<     >  

34 - سورۂ سبأ ()

|

(1) تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وه سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے* آخرت میں بھی تعریف اسی کے لئے ہے**، وه (بڑی) حکمتوں واﻻ اور (پورا) خبردار ہے.
* یعنی اسی کی ملکیت اور تصرف میں ہے، اسی کا ارادہ اور فیصلہ اس میں نافذ ہوتا ہے۔ انسان کو جو نعمت بھی ملتی ہے، وہ اسی کی پیدا کردہ ہے اور اسی کا احسان ہے، اسی لئے آسمان وزمین کی ہر چیز کی تعریف دراصل ان نعمتوں پر اللہ ہی کی حمدوتعریف ہے جن سے اس نے اپنی مخلوق کو نوازا ہے۔ **- یہ تعریف قیامت والے دن اہل ایمان کریں گے مثلاً «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ» (سورة الزمر:74) «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا» (سورة الأعرا: 43) «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ» (فاطر: 34) وَغَيْرهَا مِنَ الآيَاتِ تاہم دنیا میں اللہ کی حمد وتعریف، عبادت ہے جس کا مکلف انسان کو بنایا گیا ہے اور آخرت میں یہ اہل ایمان کی روحانی خوراک ہوگی، جس سے انہیں لذت وفرحت محسوس ہوا کرے گی۔ (فتح القدیر)۔

(2) جو زمین میں جائے* اور جو اس سے نکلے جو آسمان سے اترے** اور جو چڑھ کر اس میں جائے*** وه سب سے باخبر ہے۔ اور وه مہربان نہایت بخشش واﻻ ہے.
* مثلاً بارش، خزانہ اور دفینہ وغیرہ۔ **- بارش، اولے، گرج، بجلی اور برکات الٰہی وغیرہ، نیز فرشتوں اور آسمانی کتابوں کا نزول۔ ***- یعنی فرشتے اور بندوں کے اعمال۔

(3) کفار کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ مجھے میرے رب کی قسم! جو عالم الغیب ہے کہ وه یقیناً تم پر آئے گی* اللہ تعالیٰ سے ایک ذرے کے برابر کی چیز بھی پوشیده نہیں** نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں بلکہ اس سے بھی چھوٹی اور بڑی چیز کھلی کتاب میں موجود ہے.***
* قسم بھی کھائی اور صیغہ بھی تاکید کا اور اس پر مزید لازم تاکید یعنی قیامت کیوں نہیں آئے گی؟ وہ تو بہرصورت یقیناً آئے گی۔ **- لا يَعْزُبُ، غائب اور پوشیدہ اور دور نہیں۔ یعنی جب آسمان وزمین کا کوئی ذرہ اس سے غائب اور پوشیدہ نہیں، تو پھر تمہارے اجزائے منتشرہ کو، جو مٹی میں مل گئے ہوں گے، جمع کرکے دوبارہ تمہیں زندہ کردینا کیوں ناممکن ہوگا۔ ***- یعنی وہ لوح محفوظ میں موجود اور درج ہے۔

(4) تاکہ وه ایمان والوں اور نیکوکاروں کو بھلائی عطا فرمائے*، یہی لوگ ہیں جن کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی ہے.
* یہ وقوع قیامت کی علت ہے یعنی قیامت اس لئے برپا ہوگی اور تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ اس لئے دوبارہ زندہ فرمائے گا کہ وہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کی جزا عطا فرمائے، کیونکہ جزا کے لئے ہی اس نے یہ دن رکھا ہے۔ اگر یہ یوم جزا نہ ہو تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نیک وبد دونوں یکساں ہیں۔ اور یہ بات عدل وانصاف کے قطعاً منافی اور بندوں بالخصوص نیکوں پر ظلم ہوگا۔ وَمَا رَبُّكَ بِظَلامٍ للْعَبِيدِ۔

(5) اور ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کی جنہوں نے* کوشش کی ہے یہ وه لوگ ہیں جن کے لئے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے.
- یعنی ہماری ان آیتوں کے بطلان اور تکذیب کی جو ہم نے اپنے پیغمبروں پر نازل کیں۔ مُعَاجِزِينَ، یہ سمجھتے ہوئے کہ ہم ان کی گرفت سے عاجز ہوں گے، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ مرنے کےبعد جب ہم مٹی میں مل جائیں گے تو ہم کس طرح دوبارہ زندہ ہو کر کسی کے سامنے اپنے آپ کئے دھرے کی جواب دہی کریں گے؟ ان کا یہ سمجھنا گویا اس بات کا اعلان تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمارا مواخذہ کرنے پر قادر ہی نہیں ہوگا، اس لئے قیامت کا خوف ہمیں کیوں ہو؟

(6) اور جنہیں علم ہے وه دیکھ لیں گے کہ جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے وه (سراسر) حق ہے* اور اللہ غالب خوبیوں والے کی راه کی رہبری کرتا ہے.**
* یہاں رویت سے مراد رویت قلبی یعنی علم یقینی ہے، محض رویت بصری (آنکھ کا دیکھنا) نہیں۔ اہل علم سے مراد صحابہ کرام (رضي الله عنهم) ، یا مومنین اہل کتاب یا تمام ہی مومنین ہیں یعنی اہل ایمان اس بات کو جانتے اور اس پر یقین رکھتے ہیں۔ **- یہ عطف ہےحق پر، یعنی وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اس اللہ کا راستہ ہے جو کائنات میں سب پر غالب ہے اور اپنی مخلوق میں محمود (قابل تعریف) ہے۔ اور وہ راستہ کیا ہے؟ توحید کا راستہ جس کی طرف تمام انبیا علیہم السلام اپنی اپنی قوموں کو دعوت دیتے رہے۔

(7) اور کافروں نے کہا* (آؤ) ہم تمہیں ایک ایسا شخص بتلائیں** جو تمہیں یہ خبر پہنچا رہا ہے*** کہ جب تم بالکل ہی ریزه ریزه ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے.****
* یہ اہل ایمان کے مقابلے میں منکرین کا آخرت کا قول ہے جو آپس میں انہوں نے ایک دوسرے سے کہا۔ **- اس سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ (صلى الله عليه وسلم) ہیں جو ان کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے تھے۔ ***- یعنی عجیب وغریب خبر، ناقابل فہم خبر۔ ****- یعنی مرنے کے بعد جب تم مٹی میں مل کر ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے، تمہاری ظاہری وجود ناپید ہوجائے گا، تمہیں قبروں سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور دوبارہ وہی شکل وصورت تمہیں عطا کردی جائے گی جس میں تم پہلے تھے۔ یہ گفتگو انہوں نے آپس میں استہزا اور مذاق کے طور پر کی۔

(8) (ہم نہیں کہہ سکتے) کہ خود اس نے (ہی) اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے یا اسے دیوانگی ہے* بلکہ (حقیقت یہ ہے) کہ آخرت پر یقین نہ رکھنے والے ہی عذاب میں اور دور کی گمراہی میں ہیں.**
* یعنی دو باتوں میں سے ایک بات تو ضرور ہے، کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے اور اللہ کی طرف سے وحی ورسالت کا دعویٰ، یہ اس کا اللہ پر افترا ہے۔ یا پھر اس کا دماغ چل گیا ہے اور دیوانگی میں ایسی باتیں کر رہا ہے جو غیر معقول ہیں۔ **- اللہ تعالیٰ نے فرمایا، بات اس طرح نہیں ہے، جس طرح یہ گمان کر رہے ہیں۔ بلکہ واقعہ یہ ہے عقل و فہم اور ادراک حقائق سے یہی لوگ قاصر ہیں، جس کی وجہ سے یہ آخرت پر ایمان لانے کے بجائے اس کا انکار کر رہے ہیں، جس کا نتیجہ آخرت کا دائمی عذاب ہے اور یہ آج ایسی گمراہی میں مبتلا ہیں جو حق سے غایت درجہ دور ہے۔

