<     >  

39 - سورۂ زُمر ()

|

(1) اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب باحکمت کی طرف سے ہے.

(2) یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ* نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے.**
* یعنی اس میں توحید ورسالت، معاد اور احکام وفرائض کا جو اثبات کیا گیا ہے، وہ سب حق ہے اور انہی کے ماننے اور اختیار کرنے میں انسان کی نجات ہے۔ **- دین کے معنی یہاں عبادت اور اطاعت کے ہیں اور اخلاص کا مطلب ہے صرف اللہ کی رضا کی نیت سے نیک عمل کرنا۔ آیت، نیت کے وجوب اور اس کے اخلاص پر دلیل ہے۔ حدیث میں بھی اخلاص نیت کی اہمیت یہ کہہ کر واضح کر دی گئی ہے کہ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے یعنی جو عمل خیر اللہ کی رضا کے لئے کیا جائے گا، (بشرطیکہ وہ سنت کے مطابق ہو) وہ مقبول اور جس عمل میں کسی اور جذبے کی آمیزش ہوگی، وہ نامقبول ہوگا۔

(3) خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے* اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں**، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا***۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا.****
* یہ اسی اخلاص عبادت کی تاکید ہے جس کا حکم اس سے پہلی آیت میں ہے کہ عبادت واطاعت صرف ایک اللہ ہی کا حق ہے، نہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا جائز ہے۔ نہ اطاعت ہی کا اس کے علاوہ کوئی حق دار ہے۔ البتہ رسول ﹲ کی اطاعت کو چونکہ خود اللہ نے اپنی ہی اطاعت قرار دیا ہے اس لئے رسول ﹲ کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے، کسی غیر کی نہیں۔ تاہم عبادت میں یہ بات بھی نہیں۔ اس لئے عبادت اللہ کے سوا، کسی بڑے سے بڑے رسول کی بھی جائز نہیں ہے۔ چہ جائیکہ عام افراد واشخاص کی، جنہیں لوگوں نے اپنے طور پر خدائی اختیارات کا حامل قرار دے رکھا ہے۔ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ اللہ کی طرف سے اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ **- اس سے واضح ہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ ہی کو خالق، رازق اور مدبر کائنات مانتے تھے۔ پھر وہ دوسروں کی عبادت کیوں کرتے تھے؟ اس کا جواب وہ یہ دیتے تھے جو قرآن نے یہاں نقل کیا ہے کہ شاید ان کے ذریعے سے ہمیں اللہ کا قرب حاصل ہو جائے یا اللہ کے ہاں یہ ہماری سفارش کر دیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا هَؤُلاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ (يونس: 18) یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ ***- کیوں کہ دنیا میں تو کوئی بھی یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ وہ شرک کا ارتکاب کر رہا ہے یا وہ حق پر نہیں ہے۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ فرمائے گا اور اس کے مطابق جزا وسزا دے گا۔ ****- یہ جھوٹ ہی ہے کہ ان معبودان باطلہ کے ذریعے سے ان کی اللہ تک رسائی ہو جائے گی یا یہ ان کی سفارش کریں گے اور اللہ کو چھوڑ کر بے اختیار لوگوں کو معبود سمجھنا بھی بہت بڑی ناشکری ہے۔ ایسے جھوٹوں اور ناشکروں کو ہدایت کس طرح نصیب ہو سکتی ہے؟

(4) اگر اللہ تعالیٰ کااراده اوﻻد ہی کا ہوتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا۔ (لیکن) وه تو پاک ہے، وه* وہی اللہ تعالیٰ ہے یگانہ اور قوت واﻻ.
* یعنی پھر اس کی اولاد لڑکیاں ہی کیوں ہوتیں؟ جس طرح کہ مشرکین کا عقیدہ تھا۔ بلکہ وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو پسند کرتا، وہ اس کی اولاد ہوتی، نہ کہ وہ جن کو وہ باور کراتے ہیں، لیکن وہ تو اس نقص سے پاک ہے۔ (ابن کثیر)۔

(5) نہایت اچھی تدبیر سے اس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا وه رات کو دن اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے* اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے۔ ہر ایک مقرره مدت تک چل رہا ہے یقین مانو کہ وہی زبردست اور گناہوں کا بخشنے واﻻ ہے.
* تَكْوِيرٌ کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز پر لپیٹ دینا، رات کو دن پر لپیٹ دینے کا مطلب، رات کا دن کو ڈھانپنا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی روشنی ختم ہو جائے اور دن کو رات پر لپیٹ دینے کا مطلب، دن کا رات کو ڈھانپنا ہے حتیٰ کہ اس کی تاریکی ختم ہو جائے۔ یہ وہی مطلب ہے جو يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ (الأعراف: 54) کا ہے۔

(6) اس نے تم سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے*، پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا** اور تمہارے لئے چوپایوں میں سے (آٹھ نر وماده) اتارے*** وه تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک بناوٹ کے بعد دوسری بناوٹ پر بناتا**** ہے تین تین اندھیروں***** میں، یہی اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے اسی کے لئے بادشاہت ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں بہک رہے ہو.******
* یعنی حضرت آدم (عليه السلام) سے، جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا اور اپنی طرف سے اس میں روح پھونکی تھی۔ **- یعنی حضرت حوا کو حضرت آدم (عليه السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا فرمایا اور یہ بھی اس کا کمال قدرت ہے کیونکہ حضرت حوا کے علاوہ کسی بھی عورت کی تخلیق، کسی آدمی کی پسلی سے نہیں ہوئی۔ یوں یہ تخلیق امر عادی کے خلاف اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ ***- یہ وہی چار قسم کے جانوروں کا بیان ہے بھیڑ، بکری، اونٹ، گائے جو نر اور مادہ مل کر آٹھ ہو جاتے ہیں، جن کا ذکر سورۂ انعام: آیت 143-144 میں گزر چکا ہے۔ أَنْزَلَ بِمَعْنَى خَلَقَ ہے یا ایک روایت کے مطابق، پہلے اللہ نے انہیں جنت میں پیدا فرمایا اور پھر انہیں نازل کیا، پس یہ انزال حقیقی ہوگا۔ یا أَنْزَلَ کا اطلاق مجازاً ہے اس لئے کہ یہ جانور چارے کے بغیر نہیں رہ سکتے اور چارہ کی روئیدگی کے لئے پانی ناگزیر ہے۔ جو آسمان سے ہی بارش کے ذریعے سے اترتا ہے۔ یوں گویا یہ چوپائے آسمان سے اتارے ہوئے ہیں، (فتح القدیر)۔ ****- یعنی رحم مادر میں مختلف اطوار سے گزارتا ہے، پہلے نطفہ، پھر عَلَقَةً پھر مُضْغَةً، پھر ہڈیوں کا ڈھانچہ، جس کے اوپر گوشت کا لباس۔ ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد انسان کامل تیار ہوتا ہے۔ *****- ایک ماں کے پیٹ کا اندھیرا، دوسرا رحم مادر کا اندھیرا اور تیسرا مشیمہ کا اندھیرا، وہ جھلی یا پردہ جس کے اندر بچہ لیٹا ہوا ہوتا ہے۔ ******- یا کیوں تم حق سے باطل کی طرف اور ہدایت سے گمراہی کی طرف پھر رہے ہو؟

(7) اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تم (سب سے) بے نیاز ہے*، اور وه اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وه اسے تمہارے لئے پسند کرے گا**۔ اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم سب کا لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔ تمہیں وه بتلا دے گا جو تم کرتے تھے۔ یقیناً وه دلوں تک کی باتوں کا واقف ہے.
- اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورۂ ابراہیم آیت 8 کا حاشیہ۔ **- یعنی کفر اگرچہ انسان اللہ کی مشیت ہی سے کرتا ہے، کیوں کہ اس کی مشیت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا نہ ہی ہو سکتا ہے۔ تاہم کفر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا۔ اس کی رضا حاصل کرنے کا راستہ تو شکر ہی کا راستہ ہے نہ کہ کفر کا۔ یعنی اس کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی رضا اور چیز ہے، جیسا کہ پہلے بھی اس نکتے کی وضاحت بعض مقامات پر کی جا چکی ہے۔ دیکھئے صفحہ۔ 109۔

