<     >  

7 - سورۂ اعراف ()

|

(1) المص

(2) یہ ایک کتاب ہے جو آپ کے پاس اس لئے بھیجی گئی ہے کہ آپ اس کے ذریعہ سے ڈرائیں، سو آپ کے دل میں اس سے بالکل تنگی نہ ہو* اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لئے۔
* یعنی اس کے ابلاغ سے آپ کا دل تنگ نہ ہو کہ کہیں کافر میری تکذیب نہ کریں اور مجھے ایذا نہ پہنچائیں اس لئے کہ اللہ آپ کا حافظ و ناصر ہے یا حرج شک کے معنی میں ہے یعنی اس کے منزّل من اللہ ہونے کے بارے میں آپ اپنے سینے میں شک محسوس نہ کریں۔ یہ نہی بطور تعریض ہے اور اصل مخاطب امّت ہے کہ وہ شک نہ کرے۔

(3) تم لوگ اس کا اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے* اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو۔
* جو اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے یعنی قرآن، اور جو رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا یعنی حدیث، کیونکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ ”میں قرآن اور اس کی مثل اس کے ساتھ دیا گیا ہوں“۔ ان دونوں کا اتباع ضروری ہے۔ ان کے علاوہ کسی کا اتباع ضروری نہیں بلکہ ان کا انکار لازمی ہے۔ جیسا کہ اگلے فقرے میں فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی پیروی مت کرو“۔ جس طرح زمانۂ جاہلیت میں سرداروں اور نجومیوں کاہنوں کی بات کو ہی اہمیت دی جاتی حتیٰ کہ حلال وحرام میں بھی ان کو سند تسلیم کیا جاتا تھا۔

(4) اور بہت بستیوں کو ہم نے تباه کردیا اور ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت پہنچا یا ایسی حالت میں کہ وه دوپہر کے وقت آرام میں تھے۔*
* ”قَائِلُونَ“ قَيْلُولَةٌ سے ہے، جو دوپہر کے وقت استراحت (آرام کرنے) کو کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارا عذاب اچانک ایسے وقتوں میں آیا جب وہ آرام و راحت کے لئے بے خبر بستروں میں آسودۂ خواب تھے۔

(5) سو جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا اس وقت ان کے منھ سے بجز اس کے اور کوئی بات نہ نکلی کہ واقعی ہم ﻇالم تھے۔*
* لیکن عذاب آجانے کے بعد ایسے اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں۔ جیسا کہ پہلے وضاحت گذر چکی ہے «فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا» (المؤمن: 85) ”جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو اس وقت ان کا ایمان لانا، ان کے لئے نفع مند نہیں ہوا“۔

(6) پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے اور ہم پیغمبروں سے ضرور پوچھیں گے۔*
* امتوں سے یہ پوچھا جائے گا کہ تمہارے پاس پیغمبر آئے تھے؟ انہوں نے تمہیں ہمارا پیغام پہنچایا تھا؟ وہاں وہ جواب دیں گے کہ ہاں! یااللہ تیرے پیغمبر تو یقیناً ہمارے پاس آئے تھے لیکن ہماری ہی قسمت پھوٹی تھی کہ ہم نے ان کی پروا نہیں کی اور پیغمبروں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے ہمارا پیغام اپنی امتوں کو پہنچایا تھا؟ اور انہوں نے اس کے مقابلے میں کیا رویّہ اختیار کیا؟ پیغمبر اس سوال کا جواب دیں گے۔ جس کی تفصیل قرآن مجید کے مختلف مقامات پر موجود ہے۔

(7) پھر ہم چونکہ پوری خبر رکھتے ہیں ان کے روبرو بیان کردیں گے*۔ اور ہم کچھ بے خبر نہ تھے۔
* چونکہ ہر ظاہر اور پوشیدہ بات کا علم رکھتے ہیں اس لئے ہم پھر دونوں (امتیوں اور پیغمبروں) کے سامنے ساری باتیں بیان کریں گے اور جو کچھ انہوں نے کیا ہوگا، ان کے سامنے رکھ دیں گے۔

(8) اور اس روز وزن بھی برحق ہے پھر جس شخص کا پلا بھاری ہوگا سو ایسے لوگ کامیاب ہوں گے۔

(9) اور جس شخص کا پلا ہلکا ہوگا سو یہ وه لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا بسبب اس کے کہ ہماری آیتوں کے ساتھ ﻇلم کرتے تھے۔*
* ان آیات میں وزن اعمال کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے جو قیامت والے دن ہوگا اور جسے قرآن کریم میں بھی متعدد جگہ اور احادیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ترازو میں اعمال تولے جائیں گے، جس کا نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوگا، وہ کامیاب ہوگا اور جس کا بدیوں والا پلڑا بھاری ہوگا، وہ ناکام ہوگا۔ یہ اعمال کس طرح تولے جائیں گے جب کہ یہ اعراض ہیں یعنی ان کا ظاہری وجود اور جسم نہیں ہے؟ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان کو اجسام میں تبدیل فرما دے گا اور ان کا وزن ہوگا۔ دوسری رائے تو یہ ہے کہ وہ صحیفے اور رجسٹر تو لے جائیں گے جن میں انسان کے اعمال درﺝ ہوں گے۔ تیسری رائے یہ ہے کہ خود صاحب عمل کو تولا جائے گا۔ تینوں مسلکوں والوں کے پاس اپنے مسلک کی حمایت میں صحیح احادیث و آثار موجود ہیں، اس لئے امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ تینوں ہی باتیں صحیح ہوسکتی ہیں ممکن ہے کبھی اعمال، کبھی صحیفے اور کبھی صاحب عمل کو تولا جائے (دلائل کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر) بہرحال میزان اور وزن اعمال کا مسئلہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ اس کا انکار یا اس کی تاویل گمراہی ہے۔ اور موجودہ دور میں تو اس کے انکار کی اب مزید کوئی گنجائش نہیں کہ بے وزن چیزیں بھی تولی جانے لگی ہیں۔

(10) اور بے شک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان رزق پیدا کیا، تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔

(11) اور ہم نے تم کو پیدا کیا*، پھر ہم ہی نے تمہاری صورت بنائی پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجده کرو سو سب نے سجده کیا بجز ابلیس کے، وه سجده کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔
* خَلَقْنَاكُمْ میں ضمیر اگرچہ جمع کی ہے لیکن مراد ابوالبشر حضرت آدم (عليه السلام) ہیں۔

(12) حق تعالیٰ نے فرمایا تو جو سجده نہیں کرتا تو تجھ کو اس سے کون امر مانع ہے*، جبکہ میں تجھ کو حکم دے چکا، کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو آپ نے خاک سے پیدا کیا ہے۔**
* ”أَلا تَسْجُدَ“ میں لا زائد ہے یعنی أَنْ تَسْجُدَ ( تجھے سجدہ کرنے سے کس نے روکا) یا عبارت محذوف ہے ”یعنی تجھے کس چیز نے اس بات پر مجبور کیا کہ تو سجدہ نہ کرے۔“ (ابن کثیر وفتح القدیر) شیطان، فرشتوں میں سے نہیں تھا، بلکہ خود قرآن کی صراحت کے بموجب وہ جنات میں سے تھا۔ (الكهف: 50) لیکن آسمان پر فرشتوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اس سجدہ حکم میں شامل تھا جو اللہ نے فرشتوں کو دیا تھا۔ اسی لئے اس سے باز پرس بھی ہوئی اور اس پر عتاب بھی نازل ہوا۔ اگر وہ اس حکم میں شامل ہی نہ ہوتا تو اس سے باز پرس ہوتی نہ وہ راندۂ درگاہ قرار پاتا۔ **- شیطان کا یہ عذر (عذر گناہ بدتر از گناہ) کا آئینہ دار ہے۔ ایک تو اس کا یہ سمجھنا کہ افضل کو مفضول کی تعظیم کا حکم نہیں دیا جاسکتا، غلط ہے۔ اس لئے کہ اصل چیز تو اللہ کا حکم ہے، اس کے حکم کے مقابلے میں افضل وغیرافضل کی بحث اللہ سے سرتابی ہے۔ دوسرے، اس نے بہتر ہونے کی دلیل یہ دی کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور یہ مٹی سے۔ لیکن اس نے اس شرف وعظمت کو نظر انداز کردیا جو حضرت آدم علیہ السلام کو حاصل ہوا کہ اللہ نے انہیں اپنے ہاتھ سے بنایا اور اپنی طرف سے اس میں روح پھونکی۔ اس شرف کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز بھی ہوسکتی ہے؟ تیسرا، نص کے مقابلے میں قیاس سے کام لیا، جو کسی بھی اللہ کو ماننے والے کا شیوہ نہیں ہوسکتا۔ علاوہ ازیں اس کا قیاس فاسد تھا۔ آگ، مٹی سے کس طرح بہتر ہے؟ آگ میں سوائے تیزی، بھڑکنے اور جلانے کے کیا ہے؟ جب کہ مٹی میں سکون اور ثبات ہے، اس میں نبات ونمو، زیادتی اور اصلاح کی صلاحیت ہے۔ یہ صفات آگ سے بہرحال بہتر اور زیادہ مفید ہیں۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ شیطان کی تخلیق آگ سے ہوئی۔ جیسا کہ حدیث میں بھی آتا ہے کہ ”فرشتے نور سے، ابلیس آگ کی لپٹ سے اور آدم (عليه السلام) مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں“۔ (صحيح مسلم كتاب الزهد، باب في أحاديث متفرقة)

(13) حق تعالیٰ نے فرمایا آسمان سے اتر* تجھ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ تو آسمان میں ره کر تکبر کرے سو نکل بے شک تو ذلیلوں میں سے ہے۔**
* ”مِنْهَا“ کی ضمیر کا مرجع اکثر مفسرین نے جنت کو قرار دیا ہے اور بعض نے اس مرتبہ کو جو ملکوت اعلیٰ میں اسے حاصل تھا۔ فاضل مترجم نے اسی دوسرے مفہوم کے مطابق آسمان ترجمہ کیا ہے۔ٍ **- اللہ کے حکم کے مقابلے میں تکبر کرنے والا احترام وتعظیم کا نہیں، ذلت وخواری کا مستحق ہے۔

(14) اس نے کہا کہ مجھ کو مہلت دیجئے قیامت کے دن تک۔

(15) اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھ کو مہلت دی گئی۔*
* اللہ تعالیٰ نے اس کی خواہش کے مطابق اسے مہلت عطا فرمادی جو اس کی حکمت، ارادے اور مشیت کے مطابق تھی جس کا پورا علم اسی کو ہے۔ تاہم ایک حکمت یہ نظر آتی ہے کہ اس طرح اپنے بندوں کی وہ آزمائش کرسکے گا کہ کون رحمٰن کا بندہ بنتا ہے اور کون شیطان کا پجاری؟۔

(16) اس نے کہا بسبب اس کے کہ آپ نے مجھ کو گمراه کیا ہے* میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے لئے آپ کی سیدھی راه پر بیٹھوں گا۔
* گمراہ تو وہ اللہ کی تکوینی مشیت کے تحت ہوا۔ لیکن اس نے اسے بھی مشرکوں کی طرح الزام بنالیا، جس طرح وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔

(17) پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور ان کی داہنی جانب سے بھی اور ان کی بائیں جانب سے بھی* اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائیے گا۔**
* مطلب یہ ہے کہ ہر خیر اور شر کے راستے پر میں بیٹھوں گا۔ خیر سے ان کو روکوں گا اور شر کو ان کی نظروں میں پسندیدہ بناکر ان کو اختیار کرنے کی ترغیب دوں گا۔ **- ”شَاكِرِينَ“ کے دوسرے معنی مُوَحِّدِينَ کے کئے گئے ہیں۔ یعنی اکثر لوگوں کو میں شرک میں مبتلا کردوں گا۔ شیطان نے اپنا یہ گمان فی الواقع سچا کر دکھایا «وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلا فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» (سورة سبأ: 20) ”شیطان نے اپنا گمان سچا کر دکھایا، اور مومنوں کے ایک گروہ کو چھوڑ کر سب لوگ اس کے پیچھے لگ گئے“۔ اسی لئے احادیث میں شیطان سے پناہ مانگنے کی اور قرآن میں اس کے مکر وکید سے بچنے کی بڑی تاکید آئی ہے۔

(18) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہاں سے ذلیل وخوار ہوکر نکل جا جو شخص ان میں سے تیرا کہنا مانے گا میں ضرور تم سب سے جہنم کو بھردوں گا۔

(19) اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ پھر جس جگہ سے چاہو دونوں کھاؤ، اور اس درخت کے پاس مت جاؤ* ورنہ تم دونوں ﻇالموں میں سے ہوجاؤ گے۔
* یعنی صرف اس ایک درخت کو چھوڑ کہ جہاں سے اور جتنا چاہو، کھاؤ۔ ایک درخت کا پھل کھانے کی پابندی آزمائش کے طور پر عائد کردی۔

(20) پھر شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ* ڈاﻻ تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے پوشیده تھیں دونوں کے روبرو بے پرده** کردے اور کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے اور کسی سبب سے منع نہیں فرمایا، مگر محض اس وجہ سے کہ تم دونوں کہیں فرشتے ہوجاؤ یا کہیں ہمیشہ زنده رہنے والوں میں سے ہوجاؤ۔
* ”وَسْوَسَةٌ“ اور وِسْوَاسٌ، زَلْزَلَةٌ اور زِلْزَالٌ کے وزن پر ہے۔ پست آواز اور نفس کی بات۔ شیطان دل میں جو بری باتیں ڈالتا ہے، اس کو وسوسہ کہا جاتا ہے۔ **- یعنی شیطان کا مقصد اس بہکاوﮮ سے حضرت آدم وحوا کو اس لباس جنت سے محروم کرکے انہیں شرمندہ کرنا تھا، جو انہیں جنت میں پہننے کے لئے دیا گیا تھا ”سَوْآتٌ“ سَوْءَةٌ (شرم گاہ) کی جمع ہے. شرم گاہ کوسَوْءَةٌ سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ اس کے ظاہر ہونے کو برا سمجھا جاتا ہے۔

(21) اور ان دونوں کے روبرو قسم کھالی کہ یقین جانیئے میں تم دونوں کا خیر خواه ہوں>*
* جنت کی جو نعمتیں اور آسائشیں حضرت آدم وحوا علیھما الّسلام کو حاصل تھیں، اس کے حوالے سے شیطان نے دونوں کو بہلایا اور جھوٹ بولا کہ اللہ تمہیں ہمیشہ جنت میں رکھنا نہیں چاہتا، اسی لئے اس درخت کا پھل کھانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس کی تاثیر ہی یہ ہے کہ جو اسے کھا لیتا ہے، وہ فرشتہ بن جاتا ہے یا دائمی زندگی اسے حاصل ہوجاتی ہے پھر قسم کھا کر اپنا خیرخواہ ہونا بھی ظاہر کیا، جس سے حضرت آدم وحّو ا علیھما السلام متاثر ہوگئے اس لئے کہ اللہ والے، اللہ کے نام پر آسانی سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔

(22) سو ان دونوں کو فریب سے نیچے* لے آیا پس ان دونوں نے جب درخت کو چکھا دونوں کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے روبرو بے پرده ہوگئیں اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر رکھنے لگے** اور ان کے رب نے ان کو پکارا کیا میں تم دونوں کو اس درخت سے منع نہ کرچکا تھا اور یہ نہ کہہ چکا کہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے؟***
* ”تَدْلِية“ اور ”إِدْلاءٌ“ کے معنی ہیں کسی چیز کو اوپر سے نیچے چھوڑ دینا۔ گویا شیطان ان کو مرتبہ علیا سے اتار کر ممنوعہ درخت کا پھل کھانے تک لے آیا۔ **- یہ اس معصیت کا اثر ظاہر ہوا جو آدم (عليه السلام) وحوا سے غیر شعوری اور غیر ارادی طور پر ہوئی اور پھر دونوں مارے شرم کے جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر اپنی شرم گاہ چھپانے لگے۔ وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ اس سے قبل انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا نورانی لباس ملا ہوا تھا، جو اگرچہ غیرمرئی تھا لیکن ایک دوسرے کی شرم گاہ کے لئے ساتر (پردہ پوش) تھا۔ (ابن کثیر ) ***- یعنی اس تنبیہ کے باوجود تم شیطان کے وسوسوں کا شکار ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان کے جال بڑے حسین اور دلفریب ہوتے ہیں اور جن سے بچنے کے لئے بڑی کاوش ومحنت اور ہر وقت اس سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

