<     >  

48 - سورۂ فتح ()

|

(1) بیشک (اے نبی) ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے.*

(2) تاکہ جو کچھ تیرے گناه آگے ہوئے اور جو پیچھے سب کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے*، اور تجھ پر اپنا احسان پورا کر دے** اور تجھے سیدھی راه چلائے.***
* اس سے مراد ترک اولیٰ والے معاملات یا وہ امور ہیں جو آپ (صلى الله عليه وسلم)پنے اپنی فہم واجتہاد سے کیے، لیکن اللہ نے انہیں ناپسند فرمایا، جیسے عبداللہ بن ام مکتوم (رضي الله عنه) وغیرہ کا واقعہ ہے جس پر سورۂ عبس کا نزول ہوا، یہ معاملات وامور اگرچہ گناہ اور منافی عصمت نہیں، لیکن آپ(صلى الله عليه وسلم) کی شان ارفع کے پیش نظر انہیں بھی کوتاہیاں شمار کر لیا گیا، جس پر معافی کا اعلان فرمایا جا رہا ہے۔ لِيَغْفِرَ میں لام تعلیل کے لئے ہے۔ یعنی یہ فتح مبین ان تین چیزوں کا سبب ہے جو آیت میں مذکور ہیں۔ اور یہ مغفرت ذنوب کا سبب، اس اعتبار سے ہے کہ اس صلح کے بعد قبول اسلام کرنے والوں کی تعداد میں بکثرت اضافہ ہوا، جس سے آپ(صلى الله عليه وسلم) کے اجر عظیم میں بھی خوب اضافہ ہوا اور حسنات، وبلندی درجات میں بھی۔ **- اس دین کو غالب کرکے جس کی تم دعوت دیتے ہو۔ یا فتح وغلبہ عطا کرکے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ مغفرت اور ہدایت پر استقامت یہی اتمام نعمت ہے (فتح القدیر)۔ ***- یعنی اس پر استقامت نصیب فرمائے۔ ہدایت کے اعلیٰ سے اعلیٰ درجات سے نوازے۔

(3) اور آپ کو ایک زبردست مدد دے.

(4) وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون (اور اطیمنان) ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں*، اور آسمانوں اور زمین کے ﴿کل﴾ لشکر اللہ ہی کے ہیں**۔ اور اللہ تعالیٰ دانا باحکمت ہے.
* یعنی اس اضطراب کے بعد، جو مسلمانوں کو شرائط صلح کی وجہ سے لاحق ہوا، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سکینت نازل فرما دی، جس سے ان کےدلوں کو اطمینان، سکون اور ایمان مزید حاصل ہوا۔ یہ آیت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ **- یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنے کسی لشکر (مثلاً فرشتوں) سے کفار کو ہلاک کروا دے۔ لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت ایسا نہیں کیا اور اس کے بجائے مومنوں کو قتال وجہاد کا حکم دیا۔ اسی لئے آگے اپنی صفت علیم وحکیم بیان فرمائی ہے۔ یا مطلب ہے کہ آسمان وزمین کےفرشتے اور اسی طرح دیگر ذی شوکت وقوت لشکر سب اللہ کے تابع ہیں اور ان سے جس طرح چاہتا ہے کام لیتا ہے۔ بعض دفعہ وہ ایک کافر گروہ کو ہی دوسرے کافر گروہ پر مسلط کرکے مسلمانوں کی امداد کی صورت پیدا فرما دیتا ہے۔ مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ اے مومنو ! اللہ تعالیٰ تمہارا محتاج نہیں ہے، وہ اپنےپیغمبر اور اپنے دین کی مدد کا کام کسی بھی گروہ اور لشکر سے لے سکتا ہے۔ (ابن کثیر وایسر التفاسیر)۔

(5) تاکہ مومن مردوں اور عورتوں کو ان جنتوں میں لے جائے جن* کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں جہاں وه ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناه دور کر دے، اور اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے.
* حدیث میں آتا ہے کہ جب مسلمانوں سورۂ فتح کا ابتدائی حصہ سنا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ تو انہوں نے نبی (صلى الله عليه وسلم) یسے کہا آپ (صلى الله عليه وسلم) کو مبارک ہو، ہمارے لئے کیا ہے؟ جس پر اللہ نے آیت لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ نازل فرما دی (صحيح بخاري، باب غزوة الحديبية) بعض کہتے ہیں کہ یہ لِيَزْدَادُوا یا يَنْصُرَكَ کے متعلق ہے۔

(6) اور تاکہ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرکہ عورتوں کو عذاب دے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانیاں رکھنے والے ہیں*، (دراصل) انہیں پر برائی کا پھیرا ہے**، اللہ ان پر ناراض ہوا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وه (بہت) بری لوٹنے کی جگہ ہے.
* یعنی اللہ کو اس کے حکموں پر متہم کرتے ہیں اور رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم)اور صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ مغلوب یا مقتول ہو جائیں گے اور دین اسلام کا خاتمہ ہو جائے گا۔ (ابن کثیر)۔ **- یعنی یہ جس گردش، عذاب یا ہلاکت کے مسلمانوں کے لئے منتظر ہیں، وہ تو ان ہی کا مقدر بننے والی ہے۔