(8) اور انسان کو جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وه خوب رجوع ہو کر اپنے رب کو پکارتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس سے نعمت عطا فرمادیتا ہے تو وه اس سے پہلے جو دعا کرتا تھا اسے (بالکل) بھول جاتا ہے* اور اللہ تعالیٰ کے شریک مقرر کرنے لگتا ہے جس سے (اوروں کو بھی) اس کی راه سے بہکائے، آپ کہہ دیجئے! کہ اپنے کفر کا فائده کچھ دن اور اٹھالو، (آخر) تو دوزخیوں میں ہونے واﻻ ہے.
* یا اس تکلیف کو بھول جاتا ہے جس کو دور کرنے کے لئے وہ دوسروں کو چھوڑ کر، اللہ سےدعا کرتاتھا یا اس رب کو بھول جاتا ہے، جسے وہ پکارﺗا تھا اور اس کے سامنے تضرع کرتا تھا، اور پھر شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

(9) بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو*، (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں**؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ (اپنے رب کی طرف سے).***
* مطلب یہ ہے کہ ایک یہ کافر ومشرک ہے جس کا یہ حال ہے جو ابھی مذکور ہوا اور دوسرا وہ شخص ہے جو تنگی اور خوشی میں، رات کی گھڑیاں اللہ کے سامنے عاجزی اور فرماں برداری کا اظہار کرتے ہوئے، سجود وقیام میں گزارتا ہے۔ آخرت کا خوف بھی اس کے دل میں ہے اور رب کی رحمت کا امیدوار بھی ہے۔ یعنی خوف ورجا دونوں کیفیتوں سے وہ سرشار ہے، جو اصل ایمان ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ نہیں، یقیناً نہیں۔ خوف ورجا کے بارے میں حدیث ہے، حضرت انس (رضي الله عنه) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس گئے جب کہ اس پر سکرات الموت کی کیفیت طاری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اپنے آپ کو کیسے پاتا ہے؟ اس نے کہا میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں کی وجہ سے ڈرتا بھی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس موقعے پر جس بندے کے دل میں یہ دونوں باتیں جمع ہو جائیں تواللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عطا فرما دیتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے اور اس سے اسے بچا لیتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے“۔ (ترمذي ، ابن ماجه، كتاب الزهد، باب ذكر الموت والاستعداد له)۔ **- یعنی وہ جو جانتے ہیں کہ اللہ نے ثواب وعقاب کا جو وعدہ کیا ہے، وہ حق ہے اور وہ جو اس بات کو نہیں جانتے۔ یہ دونوں برابر نہیں۔ ایک عالم ہے اور ایک جاہل۔ جس طرح علم وجہل میں فرق ہے، اسی طرح عالم وجاہل برابر نہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عالم وغیر عالم کی مثال سے یہ سمجھانا مقصود ہو کہ جس طرح یہ دونوں برابر نہیں، اللہ کا فرماں بردار اور اس کا نافرمان، دونوں برابر نہیں۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ عالم سے مراد وہ شخص ہےجو علم کے مطابق عمل بھی کرتا ہے۔ کیوں کہ وہی علم سے فائدہ حاصل کرنے والا ہے اور جو عمل نہیں کرتا وہ گویا ایسے ہی ہے کہ اسے علم ہی نہیں ہے۔ اس اعتبار سے یہ عامل اور غیر عامل کی مثال ہے کہ یہ دونوں برابر نہیں۔ ***- اور یہ اہل ایمان ہی ہیں، نہ کہ کفار۔ گو وہ اپنے آپ کو صاحب دانش وبصیرت ہی سمجھتے ہوں۔ لیکن جب وہ اپنی عقل ودانش کو استعمال کرکے غور وتدبر ہی نہیں کرتے اور عبرت ونصیحت ہی حاصل نہیں کرتے تو ایسے ہی ہے گویا وہ چوپایوں کی طرح عقل ودانش سےمحروم ہیں۔

(10) کہہ دو کہ اے میرے ایمان والے بندو! اپنے رب سے ڈرتے رہو*، جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیک بدلہ ہے** اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشاده ہے*** صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بےشمار اجر دیا جاتا ہے.****
* اس کی اطاعت کرکے، معاصی سے اجتناب کرکے اور عبادت واطاعت کو اس کے لئے خالص کرکے۔ **- یہ تقویٰ کے فوائد ہیں۔ نیک بدلے سے مراد جنت اور اس کی ابدی نعمتیں ہیں۔ بعض فِي هَذِهِ الدُّنْيَا کو حَسَنَةٌ سے متعلق مان کر ترجمہ کرتے ہیں جو نیکی کرتے ہیں، ان کے لئے دنیا میں نیک بدلہ ہے یعنی اللہ انہیں دنیا میں صحت وعافیت، کامیابی اور غنیمت وغیرہ عطا فرماتا ہے۔ لیکن پہلا مفہوم ہی زیادہ صحیح ہے۔ ***- یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اگر اپنے وطن میں ایمان وتقویٰ پر عمل مشکل ہو، تو وہاں رہنا پسندیدہ نہیں، بلکہ وہاں سے ہجرت اختیار کرکے ایسے علاقے میں چلا جانا چاہئیے جہاں انسان احکام الٰہی کے مطابق زندگی گزار سکے اور جہاں ایمان وتقویٰ کی راہ میں رکاوٹ نہ ہو۔ ****- اسی طرح ایمان وتقویٰ کی راہ میں مشکلات بھی ناگزیر اور شہوات ولذات نفس کی قربانی بھی لابدی ہے، جس کے لئے صبر کی ضرورت ہے۔ اس لئے صابرین کی فضیلت بھی بیان کر دی گئی ہے، کہ ان کو ان کے صبر کے بدلے میں اس طرح پورا پورا اجر دیا جائے گا کہ اسے حساب کے پیمانوں سے ناپنا ممکن ہی نہیں ہوگا۔ یعنی ان کا اجر غیر متناہی ہوگا۔ کیوں کہ جس چیز کا حساب ممکن ہو، اس کی تو ایک حد ہوتی ہے اور جس کی کوئی حد اور انتہا نہ ہو، وہ وہی ہوتی ہے جس کو شمار کرنا ممکن نہ ہو۔ صبر کی یہ وہ عظیم فضیلت ہے جو ہر مسلمان کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ اس لئے کہ جزع فزع اور بے صبری سے نازل شدہ مصیبت ٹل نہیں جاتی، جس خیر اور فائدے سے محرومی ہوگئی ہے، وہ حاصل نہیں ہو جاتا اور جو ناگوار صورت حال پیش آچکی ہوتی ہے، اس کا اندفاع ممکن نہیں۔ جب یہ بات ہے تو انسان صبر کرکے وہ اجر عظیم کیوں نہ حاصل کرے جو صابرین کے لئے اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔

(11) آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے عبادت کو خالص کر لوں.

(12) اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا فرماں بردار بن جاؤں.*
* پہلا اس معنی میں کہ آبائی دین کی مخالفت کرکے توحید کی دعوت سب سے پہلے آپ ہی نے پیش کی۔

(13) کہہ دیجئے! کہ مجھے تو اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے بڑے دن کے عذاب کا خوف لگتا ہے.

(14) کہہ دیجئے! کہ میں تو خالص کر کے صرف اپنے رب ہی کی عبادت کرتا ہوں.

(15) تم اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرتے رہو کہہ دیجئے! کہ حقیقی زیاں کار وه ہیں جو اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو قیامت کے دن نقصان میں ڈال دیں گے، یاد رکھو کہ کھلم کھلا نقصان یہی ہے.

(16) انہیں نیچے اوپر سے آگ کے (شعلے مثل) سائبان (کے) ڈھانک رہے ہوں گے*۔ یہی (عذاب) ہے جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے**، اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرتے رہو.
* ظُلَلٌ، ظُلَّةٌ کی جمع ہے، سایہ۔ یہاں اطباق النار مراد ہیں، یعنی ان کے اوپر نیچے آگ کے طبق ہوں گے، جو ان پر بھڑک رہے ہوں گے۔ (فتح القدیر)۔ **- یعنی یہی مذکور خسران مبین اور عذاب ظلل ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تاکہ وہ اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کرکے اس انجام بد سے بچ جائیں۔

(17) اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وه خوش خبری کے مستحق ہیں، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے.