(23) دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔*
* توبہ واستغفار کے یہ وہی کلمات ہیں جو حضرت آدم (عليه السلام) نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے سیکھے، جیسا کہ سورۂ بقرہ، آیت 37 میں صراحت ہے۔ (دیکھئے آیت مذکورہ کا حاشیہ) گویا شیطان نے اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا تو اس کے بعد وہ اس پر نہ صرف اڑ گیا بلکہ اس کے جواز و اثبات میں عقلی و قیاسی دلائل دینے لگا۔ نتیجتاً وہ راندۂ درگاہ اور ہمیشہ کے لئے ملعون قرار پایا اور حضرت آدم (عليه السلام) نے اپنی غلطی پر ندامت و پشیمانی کا اظہار اور بارگاہ الٰہی میں توبہ و استغفار کا اہتمام کیا۔ تو اللہ کی رحمت و مغفرت کے مستحق قرار پائے۔ یوں گویا دونوں راستوں کی نشان دہی ہوگئی، شیطانی راستے کی بھی اور اللہ والوں کے راستے کی بھی۔ گناہ کرکے اس پر اترانا، اصرار کرنا اور اس کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ”دلائل“ کے انبار فراہم کرنا، شیطانی راستہ ہے۔ اور گناہ کے بعد احساس ندامت ہوکر بارگاہ الٰہی میں جھک جانا اور توبہ و استغفار کا اہتمام کرنا، بندگان الٰہی کا راستہ ہے۔ اللَّهُمَّ! اجْعَلْنَا مِنْهُمْ۔

(24) حق تعالیٰ نے فرمایا کہ نیچے ایسی حالت میں جاؤ کہ تم باہم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہارے واسطے زمین میں رہنے کی جگہ ہے اور نفع حاصل کرنا ہے ایک وقت تک۔

(25) فرمایا تم کو وہاں ہی زندگی بسر کرنا ہے اور وہاں ہی مرنا ہے اور اسی میں سے پھر نکالے جاؤ گے۔

(26) اے آدم (علیہ السلام) کی اوﻻد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے* اور تقوے کا لباس**، یہ اس سے بڑھ کر ہے***۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یاد رکھیں۔
* ”سَوْآتٌ“ جسم کے وہ حصے جنہیں چھپانا ضروری ہے۔ جیسے شرم گاہ اور ”رِيشًا“ وہ لباس جو حسن ورعنائی کے لئے پہنا جائے۔ گویا لباس کی پہلی قسم ضروریات سے اور دوسری قسم تکملہ واضافہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قسموں کے لباس کے لئے سامان اور مواد پیدا فرمایا۔ **- اس سے مراد بعض کے نزدیک وہ لباس ہے جو متقین قیامت والے دن پہنیں گے۔ بعض کے نزدیک ایمان، بعض کے نزدیک عمل صالح، خشیت الٰہی وغیرہ ہیں۔ مفہوم سب کا تقریباً ایک ہے کہ ایسا لباس، جسے پہن کر انسان تکبر کرنے کے بجائے، اللہ سے ڈرے اور ایمان و عمل صالح کے تقاضوں کا اہتمام کرے۔ ***- اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ زیب و زینت اور آرائش کے لئے بھی اگرچہ لباس پہننا جائز ہے۔ تاہم لباس میں ایسی سادگی زیادہ پسندیدہ ہے جو انسان کے زہد وورع اور تقویٰ کی مظہر ہو۔ علاوہ ازیں نیا لباس پہن کر یہ دعا بھی پڑھی جائے، کیونکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) یہ دعا پڑھا کرتے تھے ”الْحَمْدُ للهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي“ (ترمذي ، أبواب الدعوات - ابن ماجه ، كتاب اللباس ، باب ما يقول الرجل إذا لبس ثوبا جديدا) ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے ایسا لباس پہنایا جس سے میں اپنا ستر چھپالوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کروں“۔

(27) اے اوﻻد آدم! شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے جیسا اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے باہر کرا دیا ایسی حالت میں ان کا لباس بھی اتروا دیا تاکہ وه ان کو ان کی شرم گاہیں دکھائے۔ وه اور اس کا لشکر تم کو ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے ہو*۔ ہم نے شیطانوں کو ان ہی لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں ﻻتے۔**
* اس میں اہل ایمان کو شیطان اور اس کے قبیلے یعنی چیلے چانٹوں سے ڈرایا گیا ہے کہ کہیں وہ تمہاری غفلت اور سستی سے فائدہ اٹھا کر تمہیں بھی اس طرح فتنے اور گمراہی میں نہ ڈال دے جس طرح تمہارے ماں باپ (آدم و حوا) کو اس نے جنت سے نکلوﺍ دیا اور لباس جنت بھی اتروا دیا۔ بالخصوص جب کہ وہ نظر بھی نہیں آتے۔ تو اس سے بچنے کا اہتمام و فکر بھی زیادہ ہونی چاہئے۔ **- یعنی بے ایمان قسم کے لوگ ہی اس کے دوست اور اس کے خاﺹ شکار ہیں۔ تاہم اہل ایمان پر بھی وہ ڈورے ڈالتا رہتا ہے۔ کچھ اور نہیں تو شرک خفی (ریاکاری) اور شرک جلی میں ہی ان کو مبتلا کر دیتا ہے اور یوں ان کو بھی ایمان کے بعد ایمان صحیح کی پونجی سے محروم کر دیتا ہے۔

(28) اور وه لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ نے بھی ہم کو یہی بتایا ہے۔ آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ فحش بات کی تعلیم نہیں دیتا، کیا اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کی تم سند نہیں رکھتے؟*
* اسلام سے قبل مشرکین بیت اللہ کا ننگا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس حالت کو اختیار کرکے طواف کرتے ہیں جو اس وقت تھی جب ہمیں ہماری ماؤں نے جنا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ اس کی یہ تاویل کرتے تھے کہ ہم جو لباس پہنے ہوتے ہیں اس میں ہم اللہ کی نافرمانی کرتے رہتے ہیں، اس لئے اس لباس میں طواف کرنا مناسب نہیں۔ چنانچہ وہ لباس اتار کر طواف کرتے اور عورتیں بھی ننگی طواف کرتیں، صرف شرم گاہ پر کپڑا یا چمڑے کا ٹکڑا رکھ لیتیں۔ اپنے اس شرمناک فعل کے لئے دو عذر انہوں نے اور پیش کئے۔ ایک تو یہ کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو اس طرح ہی کرتے پایا ہے۔ دوسرا، یہ کہ اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بے حیائی کا حکم دے ؟ یعنی تم اللہ کے ذمے وہ بات لگاتے ہو جو اس نے نہیں کہی۔ اس آیت میں ان مقلدین کے لئے بڑی زجر و توبیخ ہے جو آباپرستی، پیرپرستی اور شخصیت پرستی میں مبتلا ہیں، جب انہیں بھی حق کی بات بتلائی جاتی ہے تو اس کے مقابلے میں یہی عذر پیش کرتے ہیں کہ ہمارے بڑے یہی کرتے آئے ہیں یا ہمارے امام اور پیر وشیخ کا یہی حکم ہے۔ یہی وہ خصلت ہے جس کی وجہ سے یہودی، یہودیت پر، نصرانی نصرانیت پر اور بدعتی بدعتوں پر قائم رہے۔ (فتح القدیر)

(29) آپ کہہ دیجیئے کہ میرے رب نے حکم دیا ہے انصاف کا* اور یہ کہ تم ہر سجده کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھا کرو** اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طور پر کرو کہ اس عبادت کو خالص اللہ ہی کے واسطے رکھو۔ تم کو اللہ نے جس طرح شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم دوباره پیدا ہوگے۔
* انصاف سے مراد یہاں بعض کے نزدیک ”لا إِلَهَ إِلا اللهُ“ یعنی توحید ہے۔ **- امام شوکانی نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ”اپنی نمازوں میں اپنا رخ قبلے کی طرف کرلو، چاہے تم کسی بھی مسجد میں ہو“ اور امام ابن کثیر نے اس سے استقامت بمعنی متابعت رسول مراد لی ہے اور اگلے جملے سے اخلاص للہ اور کہا ہے کہ ہر عمل کی مقبولیت کے لئے ضروری ہے کہ وہ شریعت کے مطابق ہو اور دوسرے خالص رضائے الٰہی کے لئے ہو۔ آیت میں ان باتوں کی تاکید کی گئی ہے۔

(30) بعض لوگوں کو اللہ نے ہدایت دی ہے اور بعض پر گمراہی ﺛابت ہوگئی ہے۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنالیا ہے اور خیال رکھتے ہیں کہ وه راست پر ہیں۔

(31) اے اوﻻد آدم! تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو*۔ اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے مت نکلو۔ بےشک اللہ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔**
* آیت میں زینت سے مراد لباس ہے۔ اس کا سبب نزول بھی مشرکین کے ننگے طواف سے متعلق ہے۔ اس لئے انہیں کہا گیا کہ لباس پہن کر اللہ کی عبادت کرو اور طواف کرو۔ **- ”إِسْرَافٌ“ (حد سے نکل جانا) کسی چیز میں حتیٰ کہ کھانے پینے میں بھی ناپسندیدہ ہے۔ ایک حدیث میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”جو چاہو، کھاوء۔ جو چاہو پہنو! البتہ دو باتوں سے گریز کرو۔ اسراف اور تکبرسے“ (صحيح بخاري، كتاب اللباس، باب قول الله تعالى قل من حرم زينة الله) بعض سلف کا قول ہے، اللہ تعالیٰ نے وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلا تُسْرِفُوا اس آدھی آیت میں ساری طب جمع فرمادی ہے۔ (ابن کثیر ) بعض کہتے ہیں زینت سے وہ لباس مراد ہے جو آرائش کے لئے پہنا جائے۔ جس سے ان کے نزدیک نماز اور طواف کے وقت تزئین کا حکم نکلتا ہے۔ اس آیت سے نماز میں ستر عورت کے وجوب پر بھی استدلال کیا گیا ہے بلکہ احادیث کی رو سے ستر عورت (گھٹنوں سے لے کر ناف تک کے حصے کو ڈھانپنا) ہر حال میں ضروری ہے چاہے آدمی خلوت میں ہی ہو۔ (فتح القدیر) جمعہ اور عید کے دن خوشبو کا استعمال بھی مستحب ہے کہ یہ بھی زینت کا حصہ ہے۔ (ابن کثیر)

(32) آپ فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے اسباب زینت کو، جن کو اس نے اپنے بندوں کے واسطے بنایا ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کو کس شخص نے حرام کیا ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ اشیا اس طور پر کہ قیامت کے روز خالص ہوں گی اہل ایمان کے لئے، دنیوی زندگی میں مومنوں کے لئے بھی ہیں*۔ ہم اسی طرح تمام آیات کو سمجھ داروں کے واسطے صاف صاف بیان کرتے ہیں۔
* مشرکین نے جس طرح طواف کے وقت لباس پہننے کو ناپسندیدہ قرار دے رکھا تھا، اسی طرح بعض حلال چیزیں بھی بطور تقرب الٰہی اپنے اوپر حرام کرلی تھیں (جیسا کہ بعض صوفیا بھی ایسا کرتے ہیں) نیز بہت سی حلال چیزیں اپنے بتوں کے نام وقف کردینے کی وجہ سے حرام گردانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لوگوں کی زینت کے لئے (مثلاً لباس وغیرہ) اور کھانے کی عمدہ چیزیں بنائی ہیں، انہیں کون حرام کرنے والا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے حرام کرلینے سے اللہ کی حلال کردہ چیزیں حرام نہیں ہو جائیں گی، وہ حلال ہی رہیں گی۔ یہ حلال و طیب چیزیں اصلاً اللہ نے اہل ایمان ہی کے لئے بنائی ہیں۔ گو کفار بھی ان سے فیض یاب اور متمتع ہو لیتے ہیں بلکہ بعض دفعہ دنیوی چیزوں اور آسائشوں کے حصول میں وہ مسلمانوں سے زیادہ کامیاب نظر آتے ہیں لیکن یہ بالتبع اور عارضی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی تکوینی مشیت اور حکمت ہے۔ تاہم قیامت والے دن یہ نعمتیں صرف اہل ایمان کے لئے ہوں گی کیونکہ کافروں پر جس طرح جنت حرام ہوگی، اسی طرح ماکولات و مشروبات بھی حرام ہوں گے۔

(33) آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں* اور جو پوشیده ہیں اور ہر گناه کی بات کو اور ناحق کسی پر ﻇلم کرنے کو** اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگادو جس کو تم جانتے نہیں۔
* علانیہ فحش باتوں سے مراد بعض کے نزدیک طوائفوں کے اڈوں پر جاکر بدکاری اور پوشیدہ سے مراد کسی ”گرل فرینڈ“ سے خصوصی تعلق قائم کرنا ہے۔ بعض کے نزدیک اول الذکر سے مراد محرموں سے نکاح کرنا ہے جو ممنوع ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کسی ایک صورت کے ساتھ خاص نہیں بلکہ عام ہے اور ہر قسم کی ظاہری بے حیائی کو شامل ہے (جیسے فلمیں، ڈرامے ، ٹی وی، وی سی آر، فحش اخبارات ورسائل، رقص وسرود اور مجروں کی محفلیں، عورتوں کی بے پردگی اور مردوں سے ان کا بے باکانہ اختلاط، مہندی اور شادی کی رسموں میں بے حیائی کے کھلے عام مظاہر وغیرہ، یہ سب فواحش ظاہرہ ہیں)۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهَا۔ **- گناہ، اللہ کی نافرمانی کا نام ہے اور ایک حدیث میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے اور لوگوں کے اس پر مطلع ہونے کو تو برا سمجھے“۔ (صحیح مسلم، کتاب البر) بعض کہتے ہیں گناہ وہ ہے جس کا اثر، کرنے والے کی اپنی ذات تک محدود ہو اور بغی یہ ہے کہ اس کے اثرات دوسروں تک بھی پہنچیں یہاں بغی کے ساتھ بغیر الحق کا مطلب، ناحق، ظلم وزیادتی مثلاً لوگوں کا حق غصب کرلینا، کسی کا مال ہتھیا لینا، ناجائز مارنا پیٹنا اور سب و شتم کرکے بے عزتی کرنا وغیرہ ہے۔

(34) اور ہر گروه کے لئے ایک میعاد معین* ہے سو جس وقت ان کی میعاد معین آجائے گی اس وقت ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔
* میعاد معین سے مراد وہ مہلت عمل ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ ہر گروہ کو آزمانے کے لئے عطا فرماتا ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے یا اس کی بغاوت وسرکشی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ یہ مہلت بعض دفعہ ان کی پوری زندگیوں تک ممتد ہوتی ہے۔ یعنی دنیوی زندگی میں وہ گرفت نہیں فرماتا بلکہ صرف آخرت میں ہی وہ سزا دے گا ان کی اجل مسمی قیامت کا دن ہی ہے اور جن کو دنیا میں وہ عذاب سے دوچار کر دیتا ہے، ان کی اجل مسمیٰ وہ ہے جب ان کا مواخذہ فرماتا ہے۔

(35) اے اوﻻد آدم! اگر تمہارے پاس پیغمبر آئیں جو تم ہی میں سے ہوں جو میرے احکام تم سے بیان کریں تو جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور درستی کرے سو ان لوگوں پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ وه غمگین ہوں گے۔*
* یہ ان اہل ایمان کا حسن انجام بیان کیا گیا ہے جو تقویٰ اور عمل صالح سے آراستہ ہوں گے۔ قرآن نے ایمان کے ساتھ، اکثر جگہ، عمل صالح کا ذکر ضرور کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عنداللہ ایمان وہی معتبر ہے جس کے ساتھ عمل بھی ہوگا۔

(36) اور جو لوگ ہمارے ان احکام کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کریں وه لوگ دوزخ والے ہوں گے وه اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔*
* اس میں اہل ایمان کے برعکس ان لوگوں کا برا انجام بیان کیا گیا ہے جو اللہ کے احکام کی تکذیب اور ان کے مقابلے میں استکبار کرتے ہیں۔ اہل ایمان اور اہل کفر دونوں کا انجام بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ لوگ اس کردار کو اپنائیں جس کا انجام اچھا ہے اور اس کردار سے بچیں جس کا انجام برا ہے۔

(37) سو اس شخص سے زیاده ﻇالم کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتائے، ان لوگوں کے نصیب کا جو کچھ کتاب سے ہے وه ان کو مل جائے گا*، یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی جان قبض کرنے آئیں گے تو کہیں گے کہ وه کہاں گئے جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، وه کہیں گے کہ ہم سے سب غائب ہوگئے اور اپنے کافر ہونے کا اقرار کریں گے۔
* اس کے مختلف معانی بیان کئے گئے ہیں۔ ایک معنی عمل، رزق اور عمر کے کئے گئے ہیں۔ یعنی ان کے مقدر میں جو عمر اور رزق ہے اسے پورا کر لینے، اور جتنی عمر ہے، اس کو گزار لینے کے بعد بالآخر موت سے ہمکنار ہوں گے۔ اسی کے ہم معنی یہ آیت ہے «إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لا يُفْلِحُونَ، مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ» الآية (يونس: 69 ، 70) ”جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، وہ کاﻣیاب نہیں ہوں گے، دنیا کا چند روزہ فائدہ اٹھا کر، بالآخر ہمارے پاس ہی انہیں لوٹ کر آنا ہے۔“

