<     >  

112 - سورۂ اِخلاص ()

|

(1) آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے.

(2) اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے.*
* یعنی سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔

(3) نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا.*
* یعنی نہ اس سے کوئی چیز نکلی ہے نہ وہ کسی چیز سے نکلا ہے۔

(4) اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے.*
* اس کی ذات میں، نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں۔ «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» (الشورى:11) حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”انسان مجھے گالی دیتا ہے یعنی میرے لئے اولاد ثابت کرتا ہے، حالانکہ میں ایک ہوں بےنیاز ہوں، میں نےکسی کو جنا ہے نہ کسی سے پیدا ہوا ہوں اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے“۔ ( صحيح البخاري تفسير سورة قل هو الله أحد) اس سورت میں ان کا بھی رد ہوگیا جو متعدد خداوں کے قائل ہیں اور جو اللہ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں اور جو اس کو دوسروں کا شریک گردانتے ہیں اور ان کا بھی جو سرے سے وجود باری تعالیٰ ہی کے قائل نہیں۔

<     >