<     >  

26 - سورۂ شعراء ()

|

(1) طٰسم.

(2) یہ آیتیں روشن کتاب کی ہیں.*

(3) ان کے ایمان نہ ﻻنے پر شاید آپ تو اپنی جان کھودیں گے.*
* نبی (صلى الله عليه وسلم) کو انسانیت سے جو ہمدردی اور ان کی ہدایت کے لیے جو تڑپ تھی ، اس میں اس کااظہار ہے۔

(4) اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہو جاتیں.*
* یعنی جسے مانے اور جس پر ایمان لائے بغیر چارہ نہ ہوتا۔ لیکن اس طرح جبر کا پہلو شامل ہو جاتا، جب کہ ہم نے انسان کو ارادہ واختیار کی آزادی دی ہے تاکہ اس کی آزمائش کی جائے۔ اس لیے ہم نے ایسی نشانی بھی اتارنے سے گریز کیا، جس سے ہمارا یہ قانون متاثر ہو۔ اور صرف انبیا ورسل بھیجنے اور کتابیں نازل کرنے پر ہی اکتفا کیا۔

(5) اور ان کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آئی یہ اس سے روگردانی کرنے والے بن گئے.

(6) ان لوگوں نے جھٹلایا ہے اب ان کے پاس جلدی سے اس کی خبریں آجائیں گی جس کے ساتھ وه مسخرا پن کر رہے ہیں.*
* یعنی تکذیب کے نتیجے میں ہمارا عذاب عنقریب انہیں اپنی گرفت میں لے لے گا، جسے وہ ناممکن سمجھ کر استہزا ومذاق کرتے ہیں۔ یہ عذاب دنیا میں بھی ممکن ہے، جیسا کہ کئی قومیں تباہ ہوئیں، بصورت دیگرآخرت میں تو اس سےکسی صورت چھٹکارا نہیں ہوگا۔ «مَا كَانُوا عَنْهُ مُعْرِضِين» َ نہیں کہا بلکہ «مَا كَانُوا بِه يَسْتَهْزِءُونَ» کہا۔ کیوں کہ استہزا ایک تو اعراض و تکذیب کوبھی مستلزم ہے۔ دوسرے، یہ اعراض و تکذیب سے زیادہ بڑاجرم ہے (فتح القدیر)

(7) کیا انہوں نے زمین پر نظریں نہیں ڈالیں؟ کہ ہم نے اس میں ہر طرح کے نفیس جوڑے کس قدر اگائے ہیں؟*
* زَوْجٌ کے دوسرے معنی یہاں صنف اور نوع کے کیے گئے ہیں۔ یعنی ہر قسم کی چیزیں ہم نے پیدا کیں جو کریم ہیں یعنی انسان کےلیے بہتر اور فائدے مند ہیں جس طرح غلہ جات ہیں، پھل میوےہیں اور حیوانات وغیرہ ہیں۔

(8) بے شک اس میں یقیناً نشانی ہے* اور ان میں کے اکثر لوگ مومن نہیں ہیں.*
* یعنی جب اللہ تعالیٰ مردہ زمین سے یہ چیزیں پیدا کرسکتا ہے، تو کیا وہ انسانوں کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا۔ **- یعنی اس کی یہ عظیم قدرت دیکھنے کے باوجود اکثر لوگ اللہ اور رسول کی تکذیب ہی کرتے ہیں، ایمان نہیں لاتے۔

(9) اور تیرا رب یقیناً وہی غالب اور مہربان ہے.*
* یعنی ہر چیز پر اس کا غلبہ اور انتقام لینے پر وہ ہر طرح قادر ہے لیکن چوں کہ وہ رحیم بھی ہے اس لیے فوراً گرفت نہیں فرماتا بلکہ پوری مہلت دیتا ہے اور اس کے بعد مواخذ ہ کرتا ہے۔

(10) اور جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی کہ تو ﻇالم قوم کے پاس جا.*
* یہ رب کی اس وقت کی ندا ہے جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) مدین سے اپنی اہلیہ کے ہمراہ واپس آرہے تھے، راستے میں انہیں حرارت حاصل کرنے کے لیے آگ کی ضرورت محسوس ہوئی تو آگ کی تلاش میں کوہ طور پہنچ گئے، جہاں ندائے غیبی نے ان کااستقبال کیا اورانہیں نبوت سے سرفراز کردیاگیا اور ظالموں کواللہ کاپیغام پہنچانے کا فریضہ ان کو سونپ دیاگیا۔

(11) قوم فرعون کے پاس، کیا وه پرہیزگاری نہ کریں گے.

(12) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میرے پروردگار! مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وه مجھے جھٹلا (نہ) دیں.

(13) اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے* میری زبان چل نہیں رہی** پس تو ہارون کی طرف بھی وحی بھیج.***
* اس خوف سے کہ وہ نہایت سرکش ہے، میری تکذیب کرے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ طبعی خوف انبیا کو بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ **- یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) زیادہ فصیح اللسان نہیں تھے۔ یا اس طرف کہ زبان پر انگارہ رکھنے کی وجہ سے لکنت پیدا ہوگئی تھی، جسے اہل تفسیر بیان کرتےہیں۔ ***- یعنی ان کی طرف جبرائیل (عليه السلام) کو وحی دے کر بھیج اور انہیں بھی وحی و نبوت سے سرفراز فرما کر میرا معاون بنا۔

(14) اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا (دعویٰ) بھی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وه مجھے مار نہ ڈالیں.*
* یہ اشارہ ہے اس قتل کی طرف، جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) سے غیر ارادی طور پر ہوگیا تھا اور مقتول قبطی یعنی فرعون کی قوم سے تھا، اس لیے فرعون اس کےبدلے میں حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو قتل کرنا چاہتا تھا، جس کی اطلاع پاکر حضرت موسیٰ (عليه السلام) مصر سے مدین چلے گئے تھے۔ اس واقعے پر اگرچہ کئی سال گزر چکے تھے، مگر فرعون کے پاس جانے میں واقعی یہ امکان موجود تھا کہ فرعون ان کو اس جرم میں پکڑ کر قتل کی سزا دینےکی کوشش کرے۔ اس لیے یہ خوف بھی بلا جواز نہیں تھا۔

(15) جناب باری نے فرمایا! ہرگز ایسا نہ ہوگا، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ* ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں.*
* اللہ تعالیٰ نےتسلی دی کہ تم دونوں جاؤ، میرا پیغام اس کو پہنچاؤ، تمہیں جو اندیشے لاحق ہیں ان سے ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ آیات سے مراد وہ دلائل و براہین ہیں جن سے ہر پیغمبر کو آگاہ کیا جاتا ہے یا وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو دیئے گئے تھے، جیسے یدبیضا اور عصا۔ **- یعنی تم جو کچھ کہو گے اور اس کے جواب میں وہ جو کچھ کہے گا، ہم سن رہے ہوں گے۔ اس لیے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم تمہیں فریضۂ رسالت سونپ کر تمہاری حفاظت سے بے پرواہ نہیں ہو جائیں گے۔ بلکہ ہماری مدد تمہارے ساتھ ہے۔ معیت کامطلب مصاحبت نہیں، بلکہ نصرت و معاونت ہے۔

(16) تم دونوں فرعون کے پاس جاکر کہو کہ بلاشبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں.

(17) کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردے.
* یعنی ایک بات یہ کہو کہ ہم تیرے پاس اپنی مرضی سے نہیں آئے بلکہ رب العالمین کے نمائندے اور اس کے رسول کی حیثیت سے آئے ہیں اور دوسری بات یہ کہ تو نے (چار سو سال سے) بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے، ان کو آزاد کردے تاکہ میں انہیں شام کی سرز مین پر لے جاؤں، جس کا اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہوا ہے۔

(18) فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تجھے تیرے بچپن کے زمانہ میں اپنے ہاں نہیں پاﻻ تھا؟* اور تو نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہم میں نہیں گزارے؟**
* فرعون نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی دعوت اور مطالبے پر غور کرنے کے بجائے ، ان کی تحقیر و تنقیص کرنی شروع کر دی اور کہا کہ کیا تو وہی نہیں ہے جو ہماری گود میں اور ہمارے گھر میں پلا ، جب کہ ہم بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کر ڈالتے تھے؟ **- بعض کہتے ہیں کہ 18 سال فرعون کے محل میں بسر کیے، بعض کے نزدیک 30 اور بعض کے نزدیک چالیس سال۔ یعنی اتنی عمر ہمارے پاس گزارنے کے بعد، چند سال ادھر ادھر رہ کر اب تو نبوت کا دعویٰ کرنے لگا ہے؟

(19) پھر تو اپنا وه کام کر گیا جو کر گیا اور تو ناشکروں میں ہے.*
* پھر ہمارا ہی کھا کر ہماری ہی قوم کے ایک آدمی کو قتل کرکے ہماری ناشکری بھی کی۔

(20) (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں نے اس کام کو اس وقت کیا تھا جبکہ میں راه بھولے ہوئے لوگوں میں سے تھا.*
* یعنی یہ قتل ارادتاً نہیں تھا بلکہ ایک گھونسہ ہی تھا جو اسے مارا گیا تھا، جس سے اس کی موت ہی واقع ہوگئی۔ علاوہ ازیں یہ واقعہ بھی نبوت سے قبل کا ہے جب کہ مجھ کو علم کی یہ روشنی نہیں دی گئی تھی۔

(21) پھر تم سے خوف کھا کر میں تم میں سے بھاگ گیا، پھر مجھے میرے رب نے حکم و علم عطا فرمایا اور مجھے اپنے پیغمبروں میں سے کر دیا.*
* یعنی پہلے جو کچھ ہوا، اپنی جگہ، لیکن اب میں اللہ کا رسول ہوں، اگر میری اطاعت کرے گا تو بچ جائے گا، بصورت دیگر ہلاکت تیرا مقدر ہوگی۔

(22) مجھ پر تیرا کیا یہی وه احسان ہے؟ جسے تو جتا رہا ہے جبکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے.*
- یعنی یہ اچھا احسان ہے جو تو مجھے جتلا رہاہے کہ مجھے تو یقیناً تو نے غلام نہیں بنایا اور آزاد چھوڑے رکھا لیکن میری پوری قوم کو غلام بنا رکھا ہے۔ اس ظلم عظیم کے مقابلے میں اس احسان کی آخر حیثیت کیا ہے؟

(23) فرعون نے کہا رب العالمین کیا (چیز) ہے؟*
* یہ اس نے بطور استفہام کے نہیں ، بلکہ استکبار اور استنکار کے طور پر کہا ، کیونکہ اس کا دعوی تو یہ تھا«مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرِي» (القصص۔ 38) «میں اپنے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود جانتا ہی نہیں»۔

(24) (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو.