(9) کیا پس وه اپنے آگے پیچھے آسمان وزمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں*؟ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرادیں**، یقیناً اس میں پوری دلیل ہے ہر اس بندے کے لئے جو (دل سے) متوجہ ہو.
* یعنی اس پر غور وفکر نہیں کرتے؟ اللہ تعالیٰ ان کی زجر وتوبیخ کرتے ہوئے فرما رہا ہےکہ آخرت کا یہ انکار، آسمان وزمین کی پیدائش میں غوروفکر نہ کرنے کا نتیجہ ہے، ورنہ جو ذات آسمان جیسی چیز، جس کی بلندی اور وسعت ناقابل بیان ہے اور زمین جیسی چیز، جس کا طول وعرض بھی ناقابل فہم ہے، پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے لئے اپنی ہی پیدا کردہ چیز کا دوبارہ پیدا کردینا اور اسے دوبارہ اسی حالت میں لے آنا، جس میں وہ پہلے تھی، کیوں کر ناممکن ہے؟ **- یعنی یہ آیت دو باتوں پر مشتمل ہے، ایک اللہ کے کمال قدرت کا بیان جو ابھی مذکور ہوا، دوسری، کفار کے لئے تنبیہ وتہدید، کہ جو اللہ آسمان وزمین کی تخلیق پر اس طرح قادر ہے کہ ان پر اور ان کے مابین ہر چیز پر اس کا تصرف اور غلبہ ہے، وہ جب چاہے ان پر اپنا عذاب بھیج کر ان کو تباہ کرسکتا ہے۔ زمین میں دھنسا کر بھی، جس طرح قارون کو دھنسایا یا آسمان کے ٹکڑے گرا کر، جس طرح اصحاب الایکہ کو ہلاک کیا گیا۔

(10) اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا*، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی** (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کردیا.***
* یعنی نبوت کے ساتھ بادشاہت اور کئی امتیازی خوبیوں سے نوازا۔ **- ان میں سے ایک حسن صوت کی نعمت تھی، جب وہ اللہ کی تسبیح پڑھتے تو پتھر کے ٹھوس پہاڑ بھی تسبیح خوانی میں مصروف ہو جاتے، اڑتے پرندے ٹھہرجاتے اور زمزمہ خواں ہوجاتے اوّبی کے معنی ہیں تسبیح دہراؤ۔ یعنی پہاڑوں اور پرندوں کو ہم نے کہا، چنانچہ یہ بھی داود (عليه السلام) کے ساتھ مصروف تسبیح ہوجاتے وَالطَّيْرَ کا عطف یا جبال کے محل پر ہے۔ اس لئے کہ جبال تقدیراً منصوب ہے۔ اصل عبارت اسی طرح ہے نَادَيْنَا الْجِبَالَ وَالطِّيْرَ(ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو پکارا) یا پھر اس کا عطف فضلاً پر ہے اور معنی ہوں گے وَسَخَّرْنَا لَهُ الطَّيْر َ (اور ہم نے پرندے ان کے تابع کردیئے)۔ (فتح القدیر)۔ ***- یعنی لوہے کو آگ میں تپائے اور ہتھوڑی سے کوٹے بغیر، اسے موم، گوندھے ہوئے آٹے اور گیلی مٹی کی طرح، جس طرح چاہتے موڑ لیتے، بٹ لیتے اور جو چاہتے بنا لیتے۔

(11) کہ تو پوری پوری زرہیں بنا* اور جوڑوں میں اندازه رکھ** تم سب نیک کام کیا کرو***۔ (یقین مانو) کہ میں تمہارے اعمال دیکھ رہا ہوں.
* سَابِغَاتٍ محذوف موصوف کی صفت ہے دُرُوعًا سَابِغَاتٍ یعنی پوری لمبی زرہیں، جو لڑنے والے کے پورے جسم کو صحیح طریقے سے ڈھانک لیں اور اسے دشمن کے وار سے محفوظ رکھیں۔ **- تاکہ چھوٹی بڑی نہ ہوں، یا سخت یا نرم نہ ہوں یعنی کڑیوں کے جوڑنے میں کیل اتنے باریک نہ ہوں کہ جوڑ حرکت کرتے رہیں اور ان میں قرار وثبات نہ آئے اور نہ اتنے موٹے ہوں کہ اسے توڑ ہی ڈالیں یا جس سے حلقہ تنگ ہو جائے اور اسے پہنا نہ جاسکے۔ زرہ بافی کی صنعت کے بارے میں حضرت داود (عليه السلام) کو ہدایات دی گئیں۔ ***- یعنی ان نعمتوں کے بدلےمیں عمل صالح کا اہتمام کرو تاکہ میرا عملی شکر بھی ہوتا رہے۔ اس سےمعلوم ہوا کہ جس کو اللہ تعالیٰ دنیوی نعمتوں سے سرفراز فرمائے، اسے اسی حساب سے اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہیئے اور شکر میں بنیادی چیز یہی ہے کہ منعم کو راضی رکھنے کی بھرپور سعی کی جائے یعنی اس کی اطاعت کی جائے۔ اور نافرمانی سے بچا جائے۔

(12) اور ہم نے سلیمان کے لئے ہوا کو مسخر کردیا کہ صبح کی منزل اس کی مہینہ بھر کی ہوتی تھی اور شام کی منزل بھی* اور ہم نے ان کے لئے تانبے کا چشمہ بہا دیا**۔ اور اس کے رب کے حکم سے بعض جنات اس کی ماتحتی میں اس کے سامنے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو بھی ہمارے حکم سے سرتابی کرے ہم اسے بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزه چکھائیں گے.***
* یعنی حضرت سلیمان (عليه السلام) مع اعیان سلطنت اور لشکر، تخت پر بیٹھ جاتے، اور جدھر آپ کا حکم ہوتا ہوائیں اسے اتنی رفتار سے لے جاتیں کہ ایک مہینے جتنی مسافت، صبح سے دوپہر تک کی ایک منزل میں طے ہوجاتی اور پھر اسی طرح دوپہر سے رات تک، ایک مہینے جتنی مسافت طے ہوجاتی۔ اس طرح ایک دن میں دو مہینوں کی مسافت طے ہوجاتی۔ **- یعنی جس طرح حضرت داود (عليه السلام) کے لئےلوہا نرم کردیا گیا تھا، حضرت سلیمان (عليه السلام) کے لئے تانبے کا چشمہ ہم نے جاری کردیا تاکہ تانبے کی دھات سے وہ جو چاہیں، بنائیں۔ ***- اکثر مفسرین کے نزدیک یہ سزا قیامت والے دن دی جائے گی۔ لیکن بعض کے نزدیک یہ دنیوی سزا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ مقرر فرما دیا تھا جس کے ہاتھ میں آگ کا سونٹا ہوتا تھا۔ جو جن حضرت سلیمان (عليه السلام) کے حکم سے سرتابی کرتا، فرشتہ وہ سونٹا اسے مارتا، جس سے وہ جل کر بھسم ہوجاتا۔ (فتح القدیر)۔