(38) اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو فرقے تم سے پہلے گزر چکے ہیں* جنات میں سے بھی اور آدمیوں میں سے بھی، ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جاؤ۔ جس وقت بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی** یہاں تک کہ جب اس میں سب جمع ہوجائیں گے*** تو پچھلے لوگ پہلے لوگوں کی نسبت کہیں گے**** کہ ہمارے پروردگار ہم کو ان لوگوں نے گمراه کیا تھا سو ان کو دوزخ کا عذاب دو گنا دے*****۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ سب ہی کا دوگنا ہے******، لیکن تم کو خبر نہیں۔
* ”أُمَم ٌ“ أمَّةٌ کی جمع ہے۔ مراد وہ فرقے اور گروہ ہیں جو کفروشقاق اور شرک وتکذیب میں ایک جیسے ہوں گے۔ ”فِي“ بمعنی ”مَعَ“ بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی تم سے پہلے انسانوں اور جنوں میں جو گروہ تم جیسے یہاں آچکے ہیں، ان کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاوء یا ان میں شامل ہوجاؤ۔ **- ”لَعَنَتْ أُخْتَهَا“ اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی۔ أُخْتٌ بہن کو کہتے ہیں۔ ایک جماعت (امت) کو دوسری جماعت (امت) کی بہن بہ اعتبار دین، یا گمراہی کے کہا گیا۔ یعنی دونوں ہی ایک غلط مذہب کے پیرو یا گمراہ تھے یا جہنم کے ساتھی ہونے کے اعتبار سے ان کو ایک دوسری کی بہن قرار دیا گیا ہے۔ ***- ”ادَّارَكُوا“ کے معنی ہیں تَدَارَكُوا جب ایک دوسرے کو ملیں گے اور باہم اکٹھے ہوں گے۔ ****- ”أُخْرَىٰ“ (پچھلے) سے مراد بعد میں داخل ہونے والے اور اولیٰ (پہلے) سے مراد ان سے پہلے داخل ہونے والے ہیں۔ یا أُخْرَىٰ سےأَتْبَاعٌ ( پیروکار) اور أُولَى سے مَتْبُوعٌ لیڈر اور سردار ہیں۔ ان کا جرم چونکہ زیادہ شدید ہے کہ خود بھی راہ حق سے دور رہے اور دوسروں کو بھی کوشش کرکے اس سے دور رکھا، اس لئے یہ اپنے اتباع سے پہلے جہنم میں جائیں گے۔ *****- جس طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ جہنمی کہیں گے «رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَ * رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا» ( الاحزاب: 67۔ 68) ”اے ہمارے رب! ہم تو اپنے سرداروں اور بڑوں کے پیچھے لگے رہے، پس انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے گمراہ کیا، یااللہ ان کو دوگنا عذاب دے اور ان کو بڑی لعنت کر“۔ ******- یعنی اب ایک دوسرے کو طعنے دینے، کوسنے اور ایک دوسرے پر الزام دھرنے سے کوئی فائدہ نہیں، تم سب ہی اپنی اپنی جگہ بڑے مجرم ہو اور تم سب ہی دوگنے عذاب کے مستحق ہو۔ اتباع اور متبوعین کا یہ مکالمہ سورۂ سبا: 31، 32 میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

(39) اور پہلے لوگ پچھلے لوگوں سے کہیں گے کہ پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت نہیں سو تم بھی اپنی کمائی کے بدلے میں عذاب کامزه چکھو۔

(40) جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے* اور وه لوگ کبھی جنت میں نہ جائیں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ کے اندر سے نہ چلا جائے** اور ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔
* اس سے بعض نے اعمال، بعض نے ارواح اور بعض نے دعا مراد لی ہے۔ یعنی ان کے عملوں، یا روحوں یا دعا کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے، یعنی اعمال اور دعا قبول نہیں ہوتی اور روحیں واپس زمین میں لوٹا دی جاتی ہیں (جیسا کہ مسند احمد، جلد 2، صفحہ 364، 365 کی ایک حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے) امام شوکانی فرماتے ہیں کہ تینوں ہی چیزیں مراد ہوسکتی ہیں۔ **- یہ تعلیق بالمحال ہے جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گذرنا ممکن نہیں، اسی طرح اہل کفر کا جنت میں داخلہ ممکن نہیں۔ اونٹ کی مثال بیان فرمائی اس لئے کہ اونٹ عربوں میں متعارف تھا اور جسمانی اعتبار سے ایک بڑا جانور تھا۔ اور سوئی کا ناکہ (سوراخ) یہ اپنے باریک اور تنگ ہونے کے اعتبار سے بے مثال ہے۔ ان دونوں کے ذکر نے اس تعلیق بالمحال کے مفہوم کو غایت درجے واضح کردیا ہے۔ تعلیق بالمحال کا مطلب ہے، ایسی چیز کے ساتھ مشروط کر دینا جو ناممکن ہو۔ جیسے اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اب کسی چیز کے وقوع کو، اونٹ کے سوئی کے ناکے میں داخل ہونے کے ساتھ مشروط کردینا، تعلیق بالمحال ہے۔

(41) ان کے لئے آتش دوزخ کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر (اسی کا) اوڑھنا ہوگا* اور ہم ایسے ﻇالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔
* ”غَواشٍ“ غَاشِيَةٌ کی جمع ہے۔ ڈھانپ لینے والی۔ یعنی آگ ہی ان کا اوڑھنا ہوگا یعنی اوپر سے بھی آگ نے ان کو ڈھانپا یعنی گھیرا ہوگا۔

(42) اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام کئے ہم کسی شخص کو اس کی قدرت سے زیاده کسی کا مکلف نہیں بناتے* وہی لوگ جنت والے ہیں اور وه اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
* یہ جملہ معترضہ ہے جس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ ایمان اور عمل صالح، یہ ایسی چیزیں نہیں ہیں کہ جو انسانی طاقت سے زیادہ ہوں اور انسان ان پر عمل کرنے کی قدرت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ ہر انسان ان کو بہ آسانی اپنا سکتا ہے اور ان کے مقتضیات کو بروئے عمل لاسکتا ہے۔

(43) اور جو کچھ ان کے دلوں میں (کینہ) تھا ہم اس کو دور کردیں گے*۔ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اور وه لوگ کہیں گے کہ اللہ کا (لاکھ لاکھ) شکر ہے جس نے ہم کو اس مقام تک پہنچایا اور ہماری کبھی رسائی نہ ہوتی اگر اللہ تعالیٰ ہم کو نہ پہنچاتا**۔ واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی باتیں لے کر آئے تھے۔ اور ان سے پکار کر کہا جائے گا کہ اس جنت کے تم وارث بنائے گئے ہو اپنے اعمال کے بدلے۔***
* ”غِلٍّ“ اس کینے اور بغض کو کہا جاتا ہے جو سینوں میں مستور ہو۔ اللہ تعالیٰ اہل جنت پر یہ انعام بھی فرمائے گا کہ ان کے سینوں میں ایک دوسرے کے خلاف بغض وعداوت کے جو جذبات ہوں گے، وہ دور کردے گا، پھر ان کے دل ایک دوسرے کے بارے میں آئینے کی طرح صاف ہوجائیں گے، کسی کے بارے میں دل میں کوئی کدورت اور عداوت نہیں رہے گی۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اہل جنت کے درمیان درجات و منازل کا جو تفاوت ہوگا، اس پر وہ ایک دوسرے سے حسد نہیں کریں گے۔ پہلے مفہوم کی تائید ایک حدیث سے ہوتی ہے کہ جنتیوں کو، جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان کے درمیان آپس کی جو زیادتیاں ہوں گی، ایک دوسرے کو ان کا بدلہ دیا دلایا جائے گا، حتیٰ کہ جب وہ بالکل پاک صاف ہوجائیں گے تو پھر انہیں جنت میں داخلے کی اجازت دے دی جائے گی (صحیح بخاری۔ کتاب المظالم، باب قصاص المظالم۔) جیسے صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کی باہمی رنجشیں ہیں جو سیاسی رقابت میں ان کے درمیان ہوئیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے مجھے امید ہے کہ میں، عثمان اور طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہم، ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ»( ابن کثیر) **- یعنی یہ ہدایت جس سے ہمیں ایمان اور عمل صالح کی زندگی نصیب ہوئی اور پھر انہیں بارگاہ الہیٰ میں قبولیت کا درجہ بھی حاصل ہوا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے اور اس کا فضل ہے۔ اگر یہ رحمت اور فضل الٰہی نہ ہوتا تو ہم یہاں تک نہ پہنچ سکتے۔ اسی مفہوم کی یہ حدیث ہے جس میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”یہ بات اچھی طرح جان لو کہ تم میں سے کسی کو محض اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا، جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نہ ہوگی۔ صحابہ (رضي الله عنهم) نے پوچھا یارسول اللہ! آپ (صلى الله عليه وسلم) بھی؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ہاں میں بھی، اس وقت تک جنت میں نہیں جاؤں گا جب تک کہ رحمت الٰہی مجھے اپنے دامن میں نہیں سمیٹ لے گی۔“ (صحيح بخاري، كتاب الرقاق، باب القصد والمداومة على العمل - صحيح مسلم، كتاب صفة القيامة- باب لن يدخل أحد الجنة بعمله)۔ ***- یہ تصریح پچھلی بات اور حدیث مذکور کے منافی نہیں۔ اس لئے کہ نیک عمل کی توفیق بھی بجائے خود اللہ کا فضل و احسان ہے۔

(44) اور اہل جنت اہل دوزخ کو پکاریں گے کہ ہم سے جو ہمارے رب نے وعده فرمایا تھا ہم نے تو اس کو واقعہ کے مطابق پایا، سو تم سے جو تمہارے رب نے وعده کیا تھا تم نے بھی اس کو واقعہ کے مطابق پایا* وه کہیں گے ہاں، پھر ایک پکارنے واﻻ دونوں کے درمیان میں پکارے گا کہ اللہ کی مار ہو ان ﻇالموں پر۔
* یہی بات نبی (صلى الله عليه وسلم) نے جنگ بدر میں جو کافر مارے گئے تھے اور ان کی لاشیں ایک کنوئیں میں پھینک دی گئی تھیں۔ انہیں خطاب کرتے ہوئے کہی تھی، جس پر حضرت عمر (رضي الله عنه) نے کہا تھا آپ ایسے لوگوں سے خطاب فرما رہے ہیں جو ہلاک ہوچکے ہیں آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا اللہ کی قسم، میں انہیں جو کچھ کہہ رہا ہوں، وہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں، لیکن اب وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے (صحيح مسلم - كتاب الجنة ، باب عرض مقعد الميت من الجنة أو النار والبخاري، كتاب المغازي، باب قتل أبي جهل)

(45) جو اللہ کی راه سے اعراض کرتے تھے اور اس میں کجی تلاش کرتے تھے اور وه لوگ آخرت کے بھی منکر تھے۔

(46) اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑ ہوگی* اور اعراف کے اوپر بہت سے آدمی ہوں گے وه لوگ**، ہر ایک کو ان کے قیافہ سے پہچانیں گے*** اور اہل جنت کو پکار کر کہیں گے، السلام علیکم! ابھی یہ اہل اعراف جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور اس کے امیدوار ہوں گے۔****
* ان دونوں کے درمیان سے مراد جنت دوزخ کے درمیان یا کافروں اور مومنوں کے درمیان ہے۔ حجاب (آڑ) سے وہ فصیل (دیوار) مراد ہے جس کا ذکر سورۂ حدید میں ہے «فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ» (الحديد: 13) پس ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی، جس میں ایک دروازہ ہوگا یہی اعراف کی دیوار ہے۔ **- یہ کون ہوں گے؟ ان کی تعیین میں مفسرین کے درمیان خاصا اختلاف ہے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ ان کی نیکیاں جہنم میں جانے سے اور برائیاں جنت میں جانے سے مانع ہوں گی اور یوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قطعی فیصلہ ہونے تک وہ درمیان میں معلق رہیں گے۔ ***- ”سِيمَاءٌ“ کے معنی علامت کے ہیں۔ جنتیوں کے چہرے روشن اور تروتازہ اور جہنمیوں کے چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوں گی۔ اس طرح وہ دونوں قسم کے لوگوں کو پہچان لیں گے۔ ****- یہاں ”يَطْمَعُونَ“ کے معنی بعض لوگوں نے يَعْلَمُونَ کے کئے ہیں یعنی ان کو علم ہوگا کہ وہ عنقریب جنت میں داخل کردیئے جائیں گے۔

(47) اور جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف پھریں گی تو کہیں گے اے ہمارے رب! ہم کو ان ﻇالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کر۔

(48) اور اہل اعراف بہت سے آدمیوں کو جن کو کہ ان کے قیافہ سے پہچانیں گے پکاریں گے کہیں گے کہ تمہاری جماعت اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا تمہارے کچھ کام نہ آیا۔*
* یہ اہل دوزخ ہوں گے جن کو اصحاب الاعراف ان کی علامتوں سے پہچان لیں گے اور وہ اپنے جتھے اور دوسری چیزوں پر جو گھمنڈ کرتے تھے، اس کے حوالے سے انہیں یاد دلائیں گے کہ یہ چیزیں تمہارے کچھ کام نہ آئیں۔

(49) کیا یہ وہی ہیں جن کی نسبت تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان پر* رحمت نہ کرے گا، ان کو یوں حکم ہوگا کہ جاؤ جنت میں تم پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ تم مغموم ہوگے۔
* اس سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو دنیا میں غریب و مسکین اور مفلس و نادار قسم کے تھے جن کا استہزا مذکورہ متکبرین اڑایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اگر یہ اللہ کے محبوب ہوتے تو ان کا دنیا میں یہ حال ہوتا؟ پھر مزید جسارت کرتے ہوئے دعویٰ کرتے کہ قیامت والے دن بھی اللہ کی رحمت ہم پر ہوگی (جس طرح دنیا میں ہورہی ہے) نہ کہ ان پر۔ بعض نے اس کا قائل اصحاب الاعراف کو بتلایا ہے اور بعض کہتے ہیں جب اصحاب الاعراف جہنمیوں کو یہ کہیں گے تمہارا جتھہ اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا تمہارے کچھ کام نہ آیا تو اس وقت اللہ کی طرف سے جنتیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جائے گا کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھاتے تھے کہ ان پر اللہ کی رحمت نہیں ہوگی۔( تفسیر ابن کثیر)

(50) اور دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے، کہ ہمارےاوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو یا اور ہی کچھ دے دو، جو اللہ نے تم کو دے رکھا ہے۔ جنت والے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کی کافروں کے لئے بندش کردی ہے۔*
* جس طرح پہلے گزر چکا ہے کہ کھانے پینے کی نعمتیں قیامت والے دن صرف اہل ایمان کے لئے ہوں گی۔ «خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ»(الأعراف: 32) یہاں اس کی مزید وضاحت جنتیوں کی زبان سے کردی گئی ہے۔

(51) جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو لہو ولعب بنا رکھا تھا اور جن کو دنیاوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا۔ سو ہم (بھی) آج کے روز ان کا نام بھول جائیں گے جیسا کہ وه اس دن کو بھول گئے* اور جیسا یہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے۔
* حدیث میں آتا ہے، قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اس قسم کے بندے سے کہے گا ”کیا میں نے تجھے بیوی بچے نہیں دیئے تھے؟ تجھے عزت و اکرام سے نہیں نوازا تھا؟ کیا اونٹ اور گھوڑے تیرے تابع نہیں کردیئے تھے؟ اور کیا تو سرداری کرتے ہوئے لوگوں سے چنگی وصول نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا کیوں نہیں؟ یااللہ یہ سب باتیں صحیح ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا، کیا تو میری ملاقات کا یقین رکھتا تھا؟ وہ کہے گا۔ نہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، پس جس طرح تو مجھے بھولا رہا، آﺝ میں تجھے بھول جاتا ہوں“۔ (صحیح مسلم۔ کتاب الزھد) قرآن کریم کی اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دین کو لہو ولعب بنانے والے وہی ہوتے ہیں جو دنیا کے فریب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں سے چونکہ آخرت کی فکر اور اللہ کا خوف نکل جاتا ہے۔ اس لئے وہ دین میں بھی اپنی طرف سے جو چاہتے ہیں، اضافہ کرلیتے ہیں اور دین کے جس حصے کو چاہتے ہیں عملاً کالعدم قرار دیتے ہیں یا انہیں کھیل کود کا رنگ دے دیتے ہیں۔ اس لیے دین میں اپنی طرف سے بدعات کا اضافہ کرکے انہی کو اصل اہمیت دینا (جیسا کہ اہل بدعت کا شیوہ ہے) یہ بڑا جرم ہے، کیونکہ اس سے دین کھیل کود بن کر رہ جاتا ہے اور احکام وفرائض پر عمل کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔

(52) اور ہم نے ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب پہنچادی ہے جس کو ہم نے اپنے علم کامل سے بہت واضح کر کے بیان کردیا ہے*، وه ذریعہ ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان ﻻئے ہیں۔
* یہ اللہ تعالیٰ جہنمیوں کے ضمن میں ہی فرما رہا ہے کہ ہم نے تو اپنے علم کامل کے مطابق ایسی کتاب بھیج دی تھی جس میں ہر چیز کو کھول کر بیان کردیا تھا ۔ ان لوگوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا، تو ان کی بدقسمتی، ورنہ جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے، وہ ہدایت ورحمت الٰہی سے فیض یاب ہوئے گویا ہم نے تو (سورة بني إسرائيل: 15) ”جب تک ہم رسول بھیج کر اتمام حجت نہیں کردیتے، ہم عذاب نہیں دیتے“ کے مطابق اہتمام کردیا تھا ۔

(53) ان لوگوں کو اور کسی بات کا انتظار نہیں صرف اس کے اخیر نتیجہ کا انتظار ہے*، جس روز اس کا اخیر نتیجہ پیش آئے گا اور اس روز جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے تھے یوں کہیں گے کہ واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی سچی باتیں ﻻئے تھے، سو اب کیا کوئی ہمارا سفارشی ہے کہ وه ہماری سفارش کردے یا کیا ہم پھر واپس بھیجے جاسکتے ہیں تاکہ ہم لوگ ان اعمال کے، جن کو ہم کیا کرتے تھے برخلاف دوسرے اعمال کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنے آپ کو خساره میں ڈال دیا اور یہ جو جو باتیں تراشتے تھے سب گم ہوگئیں۔**
* تاویل کا مطلب ہے، کسی چیز کی اصل حقیقت اور انجام ۔ یعنی کتاب الٰہی کے ذریعے سے وعدے، وعید اور جنت و دوزخ وغیرہ کا بیان تو کردیا گیا تھا ۔ لیکن یہ اس دنیا کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے منتظر تھے، سو اب وہ انجام ان کے سامنے آگیا ۔ **- یعنی یہ جس انجام کے منتظر تھے، اس کے سامنے آجانے کے بعد اعتراف حق کرنے یا دوبارہ دنیا میں بھیجے جانے کی آرزو اور کسی سفارشی کی تلاش، یہ سب بے فائدہ ہوں گی ۔ وہ معبود بھی ان سے گم ہوجائیں گے جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، وہ ان کی مدد کرسکیں گے نہ سفارش اور نہ عذاب جہنم سے چھڑا ہی سکیں گے ۔

(54) بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے*، پھر عرش پر قائم ہوا**۔ وه شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وه شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے*** اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔
* یہ چھ دن اتوار، پیر، منگل، بدھ، جمعرات اور جمعہ ہیں ۔ جمعہ کے دن ہی حضرت آدم (عليه السلام) کی تخلیق ہوئی ۔ ہفتے والے دن کہتے ہیں کوئی تخلیق نہیں ہوئی، اسی لئے اسے یوم السبت کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ سبت کے معنی قطع ( کاٹنے) کے ہیں یعنی اس دن تخلیق کا کام قطع ہوگیا ۔ پھر اس دن سے کیا مراد ہے؟ ہماری دنیا کا دن، جو طلوع شمس سے شروع ہوتا ہے اور غروب شمس پر ختم ہوجاتا ہے ۔ یا یہ دن ہزار سال کے برابر ہے؟ جس طرح کہ اللہ کے یہاں کے دن کی گنتی ہے، یا جس طرح قیامت کے دن کے بارے میں آتا ہے بظاہر یہ دوسری بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔ کیونکہ ایک تو اس وقت سورج چاند کا یہ نظام ہی نہیں تھا، آسمان وزمین کی تخلیق کے بعد ہی یہ نظام قائم ہوا دوسرے یہ عالم بالا کا واقعہ ہے جس کو دنیا سے کوئی نسبت نہیں ہے، اس لئے اس دن کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ۔ ہم قطعیت کے ساتھ کوئی بات نہیں کہہ سکتے ۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ تو لفظ كُنْ سے سب کچھ پیدا کرسکتا تھا، اس کے باوجود اس نے ہر چیز کو الگ الگ تدریج کے ساتھ بنایا اس کی بھی اصل حکمت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تاہم بعض علما نے اس کی ایک حکمت لوگوں کو آرام، وقار اور تدریج کے ساتھ کام کرنے کا سبق دینا بتلائی ہے ۔ واللهُ أَعْلَمُ. **- ”اسْتِوَاءٌ“ کے معنی علو اور استقرار کے ہیں سلف نے بلاکیف و بلاتشبیہ یہی معنی مراد لئے ہیں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ عرش پر بلند اور مستقر ہے ۔ لیکن کس طرح، کس کیفیت کے ساتھ، اسے ہم بیان نہیں کرسکتے نہ کسی کے ساتھ تشبیہ ہی دے سکتے ہیں ۔ نعیم بن حماد کا قول ہے ”جو اللہ کی مخلوق کےساتھ تشبیہ دے اس نے بھی کفر کیا اور جس نے اللہ کی، اپنے بارے میں بیان کردہ کسی بات کا انکار کیا، اس نے بھی کفر کیا“ اور اللہ کے بارے میں اس کی یا اس کے رسول کی بیان کردہ بات کو بیان کرنا، تشبیہ نہیں ہے ۔ اس لئے جو باتیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں نص سے ثابت ہیں، ان پر بلا تاویل اور بلاکیف وتشبیہ ایمان رکھنا ضروری ہے۔ ( ابن کثیر ) ۔ ***- ”حَثِيثًا“ کے معنی ہیں نہایت تیزی سے اور مطلب ہے کہ ایک کے بعد دوسرا فوراً آجاتا ہے ۔ یعنی دن کی روشنی آتی ہے تو رات کی تاریکی فوراً کافور ہوجاتی ہے اور رات آتی ہے تو دن کا اجالا ختم ہوجاتا ہے اور سب دور ونزدیک سیاہی چھا جاتی ہے ۔

(55) تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو گڑگڑا کر کے بھی اور چپکے چپکے بھی۔ واقعی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو حد سے نکل جائیں۔

(56) اور دنیا میں اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی ہے، فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ کی عبادت کرو اس سے ڈرتے ہوئے اور امیدوار رہتے ہوئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔*
* ان آیات میں چار چیزوں کی تلقین کی گئی ہے: 1- اللہ تعالیٰ سے آہ و زاری اور خفیہ طریقے سے دعا کی جائے ۔ جس طرح کہ حدیث میں بھی آتا ہے ۔ لوگو ! اپنے نفس کے ساتھ نرمی کرو ( یعنی آواز پست رکھو ) تم جس کو پکار رہے ہو، وہ بہرا ہے نہ غائب، وہ تمہاری دعائیں سننے والا اور قریب ہے۔ (صحيح بخاري ، كتاب الدعوات، باب الدعاء إذا علا عقبة - ومسلم - كتاب الجنة ، باب استحباب خفض الصوت بالذكر) 2- دعا میں زیادتی نہ کی جائے یعنی اپنی حیثیت اور مرتبے سے بڑھ کر دعا نہ کی جائے۔ 3- اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلایا جائے یعنی اللہ کی نافرمانیاں کرکے فساد پھیلانے میں حصہ نہ لیا جائے۔ 4- اس کے عذاب کا ڈر بھی دل میں ہو اور اس کی رحمت کی امید بھی ۔ اس طریقے سے دعا کرنے والے محسنین ہیں ۔ یقیناً اللہ کی رحمت ان کے قریب ہے ۔

(57) اور وه ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وه خوش کر دیتی ہیں*، یہاں تک کہ جب وه ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں**، تو ہم اس بادل کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں***۔ یوں ہی ہم مردوں کو نکال کھڑا کریں گے تاکہ تم سمجھو۔****
* اپنی الوہیت و ربوبیت کے اثبات میں اللہ تعالیٰ مزید دلائل بیان فرما کر پھر اس سے احیاء موتی کا اثبات فرما رہا ہے ”بُشْرًا“ بَشِيرٌ کی جمع ہے رحمتہ سے مراد یہاں مطر (بارش) ہے یعنی بارش سے پہلے وہ ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے جو بارش کی نوید ہوتی ہیں ۔ **- بھاری بادل سے مراد پانی سے بھرے ہوئے بادل ہیں ۔ ***- ہر قسم کے پھل، جو رنگوں میں، ذائقوں میں، خوشبووں میں اور شکل وصورت میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ۔ ****- جس طرح ہم پانی کے ذریعے سے مردہ زمین میں روئیدگی پیدا کردیتے ہیں اور وہ انواع واقسام کے غلے اور پھل پیدا کرتی ہے ۔ اسی طرح قیامت والے دن تمام انسانوں کو، جو مٹی میں مل کر مٹی ہوچکے ہوں گے، ہم دوبارہ زندہ کریں گے اور پھر ان کا حساب لیں گے ۔

(58) اور جو ستھری سرزمین ہوتی ہے اس کی پیداوار تو اللہ کے حکم سے خوب نکلتی ہے اور جو خراب ہے اس کی پیداوار بہت کم نکلتی ہے*، اسی طرح ہم دﻻئل کو طرح طرح سے بیان کرتے ہیں، ان لوگوں کے لئے جو شکر کرتے ہیں۔
* علاوہ ازیں یہ تمثیل بھی ہوسکتی ہے ۔ ”الْبَلَدُ الطَّيِّبُ“ سے مراد سریع الفہم اور”الْبَلَدُ الخَبِيثُ“ سے کند ذہن، وعظ و نصیحت قبول کرنے والا دل اور اس کے برعکس دل ۔ قلب مومن یا قلب منافق یا پاکیزہ انسان اور ناپاک انسان ۔ مومن، پاکیزہ انسان اور وعظ ونصیحت قبول کرنے والا دل بارش کو قبول کرنے والی زمین کی طرح، آیات الٰہی کو سن کر ایمان وعمل صالح میں مزید پختہ ہوتا ہے اور دوسرا دل اس کے برعکس زمین شور کی طرح ہے جو بارش کا پانی قبول ہی نہیں کرتی یا کرتی ہے تو برائے نام جس سے پیداوار بھی نکمی اور برائے نام ہوتی ہے ۔ اسی کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے ۔ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے بیان فرمایا کہ ”مجھے اللہ تعالیٰ نے جو علم وہدایت دے کر بھیجا ہے، اس کی مثال اس موسلادھار بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی ۔ اس کے جو حصے زرخیز تھے، انہوں نے پانی کو اپنے اندر جذب کرکے چارہ اور گھاس خوب اگایا (یعنی بھرپور پیداوار دی) اور اس کے بعض حصے سخت تھے، جنہوں نے پانی کو تو روک لیا (اندر جذب نہیں ہوا) تاہم اس سے بھی لوگوں نے فائدہ اٹھایا، خود بھی پیا ۔ کھیتوں کو بھی سیراب کیا اور کاشت کاری کی اور زمین کا کچھ حصہ بالکل چٹیل تھا، جس نے پانی روکا اور نہ کچھ اگایا ۔ پس یہ اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ کی دین میں سمجھ حاصل کی اور اللہ نے مجھے جس چیز کے ساتھ بھیجا، اس سے اس نے نفع اٹھایا، پس خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھلایا اور مثال اس شخص کی بھی ہے جس نے کچھ نہیں سیکھا اور نہ وہ ہدایت ہی قبول کی جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا“۔ (صحيح بخاري ، كتاب العلم، باب فضل من علم وعلَّم)

(59) ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا توانہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں، مجھ کو تمہارے لئے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

(60) ان کی قوم کے بڑے لوگوں نے کہا کہ ہم تم کو صریح غلطی میں دیکھتے ہیں۔*
* شرک اس طرح انسانی عقل کو ماؤف کردیتا ہے کہ انسان کو ہدایت، گمراہی اور گمراہی، ہدایت نظر آتی ہے ۔ چنانچہ قوم نوح کی بھی یہی قلبی ماہیت ہوئی، ان کو حضرت نوح (عليه السلام)، جو اللہ کی توحید کی طرف اپنی قوم کو دعوت دے رہے تھے نَعُوذُ بِاللهِ گمراہ نظر آتے تھے۔ تھا جو ناخوب، بتدریج وہی خوب ہوا کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

(61) انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم! مجھ میں تو ذرا بھی گمراہی نہیں لیکن میں پروردگار عالم کا رسول ہوں۔

(62) تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے ان امور کی خبر رکھتا ہوں جن کی تم کو خبر نہیں۔

(63) اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت، جو تمہاری ہی جنس کا ہے، کوئی نصیحت کی بات آگئی تاکہ وه شخص تم کو ڈرائے اور تاکہ تم ڈرجاؤ* اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
* حضرت نوح (عليه السلام) اور حضرت آدم (عليه السلام) کے درمیان دس قرنوں یا دس پشتوں کا فاصلہ ہے ۔ حضرت نوح (عليه السلام) سے کچھ پہلے تک تمام لوگ اسلام پر قائم چلے آرہے تھے پھر سب سے پہلے توحید سے انحراف اس طرح آیا کہ اس قوم کے صالحین فوت ہوگئے تو ان کے عقیدت مندوں نے ان پر سجدہ گاہیں (عبادت خانے) قائم کردیں اور ان کی تصویریں بھی وہاں لٹکادیں، مقصد ان کا یہ تھا کہ اس طرح ان کی یاد سے وہ بھی اللہ کا ذکر کریں گے اور ذکرالٰہی میں ان کی مشابہت اختیار کریں گے ۔ جب کچھ وقت گزرا تو انہوں نے ان تصویروں کے مجسمے بنادئیے اور پھر کچھ اور عرصہ گزرنے کے بعد یہ مجسمے بتوں کی شکل اختیار کر گئے اور ان کی پوجا پاٹ شروع ہوگئی اور قوم نوح کے یہ صالحین وَدٌّ، سُوَاعٌ، يَعُوقُ، يَغوثُ اور نَسْرٌ معبود بن گئے ۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (عليه السلام) کو ان میں نبی بناکر بھیجا جنہوں نے ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی ۔ لیکن تھوڑے سے لوگوں کے سوا، کسی نے آپ کی تبلیغ کا اثر قبول نہیں کیا بالآخر اہل ایمان کے سوا سب کو غرق کردیا گیا ۔ اس آیت میں بتلایا جارہا ہے کہ قوم نوح نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ ان ہی میں کا ایک آدمی نبی بن کر آگیا جو انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرا رہا ہے؟ یعنی ان کے خیال میں نبوت کے لئے انسان موزوں نہیں ۔

(64) سو وه لوگ ان کی تکذیب ہی کرتے رہے تو ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور ان کو جو ان کےساتھ کشتی میں تھے، بچالیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو ہم نے غرق کردیا۔ بے شک وه لوگ اندھے ہورہے تھے۔*
* یعنی حق سے، حق کو دیکھتے تھے نہ اسے اپنانے کے لئے تیار تھے ۔

(65) اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا*۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، سو کیا تم نہیں ڈرتے
* یہ قوم عاد، عاد اولیٰ ہے جن کی رہائش یمن میں ریتلے پہاڑوں میں تھی اور اپنی قوت و طاقت میں بےمثال تھی ۔ ان کی طرف حضرت ہود (عليه السلام)، جو اسی قوم کے ایک فرد تھے، نبی بن کر آئے۔

(66) ان کی قوم میں جو بڑے لوگ کافر تھے انہوں نے کہا ہم تم کو کم عقلی میں دیکھتے ہیں*۔ اور ہم بے شک تم کو جھوٹے لوگوں میں سمجھتے ہیں۔
* یہ کم عقلی ان کے نزدیک یہ تھی کہ بتوں کو چھوڑ کر، جن کی عبادت ان کے آبا واجداد سے ہوتی آرہی تھی، الہ واحد کی عبادت کی طرف دعوت دی جارہی ہے ۔

(67) انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم! مجھ میں ذرا بھی کم عقلی نہیں لیکن میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔

(68) تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا امانتدار خیرخواه ہوں۔

(69) اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت، جو تمہاری ہی جنس کاہے کوئی نصیحت کی بات آگئی تاکہ وه شخص تم کو ڈرائے اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ نے تم کو قوم نوح کے بعد جانشین بنایا اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلاؤ زیاده دیا*، سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کو فلاح ہو۔
* ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان کی بابت فرمایا «لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلادِ» (الفجر: 8) اس جیسی قوت والی قوم پیدا نہیں کی گئی اپنی اسی قوت کے گھمنڈ میں مبتلا ہوکر اس نے کہا «مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً» ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے بہت زیادہ قوت والا ہے (حمٰ سجدۂ: ١٥ )

(70) انہوں نے کہا کہ کیا آپ ہمارے پاس اس واسطے آئے ہیں کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ان کو چھوڑ دیں*، پس ہم کو جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو اس کو ہمارے پاس منگوا دو اگر تم سچے ہو۔**
* آباواجداد کی تقلید، ہر دور میں گمراہی کی بنیاد رہی ہے ۔ قوم عاد نے بھی یہی دلیل پیش کی اور شرک کو چھوڑ کر، توحید کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے ۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں بھی اپنے بڑوں کی تقلید کی یہ بیماری عام ہے ۔ **- جس طرح قریش نے بھی رسول (صلى الله عليه وسلم) کی دعوت توحید کے جواب میں کہا تھا (الانفال: 32) ”اے اللہ! اگر یہ حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر بھیج دے“۔ یعنی شرک کرتے کرتے مشرک کی مت بھی ماری جاتی ہے ۔ حالانکہ عقل مندی کا تقاضا یہ تھا کہ یہ کہا جاتا یااللہ اگر یہ سچ ہے اور تیری ہی طرف سے ہے تو ہمیں اسے قبول کرنے کی توفیق عطا فرما ۔ بہرحال قوم عاد نے اپنے پیغمبر حضرت ہود (عليه السلام) سے کہہ دیا، کہ اگر تو سچا ہے تو اپنے اللہ سے کہہ جس عذاب سے وہ ڈراتا ہے، بھیج دے ۔