(7) اور اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں اور اللہ غالب اور حکمت واﻻ ہے.*
* یہاں اسے منافقین اور کفار کے ضمن میں دوبارہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان دشمنوں کو ہر طرح ہلاک کرنے پر قادر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی حکمت ومشیت کے تحت ان کو جتنی چاہے مہلت دے دے۔

(8) یقیناً ہم نے تجھے گواہی دینے واﻻ اور خوشخبری سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے.

(9) تاکہ (اے مسلمانو)، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ﻻؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کا ادب کرو اور اللہ کی پاکی بیان کرو صبح وشام.

(10) جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وه یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں*، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے**، تو جو شخص عہد شکنی کرے وه اپنے نفس پر ہی عہد شکنی کرتا ہے*** اور جو شخص اس اقرار کو پورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے**** تو اسے عنقریب اللہ بہت بڑا اجر دے گا.
* یعنی یہ بیعت دراصل اللہ ہی کی ہے، کیونکہ اسی نے جہاد کا حکم دیا اور اس پر اجر بھی وہی عطا فرمائے گا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا کہ یہ اپنے نفسوں اور مالوں کا جنت کے بدلے اللہ کے ساتھ سودا ہے (التوبۃ: 111) یہ اسی طرح ہے جیسے «مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ» (النساء:80)۔ **- آیت سے وہی بیعت رضوان مراد ہےجو نبی(صلى الله عليه وسلم) نے حضرت عثمان (رضي الله عنه) کی خبر شہادت سن کر ان کا انتقام لینے کے حدیبیہ میں موجود 14 یا 15 سو مسلمانوں سے لی تھی۔ ***- نَكْثٌ (عہد شکنی) سے مراد یہاں بیعت کا توڑ دینا یعنی عہد کے مطابق لڑائی میں حصہ نہ لینا ہے۔ یعنی جو شخص ایسا کرے گا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ ****- کہ وہ اللہ کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی مدد کرے گا، ان کے ساتھ ہو کر لڑے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح وغلبہ عطا فرما دے۔

(11) دیہاتیوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے وه اب تجھ سے کہیں گے کہ ہم اپنے مال اور بال بچوں میں لگے ره گئے پس آپ ہمارے لئے مغفرت طلب کیجئے*۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وه کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے**۔ آپ جواب دے دیجئے کہ تمہارے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا بھی اختیار کون رکھتا ہے اگر وه تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو*** یا تمہیں کوئی نفع دینا چاہے تو****، بلکہ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خوب باخبر ہے.*****
* اس سے مدینے کے اطراف میں آباد قبیلے، غفار، مزینہ، جہینہ، اسلم اور دئل مراد ہیں۔ جب نبی نےخواب دیکھنے کے بعد (جس کی تفصیل آگے آئے گی) عمرے کے لئے مکہ جانے کی عام منادی کرا دی۔ مذکورہ قبلیوں نے سوچا کہ موجودہ حالات تو مکہ جانے کے لئے سازگار نہیں ہیں۔ وہاں ابھی کافروں کا غلبہ ہے اور مسلمان کمزور ہیں نیز مسلمان عمرے کے لئے پورے طورپر ہتھیار بندہو کر بھی نہیں جا سکتے۔ اگر ایسے میں کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کا فیصلہ کر لیا تو مسلمان خالی ہاتھ ان کا مقابلہ کس طرح کریں گے؟ اس وقت مکے جانے کا مطلب اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے ساتھ عمرے کے لئے نہیں گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بابت فرما رہا ہے کہ یہ تجھ سے مشغولیوں کا عذر پیش کرکے طلب مغفرت کی التجائیں کریں گے۔ **- یعنی زبانوں پرتو یہ ہے کہ ہمارے پیچھے ہمارے گھروں کی اور بیوی بچوں کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ اس لئے ہمیں خود ہی رکنا پڑا، لیکن حقیقت میں ان کا پیچھے رہنا، نفاق اور اندیشہ موت کی وجہ سے تھا۔ ***- یعنی اگر اللہ تمہارے مال ضائع کرنے اور تمہارے اہل کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کرلے تو کیا تم میں سے کوئی اختیار رکھتا ہے کہ وہ اللہ کو ایسا نہ کرنے دے۔ ****- یعنی تمہیں مدد پہنچانا اور تمہیں غنیمت سے نوازنا چاہے۔ تو کوئی روک سکتا ہے؟ یہ دراصل مذکورہ متخلفین (پیچھے رہ جانے والوں) کا رد ہے جنہوں نے یہ گمان کر لیا تھا کہ وہ اگر نبی ﹲ کے ساتھ نہیں گئے تو نقصان سے محفوظ اور منافع سےبہرہ ور ہوں گے۔ حالانکہ نفع وضرر کا سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ *****- یعنی تمہیں تمہارے عملوں کی پوری جزا دے گا۔

