہے اور قرآن کریم بطور خاص غضب الٰہی کی مستحق بننے والی قوموں کے لئے اسے کئی جگہ استعمال کیا گیا ہے۔

(45) نوح ﴿علیہ السلام﴾ نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ میرے رب میرا بیٹا تو میرے گھر والوں میں سے ہے، یقیناً تیرا وعده بالکل سچا ہے اور تو تمام حاکموں سے بہتر حاکم ہے۔*
* حضرت نوح (عليه السلام) نے غالبا شفقت پدری کے جذبے سے مغلوب ہو کر بارگاہ الٰہی میں یہ دعا کی اور بعض کہتے ہیں کہ انہیں یہ خیال تھا کہ شاید یہ مسلمان ہو جائے گا، اس لئے اس کے بارے میں یہ استدعا کی۔

(46) اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح یقیناً وه تیرے گھرانے سے نہیں ہے*، اس کے کام بالکل ہی ناشائستہ ہیں** تجھے ہرگز وه چیز نہ مانگنی چاہئے جس کا تجھے مطلقاً علم نہ ہو*** میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے اپنا شمار کرانے سے باز رہے۔****
* حضرت نوح (عليه السلام) نے قرابت نسبی کا لحاظ کرتے ہوئے اسے اپنا بیٹا قرار دیا۔ لیکن اللہ تعالٰی نے ایمان کی بنیاد پر قرابت دین کے اعتبار سے اس بات کی نفی فرمائی کہ وہ تیرے گھرانے سے ہے۔ اس لئے کہ ایک نبی کا اصل گھرانہ تو وہی ہے جو اس پر ایمان لائے، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ اور اگر کوئی ایمان نہ لائے تو چاہے وہ نبی کا باپ ہو، بیٹا ہو یا بیوی، وہ نبی کے گھرانے کا فرد نہیں۔ **- یہ اللہ تعالٰی نے اس کی علت بیان فرما دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس کے پاس ایمان اور عمل صالح نہیں ہوگا، اسے اللہ کے عذاب سے اللہ کا پیغمبر بھی بچانے پر قادر نہیں۔ آج کل لوگ پیروں، فقیروں اور سجادہ نشینوں سے وابستگی کو ہی نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں اور عمل صالح کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے حالانکہ جب عمل صالح کے بغیر نبی سے نسبی قرابت بھی کام نہیں آتی، تو یہ وابستگیاں کیا کام آ سکتی ہیں۔ ***- اس سے معلوم ہوا کہ نبی عالم الغیب نہیں ہوتا، اس کو اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا وحی کے ذریعے سے اللہ تعالٰی اسے عطا فرما دیتا ہے۔ اگر حضرت نوح (عليه السلام) کو پہلے سے علم ہوتا کہ ان کی درخواست قبول نہیں ہوگی تو یقینا وہ اس سے پرہیز فرماتے۔ ****- یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے حضرت نوح (عليه السلام) کو نصیحت ہے، جس کا مقصد ان کو اس مقام بلند پر فائز کرنا ہے جو علمائے عالمین کے لئے اللہ کی بارگاہ میں ہے۔

(47) نوح نے کہا میرے پالنہار میں تیری ہی پناه چاہتا ہوں اس بات سے کہ تجھ سے وه مانگوں جس کا مجھے علم ہی نہ ہو اگر تو مجھے نہ بخشے گا اور تو مجھ پر رحم نہ فرمائے گا، تو میں خساره پانے والوں میں ہو جاؤں گا۔*
* جب حضرت نوح (عليه السلام) یہ بات جان گئے کہ ان کا سوال واقعہ کے مطابق نہیں تھا، تو فورا اس سے رجوع فرما لیا اور اللہ تعالٰی سے اس کی رحمت و مغفرت کے طالب ہوئے۔

(48) فرما دیا گیا کہ اے نوح! ہماری جانب سے سلامتی اور ان برکتوں کے ساتھ اتر*، جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کی بہت سی جماعتوں پر** اور بہت سی وه امتیں ہوں گی جنہیں ہم فائده تو ضرور پہنچائیں گے لیکن پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔***
* یہ اترنا کشتی سے یا اس پہاڑ سے ہے جس پر کشتی جا کر ٹھہر گئی تھی۔ **- اس سے مراد یا تو وہ گروہ ہیں جو حضرت نوح (عليه السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار تھے، یا آئندہ ہونے والے وہ گروہ ہیں جو ان کی نسل سے ہونے والے تھے، اگلے فقرے کے پیش نظر یہی دوسرا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔ ***- یہ وہ گروہ ہیں جو کشتی میں بچ جانے والوں کی نسل سے قیامت تک ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کافروں کو دنیا کی چند روزہ زندگی گزارنے کے لئے ہم دنیا کا سازو سامان ضرور دیں گے لیکن بالآخر عذاب الیم سے دو چار ہوں گے۔

(49) یہ خبریں غیب کی خبروں میں سے ہیں جن کی وحی ہم آپ کی طرف کرتے ہیں انہیں اس سے پہلے آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم*، اس لئے آپ صبر کرتے رہیئے (یقین مانیئے) کہ انجام کار پرہیزگاروں کے لئے ہی ہے۔**
* یہ نبی سے خطاب ہے اور آپ سے علم غیب کی نفی کی جا رہی ہے کہ یہ غیب کی خبریں ہیں جن سے ہم آپ کو خبردار کر رہے ہیں ورنہ آپ اور آپ کی قوم ان سے لا علم تھی۔ **- یعنی آپکی قوم آپ کی جو تکذیب کر رہی ہے اور آپ کو ایذائیں پہنچا رہی ہے، اس پر صبر سے کام لیجئے اس لئے کہ آپ کے مددگار ہیں اور حسن انجام آپ کے اور آپ کے پیرو کاروں کے لئے ہی ہے، جو تقویٰ کی صفت سے متصف ہیں۔ عاقبت، دنیا و آخرت کے اچھے انجام کو کہتے ہیں۔ اس میں متقین کی بڑی بشارت ہے کہ ابتدا میں چاہے انہیں کتنا بھی مشکلات سے دوچار ہونا پڑے، تاہم بالآخر اللہ کی مدد و نصرت اور حسن انجام کے وہی مستحق ہیں جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» (المومن: 51) ”ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والو کی مدد، دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے“۔ « وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ، إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُورُونَ، وَإِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» (الصافات :171 تا 172) ”اور البتہ وعدہ پہلے ہی اپنے رسولوں کے لیے صادر ہو چکا ہے کہ وہ مظفر منصور ہوں گے اور ہمارا ہی لشکر غالب اور برتر رہے گا“۔

(50) اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو ہم* نے بھیجا، اس نے کہا میری قوم والو! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم تو صرف بہتان باندھ رہے ہو۔**
* بھائی سے مراد انہی کی قوم کا ایک فرد۔ **- یعنی اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا کر تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔

(51) اے میری قوم! میں تم سے اس کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے تو کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے۔*
* اور یہ نہیں سمجھتے کہ جو بغیر اجرت کے اور لالچ کے تمہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہے وہ تمہارا خیر خواہ ہے، آیت میں يَا قَوْمِ! سے دعوت ایک طریقہ کار معلوم ہوتا ہے یعنی بجائے یہ کہنے کے ”اے کافرو“ ”اے مشرکو“ ”اے میری قوم“ سے مخاطب کیا گیا ہے۔

(52) اے میری قوم کے لوگو! تم اپنے پالنے والے سے اپنی تقصیروں کی معافی طلب کرو اور اس کی جناب میں توبہ کرو، تاکہ وه برسنے والے بادل تم پر بھیج دے اور تمہاری طاقت پر اور طاقت قوت بڑھا دے* اور تم جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو۔**
* حضرت ہود (عليه السلام) نے توبہ و استغفار کی تلقین اپنی امت یعنی اپنی قوم کو کی اور اس کے دو فوائد بیان فرمائے جو توبہ اور استغفار کرنے والی قوم کو حاصل ہوتے ہیں۔ جس طرح قرآن کریم اور بھی بعض مقامات پر یہ فوائد بیان کئے گئے ہیں (ملاحظہ سورۂ نوح: 11) اور نبی (صلى الله عليه وسلم) کا بھی فرمان ہے «مَنْ لَزِمَ الاسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ» (أبو داود، كتاب الوتر، باب في الاستغفار، ﻧﻤﺒﺮ ١٥١٨، وابن ماجه ۔ ﻧﻤﺒﺮ ٣٨١٩)۔”جو پابندی سے استغفار کرتا ہے، اللہ تعالٰی اس کے لئے ہر فکر سے کشادگی، اور ہر تنگی سے راستہ بنا دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی“۔ **- یعنی میں تمہیں جو دعوت دے رہا ہوں، اس سے اعراض اور اپنے کفر پر اصرار مت کرو۔ ایسا کرو گے تو اللہ کی بارگاہ میں مجرم اور گناہ گار بن کر پیش ہو گے۔