(25) فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے کہا کہ کیا تم سن نہیں رہے؟*
* یعنی کیا تم اس بات پر تعجب نہیں کرتے کہ میرے سوا بھی کوئی اور معبود ہے؟

(26) (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا پروردگار ہے.

(27) فرعون نے کہا (لوگو!) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقیناً دیوانہ ہے.

(28) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا! وہی مشرق ومغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب* ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو.
* یعنی جس نے مشرق کو مشرق بنایا، جس سے کواکب طلوع ہوتے ہیں اور مغرب کو مغرب بنایا جس میں کواکب غروب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان کے درمیان جو کچھ ہے، ان سب کا رب اور ان کاانتظام کرنے والابھی وہی ہے۔

(29) فرعون کہنے لگا سن لے! اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا.*
* فرعون نے جب دیکھا کہ موسیٰ (عليه السلام) مختلف انداز سے رب العالمین کی ربوبیت کاملہ کی وضاحت کر رہے ہیں، جس کا کوئی معقول جواب اس سےنہیں بن پارہا ہے۔ تو اس نے دلائل سے صرف نظر کرکے دھمکی دینی شروع کردی اور موسیٰ (عليه السلام) کو حوالۂ زنداں کرنے سے ڈرایا۔

(30) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی کھلی چیز لے آؤں؟*
* یعنی ایسی کوئی چیز یا معجزہ جس سے واضح ہو جائے کہ میں سچا اور واقعی اللہ کا رسول ہوں، تب بھی تو میری صداقت کو تسلیم نہیں کرے گا؟

(31) فرعون نے کہا اگر تو سچوں میں سے ہے تو اسے پیش کر.

(32) آپ نے (اسی وقت) اپنی ﻻٹھی ڈال دی جو اچانک کھلم کھلا (زبردست) اﮊدہا بن گئی.*
* بعض جگہ ثُعْبَانٌ کو حَيَّةٌ اور بعض جگہ جَانٌّ کہا گیاہے۔ ثُعْبَانٌ وہ سانپ ہوتا ہے جو بڑا ہو اور جَانٌّ چھوٹے سانپ کو کہتے ہیں اور حَيَّةٌ چھوٹے بڑے دونوں قسم کےسانپوں پر بولا جاتا ہے۔ (فتح القدیر) گویا لاٹھی نے پہلے چھوٹے سانپ کی شکل اختیار کی پھر دیکھتے دیکھتے اژدھا بن گئی۔ وَاللهُ أَعْلَمُ۔

(33) اور اپنا ہاتھ کھینچ نکالا تو وه بھی اسی وقت ہر دیکھنے والے کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا.*
* یعنی گریبان سے ہاتھ نکالا تو وہ چاند کےٹکڑے کی طرح چمکتا تھا۔ یہ دوسرا معجزہ موسیٰ (عليه السلام) نے پیش کیا۔

(34) فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا بھئی یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے.*
* فرعون بجائے اس کے کہ ان معجزات کو دیکھ کر، حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی تصدیق کرتا اور ایمان لاتا، اس نے تکذیب و عناد کا راستہ اختیار کیا اور حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی بابت کہا کہ یہ تو کوئی بڑا فنکار جادوگر ہے۔

(35) یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے، بتاؤ اب تم کیا حکم دیتے ہو.*
* پھر اپنی قوم کو مزید بھڑکانے کے لیے کہاکہ وہ ان شعبدہ بازیوں کے ذریعے سے تمہیں یہاں سے نکال کر خود اس پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ اب بتلاؤ ! تمہاری کیا رائے ہے؟ یعنی اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟

(36) ان سب نے کہا آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیجئے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے.

(37) جو آپ کے پاس ذی علم جادو گروں کو لے آئیں.*
* یعنی ان دونوں کو فی الحال اپنے حال پر چھوڑ دو، اور تمام شہروں سے جادوگروں کو جمع کرکے ان کا باہمی مقابلہ کیا جائے تاکہ ان کے کرتب کا جواب اور تیری تائید و نصرت ہوجائے۔ اور یہ اللہ ہی کی طر ف سے تکوینی انتظام تھا تاکہ لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوجائیں اور ان دلائل و براہین کا بہ چشم سرخود مشاہدہ کریں، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو عطا فرمائے تھے۔

(38) پھر ایک مقرر دن کے وعدے پر تمام جادوگر جمع کیے گئے.*
* چنانچہ جادوگروں کی ایک بہت بڑی تعداد مصر کے اطراف وجوانب سے جمع کر لی گئی، ان کی تعداد 12 ہزار ، 17 ہزار ، 19 ہزار ،30 ہزار اور80 ہزار (مختلف اقوال کے مطابق) بتلائی جاتی ہے۔ اصل تعداد اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ کیونکہ کسی مستند ماخذ میں تعداد کاذکر نہیں ہے۔ اس کی تفصیلات اس سے قبل سورۂ اعراف، سورۂ طہ میں بھی گزر چکی ہیں۔ گویا فرعون کی قوم، قبط، نے اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سےبجھانا چاہا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ کفروایمان کے معرکے میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ جب بھی کفر خم ٹھونک کر ایمان کےمقابلے میں آتا ہے، تو ایمان کو اللہ تعالیٰ سرخروئی اور غلبہ عطا فرماتا ہے۔ جس طرح فرمایا، «بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ» (الأنبياء۔ 18) ”بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں، پس وہ اس کا سر توڑ دیتا ہےاور جھوٹ اسی وقت نابود ہو جاتا ہے“۔

(39) اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہوجاؤ گے؟*
* یعنی عوام کو بھی تاکید کی جارہی ہے کہ تمہیں بھی یہ معرکہ دیکھنے کے لیے ضرور حاضر ہونا ہے۔

(40) تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں تو ہم ان ہی کی پیروی کریں.

(41) جادوگر آکر فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟

(42) فرعون نے کہا ہاں! (بڑی خوشی سے) بلکہ ایسی صورت میں تم میرے خاص درباری بن جاؤ گے.

(43) (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے فرمایا جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال دو.*
* حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی طرف سےجادوگروں کو پہلے اپنے کرتب دکھانے کےلیے کہنے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ ایک تو ان پر یہ واضح ہو جائے کہ اللہ کا پیغمبر اتنی بڑی تعداد میں نامی گرامی جادوگروں کے اجتماع اور ان کی ساحرانہ شعبدہ بازیوں سےخوف زدہ نہیں ہے۔ دوسرا یہ مقصد بھی ہوسکتا ہے کہ جب بعد میں اللہ کے حکم سے یہ ساری شعبدہ بازیاں آن واحد میں ختم ہوجائیں گی تو دیکھنے والوں پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور شاید اس طرح زیادہ لوگ اللہ پر ایمان لے آئیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، بلکہ جادوگر ہی سب سے پہلےایمان لے آئے۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔

(44) انہوں نے اپنی رسیاں اور ﻻٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے عزت فرعون کی قسم! ہم یقیناً غالب ہی رہیں گے.*
* جیسا کہ سورۂ اعراف اور طٰہ میں گزرا کہ ان جادوگروں نے اپنے خیال میں بہت بڑا جادو پیش کیا «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» (سورة الأعراف۔:116) حتیٰ کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے بھی اپنے دل میں خوف محسوس کیا، «فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُوسَى» (طه۔ 67) چنانچہ ان جادوگروں کو اپنی کامیابی اور برتری کابڑا یقین تھا، جیسا کہ یہاں ان الفاظ سے ظاہر ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو تسلی دی، کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ذرا اپنی لاٹھی زمین پر پھینکو اور پھر دیکھو۔ چنانچہ لاٹھی کا زمین پر پھینکنا تھا کہ اس نے ایک خوفناک اژدھے کی شکل اختیار کرلی اور ایک ایک کرکے ان کے سارے کرتبوں کو وہ نگل گیا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔

(45) اب (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی ﻻٹھی میدان میں ڈال دی جس نے اسی وقت ان کے جھوٹ موٹ کے کرتب کو نگلنا شروع کردیا.

(46) یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے.

(47) اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے.

(48) یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر.

(49) فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا (سردار) ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے*، سو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا، قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا.**
* فرعون کے لیے یہ واقعہ بڑا عجیب اور نہایت حیرت ناک تھا کہ جن جادوگروں کے ذریعے سے وہ فتح و غلبے کی آس لگائے بیٹھا تھا، وہی نہ صرف مغلوب ہوگئے بلکہ موقع پر ہی وہ اس رب پر ایمان لے آئے، جس نے حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کو دلائل و معجزات دے کر بھیجا تھا۔ لیکن بجائے اس کے کہ فرعون بھی غوروفکر سےکام لیتا اور ایمان لاتا، اس نے مکابرہ اور عناد کا راستہ اختیار کیا اور جادوگروں کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا اورکہاکہ تم سب اسی کے شاگرد لگتے ہو اورتمہارا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سازش کے ذریعے سے تم ہمیں یہاں سے بے دخل کردو، «إِنَّ هَذَا لَمَكْرٌ مَكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا» (الأعراف: 123) ۔ **- الٹے طور پر ہاتھ پاؤں کاٹنے کا مطلب، دایاں ہاتھ اور بایاں پیر یا بایاں ہاتھ اور دایاں پیر ہے۔ اس پر سولی مستزاد۔ یعنی ہاتھ پیر کاٹنے سے بھی اس کی آتش غضب ٹھنڈی نہ ہوئی، مزید اس نے سولی پر لٹکانے کا اعلان کیا۔

(50) انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں*، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ہی.
* لا ضَيْرَ کوئی حرج نہیں یا ہمیں کوئی پروا نہیں۔ یعنی اب جو سزا چاہے دے لے، ایمان سے نہیں پھر سکتے۔

(51) اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلےایمان والے بنے ہیں* ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا.
* أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ اس اعتبار سے کہا کہ فرعون کی قوم مسلمان نہیں ہوئی اور انہوں نے قبول ایمان میں سبقت کی۔

(52) اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل تم سب پیچھا کیے جاؤ گے.*
* جب بلاد مصر میں حضرت موسیٰ (عليه السلام) کا قیام لمبا ہوگیا اور ہر طرح سےانہوں نے فرعون اور اس کے درباریوں پر حجت قائم کردی۔ لیکن اس کےباوجود وہ ایمان لانے پر تیار نہیں ہوئے، تو اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا کہ انہیں عذاب و نکال سے دوچار کرکے سامان عبرت بنادیا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (عليه السلام) کو حکم دیا کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر یہاں سے نکل جائیں، اور فرمایاکہ فرعون تمہارے پیچھے آئے گا، گھبرانا نہیں۔

(53) فرعون نے شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیا.