(71) انہوں نے فرمایا کہ بس اب تم پر اللہ کی طرف سے عذاب* اور غضب آیا ہی چاہتا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے باب میں جھگڑتے ہو** جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ٹھہرالیا ہے؟ ان کے معبود ہونے کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں بھیجی۔ سو تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔
* رِجْسٌ کے معنی تو پلیدی کے ہیں ۔ لیکن یہاں یہ مقلوب (بدلا ہوا) ہے رِجْزٌ سے ۔ جس کے معنی عذاب کے ہیں ۔ یا پھر رِجْسٌ یہاں ناراضی اور غضب کے معنی میں ہے۔ (ابن کثیر) **- اس سے مراد وہ نام ہیں جو انہوں نے اپنے معبودوں کے رکھے ہوئے تھے، مثلاً صَدَا، صُمُودٌ، هَبَ ۔ وغیرہ جیسے قوم نوح کے پانچ بت تھے جن کے نام اللہ نےقرآن میں ذکر کئے ہیں جیسے مشرکین عرب کے بتوں کے نام تھے۔ لاتٌ، عُزَّى، مَنَاتٌ، هُبَلٌ وغیرہ یا جیسے آج کل کے مشرکانہ عقائد واعمال میں ملوث لوگوں نے نام رکھے ہوئے ہیں ۔ مثلاً داتا گنج بخش، خواجہ غریب نواز، بابا فرید گنج، مشکل کشا وغیرہ جن کے معبود یا مشکل کشا وگنج بخش وغیرہ ہونے کی کوئی دلیل ان لوگوں کے پاس نہیں ہے ۔

(72) غرض ہم نے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچالیا اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی، جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور وه ایمان ﻻنے والے نہ تھے۔*
* اس قوم پر بادتند کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل جاری رہا، جس نے ہر چیز کو تہس نہس کرکے رکھ دیا اور یہ قوم عاد کے لوگ، جنہیں اپنی قوت پربڑا ناز تھا، ان کے لاشے کھجور کے کٹے ہوئے تنوں کی طرح زمین پر پڑے نظر آتے تھے ۔( دیکھئے سورۂ الحاقہ: 6۔ 8، سورۂ ھود: 53۔ 56، سورۂ احقاف: 24 ۔ 25، وغیرھا من الآیات)

(73) اور ہم نے ﺛمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو بھیجا*۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی ہے۔ یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لئے دلیل ہے سو اس کو چھوڑ دو کہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا کہ کہیں تم کو دردناک عذاب آپکڑے۔
* یہ ثمود، حجاز اور شام کے درمیان وادی القریٰ میں رہائش پذیر تھے۔ ٩جری میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) اور آپ کے صحابہ (رضي الله عنهم) کا ان کے مساکن اور وادی سے گزر ہوا، جس پر آپ (صلى الله عليه وسلم) نے صحابہ (رضي الله عنهم) سے فرمایا کہ معذب قوموں کے علاقے سے گزرو تو روتے ہوئے یعنی عذاب الٰہی سے پناہ مانگتے ہوئے گزرو ( صحيح بخاري ، كتاب الصلاة، باب الصلاة في مواضع الخسف، صحيح مسلم، كتاب الزهد، باب لا تدخلوا مساكن الذين ظلموا أنفسهم إلا أن تكونوا باكين ) ان کی طرف حضرت صالح (عليه السلام) نبی بناکر بھیجے گئے ۔ یہ عاد کے بعد کا واقعہ ہے ۔ انہوں نے اپنے پیغمبر سے مطالبہ کیا کہ پتھر کی چٹان سے ایک اونٹنی نکال کر دکھا، جسے ہم نکلتے ہوئے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں ۔ حضرت صالح (عليه السلام) نے ان سے عہد لیا کہ اس کے بعد بھی اگر ایمان نہ لائے تو وہ ہلاک کردیئے جائیں گے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مطالبے پر اونٹنی ظاہر فرما دی۔ اس اونٹنی کی بابت انہیں تاکید کردی گئی، کہ اسی بری نیت سے کوئی شخص ہاتھ نہ لگائے ورنہ عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاؤ گے ۔ لیکن ان ظالموں نے اس اونٹنی کو بھی قتل کر ڈالا، جس کے تین دن انہیں چنگھاڑا (صَيْحَةٌ ۔ سخت چیخ اور رَجْفَةٌ ۔ زلزلہ ) کے عذاب سے ہلاک کردیا گیا، جس سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے۔

(74) اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو عاد کے بعد جانشین بنایا اور تم کو زمین پر رہنے کا ٹھکانا دیا کہ نرم زمین پر محل بناتے ہو* اور پہاڑوں کو تراش تراش کر ان میں گھر بناتے ہو**، سو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد مت پھیلاؤ۔***
* اس کا مطلب ہے کہ نرم زمین سے مٹی لے لے کر اینٹیں تیار کرتے ہو اور ان اینٹوں سے محل، جیسے آج بھی بھٹوں پر اسی طرح مٹی سے اینٹیں تیار کی جاتی ہیں ۔ **- یہ ان کی قوت، صلابت بدن اور مہارت فن کا اظہار ہے ۔ ***- یعنی ان نعمتوں پر اللہ کا شکر کرو اور اس کی اطاعت کا راستہ اختیا رکرو، نہ کہ کفران نعمت اور معصیت کا ارتکاب کر کے فساد پھیلاؤ ۔

(75) ان کی قوم میں جو متکبر سردار تھے انہوں نے غریب لوگوں سے جو کہ ان میں سے ایمان لے آئے تھے پوچھا، کیا تم کواس بات کا یقین ہے کہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بےشک ہم تو اس پر پورا یقین رکھتے ہیں جو ان کو دے کر بھیجا گیا ہے۔*
* یعنی جو دعوت توحید وہ لے کر آئے ہیں، وہ چونکہ فطرت کی آواز ہے، ہم تو اس پر ایمان لے آئے ہیں ۔ باقی رہی یہ بات کہ صالح واقعی اللہ کے رسول ہیں؟ جو ان کا سوال تھا، اس سے ان اہل ایمان نے تعرض ہی نہیں کیا ۔ کیونکہ ان کے رسول من اللہ ہونے کو وہ بحث کے قابل ہی نہیں سمجھتے تھے ۔ ان کےنزدیک ان کی رسالت ایک مسلمہ حقیقت وصداقت تھی ۔ جیسا کہ فی الواقع تھی ۔

(76) وه متکبر لوگ کہنے لگے کہ تم جس بات پر یقین ﻻئے ہوئے ہو، ہم تو اس کے منکر ہیں۔*
* اس معقول جواب کے باوجود وہ اپنے استکبار اور انکار پر اڑے رہے ۔

(77) پس انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈاﻻ اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ اے صالح! جس کی آپ ہم کو دھمکی دیتے تھے اس کو منگوائیے اگر آپ پیغمبر ہیں۔

(78) پس ان کو زلزلہ نے آپکڑا* اور وه اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے ره گئے۔
* یہاں ”رَجْفَةٌ“ (زلزلے) کا ذکر ہے ۔ دوسرے مقام پر صَيْحَةٌ ( چیخ ) کا ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں قسم کا عذاب ان پر آیا ۔ اوپر سے سخت چیخ اور نیچے سے زلزلہ ۔ ان دونوں عذابوں نے انہیں تہس نہس کرکے رکھ دیا ۔

(79) اس وقت (صالح علیہ السلام) ان سے منھ موڑ کر چلے، اور فرمانے لگے* کہ اے میری قوم! میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچادیا تھا اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم لوگ خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے۔
* یہ یا تو ہلاکت سے قبل کا خطاب ہے یا پھر ہلاکت کے بعد اسی طرح کا خطاب ہے جس طرح رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے جنگ بدر ختم ہونے کے بعد قلیب بدر میں مشرکین کی لاشوں سے خطاب فرمایا تھا ۔

(80) اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا* جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا۔
* حضرت لوط (عليه السلام) ، حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے بھتیجے تھے اور حضرت ابراہیم (عليه السلام) پر ایمان لانے والوں میں سے تھے پھر خود ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایک علاقے میں نبی بناکر بھیجا ۔ یہ علاقہ اردن اور بیت المقدس کے درمیان تھا جسے سدوم کہا جاتا ہے ۔ یہ زمین سرسبز وشاداب تھی اور یہاں ہر طرح کے غلے اور پھلوں کی کثرت تھی ۔ قرآن نے اس جگہ کو مُؤْتَفِكَةٌ یا مُؤْتَفِكَاتٌ کے الفاظ سے ذکر کیا ہے ۔ حضرت لوط (عليه السلام) نے غالباً سب سے پہلے یا دعوت توحید کے ساتھ ہی، ( جو ہر نبی کی بنیادی دعوت تھی اور سب سے پہلے وہ اسی کی دعوت اپنی قوم کو دیتے تھے ۔ جیسا کہ پچھلے نبیوں کے حالات میں، جن کا ذکر ابھی گذرا ہے، دیکھا جاسکتا ہے) جو دوسری بڑی خرابی مردوں کے ساتھ بدفعلی، قوم لوط میں تھی، اس کی شناعت وقباحت بیان فرمائی ۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ایک ایسا گناہ ہے جسے دنیا میں سب سے پہلے اسی قوم لوط نے کیا، اس گناہ کا نام ہی لواطت پڑگیا ۔ اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ پہلے قوم کو اس جرم کی خطرناکی سے آگاہ کیا جائے ۔ علاوہ ازیں حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے ذریعے دعوت توحید بھی یہاں پہنچ چکی ہوگی ۔ لواطت کی سزا میں ائمہ کے درمیان اختلاف ہے ۔ بعض ائمہ کے نزدیک اس کی وہی سزا ہے جو زنا کی ہے یعنی مجرم اگر شادی شدہ ہو تو رجم، غیرشادی شدہ ہو تو سو کوڑے ۔ بعض کے نزدیک اس کی سزا ہی رجم ہے چاہے مجرم کیسا بھی ہو اور بعض کے نزدیک فاعل اور مفعول بہ دونوں کو قتل کر دینا چاہئے ۔ البتہ امام ابوحنیفہ صرف تعزیری سزا کے قائل ہیں، حد کے نہیں (تحفة الأحوذي جلد 5 ص17)

(81) تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو* عورتوں کو چھوڑ کر**، بلکہ تم تو حد ہی سے گزر گئے ہو۔***
* یعنی مردوں کے پاس تم اس بے حیائی کے کام کے لئے محض شہوت رانی کی غرض سے آتے ہو، اس کے علاوہ تمہاری اور کوئی غرض ایسی نہیں ہوتی جو موافق عقل ہو ۔ اس لحاظ سے وہ بالکل بہائم کی طرح تھے جو محض شہوت رانی کے لئے ایک دوسرے پر چڑھتے ہیں ۔ **- جو قضائے شہوت کا اصل محل اور حصول لذت کی اصل جگہ ہے ۔ یہ ان کی فطرت کے مسخ ہونے کی طرف اشارہ ہے، یعنی اللہ نے مرد کی جنسی لذت کی تسکین کے لئے عورت کی شرم گاہ کو اس کا محل اور موضع بنایا ہے اور ان ظالموں نے اس سے تجاوز کرکے مرد کی دبر کو اس کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا ۔ ***- لیکن اب اسی فطرت صحیحہ سے انحراف اور حدود الٰہی سے تجاوز کو مغرب کی (مہذب) قوموں نے اختیار کرلیا ہے تو یہ انسانوں کا (بنیادی حق) قرار پاگیا ہے جس سے روکنے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے ۔ چنانچہ اب وہاں لواطت کو قانونی تحفظ حاصل ہوگیا ہے ۔ اور یہ سرے سے جرم ہی نہیں رہا ۔ فَإِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ.

(82) اور ان کی قوم سے کوئی جواب نہ بن پڑا، بجز اس کے کہ آپس میں کہنے لگے کہ ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔*
* یہ حضرت لوط کو بستی سے نکالنے کی علت ہے۔ باقی ان کی پاکیزگی کا اظہار یا تو حقیقت کے طور پر ہے اور مقصد ان کا یہ ہوا کہ یہ لوگ اس برائی سے بچنا چاہتے ہیں، اس لئے بہتر ہے کہ یہ ہمارے ساتھ ہماری بستی ہی میں نہ رہیں یا استہزا اور تمسخر کے طور پر انہوں نے ایسا کہا ۔

(83) سو ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا بجز ان کی بیوی کے کہ وه ان ہی لوگوں میں رہی جو عذاب میں ره گئے تھے۔*
* إِنَّهَا كَانَتْ مِنَ الْبَاقِينَ فِي عَذَابِ اللهِ ، یعنی وہ ان لوگوں میں باقی رہ گئی جن پر اللہ کا عذاب آیا ۔ کیونکہ وہ بھی مسلمان نہیں تھی اور اس کی ہمدردیاں بھی مجرمین کے ساتھ تھیں بعض نے اس کا ترجمہ (ہلاک ہونے والوں میں سے) کیا ہے ۔ لیکن یہ لازمی معنی ہیں، اصل معنی وہی ہیں ۔

(84) اور ہم نے ان پر خاص طرح کا مینہ* برسایا پس دیکھو تو سہی ان مجرموں کا انجام کیسا ہوا؟**
* یہ خاص طرح کا مینہ کیا تھا ؟ پتھروں کا مینہ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا: «وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةٗ مِّن سِجِّيلٖ مَّنضُودٖ» [هود: 82]. ”ہم نے ان پر تہ بہ تہ پتھروں کی بارش برسائی“۔ اس سے پہلے فرمایا : «جَعَلۡنَا عَٰلِيَهَا سَافِلَهَا» ”ہم نے اس بستی کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا“۔ **- یعنی اے محمد! (صلى الله عليه وسلم) دیکھئے تو سہی، جو لوگ علانیہ اللہ کی معاصی کا ارتکاب اور پیغمبروں کی تکذیب کرتے ہیں، ان کا انجام کیا ہوتا ہے؟

(85) اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا*۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے۔ پس تم ناپ اور تول پورا پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے مت** دو اور روئے زمین میں، اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی، فساد مت پھیلاؤ، یہ تمہارے لئے نافع ہے اگر تم تصدیق کرو۔
* مدین حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے بیٹے یا پوتے کا نام تھا، پھر انہی کی نسل پر مبنی قبیلے کا نام بھی مدین اور جس بستی میں یہ رہائش پذیر تھے، اس کا نام بھی مدین پڑگیا ۔ یوں اس کا اطلاق قبیلے اور بستی دونوں پر ہوتا ہے ۔ یہ بستی حجاز کے راستے میں ”معان“ کے قریب ہے ۔ انہی کو قرآن میں دوسرے مقام پر أَصْحَابُ الأَيْكَة (بن کے رہنے والے) بھی کہا گیا ہے ۔ ان کی طرف حضرت شعیب (عليه السلام) نبی بنا کر بھیجے گئے۔ (دیکھئے الشعراء: 176 کا حاشیہ) ملحوظہ: ہر نبی کو اس قوم کا بھائی کہا گیا ہے، جس کا مطلب اسی قوم اور قبیلے کا فرد ہے، جس کو بعض جگہ رَسُولا مِنْهُم یا مِنْ أَنْفُسِهِمْ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے اور مطلب ان سب کا یہ ہے کہ رسول اور نبی انسانوں میں سے ہی ایک انسان ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کے لئے چن لیتا ہے اور وحی کے ذریعے سے اس پر اپنی کتاب اور احکام نازل فرماتا ہے ۔ **- دعوت توحید کے بعد، اس قوم میں ناپ تول میں کمی کی جو بڑی خرابی تھی، اس سے اسے منع فرمایا اور پورا پورا ناپ اور تول کردینے کی تلقین کی ۔ یہ کوتاہی بھی بہت خطرناک ہے جس سے اس قوم کی اخلاقی پستی اور گراوٹ کا پتہ چلتا ہے جس کے اندر یہ ہو ۔ یہ بدترین خیانت ہے کہ پیسے پورے لئے جائیں اور چیز کم دی جائے ۔ اسی لئے سورۂ مطففین میں ایسے لوگوں کی ہلاکت کی خبر دی گئی ہے ۔

(86) اور تم سڑکوں پر اس غرض سے مت بیٹھا کرو کہ اللہ پر ایمان ﻻنے والے کو دھمکیاں دو اور اللہ کی راه سے روکو اور اس میں کجی کی تلاش میں لگے رہو*۔ اور اس حالت کو یاد کرو جب کہ تم کم تھے پھر اللہ نے تم کو زیاده کردیا اور دیکھو کہ کیسا انجام ہوا فساد کرنے والوں کا۔
* اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے اللہ کے راستے میں کجیاں تلاش کرنا۔ یہ ہر دور کے نافرمانوں کا محبوب مشغلہ رہا جس کے نمونے آج کل کے متجددین اور فرنگیت زدہ لوگوں میں بھی نظر آتے ہیں ۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ. علاوہ ازیں راستے میں بیٹھنے کے اور بھی کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں ۔ مثلاً لوگوں کو ستانے کے لئے بیٹھنا، جیسے عام طور پر اوباش قسم کے لوگوں کا شیوہ ہے۔ یا حضرت شعیب (عليه السلام) کی طرف جانے والے راستوں میں بیٹھنا تاکہ ان کے پاس جانے والوں کو روکیں اور ان سے انہیں بدظن کریں، جیسے قریش مکہ کرتے تھے یا دین کے راستوں پر بیٹھنا اور اس راہ پر چلنے والوں کو روکنا ۔ یوں لوٹ مار کی غرض سے ناکوں پر بیٹھنا تاکہ آنے جانے والوں کا مال سلب کرلیں ۔ یا بعض کے نزدیک محصول اور چنگی وصول کرنے کے لئے ان کا راستوں پر بیٹھنا ۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ سارے ہی مفہوم صحیح ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ یہ سب ہی کچھ کرتے ہوں ( فتح القدیر ) ۔

(87) اور اگر تم میں سے کچھ لوگ اس حکم پر، جس کو دے کر مجھ کو بھیجا گیا، ایمان لے آئے ہیں اور کچھ ایمان نہیں ﻻئے ہیں تو ذرا ٹھہر جاؤ! یہاں تک کہ ہمارے درمیان اللہ فیصلہ کئے دیتا ہے اور وه سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔*
* کفر پر صبر کرنے کا حکم نہیں ہے بلکہ اس کے لئے تہدید اور سخت وعید ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اہل حق کا اہل باطل پر فتح و غلبہ ہی ہوتا ہے ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا: ”فَتَرَبَّصُوٓاْ إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُونَ“ [التوبة:52].