(53) انہوں نے کہا اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی دلیل تو ﻻیا نہیں اور ہم صرف تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تجھ پر ایمان ﻻنے والے ہیں۔*
* ایک نبی دلائل و براہین کی پوری قوت اپنے ساتھ رکھتا ہے لیکن شپرہ چشموں کو وہ نظر نہیں آتے قوم ہود (عليه السلام) نے بھی اسی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم بغیر دلیل کے محض تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو کس طرح چھوڑیں؟۔

(54) بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تو ہمارے کسی معبود کے برے جھپٹے میں آگیا ہے*۔ اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواه کرتا ہوں اور تم بھی گواه رہو کہ میں تو اللہ کے سوا ان سب سے بیزار ہوں، جنہیں تم شریک بنا رہے ہو۔**
* یعنی تو جو ہمارے معبودوں کی توہین اور گستاخی کرتا ہے کہ یہ کچھ نہیں کر سکتے، معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے معبودوں نے تیری اس گستاخی پر تجھے کچھ کہہ دیا ہے اور تیرا دماغ ماؤف ہو گیا ہے۔ جیسے آج کل کے نام نہاد مسلمان بھی اس قسم کے توہمات کا شکار ہیں جب انہیں کہا جاتا ہے کہ یہ فوت شدہ اشخاص اور بزرگ کچھ نہیں کر سکتے، تو کہتے ہیں کہ ان کی شان میں گستاخی ہے اور خطرہ ہے کہ اس طرح کی گستاخی کرنے والوں کا وہ بیڑا غرق کر دیں۔ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ هَذِهِ الْخُرَافَاتِ وَالأكَاذِيبِ۔ **- یعنی ان تمام بتوں اور معبودوں سے بیزار ہوں اور تمہارا یہ عقیدہ کہ انہوں نے مجھے کچھ کر دیا ہے، بالکل غلط ہے، ان کے اندر یہ قدرت ہی نہیں کہ کسی کا ما فوق الاسباب طریقے سے نفع یا نقصان پہنچا سکیں۔

(55) اچھا تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے بالکل مہلت بھی نہ دو۔*
* اور اگر تمہیں میری بات پر یقین نہیں ہے بلکہ تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ یہ بت کچھ کر سکتے ہیں تو لو میں حاضر ہوں، تم اور تمہارے معبود سب ملکر میرے خلاف کچھ کر کے دکھاؤ۔ مزید اس سے نبی کے انداز کا پتہ چلتا ہے کہ وہ اس قدر بصیر پر ہوتا ہے کہ اسے اپنے حق پر ہونے کا یقین ہوتا ہے۔

(56) میرا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہی ہے، جو میرا اور تم سب کا پروردگار ہے جتنے بھی پاؤں دھرنے والے ہیں سب کی پیشانی وہی تھامے ہوئے ہے*۔ یقیناً میرا رب بالکل صحیح راه پر ہے۔**
* یعنی جس ذات کے ہاتھ میں ہرچیز کا قبضہ و تصرف ہے، وہی ذات ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے میرا توکل اسی پر ہے۔ مقصد ان الفاظ سے حضرت ہود (عليه السلام) کا یہ ہے کہ جن کو تم نے اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے ان پر بھی اللہ ہی کا قبضہ و تصرف ہے، اللہ تعالٰی ان کے ساتھ جو چاہے کر سکتا ہے، وہ کسی کا کچھ نہیں کر سکتے۔ **- یعنی وہ جو توحید کی دعوت دے رہا ہے یقیناً یہ دعوت ہی صراط مستقیم ہے اس پر چل کر نجات اور کامیابی سے ہمکنار ہو سکتے ہو اور اس صراط مستقیم سے اعراض انحراف تباہی و بربادی کا باعث ہے۔

(57) پس اگر تم روگردانی کرو تو کرو میں تو تمہیں وه پیغام پہنچا چکا جو دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا *تھا۔ میرا رب تمہارے قائم مقام اور لوگوں کو کر دے گا اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکو گے**، یقیناً میرا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے.***
* یعنی اس کے بعد میری ذمہ داری ختم اور تم پر حجت تمام ہوگی۔ **- یعنی تمہیں تباہ کر کے تمہاری زمینوں اور املاک کا وہ دوسروں کو مالک بنا دے، تو وہ ایسا کرنے پر قادر ہے اور تم اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے بلکہ وہ اپنی مشیت و حکمت کے مطابق ایسا کرتا رہتا ہے۔ ***- یقیناً وہ مجھے تمہارے مکرو فریب اور سازشوں سے بھی محفوظ رکھے گا اور شیطانی چالوں سے بھی بچائے گا، علاوہ ازیں ہر نیک بد کو ان کے اعمال کے مطابق اچھی اور بری جزا دے گا۔

(58) اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور اس کے مسلمان ساتھیوں کو اپنی خاص رحمت سے نجات عطا فرمائی اور ہم نے ان سب کو سخت عذاب سے بچا لیا.*
* سخت عذاب سے مراد وہی الرِّ یْحَ الْعَقِیْمَ تیز آندھی کا عذاب ہے جس کے ذریعے سے حضرت ہود (عليه السلام) کی قوم عاد کو ہلاک کیا گیا جس سے حضرت ہود (عليه السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچا لیا گیا۔

(59) یہ تھی قوم عاد، جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی* نافرمانی کی اور ہر ایک سرکش نافرمان کے حکم کی تابعداری کی.**
* عاد کی طرف صرف ایک نبی حضرت ہود (عليه السلام) ہی بھیجے گئے تھے، یہاں اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی۔ اس سے یا تو یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ ایک رسول کی تکذیب، یہ گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ کیونکہ تمام رسولوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ یہ قوم اپنے کفر اور انکار میں اتنی آگے بڑھ چکی تھی کہ حضرت ہود (عليه السلام) کے بعد اگر ہم اس قوم میں متعدد رسول بھی بھیجتے، تو یہ قوم ان سب کی تکذیب ہی کرتی۔ اور اس سے قطعاً یہ امید نہ تھی کہ وہ کسی بھی رسول پر ایمان لے آتی۔ یا ہو سکتا ہے کہ اور بھی انبیاء بھیجے گئے ہوں اور اس قوم نے ہر ایک کی تکذیب کی۔ **- یعنی اللہ کے پیغمبروں کی تکذیب کی لیکن جو لوگ اللہ کے حکموں سے سرکشی کرنے والے اور نافرمان تھے، ان کی اس قوم نے پیروی کی۔

(60) دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی*، دیکھ لو قوم عاد نے اپنے رب سے کفر کیا، ہود کی قوم عاد پر دوری ہو.**
* لَعْنَہ کا مطلب اللہ کی رحمت سے دوری، امور خیر سے محرومی اور لوگوں کی طرف سے ملامت و بیزاری۔ دنیا میں یہ لعنت اس طرح کہ اہل ایمان میں ان کا ذکر ہمیشہ ملامت اور بیزاری کے انداز میں ہوگا اور قیامت میں اس طرح کہ وہاں علٰی رؤوس الشہاد ذلت اور رسوائی سے دو چار اور عذاب الٰہی میں مبتلا ہوں گے۔ **- بُعْد کا یہ لفظ رحمت سے دوری اور لعنت اور ہلاکت کے معنی کے لئے ہے، جیسا کہ اس سے قبل بھی وضاحت کی جا چکی ہے۔

(61) اور قوم ﺛمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا*، اس نے کہا کہ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں**، اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے*** اور اسی نے اس زمین میں تمہیں بسایا ہے****، پس تم اس سے معافی طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ بیشک میرا رب قریب اور دعاؤں کا قبول کرنے واﻻ ہے.
* وَ اِلَیٰ ثَمُوْدَ عطف ہے ما قبل پر۔ یعنی وَ اَرْسَلنَا اِلَیٰ ثُمُوْدَ ہم نے ثمود کی طرف بھیجا۔ یہ قوم تبوک اور مدینہ کے درمیان مدائن (حجر) میں رہائش پذیر تھی اور یہ قوم عاد کے بعد ہوئی۔ حضرت صالح (عليه السلام) کو یہاں بھی ثمود کا بھائی کہا۔ جس سے مراد انہی کے خاندان اور قبیلے کا ایک فرد ہے۔ **- حضرت صالح (عليه السلام) نے بھی سب سے پہلے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی، جس طرح کہ انبیاء کا طریق رہا ہے۔ ***- یعنی ابتدا میں تمہیں زمین سے پیدا کیا اس طرح کہ تمہارے باپ آدم (عليه السلام) کی تخلیق مٹی سے ہوئی اور تمام انسان صلب آدم (عليه السلام) سے پیدا ہوئے یوں گویا تمام انسانوں کی پیدائش زمین سے ہوئی۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم جو کچھ کھاتے ہو، سب زمین ہی سے پیدا ہوتا ہے اور اسی خوراک سے وہ نطفہ بنتا ہے۔ جو رحم مادر میں جا کر وجود انسانی کا باعث ہوتا ہے۔ ****- یعنی تمہارے اندر زمین کو بسانے اور آباد کرنے کی استعداد اور صلاحیت پیدا کی، جس سے تم رہائش کے لئے مکان تعمیر کرتے، خوراک کے لئے کاشت کاری کرتے اور دیگر ضروریات زندگی مہیا کرنے کے لئے صنعت و حرفت سے کام لیتے ہو۔