(13) جو کچھ سلیمان چاہتے وه جنات تیار کردیتے مثلا قلعے اور مجسمے اور حوضوں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں*، اے آل داؤد اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو، میرے بندوں میں سے شکرگزار بندے کم ہی ہوتے ہیں.
* مَحَارِيبَ، مِحْرَابٌ کی جمع ہے، بلند جگہ یا اچھی عمارت، مطلب ہے بلند محلات، عالی شان عمارتیں یا مساجد ومعابد تَمَاثِيلَ، تِمْثَالٌ کی جمع ہے، تصویر۔ یہ تصویریں غیر حیوان چیزوں کی ہوتی تھیں، بعض کہتے ہیں کہ انبیا وصلحا کی تصاویر مسجدوں میں بنائی جاتی تھیں تاکہ انہیں دیکھ کر لوگ بھی عبادت کریں۔ یہ معنی اس صورت میں صحیح ہے جب تسلیم کیا جائے کہ حضرت سلیمان (عليه السلام) کی شریعت میں تصویر سازی کی اجازت تھی۔ جو صحیح نہیں۔ تاہم اسلام میں تو نہایت سختی کے ساتھ اس کی ممانعت ہے۔ جِفَانٌ، جَفْنَةٌ کی جمع ہے، لگن جَوَابٍ، جَابِيةٌ کی جمع ہے، حوض، جس میں پانی جمع کیا جاتا ہے۔ یعنی حوض جتنے بڑے بڑے لگن، قُدُورٌ دیگیں، رَاسِيَاتٌ جمع ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دیگیں پہاڑوں کو تراش کر بنائی جاتی تھیں۔ جنہیں ظاہر ہے اٹھا کر ادھر ادھر نہیں لے جایا جاسکتا تھا، اس میں بیک وقت ہزاروں افراد کا کھانا پک جاتا تھا۔ یہ سارے کام جنات کرتے تھے۔

(14) پھر جب ہم نے ان پر موت کا حکم بھیج دیا تو ان کی خبر جنات کو کسی نے نہ دی سوائے گھن کے کیڑے کے جو ان کی عصا کو کھا رہا تھا۔ پس جب (سلیمان) گر پڑے اس وقت جنوں نے جان لیا کہ اگر وه غیب دان ہوتے تو اس کے ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے.*
* حضرت سلیمان (عليه السلام) کے زمانے میں جنات کے بارے میں مشہور ہوگیا تھا کہ یہ غیب کی باتیں جانتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (عليه السلام) کی موت کے ذریعے سے اس عقیدے کے فساد کو واضح کردیا۔

(15) قوم سبا کے لئے اپنی بستیوں میں (قدرت الٰہی کی) نشانی تھی* ان کے دائیں بائیں دو باغ تھے** (ہم نے ان کو حکم دیا تھا کہ) اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ*** اور اس کا شکر ادا کرو****، یہ عمده شہر***** اور وه بخشنے واﻻ رب ہے.******
* سَبَأ وہی قوم تھی، جس کی ملکہ سبا مشہور ہے جو حضرت سلیمان (عليه السلام) کے زمانے میں مسلمان ہوگئی تھی۔ قوم ہی کے نام پر ملک نام بھی سبا تھا، آج کل یمن کے نام سے یہ علاقہ معروف ہے۔ یہ بڑا خوش حال ملک تھا، یہ ملک بری وبحری تجارت میں بھی ممتاز تھا اور زراعت وباغبانی میں بھی نمایاں۔ اور یہ دونوں ہی چیزیں کسی ملک اور قوم کی خوش حالی کا باعث ہوتی ہیں۔ اسی مال ودولت کی فراوانی کو یہاں قدرت الٰہی کی نشانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ **- کہتے ہیں کہ شہر کے دونوں طرف پہاڑ تھے، جن سے چشموں اور نالوں کا پانی بہہ بہہ کر شہر میں آتا تھا، ان کے حکمرانوں نے پہاڑوں کے درمیان پشتے تعمیر کرادیئے اور ان کے ساتھ باغات لگا دیئےگئے، جس سے پانی کا رخ بھی متعین ہوگیا اور باغوں کو بھی سیرابی کا ایک قدرتی ذریعہ میسر آگیا۔ ان ہی باغات کو، دائیں بائیں دو باغوں، سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں، جَنَّتَيْنِ سے دو باغ نہیں، بلکہ دائیں بائیں کی دو جہتیں مراد ہیں اور مطلب باغوں کی کثرت ہے کہ جدھر نظر اٹھا کر دیکھیں، باغات، ہریالی اور شادابی ہی نظر آتی تھی۔ (فتح القدیر)۔ ***- یہ ان کے پیغمبروں کے ذریعے سے کہلوایا گیا یا مطلب ان نعمتوں کا بیان ہے، جن سے ان کو نوازا گیا تھا۔ ****- یعنی منعم و محسن کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے اجتناب۔ *****- یعنی باغوں کی کثرت اور پھلوں کی فراوانی کی وجہ سے یہ شہر عمدہ ہے۔ کہتے ہیں کہ آب وہوا کی عمدگی کی وجہ سے یہ شہر مکھی، مچھر اور اس قسم کے دیگر موذی جانوروں سے بھی پاک تھا، واللہ اعلم۔ ******- یعنی اگر تم رب کا شکر کرتے رہو گے تو وہ تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ انسان توبہ کرتے رہیں تو پھر گناہ ہلاکت عام اور سلب انعام کا سبب نہیں بنتے، بلکہ اللہ تعالیٰ عفوودرگزر سے کام لیتا ہے۔

(16) لیکن انہوں نے روگردانی کی تو ہم نے ان پر زور کے سیلاب (کا پانی) بھیج دیا اور ہم نے ان کے (ہرے بھرے) باغوں کے بدلے دو (ایسے) باغ دیئے جو بدمزه میوؤں والے اور (بکثرت) جھاؤ اور کچھ بیری کے درختوں والے تھے.*
* یعنی انہوں نے پہاڑوں کے درمیان پشتے اور بند تعمیر کرکے پانی کی جو رکاوٹ کی تھی اور اسے زراعت وباغبانی کے کام میں لاتے تھے، ہم نے تند وتیز سیلاب کے ذریعے سے ان بندوں اور پشتوں کو توڑ ڈالا اور شاداب اور پھل دار باغوں کو ایسے باغوں سے بدل دیا جن میں صرف قدرتی جھاڑ جھنکاڑ ہوتے ہیں، جن میں اول تو کوئی پھل لگتا ہی نہیں اور کسی میں لگتا بھی ہے تو سخت کڑوا، کسیلا اور بدمزہ جنہیں کوئی کھا ہی نہیں سکتا۔ البتہ کچھ بیری کے درخت تھے جن میں بھی کانٹے زیادہ اور بیر کم تھے۔ عَرِمٌ، عَرِمَةٌ کی جمع ہے، پشتہ یا بند۔ یعنی ایسا زور کا پانی بھیجا جس نے اس بند میں شگاف ڈال دیا اور پانی شہر میں بھی آگیا، جس سے ان کے مکانات ڈوب گئے اور باغوں کو بھی اجاڑ کر ویران کردیا۔ یہ بند سدمارب کے نام سے مشہور ہے۔

(17) ہم نے ان کی ناشکری کا یہ بدلہ انہیں دیا۔ ہم (ایسی) سخت سزا بڑے بڑے ناشکروں ہی کو دیتے ہیں.