(54) کہ یقیناً یہ گروه بہت ہی کم تعداد میں ہے.*
* یہ بطور تحقیرکے کہا، ورنہ ان کی تعداد چھ لاکھ بتلائی جاتی ہے۔

(55) اور اس پر یہ ہمیں سخت غضب ناک کر رہے ہیں.*
* یعنی میری اجازت کے بغیران کا یہاں سے فرار ہونا ہمارے لیے غیظ و غضب کا باعث ہے۔

(56) اور یقیناً ہم بڑی جماعت ہیں ان سے چوکنا رہنے والے.*
* اس لیے ان کی اس سازش کو ناکام بنانے کےلیے ہمیں مستعد ہونے کی ضرورت ہے۔

(57) بالآخر ہم نےانہیں باغات سے اور چشموں سے.

(58) اور خزانوں سے۔ اور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا.*
* یعنی فرعون اور اس کا لشکر بنی اسرائیل کے تعاقب میں کیا نکلا، کہ پھرپلٹ کر اپنے گھروں اور باغات میں آنا نصیب ہی نہیں ہوا۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت و مشیت سےانہیں تمام نعمتوں سے محروم کرکے ان کا وارث دوسروں کو بنادیا۔

(59) اسی طرح ہوا اور ہم نےان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا.*
* یعنی جو اقتدار اوربادشاہت فرعون کو حاصل تھی، وہ اس سے چھین کر ہم نےبنی اسرائیل کو عطا کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مصر جیسا اقتدار اور دنیوی جاہ و جلال ہم نے بنی اسرائیل کو بھی عطاکیا۔ کیوں کہ بنی اسرائیل، مصر سے نکل جانے کے بعد مصر واپس نہیں آئے۔ نیز سورۂ دخان میں فرمایا گیا ہے«وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ» کہ ”ہم نے اس کا وارث کسی دوسری قوم کو بنایا“ (ایسر التفاسیر) اول الذکر اہل علم کہتے ہیں کہ قوما آخرين میں قوم کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں سورۂ شعراء میں جب بنی اسرائیل کو وارث بنانےکی صراحت آگئی ہے، تو اس سے مراد بھی قوم بنی اسرائیل ہی ہوگی۔ مگر خود قرآن کی صراحت کے مطابق مصر سے نکلنے کے بعد بنو اسرائیل کو ارض مقدس میں داخل ہونےکا حکم دیا گیا۔ اور ان کےانکار پر چالیس سال کے لیے یہ داخلہ موخر کرکے میدان تیہ میں بھٹکایا گیا۔ پھر وہ ارض مقدس میں داخل ہوئے چنانچہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی قبر، حدیث اسراء کے مطابق بیت المقدس کے قریب ہی ہے۔ اس لیے صحیح معنی یہی ہے کہ جیسی نعمتیں آل فرعون کو مصر میں حاصل تھیں، ویسی ہی نعمتیں اب بنو اسرائیل کو عطا کی گئیں۔ لیکن مصر میں نہیں بلکہ فلسطین میں، وَاللهُ أَعْلَمُ۔

(60) پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے.*
* یعنی جب صبح ہوئی اور فرعون کو پتہ چلا کہ بنی اسرائیل راتوں رات یہاں سےنکل گئے ہیں، تو اس کے پندار اقتدار کو بڑی ٹھیس پہنچی۔ اور سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا۔

(61) پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے.*
* یعنی فرعون کے لشکر کو دیکھتے ہی وہ گھبرا اٹھے کہ آگےسمندر ہے اور پیچھے فرعون کا لشکر، اب بچاؤ کس طرح ممکن ہے؟ اب پھر دوبارہ وہی فرعون اور اس کی غلامی ہوگی۔

(62) موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں۔ یقین مانو، میرا رب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راه دکھائے گا.*
* حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے تسلی دی کہ تمہارا اندیشہ صحیح نہیں، اب دوبارہ تم فرعون کی گرفت میں نہیں جاؤ گے۔ میرا رب یقیناً نجات کے راستے کی نشاندہی فرمائے گا۔

(63) ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی ﻻٹھی مار*، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا.**
* چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ رہنمائی اور نشاندہی فرمائی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو، جس سے دائیں طرف کا پانی دائیں اور بائیں طرف کا بائیں طرف رک گیا اور دونوں کے بیچ میں راستہ بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بارہ قبیلوں کے حساب سے بارہ راستے بن گئے تھے، واللہ اعلم۔ **- فِرْقٍ : قطعہ بحرسمندر کا حصہ، طَوْدٌ ،پہاڑ یعنی پانی کا ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہو گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزے کا صدور ہوا تاکہ موسیٰ (عليه السلام) اور ان کی قوم فرعون سے نجات پالے، اس تائید الٰہی کے بغیر فرعون سے نجات ممکن نہیں تھی۔

(64) اور ہم نے اسی جگہ دوسروں کو نزدیک ﻻ کھڑا کر دیا.*
* اس سے مراد فرعون اور اس کا لشکر ہے یعنی ہم نے دوسروں کو سمندر کے قریب کردیا۔

(65) اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کے تمام ساتھیوں کو نجات دے دی.

(66) پھر اور سب دوسروں کو ڈبو دیا.*
* موسیٰ (عليه السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو ہم نے نجات دی اور فرعون اور اس کا لشکر جب انہی راستوں سے گزرنے لگا تو ہم نے سمندر کو دوبارہ حسب دستور رواں کردیا، جس سے فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہوگیا۔

(67) یقیناً اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں کےاکثر لوگ ایمان والے نہیں.*
* یعنی اگرچہ اس واقعے میں، جو اللہ کی نصرت و معونت کا واضح مظہر ہے، بڑی نشانی ہے لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔

(68) اور بیشک آپ کا رب بڑا ہی غالب اور مہربان ہے؟

(69) انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنادو.

(70) جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟

(71) انہوں نے جواب دیا کہ عبادت کرتے ہیں بتوں کی، ہم تو برابر ان کے مجاور بنے بیٹھے ہیں.*
* یعنی رات دن ان کی عبادت کرتے ہیں۔

(72) آپ نے فرمایا کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیا وه سنتے بھی ہیں؟

(73) یا تمہیں نفع نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں.*
* یعنی اگر تم ان کی عبادت ترک کردو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچاتے ہیں؟

(74) انہوں نے کہا یہ (ہم کچھ نہیں جانتے) ہم تو اپنے باپ دادوں کو اسی طرح کرتے پایا.*
* جب وہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے سوال کا کوئی معقول جواب نہیں دے سکتے تو یہ کہہ کر چھٹکارا حاصل کرلیا۔ جیسے آج بھی لوگوں کو قرآن و حدیث کی بات بتلائی جائے تو یہی عذر پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے خاندان میں تو ہمارے آباواجداد سے یہی کچھ ہوتا آرہا ہے، ہم اسے نہیں چھوڑ سکتے۔

(75) آپ نے فرمایا کچھ خبر بھی* ہے جنہیں تم پوج رہے ہو.
* أَفَرَأَيْتُمْ؟ کے معنی ہیں فَهَلْ أَبْصَرْتُمْ وَتَفَكَّرْتُمْ؟ کیا تم نے غوروفکر کیا؟

(76) تم اور تمہارے اگلے باپ دادا، وه سب میرے دشمن ہیں.*
* اس لیے کہ تم سب اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرنے والے ہو۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہےکہ جن کی تم اور تمہارے باپ دادا عبادت کرتے رہے ہیں، وہ سب معبود میرے دشمن ہیں یعنی میں ان سے بیزار ہوں۔

(77) بجز سچے اللہ تعالیٰ کے جو تمام جہان کا پالنہار ہے.*
* یعنی وہ دشمن نہیں، بلکہ وہ تو دنیا و آخرت میں میرا ولی اور دوست ہے۔

(78) جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے.*
* یعنی دین و دنیا کے مصالح اور منافع کی طرف۔

(79) وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے.*
* یعنی انواع و اقسام کے رزق پیدا کرنے والا اور جو پانی ہم پیتے ہیں، اسے مہیا کرنے والا بھی وہی اللہ ہے۔

(80) اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے.*
* بیماری کو دور کرکے شفا عطا کرنے والا بھی وہی ہے۔ یعنی دواؤں میں شفا کی تاثیر بھی اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔ ورنہ دوائیں بھی بےاثر ثابت ہوتی ہیں۔ بیماری بھی اگرچہ اللہ کے حکم اور مشیت سے ہی آتی ہے۔ لیکن اس کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی۔ بلکہ اپنی طرف کی۔ یہ گویا اللہ کے ذکر میں اس کے ادب و احترام کے پہلو کو ملحوظ رکھا۔

(81) اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زنده کردے گا
* یعنی قیامت والے دن، جب وہ سارے لوگوں کو زندہ فرمائے گا، مجھے بھی زندہ کرے گا۔

(82) اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وه روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا.*
* یہاں امید، یقین کےمعنی میں ہے۔ کیونکہ کسی بڑی شخصیت سے امید، یقین کے مترادف ہی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ تو کائنات کی سب سے بڑی ہستی ہے، اس سے وابستہ امید، یقینی کیوں نہیں ہوگی۔ اسی لیے مفسرین کہتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی اللہ کے لیے عَسَى کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ یقین ہی کے مفہوم میں ہے۔ خَطِيْئَتِي، خَطِيئَةٌ واحد کا صیغہ ہے لیکن خَطَايَا (جمع) کے معنی میں ہے۔ انبیا علیہم السلام اگرچہ معصوم ہوتے ہیں۔ اس لیے ان سے کسی بڑے گناہ کا صدور ممکن نہیں۔ پھر بھی اپنے بعض افعال کو کوتاہی پر محمول کرتے ہوئےبارگاہ الٰہی میں عفو طلب ہوں گے۔

(83) اے میرے رب! مجھے قوت فیصلہ* عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے.
* حکم یا حکمت سے مراد علم و فہم، قوت فیصلہ، یانبوت و رسالت یا اللہ کے حدود و احکام کی معرفت ہے۔

(84) اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ.*
* یعنی جو لوگ میرے بعد قیامت تک آئیں گے، وہ میرا ذکر اچھے لفظوں میں کرتے رہیں، اس سےمعلوم ہوا کہ نیکیوں کی جزا اللہ تعالیٰ دنیا میں ذکر جمیل اور ثنائے حسن کی صورت میں بھی عطا فرماتا ہے۔ جیسے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کا ذکر خیر ہرمذہب کے لوگ کرتے ہیں، کسی کو بھی ان کی عظمت و تکریم سےانکار نہیں ہے۔

(85) مجھے نعمتوں والی جنت کے وارﺛوں میں سے بنادے.