(12) (نہیں) بلکہ تم نے تو یہ گمان کر رکھا تھا کہ پیغمبر اور مسلمانوں کا اپنے گھروں کی طرف لوٹ آنا قطعاً ناممکن ہے اور یہی خیال تمہارے دلوں میں رچ بس گیا تھا اور تم نے برا گمان کر رکھا تھا*۔ دراصل تم لوگ ہو بھی ہلاک ہونے والے.**
* اور وہ یہی تھا کہ اللہ اپنے رسول ﹲ کی مدد نہیں کرے گا۔ یہ وہی پہلا گمان ہے، تکرار تاکید کے لئے ہے۔ **- بُورٌ، بَائِرٌ کی جمع ہے، ہلاک ہونے والا، یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقدر ہلاکت ہے۔ اگر دنیا میں یہ اللہ کےعذاب سےبچ گئے تو آخرت میں تو بچ کر نہیں جا سکتے وہاں تو عذاب ہر صورت میں بھگتنا ہوگا۔

(13) اور جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ ﻻئے تو ہم نے بھی ایسے کافروں کے لئے دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے.

(14) اور زمین اور آسمانوں کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے۔ اور اللہ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے.*
* اس میں متخلفین کے لئے توبہ وانابت الی اللہ کی ترغیب ہے کہ اگر وہ نفاق سے توبہ کر لیں تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے گا، وہ بڑا بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

(15) جب تم غنیمتیں لینے جانے لگو گے تو جھٹ سے یہ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ کہنے لگیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیجئے*، وه چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدل دیں** آپ کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی فرما چکا ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے***، وه اس کا جواب دیں گے (نہیں نہیں) بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو****، (اصل بات یہ ہے) کہ وه لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہیں.*****
* اس میں غزوۂ خیبر کا ذکر ہے جس کی فتح کی نوید اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ میں دی تھی، نیز اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہاں سے جتنا بھی مال غنیمت حاصل ہوگا وہ صرف حدیبیہ میں شریک ہونے والوں کا حصہ ہے۔ چنانچہ حدیبیہ سے واپسی کے بعد آپ(صلى الله عليه وسلم) نے یہودیوں کی مسلسل عہد شکنی کیوجہ سے خیبر پر چڑھائی کا پروگرام بنایا تو مذکورہ متخلفین نے بھی محض مال غنیمت کے حصول کے لئے ساتھ جانے کا ارادہ ظاہر کیا، جسے منظور نہیں کیا گیا۔ آیت میں مغانم سےمراد مغانم خیبر ہی ہیں۔ **- اللہ کے کلام سےمراد، اللہ کا خبیر کی غنیمت کو اہل حدیبیہ کے لئے خاص کرنے کا وعدہ ہے۔ منافقین اس میں شریک ہو کر اللہ کے کلام یعنی اس کے وعدے کو بدلنا چاہتے تھے۔ ***- یہ نفی بمعنی نہی ہے یعنی تمہیں ہمارے ساتھ چلنے کی اجازت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے۔ ****- یعنی یہ متخلفین کہیں گے کہ تم ہمیں حسد کی بنا پر ساتھ لے جانے سے گریز کر رہے ہو تاکہ مال غنیمت میں ہم تمہارے شریک نہ ہوں۔ *****- یعنی بات یہ نہیں ہے جو وہ سمجھ رہےہیں، بلکہ یہ پابندی ان کے پیچھے رہنے کی پاداش میں ہے۔ لیکن اصل بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔

(16) آپ پیچھے چھوڑے ہوئے بدویوں سے کہہ دو کہ عنقریب تم ایک سخت جنگجو قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ تم ان سے لڑوگے یا وه مسلمان ہوجائیں گے* پس اگر تم اطاعت کرو** گے تو اللہ تمہیں بہت بہتر بدلہ دے گا*** اور اگر تم نے منھ پھیر لیا جیسا کہ اس سے پہلے تم منھ پھیر چکے ہو تو وه تمہیں دردناک عذاب دے گا.****
* اس جنگ جو قوم کی تعیین میں اختلاف ہے، بعض مفسرین اس سےعرب کے ہی بعض قبائل مراد لیتے ہیں، مثلاً ہوازن یا ثقیف، جن سے حنین کےمقام پر مسلمانوں کی جنگ ہوئی۔ یا مسیلمہ الکذاب کی قوم بنو حنیفہ۔ اور بعض نے فارس اور روم کے مجوسی وعیسائی مراد لیے ہیں۔ ان پیچھے رہ جانے والے بدویوں سے کہا جار ہا ہے کہ عنقریب ایک جنگجو قوم سے مقابلے کے لئے تمہیں بلایا جائے گا۔ اگر وہ مسلمان نہ ہوئے تو تمہاری اور ان کی جنگ ہوگی۔ **- یعنی خلوص دل سے مسلمانوں کے ساتھ مل کر لڑو گے۔ ***- دنیا میں غنیمت اور آخرت میں پچھلے گناہوں کی مغفرت اور جنت۔ ****- یعنی جس طرح حدیبیہ کے موقعے پر تم نےمسلمانوں کے ساتھ مکہ جانے سے گریز کیا تھا، اسی طرح اب بھی تم جہاد سے بھاگو گے، تو پھر اللہ کا درد ناک عذاب تمہارے لئےتیار ہے۔