(62) انہوں نے کہا اے صالح! اس سے پہلے تو ہم تجھ سے بہت کچھ امیدیں لگائے ہوئے تھے، کیا تو ہمیں ان کی عبادتوں سے روک رہا ہے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے، ہمیں تو اس دین میں حیران کن شک ہے جس کی طرف تو ہمیں بلا رہا ہے.*
* یعنی پیغمبر اپنی قوم میں چونکہ اخلاق و کردار اور امانت و دیانت میں ممتاز ہوتا ہے اس لئے قوم کی اس سے اچھی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ اسی اعتبار سے حضرت صالح (عليه السلام) کی قوم نے بھی ان سے یہ کہا۔ لیکن دعوت توحید دیتے ہی ان کی امیدوں کا یہ مرکز، ان کی آنکھوں کا کانٹا بن گیا اور اس دین میں شک کا اظہار کیا جس طرف حضرت صالح (عليه السلام) انہیں بلا رہے تھے یعنی دین توحید۔

(63) اس نے جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو! ذرا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی مضبوط دلیل پر ہوا اور اس نے مجھے اپنے پاس کی رحمت عطا کی ہو*، پھر اگر میں نے اس کی نافرمانی کر** لی تو کون ہے جو اس کے مقابلے میں میری مدد کرے؟ تم تو میرا نقصان ہی بڑھا رہے ہو.***
* بِیْنَۃٍ سے مراد وہ ایمان و یقین ہے، جو اللہ تعالٰی پیغمبر کو عطا فرماتا ہے اور رحمت سے نبوت، جیسا کہ پہلے وضاحت گزر چکی ہے۔ **- نافرمانی سے مراد یہ ہے کہ اگر میں تمہیں حق کی طرف اور اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلانا چھوڑ دوں، جیسا کہ تم چاہتے ہو۔ ***- یعنی اگر میں ایسا کروں تو مجھے کوئی فائدہ تو نہیں پہنچا سکتے، البتہ اس طرح تم میرے نقصان و خسارے میں ہی اضافہ کرو گے۔

(64) اور اے میری قوم والو! یہ اللہ کی بھیجی ہوئی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک معجزه ہے اب تم اسے اللہ کی زمین میں کھاتی ہوئی چھوڑ دو اور اسے کسی طرح کی ایذا نہ پہنچاؤ ورنہ ايک قریب عذاب تمہیں پکڑ لے گا .*
* یہ وہی اونٹنی جو اللہ تعالٰی نے ان کے کہنے پر ان کی آنکھوں کے سامنے ایک پہاڑ یا ایک چٹان سے برآمد فرمائی اس لئے اسے ”نَاقَةُ اللهِ“ (اللہ کی اونٹنی) کہا گیا ہے کیونکہ یہ خالص اللہ کے حکم سے معجزانہ طور پر مذکورہ خلاف عادت طریقے سے ظاہر ہوئی تھی۔ اس کی بابت انہیں تاکید کر دی گئی تھی کہ اسے ایذا نہ پہنچانا ورنہ تم عذاب الٰہی کی گرفت میں آ جاؤ گے۔

(65) پھر بھی ان لوگوں نے اس اونٹنی کے پاؤں کاٹ ڈالے، اس پر صالح نے کہا کہ اچھا تم اپنے گھروں میں تین تین دن تک تو ره سہ لو، یہ وعده جھوٹا نہیں ہے.*
* لیکن ان ظالموں نے اس زبردست معجزے کے باوجود نہ صرف ایمان لانے سے گریز کیا بلکہ حکم الٰہی سے صریح سرتابی کرتے ہوئے اسے مار ڈالا، جس کے بعد انہیں تین دن کی مہلت دے دی گئی کہ تین دن کے بعد تمہیں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر دیا جائے گا۔

(66) پھر جب ہمارا فرمان آپہنچا*، ہم نے صالح کو اور ان پر ایمان ﻻنے والوں کو اپنی رحمت سے اس سے بھی بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی۔ یقیناً تیرا رب نہایت توانا اور غالب ہے.
* اس سے مراد وہی عذاب ہے جو وعدے کے مطابق چوتھے دن آیا اور حضرت صالح (عليه السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کے سوا، سب کو ہلاک کر دیا گیا۔

(67) اور ﻇالموں کو بڑے زور کی چنگھاڑ نے آدبوچا*، پھر تو وه اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ره گئے.**
* یہ عذاب صَيْحَةٌ (چیخ زور کی کڑک) کی صورت میں آیا، بعض کے نزدیک یہ حضرت جبرائیل (عليه السلام) کی چیخ تھی اور بعض کے نزدیک آسمان سے آئی تھی۔ جس سے ان کے دل پارہ پارہ ہوگئے اور ان کی موت واقعہ ہو گئی، اس کے بعد یا اس کے ساتھ ہی بھونچال (رَجْفَةٌ) بھی آیا، جس نے سب کچھ تہ بالا کر دیا۔ جیسا کہ سورہ اعراف ۷۸ میں «فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ» کے الفاظ ہیں۔ **- جس طرح پرندہ مرنے کے بعد زمین پر مٹی کے ساتھ پڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ موت سے ہم کنار ہو کر منہ کے بل زمین پر پڑے رہے۔

(68) ایسے کہ گویا وه وہاں کبھی آباد ہی نہ تھے*، آگاه رہو کہ قوم ﺛمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سن لو! ان ﺛمودیوں پر پھٹکار ہے.
* ان کی بستی یا خود یہ لوگ یا دونوں ہی، اس طرح حرف غلط کی طرح مٹا دیئے گئے، گویا وہ کبھی وہاں آباد ہی نہ تھے۔

(69) اور ہمارے بھیجے ہوئے پیغامبر ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر پہنچے* اور سلام کہا**، انہوں نے بھی جواب سلام دیا*** اور بغیر کسی تاخیر کے گائے کا بھنا ہوا بچھڑا لے آئے.****
* یہ دراصل حضرت لوط (عليه السلام) اور ان کی قوم کے قصے کا ایک حصہ ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے چچا زاد بھائی تھے۔ حضرت لوط (عليه السلام) کی بستی بحرہ، میت کے جنوب مشرق میں تھی، جبکہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) فلسطین میں مقیم تھے۔ جب حضرت لوط (عليه السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ تو ان کی طرف سے فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے قوم لوط (عليه السلام) کی طرف جاتے ہوئے راستے میں حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے پاس ٹھہرے اور انہیں بیٹے کی بشارت دی۔ **- یعنی سَلَّمْنَا عَلَيْكَ سَلامًا ”ہم آپ کو سلام عرض کرتے ہیں“۔ ***- جس طرح پہلا سلام ایک فعل مقدر کے ساتھ منصوب تھا۔ اس طرح یہ سالم مبتدا یا خبر ہونے کی بنا پر مرفوع ہے عبادت ہوگی: أَمْرُكُمْ سَلامٌ یا عَلَيْكُمْ سَلامٌ۔ ****- حضرت ابرا ہیم (عليه السلام) بڑے مہمان نواز تھے وہ یہ نہیں سمجھ پائے کہ یہ فرشتے ہیں جو انسانی صورت میں آئے ہیں اور کھانے پینے سے معزور ہیں، بلکہ انہوں نے انہیں مہمان سمجھا اور فورا مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے بھنا ہوا بچھڑا لا کر ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مہمان سے پوچھنے کی ضرورت نہیں بلکہ جو موجود ہو حاضر خدمت کر دیا جائے۔

(70) اب جو دیکھا کہ ان کے تو ہاتھ بھی اس کی طرف نہیں پہنچ رہے تو ان سے اجنبیت محسوس کرکے دل ہی دل میں ان سے خوف کرنے لگے*، انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے ہوئے آئے ہیں.**
* حضرت ابرا ہیم (عليه السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو انہوں کو خوف محسوس ہوا۔ کہتے ہیں کہ ان کے ہاں یہ چیز معروف تھی کہ آئے ہوئے مہمان اگر ضیافت سے فائدہ نہ اٹھاتے تو سمجھا جاتا تھا کی آنے والے مہمان کسی اچھی نیت سے نہیں آئے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے پیغمبروں کو غیب کا علم نہیں ہوتا۔ اگر ابراہیم (عليه السلام) غیب دان ہوتے تو بھنا ہوا بچھڑا بھی نہ لاتے اور ان سے خوف بھی محسوس نہ کرتے۔ **- اس خوف کو فرشتوں نے محسوس کیا، یا ان کے آثار سے جو ایسے موقع پر انسان کے چہرے پر ظاہر ہوتے ہیں یا اپنی گفتگو میں حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے اظہار فرمایا، جیسا کہ دوسرے مقام پر وضاحت ہے «إِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُونَ» (الحجر:52) ”ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہے“، چنانچہ فرشتوں نے کہا ڈرو نہیں، آپ جو سمجھ رہے ہیں، ہم وہ نہیں ہیں بلکہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں اور ہم قوم لوط (عليه السلام) کی طرف جا رہے ہیں۔