(18) جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جو بہترین بات ہو* اس کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور یہی عقلمند بھی ہیں.**
* أَحْسَنُ سے مراد محکم اور پختہ بات، یا مامورات میں سے سب سے اچھی بات، یا عزیمت ورخصت میں سے عزیمت یا عقوبت کے مقابلے میں عفو ودرگزر اختیار کرتے ہیں۔ **- کیوں کہ انہوں نے اپنی عقل سے فائدہ اٹھایا ہے، جب کہ دوسروں نے اپنی عقلوں سے فائدہ نہیں اٹھایا۔

(19) بھلا جس شخص پر عذاب کی بات ﺛابت ہو چکی ہے*، تو کیا آپ اسے جو دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں؟**
* یعنی قضا وتقدیر کی رو سے اس کا استحقاق عذاب ثابت ہو چکا ہے، اس طرح کہ کفر وظلم اور جرم وعدوان میں وہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا، جہاں سے اس کی واپسی ممکن نہیں رہی۔ جیسے ابوجہل اور عاص بن وائل وغیرہ۔ اور گناہوں نے اس کو پوری طرح گھیر لیا اور وہ جہنمی ہوگیا۔ **- نبی ﹲ چونکہ اس بات کی شدید خواہش رکھتےتھے کہ آپ کی قوم کے سب لوگ ایمان لے آئیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﹲ کو تسلی دی اور آپ کو بتلایا کہ آپ کی خواہش اپنی جگہ بالکل صحیح اور بجا ہے لیکن جس پر اس کی تقدیر غالب آگئی اور اللہ کا کلمہ اس کے حق میں ثابت ہوگیا، اسے آپ جہنم کی آگ سے بچانے پرقادر نہیں ہیں۔

(20) ہاں وه لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے باﻻ خانے ہیں جن کے اوپر بھی بنے بنائے باﻻ خانے ہیں* (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ رب کا وعده ہے** اور وه وعده خلافی نہیں کرتا.
* اس کا مطلب ہے کہ جنت میں درجات ہوں گے، ایک کے اوپر ایک۔ جس طرح یہاں کثیرالمنازل عمارتیں ہیں، جنت میں بھی درجات کے حساب سے ایک دوسرے کے اوپر بالا خانے ہوں گے، جن کے درمیان سے اہل جنت کی خواہش کے مطابق دودھ، شہد، پانی اور شراب کی نہریں چل رہی ہوں گی۔ **- جو اس نے اپنے مومن بندوں سے کیا ہے اور جو یقیناً پورا ہوگا، کہ اللہ سے وعدہ خلافی ممکن نہیں۔

(21) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اسے زمین کی سوتوں میں پہنچاتا* ہے، پھر اسی کے ذریعہ سے مختلف قسم کی کھیتیاں اگاتا** ہے پھر وه خشک ہو جاتی ہیں اور آپ انہیں زرد رنگ دیکھتے ہیں پھر انہیں ریزه ریزه کر دیتا ہے***، اس میں عقل مندوں کے لئے بہت زیاده نصیحت ہے.****
* يَنَابِيعُ يَنْبُوعٌ کی جمع ہے، سوتے، چشمے، یعنی بارش کے ذریعے سےپانی آسمان سےاترتا ہے، پھر وہ زمین میں جذب ہو جاتا ہے اور پھر چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا تالابوں اور نہروں میں جمع ہو جاتا ہے۔ **- یعنی اس پانی سے، جو ایک ہوتا ہے، انواع واقسام کی چیزیں پیدا فرماتا ہے، جن کا رنگ، ذائقہ، خوشبو ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ ***- یعنی شادابی اور تروتازگی کے بعد وہ کھیتیاں سوکھ جاتی اور زرد ہو جاتی ہیں اور پھر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہیں۔ جس طرح لکڑی کی ٹہنیاں خشک ہو کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ****- یعنی اہل دانش اس سے سمجھ لیتے ہیں کہ دنیا کی مثال بھی اسی طرح ہے، وہ بہت جلد زوال وفنا سے ہمکنار ہو جائے گی۔ اس کی رونق وبہجت، اس کی شادابی وزینت اور اس کی لذتیں اور آسائشیں عارضی ہیں، جن سے انسان کو دل نہیں لگانا چاہئیے۔ بلکہ اس موت کی تیاری میں مشغول رہنا چاہئیے جس کے بعد کی زندگی دائمی ہے، جسے زوال نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ قرآن اور اہل ایمان کے سینوں کی مثال ہے اور مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے قرآن اتارا، جسے وہ مومنوں کے دلوں میں داخل فرماتا ہے، پھر اس کے ذریعے سے دین باہر نکلتا ہے جو ایک دوسرے سے بہتر ہوتا ہے، پس مومن تو ایمان ویقین میں زیادہ ہو جاتا ہے اور جس کے دل میں روگ ہوتا ہے، وہ اس طرح خشک ہو جاتا ہے جس طرح کھیتی خشک ہو جاتی ہے۔(فتح القدیر)۔

(22) کیا وه شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نےاسلام کے لئے کھول دیا ہے پس وه اپنے پروردگار کی طرف سے ایک نور پر ہے* اور ہلاکی ہے ان پر جن کے دل یاد الٰہی سے (اﺛر نہیں لیتے بلکہ) سخت ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں.
* یعنی جس کو قبول حق اور خیر کا راستہ اپنانے کی توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل جائے پس وہ اس شرح صدر کی وجہ سے رب کی روشنی پر ہو، کیا یہ اس جیسا ہو سکتا ہے جس کا دل اسلام کے لئے سخت اور اس کا سینہ تنگ ہو اور وہ گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹک رہاہو۔

(23) اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے*، جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں** آخر میں ان کے جسم اور دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں***، یہ ہے اللہ تعالیٰ کی ہدایت جس کے ذریعہ جسے چاہے راه راست پر لگا دیتا ہے۔ اور جسے اللہ تعالیٰ ہی راه بھلا دے اس کا ہادی کوئی نہیں.
* أَحْسَنُ الْحَدِيثِ سے مراد قرآن مجید ہے، ملتی جلتی کا مطلب، اس کے سارے حصےحسن کلام، اعجازوبلاغت، صحت معانی وغیرہ خوبیوں میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یا یہ بھی سابقہ کتب آسمانی سے ملتا ہے یعنی ان کی مشابہ ہے۔ مثانی، جس میں قصص وواقعات اور مواعظ واحکام کو بار بار دہرایا گیا ہے۔ **- کیونکہ وہ ان وعیدوں کو اور تخویف وتہدید کو سمجھتے ہیں جو نافرمانوں کے لئے اس میں ہے۔ ***- یعنی جب اللہ کی رحمت اور اس کے لطف وکرم کی امید ان کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے تو ان کے اندر سوز وگداز پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اللہ کے ذکر میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ حضرت قتادہ (رضي الله عنه) فرماتے ہیں کہ اس میں اولیاء اللہ کی صفت بیان کی گئی ہے کہ اللہ کے خوف سے ان کے دل کانﭗ اٹھتے، ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں اور ان کے دلوں کو اللہ کے ذکر سے اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ وہ مدہوش اور حواس باختہ ہو جائیں اور عقل و ہوش باقی نہ رہے، کیونکہ یہ بدعتیوں کی صفت ہے اور اس میں شیطان کا دخل ہوتا ہے۔ (ابن کثیر) جیسے آج بھی بدعتیوں کی قوالی میں اس طرح کی شیطانی حرکتیں عام ہیں، جسے وہ وجد وحال یا سکر ومستی سے تعبیر کرتے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں، اہل ایمان کا معاملہ اس بارے میں کافروں سے بوجوہ مختلف ہے۔ ایک یہ کہ اہل ایمان کا سماع، قرآن کریم کی تلاوت ہے، جب کہ کفار کا سماع، بے حیا مغنیات کی آوازوں میں گانا بجانا، سننا ہے۔ (جیسے اہل بدعت کا سماع مشرکانہ غلو پر مبنی قوالیاں اور نعتیں ہیں) دوسرے، یہ کہ اہل ایمان قرآن سن کر ادب وخشیت سے رجا ومحبت سے اور علم وفہم سے رو پڑتے ہیں اور سجدہ ریز ہو جاتے ہیں، جب کہ کفار شور کرتے اور کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں۔ تیسرے، اہل ایمان سماع قرآن کے وقت ادب وتواضع اختیار کرتے ہیں، جیسے صحابہ کرام کی عادت مبارکہ تھی، جس سے ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے اور ان کے دل اللہ کی طرف جھک جاتے تھے۔ (ابن کثیر)۔