(17) اندھے پر کوئی حرج نہیں ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے* اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے، جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اسے اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے (درختوں) تلے نہریں جاری ہیں اور جو منھ پھیر لے اسے دردناک عذاب (کی سزا) دے گا.
* بصارت سے محرومی اور لنگڑے پن کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذوری۔ یہ دونوں عذر تو لازمی ہیں۔ ان اصحاب عذر یا ان جیسے دیگر معذورین کو جہاد سے مستثنیٰ کر دیا گیا۔ حرج کے معنی گناہ کے ہیں ان کے علاوہ جو بیماریاں ہیں، وہ عارضی عذر ہیں، جب تک وہ واقعی بیمار ہے، شرکت جہاد سے مستثنیٰ ہے۔ بیماری دور ہوتے ہی وہ حکم جہاد میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوں گے۔

(18) یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وه درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے*۔ ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا** اور ان پر اطمینان نازل فرمایا*** اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی.****
* یہ ان اصحاب بیعت رضوان کے لئے رضائے الٰہی اور ان کے پکے سچے مومن ہونے کا سرٹیفکیٹ ہے، جنہوں نے حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے اس بات پر بیعت کی کہ وہ قریش مکہ سے لڑیں گے اور راہ فرار اختیار نہیں کریں گے۔ **- یعنی ان کے دلوں میں جو صدق وصفا کے جذبات تھے، اللہ ان سے بھی واقف ہے۔ اس سے ان دشمنان صحابہ (رضي الله عنهم) کا رد ہو گیا جو کہتے ہیں کہ ان کا ایمان ظاہری تھا، دل سے وہ منافق تھے۔ ***- یعنی وہ نہتے تھے، جنگ کی نیت سی نہیں گئے تھے، اس لئے جنگی ہتھیار مطلوبہ تعداد میں نہیں تھے۔ اس کے باوجود جب نبی (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت عثمان (رضي الله عنه) کا بدلہ لینے کے لئے ان سے جہاد کی بیعت لی تو بلا ادنیٰ تامل، سب لڑنے کے لئے تیار ہوگئے، یعنی ہم نے موت کا خوف ان کےدلوں سے نکال دیا اور اس کی جگہ صبر وسکینت ان پر نازل فرما دی جس کی بنا پر انہیں لڑنے کا حوصلہ ہوا۔ ****- اس سے مراد وہی فتح خیبر ہے جو یہودیوں کا گڑھ تھا، اور حدیبیہ سے واپسی پر مسلمانوں نے اسے فتح کیا۔

(19) اور بہت سی غنیمتیں جنہیں وه حاصل کریں گے* اور اللہ غالب حکمت واﻻ ہے.
* یہ وہ غنیمتیں ہیں جو خیبرسے حاصل ہوئیں۔ یہ نہایت زرخیز اور شاداب علاقہ تھا، اسی حساب سےیہاں سے مسلمانون کو بہت بڑی تعداد میں غنیمت کا مال حاصل ہوا، جسے صرف اہل حدیبیہ میں تقسیم کیاگیا۔

(20) اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت ساری غنیمتوں کا وعده کیا ہے* جنہیں تم حاصل کرو گے پس یہ تو تمہیں جلدی ہی عطا فرما دی** اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے***، تاکہ مومنوں کے لئے یہ ایک نشانی ہو جائے**** اور (تاکہ) وه تمہیں سیدھی راه چلائے.*****
* یہ دیگر فتوحات کےنتیجے میں حاصل ہونے والی غنیمتوں کی خوش خبری ہے جو قیامت تک مسلمانوں کو حاصل ہونے والی ہیں۔ **- یعنی فتح خیبر یا صلح حدیبیہ، کیونکہ یہ دونوں تو فوری طور پر مسلمانوں کو حاصل ہوگئیں۔ ***- حدیبیہ میں کافروں کے ہاتھ اور خیبر میں یہودیوں کے ہاتھ اللہ نے روک دیئے، یعنی ان کے حوصلے پست کر دیئے اور وہ مسلمانوں سے مصروف پیکار نہیں ہوئے۔ ****- یعنی لوگ اس واقعے کا تذکرہ پڑھ کر اندازہ لگا لیں گے کہ اللہ تعالیٰ قلت تعداد کے باوجود مسلمانوں کا محافظ اور دشمنوں پر ان کو غالب کرنے والا ہے یا یہ روک لینا، تمام موعودہ باتوں میں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی صداقت کی نشانی ہے۔ *****- یعنی ہدایت پر استقامت عطا فرمائے یا اس نشانی سے تمہیں ہدایت میں اور زیادہ کرے۔