(71) اس کی بیوی جو کھڑی ہوئی تھی وه ہنس پڑی*، تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی خوشخبری دی.
* حضرت ابراہیم کی اہلیہ کیوں ہنسیں؟ بعض کہتے ہیں کہ قوم لوط (عليه السلام) کی فساد انگیزیوں سے وہ بھی آگاہ تھیں، ان کی ہلاکت کی خبر سے انہوں نے مسرت کی۔ بعض کہتے ہیں اس لئے ہنسی آئی کہ دیکھو آسمانوں سے ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہو چکا ہے اور یہ قوم غفلت کا شکار ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ تقدیم و تاخیر ہے۔ اور اس ہنسنے کا تعلق اس بشارت سے ہے جو فرشتوں نے بوڑھے جوڑے کو دی۔ واللہ اعلم۔

(72) وه کہنے لگی ہائے میری کم بختی! میرے ہاں اوﻻد کیسے ہو سکتی ہے میں خود بڑھیا اور یہ میرے خاوند بھی بہت بڑی عمر کے ہیں یہ تو یقیناً بڑی عجیب بات ہے!*
* یہ اہلیہ حضرت سارہ تھیں، جو خود بھی بوڑھی تھیں اور ان کا شوہر حضرت ابراہیم (عليه السلام) بھی بوڑھے تھے۔ اس لئے تعجب ایک فطری امر تھا، جس کا اظہار ان سے ہوا۔

(73) فرشتوں نے کہا کیا تو اللہ کی قدرت سے تعجب کر رہی ہے*؟ تم پر اے اس گھر کے لوگو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں**، بیشک اللہ حمد وﺛنا کا سزاوار اور بڑی شان واﻻ ہے.
* یہ استفہام انکار کے لئے ہے۔ یعنی تو اللہ تعالٰی کے قضا و قدر پر کس طرح تعجب کا اظہار کرتی ہے جبکہ اس کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں۔ اور نہ وہ اسباب عادیہ ہی کا محتاج ہے، وہ تو جو چاہے، اس کے لفظ كُنْ (ہو جا) سے معرض وجود میں آ جاتا ہے۔ **- حضرت ابراہیم (عليه السلام) کی اہلیہ محترمہ کو یہاں فرشتوں نے 'اہل بیت' سے یاد کیا اور دوسرے ان کے لئے جمع مذکر مخاطب (عَلَيْكُمْ) کا صیغہ استعمال کیا۔ جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ 'اہل بیت' کے لئے جمع مذکر کے صیغے کا استعمال بھی جائز ہے۔ جیسا کہ سورہ احزاب 33 میں اللہ تعالٰی نے رسول اللہ کی ازواج مطہرات کو بھی اہل بیت کہا ہے اور انہیں جمع مذکر کے صیغے سے مخاطب بھی کیا ہے۔

(74) جب ابراہیم کا ڈر خوف جاتا رہا اور اسے بشارت بھی پہنچ چکی تو ہم سے قوم لوط کے بارے میں کہنے سننے لگے.*
* اس مجادلہ سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے فرشتوں سے کہا کہ جس بستی کو تم ہلاک کرنے جا رہے ہو، اسی میں حضرت لوط (عليه السلام) بھی موجود ہیں۔ جس پر فرشتوں نے کہا ہم جانتے ہیں کہ لوط (عليه السلام) بھی وہاں رہتے ہیں۔ لیکن ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو سوائے ان کی بیوی کے بچا لیں گے۔ (العنکبوت:32)

(75) یقیناً ابراہیم بہت تحمل والے نرم دل اور اللہ کی جانب جھکنے والے تھے.

(76) اے ابراہیم! اس خیال کو چھوڑ دیجئے، آپ کے رب کا حکم آپہنچا ہے، اور ان پر نہ ٹالے جانے واﻻ عذاب ضرور آنے واﻻ ہے.
* یہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم (عليه السلام) سے کہا کہ اب اس بحث و تکرار کا کوئی فائدہ نہیں، اسے چھوڑیئے اللہ کا وہ حکم (ہلاکت کا) آ چکا ہے، جو اللہ کے ہاں مقدر تھا۔ اور اب یہ عذاب نہ کسی کے مجادلے سے روکے گا نہ کسی کی دعا سے ٹلے گا۔

(77) جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وه ان کی وجہ سے بہت غمگین ہوگئے *اور دل ہی دل میں کڑھنے لگے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مصیبت کا دن **ہے.
* حضرت لوط (عليه السلام) کی اس سخت پریشانی کی وجہ مفسرین نے لکھی ہے کہ یہ فرشتے نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے، جو بےریش تھے، جس سے حضرت لوط (عليه السلام) نے اپنی قوم کی عادت قبیحہ کے پیش نظر سخت خطرہ محسوس کیا۔ کیونکہ ان کو یہ پتہ نہیں تھا کہ آنے والے یہ نوجوان، مہمان نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو اس قوم کو ہلاک کرنے کے لئے آئے ہیں۔

(78) اور اس کی قوم دوڑتی ہوئی اس کے پاس آپہنچی، وه تو پہلے ہی سے بدکاریوں میں مبتلا تھی*، لوط ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا اے قوم کے لوگو! یہ ہیں میری بیٹیاں جو تمہارے لئے بہت ہی پاکیزه ہیں**، اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوا نہ کرو، کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں.***
* جب اغلام بازی کے ان مریضوں کو پتہ چلا کہ چند خوبرو نوجوان لوط (عليه السلام) کے گھر آئے ہیں تو دوڑے ہوئے آئے اور انہیں اپنے ساتھ لے جانے پر اصرار کیا، تاکہ ان سے اپنی غلط خواہشات پوری کریں۔ **- یعنی تمہیں اگر جنسی خواہش ہی کی تسکین مقصود ہے تو اس کے لئے میری اپنی بیٹیاں موجود ہیں، جن سے تم نکاح کر لو اور اپنا مقصد پورا کر لو۔ یہ تمہارے لئے ہر طرح سے بہتر ہے۔ بعض نے کہا کہ بنات سے مراد عام عورتیں ہیں اور انہیں اپنی لڑکیاں اس لئے کہا کہ پیغمبر اپنی امت کے لئے بمنزلہ باپ ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کام کے لئے عورتیں موجود ہیں، ان سے نکاح کر لو اور اپنا مقصد پورا کرو (ابن کثیر) ***- یعنی میرے گھر آئے مہمانوں کے ساتھ زیادتی اور زبردستی کر کے مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں ایک آدمی بھی ایسا سمجھدار نہیں ہے، جو میزبانی کے تقاضوں اور اس کی نزاکت کو سمجھ سکے، اور تمہیں اپنے برے ارادوں سے روک سکے، حضرت لوط (عليه السلام) نے یہ ساری باتیں اس بنیاد پر کہیں کہ وہ ان فرشتوں کو فی الواقع نو وارد مسافر اور مہمان ہی سمجھتے رہے۔ اس لئے بجا طور پر ان کی مخالفت کو اپنی عزت و وقار کے لئے ضروری سمجھتے رہے۔ اگر ان کو پتہ چل جاتا یا وہ عالم الغیب ہوتے تو ظاہر بات ہے کہ انہیں یہ پریشانی ہرگز لاحق نہ ہوتی، جو انہیں ہوئی اور جس کا نقشہ یہاں قرآن مجید نے کھینچا ہے۔

(79) انہوں نے جواب دیا کہ تو بخوبی جانتا ہے کہ ہمیں تو تیری بیٹیوں پر کوئی حق نہیں ہے اور تو ہماری اصلی چاہت سے بخوبی واقف ہے.*
* یعنی ایک جائز اور فطری طریقے کو انہوں نے بالکل رد کر دیا اور غیر فطری کام اور بےحیائی پر اصرار کیا، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ قوم اپنی اس بےحیائی کی عادت خبیثہ میں کتنی آگے جا چکی تھی اور کس قدر اندھی ہوگئی تھی۔

(80) لوط ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا.*
* قوت سے اپنے دست بازو اور اپنے وسائل کی قوت یا اولاد کی قوت مراد ہے اور رکن شدید (مضبوط آسرا) سے خاندان، قبیلہ یا اسی قسم کا کوئی مضبوط سہارامراد ہے۔ یعنی نہایت بےبسی کے عالم میں آرزو کر رہے ہیں کہ کاش! میرے اپنے پاس کوئی قوت ہوتی یا کسی خاندان اور قبیلے کی پناہ اور مدد مجھے حاصل ہوتی تو آج مجھے مہمانوں کی وجہ سے یہ ذلت و رسوائی نہ ہوتی، میں ان بد قماشوں سے نمٹ لیتا اور مہمانوں کی حفاظت کر لیتا۔ حضرت لوط (عليه السلام) کی یہ آرزو اللہ تعالٰی پر توکل کے منافی نہیں ہے۔ بلکہ ظاہری اسباب کے مطابق ہے۔ اور توکل علی اللہ کا صحیح مفہوم و مطلب بھی یہی ہے۔ کہ پہلے تمام ظاہر اسباب و وسائل بروئے کار لائے جائیں اور پھر اللہ پر توکل کیا جائے۔ یہ توکل کا نہایت غلط مفہوم ہے کہ ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھ جاؤ اور کہو کہ ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے۔ اس لیے حضرت لوط (عليه السلام) نے جو کچھ کہا، ظاہر اسباب کے اعتبار سے بالکل بجا کہا۔ جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اللہ کا پیغمبر جس طرح عالم الغیب نہیں ہوتا اسی طرح مختار کل بھی نہیں ہوتا، (جیسا کہ آج کل لوگوں نے یہ عقیدہ گھڑ لیا ہے) اگر نبی دنیا میں اختیارات سے بہرہ ور ہوتے تو یقییناً حضرت لوط (عليه السلام) اپنی بےبسی کا اور اس آرزو کا اظہار نہ کرتے جو انہوں نے مذکورہ الفاظ میں کیا۔