(86) اور میرے باپ کو بخش دے یقیناً وه گمراہوں میں سے تھا.*
* یہ دعا اس وقت کی تھی، جب ان پر یہ واضح نہیں تھا کہ مشرک (اللہ کے دشمن) کے لیے دعائے مغفرت جائز نہیں ،جب اللہ نے یہ واضح کردیا، تو انہوں نے اپنے باپ سے بھی بیزاری کا اظہار کردیا۔ (التوبة: 114)

(87) اور جس دن کے لوگ دوباره جلائے جائیں مجھے رسوا نہ کر.*
* یعنی تمام مخلوق کے سامنے میرا مواخذہ کرکے یا عذاب سے دوچار کرکے حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن جب حضرت ابراہیم (عليه السلام) اپنے والد کو برے حال میں دیکھیں گے، تو ایک مرتبہ پھر اللہ کی بارگاہ میں ان کے لیے مغفرت کی درخواست کریں گے اورفرمائیں گے یا اللہ ! اس سے زیادہ میرے لیے رسوائی اور کیا ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گاکہ میں نے جنت کافروں پر حرام کردی ہے۔ پھر ان کے باپ کو نجاست میں لتھڑے ہوئے بجو کی شکل میں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحيح بخاري، سورة الشعراء وكتاب الأنبياء ، باب قول الله واتخذ الله إبراهيم خليلا)۔

(88) جس دن کہ مال اور اوﻻد کچھ کام نہ آئے گی.

(89) لیکن فائده واﻻ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے.*
* قلب سلیم یا بے عیب دل سے مراد وہ دل ہے جو شرک سے پاک ہو۔ یعنی قلب مومن۔ اس لیے کہ کافر اور منافق کا دل مریض ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں، بدعت سے خالی اور سنت پر مطمئن دل، بعض کے نزدیک، دنیا کے مال و متاع کی محبت سے پاک دل اور بعض کے نزدیک، جہالت کی تاریکیوں اور اخلاقی رذالتوں سےپاک دل۔ یہ سارے مفہوم بھی صحیح ہوسکتے ہیں۔ اس لیے کہ قلب مومن مذکورہ تمام ہی برائیوں سے پاک ہوتا ہے۔

(90) اور پرہیزگاروں کے لیے جنت بالکل نزدیک ﻻدی جائے گی.

(91) اور گمراه لوگوں کے لیے جہنم ﻇاہر کردی جائے گی.*
* مطلب یہ ہے کہ جنت اور دوزخ میں دخول سے پہلے ان کو سامنے کردیا جائے گا۔ جس سےکافروں کے غم میں اور اہل ایمان کے سرور میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

(92) اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وه کہاں ہیں؟

(93) جو اللہ تعالیٰ کے سوا تھے*، کیاوه تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں.**
* یعنی تم سے عذاب ٹال دیں یا خود اپنے نفس کو اس سے بچالیں۔

(94) پس وه سب اور کل گمراه لوگ جہنم میں اوندھے منھ ڈال دیے جائیں گے.*
* یعنی معبودین اور عابدین سب کو مال ڈنگر کی طرح ایک دوسرے کے اوپر ڈال دیا جائے گا۔

(95) اور ابلیس کے تمام کے تمام لشکر* بھی، وہاں.
* اس سے مراد وہ لشکر ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے تھے۔

(96) آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوئے کہیں گے.

(97) کہ قسم اللہ کی! یقیناً ہم تو کھلی غلطی پر تھے.

(98) جبکہ تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے.*
* دنیا میں تو ہر ترشا ہوا پتھر اور قبر پر بنا ہوا خوش نما قبہ، مشرکوں کو خدائی اختیارات کاحامل نظر آتا ہے۔ لیکن قیامت کو پتہ چلے گا کہ یہ تو کھلی گمراہی تھی کہ وہ انہیں رب کے برابر سمجھتے رہے۔

(99) اور ہمیں تو سوا ان بدکاروں کے کسی اور نے گمراه نہیں کیا تھا.*
* یعنی وہاں جاکر احساس ہوگا کہ ہمیں دوسرے مجرموں نے گمراہ کیا۔ دنیا میں انہیں متوجہ کیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں کام گمراہی ہے، بدعت ہے، شرک ہے تو نہیں مانتے، نہ غور وفکر سے کام لیتے ہیں کہ حق و باطل ان پر واضح ہوسکے۔

(100) اب تو ہمارا کوئی سفارشی بھی نہیں.

(101) اور نہ کوئی (سچا) غم خوار دوست.*
* گناہ گار اہل ایمان کی سفارش تو اللہ کی اجازت کے بعد انبیا وصلحا بالخصوص حضرت نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) فرمائیں گے۔ لیکن کافروں اور مشرکوں کے لیے سفارش کرنے کی کسی کو اجازت ہوگی نہ حوصلہ، اور نہ وہاں کوئی دوستی ہی کام آئے گی۔

(102) اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا تو ہم پکے سچے مومن بن جاتے.*
* اہل کفروشرک، قیامت کے روز دوبارہ دنیا میں آنے کی آرزو کریں گے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرکے اللہ کو خوش کرلیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا ہےکہ اگر انہیں دوبارہ بھی دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے تھے۔

(103) یہ ماجرا یقیناً ایک زبردست نشانی ہے* ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے نہیں.**
* یعنی حضرت ابراہیم (عليه السلام) کا بتوں کے بارے میں اپنی قوم سے مناظرہ و محاجہ اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل، یہ اس بات کی واضح نشانی ہےکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ **- بعض نے اس کا مرجع مشرکین مکہ یعنی قریش کو قرار دیا ہے۔ یعنی ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں۔

(104) یقیناً آپ کا پروردگار ہی غالب مہربان ہے.

(105) قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا.*
* قوم نوح (عليه السلام) نے اگرچہ صرف اپنے پیغمبر حضرت نوح (عليه السلام) کی تکذیب کی تھی۔ مگر چونکہ ایک نبی کی تکذیب، تمام نبیوں کی تکذیب کے مترادف اور اس کو مستلزم ہے۔ اس لیے فرمایا کہ قوم نوح (عليه السلام) نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔

(106) جبکہ ان کے بھائی* نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں!
* بھائی اس لیے کہا کہ حضرت نوح (عليه السلام) ان ہی کی قوم کےایک فرد تھے۔

(107) سنو! میں تمہاری طرف اللہ کا امانتدار رسول ہوں.*
* یعنی اللہ نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا ہے، وہ بلاکم و کاست تم تک پہنچانے والا ہوں، اس میں کمی بیشی نہیں کرتا۔

(108) پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری بات ماننی چاہئے.*
* یعنی میں تمہیں جو ایمان باللہ اور شرک نہ کرنے کی دعوت دے رہا ہوں، اس میں میری اطاعت کرو۔

(109) میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا بدلہ تو صرف رب العالمین کے ہاں ہے.*
* میں تمہیں جو تبلیغ کر رہا ہوں ، اس کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا، بلکہ اس کا اجر رب العالمین ہی کے ذمے ہے جو قیامت کو وہ عطا فرمائے گا۔

(110) پس تم اللہ کا خوف رکھو اور میری فرمانبرداری کرو.*
* یہ تاکید کے طور پر بھی ہے اور الگ الگ سبب کی بنا پر بھی، پہلے اطاعت کی دعوت، امانت داری کی بنیاد پر تھی اور اب یہ دعوت اطاعت عدم طمع کی وجہ سے ہے۔

(111) قوم نے جواب دیا کہ ہم تجھ پر ایمان ﻻئیں! تیری تابعداری تو رذیل لوگوں نے کی ہے.*
* الأَرْذَلُونَ، أَرْذَلُ کی جمع ہے جاہ و مال نہ رکھنے والے، اور اس کی وجہ سےمعاشرے میں کمتر سمجھے جانے والے اور ان ہی میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو حقیرسمجھے جانے والے پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

(112) آپ نے فرمایا! مجھے کیا خبر کہ وه پہلے کیا کرتے رہے؟*
* یعنی مجھے اس بات کا مکلف نہیں ٹھہرایا گیا ہے کہ میں لوگوں کے حسب و نسب، امارت و غربت اور ان کے پیشوں کی تفتیش کروں بلکہ میری ذمہ داری صرف یہ ہےکہ ایمان کی دعوت دوں اور جو اسے قبول کرلے، چاہے وہ کسی حیثیت کا حامل ہو، اسے اپنی جماعت میں شامل کر لوں۔

(113) ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ* ہے اگر تمہیں شعور ہو تو.
* یعنی ان کے ضمائر اور اعمال کی تفتیش یہ اللہ کا کام ہے۔

(114) میں ایمان والوں کو دھکے دینے واﻻ نہیں.*
* یہ ان کی اس خواہش کا جواب ہےکہ کمتر حیثیت کے لوگوں کو اپنے سے دور کردے، پھر ہم تیری جماعت میں شامل ہوجائیں گے۔

(115) میں تو صاف طور پر ڈرا دینے واﻻ ہوں.*
* پس جو اللہ سے ڈر کر میری اطاعت کرے گا، وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں، چاہے دنیا کی نظر میں وہ شریف ہو یا رذیل، جلیل ہو یا حقیر۔

(116) انہوں نے کہاکہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا.