(21) اور تمہیں اور (غنیمتیں) بھی دے جن پر اب تک تم نے قابو نہیں پایا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے قابو میں رکھا ہے* اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.
* یہ بعد میں ہونے والی فتوحات اور ان سے حاصل ہونے والی غنیمت کی طرف اشارہ ہے۔ جس طرح چار دیواری کر کے کسی چیز کو اپنے قبصے میں کر لیا جاتا ہے اور پھر اس کی بابت بے فکری ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ نے ان فتوحات کو اپنے حیطۂ اقتدار میں لیا ہوا ہے۔ یعنی گو ابھی تمہاری فتوحات کا دائرہ وہاں تک وسیع نہیں ہوا ہے۔ لیکن اللہ نے انہیں تمہارے لئے قابو میں کیا ہوا ہے، وہ جب چاہے گا، تمہیں اس پر غلبہ عطا کر دے گا، جس میں کوئی شک والی بات نہیں ہے، اس لئے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بعض نے أَحَاطَ کے معنی عَلِمَ کے کیے ہیں، یعنی اسے معلوم ہے کہ وہ علاقے بھی تم فتح کرو گے۔

(22) اور اگر تم سے کافر جنگ کرتے تو یقیناً پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھر نہ تو کوئی کار ساز پاتے نہ مددگار.*
* یہ حدیبیہ میں متوقع جنگ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ قریش مکہ صلح نہ کرتے بلکہ جنگ کا راستہ اختیار کرتے تو یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے، کوئی ان کا مددگار نہ ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ ہم وہاں تمہاری مدد کرتے اور ہمارے مقابلے میں کس کو ٹھہرنے کی طاقت ہے۔

(23) اللہ کے اس قاعدے کے مطابق جو پہلے سے چلا آیا ہے*، تو کبھی بھی اللہ کے قاعدے کو بدلتا ہوا نہ پائے گا.
* یعنی اللہ کی یہ سنت اور عادت پہلے سےچلی آرہی ہے کہ جب کفر وایمان کےدرمیان فیصلہ کن معرکہ آرائی کا مرحلہ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی مدد فرما کر حق کو سربلندی عطا کرتا ہے، جیسے اس سنت اللہ کے مطابق بدر میں تمہاری مدد کی گئی۔

(24) وہی ہے جس نے خاص مکہ میں کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا*، اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے.
* جب نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) اور صحابہ کرام (رضي الله عنهم) حدیبیہ میں تھے تو کافروں نے 80 آدمی، جو ہتھیاروں سے لیس تھے، اس نیت سے بھیجے کہ اگر انہیں موقع مل جائے تو دھوکے سے نبی (صلى الله عليه وسلم) اور صحابہ (رضي الله عنهم) کے خلاف کاروائی کریں چنانچہ یہ مسلح جتھہ جبل تنعیم کی طرف سے حدیبیہ میں آیا، جس کا علم مسلمانوں کو بھی ہوگیا اور انہوں نے ہمت کرکے ان تمام آدمیوں کوگرفتار کر لیا اور بارگاہ رسالت میں پیش کر دیا۔ ان کا جرم تو شدید تھا اور ان کو جو بھی سزا دی جاتی، صحیح ہوتی۔ لیکن اس میں خطرہ یہی تھا کہ پھر جنگ ناگزیر ہو جاتی۔ جب کہ نبی(صلى الله عليه وسلم) اس موقعے پر جنگ کے بجائے صلح چاہتے تھے کیونکہ اسی میں مسلمانوں کا مفاد تھا۔ چنانچہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ان سب کو معاف کر کے چھوڑ دیا۔ (صحيح مسلم، كتاب الجهاد، باب قول الله تعالى وهو الذي كف أيديهم عنكم) بطن مکہ سے مراد حدیبیہ ہے۔ یعنی حدیبیہ میں ہم نے تمہیں کفار سے اور کفار کو تم سے لڑنے سے روکا۔ یہ اللہ نے احسان کے طور ذکر فرمایا ہے۔