(18) اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی* چند بستیاں اور (آباد) رکھی تھیں جو برسرراه ﻇاہر تھیں، اور ان میں چلنے کی منزلیں مقرر کردی تھیں** ان میں راتوں اور دنوں کو بہ امن وامان چلتے پھرتے رہو.***
* برکت والی بستیوں سے مراد شام کی بستیاں ہیں۔ یعنی ہم نے ملک سبا (یمن) اور شام کے درمیان لب سڑک بستیاں آباد کی ہوئی تھیں، بعض نے ظَاهِرَةً کے معنی مُتَوَاصِلَةً، ایک دوسرے سے پیوست اور مسلسل کے کئے ہیں۔ مفسرین نے ان بستیوں کی تعداد 4 ہزار سات سو بتلائی ہے۔ یہ ان کی تجارتی شاہراہ تھی جو مسلسل آباد تھی، جس کی وجہ سے ایک تو ان کے کھانے پینے اور آرام کرنے کے لئے زاد راہ ساتھ لینے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ دوسرے، ویرانی کی وجہ سے لوٹ مار اور قتل وغارت کا جو اندیشہ ہوتا ہے، وہ نہیں ہوتا تھا۔ **- یعنی ایک آبادی سے دوسری آبادی کا فاصلہ متعین اور معلوم تھا، اور اس کے حساب سے وہ بہ آسانی اپنا سفر طے کرلیتے تھے۔ مثلاً صبح سفر کا آغاز کرتے تو دوپہر تک کسی آبادی اور قریے تک پہنچ جاتے، وہاں کھا پی کر قیلولہ کرتے اور پھر سرگرم سفر ہوجاتے تو رات کو کسی آبادی میں جاپہنچتے۔ ***- یہ ہر قسم کے خطرے سے محفوظ اور زاد راہ کی مشقت سے بےنیاز ہونے کا بیان ہے کہ رات اور دن کی جس گھڑی میں تم سفر کرنا چاہو، کرو، نہ جان ومال کا کوئی اندیشہ نہ راستے کے لئے سامان سفر ساتھ لینے کی ضرورت۔

(19) لیکن انہوں نے پھر کہا کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر دور دراز کردے* چونکہ خود انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنا برا کیا اس لئے ہم نے انہیں (گزشتہ) فسانوں کی صورت میں کردیا** اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے اڑا دیئے***۔ بلاشبہ ہر ایک صبروشکر کرنے والے کے لئے اس (ماجرے) میں بہت سی عبرتیں ہیں.
* یعنی جس طرح لوگ سفر کی صعوبتوں، خطرات اور موسم کی شدتوں کا تذکرہ کرتے ہیں، ہمارے سفر بھی اسی طرح دور دور کردے، مسلسل آبادیوں کے بجائے درمیان میں سنسان وویران جنگلات اور صحراوں سے ہمیں گزرنا پڑے، گرمیوں میں دھوپ کی شدت اور سردیوں میں یخ بستہ ہوائیں ہمیں پریشان کریں اور راستے میں بھوک اور پیاس کی سختیوں سے بچنے کے لئے ہمیں زاد راہ کا بھی انتظام کرنا پڑے۔ ان کی یہ دعا اسی طرح کی ہے، جیسے بنی اسرائیل نے من وسلویٰ اور دیگر سہولتوں کے مقابلے میں دالوں اور سبزیوں وغیرہ کا مطالبہ کیا تھا۔ یا پھر زبان حال سے ان کی یہ دعا تھی۔ **- یعنی انہیں اس طرح ناپید کیا کہ ان کی ہلاکت کا قصہ زبان زدخلائق ہوگیا۔ اور مجلسوں اور محفلوں کا موضوع گفتگو بن گیا۔ ***- یعنی انہیں متفرق اور منتشر کردیا، چنانچہ سبا میں آباد مشہور قبیلے مختلف جگہوں پر جاآباد ہوئے، کوئی یثرب ومکہ آیا، کوئی شام کے علاقے میں چلا گیا کوئی کہیں اور کوئی کہیں۔

(20) اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچا کر دکھایا یہ لوگ سب کے سب اس کے تابعدار بن گئے سوائے مومنوں کی ایک جماعت کے.

(21) شیطان کا ان پر کوئی زور (اور دباؤ) نہ تھا مگر اس لئے کہ ہم ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ﻇاہر کردیں ان لوگوں میں سے جو اس سے شک میں ہیں۔ اور آپ کا رب (ہر) ہر چیز پر نگہبان ہے.

(22) کہہ دیجیئے! کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے (سب) کو پکار لو*، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذره کا اختیار ہے** نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے*** نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے.****
* یعنی معبود ہونے کا۔ یہاں زَعَمْتُمْ کے دو مفعول محذوف ہیں۔ زَعَمْتُمُوهُمْ آلِهَةً، یعنی جن جن کو تم معبود گمان کرتے ہو۔ **- یعنی انہیں نہ خیر پر کوئی اختیار ہے نہ شر پر۔ کسی کو فائدہ پہنچانے کی قدرت ہے، نہ نقصان سے بچانے کی۔ آسمان وزمین کا ذکر عموم کے لئے ہے، کیونکہ تمام خارجی موجودات کے لئے یہی ظرف ہیں۔ ***- نہ پیدائش میں، نہ ملکیت میں اور نہ تصرف میں۔ ****- جو کسی معاملے میں بھی اللہ کی مدد کرتا ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی بلا شرکت غیرے تمام اختیارات کا ملک ہے اور کسی کے تعاون کے بغیر ہی سارے کام کرتا ہے۔

(23) شفاعت (سفارش) بھی اس کے پاس کچھ نفع نہیں دیتی بجز ان کے جن کے لئے اجازت ہوجائے*۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے تو پوچھتے ہیں تمہارے پرودگار نے کیا فرمایا؟ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا **اور وه بلند وباﻻ اور بہت بڑا ہے.
* (جن کے لئے اجازت ہوجائے) کا مطلب ہے انبیا اور ملائکہ وغیرہ یعنی یہی سفارش کرسکیں گے، کوئی اور نہیں۔ اس لئے کہ کسی اور کی سفارش فائدے مند ہی ہوگی، نہ انہیں اجازت ہی ہوگی۔ دوسرا مطلب ہے، مستحقین شفاعت۔ یعنی انبیا علیہم السلام وملائکہ اور صالحین صرف ان ہی کے حق میں سفارش کرسکیں گے جو مستحقین شفاعت ہوں گے کیوں کہ اللہ کی طرف سے ان ہی کے حق میں سفارش کرنے کی اجازت ہوگی، کسی اور کے لئے نہیں۔ (فتح القدیر) مطلب یہ ہوا کہ انبیا علیہم السلام، ملائکہ اور صالحین کے علاوہ وہاں کوئی سفارش نہیں کرسکے گا اور یہ حضرات بھی سفارش اہل ایمان گناہ گاروں کے لئے ہی کرسکیں گے، کافر ومشرک اور اللہ کے باغیوں کے لئے نہیں۔ قرآن کریم نے دوسرے مقام پر ان دونوں نکتوں کی وضاحت فرما دی ہے۔ «مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلا بِإِذْنِهِ» (البقرة: 255) اور «وَلا يَشْفَعُونَ إِلا لِمَنِ ارْتَضَى» (الأنبياء: 28)۔ **- اس کے مختلف تفسیریں کی گئی ہیں ۔ابن جریر اور ابن کثیر نے حدیث کے روشنی میں اس کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی امر کی بابت کلام (وحی) فرماتا ہے تو آسمان ہر موجود فرشتے ہیبت اور خوف سے کانپ اٹھتے ہیں اور ان پر بے ہوشی کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے ۔یوش آنے پر وہ پوچھتے ہیں تو عرش بردار فرشتے دوسرے فرشتوں کو؎ اور وہ اپنے سے نیچے والے فرشتوں کو بتلاتے ہیں اور اس طرح خبر پہلے آسمان کے فرشتوں تک پہنچ ھاتی ہے ۔(ابن کثیر )فزع میں سلب ماخذ ہے یعنی جب گبتاھٹ دور کع دی جاتی ہے۔