(24) بھلا جو شخص قیامت کے دن کے بدترین عذاب کی سپر (ڈھال) اپنے منھ کو بنائے گا۔ (ایسے) ﻇالموں سے کہا جائے گا کہ اپنے کیے کا (وبال) چکھو.*
* یعنی کیا یہ شخص، اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو قیامت والے دن بالکل بے خوف اور امن میں ہوگا؟ یعنی محذوف عبارت ملا کر اس کا یہ مفہوم ہوگا۔

(25) ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا، پھر ان پر وہاں سے عذاب آپڑا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا.*
* اور انہیں ان عذابوں سے کوئی نہیں بچا سکا۔

(26) اور اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگانی دنیا میں رسوائی کا مزه چکھایا* اور ابھی آخرت کا تو بڑا بھاری عذاب ہے کاش کہ یہ لوگ سمجھ لیں.
* یہ کفار مکہ کو تنبیہ ہے کہ گزشتہ قوموں نے پیغمبروں کو جھٹلایا، تو ان کا یہ حال ہوا، اور تم اشرف الرسل اور افضل الناس کی تکذیب کر رہے ہو، تمہیں بھی اس تکذیب کےانجام سے ڈرنا چاہیئے۔

(27) اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر قسم کی مثالیں بیان کر دیں ہیں کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کر لیں.*
* یعنی لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں باتیں بیٹھ جائیں اور وہ نصیحت حاصل کریں۔

(28) قرآن ہے عربی میں جس میں کوئی کجی نہیں، ہو سکتا ہے کہ وه پرہیزگاری اختیار کر لیں.*
* یعنی قرآن واضح عربی زبان میں ہے، جس میں کوئی کجی، انحراف اور التباس نہیں ہے تاکہ لوگ اس میں بیان کردہ وعیدوں سے ڈریں اور اس میں بیان کیے گئے وعدوں کا مصداق بننے کے لئے عمل کریں۔

(29) اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے ایک وه شخص جس میں بہت سے باہم ضد رکھنے والے ساجھی ہیں، اور دوسرا وه شخص جو صرف ایک ہی کا (غلام) ہے، کیا یہ دونوں صفت میں یکساں ہیں*، اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریف ہے**۔ بات یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ سمجھتے نہیں.***
* اس میں مشرک (اللہ کا شریک ٹھہرانے والے) اور مخلص (صرف ایک اللہ کے لئے عبادت کرنے والے) کی مثال بیان کی گئی ہے۔ یعنی ایک غلام ہے جو کئی شخصوں کے درمیان مشترکہ ہے، چنانچہ وہ آپس میں جھگڑتے رہتے ہیں اور ایک غلام ہے، جس کا مالک صرف ایک ہی شخص ہے، اس کی ملکیت میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں غلام برابر ہو سکتے ہیں؟ نہیں، یقیناً نہیں۔ اسی طرح وہ مشرک جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی بھی عبادت کرتا ہے۔ اور وہ مخلص مومن، جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ برابر نہیں ہو سکتے۔ **- اس بات ہر کہ اس نے حجت قائم کر دی ۔ ***- اسی لئے اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔

(30) یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں.

(31) پھر تم سب کے سب قیامت والے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے.*
* یعنی اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ بھی اور آپ کے مخالف بھی، سب موت سے ہم کنار ہوکر اس دنیا سے ہمارےپاس آخرت میں آئیں گے۔ دنیا میں تو توحید اور شرک کا فیصلہ تمہارے درمیان نہیں ہو سکا اور تم اس بارے میں جھگڑتے ہی رہے۔ لیکن یہاں میں اس کا فیصلہ کروں گا اور مخلص موحدین کو جنت میں اور مشرکین وجاحدین اور مکذبین کو جہنم میں داخل کروں گا۔ اس آیت سے بھی وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اثبات ہوتا ہے، جس طرح کہ سورۃ آل عمران کی آیت 144 سے بھی ہوتا ہے اور انہی آیات سے استدلال کرتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) نے بھی لوگوں میں آپ ﹲ کی موت کا تحقق فرمایا تھا۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ کو برزخ میں بالکل اسی طرح زندگی حاصل ہےجس طرح دنیا میں حاصل تھی، قرآن کی نصوص کے خلاف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی دیگر انسانوں ہی کی طرح موت طاری ہوئی، اسی لئے آپ کو دفن کیا گیا، قبر میں آپ کو برزخی زندگی تو یقیناً حاصل ہے، جس کی کیفیت کا ہمیں علم نہیں، لیکن دوبارہ قبر میں آپ کودنیوی زندگی عطا نہیں کی گئی۔ ﹲ۔صلیٰ اللہ علیہ و سلم

(32) اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے*؟ اور سچا دین جب اس کے پاس آئے تو اسے جھوٹا بتائے**؟ کیا ایسے کفار کے لیے جہنم ٹھکانا نہیں ہے؟
* یعنی دعویٰ کرے کہ اللہ کی اولاد ہے یااس کاشریک ہے یا اس کی بیوی ہے درآں حالیکہ وہ ان سب چیزوں سےپاک ہے۔ **- جس میں توحید ہے، احکام و فرائض ہیں، عقیدۂ بعث ونشور ہے، محرمات سے اجتناب ہے، مومنین کے لیے خوش خبری اورکافروں کے لیے وعیدیں ہیں۔ یہ دین و شریعت جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے، اسےوہ جھوٹا بتلائے۔

(33) اور جو سچے دین کو ﻻئے* اور جس نے اس کی** تصدیق کی یہی لوگ پارسا ہیں.
* اس سے پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں جو سچا دین لےکر آئے۔ بعض کے نزدیک یہ عام ہے اور اس سےہر وہ شخص مراد ہے جو توحید کی دعوت دیتا اور اللہ کی شریعت کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ **- بعض اس سےحضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) مراد لیتے ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور ان پرایمان لائے۔ بعض نے اسے بھی عام رکھا ہے، جس میں سب مومن شامل ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں اور آپ کو سچا مانتےہیں۔

(34) ان کے لیے ان کے رب کے پاس (ہر) وه چیز ہے جو یہ چاہیں*، نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے.**
* یعنی اللہ تعالیٰ ان کےگناہ بھی معاف فرما دے گا، ان کے درجے بھی بلند فرمائے گا، کیونکہ ہر مسلمان کی اللہ سے یہی خواہش ہوتی ہے علاوہ ازیں جنت میں جانے کے بعد ہرمطلوب چیز بھی ملے گی۔ **- محسنین 'کا ایک مفہوم تو یہ ہے جو نیکیاں کرنے والے ہیں ،دوسرا وہ جو اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جیسے حدیث میں"احسان "کی تعریف کی گئی ہے'أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ"تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو ”اگر یہ تصور ممکن نہ ہو تو یہ ضرور ذہن میں رہے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے“ تیسرا جو لوگوں کو ساتھ حسن سلوک اور اچھا برتاؤ کرتے ہیں چوتھا ہر نیک عمل کو اچھے طریقے سے خشوع و خزوع سے اور سنت نبوی (صلى الله عليه وسلم) کے مطابق کرتے ہیں ۔کثرت کے بجائے اس میں ”حسن“ کا خیال رکھتے ہیں۔

(35) تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کردے اور جو نیک کام انہوں نے کیے ہیں ان کا اچھا بدلہ عطا فرمائے.