(88) ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا کہ اے شعیب! ہم آپ کو اور جو آپ کے ہمراه ایمان والے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے الّا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ*۔ شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ کیا ہم تمہارے مذہب میں آجائیں گو ہم اس کو مکروه ہی سمجھتے ہوں۔**
* ان سرداروں کے تکبر اور سرکشی کا اندازہ کیجئے کہ انہوں نے ایمان وتوحید کی دعوت کو ہی رد نہیں کیا بلکہ اس سے بھی تجاوز کرکے اللہ کے پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو دھمکی دی کہ یا تو اپنے آبائی مذہب پر واپس آجاؤ، نہیں تو ہم تمہیں یہاں سے نکال دیں گے ۔ اہل ایمان کے اپنے سابق مذہب کی طرف واپسی کی بات تو قابل فہم ہے، کیونکہ انہوں نے کفر چھوڑ کر ایمان اختیار کیا تھا ۔ لیکن حضرت شعیب (عليه السلام) کو بھی ملت آبائی کی طرف لوٹنے کی دعوت اس لحاظ سے تھی کہ وہ انہیں بھی نبوت اور تبلیغ ودعوت سے پہلے اپنا ہم مذہب ہی سمجھتے تھے، گو حقیقتاً ایسا نہ ہو ۔ یا بطور تغلیب انہیں بھی شامل کر لیا ہو ۔ **- یہ سوال مقدر کا جواب ہے اور ہمزہ انکار کے لیے اور واو حالیہ ہے ۔ یعنی کیا تم ہمیں اپنے مذہب کی طرف لوٹاؤ گے یا ہمیں اپنی بستی سے نکال دو گے درآں حالیکہ ہم اس مذہب کی طرف لوٹنا اور اس بستی سے نکلنا پسند نہ کرتے ہوں؟ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ تم ہمیں ان میں سے کسی ایک بات کے اختیار کرنے پر مجبور کرو ۔

(89) ہم تو اللہ تعالیٰ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہو جائیں گے اگر ہم تمہارے دین میں آجائیں اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس سے نجات دی* اور ہم سے ممکن نہیں کہ تمہارے مذہب میں پھر آجائیں، لیکن ہاں یہ کہ اللہ ہی نے جو ہمارا مالک ہے مقدر کیا ہو**۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں***۔ اے ہمارے پروردگار! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے موافق فیصلہ کر دے اور تو سب سے اچھا فیصلہ کرنے واﻻ ہے۔****
* یعنی اگر ہم دوبارہ اس دین آبائی کی طرف لوٹ آئے ، جس سے اللہ نے ہمیں نجات دی، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ایمان وتوحید کی دعوت دے کر اللہ پر جھوٹ باندھا تھا؟ مطلب یہ تھا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہماری طرف سے ایسا ہو ۔ **- اپنا عزم ظاہر کرنے کے بعد معاملہ اللہ کی مشیت کے سپرد کر دیا۔ یعنی ہم تو اپنی رضا مندی سے اب کفر کی طرف نہیں لوٹ سکتے۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو بات اور ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ کی طرح تعلیق بالمحال ہے۔ ***- کہ وہ ہمیں ایمان پر ثابت رکھے گا اور ہمارے اور کفر واہل کفر کے درمیان حائل رہے گا، ہم پر اپنی نعمت کا اتمام فرمائے گا اور اپنے عذاب سے محفوظ رکھے گا ۔ ****- اور اللہ جب فیصلہ کر لیتا ہے تو وہ یہی ہوتا ہے کہ اہل ایمان کو بچا کر مکذبین اور متکبرین کو ہلاک کر دیتا ہے ۔ یہ گویا عذاب الٰہی کے نزول کا مطالبہ ہے ۔

(90) اور ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ اگر تم شعیب (علیہ السلام) کی راه پر چلو گے تو بےشک بڑا نقصان اٹھاؤ گے۔*
* اپنے آبائی مذہب کو چھوڑنا اور ناپ تول میں کمی نہ کرنا، یہ ان کے نزدیک خسارے والی بات تھی درآں حالیکہ ان دونوں باتوں میں ان ہی کا فائدہ تھا ۔ لیکن دنیا والوں کی نظر میں تو نفع عاجل (دنیا میں فوراً حاصل ہو جانے والا نفع) ہی سب کچھ ہوتا ہے جو ناپ تول میں ڈنڈی مار کر انہیں حاصل ہو رہا تھا، وہ اہل ایمان کی طرح آخرت کے نفع آجل (دیر میں ملنے والے نفع) کے لیے اسے کیوں چھوڑتے؟

(91) پس ان کو زلزلے نے آپکڑا سو وه اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے ره گئے۔*
* یہاں رَجْفَة زلزلہ کا لفظ آیا ہے اور سورۂ ہود آیت ٩٤ میں صَيْحَةٌ ( چیخ ) کا لفظ ہے اور سورۂ شعراء ۔ ١٨٩ میں ظُلَّةٌ (بادل کا سایہ) کے الفاظ ہیں ۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ عذاب میں ساری ہی چیزو ں کا اجتماع ہوا ۔ یعنی سائے والے دن ان پر عذاب آیا۔ پہلے بادل نے ان پر سایہ کیا جس میں شعلے ، چنگاریاں اور آگ کے بھبھوکے تھے، پھر آسمان سے سخت چیخ آئی اور زمین سے بھونچال، جس سے ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور بےجان لاشے ہوکر پرندوں کی طرح گھٹنوں میں منہ دے کر اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے ۔

(92) جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی ان کی یہ حالت ہوگئی جیسے ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے*۔ جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی وہی خسارے میں پڑ گئے۔**
* یعنی جس بستی سے یہ اللہ کے رسول اور ان کے پیروکاروں کو نکالنے پر تلے ہوئے تھے ، اللہ کی طرف سے عذاب نازل ہونے کے بعد ایسے ہوگئے جیسے وہ یہاں رہتے ہی نہ تھے ۔ **- یعنی خسارے میں وہی لوگ رہے جنہوں نے پیغمبر کی تکذیب کی، نہ کہ پیغمبر اور ان پر ایمان لانے والے ۔ اور خسارہ بھی دونوں جہانوں میں ۔ دنیا میں بھی ذلت کا عذاب چکھا اور آخرت میں اس سے کہیں زیادہ عذاب شدید ان کے لیے تیار ہے۔

(93) اس وقت شعیب (علیہ السلام) ان سے منھ موڑ کر چلے اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے پروردگار کے احکام پہنچا دیئے تھے اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی۔ پھر میں ان کافر لوگوں پر کیوں رنج کروں۔*
* عذاب وتباہی کے بعد جب وہ وہاں سے چلے، تو انہوں نے وفور جذبات میں یہ باتیں کہیں۔ اور ساتھ ہی کہا کہ جب میں نے حق تبلیغ ادا کر دیا اور اللہ کا پیغام ان تک پہنچا دیا، تو اب میں ایسے لوگوں پر افسوس کروں تو کیوں کروں؟ جو اس کے باوجود اپنے کفر اور شرک پر ڈٹے رہے۔

(94) اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا کہ وہاں کے رہنے والوں کو ہم نے سختی اور تکلیف میں نہ پکڑا ہو، تاکہ وه گڑ گڑائیں۔*
* ”بَأْسَاءُ“ وہ تکلیفیں جو انسان کے بدن کو لاحق ہوں یعنی بیماری اور ”ضَرَّاءُ“ سے مراد فقر وتنگ دستی ۔ مطلب یہ ہے کہ جس کسی بستی میں بھی ہم نے رسول بھیجا، انہوں نے اس کی تکذیب کی جس کی پاداش میں ہم نے ان کو بیماری اور محتاجی میں مبتلا کردیا جس سے مقصد یہ تھا کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کریں اور اس کی بارگاہ میں گڑ گڑائیں۔

(95) پھر ہم نے اس بدحالی کی جگہ خوش حالی بدل دی، یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی اور کہنے لگے کہ ہمارے آباواجداد کو بھی تنگی اور راحت پیش آئی تھی تو ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا* اور ان کو خبر بھی نہ تھی۔
* یعنی فقروبیماری کے ابتلا سے بھی جب ان کے اندر رجوع الی اللہ کا داعیہ پیدا نہیں ہوا تو ہم نے ان کی تنگ دستی کو خوش حالی سے اور بیماری کو صحت وعافیت سے بدل دیا تاکہ وہ اس پر اللہ کا شکر ادا کریں ۔ لیکن اس انقلاب حال سے بھی ان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی اور انہوں نے کہا کہ یہ تو ہمیشہ سے ہی ہوتا چلا آرہا ہے کہ کبھی تنگی آگئی کبھی خوش حالی آگئی، کبھی بیماری تو کبھی صحت ، کبھی فقیری تو کبھی امیری ۔ یعنی تنگ دستی کا پہلا علاج ان کے لیے موثر ثابت ہوا، نہ خوش حالی، ان کے اصلاح احوال کے لیے کارگر ثابت ہوئی ۔ وہ اسے لیل ونہار کی گردش ہی سمجھتے رہے اور اس کے پیچھے کار فرما قدرت الٰہی اور اس کے ارادہ کو سمجھنے میں ناکام رہے تو ہم نے پھر انہیں اچانک اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیا ۔ اسی لیے حدیث میں مومنوں کا معاملہ اس کے برعکس بیان فرمایا گیا ہے ۔ کہ وہ آرام وراحت ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور تکلیف پہنچنے پر صبر سے کام لیتے ہیں ، یوں دونوں ہی حالتیں ان کے لیے خیر اور اجر کا باعث ہوتی ہیں۔ ( صحيح مسلم- كتاب الزهد باب المؤمن أمره كله خير)

(96) اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔

(97) کیا پھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب شب کے وقت آپڑے جس وقت وه سوتے ہوں۔

(98) اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بےفکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے جس وقت کہ وه اپنے کھیلوں میں مشغول ہوں۔

(99) کیا پس وه اللہ کی اس پکڑ سے بےفکر ہوگئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بےفکر نہیں ہوتا۔*
* ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ بیان فرمایا ہے کہ ایمان وتقویٰ ایسی چیز ہے کہ جس بستی کے لوگ اسے اپنا لیں تو ان پر اللہ تعالیٰ آسمان وزمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے یعنی حسب ضرورت انہیں آسمان سےبارش مہیا فرماتا ہے اور زمین اس سے سیراب ہوکر خوب پیداوار دیتی ہے ۔ نتیجتاً خوش حالی وفراوانی ان کا مقدر بن جاتی ہے ۔ لیکن اس کے برعکس تکذیب اور کفر کا راستہ اختیار کرنے پر قومیں اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہر جاتی ہیں، پھر پتہ نہیں ہو تاکہ شب وروز کی کس گھڑی میں عذاب آجائے اور ہنستی کھیلتی بستیوں کو آن واحد میں کھنڈر بنا کر رکھ دے۔ اس لیے اللہ کی ان تدبیروں سے بے خوف نہیں ہونا چاہیئے۔ اس بے خوفی کا نتیجہ سوائے خسارے کے اور کچھ نہیں ۔ مکر کے مفہوم کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورہ آل عمران آیت ٥٤ کا حاشیہ ۔

(100) اور کیا ان لوگوں کو جو زمین کے وارث ہوئے وہاں کے لوگوں کی ہلاکت کے بعد (ان واقعات مذکوره نے) یہ بات نہیں بتلائی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے جرائم کے سبب ان کو ہلاک کر ڈالیں اور ہم ان کے دلوں پر بند لگا دیں، پس وه نہ سن سکیں۔*
* یعنی گناہوں کے نتیجے میں عذاب ہی نہیں آتا، دلوں پر بھی قفل لگ جاتے ہیں، پھر بڑے بڑے عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے بیدار نہیں کر پاتے۔ دیگر بعض مقامات کی طرح یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک تو یہ بیان فرمایا ہے کہ جس طرح گزشتہ قوموں کو ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کیا، ہم چاہیں تو تمہیں بھی تمہارے کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کر دیں اور دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ مسلسل گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حق کی آواز کے لیے ان کے کان بند ہو جاتے ہیں ۔ پھر انذار اور وعظ ونصیحت ان کے لیے بیکار ہو جاتے ہیں ۔ آیت میں ہدایت تَبْيِينٌ (وضاحت) کے معنی میں ہے، اسی لیے لام کے ساتھ متعدی ہے۔ أَوَلَمْ يَهْدِ للَّذِينَ، یعنی کیا ان پر یہ بات واضح نہیں ہوئی۔

(101) ان بستیوں کے کچھ کچھ قصے ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں اور ان سب کے پاس ان کے پیغمبر معجزات لے کر آئے*، پھر جس چیز کو انہوں نے ابتدا میں جھوٹا کہہ دیا یہ بات نہ ہوئی کہ پھر اس کو مان لیتے**، اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتا ہے۔
* جس طرح گزشتہ صفحات میں چند انبیاء کا ذکر گزرا۔ بینات سے مراد دلائل وبراہین اور معجزات دونوں ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ رسولوں کے ذریعے سے جب تک ہم نے حجت تمام نہیں کر دی، ہم نے انہیں ہلاک نہیں کیا ۔ کیونکہ: «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبۡعَثَ رَسُولٗا» [الإسراء: 15] ”جب تک ہم رسول نہیں بھیج دیتے ۔ عذاب نازل نہیں کرتے“۔ **- اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یوم میثاق کو جب ان سے عہد لیا گیا تھا تو یہ اللہ کے علم میں ایمان لانے والے نہ تھے، اس لیے جب ان کے پاس رسول آئے تو اللہ کے علم کے مطابق ایمان نہیں لائے ۔ کیونکہ ان کی تقدیر میں ہی ایمان نہیں تھا جسے اللہ نے اپنے علم کے مطابق لکھ دیا تھا ۔ جس کو حدیث میں «فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ» (صحيح بخاري، تفسير سورة الليل) سے تعبیر کیا گیا ہے دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب پیغمبر ان کے پاس آئے تو وہ اس وجہ سے ان پر ایمان نہیں لائے کہ وہ اس سے قبل حق کی تکذیب کر چکے تھے ۔ گویا ابتداءً جس چیز کی وہ تکذیب کرچکے تھے، یہی گناہ ان کے عدم ایمان کا سبب بن گیا اور ایمان لانے کی توفیق ان سے سلب کر لی گئی، اسی کو اگلے جملے میں مہر لگانے سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ «وَمَا يُشۡعِرُكُمۡ أَنَّهَآ إِذَا جَآءَتۡ لَا يُؤۡمِنُونَ، وَنُقَلِّبُ أَفۡ‍ِٔدَتَهُمۡ وَأَبۡصَٰرَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُواْ بِهِۦٓ أَوَّلَ مَرَّةٖ» [الأنعام: 109-110]. ”اور تمہیں کیا معلوم ہے یہ تو ایسے (بدبخت) ہیں کہ ان کے پاس نشانیاں بھی آجائیں تب بھی ایمان نہ لائیں اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے)“۔