(117) آپ نے کہا اے میرے پروردگار! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا.

(118) پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے با ایمان ساتھیوں کو نجات دے.

(119) چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں (سوار کراکر) نجات دے دی.

(120) بعد ازاں باقی کے تمام لوگوں کو ہم نے ڈبو دیا.*
* یہ تفصیلات کچھ پہلے بھی گزر چکی ہیں اور کچھ آئندہ بھی آئیں گی کہ حضرت نوح (عليه السلام) کی ساڑھے نو سو سالہ تبلیغ کے باوجود ان کی قوم کے لوگ بداخلاقی اور اعراض پر قائم رہے، بالآخر حضرت نوح (عليه السلام) نےبد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے کشتی بنانے کا اور اس میں مومن انسانوں،جانوروں اور ضروری سازوسامان رکھنے کا حکم دیا اور یوں اہل ایمان کو تو بچالیاگیا اور باقی سب لوگوں کو، حتیٰ کہ بیوی اور بیٹے کو بھی، جو ایمان نہیں لائے تھے، غرق کردیا گیا۔

(121) یقیناً اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے تھے بھی نہیں.

(122) اور بیشک آپ کا پروردگار البتہ وہی ہے زبردست رحم کرنے واﻻ.

(123) عادیوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا.*
* عاد، ان کے جداعلیٰ کا نام تھا، جس کے نام پر قوم کا نا م پڑ گیا۔ یہاں عاد کوقبیلہ تصور کرکے كَذَّبَتْ (صغیہ مونث) لایاگیا ہے۔

(124) جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود* نے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں؟
* ہود (عليه السلام) کو بھی عاد کا بھائی اسی لیےکہا گیا ہےکہ ہر نبی اسی قوم کا ایک فرد ہوتا تھا، جس کی طرف سے اسےمبعوث کیاجاتا تھا اور اسی اعتبار سےانہیں اس قوم کا بھائی قرار دیاگیا ہے، جیسا کہ آگے بھی آئے گا اور انبیا و رسل کی یہ (بشریت) بھی ان کی قوموں کے ایمان لانے میں رکاوٹ بنی رہی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ نبی کو بشر نہیں، مافوق البشر ہونا چاہیے۔ آج بھی اس مسلمہ حقیقت سے بے خبر لوگ پیغمبر اسلام حضرت نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو مافوق البشر باور کرانےپر تلے رہتے ہیں۔ حالانکہ وہ بھی خاندان قریش کے ایک فرد تھے جن کی طرف اولاً ان کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا۔

(125) میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں.

(126) پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو!

(127) میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا ﺛواب تو تمام جہان کے پروردگار کے پاس ہی ہے.

(128) کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یادگار (عمارت) بنا رہے ہو.*
* رِيعٍ، رِيعَةٌ کی جمع ہے۔ ٹیلہ، بلند جگہ، پہاڑ، دریا یا گھاٹی یہ ان گزرگاہوں پر کوئی عمارت تعمیر کرتے جو ارتفاع اور علو میں ایک نشانی یعنی ممتاز ہوتی۔ لیکن اس کا مقصد اس میں رہنا نہیں ہوتا بلکہ صرف ایک کھیل کود ہوتا تھا۔ حضرت ہود (عليه السلام) نے منع فرمایا کہ یہ تم ایسا کام کرتےہو، جس میں وقت اور وسائل کا بھی ضیاع ہے اور اس کا مقصد بھی ایسا ہے جس سے دین اور دنیاکا کوئی مفاد وابستہ نہیں۔ بلکہ اس کے بیکار محض اور عبث ہونے میں کوئی شک نہیں۔

(129) اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے.*
* اسی طرح وہ بڑی مضبوط اور عالی شان رہائشی عمارتیں تعمیر کرتے تھے، جیسے وہ ہمیشہ انہی محلات میں رہیں گے۔

(130) اور جب کسی پر ہاتھ، ڈالتے ہو تو سختی اور ﻇلم سے پکڑتے ہو.*
* یہ ان کےظلم و تشدد اور قوت و طاقت کی طرف اشارہ ہے۔

(131) اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو.*
* جب ان کے اوصاف قبیحہ بیان کیے جو ان کے دنیا میں انہماک اور ظلم و سرکشی پر دلالت کرتے ہیں توپھر انہیں دوبارہ تقویٰ اور اپنی اطاعت کی دعوت دی۔

(132) اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہاری امداد کی جنہیں تم جانتے ہو.

(133) اس نے تمہاری مدد کی مال سے اور اوﻻد سے.

(134) باغات سے اور چشموں سے.

(135) مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کےعذاب کا اندیشہ ہے.*
* یعنی اگر تم نے اپنے کفر پر اصرار جاری رکھا اور اللہ نے تمہیں جو یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں، ان کا شکر ادا نہیں کیا، تو تم عذاب الٰہی کے مستحق قرار پاجاؤ گے۔ یہ عذاب دنیا میں بھی آسکتا ہے اور آخرت تو ہے ہی عذاب وثواب کے لیے۔ وہاں تو عذاب سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں ہوگا۔

(136) انہوں نے کہا کہ آپ وعﻆ کہیں یا وعﻆ کہنے والوں میں نہ ہوں ہم پر یکساں ہے.

(137) یہ تو بس پرانے لوگوں کی عادت ہے.*
* یعنی وہی باتیں ہیں جو پہلے بھی لوگ کرتے آئے ہیں یایہ مطلب ہے کہ ہم جس دین اور عادات و روایات پر قائم ہیں، وہ وہی ہیں جن پر ہمارے آباواجداد کار بند رہے، مطلب دونوں صورتوں میں یہ ہے کہ ہم آبائی مذہب کو نہیں چھوڑ سکتے۔

(138) اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیے جائیں گے.*
* جب انہوں نے اس امر کا اظہار کیاکہ ہم تو اپنا آبائی دین نہیں چھوڑیں گے، تو اس میں عقیدۂ آخرت کا انکار بھی تھا۔ اس لیےانہوں نے عذاب میں مبتلا ہونے کا بھی انکار کیا۔ کیونکہ عذاب الٰہی کااندیشہ تو اسے ہوتا ہے جو اللہ کو مانتا اور روز جزا کو تسلیم کرتا ہے۔

(139) چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا، اس لیے ہم نے انہیں تباه کردیا* یقیناً اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر بے ایمان تھے.
* قوم عاد، دنیا کی مضبوط ترین اور قوی ترین قوم تھی، جس کی بابت اللہ نے فرمایا ہے۔«الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلادِ» (الفجر) ”اس جیسی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی“ یعنی جو قوت اور شدت و جبروت میں اس جیسی ہو۔ اسی لیے یہ کہا کرتی تھی۔ «مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً» (حم السجدة: 15) ”کون قوت میں ہم سے زیادہ ہے؟“ لیکن جب اس قوم نے بھی کفر کا راستہ چھوڑ کر ایمان و تقویٰ اختیار نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کی صورت میں ان پر عذاب نازل فرمایا جو مکمل سات راتیں اور آٹھ دن ان پر مسلط رہا۔ باد تند آتی اور آدمی کو اٹھا کر فضا میں بلند کرتی اور پھر زور سے سر کے بل زمین پر پٹخ دیتی۔ جس سے اس کا دماغ پھٹ اور ٹوٹ جاتا اور بغیر سر کے ان کے لاشے اس طرح زمین پر پڑے ہوتے گویا وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ انہوں نے پہاڑوں، کھووں اور غاروں میں بڑی بڑی مضبوط عمارتیں بنارکھی تھیں، پینے کے لیے گہرے کنوئیں کھود رکھے تھے، باغات کی کثرت تھی۔ لیکن جب اللہ کا عذاب آیا تو کوئی چیز ان کے کام نہ آئی اور انہیں صفحۂ ہستی سےمٹا کر رکھ دیاگیا۔

(140) بیشک آپ کا رب وہی غالب مہربان.

(141) ﺛمودیوں* نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا.
* ثمود کامسکن حجر تھا جو حجاز کے شمال میں ہے، آج کل اسے مدائن صالح کہتے ہیں۔ (ایسرالتفاسیر) یہ عرب تھے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) تبوک جاتے ہوئے ان بستیوں سے گزر کر گئے تھے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔

(142) ان کے بھائی صالح نے ان سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟.

(143) میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار پیغمبر ہوں.

(144) تو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا کرو.

(145) میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت تو بس پرودگار عالم پر ہی ہے.

(146) کیا ان چیزوں میں جو یہاں ہیں تم امن کے ساتھ چھوڑ دیے جاؤ گے.*
* یعنی یہ نعمتیں کیا تمہیں ہمیشہ حاصل رہیں گی، نہ تمہیں موت آئے گی نہ عذاب؟ استفہام انکاری اور تو بیخی ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوگا بلکہ عذاب یا موت کے ذریعے سے، جب اللہ چاہے گا، تم ان نعمتوں سے محروم ہو جاؤ گے۔ اس میں ترغیب ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اس پر ایمان لاؤ اور ترہیب ہے کہ اگر ایمان و شکر کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر تباہی و بربادی تمہارا مقدر ہے۔

(147) یعنی ان باغوں اور ان چشموں.