(36) کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں*؟ یہ لوگ آپ کو اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں اور جسے اللہ گمراه کر دےاس کی رہنمائی کرنے واﻻ کوئی نہیں.**
* اس سے مراد نبی کریم ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ عام ہے، تمام انبیاء علیہم السلام اورمومنین اس میں شامل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کو غیر اللہ سے ڈراتےہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ جب آپ کاﺣامی وناصر ہو تو آپ کاکوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ ان سب کے مقابلے میں آپ کوکافی ہے۔ **- جو گمراہی سے نکال کر ہدایت کے راستے پرلگا دے۔

(37) اور جسے وه ہدایت دے اسے کوئی گمراه کرنے واﻻ نہیں* کیا اللہ تعالیٰ غالب اور بدلہ لینے واﻻ نہیں ہے؟**
* جو اس کو ہدایت سے نکال کرگمراہی کے گڑھے میں ڈال دے۔ یعنی ہدایت اور گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے،جس کو چاہے گمراہ کردے اور جس کو چاہے ہدایت سے نوازے۔ **- کیوں نہیں، یقیناً ہے۔ اس لیے کہ اگر یہ لوگ کفر وعناد سے باز نہ آئے تو یقناً وہ اپنے دوستوں کی جماعت میں ان سے انتقام لے گا اور انہیں عبرت ناک انجام سے دورچار کرے گا۔

(38) اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً وه یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ آپ ان سے کہئیے کہ اچھا یہ تو بتاؤ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ تعالی مجھے نقصان پہنچانا چاہے توکیا یہ اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں؟ یا اللہ تعالیٰ مجھ پر مہربانی کا اراده کرے تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟ آپ کہہ دیں کہ اللہ مجھے کافی ہے*، توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں.**
* بعض کہتےہیں کہ جب نبی ﹲ نےمذکورہ سوال ان کے سامنے پیش کیا، تو انہوں نے کہا واقعی وہ اللہ کی تقدیر کو نہیں ٹال سکتے، البتہ وہ سفارش کریں گے، جس پر یہ ٹکڑا نازل ہوا کہ مجھے تو میرے معاملات میں اللہ ہی کافی ہے۔ **- جب سب کچھ اسی کےاختیار میں ہے تو پھر دوسروں پر بھروسہ کرنے کا کیا فائدہ؟ اس لیے اہل ایمان صرف اس پر توکل کرتے ہیں، اس کے سوا کسی پران کا اعتماد نہیں۔

(39) کہہ دیجیئے کہ اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کیے جاؤ میں بھی عمل کر رہا ہوں*، ابھی ابھی تم جان لوگے.
* یعنی اگر تم میری اس دعوت توحید کو قبول نہیں کرتے جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے، توٹھیک ہے، تمہاری مرضی، تم اپنی اس حالت پر قائم رہو جس پرتم ہو، میں اس حالت پر رہتا ہو نجس پر مجھے اللہ نے رکھا ہے۔

(40) کہ کس پر رسوا کرنے واﻻ عذاب آتا ہے* اور کس پر دائمی مار اور ہمیشگی کی سزا ہوتی ہے.**
* جس سے واضح ہو جائے گا کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ اس سےمراد دنیا کا عذاب ہے جیساکہ جنگ بدر میں ہوا۔ کافروں کےستر آدمی قتل اور ستر ہی آدمی قید ہوئے۔ حتیٰ کہ فتح مکہ کے بعد غلبہ و تمکن بھی مسلمانوں کو حاصل ہو گیا،جس کے بعد کافروں کے لیے سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ باقی نہ رہا۔ **- اس سے مراد عذاب جہنم ہے جس میں کافر ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔

(41) آپ پر ہم نے حق کے ساتھ یہ کتاب لوگوں کے لیے نازل فرمائی ہے، پس جو شخص راه راست پر آجائے اس کے اپنے لیے نفع ہے اور جو گمراه ہوجائے اس کی گمراہی کا (وبال) اسی پر ہے، آپ ان کے ذمہ دار نہیں.*
* نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل مکہ کاکفر پر اصرار بڑاگراں گزرتا تھا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام صرف اس کتاب کو بیان کر دیناہے جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے، ان کی ہدایت کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکلف نہیں ہیں۔ اگر وہ ہدایت کا راستہ اپنالیں گے تو اس میں انہی کا فائدہ ہے اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو خود ہی نقصان اٹھائیں گے۔ وکیل کے معنی مکلف اور ذمےدار کےہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ہدایت کے ذمے دار نہیں ہیں۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی ایک قدرت بالغہ اور صنعت عجیبہ کا تذکرہ فرمارہا ہے جس کا مشاہدہ ہر روز انسان کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب وہ سو جاتا ہے تو اس کی روح اللہ کے حکم سے گویا نکل جاتی ہے، کیونکہ اس کےاحساس و ادراک کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔ اور جب وہ بیدار ہوتا ہے تو روح اس میں گویا دوبارہ بھیج دی جاتی ہے، جس سے اس کے حواس بحال ہو جاتے ہیں۔ البتہ جس کی زندگی کےدن پورے ہو چکے ہوتے ہیں، اس کی روح واپس نہیں آتی اور وہ موت سے ہمکنارہو جاتا ہے۔ اس کو بعض مفسرین نے وفات کبریٰ اور وفات صغریٰ سے بھی تعبیر کیا ہے۔

(42) اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت* اور جن کی موت نہیں آئی انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے**، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے*** اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے****۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں.*****
* یہ وفات کبریٰ ہے کہ روح قبض کرلی جاتی ہے، واپس نہیں آتی۔ **- یعنی جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا، تو سونے کے وقت ان کی روح بھی قبض کر کے انہیں وفات صغریٰ سے دوچارکردیا جاتا ہے۔ ***- یہ وہی وفات کبریٰ ہے، جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس میں روح روک لی جاتی ہے۔ ****- یعنی جب تک ان کا وقت موعود نہیں آتا، اس وقت تک کے لیے ان کی روحیں واپس ہوتی رہتی ہیں، یہ وفات صغریٰ ہے، یہی مضمون سورۃ الانعام: 60-61 میں بیان کیا گیا ہے، تاہم وہاں وفات صغری کا ذکرپہلے اور وفات کبریٰ کا بعد میں ہے۔ جب کہ یہاں اس کےبرعکس ہے۔ *****- یعنی یہ روح کا قبض اور اس کاارسال اورتوفی اور احیاء، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور قیامت والے دن وہ مردوں کو بھی یقیناً زندہ فرمائے گا۔

(43) کیا ان لوگوں نے اللہ تعالی کے سوا (اوروں) کو سفارشی مقرر کر رکھا ہے؟ آپ کہہ دیجیئے! کہ گو وه کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں.*
* یعنی شفاعت کا اختیار توکجا، انہیں تو شفاعت کے معنی و مفہوم کا بھی پتہ نہیں، کیونکہ وہ پتھر ہیں یا بےخبر۔

(44) کہہ دیجئے! کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے*۔ تمام آسمانوں اور زمین کا راج اسی کے لیے ہے تم سب اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے.
* یعنی شفاعت کی تمام اقسام کا مالک صرف اللہ ہی ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش ہی نہیں کرسکے گا، پھر صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کیوں نہ کی جائے تاکہ وہ راضی ہوجائے اور شفاعت کے لیے کوئی سہارا ڈھونڈھنےکی ضرورت ہی نہ رہے۔

(45) جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں* جو آخرت کایقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا (اور کا) ذکر کیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں.**
* یا کفر اور استکبار، یا انقباض محسوس کرتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ مشرکین سے جب یہ کہا جائے کہ معبود صرف ایک ہی ہے توان کے دل یہ بات ماننے کےلیے تیار نہیں ہوتے۔ **- ہاں جب یہ کہا جائے کہ فلاں فلاں بھی معبود ہیں، یا وہ بھی آخر اللہ کے نیک بندے ہیں، وہ بھی کچھ اختیار رکھتے ہیں، وہ بھی مشکل کشائی اور حاجت روائی کر سکتے ہیں، تو پھر مشرکین بڑے خوش ہوتے ہیں۔ منحرفین کا یہی حال آج بھی ہے۔ جب ان سے کہا جائے کہ صرف (یااللہ مدد) کہو، کیونکہ اس کے سوا کوئی مدد کرنے پر قادر نہیں ہے، تو سیخ پا ہو جاتےہیں، یہ جملہ ان کےلیے سخت ناگوار ہوتا ہے۔ لیکن جب ”یا علی مدد“ یا ”یا رسول اللہ مدد“ کہا جائے، اسی طرح دیگر مردوں سے استمداد و استغاثہ کیاجائے مثلاً ”یا شیخ عبدالقادر شیئا للہ“ وغیرہ تو پھر ان کے دل کی کلیاں کھل اٹھتی ہیں۔ فَتَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ۔

(46) آپ کہہ دیجئے! کہ اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے کھلے کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان امور کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وه الجھ رہے تھے.*
* حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کی نماز کے آغاز میں یہ پڑھا کرتے تھے ”اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِما اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقيِمٍ“ (صحيح مسلم، كتاب صلاة المسافرين باب الدعاء في صلاة الليل وقيامه)۔