(81) اب فرشتوں نے کہا اے لوط! ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں ناممکن ہے کہ یہ تجھ تک پہنچ جائیں پس تو اپنے گھر والوں کو لے کر کچھ رات رہے نکل کھڑا ہو۔ تم میں سے کسی کو مڑ کر بھی نہ دیکھنا چاہئے، بجز تیری بیوی کے، اس لئے کہ اسے بھی وہی پہنچنے واﻻ ہے جو ان سب کو پہنچے گا، یقیناً ان کے وعدے کا وقت صبح کا ہے، کیا صبح بالکل قریب نہیں.*
* جب فرشتوں نے حضرت لوط (عليه السلام) کی بےبسی اور ان کی قوم کی سرکشی کا مشاہدہ کر لیا تو بولے، اے لوط! گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہم تک تو کیا، اب یہ تجھ تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔ اب رات کے ایک حصے میں، سوائے بیوی کے، اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکل جا! صبح ہوتے ہی اس بستی کو ہلاک کر دیا جائے گا۔

(82) پھر جب ہمارا حکم آپہنچا، ہم نے اس بستی کو زیر وزبر کر دیا اوپر کا حصہ نیچے کر دیا اور ان پر کنکریلے پتھر برسائے جو تہ بہ تہ تھے.

(83) تیرے رب کی طرف سے نشان دار تھے اور وه ان ﻇالموں سے کچھ بھی دور نہ تھے.*
* اس آیت میں هِيَ کا مرجع بعض مفسرین کے نزدیک وہ نشان زدہ کنکریلے پتھر ہیں جو ان پر برسائے گئے اور بعض کے نزدیک اس کا مرجع وہ بستیاں ہیں جو ہلاک کی گئیں اور جو شام اور مدینہ کے درمیان تھیں اور ظالمین سے مراد مشرکین مکہ اور دیگر مکذبین ہیں۔ مقصد ان کو ڈرانا ہے کہ تمہارا حشر بھی ویسا ہہی ہو سکتا ہے جس سے گزشتہ قومیں دو چار ہوئیں۔

(84) اور ہم نے مدین والوں* کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور تم ناپ تول میں بھی کمی نہ کرو** میں تو تمہیں آسوده حال دیکھ رہا ہوں*** اور مجھے تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب کا خوف (بھی) ہے.****
* مدین کی تحقیق کے لئے دیکھئے سورۃ الاعراف، آیت 85 کا حاشیہ۔ **- توحید کی دعوت دینے کے بعد اس قوم میں جو نمایاں اخلاقی خرابی۔ ناپ تول میں کمی کی تھی اس سے انہیں منع فرمایا۔ ان کا معمول بن چکا تھا جب ان کے پاس فروخت کندہ (بائع) اپنی چیز لے کر آتا تو اس سے ناپ اور تول میں زائد چیز لیتے اور جب خریدار (مشتری) کو کوئی چیز فروخت کرتے تو ناپ میں بھی کمی کر کے دیتے اور تول میں ڈنڈی مار لیتے۔ ***- یہ اس منع کرنے کی علت ہے کہ جب اللہ تعالٰی تم پر اپنا فضل کر رہا ہے اور اس نے تمہیں آسودگی اور مال و دولت سے نوازا ہے تو پھر تم یہ قبیح حرکت کیوں کرتے ہو۔ ****- یہ دوسری علت ہے کہ اگر تم اپنی اس حرکت سے باز نہ آئے تو پھر اندیشہ ہے کہ قیامت والے دن کے عذاب سے تم نہ بچ سکو۔ گھیرنے والے دن سے مراد قیامت کا دن ہے کہا اس دن کوئی گناہ گار مواخذہ الہی سے بچ سکے گا نہ بھاگ کر کہیں چھپ سکے گا۔

(85) اے میری قوم! ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کرو لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو* اور زمین میں فساد اور خرابی نہ مچاؤ.**
* انبیاء علیہم السلام کی دعوت دو اہم بنیادوں پر مشتمل ہوتی ہے (1)۔ حقوق اللہ کی ادائیگی (2)، حقوق العباد کی ادائیگی۔ اول الذکر کی طرف لفظ «اعْبُدُوا اللَّهَ» اور آخر الذکر کی جانب «وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ» (ھود:84) سے اشارہ کیا گیا اور اب تاکید کے طور پر انہیں انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپ تول کا حکم دیا جا رہا ہے اور لوگوں کو چیزیں کم کر کے دینے سے منع کیا جا رہا ہے کیونکہ اللہ تعالٰی کے ہاں یہ بھی ایک بہت بڑا جرم ہے۔ اللہ تعالٰی نے ایک پوری سورت میں اس جرم کی شناعت و قباحت اور اس کی اخروی سزا بیان فرمائی ہے۔«وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ ، الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ * وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ» ( سورة المطففين: 1۔3) ”مطففین کے لیے ہلاکت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب دوسروں کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں، تو کم کر کے دیتے ہیں“۔ **- اللہ کی نافرمانی سے، بالخصوص جن کا تعلق حقوق العباد سے ہو، جیسے یہاں ناپ تول کی کمی بیشی میں ہے، زمین میں یقیناً فساد اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس سے انہیں منع کیا گیا۔

(86) اللہ تعالی کا حلال کیا ہوا جو بچ رہے تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو*، میں تم پر کچھ نگہبان (اور داروغہ) نہیں ہوں.**
* «بَقِيَّةُ اللَّهِ» سے مراد جو ناپ تول میں کسی قسم کی کمی کئے بغیر، دیانتداری کے ساتھ سودا دینے کے بعد حاصل ہو۔ یہ چونکہ حلال و طیب ہے اور خیرو برکت بھی اسی میں ہے، اس لئے اللہ کا بقیہ قرار دیا گیا ہے۔ **- یعنی میں تمہیں صرف تبلیغ کر سکتا ہوں اور اللہ کے حکم سے کر رہا ہوں۔ لیکن برائیوں سے میں تمہیں روک دوں یا اس پر سزا دوں، یہ میرے اختیار میں نہیں ہے، ان دونوں باتوں کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔

(87) انہوں نے جواب دیا کہ اے شعیب! کیا تیری صلاة* تجھے یہی حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور ہم اپنے مالوں میں جو کچھ چاہیں اس کا کرنا بھی چھوڑ دیں **تو تو بڑا ہی باوقار اور نیک چلن آدمی ہے.***
* صَلاةٌ سے مراد عبادت دین یا تلاوت ہے۔ **- اس سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک زکوۃ و صدقات ہیں، جس کا حکم ہر آسمانی مذہب میں دیا گیا ہے اللہ کے حکم سے زکوٰ ۃ و صدقات کا اخراج، اللہ کے نافرمانوں پر نہایت شاق گزرتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم اپنی محنت و لیاقت سے مال کماتے ہیں تو اس کے خرچ کرنے یا نہ کرنے میں ہم پر پابندی کیوں ہو۔ اور اس کا کچھ حصہ ایک مخصوص مد کے لیے نکالنے پر ہمیں مجبور کیوں کیا جائے؟ اسی طریقے سے کمائی اور تجارت میں حلال و حرام اور جائز وناجائز کی پابندی بھی ایسے لوگوں پر نہایت گراں گزرتی ہے، ممکن ہے ناپ تول میں کمی سے روکنے کو بھی انہوں نے اپنے مالی تصرفات میں دخل درمعقولات سمجھا ہو۔ اور ان الفاظ میں اس سے انکار کیا ہو۔ دونوں ہی مفہوم اس کے صحیح ہیں۔ ***- حضرت شعیب (عليه السلام) کے لئے یہ الفاظ انہوں نے بطور استہزا کہے۔

(88) کہا اے میری قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل لئے ہوئے ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے بہترین روزی دے رکھی ہے*، میرا یہ اراده بالکل نہیں کہ تمہارا خلاف کر کے خود اس چیز کی طرف جھک جاؤں جس سے تمہیں روک رہا ہوں**، میرا اراده تو اپنی طاقت بھر اصلاح کرنے کا ہی ہے۔ میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے***، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں.
* رزق حسن کا دوسرا مفہوم نبوت بھی بیان کیا گیا ہے۔ (ابن کثیر) **- یعنی جس کام سے میں تجھے روکوں، تم سے خلاف ہو کر وہ میں خود کروں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ ***- میں تمہیں جس کام کے کرنے یا جس سے روکنے کا حکم دیتا ہوں، اس سے مقصد اپنی مقدور بھر، تمہاری اصلاح ہی ہے۔ ****- یعنی حق تک پہنچنے کا جو میرا ارادہ ہے، وہ اللہ کی توفیق سے ہی ممکن ہے، اس لئے تمام معاملات میں میرا بھروسہ اسی پر ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔

(89) اور اے میری قوم (کے لوگو!) کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو میری مخالفت ان عذابوں کا مستحق بنا دے جو قوم نوح اور قوم ہود اور قوم صالح کو پہنچے ہیں۔ اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور نہیں.*
* یعنی ان کی جگہ تم سے دور نہیں، یا اس سبب میں تم سے دور نہیں جو ان کے عذاب کا موجب بنا۔

(90) تم اپنے رب سے استغفار کرو اور اس کی طرف توبہ کرو، یقین مانو کہ میرا رب بڑی مہربانی واﻻ اور بہت محبت کرنے واﻻ ہے.