(24) پوچھیئے کہ تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی کون پہنچاتا ہے؟ (خود) جواب دیجیئے! کہ اللہ تعالیٰ۔ (سنو) ہم یا تم۔ یا تو یقیناً ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں ہیں؟*
* ظاہر بات ہے گمراہی پر وہی ہو گا جو ایسی چیزوں کو معبود سمجھتا ہے جن کا آسمان و زمین سے روزی پہنچانے میں کوئی حصہ نہیں ہے ،نہ وہ بارش برسا سکتے ہیں۔اس لئے حق پر یقینا اہل توحید ہی ہیں ،نہ کہ دونوں۔

(25) کہہ دیجیئے! کہ ہمارے کئے ہوئے گناہوں کی بابت تم سے کوئی سوال نہ کیا جائے گا نہ تمہارے اعمال کی بازپرس ہم سے کی جائے گی.

(26) انہیں خبر دے دیجیئے کہ ہم سب کو ہمارا رب جمع کرکے پھر ہم میں سچے فیصلے کردے گا*۔ وه فیصلے چکانے واﻻ ہے اور دانا.
* یعنی اس کے مطابق جزا دے گا ؎نیکوں کو ھنت میں اور بدوں کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔

(27) کہہ دیجیئے! کہ اچھا مجھے بھی تو انہیں دکھا دو جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہرا کر اس کے ساتھ ملا رہے ہو، ایسا ہرگز نہیں*، بلکہ وہی اللہ ہے غالب باحکمت.
* یعنی اس کا کوئی نظیر ہے نہ ہم سر، بلکہ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر کام اور قول میں حکمت ہے۔

(28) ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے ہاں مگر (یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بےعلم ہے.*
* اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک تو نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت عامہ کا بیان فرمایا ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کو پوری نسل انسانیت کا ہادی اور رہنما بنا کر بھیجا گیا ہے۔ دوسرا، یہ بیان فرمایا کہ اکثر لوگ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی خواہش اور کوشش کے باوجود ایمان سے محروم رہیں گے۔ ان دونوں باتوں کی وضاحت اور بھی دوسرے مقامات پر فرمائی ہے۔ مثلاً آپ (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت کے ضمن میں فرمایا، «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» (الأعراف: 158) «تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا» (سورة الفرقان:1) ایک حدیث میں آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ 1۔ مہینے کی مسافت پر دشمن کے دل میں میری دھاک بٹھانے سے میری مدد فرمائی گئی ہے۔ 2۔ تمام روئے زمین میرے لئے مسجد اور پاک ہے، جہاں بھی نماز کا وقت آجائے، میری امت وہاں نماز ادا کردے۔ 3۔ مال غنیمت میرے لئے حلال کردیا گیا، جو مجھ سے قبل کسی کے لئے حلال نہیں تھا۔ 4۔ مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے۔ 5۔ پہلے نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا، مجھے کائنات کے تمام انسانوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (صحيح بخاري ، كتاب التيمم، صحيح مسلم، كتاب المساجد) ایک اور حدیث میں فرمایا بُعِثْتُ إِلَى الأَحْمَرِ وَالأَسْوَدِ (صحيح مسلم ، كتاب المساجد) احمر اسود سے مراد بعض نے جن وانس اور بعض نے عرب وعجم لئے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں، دونوں ہی معنی صحیح ہیں۔ اسی طرح اکثریت کی بےعلمی اور گمراہی کی وضاحت فرمائی۔ «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» (سورة يوسف: 103) ”آپ (صلى الله عليه وسلم) کی خواہش کے باوجود اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے“ «وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ» (سورة الأنعام: 116) ”اگر آپ اہل زمین کی اکثریت کے پیچھے چلیں گے تو وہ آپ کو گمراہ کردیں گے“ جس کا مطلب یہی ہوا کہ اکثریت گمراہوں کی ہے۔

(29) پوچھتے ہیں کہ وه وعده ہے کب؟ سچے ہو تو بتا دو.*
* یہ بطور استہزا کے پوچھتے ہیں، کیوں کہ اس کا وقوع ان کے نزدیک مستبعد اور ناممکن تھا۔

(30) جواب دیجیئے کہ وعدے کا دن ٹھیک معین ہے جس سے ایک ساعت نہ تم پیچھے ہٹ سکتے ہو نہ آگے بڑھ سکتے ہو.*
* یعنی اللہ نے قیامت کا ایک دن مقرر کر رکھا ہے جس کا علم صرف اسی کو ہے، تاہم جب وہ وقت موعود آجائے گا تو ایک ساعت بھی آگے، پیچھے نہیں ہوگا۔ «إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاءَ لا يُؤَخَّرُ» (نوح:4)۔

(31) اور کافروں نے کہا کہ ہم ہرگز نہ تو اس قرآن کو مانیں نہ اس سے پہلے کی کتابوں کو*! اے دیکھنے والے کاش کہ تو ان ﻇالموں کو اس وقت دیکھتا جب کہ یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے** کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے*** اگر تم نہ ہوتے تو ہم تو مومن ہوتے.****
* ۔جیسے تورات، زبور اور انجیل وغیرہ، بعض نے بَيْنَ يَدَيْهِ سے مراد دار آخرت لیا ہے۔ اس میں کافروں کے عناد وطغیان کا بیان ہے کہ وہ تمام تر دلائل کے باوجود قرآن کریم اور دار آخرت پر ایمان لانے سے گریزاں ہیں **- یعنی دنیا میں یہ کفروشرک میں ایک دوسرے کے ساتھی اور اس ناطے سے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے تھے، لیکن آخرت میں یہ ایک دوسرے کے دشمن اور ایک دوسرے کو موردالزام بنائیں گے۔ ***- یعنی دنیا میں یہ لوگ، جو سوچے سمجھے بغیر، روش عام پر چلنے والے ہوتے ہیں، اپنے ان لیڈروں سے کہیں گے جن کے وہ دنیا میں پیروکار بنے رہے تھے۔ ****- یعنی تم ہی نے ہمیں پیغمبروں اور داعیان حق کے پیچھے چلنے سے روکے رکھا تھا، اگر تم اس طرح نہ کرتے تو ہم یقیناً ایمان والے ہوتے۔

(32) یہ بڑے لوگ ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس ہدایت آچکنے کے بعد ہم نے تمہیں اس سے روکا تھا؟ (نہیں) بلکہ تم (خود) ہی مجرم تھے.*
* یعنی ہمارے پاس کون سی طاقت تھی کہ ہم تمہیں ہدایت کے راستے سے روکتے، تم نے خود ہی اس پر غور نہیں کیا اور اپنی خواہشات کی وجہ سے ہی اسے قبول کرنے سے گریزاں رہے، اور آج مجرم ہمیں بنا رہے ہو؟ حالانکہ سب کچھ تم نے خود ہی اپنی مرضی سے کیا، اس لئے مجرم بھی تم خود ہی ہو نہ کہ ہم۔