(102) اور اکثر لوگوں میں ہم نے وفائے عہد نہ دیکھا* اور ہم نے اکثر لوگوں کو بےحکم ہی پایا۔
* اس سے بعض نے عہد الست، جو عالم ارواح میں لیا گیا تھا، بعض نے عذاب ٹالنے کے لیے پیغمبروں سے جو عہد کرتے تھے، وہ عہد اور بعض نے عام عہد مراد لیا ہے جو آپس میں ایک دوسرے سے کرتے تھے ۔ اور یہ عہد شکنی، چاہے وہ کسی بھی قسم کی ہو، فسق ہی ہے ۔

(103) پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے دﻻئل دے کر فرعون اور اس کے امرا کے پاس بھیجا*، مگر ان لوگوں نے ان کا بالکل حق ادا نہ کیا۔ سو دیکھئے ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا؟**
* یہاں سے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کا ذکر شروع ہورہا ہے جو مذکورہ انبیاء کے بعد آئے جو جلیل القدر پیغمبر تھے، جنہیں فرعون مصر اور اس کی قوم کی طرف دلائل ومعجزات دے کر بھیجا گیا تھا ۔ **- یعنی انہیں غرق کر دیا گیا، جیسا کہ آگے آئے گا۔

(104) اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کی طرف سے پیغمبر ہوں۔

(105) میرے لیے یہی شایان ہے کہ بجز سچ کے اللہ کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں، میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل بھی ﻻیا ہوں*، سو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔**
* جو اس بات کی دلیل ہے کہ میں واقعی اللہ کی طرف سے مقرر کردہ رسول ہوں ۔ اس معجزے اور بڑی دلیل کی تفصیل بھی آگے آرہی ہے ۔ **- بنی اسرائیل ، جن کا اصل مسکن شام کا علاقہ تھا، حضرت یوسف (عليه السلام) کے زمانے میں مصر چلے گئے تھے اور پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے ۔ فرعون نے ان کو غلام بنا لیا تھا اور ان پر طرح طرح کے مظالم کرتا تھا، جس کی تفصیل پہلے سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہے اور آئندہ بھی آئے گی۔ فرعون اور اس کے درباری امراء نے جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا تو حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے فرعون سے یہ دوسرا مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردے تاکہ یہ اپنے آبائی مسکن میں جا کر عزت و احترام کی زندی گزاریں اور اللہ کی عبادت کریں۔

(106) فرعون نے کہا، اگر آپ کوئی معجزه لے کر آئے ہیں تو اس کو اب پیش کیجئے! اگر آپ سچے ہیں۔

(107) پس آپ نے اپنا عصا ڈال دیا، سو دفعتاً وه صاف ایک اﮊدھا بن گیا۔

(108) اور اپنا ہاتھ باہر نکالا سو وه یکایک سب دیکھنے والوں کے روبرو بہت ہی چمکتا ہوا ہو گیا۔*
* یعنی اللہ تعالیٰ نے جو دو بڑے معجزے انہیں عطا فرمائے تھے، اپنی صداقت کے لیے انہیں پیش کر دیا ۔

(109) قوم فرعون میں جو سردار لوگ تھے انہوں نے کہا کہ واقعی یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے۔*
* معجزے دیکھ کر، ایمان لانے کے بجائے، فرعون کے درباریوں نے اسے جادو قرار دے کر یہ کہہ دیا کہ یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے جس سے اس کا مقصد تمہاری حکومت کو ختم کرنا ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے زمانے میں جادو کا بڑا زور اور اس کا عام چلن تھا، اس لیے انہوں نے معجزات کو بھی جادو سمجھا، جن میں سرے سے انسان کا دخل ہی نہیں ہوتا۔ خالص اللہ کی مشیت سے ظہور میں آتے ہیں۔ تاہم اس عنوان سے فرعون کے درباریوں کے لیے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے بارے میں فرعون کو بہکانے کا موقع مل گیا۔

(110) یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سرزمین سے باہر کر دے سو تم لوگ کیا مشوره دیتے ہو۔

(111) انہوں نے کہا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دیجئے اور شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیجئے۔

(112) کہ وه سب ماہر جادو گروں کو آپ کے پاس ﻻ کر حاضر کر دیں۔*
* حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے زمانے میں جادوگری کو بڑا عروج حاصل تھا ۔ اسی لیے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے پیش کردہ معجزات کو بھی انہوں نے جادو سمجھا اور جادو کے ذریعے سے اس کا توڑ مہیا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا، کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے کہا ”اے موسیٰ! (عليه السلام) کیا تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہماری زمین سے نکال دے؟، پس ہم بھی اس جیسا جادو تیرے مقابلے میں لائیں گے، اس کے لیے کسی ہموار جگہ اور وقت کا ہم تعین کرلیں جس کی دونوں پابندی کریں، حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے کہا کہ نو روز کا دن اور چاشت کا وقت ہے، اس حساب سے لوگ جمع ہوجائیں“۔ (سورہ طٰہ: 57۔59)

(113) اور وه جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے، کہنے لگے کہ اگر ہم غالب آئے تو ہم کو کوئی بڑا صلہ ملے گا؟۔

(114) فرعون نے کہا کہ ہاں اور تم مقرب لوگوں میں داخل ہو جاؤ گے۔*
* جادوگر، چوں کہ طالب دنیا تھے، دنیا کمانے کے لیے ہی شعبدہ بازی کا فن سیکھتے تھے، اس لیے انہوں نے موقع غنیمت جانا کہ اس وقت تو بادشاہ کو ہماری ضرورت لاحق ہوئی ہے، کیوں نہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر زیادہ سے زیادہ اجرت حاصل کی جائے۔ چنانچہ انہوں نے اپنا مطالبۂ اجرت، کامیابی کی صورت میں پیش کر دیا، جس پر فرعون نے کہا کہ اجرت ہی نہیں بلکہ تم میرے مقربین میں بھی شامل ہو جاؤ گے۔

(115) ان ساحروں نے عرض کیا کہ اے موسیٰ! خواه آپ ڈالئے اور یا ہم ہی ڈالیں؟*
* جادوگروں نے یہ اختیار اپنے آپ پر مکمل اعتماد کرنے کی وجہ سے دیا۔ انہیں پورا یقین تھا کہ ہمارے جادو کے مقابلے میں موسیٰ (عليه السلام) کا معجزہ، جسے وہ ایک کرتب ہی سمجھتے تھے، کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اور اگر موسی (عليه السلام) کو پہلے اپنے کرتب دکھانے کا موقع دے بھی دیا تو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، ہم اس کے کرتب کا توڑ بہر صورت مہّیا کرلیں گے ۔

(116) (موسیٰ علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ہی ڈالو*، پس جب انہوں نے ڈاﻻ تو لوگوں کی نظر بندی کر دی اور ان پر ہیبت غالب کر دی اور ایک طرح کا بڑا جادو دکھلایا۔**
* لیکن موسیٰ (عليه السلام) چونکہ اللہ کے رسول تھے اور اللہ کی تائید انہیں حاصل تھی، اس لیے انہیں اپنے اللہ کی مدد کا یقین تھا، لہذا انہوں نے بغیر کسی خوف اور تامل کے جادوگروں سے کہا کہ پہلے تم جو دکھانا چاہتے ہو، دکھاو! علاوہ ازیں اس میں یہ حکمت بھی ہوسکتی ہے کہ جادو گروں کے پیش کردہ جادو کا توڑ جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی طرف سے معجزانہ انداز میں پیش ہوگا تو یہ لوگوں کے لیے زیادہ متاثر کن ہوگا، جس سے ان کی صداقت واضح تر ہوگی اور لوگوں کے لیے ایمان لانا سہل ہو جائے گا ۔ **- بعض آثار میں بتایا گیا ہے کہ یہ جادوگر 70 ہزار کی تعداد میں تھے ۔ بظاہر یہ تعداد مبالغے سے خالی نہیں، جن میں سے ہر ایک نے ایک ایک رسی اور ایک ایک لاٹھی میدان میں پھینکی، جو دیکھنے والوں کو دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں ۔ یہ گویا بزعم خویش بہت بڑا جادو تھا جو انہوں نے پیش کیا ۔

(117) اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دیجئے! سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے ان کے سارے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کیا۔*
* لیکن یہ جو کچھ بھی تھا، ایک تخیل، شعبدہ بازی اور جادو تھا جو حقیقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا، چنانچہ موسیٰ (عليه السلام) کے لاٹھی ڈالتے ہی سب کچھ ختم ہوگیا اور لاٹھی نے ایک خوفناک اژدھے کی شکل اختیار کرکے سب کچھ نگل لیا۔

(118) پس حق ﻇاہر ہوگیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا سب جاتا رہا۔

(119) پس وه لوگ اس موقع پر ہار گئے اور خوب ذلیل ہوکر پھرے۔

(120) اور وه جو ساحر تھے سجده میں گر گئے۔

(121) کہنے لگے کہ ہم ایمان ﻻئے رب العالمین پر۔*
* جادوگروں نے جو جادو کے فن اور اس کی اصل حقیقت کو جانتے تھے، یہ دیکھا تو سمجھ گئے کہ موسیٰ (عليه السلام) نے جو کچھ یہاں پیش کیا ہے، جادو نہیں ہے، یہ واقعی اللہ کا نمائندہ ہےاور اللہ کی مدد سے ہی اس نے یہ معجزہ پیش کیا ہے۔ جس نے آن واحد میں ہم سب کے کرتبوں پر پانی پھیر دیا۔ چنانچہ انہوں نے موسیٰ (عليه السلام) پر ایمان لانے کا اعلان کر دیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ باطل، باطل ہے چاہے اس پر کتنے ہی حسین غلاف چڑھا لیے جائیں اور حق، حق ہے چاہے اس پر کتنے ہی پردے ڈال دیئے جائیں ، تاہم حق کا ڈنکا بج کر رہتا ہے۔

(122) جو موسیٰ اور ہارون کا بھی رب ہے۔*
* سجدے میں گر کر انہوں نے رب العالمین پر ایمان لانے کا اعلان کیا جس سے فرعونیوں کو مغالطہ ہوسکتا تھا کہ یہ سجدہ فرعون کو کیا گیا ہے جس کی الوہیت کے وہ قائل تھے، اس لیے انہوں نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کا رب کہہ کر واضح کر دیا کہ یہ سجدہ ہم جہانوں کے رب کو ہی کر رہے ہیں ۔ لوگوں کے خود ساختہ کسی رب کو نہیں۔

(123) فرعون کہنے لگا کہ تم موسیٰ پر ایمان ﻻئے ہو بغیر اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں؟ بےشک یہ سازش تھی جس پر تمہارا عمل درآمد ہوا ہے اس شہر میں تاکہ تم سب اس شہر سے یہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو۔ سو اب تم کو حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے۔*
* یہ جو کچھ ہوا، فرعون کے لیے بڑا حیران کن اور تعجب خیز تھا، اس لیے اسے اور تو کچھ نہیں سوجھا، اس نے یہی کہہ دیا کہ تم سب آپس میں ملے ہوئے ہو اور اس کا مقصد ہمارے اقتدار کا خاتمہ ہے۔ اچھا! اس کا انجام عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔

(124) میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا۔ پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا۔*
* یعنی دایاں پاؤں اور بایاں ہاتھ یا بایاں پاؤں اور دایاں ہاتھ، پھر یہی نہیں،سولی پر چڑھا کر تمہیں نشان عبرت بھی بنا دوں گا۔

(125) انہوں نے جواب دیا کہ ہم (مر کر) اپنے مالک ہی کے پاس جائیں گے۔*
* اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اگر تو ہمارے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا تو تجھے بھی اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تجھے اس جرم کی سخت سزا دے گا، اس لیے کہ ہم سب کو مرکر اسی کے پاس جانا ہے، اس کی سزا سے کون بچ سکتا ہے؟ گویا فرعون کے عذاب دنیا کے مقابلے میں اسے عذاب آخرت سے ڈرایا گیا ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ موت تو ہمیں آنی ہی آنی ہے، اس سے کیا فرق پڑے گا کہ موت سولی پر آئے یا کسی اور طریقے سے؟

(126) اور تو نے ہم میں کونسا عیب دیکھا ہے بجز اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لے آئے*، جب وه ہمارے پاس آئے۔ اے ہمارے رب! ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما** اور ہماری جان حالت اسلام پر نکال۔***
* یعنی تیرے نزدیک ہمارا یہی عیب ہے ۔ جس پر تو ہم سے ناراض ہوگیا ہے اور ہمیں سزا دینے پر تل گیا ہے۔ دراں حالیکہ یہ سرے سے عیب ہی نہیں ہے۔ یہ تو خوبی ہے، بہت بڑی خوبی، کہ جب حقیقت ہمارے سامنے واضح ہوکر آگئی تو ہم نے اس کے مقابلے میں تمام دنیاوی مفادات ٹھکرا دیئے اور حقیقت کو اپنا لیا۔ پھر انہوں نے اپنا روئے سخن فرعون سے پھیر کر اللہ کی طرف کرلیا اور اس کی بارگاہ میں دست بدعا ہوگئے۔ **- تاکہ ہم تیرے اس دشمن کے عذاب کو برداشت کر لیں، اور حق میں متصلب اور ایمان پر ثابت قدم رہیں۔ ***- اس دنیاوی آزمائش سے ہمارے اندر ایمان سے انحراف آئے نہ کسی اور فتنے میں ہم مبتلا ہوں۔

(127) اور قوم فرعون کے سرداروں نے کہا کہ کیا آپ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وه ملک میں فساد کرتے پھریں*، اور وه آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کئے رہیں**۔ فرعون نے کہا کہ ہم ابھی ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے اور عورتوں کو زنده رہنے دیں گے اور ہم کو ان پر ہر طرح کا زور ہے۔***
* یہ ہر دور کے مفسدین کا شیوہ رہا ہے کہ وہ اللہ والوں کو فسادی اور ان کی دعوت ایمان وتوحید کو فساد سے تعبیر کرتے ہیں۔ فرعونیوں نے بھی یہی کہا۔ **- فرعون کو بھی اگرچہ دعوائے ربوبیت تھا ”فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلۡأَعۡلَىٰ“ [النازعات: 24]. ”میں تمہارا بڑا رب ہوں“ (وہ کہا کرتا تھا) لیکن دوسرے چھوٹے چھوٹے معبود بھی تھے جن کے ذریعے سے لوگ فرعون کا تقرب حاصل کرتے تھے ۔ ***- ہمارے اس انتظام میں یہ رکاوٹ نہیں ڈال سکتے۔ قتل ابناء کا یہ پروگرام فرعونیوں کے کہنے سے بنایا گیا اس سے قبل بھی، جب موسیٰ علیہ السلام کی ولادت نہیں ہوئی تھی، موسیٰ علیہ السلام کے بعد از ولادت خاتمے کے لیے اس نے بنی اسرائیل کے نومولود بچوں کو قتل کرنا شروع کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے بعد ان کو بچانے کی یہ تدبیر کی کہ موسیٰ علیہ السلام کو خود فرعون کے محل میں پہنچوا کر اسی کی گود میں ان کی پرورش کروائی۔

(128) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ تعالیٰ کا سہارا حاصل کرو اور صبر کرو، یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وه مالک بنا دے اور اخیر کامیابی ان ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔*
* جب فرعون کی طرف سے دوبارہ اس ظلم کا آغاز ہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ سے مدد حاصل کرنے اور صبر کرنے کی تلقین کی اور تسلی دی کہ اگر تم صحیح رہے تو زمین کا اقتدار بالآخر تمہیں ہی ملے گا۔

(129) قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے، آپ کی تشریف آوری سے قبل بھی* اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی**۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور بجائے ان کے تم کو اس سرزمین کا خلیفہ بنا دے گا پھر تمہارا طرز عمل دیکھے گا۔***
* یہ اشارہ ہے ان مظالم کی طرف جو ولادت موسیٰ علیہ السلام سے قبل ان پر ہوتے رہے۔ **- جادوگروں کے واقعے کے بعد ظلم وستم کا یہ نیا دور ہے، جو موسیٰ علیہ السلام کے آنے کے بعد شروع ہوا۔ ***- حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں، بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کرکے، زمین میں تمہیں اقتدار عطا فرمائے گا۔ اور پھر تمہاری آزمائش کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔ ابھی تو تکلیفوں کے ذریعے سے آزمائے جارہے ہو، پھر انعام واکرام کی بارش کرکے اور اختیار واقتدار سے بہرہ مند کرکے تمہیں آزمایا جائے گا۔

(130) اور ہم نے فرعون والوں کو مبتلا کیا قحط سالی میں اور پھلوں کی کم پیداواری میں، تاکہ وه نصیحت قبول کریں۔*
* ”آلَ فِرْعَوْنَ“ سے مراد، فرعون کی قوم ہے۔ اور ”سِنِينَ“ سے قحط سالی۔ یعنی بارش کے فقدان اور درختوں میں کیڑے وغیرہ لگ جانے سے پیداوار میں کمی۔ مقصد اس آزمائش سے یہ تھا کہ اس ظلم اور استکبار سے باز آجائیں جس میں وہ مبتلا تھے۔