(47) اگر ﻇلم کرنے والوں کے پاس وه سب کچھ ہو جو روئے زمین پر ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو، تو بھی بدترین سزا کے بدلے میں قیامت کے دن یہ سب کچھ دے دیں*، اور ان کے سامنے اللہ کی طرف سے وه ﻇاہر ہوگا جس کا گمان بھی انہیں نہ تھا.**
* لیکن پھر بھی وہ قبول نہیں ہوگا، جیساکہ دوسرےمقام پروضاحت ہے۔ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ (آل عمران: 91) ”وہ زمین بھر سونا بھی بدلے میں دے دیں، تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا“۔ اس لیے کہ وَلا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ (البقرة: 48) ”وہاں معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا“۔ **- یعنی عذاب کی شدت اور اس کی ہولناکیاں اور اس کی انواع و اقسام ایسی ہوں گی کہ کبھی ان کے گمان میں نہ آئی ہوں گی۔

(48) جو کچھ انہوں نے کیا تھا اس کی برائیاں ان پر کھل پڑیں گی* اور جس کا وه مذاق کرتے تھے اور وه انہیں آ گھیرے گا.**
* یعنی دنیا میں جن محارم و مآثم کا وہ ارتکاب کرتے رہے تھے، اس کی سزان کے سامنے آجائے گی۔ **- وہ عذاب انہیں گھیر لے گا جسے وہ دنیا میں ناممکن سمجھتےتھے، اس لیے کہ اس کا اسہتزا اڑایا کرتے تھے۔

(49) انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے*، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیں تو کہنے لگتا ہے کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں**، بلکہ یہ آزمائش ہے*** لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں.****
* یہ انسان کا بہ اعتبار جنس، ذکر ہے۔ یعنی انسانوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ جب ان کو بیماری، فقروفاقہ یا کوئی اور تکلیف پہنچتی ہے تواس سے نجات پانے کے لیے اللہ سے دعائیں کرتا اور اس کےسامنے گڑگڑاتا ہے۔ **- یعنی نعمت ملتے ہی سرکشی اور طغیان کا راستہ اختیار کرلیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں اللہ کا کیا احسان؟ یہ تو میری اپنی دانائی کا نتیجہ ہے۔ یا جو علم وہنر میرے پاس ہے، اس کی بدولت یہ نعمتیں حاصل ہوئی ہیں یا مجھے معلوم تھا کہ دنیا میں یہ چیزیں مجھے ملیں گی کیونکہ اللہ کے ہاں میرا بہت مقام ہے۔ ***- یعنی بات وہ نہیں ہے جو توسمجھ رہا یابیان کر رہا ہے، بلکہ یہ نعمتیں تیرے لیے امتحان اور آزمائش ہیں کہ تو شکر کرتا ہے یاکفر؟ ****- اس بات سے کہ یہ اللہ کی طرف سے استدراج اور امتحان ہے۔

(50) ان سے اگلے بھی یہی بات کہہ چکے ہیں پس ان کی کارروائی ان کے کچھ کام نہ آئی.*
* جس طرح قارون نےبھی کہا تھا، لیکن بالآخر وہ اپنے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ فَمَا أَغْنَى میں مَا استہفامیہ بھی ہو سکتا ہے اور نافیہ بھی۔ دونوں طرح معنی صحیح ہے۔

(51) پھر ان کی تمام برائیاں* ان پر آ پڑیں، اوران میں سے بھی جو گناه گار ہیں ان کی کی ہوئی برائیاں بھی اب ان پر آ پڑیں گی، یہ (ہمیں) ہرا دینے والے نہیں.**
* برائیوں سے مراد ان کی برائیوں کی جزا ہے، ان کو مشاکلﺖ کے اعتبار سے سیئات کہا گیا ہے، ورنہ برائی کی جزابرائی نہیں ہے۔ جیسے وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا میں ہے۔ (فتح القدیر)۔ **- یہ کفارمکہ کو تنبیہ ہے۔ چنانچہ ایساہی ہوا، یہ بھی گزشتہ قوموں کی طرح قحط، قتل و اسارت وغیرہ سے دوچار ہوئے، اللہ کی طرف سے آئےہوئے ان عذابوں کویہ روک نہیں سکے۔

(52) کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے روزی کشاده کر دیتا ہے اور تنگ (بھی)، ایمان ﻻنے والوں کے لیے اس میں (بڑی بڑی) نشانیاں ہیں.*
* یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں بھی اللہ کی توحید کے دلائل ہیں یعنی اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں صرف اسی کا حکم و تصرف چلتا ہے، اسی کی تدبیر موثر اور کارگر ہے، اسی لیے وہ جس کو چاہتا ہے، رزق فراواں سے نواز دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے فقر وتنگ دستی میں مبتلا کر دیتاہے۔ اس کے ان فیصلوں میں، جو اس کی حکمت و مشیت پر مبنی ہوتے ہیں ، کوئی دخل انداز ہو سکتا ہےنہ ان میں ردوبدل کر سکتا ہے۔ تاہم یہ نشانیاں صرف اہل ایمان ہی کے لیے ہیں کیونکہ وہی ان پر غور و فکر کر کے ان سے فائدہ اٹھاتے اور اللہ کی مغفرت حاصل کرتےہیں۔

(53) (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے.*
* اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی وسعت کا بیان ہے۔ اسراف کے معنی ہیں گناہوں کی کثرت اور اس میں افراط۔ ”اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو“ کا مطلب ہے کہ ایمان لانے سے قبل یا تو استغفار کا احساس پیدا ہونے سے پہلے کتنے بھی گناہ کیے ہوں، انسان یہ نہ سمجھے کہ میں تو بہت زیادہ گناہ گار ہوں، مجھے اللہ تعالیٰ کیونکر معاف کرے گا؟ بلکہ سچےدل سے اگر ایمان قبول کرلے گا یا توبہ النصوح کرلے گا تو اللہ تعالیٰ تمام گناہ معاف فرمادے گا۔ شان نزول کی روایت سے بھی یہی مفہوم ثابت ہوتا ہے۔ کچھ کافر و مشرک تھے جنہوں نے کثرت سے قتل اور زناکاری کا ارتکاب کیا تھا، یہ نبی ﹲ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ ﹲ کی دعوت، صحیح ہے لیکن ہم لوگ بہت زیادہ خطاکار ہیں، اگر ہم ایمان لے آئے تو کیا وہ سب معاف ہو جائیں گے، جس پر اس آیت کا نزول ہوا۔ (صحیح بخاری،تفسیر سورۂ زمر) اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ کی رحمت و مغفرت کی امید پر خوب گناہ کیے جاؤ، اس کے احکام و فرائض کی مطلق پرواہ نہ کرو اور اس کے حدود اور ضابطوں کو بے دردی سے پامال کرو۔ اس طرح اس کے غضب و انتقام کو دعوت دے کر اس کی رحمت و مغفرت کی امید رکھنا نہایت نادانش مندی اور خام خیالی ہے۔ یہ تخم حنظل بو کر ثمرات و فواکہ کی امید رکھنے کے مترادف ہے۔ ایسے لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ جہاں اپنے بندوں کے لیے غَفُورٌ رَحِيمٌ ہے، وہاں وہ نافرمانوں کے لیے عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ بھی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں متعدد جگہ ان دونوں پہلوؤں کو ساتھ ساتھ بیان کیا گیا، مثلاً نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ، وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الأَلِيمُ (الحجر:50،49) غالباً یہی وجہ ہے کہ یہاں آیت کا آغاز يَا عِبَادِي (میرے بندوں) سےفرمایا، جس سے یہی معلوم ہوتاہے کہ جو ایمان لاکر یا سچی توبہ کرکے صحیح معنوں میں اس کا بندہ بن جائے گا، اس کے گناہ اگر سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں گے تو وہ معاف فرما دے گا، وہ اپنے بندوں کے لیے یقیناً غفور رحیم ہے۔ جیسے حدیث میں سو آدمیوں کے قاتل کے توبہ کا واقعہ ہے، (صحيح بخاري، كتاب الأنبياء - مسلم ، كتاب التوبة ، باب قبول توبة القاتل وإن كثر قتله)۔

(54) تم (سب) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آ جائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے.