(33) (اس کے جواب میں) یہ کمزور لوگ ان متکبروں سے کہیں گے، (نہیں نہیں) بلکہ دن رات مکروفریب سے ہمیں اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے شریک مقرر کرنے کا تمہارا حکم دینا ہماری بےایمانی کا باعﺚ ہوا*، اور عذاب کو دیکھتے ہی سب کے سب دل میں پشیمان ہو رہے ہوں گے**، اور کافروں کی گردنوں میں ہم طوق ڈال دیں گے*** انہیں صرف ان کے کئے کرائے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا.****
* یعنی ہم مجرم تو تب ہوتے، جب ہم اپنی مرضی سے پیغمبروں کی تکذیب کرتے، جب کہ واقعہ یہ ہے کہ تم رات دن ہمیں گمراہ کرنے پر اور اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کا شریک ٹھہرانے پر آمادہ کرتے رہے، جس سے بالآخر ہم تمہارے پیچھے لگ کر ایمان سے محروم رہے۔ **- یعنی ایک دوسرے پر الزام تراشی تو کریں گے لیکن دل میں دونوں ہی فریق اپنے اپنے کفر پر شرمندہ ہوں گے۔ لیکن شماتت اعدا کی وجہ سے ظاہر کرنے سے گریز کریں گے۔ ***- یعنی ایسی زنجیریں جو ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ باندھیں گی۔ ****- یعنی دونوں کو ان کے عملوں کی سزا ملے گی، لیڈروں کو ان کے مطابق، اور ان کے پیچھے چلنے والوں کو ان کے مطابق، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا «لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لا تَعْلَمُونَ» (الأعراف: 38) یعنی ”ہر ایک کو دگنا عذاب ہوگا“۔

(34) اور ہم تو جس بستی میں جو بھی آگاه کرنے واﻻ بھیجا وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ جس چیز کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کے ساتھ کفر کرنے* والے ہیں.
* یہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو تسلی دی جا رہی ہے کہ مکےکے روساء اور چودھری آپ (صلى الله عليه وسلم) پر ایمان نہیں لارہے ہیں اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کو ایذائیں پہنچا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر دور کے اکثر خوشحال لوگوں نے پیغمبروں کی تکذیب ہی کی ہے اور ہر پیغمبر پر ایمان لانے والے پہلے پہل معاشرے کے غریب اور نادار قسم کے لوگ ہی ہوتے تھے۔ جیسے حضرت نوح (عليه السلام) کی قوم نے اپنے پیغمبر سے کہا، «أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الأَرْذَلُونَ» (الشعراء: 111) ”کیا ہم تجھ پر ا یمان لائیں جب کہ تیرے پیروکار کمینے لوگ ہیں“۔ «وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ» (هود:27) دوسرے پیغمبروں کو بھی ان کی قوم نے یہی کہا، ملاحظہ ہو، سورۃ الاعراف: 75، الانعام: 133،53۔ سورۂ بنی اسرائیل:16، وغیرھا۔ مُتْرَفُونَ کے معنی ہیں، اصحاب ثروت وریاست۔

(35) اور کہا ہم مال واوﻻد میں بہت بڑھے ہوئے ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم عذاب دیئے جائیں.*
* یعنی جب اللہ نے ہمیں دنیا میں مال واولاد کی کثرت سے نوازا ہے، تو قیامت بھی اگر برپا ہوئی تو ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔ گویاانہوں نے دارآخرت کو بھی دنیا پر قیاس کیا کہ جس طرح دنیا میں کافر ومومن سب کو اللہ کی نعمتیں مل رہی ہیں، آخرت میں بھی اسی طرح ہوگا، حالانکہ آخرت تو دار الجزاء ہے، وہاں تو دنیا میں کئے گئے عملوں کی جزا ملنی ہے، اچھے عملوں کی جزا اچھی اور برے عملوں کی بری۔ جب کہ دنیا دارالامتحان ہے، یہاں اللہ تعالیٰ بطور آزمائش سب کو دنیاوی نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے، یا انہوں نے دنیاوی مال واسباب کی فراوانی کو رضائے الٰہی کا مظہر سمجھا، حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنے فرماں بردار بندوں کو سب سے زیادہ مال واولاد سے نوازتا۔

(36) کہہ دیجیئے! کہ میرا رب جس کے لئے چاہے روزی کشاده کردیتا ہے اور تنگ بھی کردیتا ہے*، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے.
* اس میں کفار کے مذکورہ مغالطے اور شبہے کا ازالہ کیا جا رہا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ کی رضا یا عدم رضا کی مظہر نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق اللہ کی حکمت ومشیت سے ہے۔ اس لئے وہ مال اس کو بھی دیتا ہے جس کو وہ پسند کرتا ہے اور اس کو بھی جس کو ناپسند کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے غنی کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے فقیر رکھتا ہے۔

(37) اور تمہارے مال اور اوﻻد ایسے نہیں کہ تمہیں ہمارے پاس (مرتبوں سے) قریب کردیں* ہاں جو ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں** ان کے لئے ان کے اعمال کا دوہرا اجر ہے*** اور وه نڈر و بےخوف ہو کر باﻻ خانوں میں رہیں گے.
* یعنی یہ مال اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ہمیں تم سے محبت ہے اور ہماری بارگاہ میں تمہیں خاص مقام حاصل ہے۔ **- یعنی ہماری محبت اور قرب حاصل کرنے کاذریﻌہ تو صرف ایمان اور عمل صالح ہے جس طرح حدیث میں فرمایا ”اللہ تعالیٰ تمہاری شکلیں اور تمہارے مال نہیں دیکھتا، وہ تو تمہارے دلوں اورعملوں کو دیکھتا ہے“۔ (صحيح مسلم، كتاب البر ، باب تحريم ظلم النفس) ***- بلکہ کئی کئی گنا، ایک نیکی کا اجر کم از کم دس گنا مزید سات سو گنا بلکہ اس سے زیادہ تک۔

(38) اور جو لوگ ہماری آیتوں کے مقابلے کی تگ ودو میں لگے رہتے ہیں یہی ہیں جو عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے.

(39) کہہ دیجیئے! کہ میرا رب اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے روزی کشاده کرتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ کردیتا ہے*، تم جو کچھ بھی اللہ کی راه میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا** اور وه سب سے بہتر روزی دینے واﻻ ہے.***
* پس وہ کبھی کافر کو بھی خوب مال دیتا ہے، لیکن کس لئے؟ استدراج کے طور پر، اور کبھی مومن کو تنگ دست رکھتا ہے، کس لئے؟ اس کے اجروثواب میں اضافے کے لئے۔ اس لئے مجردمال کی فراوانی اس کی رضا کی اور اس کی کمی، اس کی ناراضی کی دلیل نہیں ہے۔ یہ تکرار بطور تاکید کے ہے۔ **- إِخْلافٌ کے معنی ہیں، عوض اور بدلہ دینا۔ یہ بدلہ دنیا میں بھی ممکن ہے اور آخرت میں تو یقینی ہے۔ حدیث قدسی میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ «أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ» (صحيح بخاري سورة هود) ”تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“ (یعنی بدلہ دوں گا) دو فرشتے ہر روز اعلان کرتے ہیں، ایک کہتا ہے «اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا» ”اے اللہ! نہ خرچ کرنے والے کے مال کو ضائع کردے“ دوسرا کہتا ہے، «اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا» ”اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما۔ (البخاري، كتاب الزكاة، باب ، فأما من أعطى واتقى)۔ ***- کیونکہ ایک بندہ اگر کسی کو کچھ دیتا ہے تو اس کا یہ دینا اللہ تعالیٰ کی توفیق وتیسیر اور اس کی تقدیر سے ہی ہے۔ حقیقت میں دینے والا اس کا رازق نہیں ہے، جس طرح بچوں کا باپ، بچوں کا، یا بادشاہ اپنے لشکر کا کفیل کہلاتا ہے حالانکہ امیر اور مامور بچے اور بڑے سب کا رازق حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب کا خالق بھی ہے۔ اس لئے جو شخص اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے کسی کو کچھ دیتا ہے تو وہ ایسے مال میں تصرف کرتا ہے جو اللہ ہی نے اسے دیا ہے، پس درحقیقت رازق بھی اللہ ہی ہوا۔ تاہم یہ اس کا مزید فضل وکرم ہے کہ اس کے دیئے ہوئے مال میں اس کی مرضی کے مطابق تصرف (خرچ کرنے) پر وہ اجر وثواب بھی عطا فرماتا ہے۔