(91) انہوں نے کہا اے شعیب! تیری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتیں* اور ہم تو تجھے اپنے اندر بہت کمزور پاتے ہیں**، اگر تیرے قبیلے کا خیال نہ ہوتا تو ہم تو تجھے سنگسار کر دیتے***، اور ہم تجھے کوئی حیثیت والی ہستی نہیں گنتے.****
* یہ یا تو انہوں نے بطور مذاق تحقیر کہا درانحالیکہ ان کی باتیں ان کے لئے ناقابل فہم نہیں تھیں۔ اس صورت میں یہاں فہم کی نفی مجازا ہوگی۔ یا ان کا مقصد ان باتوں کے سمجھنے سے معذوری کا اظہار ہے جن کا تعلق غیب سے ہے۔ مثلا بعث بعدالموت، حشر نشر، جنت و دوزخ وغیرہ اس لحاظ سے، فہم کی فنی حقیقتا ہوگی۔ **- یہ کمزوری جسمانی لحاظ سے تھی، جیسا کہ بعض کا خیال ہے کہ حضرت شعیب (عليه السلام) کی بینائی کمزور تھی یا وہ نحیف و لاغر جسم کے تھے یا اس اعتبار سے انہیں کمزور کہا کہ وہ خود بھی مخالفین سے تنہا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ ***- حضرت شعیب (عليه السلام) کا قبیلہ کہا جاتا ہے کہ ان کا مددگار نہیں تھا، لیکن وہ قبیلہ چونکہ کفر و شرک میں اپنی ہی قوم کے ساتھ تھا، اس لئے اپنے ہم مذہب ہونے کی وجہ سے اس قبیلے کا لحاظ، بہرحال حضرت شعیب (عليه السلام) کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے اور انہیں نقصان پہنچانے میں مانع تھا۔ ****- لیکن چونکہ تیرے قبیلے کی حیثیت بہرحال ہمارےدلوں میں موجود ہے، اس لئے ہم درگزر سے کام لے رہے ہیں۔

(92) انہوں نے جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو! کیا تمہارے نزدیک میرے قبیلے کے لوگ اللہ سے بھی زیاده ذی عزت ہیں کہ تم نے اسے پس پشت ڈال دیا ہے* یقیناً میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو سب کو گھیرے ہوئے ہے.
* کہ تم مجھے تو میرے قبیلے کی وجہ سے نظر انداز کر رہے ہو۔ لیکن جس اللہ نے مجھے منصب نبوت سے نوازا ہے اس کی کوئی عظمت نہیں اور اس منصب کا کوئی احترام تمہارے دلوں میں نہیں ہے اور اسے تم نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ یہاں حضرت شعیب (عليه السلام) نے أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنِّي (مجھ سے زیادہ ذی عزت) کی بجائے أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ اللہ سے زیادہ ذی عزت کہا جس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ نبی کی توہین یہ دراصل اللہ کی توہین ہے۔ اس لیے کہ نبی اللہ کا مبعوث ہوتا ہے۔ اور اسی اعتبار سے اب علمائے حق کی توہین اور ان کو حقیر سمجھنا یہ اللہ کے دین کی توہین اور اس کا استخفاف ہے، اس لیے کہ وہ اللہ کے دین کے نمائندے ہیں۔ وَاتَّخَذْتُمُوهُ میں ھا کا مرجع اللہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کے اس معاملے کو، جسے لے کر اس نے مجھے بھیجا ہے، اسے تم نے پس پشت ڈال دیا ہے اور اس کی کوئی پروا تم نے نہیں کی۔

(93) اے میری قوم کے لوگو! اب تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں بھی عمل کر رہا ہوں، تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ کس کے پاس وه عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے اور کون ہے جو جھوٹا ہے۔ تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں.*
* جب انہوں نے دیکھا کہ یہ قوم اپنے کفر و شرک پر مصر ہے اور وعظ و نصیحت کا بھی کوئی اثر ان پر نہیں ہو رہا، تو کہا اچھا تم اپنی ڈگر پر چلتے رہو، عنقریب تمہیں جھوٹے سچے کا اور اس بات کا کہ رسوا کن عذاب کا مستحق کون ہے؟ علم ہو جائے گا۔

(94) جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا ہم نے شعیب کو اور ان کے ساتھ (تمام) مومنوں کو اپنی خاص رحمت سے نجات بخشی اور ﻇالموں کو سخت چنگھاڑ کے عذاب نے دھر دبوچا *جس سے وه اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ہوگئے.
* اس چیخ سے ان کے دل پارہ پارہ ہوگئے اور ان کی موت واقع ہوگئی اور اس کے معا بعد ہی بھو نچال بھی آیا، جیسا کہ سورۃ اعراف: 91 اور سورۃ عنکبوت 37 میں ہے۔

(95) گویا کہ وه ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، آگاه رہو مدین کے لئے بھی ویسی ہی دوری *ہو جیسی دوری ﺛمود کو ہوئی.
* یعنی لعنت، پھٹکار، اللہ کی رحمت سے محرومی اور دوری۔

(96) اور یقیناً ہم نے ہی موسیٰ کو اپنی آیات اور روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا تھا.*
* آيَاتٌ سے بعض کے نزدیک تورات اور سلطان مبین سے معجزات مراد ہیں، اور بعض کہتے ہیں کہ آیات سے، آیات تسعہ اور سلطان مبین (روشن دلیل) سے عصا مراد ہے۔ عصا، اگرچہ آیات تسعہ میں شامل ہے لیکن معجزہ چونکہ نہایت ہی عظیم الشان تھا، اس لئے اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

(97) فرعون اور اس کے سرداروں* کی طرف، پھر بھی ان لوگوں نے فرعون کے احکام کی پیروی کی اور فرعون کا کوئی حکم درست تھا ہی نہیں.**
* مَلَاء قوم کے اشراف اور ممتاز قسم کے لوگوں کو کہا جاتا ہے۔ (اس کی تشریح پہلے گزر چکی ہے) فرعون کے ساتھ، اس کے دربار کے ممتاز لوگوں کا نام اس لئے لیا گیا ہے کہ اشراف قوم ہی ہر معاملے کے ذمہ دار ہوتے تھے اور قوم ان ہی کے پیچھے چلتی تھی۔ اگرچہ موسیٰ (عليه السلام) پر ایمان لے آتے تو یقیناً فرعون کی ساری قوم ایمان لے آتی۔ **- رَشِيدٍذی رشد کے معنی میں ہے۔ یعنی بات تو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی رشد وہدایت والی تھی، لیکن اسے ان لوگوں نے رد کر دیا اور فرعون کی بات، رشدو ہدایت سے دور تھی، اس کی انہوں نے پیروی کی۔

(98) وه تو قیامت کے دن اپنی قوم کا پیش رو ہو کر ان سب کو دوزخ میں جا کھڑا کرے گا*، وه بہت ہی برا گھاٹ **ہے جس پر ﻻ کھڑے کئے جائیں گے.
* یعنی فرعون، جس طرح دنیا میں ان کا رہبر اور پیش رو تھا، قیامت والے دن بھی یہ آگے آگے ہی ہوگا اور اپنی قوم کو اپنی قیادت میں جہنم میں لے کر جائے گا۔ **- وِرْدٌ پانی کے گھاٹ کو کہتے ہیں، جہاں پیاسے جا کر اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ لیکن یہاں جہنم کو ورد کہا گیا ہے۔مَوْرُودٌ وہ مقام یا گھاٹ یعنی جہنم جس میں لوگ لے جائے جائیں گے یعنی جگہ بھی بری اور جانے والے بھی برے۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهَا

(99) ان پر تو اس دنیا میں بھی لعنت چپکا دی گئی اور قیامت کے دن بھی* برا انعام ہے جو دیا گیا.**
* لَعْنَۃ سے پھٹکار اور رحمت الٰہی سے دوری و محرومی ہے، گویا دنیا میں بھی وہ رحمت الٰہی سے محروم اور آخرت میں میں بھی اس سے محروم ہی رہیں گے، اگر ایمان نہ لائے۔ **- رِفْدً انعام اور عطیے کو کہا جاتا ہے۔ یہاں لعنت کو رفد کہا گیا ہے۔ اسی لئے اسے برا انعام قرار دیا گیا مَرْفُوْد وہ انعام جو کسی کو دیا جائے۔ یہ الرفد کی تاکید ہے۔