(55) اور پیروری کرو اس بہترین چیزکی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو.*
* یعنی عذاب آنے سے قبل توبہ اور عمل صالح کااﮨتمام کرلو، کیونکہ جب عذاب آئےگا تو اس کا تمہیں علم و شعور بھی نہیں ہوگا، اس سےمراد دنیوی عذاب ہے۔

(56) (ایسا نہ ہو کہ) کوئی شخص کہے ہائے افسوس! اس بات پر کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حق میں کوتاہی کی* بلکہ میں تو مذاق اڑانے والوں میں ہی رہا.
* فِي جَنْبِ الله ِ کا مطلب، اللہ کی اطاعت یعنی قرآن اور اس پر عمل کرنےمیں کوتاہی ہے۔ یا جَنْبٌ کےمعنی قرب اور جوار کے ہیں۔ یعنی اللہ کا قرب اور اس کاجوار (یعنی جنت) طلب کرنے میں کوتاہی کی۔

(57) یا کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت کرتا تو میں بھی پارسا لوگوں میں ہوتا.*
* یعنی اگر اللہ مجھے ہدایت دے دیتا تو میں شرک اور معاصی سے بچ جاتا۔ یہ اس طرح ہی ہے جیسے دوسرے مقام پرمشرکین کا قول نقل کیا گیا ہے، لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكْنَا (الأنعام: 148) ”اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے“ ان کا یہ قول كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا الْبَاطِلُ . . . کامصداق ہے۔ (فتح القدیر)۔

(58) یا عذاب کو دیکھ کر کہے کاش! کہ کسی طرح میرا لوٹ جانا ہوجاتا تو میں بھی نیکو کاروں میں ہوجاتا.

(59) ہاں (ہاں) بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تونے جھٹلایا اور غرور وتکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں.*
* یہ اللہ تعالیٰ ان کی خواہش کے جواب میں فرمائے گا۔

(60) اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاه ہوگئے ہوں گے* کیا تکبر کرنے والوں کاٹھکانا جہنم میں نہیں؟**
* جس کی وجہ عذاب کی ہولناکیاں اور اللہ کے غضب کا مشاہدہ ہو گا۔ **- حدیث میں ہے ”الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ“ (حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر سمجھنا، کبر ہے) یہ استفہام تقریری ہے۔ یعنی اللہ کی اطاعت سےتکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

(61) اور جن لوگوں نے پرہیزگاری کی انہیں اللہ تعالیٰ ان کی کامیابی کے ساتھ بچا لے* گا، انہیں کوئی دکھ چھو بھی نہ سکے گا اور نہ وه کسی طرح غمگین ہوں گے.**
* مَفَازَةٌ، مصدر میمی ہے۔ یعنی فَوْزٌ (کامیابی) شر سے بچ جانا اور خیر اور سعادت سےہم کنار ہوجانا، مطلب ہے، اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو اس فوز وسعادت کی وجہ سے نجات عطا فرما دےگا، جو اللہ کے ہاں ان کے لیے پہلے سے ثبت ہے۔ **- وہ دنیا میں جوکچھ چھوڑ آئے ہیں، اس پر انہیں کوئی غم نہیں ہوگا،وہ چونکہ قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ ہوں گے، اس لیے انہیں کسی بات کا غم نہ ہو گا۔

(62) اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے واﻻ ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے.*
* یعنی ہر چیز کا خالق بھی وہی ہے اورمالک بھی وہی،وہ جس طرح چاہے، تصرف اور تدبیر کرے۔ ہر چیز اس کے ماتحت اور زیر تصرف ہے۔ کسی کو سرتابی یا انکار کی مجال نہیں۔ وکیل، بمعنی محافظ اور مدبر۔ ہر چیز اس کے سپرد ہے اوروہ بغیرکسی کی مشارکت کے ان کی حفاطت اور تدبیرکر رہاہے۔

(63) آسمانوں اور زمین کی کنجیوں کامالک وہی ہے* جن جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی خساره پانے والے ہیں.**
* مَقَالِيدُ، مِقْلِيدٌ اور مِقْلادٌ کی جمع ہے (فتح القدیر) بعض نے اس کا ترجمہ ”چابیاں“ اور بعض نے ”خزانے“ کیا ہے، مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ تمام معاملات کی باگ دور اسی کے ہاتھ میں ہے۔ **- یعنی کامل خسارہ۔ کیونکہ اس کفر کے نتیجے میں وہ جہنم میں چلے گئے۔

(64) آپ کہہ دیجئے اے جاہلو! کیا تم مجھ سے اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کو کہتے ہو.*
* یہ کفار کی اس دعوت کے جواب میں ہے جو پیغمبراسلام حضرت محمد ﹲ کو دیاکرتے تھے کہ اپنے آبائی دین کو اختیار کرلیں، جس میں بتوں کی عبادت تھی۔

(65) یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاںکاروں میں سے ہوجائے گا.*
* (اگر تو نے شرک کیا) کا مطلب ہے، اگر موت شرک پر آئی اوراس سےتوبہ نہ کی۔ خطاب اگرچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) سے ہےجو شرک سےپاک بھی تھے اور آئندہ کے لیے محفوظ بھی۔ کیونکہ پیغمبر اللہ کی حفاظت و عصمت میں ہوتا ہے، ان سے ارتکاب شرک کا کوئی امکان نہیں تھا، لیکن یہ دراصل امت کےلیے تعریض اور اس کو سمجھانا مقصود ہے۔

(66) بلکہ تو اللہ ہی کی عبادت کر* اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا.
* إِيَّاكَ نَعْبُد ُ کی طرح یہاں بھی مفعول (اللہ) کومقدم کرکے حصر کامﻔہوم پیداکر دیا گیا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو !

(67) اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہئے تھی نہیں کی*، ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے**، وه پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں.
* کیونکہ اس کی بات بھی نہیں مانی ، جو اس نے پیغمبروں کے ذریعے ان تک پہنچائی تھی اور عبادت بھی اس کے لیے خالص نہیں کی بلکہ دوسروں کو بھی اس میں شریک کرلیا۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک یہودی عالم نبی ﹲ کی خدمت میں آیا اور کہا کہ ہم اللہ کی بابت (کتابوں میں) یہ بات پاتے ہیں کہ وہ (قیامت والے دن) آسمانوں کو ایک انگلی پر،زمینوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور ثری (تری) کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور فرمائے گا، میں بادشاہ ہوں)۔ آپ ﹲ نے مسکرا کراس کی تصدیق فرمائی اور آیت وَمَا قَدَرُوا اللهَ کی تلاوت فرمائی۔ (صحیح بخاری تفسیر سورۂ زمر) محدثین اور سلف کا عقیدہ ہے کہ اللہ کی جن صفات کا ذکرقرآن او احادیث صحیحہ میں ہے، (جس طرح اس آیت میں ہاتھ اور حدیث میں انگلیوں کا اثبات ہے) ان پر بلاکیف و تشبیہ اور بغیر تاویل و تحریف کے ایمان رکھنا ضروری ہے۔ اس لیے یہاں بیان کردہ حقیقت کو مجرد غلبہ وقوت کے مفہوم میں لینا صحیح نہیں ہے۔ **- اس کی بابت بھی حدیث میں آتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الأَرْض ِ (میں بادشاہ ہوں۔ زمین کے بادشاہ (آج) کہاں ہیں؟ (حوالۂ مذکورہ)۔

(68) اور صور پھونک دیا جائے گا پس آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہوکر گر پڑیں گے* مگر جسے اللہ چاہے**، پھر دوباره صور پھونکا جائے گا پس وه ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے.***
* بعض کےنزدیک (نفخۂ فزع کے بعد) یہ نفخۂ ثانیہ یعنی نفخۂ صعق ہے،جس سے سب کی موت واقع ہو جائے گی۔ بعض کےنزدیک یہ نفخۂ اولیٰ ہی ہے، اس سے اولاً سخت گھبراہٹ طاری ہو گی اور پھر سب کی موت واقع ہو جائے گی۔ بعض نے ان نفخات کی ترتیب اس طرح بیان کی ہے۔ پہلا نَفْخَةُ الفَنَاءِ۔ دوسرا نَفْخَةُ الْبَعْثِ۔ تیسرا نَفْخَةُ الصَّعْقِ۔ چوتھا نَفْخَةُ الْقِيَامِ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ۔ (ایسر التفاسیر) بعض کے نزدیک صرف دو ہی نفخے ہیں نَفْخَةُ الْمَوْتِ اور نَفْخَةُ الْبَعْثِ اوربعض کے نزدیک تین۔ وَاللهُ أَعْلَمُ۔ **- یعنی جن کو اللہ چاہے گا،ان کو موت نہیں آئے گی، جیسے جبرائیل، میکائل اور اسرافیل۔ بعض کہتےہیں رضوان فرشتہ، حَمَلَةُ الْعَرْشِ (عرش اٹھانے والے فرشتے) اور جنت و جہنم پر مقرر داروغے۔ (فتح القدیر)۔ ***- چار نفخوں کے قائلین کےنزدیک یہ چوتھا، تین کے قائلین کےنزدیک تیسرا اور دو کے قائلین کےنزدیک یہ دوسرا نفخہ ہے۔ بہرحال اس نفخے سے سب سے زندہ ہوکرمیدان محشر میں رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہوجائیں گے، جہاں حساب کتاب ہوگا۔