(25) یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے لئے موقوف جانور کو اس کی قربان گاه میں پہنچنے سے (روکا)*، اور اگر ایسے (بہت سے) مسلمان مرد اور (بہت سی) مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کی تم کو خبر نہ تھ** یعنی ان کے پس جانے کا احتمال نہ ہوتا جس پر ان کی وجہ سے تم کو بھی بے خبری میں ضرر پہنچتا***، (تو تمہیں لڑنے کی اجازت دے دی جاتی**** لیکن ایسا نہیں کیا گیا*****) تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے اور اگر یہ الگ الگ ہوتے تو ان میں جو کافر تھے ہم ان کو درد ناک سزا دیتے.******
* هَدْيٌ اس جانور کو کہا جاتا ہے جو حاجی یا معتمر (عمرہ کرنے والے) اپنے ساتھ مکے لے جاتا تھا۔ یا وہیں سے خرید کر ذبح کرتا تھا مَحِلٌّ (حلال ہونے کی جگہ) سے مراد وہ قربان گاہ ہے جہاں ان کو لے جا کر ذبح کیا جاتا ہے جاہلیت کے زمانے میں۔ یہ مقام معتمر کے لئےمروہ پہاڑی کے پاس اور حاجیوں کے لئے منیٰ تھا۔ اور اسلام میں ذبح کرنےکی جگہ مکہ منیٰ اور پورے حدود حرم ہیں۔ مَعْكُوفًا، حال ہے۔ یعنی یہ جانور اس انتظار میں رکے ہوئے تھے کہ مکے میں داخل ہوں تاکہ انہیں قربان کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کافروں نے ہی تمہیں بھی مسجد حرام سے روکا اور تمہارے ساتھ جو جانور تھے، انہیں بھی اپنی قربان گاہ تک نہیں پہنچنے دیا۔ **- یعنی مکے میں اپنا ایمان چھپائےرہ رہے تھے۔ ***- کفار کے ساتھ لڑائی کی صورت میں ممکن تھاکہ یہ بھی مارےجاتے اور تمہیں ضرر پہنچتا مَعَرَّةٌ کے اصل معنی عیب کےہیں۔ یہاں مراد کفارہ اور وہ برائی اور شرمندگی ہے جو کافروں کی طرف سے تمہیں اٹھانی پڑتی۔ یعنی ایک تو قتل خطاکی دیت دینی پڑتی اور دوسرے، کفار کا یہ طعنہ سہنا پڑتا کہ یہ اپنے مسلمان ساتھیوں کو بھی مار ڈالتے ہیں۔ ****- یہ لَوْلا کا محذوف جواب ہے۔ یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی تو تمہیں مکے میں داخل ہونے کی اور قریش مکہ سے لڑنے کی اجازت دے دی جاتی۔ *****- بلکہ اہل مکہ کو مہلت دے دی گئی تاکہ جس کو اللہ چاہے قبول اسلام کی توفیق دے دے۔ ******- تَزَيَّلُوا بمعنی تَمَيَّزُوا ہے مطلب یہ ہے کہ مکےمیں اباد مسلمان، اگر کافروں سے الگ رہائش پذیر ہوتے، تو ہم تمہیں اہل مکہ سے لڑنے کی اجازت دے دیتے اور تمہارے ہاتھوں ان کو قتل کرواتے اور اس طرح انہیں دردناک سزا دیتے۔ عذاب الیم سے مراد یہاں قتل، قیدی بنانا اور قہر وغلبہ ہے۔