(100) بستیوں کی یہ بعض خبریں جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں ان میں سے بعض تو موجود ہیں اور بعض (کی فصلیں) کٹ گئی ہیں.*
* قائم سے مراد وہ بستیاں، جو اپنی چھتوں پر قائم ہیں اور حَصِیْد بمعنی محصود سے مراد وہ بستیاں جو کٹے ہوئے کھیتوں کی طرح نابود ہوگئیں۔ یعنی جن گزشتہ بستیوں کے واقعات ہم بیان کر رہے ہیں، ان میں سے بعض تو اب بھی موجود ہیں، جن کے آثار و کھنڈرات نشان عبرت ہیں اور بعض بالکل ہی صفہ ہستی سے معدوم ہو گیئں اور ان کا وجود صرف تاریخ کے صفحات پر باقی رہ گیا ہے۔

(101) ہم نے ان پر کوئی ﻇلم نہیں کیا*، بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے اوپر ﻇلم کیا**، اور انہیں ان کے معبودوں نے کوئی فائده نہ پہنچایا جنہیں وه اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے، جب کہ تیرے پروردگار کا حکم آپہنچا، بلکہ اور ان کا نقصان ہی انہوں نے بڑھا دیا.***
* ان کو عذاب اور ہلاکت سے دو چار کر کے۔ **- کفر ومعاصی کا ارتکاب کر کے۔ ***- جب کہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ انہیں نقصان سے بچائیں گے اور فائدہ پہنچائیں گے۔ لیکن جب اللہ کا عذاب آیا تو واضح ہوگیا کہ ان کا یہ عقیدہ فاسد تھا، اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ کے سوا کوئی کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر نہیں۔

(102) تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے جب کہ وه بستیوں کے رہنے والے ﻇالموں کو پکڑتا ہے بیشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت* سخت ہے.
* یعنی جس طرح گزشتہ بستیوں کو اللہ تعالٰی نے تباہ اور برباد کیا، آئندہ بھی وہ ظالموں کی اسی طرح گرفت کرنے پر قادر ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: «إِنَّ اللهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ» ”اللہ تعالٰی یقیناً ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب اس کی گرفت کرنے پر آتا ہے تو پھر اس طرح اچانک گرتا ہے کہ پھر مہلت نہیں دیتا“۔

(103) یقیناً اس میں* ان لوگوں کے لئے نشان عبرت ہے جو قیامت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وه دن جس میں سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور وه، وه دن ہے جس میں سب حاضر کئے جائیں گے.**
* یعنی مواخذہ الٰہی میں یا ان واقعات میں جو عبرت و موعظبت کے لئے بیان کئے گئے ہیں۔ **- یعنی حساب اور بدلے کے لئے۔

(104) اسے ہم جو ملتوی کرتے ہیں وه صرف ایک مدت معین تک ہے.*
* یعنی قیامت کے دن میں تاخیر کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالٰی نے اس کے لئے ایک وقت معین کیا ہوا ہے۔ جب وہ وقت مقرر آ جائے گا، تو ایک لمحے کی تاخیر نہیں ہوگی۔

(105) جس دن وه آجائے گی مجال نہ ہوگی کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بات بھی کر** لے، سو ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی نیک بخت.
* گفتگو نہ کرنے سے مراد، کسی کو اللہ تعالٰی سے کسی طرح کی بات یا شفاعت کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ الا یہ کہ وہ اجازت دے دے۔ طویل حدیث شفاعت میں ہے۔ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَلا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلا الرُّسُلُ وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ؛ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ» (صحيح بخاري- كتاب الإيمان، باب فضل السجود، ومسلم، كتاب الإيمان، باب معرفة طريق الرؤية ) ”اس دن انبیاء کے علاوہ کسی کو گفتگو کی ہمت نہ ہوگی اور انبیاء کی زبان پر بھی اس دن صرف یہی ہوگا کہ یا اللہ! ہمیں بچا لے، ہمیں بچا لے“۔

(106) لیکن جو بدبخت ہوئے وه دوزخ میں ہوں گے وہاں چیخیں گے چلائیں گے.

(107) وه وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تک آسمان وزمین برقرار رہیں*۔ سوائے اس وقت کے جو تمہارا رب چاہے**۔ یقیناً تیرا رب جو کچھ چاہے کر گزرتا ہے.
* ان الفاظ سے بعض لوگوں کو یہ مغالطہ لگا ہے کہ کافروں کے لئے جہنم کا عذاب دائمی نہیں ہے بلکہ موقت ہے یعنی اس وقت تک رہے گا جب تک آسمان و زمین رہیں گے۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں۔ کیونکہ یہاں «مَا دَ امَتِ السِّمٰوٰ تُ وَالْاَرْضُ» اہل عرب کے روز مرہ کی گفتگو اور محاورے کے مطابق نازل ہوا ہے۔ عربوں کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کا دوام ثابت کرنا مقصود ہوتا تو وہ کہتے تھےکہ هَذَا دَائِمٌ دَوَامَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ (یہ چیز اسی طرح ہمیشہ رہے گی۔ جس طرح آسمان و زمین کا دوام ہے) اسی محاورے کو قرآن کریم میں استعمال کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل کفر و شرک جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ جس کو قرآن نے متعدد جگہ «خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا» کے الفاظ سے ذکر کیا ہے۔ ایک دوسرا مفہوم اس کا یہ بھی بیان کی گیا ہے کہ آسمان و زمین سے مراد جنس ہے۔ یعنی دنیا کے آسمان و زمین اور ہیں جو فنا ہو جائیں گے لیکن آخرت کے آسمان و زمین ان کے علاوہ اور ہوں گے، جیسا کہ قران کریم میں اس کی صراحت ہے، «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» (سورۃ ابراہیم:48)، ”اس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی بدل دئیے جائیں گے“۔ اور آخرت کے یہ آسمان وزمین، جنت اور دوزخ کی طرح ہمیشہ رہیں گے۔ اس آیت میں یہی آسمان وزمین مراد ہے نہ کہ دنیا کے آسمان وزمین جو فنا ہو جائیں گے۔ (ابن کثیر) ان دونوں مفہوموں میں سے کوئی بھی مفہوم مراد لے لیا جائے، آیت کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے اور وہ اشکال پیدا نہیں ہوتا جو مذکور ہوا۔ امام شوکانی نے اس کے اور بھی کئی مفہوم بیان کیے ہیں جنہیں اہل علم ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ (فتح القدیر) **- اس استثناء کے بھی کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ صحیح مفہوم یہی ہے کہ یہ استثناء ان گناہ گاروں کے لئے ہے جو اہل توحید و اہل ایمان ہوں گے۔ اس اعتبار سے اس سے ما قبل آیت میں شَقِی کا لفظ عام یعنی کافر اور عاصی دونوں کو شامل ہوگا اور «إِلا مَا شَاءَ رَبُّكَ» سے عاصی مومنوں کا استثناء ہو جائے گا اور مَا شَآءِ میں مَا، مَنْ کے معنی میں ہے۔

(108) لیکن جو نیک بخت کئے گئے وه جنت میں ہوں گے جہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان وزمین باقی رہے مگر جو تیرا پروردگار چاہے*۔ یہ بے انتہا بخشش ہے.**
* یہ استثناء بھی عصاۃ اہل ایمان کے لئے ہے۔ یعنی دیگر جنتیوں کی طرح یہ نافرمان مومن ہمیشہ سے جنت میں نہیں رہیں ہوں گے، بلکہ ابتدا میں ان کا کچھ عرصہ جہنم میں گزرے گا اور پھر انبیاء اور اہل ایمان کی سفارش سے ان کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا، جیسا کہ احادیث صحیحہ سے یہ باتیں ثابت ہیں۔ **- غیر مجذوذ کے معنی ہیں غیر مقطوع۔ یعنی نہ ختم ہونے والی عطاء۔ اس جملے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جن گناہ گاروں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا، یہ دخول عارضی نہیں، ہمیشہ کے لئے ہوگا اور تمام جنتی ہمیشہ اللہ کی عطاء اور اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے، اور یہ ہمیشہ کیلئے جاری رہے گا۔ اس میں کبھی انقطاع نہیں ہوگا۔

(109) اس لئے آپ ان چیزوں سے شک وشبہ میں نہ رہیں جنہیں یہ لوگ پوج رہے ہیں، ان کی پوجا تو اس طرح ہے جس طرح ان کے باپ دادوں کی اس سے پہلے تھی۔ ہم ان سب کو ان کا پورا پورا حصہ بغیر کسی کمی کے دینے والے ہی ہیں.*
* اس سے مراد وہ عذاب ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

(110) یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی۔ پھر اس میں اختلاف کیا گیا،* اگر پہلے ہی آپ کے رب کی بات صادر نہ ہوگئی ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ کر دیا جاتا**، انہیں تو اس میں سخت شبہ ہے.
* یعنی کسی نے اس کتاب کو مانا اور کسی نے نہیں مانا۔ یہ نبی کو تسلی دی جا رہی ہے کہ پچھلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا آیا ہے، کچھ لوگ ان پر ایمان لانے والے ہوتے اور دوسرے تکذیب کرنے والے۔ اس لئے آپ اپنی تکذیب سے نہ گھبرائیں۔ **- اس سے مراد یہ ہے کہ اگر اللہ تعالٰی نے پہلے ہی سے ان کے لئے عذاب کا ایک وقت مقرر کیا ہوا نہ ہوتا تو وہ انہیں فورا ہلاک کر ڈالتا۔

(111) یقیناًان میں سے ہر ایک جب ان کے روبرو جائے گا تو آپ کا رب اسے اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بیشک وه جو کر رہے ہیں ان سے وه باخبر ہے.