(148) اور ان کھیتوں اور ان کھجوروں کے باغوں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں.*
* یہ ان نعمتوں کی تفصیل ہے جن سے وہ بہرہ ور تھے، طلع، کھجور کے اس شگوفے کو کہتے ہیں جو پہلے پہل نکلتا یعنی طلوع ہوتا ہے، اس کے بعد کھجور کایہ پھل بلح، پھر بسر، پھر رطب اور اس کےبعد تمر کہلاتا ہے۔ (ایسر التفاسیر) باغات میں دیگر پھلوں کے ساتھ کھجور کا پھل بھی آجاتا ہے۔ لیکن عربوں میں چونکہ کھجور کی بڑی اہمیت ہے، اس لیے اس کا خصوصی طور پر بھی ذکر کیا۔ هَضِيمٌ کے اور بھی کئی معانی بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاً لطیف اور نرم و نازک۔ تہہ بہ تہہ وغیرہ۔

(149) اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو.*
* فَارِهِينَ یعنی ضرورت سےزیادہ تصنع، تکلف اور فنکارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا اتراتے اور فخروغرور کرتے ہوئے۔ جیسے آج کل لوگوں کا حال ہے۔ آج بھی عمارتوں پر بھی غیر ضروری آرائشوں اور فن کارانہ مہارتوں کا خوب خوب مظاہرہ ہو رہا ہے اور اس کے ذریعے سے ایک دوسرے پر برتری اور فخروغرور کا اظہار بھی۔

(150) پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.

(151) بے باک حد سے گزر جانے والوں کی* اطاعت سے باز آجاؤ.
* مُسْرِفِينَ سے مراد وہ رؤسا اورسردار ہیں جو کفروشرک کے داعی اور مخالفت حق میں پیش پیش تھے۔

(152) جو ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے.

(153) وه بولے کہ بس تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہے.

(154) تو تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ اگر تو سچوں سے ہے تو کوئی معجزه لے آ.

(155) آپ نے فرمایا یہ ہے اونٹنی، پانی پینے کی ایک باری اس کی اور ایک مقرره دن کی باری پانی پینے کی تمہاری.*
* یہ وہی اونٹنی تھی جو ان کے مطالبے پر پتھر کی ایک چٹان سے بطور معجزہ ظاہر ہوئی تھی۔ ایک دن اونٹنی کے لیےاور ایک دن ان کے لیے پانی مقرر کردیاگیا تھا، اور ان سےکہہ دیا گیا تھا کہ جو دن تمہارا پانی لینے کا ہوگا، اونٹنی گھاٹ پر نہیں آئے گی اور جو دن اونٹنی کے پانی پینے کا ہوگا، تمہیں گھاٹ پر آنے کی اجازت نہیں ہے۔

(156) (خبردار!) اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہاری گرفت کر لے گا.*
* دوسری بات انہیں یہ کہی گئی کہ اس اونٹنی کو کوئی بری نیت سے ہاتھ نہ لگائے، نہ اسے نقصان پہنچایا جائے۔ چنانچہ یہ اونٹنی اسی طرح ان کے درمیان رہی۔ گھاٹ سے پانی پیتی اور گھاس چارہ کھاکر گزارہ کرتی۔ اور کہا جاتا ہےکہ قوم ثمود اس کا دودھ دوہتی اور اس سے فائدہ اٹھاتی۔ لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد انہوں نے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

(157) پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں*، بس وه پشیمان ہوگئے.**
* یعنی باوجود اس بات کے کہ وہ اونٹنی،اللہ کی قدرت کی ایک نشانی اور پیغمبر کی صداقت کی دلیل تھی، قوم ثمود ایمان نہیں لائی اور کفروشرک کے راستے پر گامزن رہی اور اس کی سرکشی یہاں تک بڑھی کہ بالآخر قدرت کی زندہ نشانی (اونٹنی) کی کوچیں کاٹ ڈالیں یعنی اس کے ہاتھوں اور پیروں کو زخمی کردیا، جس سے وہ بیٹھ گئی اور پھر اسے قتل کردیا۔ **- یہ اس وقت ہوا جب اونٹنی کےقتل کے بعد حضرت صالح (عليه السلام) نے کہا کہ اب تمہیں صرف تین دن کی مہلت ہے، چوتھے دن تمہیں ہلاک کردیا جائے گا۔ اس کے بعد جب واقعی عذاب کی علامتیں ظاہر ہونی شروع ہوگئیں، تو پھر ان کی طرف سے بھی اظہار ندامت ہونے لگا۔ لیکن علامات عذاب دیکھ لینے کے بعد ندامت اور توبہ کا کوئی فائدہ نہیں۔

(158) اور عذاب نے انہیں آ دبوچا*۔ بیشک اس میں عبرت ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے.
* یہ عذاب زمین سے بھونچال (زلزلے) اور اوپر سے سخت چنگھاڑ کی صورت میں آیا، جس سے سب کی موت واقع ہوگئی۔

(159) اور بیشک آپ کا رب بڑا زبردست اور مہربان ہے.

(160) قوم لوط* نے بھی نبیوں کو جھٹلای.ا
* حضرت لوط (عليه السلام) ، حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے بھائی ھاران بن آذر کے بیٹے تھے۔ ان کو حضرت ابراہیم (عليه السلام) ہی کی زندگی میں نبی بنا کر بھیجا گیا تھا۔ ان کی قوم (سدوم) اور (عموریہ) میں رہتی تھی۔ یہ بستیاں شام کے علاقے میں تھیں۔

(161) ان سے ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ کا خوف نہیں رکھتے؟

(162) میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں.

(163) پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.

(164) میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا اجر تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہے جو تمام جہان کا رب ہے.

(165) کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو.

(166) اور تمہاری جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا جوڑا بنایا ہے ان کو چھوڑ دیتے ہو*، بلکہ تم ہو ہی حد سے گزر جانے والے.**
* یہ قوم لوط کی سب سے بری عادت تھی، جس کی ابتدا اسی قوم سے ہوئی تھی، اسی لیے اس فعل بد کو لواطت سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی وہ بدفعلی جس کا آغاز قوم لوط سے ہوا لیکن اب یہ بدفعلی پوری دنیا میں عام ہے بلکہ یورپ میں تو اسے قانوناً جائز تسلیم کرلیاگیا ہے یعنی ان کے ہاں اب یہ سرے سے گناہ ہی نہیں ہے۔ جس قوم کا مزاج اتنا بگڑ گیا ہو کہ مرد و عورت کا ناجائز جنسی ملاپ (بشرطیکہ باہمی رضا مندی سے ہو) ان کے نزدیک جرم نہ ہو، تو وہاں دو مردوں کا آپس میں بدفعلی کرنی کیونکر گناہ اور ناجائز ہوسکتا ہے؟ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ۔ **- عَادُونَ، عاد کی جمع ہے۔ عربی میں عاد کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنے والا۔ یعنی حق کو چھوڑ کر باطل کو اور حلال کو چھوڑ کر حرام کو اختیار کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح شرعی کے ذریعے سے عورت کی فرج سے اپنی جنسی خواہش کی تسکین کو حلال قرار دیا ہے اور اس کام کے لیے مرد کی دبر کو حرام۔ قوم لوط نے عورتوں کی شرم گاہوں کو چھوڑ کر مردوں کی دبر اس کام کے لیے استعمال کی اور یوں اس نے اس حد سے تجاوز کیا۔

(167) انہوں نے جواب دیاکہ اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً نکال دیا جائے گا.*
* یعنی حضرت لوط (عليه السلام) کے وعظ و نصیحت کے جواب میں اس نے کہاکہ تو بڑا پاک باز بنا پھرتا ہے۔ یاد رکھنا اگر تو باز نہ آیا تو ہم اپنی بستی میں تجھے رہنے ہی نہ دیں گے۔ آج بھی بدیوں کا اتنا غلبہ اور بدوں کا اتنا زور ہے کہ نیکی منہ چھپائے پھرتی ہے، اور نیکوں کے لیےعرصہ حیات تنگ کردیاگیا ہے۔

(168) آپ نے فرمایا، میں تمہارے کام سے سخت ناخوش ہوں.
* یعنی میں اسے پسند نہیں کرتا اور اس سے سخت بیزار ہوں۔

(169) میرے پروردگار! مجھے اور میرے گھرانے کو اس (وبال) سے بچالے جو یہ کرتے ہیں.

(170) پس ہم نے اسے اور اس کے متعلقین کو سب کو بچالیا.

(171) بجز ایک بڑھیا کے کہ وه پیچھے ره جانے والوں میں ہوگئی.*
* اس سے مراد حضرت لوط (عليه السلام) کی بوڑھی بیوی ہے جو مسلمان نہیں ہوئی تھی، چنانچہ وہ بھی اپنی قوم کے ساتھ ہی ہلاک کردی گئی۔

(172) پھر ہم نے باقی اور سب کو ہلاک کر دیا.

(173) اور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کا مینہ برسایا، پس بہت ہی برا مینہ تھا جو ڈرائے گئے ہوئے لوگوں پر برسا.*
* یعنی نشان زندہ کنکر پتھروں کی بارش سے ہم نے ان کو ہلاک کیا اور ان کی بسیتوں کو ان پر الٹ دیاگیا، جیسا کہ سورۂ ہود۔ 83،82 میں بیان ہوا۔

(174) یہ ماجرا بھی سراسر عبرت ہے۔ ان میں سے بھی اکثر مسلمان نہ تھے.

(175) بیشک تیرا پروردگار وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ.

(176) اَیکہ والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا
* أَيْكَةَ، جنگل کو کہتے ہیں۔ اس سے حضرت شعیب (عليه السلام) کی قوم اور بستی (مدین) کے اطراف کے باشندے مراد ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ ایکہ کے معنی ہیں گھنا درخت اور ایسا ایک درخت مدین کی نواحی آبادی میں تھا۔ جس کی پوجا پاٹ ہوتی تھی۔ حضرت شعیب (عليه السلام) کا دائرۂ نبوت اور حدود دعوت و تبلیغ، مدین سے لے کر اس نواحی آبادی تک تھا، جہاں ایکہ درخت کی پوجا ہوتی تھی۔ وہاں کے رہنے والوں کو اصحاب الایکہ کہاگیا ہے۔ اس لحاظ سے اصحاب الایکہ اور اہل مدین کے پیغمبر ایک ہی یعنی حضرت شعیب (عليه السلام) تھے اور یہ ایک ہی پیغمبر کی امت تھی۔ ایکہ، چونکہ قوم نہیں، بلکہ درخت تھا۔ اس لیے اخوت نسبی کا یہاں ذکر نہیں کیا، جس طرح کہ دوسرے انبیا کے ذکر میں ہے۔ البتہ جہاں مدین کے ضمن میں حضرت شعیب (عليه السلام) کا نام لیاگیا ہے، وہاں ان کے اخوت نسبی کا ذکر بھی ملتا ہے، کیونکہ مدین، قوم کا نام ہے۔«وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا» (الأعراف: 85) بعض مفسرین نے اصحاب الایکہ اور مدین کو الگ الگ بستیاں قرار دے کر کہا ہے کہ یہ مختلف دو امتیں ہیں، جن کی طرف باری باری حضرت شعیب (عليه السلام) کو بھیجا گیا۔ ایک مرتبہ مدین کی طرف اور دوسری مرتبہ اصحاب الایکہ کی طرف۔ لیکن امام ابن کثیر نے فرمایا ہے کہ صحیح بات یہی ہے کہ یہ ایک ہی امت ہے، «أَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ» کا جو وعظ اہل مدین کو کیا گیا، یہی وعظ یہاں اصحاب الایکہ کو کیاجارہا ہے، جس سے صاف واضح ہے کہ یہ ایک ہی امت ہے، دو نہیں۔

(177) جبکہ ان سے شعیب (علیہ السلام) نے کہاکہ کیا تمہیں ڈر خوف نہیں؟

(178) میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں.

