<     >  

113 - سورۂ فلق ()

|

(1) آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں.*
* فَلَقٌ کے راجح معنی صبح کے ہیں۔ صبح کی تخصیص اس لئے کی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ رات کا اندھیرا ختم کرکے دن کی روشنی لا سکتا ہے، وہ اللہ اسی طرح خوف اور دہشت کو دور کرکے پناہ مانگنے والے کو امن بھی دے سکتا ہے۔ یا انسان جس طرح رات کو اس بات کا منتظر ہوتا ہے کہ صبح روشنی ہوجائے گی، اسی طرح خوف زدہ آدمی پناہ کے ذریعے سے صبح کامیابی کے طلوع کا امیدوار ہوتا ہے۔ ( فتح القدیر )۔

(2) ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے.*
* یہ عام ہے، اس میں شیطان اور اس کی ذریت، جہنم اور ہر اس چیز سےپناہ ہے جس سے انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

(3) اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے.*
* رات کے اندھیرے میں ہی خطرناک درندے اپنی کچھاروں سے اور موذی جانور اپنے بلوں سے اور اسی طرح جرائم پیشہ افراد اپنے مذموم ارادوںکو عملی جامہ پہنانے کے لئے نکلتے ہیں۔ ان الفاظ کے ذریعے سے ان تمام سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ غَاسِقٍ، رات، وَقَبَ داخل ہو جائے، چھا جائے۔

(4) اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی).*
* نَفَّاثَاتٌ، مونث کا صیغہ ہے، جو النُّفُوسُ (موصوف محذوف) کی صفت ہے مِنْ شَرِّ النُّفُوسِ النَّفَّاثَاتِ یعنی گرہوں میں پھونکنے والے نفسوں کی برائی سے پناہ۔ اس سے مراد جادو کا کالا عمل کرنے والے مرد اور عورت دونوں ہیں۔ یعنی اس میں جادوگروں کی شرارت سے پناہ مانگی گئی ہے۔ جادوگر، پڑھ پڑھ کر پھونک مارتے اور گرہ لگاتے جاتے ہیں۔ عام طور پر جس پر جادو کرنا ہوتا ہے اس کے بال یا کوئی چیز حاصل کرکے اس پر یہ عمل کیا جاتا ہے۔

(5) اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے.*
* حسد یہ ہے کہ حاسد، محسود سے زوال نعمت کی آرزو کرتا ہے، چنانچہ اس سے بھی پناہ طلب کی گئی ہے۔ کیوں کہ حسد بھی ایک نہایت بری اخلاقی بیماری ہے، جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔

<     >