(112) پس آپ جمے رہیئے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وه لوگ بھی جو آپ کے ساتھ توبہ کر چکے ہیں، خبردار تم حد سے نہ بڑھنا*، اللہ تمہارے تمام اعمال کا دیکھنے واﻻ ہے.
* اس آیت میں نبی اور اہل ایمان کو ایک تو استقامت کی تلقین کی جا رہی ہے، جو دشمن کے مقابلے کے لئے ایک بہت بڑا ہتھیار ہے۔ دوسرے طُغْيَانٌ یعنی بَغْيٌ(حد سے بڑھ جانے) سے روکا گیا ہے، جو اہل ایمان کی اخلاقی قوت اور رفعت کردار کے لئے بہت ضروری ہے۔ حتٰی کہ یہ تجاوز، دشمن کے ساتھ معاملہ کرتے وقت بھی جائز نہیں ہے۔

(113) دیکھو ﻇالموں کی طرف ہرگز نہ جھکنا ورنہ تمہیں بھی (دوزخ کی) آگ لگ جائے گی *اور اللہ کے سوا اور تمہارا مددگار نہ کھڑا ہو سکے گا اور نہ تم مدد دیئے جاؤ گے.
* اس کا مطلب یہ ہے کہ ظالموں کے ساتھ نرمی کرتے ہوئے ان سے مدد حاصل مت کرو۔ اس سے ان کو یہ تأثر ملے گا کہ گویا تم ان کی دوسری باتوں کو بھی پسند کرتے ہو۔ اس طرح یہ تمہارا ایک بہت بڑا جرم بن جائے گا جو تمہیں بھی ان کے ساتھ، نار جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے۔ اس سے ظالم حکمرانوں کے ساتھ ربط و تعلق کی بھی ممانعت نکلتی ہے، اگر مصلحت عامہ یا دینی منافع متقاضی ہوں۔ ایسی صورت میں دل سے نفرت رکھتے ہوئے ان سے ربط و تعلق کی اجازت ہوگی۔ جیسا کہ بعض احادیث سے واضح ہے۔

(114) دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی*، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں**۔ یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے.
* ”دونوں سروں“ سے مراد بعض نے صبح اور مغرب، اور بعض نے عشاء اور مغرب دونوں کا وقت مراد لیا ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ آیت معراج سے قبل نازل ہوئی ہو، جس میں پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔ کیونکہ اس سے قبل صرف دو ہی نما زیں ضروری تھیں، ایک طلوع شمس سے قبل اور ایک غروب سے قبل اور رات کے پچھلے پہر میں نماز تہجد۔ پھر نماز تہجد امت سے معاف کر دی گئی، پھر اس کا وجوب بقول بعض آپ (صلى الله عليه وسلم)سے بھی ساقط کر دیا گیا۔ (ابن کثیر) وَاللهُ أَعْلَمُ۔ **- جس طرح کہ احادیث میں بھی اسے صراحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلا پانچ نمازیں، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک، ان کے مابین ہونے والے گناہوں کو دور کرنے والے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے، ( صحيح مسلم- كتاب الطهارة- باب الصلوات الخمس والجمعة إلى الجمعة ..... ) ایک اور حدیث میں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”بتلاؤ! اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر بڑی نہر ہو، وہ روزانہ اس میں پانچ مرتبہ نہاتا ہو، کیا اس کے بعد اس کے جسم پر میل کچیل باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا ' نہیں' آپ نے فرمایا ' اسی طرح پانچ نمازیں ہیں، ان کے ذریعے سے اللہ تعالٰی گناہوں اور خطاؤں کو مٹا دیتا ہے“۔ ( بخاري- كتاب المواقيت، باب الصلوات الخمس كفارة، ومسلم كتاب المساجد، باب المشي إلى الصلاة تمحى بها الخطايا وترفع به الدرجات )

(115) آپ صبر کرتے رہئے یقیناً اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا.

(116) پس کیوں نہ تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایسے اہل خیر لوگ ہوئے جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے، سوائے ان چند کے جنہیں ہم نے ان میں سے نجات دی تھی*، ﻇالم لوگ تو اس چیز کے پیچھے پڑ گئے جس میں انہیں آسودگی دی گئی تھی اور وه گنہگار تھے.**
* یعنی گزشتہ امتوں میں ایسے نیک لوگ کیوں نہ ہوئے جو اہل شر اور اہل منکر کو شر، منکرات اور فساد سے روکتے؟ پھر فرمایا، ایسے لوگ تھے تو سہی، لیکن بہت تھوڑے۔ جنہیں ہم نے اس وقت نجات دے دی، جب دوسروں کو عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔ **- یعنی یہ ظالم۔ اپنے ظلم پر قائم اور اپنی مد ہوشیوں میں مست رہے حتٰی کہ عذاب نے انہیں آ لیا۔

(117) آپ کا رب ایسا نہیں کہ کسی بستی کو ﻇلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے لوگ نیکو کار ہوں.

(118) اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی راه پر ایک گروه کر دیتا۔ وه تو برابر اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے.

(119) بجز ان کے جن پر آپ کا رب رحم فرمائے، انہیں تو اسی لئے پیدا کیا ہے*، اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے پر کروں گا.**
* ”اسی لئے“ کا مطلب بعض نے اختلاف اور بعض نے رحمت لیا ہے۔ دونوں صورتوں میں مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے انسانوں کو آزمائش کے لئے پیدا کیا ہے۔ جو دین حق سے اختلاف کا راستہ اختیار کرے گا، وہ آزمائش میں ناکام اور جو اسے اپنا لے گا، وہ کامیاب اور رحمت الٰہی کا مستحق ہوگا۔ **- یعنی اللہ کی تقدیر اور قضاء میں یہ بات ثبت ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہونگے جو جنت کے اور کچھ ایسے ہونگے جو جہنم کے مستحق ہوں گے اور جنت و جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دیا جائے گا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے، نبی نے فرمایا: جنت اور دوزخ آپس میں جھگڑ پڑیں، جنت نے کہا، کیا بات ہے کہ میرے اندر وہی لوگ آئیں گے جو کمزور اور معاشرے کے گرے پڑے لوگ ہوں گے؟ جہنم نے کہا میرے اندر تو بڑے بڑے جبار اور متکبر قسم کے لوگ ہوں گے" اللہ تعالٰی نے، جنت سے فرمایا تو میری رحمت کی مظہر ہے، تیرے ذریعے سے میں جس پر چاہوں اپنا رحم کروں۔ اور جہنم سے اللہ تعالٰی نے فرمایا تو میرے عذاب کی مظہر ہے تیرے ذریعے سے میں جس کو چاہوں سزا دوں۔ اللہ تعالٰی جنت اور دوزخ دونوں کو بھر دے گا۔ جنت میں ہمیشہ اس کا فضل ہوگا، حتٰی کہ اللہ تعالٰی ایسی مخلوق پیدا فرمائے گا جو جنت کے باقی ماندہ رقبے میں رہے گی اور جہنم، جہنمیوں کی کثرت کے باوجود «هَلْ مِنْ مَزِيدٍ» نعرہ بلند کرے گی، یہاں تک کہ اللہ تعالٰی اس میں اپنا قدم رکھے گا جس پر جہنم پکار اٹھے گی قط قط وعزتک، بس، بس، تیری عزت و جلال کی قسم "۔ (صحيح بخاري، كتاب التوحيد، باب ما جاء في قوله تعالى إن رحمة الله قريب من المحسنين ، وتفسير سورة ق - مسلم كتاب الجنة باب النار يدخلها الجبارون والجنة يدخلها الضعفاء)

(120) رسولوں کے سب احوال ہم آپ کے سامنے آپ کے دل کی تسکین کے لئے بیان فرما رہے ہیں۔ آپ کے پاس اس سورت میں بھی حق پہنچ چکا جو نصیحت ووعﻆ ہے مومنوں کے لئے.

(121) ایمان نہ ﻻنے والوں سے کہہ دیجئے کہ تم اپنے طور پر عمل کئے جاؤ ہم بھی عمل میں مشغول ہیں.

(122) اور تم بھی انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں.*
* یعنی عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ حسن انجام کس کے حصے میں آتا ہے اور یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ظالم لوگ کامیاب نہیں ہونگے۔ چنانچہ یہ وعدہ جلد ہی پورا ہوا اور اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمایا اور پورہ جزیرہ عرب اسلام کے زیر نگین آ گیا۔

(123) زمینوں اور آسمانوں کا علم غیب اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، تمام معاملات کا رجوع بھی اسی کی جانب ہے، پس تجھے اسی کی عبادت کرنی چاہئے اور اسی پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بے خبر نہیں.

<     >