(40) اور ان سب کو اللہ اس دن جمع کرکے فرشتوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے.*
* یہ مشرکین کو ذلیل وخوار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا، جیسے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے بارے میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے بھی پوچھے گا ”کیا تونے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں (مریم) کو، اللہ کے سوا، معبود بنا لینا؟“ (المائدۃ: 116) حضرت عیسیٰ (عليه السلام) فرمائیں گے ”یا اللہ تو پاک ہے، جس کا مجھے حق نہیں تھا، وہ بات میں کیوں کر کہہ سکتا تھا؟“ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرشتوں سے بھی پوچھے گا، جیسا کہ سورۃ الفرقان (آیت 17) میں بھی گزرا کہ کیا یہ تمہارے کہنے پر تمہاری عبادت کرتے تھے؟

(41) وه کہیں گے تیری ذات پاک ہے اور ہمارا ولی تو تو ہے نہ کہ یہ* بلکہ یہ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے**، ان میں کے اکثر کا ان ہی پر ایمان تھا.
* یعنی فرشتے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کی طرح اللہ تعالی کی پاکیزگی بیان کر کے اظہار براءت کریں گے اور کہیں گے کہ ہم تو تیرے بندے ہیں اور تو ہمارا ولی ہے 'ہمارا ان سے کیا تعلق۔ **- جن سے مراد شیاطین ہیں، یعنی یہ اصل میں شیطانوں کے پجاری ہیں کیونکہ وہی ان کو بتوں کی عبادت پر لگاتے اور انہیں گمراہ کرتے تھے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا «إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلا إِنَاثًا وَإِنْ يَدْعُونَ إِلا شَيْطَانًا مَرِيدًا» (النساء: 117)۔

(42) پس آج تم میں سے کوئی (بھی) کسی کے لئے (بھی کسی قسم کے) نفع نقصان کا مالک نہ ہوگا*۔ اور ہم ﻇالموں** سے کہہ دیں گے کہ اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے رہے.
* یعنی دنیا میں تم یہ سمجھ کر ان کی عبادت کرتے تھے کہ یہ تمہیں فائدہ پہنچائیں گے، تمہاری سفارش کریں گے اور اللہ کے عذاب سے تمہیں نجات دلوائیں گے۔ جیسے آج بھی پیرپرستوں اور قبرپرستوں کا حال ہے لیکن، آج دیکھ لو کہ یہ لوگ کسی بات پر قادر نہیں۔ **- ظالموں سے مراد، غیر اللہ کے پجاری ہیں، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے اور مشرکین سب سے بڑے ظالم۔

(43) اور جب ان کے سامنے ہماری صاف صاف آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ایسا شخص ہے* جو تمہیں تمہارے باپ دادا کے معبودوں سے روک دینا چاہتا ہے۔ (اس کے سوا کوئی بات نہیں)، اور کہتے ہیں کہ یہ تو گھڑا ہوا جھوٹ ہے** اور حق ان کے پاس آچکا پھر بھی کافر یہی کہتے رہے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے.***
* شخص سے مراد، حضرت نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) ہیں۔ باپ دادا کا دین، ان کے نزدیک صحیح تھا، اس لئے انہوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کا (جرم) یہ بیان کیا کہ یہ تمہیں ان معبودوں سے روکنا چاہتا ہے جن کی تمہارے آبا عبادت کرتے رہے۔ **- اس دوسرے هذَا سے مراد قرآن کریم ہے، اسے انہوں نے تراشا ہوا بہتان یا گھڑا ہوا جھوٹ قرار دیا۔ ***- قرآن کو پہلے گھڑا ہوا جھوٹ کہا اور یہاں کھلا جادو۔ پہلے کا تعلق قرآن کے مفہوم ومطالب سے ہے اور دوسرے کا تعلق قرآن کے معجزانہ نظم واسلوب اور اعجازوبلاغت سے۔ (فتح القدیر)۔

(44) اور ان (مکہ والوں) کو نہ تو ہم نے کتابیں دے رکھی ہیں جنہیں یہ پڑھتے ہوں نہ ان کے پاس آپ سے پہلے کوئی آگاه کرنے واﻻ آیا.*
* اس لئے وہ آرزو کرتے تھے کہ ان کے پاس بھی کوئی پیغمبر آئے اور کوئی صحیفہ آسمانی نازل ہو۔ لیکن جب یہ چیزیں آئیں تو انکار کردیا۔

(45) اور ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی ہماری باتوں کو جھٹلایا تھا اور انہیں ہم نے جو دے رکھا تھا یہ تو اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے، پس انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا، (پھر دیکھ کہ) میرا عذاب کیسا (سخت) تھا.*
* یہ کفار مکہ کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم نے تکذیب وانکار کا جو راستہ اختیار کیا ہے۔ وہ نہایت خطرناک ہے۔ تم سے پچھلی امتیں بھی، اس راستے پر چل کر تباہ وبرباد ہوچکی ہیں۔ حالانکہ یہ امتیں مال ودولت، قوت وطاقت اور عمروں کے لحاظ سے تم سے بڑھ کر تھیں، تم تو ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچتے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکیں۔ اسی مضمون کو سورۂ احقاف کی آیت 26 میں بیان فرمایا گیا ہے۔

(46) کہہ دیجیئے! کہ میں تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے واسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر سوچو تو سہی، تمہارے اس رفیق کو کوئی جنون نہیں*، وه تو تمہیں ایک بڑے (سخت) عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے واﻻ ہے.**
* یعنی میں تمہیں تمہارے موجودہ طرزعمل سے ڈراتا ہوں اور ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تم ضد، اور انانیت چھوڑ کر صرف اللہ کے لئے ایک ایک دو دو ہو کر میری بابت سوچو کہ میری زندگی تمہارے اندر گزری ہے اوراب بھی جو دعوت میں دے رہا ہوں کیا اس میں کوئی ایسی بات ہے کہ جس سے اس بات کی نشاندہی ہو کہ میرے اندر دیوانگی ہے؟ تم اگر عصبیت اور خواہش نفس سے بالا ہو کر سوچو گے تو یقیناً تم سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے رفیق کے اندر کوئی دیوانگی نہیں ہے۔ **- یعنی وہ تو صرف تمہاری ہدایت کے لئے آیا ہے تاکہ تم اس عذاب شدید سے بچ جاؤ جو ہدایت کا راستہ نہ اپنانے کی وجہ سے تمہیں بھگتنا پڑے گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) ایک دن صفا پہاڑی پرچڑھ گئے اور فرمایا ”یاصباحاہ“ جسے سن کر قریش جمع ہوگئے، آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”بتلاؤ، اگر میں تمہیں خبردوں کہ دشمن صبح یا شام کو تم پر حملہ آور ہونے والا ہے، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟“ انہوں نے کہا (کیوں نہیں) آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”تو پھر سن لو کہ میں تمہیں سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں“ یہ سن کر ابولہب نے کہا تَبًّا لَكَ! أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا (تیرے لئے ہلاکت ہو، کیا اس لئے تونے ہمیں جمع کیا تھا؟) جس پر اللہ تعالیٰ نے سورۂ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ نازل فرمائی۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة سبأ)۔