(26) جب کہ* ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت کو جگہ دی اور حمیت بھی جاہلیت کی، سو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مومنین پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی** اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقوے کی بات پر جمائے رکھا*** اور وه اس کے اہل اور زیاده مستحق تھے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے.
* إِذْ کا ظرف یا تو لَعَذَّبْنَا سے یا وَاذْكُرُوا محذوف ہے۔ یعنی اس وقت کو یاد کرو، جب کہ ان کافروں نے۔۔۔ **- کفار کی اس حمیت جاہلیہ (عار اور غرور) سے مراد اہل مکہ کا مسلمانوں کو مکے میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمارے بیٹوں اور باپوں کو قتل کیا ہے۔ لات وعزیٰ کی قسم ہم انہیں کبھی داخل نہیں ہونے دیں گے یعنی انہوں نےاسے اپنی عزت اور وقار کا مسئلہ بنا لیا، اسی کو حمیت جاہلیہ کہا گیا ہے، کیونکہ خانہ کعبہ میں عبادت کے لئے آنے سے روکنے کاکﺴی کو حق نہیں تھا۔ قریش مکہ کے اس معاندانہ رویے کے جواب میں خطرہ تھا کہ مسلمانوں کے جذبات میں بھی شدت آجاتی اور وہ بھی اسے اپنےوقار کا مسئلہ بنا کر مکے جانے پر اصرار کرتے، جس سے دونوں کے درمیان لڑائی چھڑ جاتی، اور یہ لڑائی مسلمانوں کے لئے سخت خطرناک رہتی (جیسا کہ پہلےاشارہ کیا جا چکا ہے) اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کےدلوں میں سکینت نازل فرما دی یعنی انہیں صبر وتحمل کی توفیق دے دی اور وہ پیغمبر(صلى الله عليه وسلم) کے ارشاد کے مطابق حدیبیہ میں ہی ٹھہرے رہےجوش اور جذبے میں آکر مکے جانے کی کوشش نہیں کی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس حمیت جاہلیہ سے مراد قریش مکہ کا وہ رویہ ہے جو صلح کے لئے معاہدے کے وقت انہوں نے اختیار کیا۔ یہ رویہ اور معاہدہ دونوں مسلمانوں کے لئے بظاہر ناقابل برداشت تھا۔ لیکن انجام کے اعتبار سےچونکہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کا بہترین مفاد تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نےمسلمانوں کو نہایت ناگواری اور گرانی کے باوجود اسے قبول کرنے کا حوصلہ عطا فرما دیا۔ اس کی مختصر تفصیل اس طرح ہے۔ کہ جب رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نےقریش مکہ کے بھیجےہوئے نمائندوں کی یہ بات تسلیم کر لی کہ اس سال مسلمان عمرے کے لئے مکہ نہیں جائیں گے اور یہیں سے واپس ہو جائیں گے تو پھر آپ ﹲ نے حضرت علی (رضي الله عنه) کو معاہدہ لکھنے کا حکم دیا۔ انہوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کے حکم سے، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لکھی، انہوں نے اس پر اعتراض کر دیا کہ رحمٰن، رحیم کو ہم نہیں جانتے۔ ہمارے ہاں جو لفظ استعمال ہوتا ہے، اس کے ساتھ یعنی بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ (اے اللہ ! تیرے نام سے) لکھیں چنانچہ آپ(صلى الله عليه وسلم) نے اسی طرح لکھوایا۔ پھر آپ(صلى الله عليه وسلم) نےلکھوایا یہ وہ دستاویز ہے جس پر محمد رسول اللہ ((صلى الله عليه وسلم)) نے اہل مکہ سے مصالحت کی ہے قریش کے نمائندوں نے کہا، اختلاف کی بنیاد تو آپ (صلى الله عليه وسلم)کی رسالت ہی ہے، اگر ہم آپ (صلى الله عليه وسلم)کو رسول اللہ مان لیں تو اس کے بعد جھگڑا ہی کیا رہ جاتا ہے؟ پھر ہمیں آپ(صلى الله عليه وسلم) سے لڑنے کی اور بیت اللہ میں جانے سے روکنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ آپ ﹲ یہاں محمد رسول اللہ کی جگہ محمد بن عبداللہ لکھیں۔ چنانچہ آپ نے حضرت علی (رضي الله عنه) کو ایسا ہی لکھنے کا حکم دیا۔ (یہ مسلمانوں کے لئے نہایت اشتعال انگیز صورت حال تھی، اگر اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر سکینت نازل نہ فرماتا تو وہ کبھی سے برداشت نہ کرتے) حضرت علی (رضي الله عنه) نے اپنےہاتھ سے محمد رسول اللہ کے الفاظ مٹانے اور کاٹنے سے انکار کر دیا، تو نبی کریم ﹲ نے کہا کہ یہ لفظ کہاں ہے؟ بتانے کے بعد خود آپ ﹲ اسے اپنے دست مبارک سے مٹا دیا اور اس کی جگہ محمد بن عبداللہ تحریر کرنے کو فرمایا۔ اس کے بعد اس معاہدے یا صلح نامے میں تین باتیں لکھیں گئیں۔ 1۔ اہل مکہ میں سےجو مسلمان ہو کر آپ کےپاس آئے گا، اسے واپس کر دیا جائے گا۔ 2 - جو مسلمان اہل مکہ سے جا ملے گا، وہ اس کو واپس کرنے کا پابند نہیں ہوں گے۔ 3 - مسلمان آئندہ سال مکے میں ائیں گے اور یہاں تین دن قیام کر سکیں گے، تاہم انہیں ہتھیار ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ (صحيح مسلم، كتاب الجهاد، باب صلح الحديبية في الحديبية) اور اس کے ساتھ دو باتیں اور لکھی گئیں۔ 1۔ اس سال لڑائی موقوف رہے گی۔ 2 - قبائل میں سے جو چاہے مسلمانوں کے ساتھ اور جو چاہے قریش کے ساتھ ہو جائے۔ ***- اس سے مراد کلمۂ توحید ورسالت لا إِلَهَ إِلا اللهَ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہے، جس سے حدیبیہ والے دن مشرکین نے انکار کیا (ابن کثیر) یا وہ صبر ووقار ہےجس کا مظاہرہ انہوں نے حدیبیہ میں کیا یا وہ وفائے عہد اور اس پر ثبات ہے جو تقویٰ کا نتیجہ ہے۔ (فتح القدیر)