(179) اللہ کا خوف کھاؤ اور میری فرمانبرداری کرو.

(180) میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا، میرا اجر تمام جہانوں کے پالنے والے کے پاس ہے.

(181) ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شمولیت نہ کرو.*
* یعنی جب تم لوگوں کوناپ کردو تو اسی طرح پورا دو، جس طرح لیتے وقت تم پورا ناپ کر لیتے ہو۔ لینے اور دینے کے پیمانے الگ الگ مت رکھو، کہ دیتے وقت کم دو اور لیتے وقت پورا لو !۔

(182) اور سیدھی صحیح ترازو سے توﻻ کرو.*
* اسی طرح تول میں ڈنڈی مت مارو، بلکہ پورا صحیح تول کردو !۔

(183) لوگوں کو ان کی چیزیں کمی سے نہ دو* بے باکی کے ساتھ زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو.**
* یعنی لوگوں کو دیتے وقت ناپ یا تول میں کمی مت کرو۔ **- یعنی اللہ کی نافرمانی مت کرو، اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ بعض نے اس سے مراد وہ رہزنی لے لی ہے، جس کا ارتکاب بھی یہ قوم کرتی تھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے، «وَلا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ» (الأعراف: 86) ”راستوں میں لوگوں کو ڈرانے کے لیے مت بیٹھو“۔ (ابن کثیر)۔

(184) اس اللہ کا خوف رکھو جس نے خود تمہیں اور اگلی مخلوق کو پیدا کیا ہے.*
* جِبِلَّةٌ اور جِبِلٌّ، مخلوق کے معنی میں ہے، جس طرح دوسرے مقام پر شیطان کے بارے میں فرمایا «وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلا كَثِيرًا» (سورة يس: 62) ”اس نے تم میں سے بہت ساری مخلوق کو گمراہ کیا“ اس کا استعمال بڑی جماعت کے لیے ہوتا ہے۔ وَهُوَ الْجَمْعُ ذُو الْعَدَدِ الْكَثِيرِ مِنَ النَّاسِ (فتح القدير)۔

(185) انہوں نے کہا تو تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا جاتا ہے.

(186) اور تو تو ہم ہی جیسا ایک انسان ہے اور ہم تو تجھے جھوٹ بولنے والوں میں سے ہی سمجھتے ہیں.*
* یعنی تو جو دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے اللہ نے وحی و رسالت سے نوازا ہے، ہم تجھے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتے ہیں، کیونکہ تو بھی ہم جیسا ہی انسان ہے۔ پھر تو اس شرف سے مشرف کیونکر ہوسکتا ہے؟

(187) اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے تو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرادے.*
* یہ حضرت شعیب (عليه السلام) کی تہدید کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر تو واقعی سچا ہے تو جاہم تجھے نہیں مانتے، ہم پر آسمان کا ٹکڑا گراکر دکھا!۔

(188) کہاکہ میرا رب خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کر رہے ہو.*
* یعنی تم جو کفروشرک کر رہے ہو، سب اللہ کے علم میں ہے اور وہی اس کی جزا تمہیں دے گا، اگر چاہے گا تو دنیا میں بھی دے دے گا، یہ عذاب اور سزا اس کے اختیار میں ہے۔

(189) چونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا*۔ وه بڑے بھاری دن کا عذاب تھا.
* انہوں نے بھی کفار مکہ کی طرح آسمانی عذاب مانگا تھا، اللہ نے اس کے مطابق ان پر عذاب نازل فرمادیا اور وہ اس طرح کہ بعض روایات کے مطابق سات دن تک ان پر سخت گرمی اور دھوپ مسلط کردی، اس کے بعد بادلوں کا ایک سایہ آیا اور یہ سب گرمی اور دھوپ کی شدت سے بچنے کے لیے اس سائے تلے جمع ہوگئے اور کچھ سکھ کا سانس لیا۔ لیکن چند لمحے بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنے شروع ہوگئے، زمین زلزلے سے لرز اٹھی اور ایک سخت چنگھاڑ نے انہیں ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سلادیا۔ یوں تین قسم کا عذاب ان پر آیا اور یہ اس دن آیا جس دن ان پر بادل سایہ فگن ہوا، اس لیے فرمایا کہ سائے والے دن کے عذاب نے انہیں پکڑ لیا۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تین مقامات پر قوم شعیب (عليه السلام) کی ہلاکت کا ذکر کیا ہے اور تینوں جگہ موقع کی مناسبت سے الگ الگ عذاب کا ذکر کیا ہے۔ سورۂ اعراف ، 88 میں زلزلہ کا ذکر ہے، سورۂ ہود، 94 میں صيحة(چیخ) کا اور یہاں شعراء میں آسمان سے ٹکڑے گرانے کا۔ یعنی تین قسم کا عذاب اس قوم پر آیا۔

(190) یقیناً اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں کےاکثر مسلمان نہ تھے.

(191) اور یقیناً تیرا پروردگار البتہ وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ.

(192) اور بیشک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے.

(193) اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے.*
* کفار مکہ نے قرآن کےوحی الٰہی اور منزل من اللہ ہونے کا انکار کیا اور اسی بنا پر رسالت محمدیہ اور دعوت محمدیہ کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انبیا علیہم السلام کے واقعات بیان کرکے یہ واضح کیاکہ یہ قرآن یقیناً وحی الٰہی ہے اور محمد (صلى الله عليه وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ پیغمبر جو پڑھ سکتا نہ لکھ سکتا ہے۔ گزشتہ انبیا اور قوموں کے واقعات کس طرح بیان کرسکتا تھا؟ اس لیے یہ قرآن یقیناً اللہ رب العالمین ہی کی طرف سے نازل کردہ ہے جسے ایک امانت دار فرشتہ یعنی جبرائیل (عليه السلام) لے کر آئے۔

(194) آپ کے دل پر اترا ہے* کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں.**
* دل کا بطور خاص اس لیے ذکر فرمایا کہ حواس باطنہ میں دل ہی سب سے زیادہ ادراک او رحفظ کی قوت رکھتا ہے۔ **- یہ نزول قرآن کی علت ہے۔

(195) صاف عربی زبان میں ہے.

(196) اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکره ہے.*
* یعنی جس طرح پیغمبرآخرالزماں (صلى الله عليه وسلم) کے ظہور و بعثت کا اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کی صفات جمیلہ کا تذکرہ پچھلی کتابوں میں ہے، اسی طرح اس قرآن کے نزول کی خوشخبری بھی صحف سابقہ میں دی گئی تھی۔ ایک دوسرے معنی یہ کیے گئے ہیں کہ یہ قرآن مجید، بہ اعتبار ان احکام کے، جن پر تمام شریعتوں کا اتفاق رہا ہے، پچھلی کتابوں میں بھی موجود رہا ہے۔

(197) کیا انہیں یہ نشانی کافی نہیں کہ حقانیت قرآن کو تو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں.*
* کیونکہ ان کتابوں میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کا اور قرآن کا ذکر موجود ہے۔ یہ کفار مکہ، مذہبی معاملات میں یہود کی طرف رجوع کرتے تھے، اس اعتبار سے فرمایاکہ کیاان کا یہ جاننا اوربتلانا اس بات کی دلیل نہیں کہ محمد (صلى الله عليه وسلم) ،اللہ کے سچے رسول اور یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ پھر یہ یہود کی اس بات کو مانتے ہوئے پیغمبر پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟۔

(198) اور اگر ہم اسے کسی عجمی شخص پر نازل فرماتے.

(199) پس وه ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتا تو یہ اسے باور کرنے والے نہ ہوتے.*
* یعنی کسی عجمی زبان میں نازل کرتے تو یہ کہتے کہ یہ تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ جیسے حٰم السجدۃ۔ 44 میں ہے۔

(200) اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے.*
* یعنی سَلَكْنَاهُ میں ضمیر کا مرجع کفروتکذیب اور جحود و عناد ہے۔

(201) وه جب تک دردناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کرلیں ایمان نہ ﻻئیں گے.

(202) پس وه عذاب ان کو ناگہاں آجائے گا انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو گا.

(203) اس وقت کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت دی جائے گی؟*
* لیکن مشاہدۂ عذاب کے بعد مہلت نہیں دی جاتی، نہ اس وقت کی توبہ ہی مقبول ہے، «فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا» (المؤمن: 85)۔

(204) پس کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟*
* یہ اشارہ ہے ان کے مطالبے کی طرف جو اپنے پیغمبر سے کرتے رہے ہیں کہ اگر تو سچا ہےتو عذاب لے آ۔

(205) اچھا یہ بھی بتاؤ کہ اگر ہم نے انہیں کئی سال بھی فائده اٹھانے دیا.

(206) پھر انہیں وه عذاب آ لگا جن سے یہ دھمکائے جاتے تھے.

(207) تو جو کچھ بھی یہ برتتے رہے اس میں سے کچھ بھی فائده نہ پہنچا سکے گا.*
* یعنی اگر ہم انہیں مہلت دے دیں اور پھر انہیں اپنے عذاب کی گرفت میں لیں، تو کیا دنیا کا مال و متاع ان کے کچھ کام آئے گا؟ یعنی انہیں عذاب سے بچاسکے گا؟ نہیں، یقیناً نہیں۔ «وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ» (البقرة: 96) «وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى» (الليل: 11)۔

(208) ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا ہے مگر اسی حال میں کہ اس کے لیے ڈرانے والے تھے.