(47) کہہ دیجیئے! کہ جو بدلہ میں تم سے مانگوں وه تمہارے لئے ہے میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے*۔ وه ہر چیز سے باخبر (اور مطلع) ہے.
* اس میں اپنی بےغرضی اور دنیا کے مال ومتاع سے بےرغبتی کا مزید اظہار فرما دیا تاکہ ان کے دلوں میں اگر یہ شک وشبہ پیدا ہو کہ اس دعوائے نبوت سے اس کا مقصد کہیں دنیا کمانا تو نہیں، تو وہ دور ہوجائے۔

(48) کہہ دیجیئے! کہ میرا رب حق (سچی وحی) نازل فرماتا ہے وه *ہر غیب کا جاننے واﻻ ہے.
* قَذَفَ کے معنی، تیر اندازی اور خشت باری کے بھی ہیں اور کلام کرنے کے بھی۔ یہاں اس کے دوسرے معنی ہی ہیں یعنی وہ حق کے ساتھ گفتگو فرماتا، اپنے رسولوں پر وحی نازل فرماتا اور ان کے ذریعے سے لوگوں کے لئے حق واضح فرماتا ہے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا «يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ» (المؤمن: 15) یعنی ”اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، فرشتے کے ذریعے سے اپنی وحی سے نوازتا ہے“۔

(49) کہہ دیجیئے کہ حق آچکا باطل نہ تو پہلے کچھ کرسکا ہے اور نہ کرسکے گا.*
* حق سے مراد قرآن اور باطل سے مراد کفرو شرک ہے۔ مطلب ہے اللہ کی طرف سے اللہ کا دین اور اس کا قرآن آگیا ہے، جس سے باطل مضمحل اور ختم ہوگیا ہے، اب وہ سراٹھانے کے قابل نہیں رہا، جس طرح فرمایا «بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ» (سورة الأنبياء: 18) حدیث میں آتا ہے کہ جس دن مکہ فتح ہوا، نبی (صلى الله عليه وسلم) خانہ کعبہ میں داخل ہوئے ، چاروں طرف بت نصب تھے، آپ (صلى الله عليه وسلم) کمان کی نوک سے ان بتوں کو مارتے جاتے اور یہ آیت اور سورۂ بنی اسرائیل کی آیت «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ» پڑھتے جاتے۔ (صحيح بخاري، كتاب الجهاد، باب إزالة الأصنام من حول الكعبة)۔

(50) کہہ دیجیئے کہ اگر میں بہک جاؤں تو میرے بہکنے (کا وبال) مجھ پر ہی ہے اور اگر میں راه ہدایت پر ہوں تو بہ سبب اس وحی کے جو میرا پروردگار مجھے کرتا* ہے وه بڑا ہی سننے واﻻ اور بہت ہی قریب ہے.**
* یعنی بھلائی سب اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالیٰ نے جو وحی اور حق مبین نازل فرمایا ہے، اس میں رشد وہدایت ہے، صحیح راستہ لوگوں کو اسی سے ملتا ہے۔ پس جو گمراہ ہوتا ہے، تو اس میں انسان کی اپنی ہی کوتاہی اور ہوائے نفس کا دخل ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رضي الله عنه) جب کسی سائل کے جواب میں اپنی طرف سے کچھ بیان فرماتے تو ساتھ کہتے ”أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيي، فَإِنْ يَكُنْ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، وَاللهُ وَرَسُولُهُ بَرِيئَانِ مِنْهُ“ (ابن كثير)۔ **- جس طرح حدیث میں فرمایا «إِنَّكُمْ لا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلا غَائِبًا ، إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا مُجِيبًا» (بخاري كتاب الدعاء ، باب الدعاء إذا علا عقبة)” تم بہری اور غائب ذات کو نہیں پکار رہے ہو بلکہ اس کو پکار رہے ہو جو سننے والا، قریب اور قبول کرنے والا ہے“۔

(51) اور اگر آپ (وه وقت) ملاحظہ کریں جب کہ یہ کفار گھبرائے پھریں گے پھر نکل بھاگنے کی کوئی صورت نہ ہوگی* اور قریب کی جگہ سے گرفتار کر لئے جائیں گے.
* فَلا فَوْتَ، کہیں بھاگ نہیں سکیں گے؟ کیونکہ وہ اللہ کی گرفت میں ہوں گے، یہ میدان محشر کا بیان ہے۔

(52) اس وقت کہیں گے کہ ہم اس قرآن پر ایمان ﻻئے لیکن اس قدر دور جگہ سے (مطلوب چیز) کیسے ہاتھ *آسکتی ہے.
* تَنَاوُشٌ کے معنی تناول یعنی پکڑنے کے ہیں یعنی اب آخرت میں انہیں ایمان کس طرح حاصل ہوسکتا ہے جب کہ دنیا میں اس سے گریز کرتے رہے گویا آخرت ایمان کے لئے، دنیا کےمقابلے میں دور کی جگہ ہے، جس طرح دور سےکسی چیز کو پکڑنا ممکن نہیں، آخرت میں ایمان لانے کی گنجائش نہیں۔

(53) اس سے پہلے تو انہوں نے اس سے کفر کیا تھا، اور دور دراز سے بن دیکھے ہی پھینکتے رہے.*
* یعنی اپنے گمان سے کہتے رہے کہ قیامت اور حساب کتاب نہیں۔ یا قرآن کے بارے میں کہتے رہے کہ یہ جادو، گھڑا ہوا جھوٹ اور پہلوں کی کہانیاں ہیں یا محمد (صلى الله عليه وسلم) کے بارے میں کہتے رہے کہ یہ جادوگر ہے، کاﮨﻦ ہے، شاعر ہے یا مجنون ہے۔ جب کہ کسی بات کی بھی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں تھی۔

(54) ان کی چاہتوں اور ان کے درمیان پرده حائل کردیا گیا* جیسے کہ اس سے پہلے بھی ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا**، وه بھی (ان ہی کی طرح) شک وتردد میں (پڑے ہوئے) تھے.***
* یعنی آخرت میں وہ چاہیں گے کہ ان کا ایمان قبول کرلیا جائے، عذاب سے ان کی نجات ہوجائے، لیکن ان کے درمیان اور ان کی اس خواہش کے درمیان پردہ حائل کردیا یعنی اس خواہش کو رد کردیا جائے گا۔ **- یعنی پچھلی امتوں کا ایمان اس وقت قبول نہیں کیا گیا جب وہ عذاب کے معائنے کے بعد ایمان لائیں۔ ***- اس لئے اب معائنہ عذاب کے بعد ان کا ایمان بھی کس طرح قبول ہوسکتا ہے؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ریب وشک سے بچو، جو شک کی حالت میں فوت ہوگا، اسی حالت میں اٹھے گا اور جو یقین پر مرے گا، قیامت والے دن یقین پر ہی اٹھے گا۔ (ابن کثیر)۔

<     >