(27) یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خواب سچا دکھایا کہ انشاءاللہ تم یقیناً پورے امن وامان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوگے سرمنڈواتے ہوئے اور سر کے بال کترواتے ہوئے (چین کے ساتھ) نڈر ہو کر*، وه ان امور کو جانتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے**، پس اس نے اس سے پہلے ایک نزدیک کی فتح تمہیں میسر کی.***
* واقعہ حدیبیہ سے پہلے رسول اللہ ﹲ کو خواب میں مسلمانوں کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہو کر طواف وعمرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ نبی کا خواب بھی بمنزلۂ وحی ہی ہوتا ہے۔ تاہم اس خواب میں یہ تعیین نہیں تھی کہ یہ اسی سال ہوگا، لیکن نبی ﹲ اور مسلمان، اسے بشارت عظیمہ سمجھتے ہوئے، عمرےکے لئے فوراً آمادہ ہوگئے اور اس کے لئے عام منادی کرا دی گئی اور چل پڑے۔ بالآخر حدیبیہ میں وہ صلح ہوئی، جس کی تفصیل ابھی گزری، دراں حالیکہ اللہ کے علم میں اس خواب کی تعبیر آئندہ سال تھی، جیسا کہ آئندہ سال مسلمانوں نے نہایت امن کے ساتھ یہ عمرہ کیا اور اللہ نے اپنے پیغمبر کے خواب کو سچا کر دکھایا۔ **- یعنی اگر حدیبیہ کے مقام پر صلح نہ ہوتی تو جنگ سے مکے میں مقیم کمزور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا، صلح کے ان فوائد کو اللہ ہی جانتا تھا۔ ***- اس سے فتح خیبر وفتح مکہ کے علاوہ، صلح کے نتیجےمیں جو بہ کثرت مسلمان ہوئے وہ بھی مراد ہے، کیونکہ وہ بھی فتح کی ایک عظیم قسم ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر مسلمان ڈیڑھ ہزار تھے، اس کے دو سال بعد جب مسلمان مکے میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے تو ان کی تعداد دس ہزار تھی۔

(28) وہی ہے جس نےاپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے*، اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی دینے واﻻ.
* اسلام کا یہ غلبہ دیگر ادیان پر دلائل کے لحاظ سے تو ہر وقت مسلم ہے۔ تاہم دینوی اور عسکری لحاظ سے بھی قرون اولیٰ اور اس کے مابعد عرصہ دراز تک، جب تک مسلمان اپنے دین پر عامل رہے انہیں غلبہ حاصل رہا، اور آج بھی یہ مادی غلبہ ممکن ہے بشرطیکہ مسلمان، مسلمان بن جائیں؛ «وَأَنْتُمُ الأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ» (آل عمران: 139) یہ دین غالب ہونے کے لئے ہی آیا ہے، مغلوب ہونے کے لئے نہیں۔

(29) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اﺛر سے ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے*، مثل اسی کھیتی کے جس نے اپنا انکھوا نکالا** پھر اسے مضبوط کیا اور وه موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا*** تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے****، ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ﺛواب کا وعده کیا ہے.*****
* انجیل پر وقف کی صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ان کی یہ خوبیاں جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں۔ ان کی یہی خوبیاں تورات وانجیل میں مذکور ہیں۔ اور آگے كَزَرْعٍ میں اس سےپہلے ھم محذوف ہوگا۔ اور بعض فِي التَّوْرَاةِ پر وقف کرتے ہیں یعنی ان کی مذکورہ صفت تورات میں ہے اور وَمَثَلُهُمْ فِي الإِنْجِيلِ کو كَزَرْعٍ کے ساتھ ملاتے ہیں۔ یعنی انجیل میں ان کی مثال، مانند اس کھیتی کے ہے۔ (فتح القدیر)۔ **- شَطْأَهُ سے پودے کا وہ پہلا ظہور ہے جو دانہ پھاڑ کر اللہ کی قدرت سے باہر نکلتا ہے۔ ***- یہ صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کی مثال بیان فرمائی گئی ہے۔ ابتدا میں وہ قلیل تھے، پھر زیادہ اور مضبوط ہوگئے، جیسےکھیتی، ابتداء میں کمزور ہوتی ہے، پھر دن بدن قوی ہوتی جاتی ہے حتیٰ کہ مضبوط تنے پر وہ قائم ہو جاتی ہے۔ ****- یا کافر غلظ وغضب میں مبتلا ہوں۔ یعنی صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کا بڑھتا ہوا اثر ونفوذ اور ان کی روز افزوں قوت وطاقت، کافروں کے لئے غیظ وغضب کا باعث تھی، اس لئے کہ اس سے اسلام کا دائرہ پھیل رہا اور کفر کا دائرہ سمٹ رہا تھا۔ اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے بعض ائمہ نے صحابہ کرام (رضي الله عنهم) سے بغض وعناد رکھنے والوں کو کافر قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں اس فرقہ ضالہ کے دیگر عقائد بھی ان کے کفر پر ہی ڈال ہیں۔ *****- اس پوری آیت کا ایک ایک جز صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کی عظمت وفضیلت، اخروی مغفرت اور اجر عظیم کو واضح کر رہا ہے، اس کے بعد بھی صحابہ (رضي الله عنهم) کے ایمان میں شک کرنے والا مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے تو اسے کیوں کر دعوائے مسلمانی میں سچا سمجھا جا سکتا ہے؟

<     >