(209) نصیحت کے طور پر اور ہم ﻇلم کرنے والے نہیں ہیں.*
* یعنی ارسال رسل اور انذار کے بغیر اگر ہم کسی بستی کو ہلاک کردیتے تو یہ ظلم ہوتا، ہم نے ایسا ظلم نہیں کیا بلکہ عدل کے تقاضوں کے مطابق ہم نے پہلے ہر بستی میں رسول بھیجے، جنہوں نے اہل قریہ کو عذاب الٰہی سے ڈرایا اور اس کےبعد جب انہوں نے پیغمبر کی بات نہیں مانی، تو ہم نے انہیں ہلاک کیا۔ مضمون بنی اسرائیل: 15 اور قصص: 59 وغیرہ بھی بیان کیاگیا ہے۔

(210) اس قرآن کو شیطان نہیں ﻻئے.

(211) نہ وه اس کے قابل ہیں، نہ انہیں اس کی طاقت ہے.

(212) بلکہ وه تو سننے سے بھی محروم کردیے گئے ہیں.*
* ان آیات میں قرآن کی، شیطانی دخل اندازیوں سے،محفوظیت کا بیان ہے۔ ایک تو اس لیے کہ شیاطین کا قرآن لیکر نازل ہونا، ان کے لائق نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد شروفساد اور منکرات کی اشاعت ہے، جب کہ قرآن کا مقصد نیکی کا حکم اور فروغ اور منکرات کا سدباب ہے۔ گویا دونوں ایک دوسرے کی ضد اور باہم منافی ہیں۔ دوسرے، یہ کہ شیاطین اس کی طاقت بھی نہیں رکھتے، تیسرے، نزول قرآن کے وقت شیاطین اس کے سننے سے دور اور محروم رکھے گئے، آسمانوں پر ستاروں کو چوکیدار بنادیاگیا تھا اور جو بھی شیطان اوپر جاتا یہ ستارے اس پر برق خاطف بن کر گرتے اور بھسم کر دیتے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کو شیاطین سے بچانے کا خصوصی اہتمام فرمایا۔

(213) پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجائے.

(214) اپنے قریبی رشتہ والوں کو ڈرا دے.*
* پیغمبر کی دعوت صرف رشتے داروں کے لیے نہیں، بلکہ پوری قوم کے لیے ہوتی ہے اور نبی (صلى الله عليه وسلم) تو پوری نسل انسانی کے لیے ہادی اور رہبر بن کر آئے تھے۔ قریبی رشتے داروں کو دعوت ایمان، دعوت عام کے منافی نہیں، بلکہ اسی کا ایک حصہ یا اس کا ایک ترجیحی پہلو ہے۔ جس طرح حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے بھی سب سے پہلے اپنے باپ آزر کو توحید کی دعوت دی تھی۔ اس حکم کےبعد نبی (صلى الله عليه وسلم) صفاپہاڑی پر چڑھ گئے اور يَا صَبَاحَاهُ کہہ کر آواز دی۔ یہ کلمہ اس وقت بولا جاتا ہے جب دشمن اچانک حملہ کردے، اس کے ذریعے سے قوم کو خبردار کیا جاتا ہے۔ یہ کلمہ سن کر لوگ جمع ہوگئے، آپ نے قریش کے مختلف قبیلوں کے نام لے لے کر فرمایا، بتلاؤ اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر دشمن کا لشکر موجود ہے جو تم پر حملہ آور ہواچاہتا ہے، تو کیا تم مانو گے؟ سب نےکہا ہاں، یقیناً ہم تصدیق کریں گے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے نذیربنا کربھیجا ہے، میں تمہیں ایک سخت عذاب سے ڈراتا ہوں، اس پر ابو لہب نے کہا تَبًّا لَكَ أَمَا دَعَوْتَنَا إِلا لِهَذَا ”تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اسی لیے بلایا تھا؟“ اس کے جواب میں سورۂ تبت نازل ہوئی (صحيح بخاري، تفسير سورة المسد) آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اپنی بیٹی فاطمہ (رضی الله عنها) اور اپنی پھوپھی حضرت صفیہ (رضی الله عنها) کو بھی فرمایا، تم اللہ کے ہاں بچاؤ کا بندوبست کر لو، میں وہاں تمہارے کام نہیں آسکوں گا (صحيح مسلم كتاب الإيمان، باب وأنذر عشيرتك الأقربين)۔

(215) اس کے ساتھ فروتنی سے پیش آ، جو بھی ایمان ﻻنے واﻻ ہو کر تیری تابعداری کرے.

(216) اگر یہ لوگ تیری نافرمانی کریں تو تو اعلان کردے کہ میں ان کاموں سے بیزار ہوں جو تم کر رہے ہو.

(217) اپنا پورا بھروسہ غالب مہربان اللہ پر رکھ.

(218) جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے.

(219) اور سجده کرنے والوں کے درمیان تیرا گھومنا پھرنا بھی.*
* یعنی جب تو تنہا ہوتا ہے، تب بھی اللہ دیکھتا ہے اور جب لوگوں میں ہوتا ہے تب بھی۔

(220) وه بڑا ہی سننے واﻻ اور خوب ہی جاننے واﻻ ہے.

(221) کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں.

(222) وه ہر ایک جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں.*
* یعنی اس قرآن کے نزول میں شیطان کا کوئی دخل نہیں ہے، کیونکہ شیطان تو جھوٹوں اور گناہ گاروں (یعنی کاﮨنوں،نجومیوں وغیرہ) پر اترتے ہیں نہ کہ انبیا و صالحین پر۔

(223) (اچٹتی) ہوئی سنی سنائی پہنچا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں.*
* یعنی ایک آدھ بات، جو کسی طرح وہ سننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، ان کاہنوں کو آکر بتلادیتے ہیں، جن کے ساتھ وہ جھوٹی باتیں اور ملالیتے ہیں (جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے۔) ملاحظہ ہو (صحيح بخاري، كتاب التوحيد ، باب قراءة الفاجر والمنافق وبدء الخلق ، باب صفة إبليس وجنوده، صحيح مسلم، كتاب السلام باب تحريم الكهانة وإتيان الكهان)، «يُلْقُونَ السَّمْعَ» شیاطین آسمان سے سنی ہوئی بعض باتیں کاﮨنوں کو پہنچا دیتے ہیں، اس صورت میں سمع کے معنی مسموع کے ہوں گے۔ لیکن اگر اس کا مطلب حاسۂ سماعت (کان) ہے، تو مطلب ہوگا کہ شیاطین آسمانوں پر جاکر کان لگاکر چوری چھپے بعض باتیں سن آتےہیں اور پھر انہیں کاہنوں تک پہنچادیتے ہیں۔

(224) شاعروں کی پیروی وه کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں.

(225) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں.

(226) اور وه کہتے ہیں جو کرتے نہیں.*
* شاعروں کی اکثریت چونکہ ایسی ہوتی ہے کہ وہ مدح و ذم میں، اصول و ضابطے کے بجائے، ذاتی پسند و ناپسند کےمطابق اظہار رائے کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں غلو اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں اور شاعرانہ تخیلات میں کبھی ادھر اور کبھی ادھر بھٹکتے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ ان کے پیچھے لگنے والے بھی گمراہ ہیں۔ اسی قسم کے اشعار کے لیے حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے کہ ”پیٹ کو لہو پیپ سے بھر جانا، جو اسے خراب کردے، شعر سے بھرجانے سے بہتر ہے“۔ (ترمذی، ابواب الآداب و مسلم وغیرہ) یہاں اس کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا پیغمبر کاﮨﻦ ہے نہ شاعر۔ اس لیے کہ یہ دونوں ہی جھوٹے ہیں۔ چنانچہ دوسرےمقامات پر بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) کے شاعر ہونے کی نفی کی گئی ہے۔ مثلاً سورۂ یٰسین:69 ،سورۃ الحاقہ: 40 - 43۔

(227) سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے* اور نیک عمل کیے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا**، جنہوں نے ﻇلم کیا ہے وه بھی عنقریب جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں.***
* اس سے ان شاعروں کو مستثنیٰ فرما دیا گیا، جن کی شاعری صداقت اور حقائق پر مبنی ہے اور استثنا ایسے الفاظ سے فرمایا جن سے واضح ہو جاتا ہے کہ مومن، عمل صالح پر کاربند اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والا شاعر غلط شاعری، جس میں جھوٹ، غلو اور افراط و تفریط ہو، کر ہی نہیں سکتا۔ یہ ان ہی لوگوں کا کام ہے جو مومنانہ صفات سےعاری ہوں۔ **- یعنی ایسے مومن شاعر، ان کافر شعراء کا جواب دیتے ہیں، جس میں انہوں نے مسلمانوں کی ہجو (برائی) کی ہو۔ جس طرح حضرت حسان بن ثابت (رضي الله عنه) کافروں کی ہجویہ شاعری کا جواب دیا کرتے تھے اور خود نبی (صلى الله عليه وسلم) ان کو فرماتے کہ ”ان (کافروں) کی ہجو بیان کرو، جبرائیل (عليه السلام) بھی تمہارے ساتھ ہیں“۔ (صحيح بخاري، كتاب بدء الخلق، باب ذكر الملائكة، مسلم، فضائل حسان بن ثابت) اس سے معلوم ہوا کہ ایسی شاعری جائز ہے جس میں کذب و مبالغہ نہ ہو اور جس کے ذریعے سے مشرکین و کفار اور مبتدعین و اہل باطل کو جواب دیاجائے اور مسلک حق اور توحید و سنت کا اثبات کیاجائے۔ ***- یعنی أَيَّ مَرْجَع يَرْجِعُونَ یعنی کون سی جگہ وہ لوٹتے ہیں؟ اور وہ جہنم ہے۔ اس میں ظالموں کے لیے سخت وعید ہے۔ جس طرح حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے ”تم ظلم سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن اندھیروں کا باعث ہوگا“۔ (صحيح مسلم، كتاب البر، باب تحريم الظلم)۔

<     >