(69) اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی*، نامہٴ اعمال حاضر کیے جائیں گے نبیوں اور گواہوں کو ﻻیا جائے گا** اور لوگوں کے درمیان حق حق فیصلے کر دیے جائیں گے، اور وه ﻇلم نہ کیے جائیں گے.***
* اس نور سے بعض نےعدل اور بعض نے حکم مراد لیا ہے لیکن اسے حقیقی معنوں پر محمول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے، کیونکہ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (قَالَهُ الشَّوْكَانِيُّ فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ)۔ **- نبیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے میرا پیغام اپنی اپنی امتوں کوپہنچایا دیا تھا؟ یا یہ پوچھا جائے گا کہ تمہاری امتوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا، اسے قبول کیا یا اس کا انکار کیا؟ امت محمدیہ کو بطور گواہ لایا جائے گا جو اس بات کی گواہی دے گی کہ تیرے پیغمبروں نے تیرا پیغام اپنی اپنی قوم یا امت کوپہنچا دیا تھا، جیساکہ تو نے ہمیں اپنے قرآن کے ذریعے سے ان امور پرمطلع فرمایاتھا۔ ***- یعنی کسی اجر وثواب میں کمی نہیں ہوگی اورکسی کواس کے جرم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔

(70) اور جس شخص نے جو کچھ کیا ہے بھرپور دے دیا جائے گا، جو کچھ لوگ کر رہے ہیں وه بخوبی جاننے واﻻ ہے.*
* یعنی اس کو کسی کا تب،حاسب اور گواہ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اعمال نامے اور گواہ صرف بطور حجت اور قطع معذرت کے ہوں گے۔

(71) کافروں کے غول کے غول جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے*، جب وه اس کے پاس پہنچ جائیں گے اس کے دروازے ان کے لیے کھول دیے جائیں گے**، اور وہاں کے نگہبان ان سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں درست*** ہے لیکن عذاب کا حکم کافروں پر ﺛابت ہو گیا.****
* زُمَرٌ زَمْرٌ سے مشتق ہے بمعنی آواز ، ہر گروہ یا جماعت میں شور اور آوازیں ضرور ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ جماعت اور گروہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، مطلب ہے کہ کافروں کو جہنم کی طرف گروہوں کی شکل میں لے جایا جائے گا، ایک گروہ کےپیچھے ایک گروہ۔ علاوہ ازیں انہیں مار دھکیل کر جانوروں کے ریوڑ کی طرح ہنکایا جائے گا۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا، يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا (الطور: 13) یعنی انہیں جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جائےگا۔ **- یعنی ان کے پہنچتے ہی فوراً جہنم کے ساتوں دروازے کھول دیے جائیں گے تاکہ سزا میں تاخیر نہ ہو۔ ***- یعنی جس طرح دنیا میں بحث و تکرار اور جدل ومناظرہ کرتے تھے، وہاں سب کچھ آنکھوں کے سامنے آجانے کے بعد، بحث و جدال کی گنجائش ہی باقی نہ رہے گی، اس لیے اعتراف کیے بغیر چارہ نہیں ہوگا۔ ****- یعنی ہم نے پیغمبروں کی تکذیب اورمخالفت کی، اس شقاوت کی وجہ سے جس کے ہم مستحق تھے، جب کہ ہم نے حق سے گریز کر کے باطل کو اختیار کیا، اس مضمون کو سورۃ الملک: 8-10 میں زیادہ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔

(72) کہا جائے گا کہ اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ جہاں ہمیشہ رہیں گے، پس سرکشوں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے.

(73) اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کے گروه کے گروه جنت کی طرف روانہ کیے جائیں* گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آ جائیں گے** اور دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہاں کے نگہبان ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم خوش حال رہو تم اس میں ہمیشہ کے لیے چلے جاؤ.
* اہل ایمان و تقویٰ بھی گروہوں کی شکل میں جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، پہلے مقربین، پھر ابرار، اس طرح درجہ بدرجہ، ہر گروہ ہم مرتبہ لوگوں پر مشتمل ہوگا۔ مثلاً انبیاء علیہم السلام، انبیاء علیہم السلام کےساتھ صدیقین شہداء اپنے ہم جنسوں کے ساتھ، علماء اپنے اقران کے ساتھ، یعنی ہر صنف اپنی ہی صنف یا اس کی مثل کے ساتھ ہوگی۔ (ابن کثیر) **- حدیث میں آتا ہے، جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک ریان ہے، جس سے صرف روزے دار داخل ہوں گے۔ (صحیح بخاری، نمبر 2257۔ مسلم، نمبر 808) اسی طرح دوسرے دروازوں کے نام بھی ہوں گے، جیسے باب الصلوٰۃ، باب الصدقہ، باب الجھاد وغیرہ (صحيح بخاري، كتاب الصيام، مسلم، كتاب الزكاة) ہر دروازے کی چوڑائی چالیس سال کی مسافت کے برابرہوگی، اس کے باوجود یہ بھرے ہوئے ہوں گے۔ (صحيح مسلم كتاب الزهد) سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔ (مسلم كتاب الإيمان، باب أنا أول الناس يشفع) جنت میں سب سےپہلے جانے والے گروہ کے چہرے پر چودھویں رات کے چاند کی طرح اور دوسرے گروہ کےچہرے پر آسمان پر چمکنے والے ستاروں میں سے روشن ترین ستارے کی طرح چمکتےہوں گے۔ جنت میں وہ بول و براز اور تھوک، بلغم سے پاک ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی اور پسینہ کستوری ہوگا، ان کی انگیٹھیوں میں خوشبودار لکڑی ہو گی، ان کی بیویاں الحور العین ہوں گی، ان کا قد آدم (عليه السلام) کی طرح ساٹھ ہاتھ ہوگا۔ (صحيح بخاري، أول كتاب الأنبياء) صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مومن کو دو بیویاں ملیں گی، ان کے حسن و جمال کایہ حال ہوگا کہ ان کی پندلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا۔ (كتاب بدء الخلق ، باب ما جاء في صفة الجنة) بعض نے کہا یہ دو بیویاں حوروں کے علاوہ، دنیاکی عورتوں میں سے ہوں گی۔ لیکن چونکہ 72 حوروں والی روایت سنداً صحیح نہیں۔ اس لیے بظاہر یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ ہر جنتی کی کم از کم حور سمیت دو بیویاں ہوگی۔ تاہم وَلَهُمْ فِيهَا مَا يَشْتَهُونَ کے تحت زیادہ بھی ممکن ہیں۔ واللہ اعلم (مزید دیکھئے فتح الباری۔ باب مذکور)

(74) یہ کہیں گے کہ اللہ کاشکر ہے کہ جس نے ہم سے اپنا وعده پورا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں پس عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا بدلہ ہے.

(75) اور تو فرشتوں کو اللہ کے عرش کے اردگرد حلقہ باندھے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوئے دیکھے گا* اور ان میں انصاف کا فیصلہ کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ساری خوبی اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے.**
* قضائے الٰہی کے بعد جب اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے، آیت میں اس کے بعد کا نقشہ بیان کیا گیا ہے کہ فرشتے عرش الٰہی کو گھیرے ہوئے تسبیح و تحمید میں مصروف ہوں گے۔ **- یہاں حمد کی نسبت کسی ایک مخلوق کی طرف نہیں کی گئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز (ناطق و غیر ناطق) کی زبان پر حمد الٰہی کے ترانے ہوں گے۔

<     >