(131) سو جب ان پر خوشحالی آجاتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لیے ہونا ہی چاہئے اور اگر ان کو کوئی بدحالی پیش آتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے*۔ یاد رکھو کہ ان کی نحوست اللہ تعالیٰ کے پاس ہے**، لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔
* ”حَسَنَةٌ“ (بھلائی) سے مراد غلے اور پھلوں کی فراوانی اور”سيِّئَةٌ“ (برائی) سے اس کے برعکس اور قحط سالی اور پیداوار میں کمی۔ حَسَنَةٌ کا سارا کریڈٹ خود لے لیتے کہ یہ ہماری محنت کا ثمرہ ہے اور بدحالی کا سبب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں کو قرار دیتے کہ یہ تم لوگوں کی نحوست کے اثرات ہمارے ملک پر پڑ رہے ہیں۔ **- ”طَآئِرٌ“ کے معنی ہیں ”اڑنے والا“ یعنی پرندہ ۔ چوں کہ پرندے کے بائیں یا دائیں اڑنے سے وہ لوگ نیک فالی یا بدفالی لیا کرتے تھے۔ اس لیے یہ لفظ مطلق فال کے لیے بھی استعمال ہونے لگ گیا اور یہاں یہ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خیر یا شر، جو خوش حالی یا قحط سالی کی وجہ سے انہیں پہنچتا ہے، اس کے اسباب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، موسیٰ علیہ السلام اور ان کے پیروکار اس کا سبب نہیں۔ کا مطلب ہوگا کہ ان کی بدشگونی کا سبب اللہ کے علم میں ہے اور وہ ان کا کفر وانکار ہے نہ کہ کچھ اور۔ یا اللہ کی طرف سے ہے اور اس کی وجہ ان کا کفر ہے۔

(132) اور یوں کہتے کیسی ہی بات ہمارے سامنے لاؤ کہ ان کے ذریعہ سے ہم پر جادو چلاؤ جب بھی ہم تمہاری بات ہر گز نہ مانیں گے۔*
* یہ اسی کفر وجحود کا اظہار ہے جس میں وہ مبتلا تھے، اور معجزات وآیات الٰہی کو اب بھی وہ جادوگری باور کرتے یا کراتے تھے۔

(133) پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹڈیاں اور گھن کا کیڑا اور مینڈک اور خون، کہ یہ سب کھلے کھلے معجزے تھے*۔ سو وه تکبر کرتے رہے اور وه لوگ کچھ تھے ہی جرائم پیشہ۔
* طوفان سے سیلاب یا کثرت بارش، جس سے ہر چیز غرق ہوگئی ، یا کثرت اموات مراد ہے، جس سے ہر گھر میں ماتم برپا ہوگیا۔ ”جَرَادٌ“ ٹڈی کو کہتے ہیں ، ٹڈی دل کا حملہ فصلوں کی ویرانی کے لیے مشہور ہے۔ یہ ٹڈیاں ان کے غلوں اور پھلوں کی فصلوں کو کھا کر چٹ کر جاتیں۔ ”قُمَّلٌ“ سے مراد جوں ہیں جو انسان کے جسم، کپڑے اور بالوں میں ہوجاتی ہیں یا گھن کا کیڑا ہے جو غلے میں لگ جاتا ہے تو اس کے بیشتر حصے کو ختم کر دیتا ہے۔ جووں سے انسان کو گھن بھی آتی ہے اور اس کی کثرت سے سخت پریشانی بھی ۔ اور جب یہ بطور عذاب ہوں تو اسے لاحق ہونے والی پریشانی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح گھن کا عذاب بھی معیشت کو کھوکھلا کر دینے کے لیے کافی ہے۔ ”ضَفَادِعُ“ ضَفْدَعَةٌ کی جمع ہے یہ مینڈک کو کہتے ہیں جو پانی اور جوہڑوں، چھپڑوں میں ہوتا ہے۔ یہ مینڈک ان کے کھانوں میں، بستروں میں، ابلے ہوئے غلوں میں غرض ہر جگہ اور ہر طرف مینڈک ہی مینڈک ہوگئے، جس سے ان کا کھانا پینا، سونا اور آرام کرنا حرام ہوگیا۔ ”دم“ (خون) سے مراد ہے پانی کا خون بن جانا، یوں پانی پینا ان کے لیے ناممکن ہوگیا۔ بعض نے خون سے مراد نکسیر کی بیماری لی ہے۔ یعنی ہر شخص کی ناک سے خون جاری ہوگیا، ”آيَاتٌ مُفَصَّلاتٌ“ یہ کھلے کھلے اور جدا جدا معجزے تھے، جو وقفے وقفے سے ان کے پاس آئے۔

(134) اور جب ان پر کوئی عذاب واقع ہوتا تو یوں کہتے کہ اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے اس بات کی دعا کر دیجئے! جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے، اگر آپ اس عذاب کو ہم سے ہٹا دیں تو ہم ضرور ضرور آپ کے کہنے سے ایمان لے آئیں گے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی (رہا کر کے) آپ کے ہمراه کر دیں گے۔

(135) پھر جب ان سے اس عذاب کو ایک خاص وقت تک کہ اس تک ان کو پہنچنا تھا ہٹا دیتے، تو وه فوراً ہی عہد شکنی کرنے لگتے۔*
* یعنی ایک عذاب آتا تو اس سے تنگ آکر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آتے، ان کی دعا سے وہ ٹل جاتا تو ایمان لانے کے بجائے، پھر اس کفر وشرک پر جمے رہتے۔ پھر دوسرا عذاب آجاتا تو پھر اسی طرح کرتے۔ یوں کچھ کچھ وقفوں سے پانچ عذاب ان پر آئے۔ لیکن ان کے دلوں میں جو رعونت اور دماغوں میں جو تکبر تھا، وہ حق کی راہ میں ان کے لیے زنجیر پابنا رہا اور اتنی اتنی واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود وہ ایمان کی دولت سے محروم ہی رہے۔

(136) پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا یعنی ان کو دریا میں غرق کر دیا اس سبب سے کہ وه ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل ہی غفلت کرتے تھے۔*
* اتنی بڑی بڑی نشانیوں کے باوجود وہ ایمان لانے کے لیے اور خواب غفلت سے بیدار ہونے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ بالآخر انہیں دریا میں غرق کر دیا گیا، جس کی تفصیل قرآن مجید کے مختلف مقامات پر موجود ہے۔

(137) اور ہم نے ان لوگوں کو جو کہ بالکل کمزور شمار کئے جاتے تھے*۔ اس سرزمین کے پورب پچھم کا مالک بنا دیا، جس میں ہم نے برکت رکھی ہے** اور آپ کے رب کا نیک وعده، بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی وجہ سے پورا ہوگیا*** اور ہم نے فرعون کے اور اس کی قوم کے ساختہ پرداختہ کارخانوں کو اور جو کچھ وه اونچی اونچی عمارتیں بنواتے تھے، سب کو درہم برہم کر دیا۔****
* یعنی بنی اسرائیل کو، جن کو فرعون نے غلام بنا رکھا تھا اور ان پر ظلم روا رکھتا تھا۔ اس بنا پر وہ فی الواقع مصر میں کمزور سمجھے جاتے تھے کیونکہ مغلوب اور غلام تھے ۔ لیکن جب اللہ نے چاہا تو اسی مغلوب اور غلام قوم کو زمین کا وارث بنا دیا۔ ”وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُ“ [آل عمران: 26]. **- زمین سے مراد شام کا علاقہ فلسطین ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے عمالقہ کے بعد بنی اسرائیل کو غلبہ عطا فرمایا، شام میں بنی اسرائیل حضرت موسیٰ وہارون علیہما السلام کی وفات کے بعد اس وقت گئے جب حضرت یوشع بن نون نے عمالقہ کو شکست دے کر بنی اسرائیل کے لیے راستہ ہموار کر دیا۔ اور زمین کے ان حصوں میں برکتیں رکھیں، یعنی شام کے علاقے میں۔ جو بکثرت انبیا کا مسکن ومدفن رہا اور ظاہری شادابی وخوش حالی میں بھی ممتاز ہے۔ یعنی ظاہری وباطنی دونوں قسم کی برکتوں سے یہ زمین مالامال رہی ہے۔ مشارق مشرق کی جمع اور مغارب مغرب کی جمع ہے۔ حالانکہ مشرق اور مغرب ایک ایک ہی ہیں ۔ جمع سے مراد اس ارض بابرکت کے مشرقی اور مغربی حصے ہیں یعنی جہات مشرق ومغرب ۔ ***- یہ وعدہ یہی ہے جو اس سے قبل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبانی آیت 128، 129 میں فرمایا گیا ہے اور سورہ قصص میں بھی ۔ «وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَنَجۡعَلَهُمۡ أَئِمَّةٗ وَنَجۡعَلَهُمُ ٱلۡوَٰرِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَنُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَٰمَٰنَ وَجُنُودَهُمَا مِنۡهُم مَّا كَانُواْ يَحۡذَرُونَ» [القصص: 5-6]. ”ہم چاہتے ہیں کہ ان پر احسان کریں جو زمین میں کمزور سمجھے جاتے ہیں اور ان کو پیشوا بنائیں اور ملک کا وارث کریں اور ملک میں ان کو قوت وطاقت دیں اور فرعون وہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس سے وہ ڈرتے ہیں“، اوریہ فضل واحسان اس صبر کی وجہ سے ہوا جس کا مظاہرہ انہوں نے فرعونی مظالم کے مقابلے میں کیا۔ ****- مصنوعات سے مراد کارخانے، عمارتیں اور ہتھیار وغیرہ ہیں اور يَعْرِشُونَ (جو وہ بلند کرتے تھے سے مراد اونچی اونچی عمارتیں بھی ہوسکتی ہیں اور انگوروں وغیرہ کے باغات بھی جو وہ چھپروں پر پھیلاتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی شہری عمارتیں، ہتھیار اور دیگر سامان بھی تباہ کر دیا اور ان کے باغات بھی۔

(138) اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا۔ پس ان لوگوں کا ایک قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں سے لگے بیٹھے تھے، کہنے لگے اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔*
* اس سے بڑی جہالت اور نادانی کیا ہوگی کہ جس اللہ نے انہیں فرعون جیسے بڑے دشمن سے نہ صرف نجات دی، بلکہ ان کی آنکھوں کے سامنے اسے اس کے لشکر سمیت غرق کر دیا اور انہیں معجزانہ طریق سے دریا عبور کروایا۔ وہ دریا پار کرتے ہی اس اللہ کو بھول کر پتھر کے خود تراشیدہ معبود تلاش کرنے لگ گئے۔ کہتے ہیں کہ یہ بت گائے کی شکل کے تھے جو پتھر کی بنی ہوئی تھیں۔

(139) یہ لوگ جس کام میں لگے ہیں یہ تباه کیا جائے گا اور ان کا یہ کام محض بےبنیاد ہے۔*
* یعنی یہ مورتیوں کے پجاری جن کے حال نے تمہیں بھی دھوکے میں ڈال دیا، ان کا مقدر تباہی اور ان کا یہ فعل باطل اور خسارے کا باعث ہے۔

(140) فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کردوں؟ حاﻻنکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فوقیت دی ہے۔*
* کیا جس اللہ نے تم پر اتنے احسانات کیے اور تمہیں جہانوں پر فضیلت بھی عطا کی، اسے چھوڑ کر میں تمہارے لیے پتھر اور لکڑی کے تراشے ہوئے بت تلاش کروں؟ یعنی یہ ناشکری اور احسان ناشناسی میں کس طرح کرسکتا ہوں؟ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ کے مزید احسانات کا تذکرہ ہے۔

(141) اور وه وقت یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے بچا لیا جو تم کو بڑی سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زنده چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی بھاری آزمائش تھی۔*
* یہ وہی آزمائشیں ہیں جن کا ذکر سورہ بقرہ میں بھی گزرا اور سورہ ابراہیم میں بھی آئے گا۔

(142) اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعده کیا اور دس رات مزید سے ان تیس راتوں کو پورا کیا۔ سو ان کے پروردگار کا وقت پورے چالیس رات کا ہوگیا*۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے کہا کہ میرے بعد ان کا انتظام رکھنا اور اصلاح کرتے رہنا اور بدنظم لوگوں کی رائے پر عمل مت کرنا۔**
* فرعون اور اس کے لشکر کے غرق کے بعد ضرورت لاحق ہوئی کہ بنی اسرائیل کی ہدایت ورہنمائی کے لیے کوئی کتاب انہیں دی جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو تیس راتوں کے لیے کوہ طور پر بلایا، جس میں دس راتوں کا اضافہ کرکے اسے چالیس کر دیا گیا۔ حضرت موسی (عليه السلام) نے جاتے وقت ہارون (عليه السلام) کو، جو ان کے بھائی بھی تھے اور نبی بھی، اپنا جانشین مقرر کر دیا تاکہ وہ بنی اسرائیل کی ہدایت واصلاح کا کام کرتے رہیں اور انہیں ہر قسم کے فساد سے بچائیں۔ اس آیت میں یہی بیان کیا گیا ہے ۔ **- حضرت ہارون (عليه السلام) خود نبی تھے اور اصلاح کا کام ان کے فرائض منصبی میں شامل تھا، حضرت موسی (عليه السلام) نے انہیں محض تذکیر وتنبیہ کے طور پر یہ نصیحتیں کیں، میقات سے یہاں مراد وقت معین ہے۔

(143) اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! اپنا دیدار مجھ کو کرا دیجئے کہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے* لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وه اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہوکر گر پڑے**۔ پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا، بےشک آپ کی ذات منزه ہے میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے آپ پر ایمان ﻻنے واﻻ ہوں۔***
* جب موسیٰ علیہ السلام طور پر گئے اور وہاں اللہ نے ان سے براہ راست گفتگو کی، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں اللہ کو دیکھنے کا بھی شوق پیدا ہوا، اور اپنے اس شوق کا اظہار ربِّ أرِنِي کہہ کر کیا ۔ جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لَنْ تَرَانِي (تو مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتا) اس سے استدلال کرتے ہوئے معتزلہ نے کہا کہ لَنْ نَفْيُ تَأْبِيدٍ (ہمیشہ کی نفی) کے لیے آتا ہے۔ اس لیے اللہ کا دیدار نہ دنیا میں ممکن ہے نہ آخرت میں۔ لیکن معتزلہ کا یہ مسلک صحیح احادیث کے خلاف ہے۔ متواتر، صحیح اور قوی روایات سے ثابت ہے کہ قیامت والے دن اہل ایمان اللہ کو دیکھیں گے اور جنت میں بھی دیدار الہیٰ سے مشرف ہوں گے۔ تمام اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے۔ اس نفی رویت کا تعلق صرف دنیا سے ہے۔ دنیا میں کوئی انسانی آنکھ اللہ کو دیکھنے پرقادر نہیں ہے۔ لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ ان آنکھوں میں اتنی قوت پیدا فرما دے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جلوے کو برداشت کرسکے۔ **- یعنی وہ پہاڑ بھی رب کی تجلی کو برداشت نہ کرسکا اور موسیٰ علیہ السلام بےہوش ہوکر گر پڑے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ ”قیامت والے دن سب لوگ بےہوش ہوں گے، (یہ بےہوشی امام ابن کثیر کے بقول میدان محشر میں اس وقت ہوگی جب اللہ تعالیٰ فیصلے کرنے کے لیے نزول اجلال فرمائے گا) اور جب ہوش میں آئیں گے تو میں ہوش میں آنے والوں میں سب سے پہلا شخص ہوں گا، میں دیکھوں گا کہ موسیٰ (عليه السلام) عرش کا پایہ تھامے کھڑے ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آئے یا انہیں کوہ طور کی بے ہوشی کے بدلے میں میدان محشر کی بےہوشی سے مستثنیٰ رکھا گیا“۔ (صحيح بخاري- تفسير سورة الأعراف - صحيح مسلم، باب فضائل موسى عليه السلام) ***- تیری عظمت وجلالت کا اور اس بات کا کہ میں تیرا عاجز بندہ ہوں، دنیا میں تیرے دیدار کا متحّمل نہیں ہوسکتا۔

(144) ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ! میں نے پیغمبری اور اپنی ہمکلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے تو جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے اس کو لو اور شکر کرو۔*
* یہ ہم کلامی کا دوسرا موقعہ تھا جس سے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو مشرف کیا گیا ہے ۔ اس سے قبل جب آگ لینے گئے تھے تو اللہ نے ہم کلامی سے نوازا تھا اور پیغمبری عطا فرمائی تھی ۔

(145) اور ہم نے چند تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل ان کو لکھ کر دی*، تم ان کو پوری طاقت سے پکڑ لو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ ان کے اچھے اچھے احکام پر عمل کریں**، اب بہت جلد تم لوگوں کو ان بے حکموں کا مقام دکھلاتا ہوں۔***
* گویا تورات تختیوں کی شکل میں عطا فرمائی گئی جس میں ان کے لیے دینی احکام، امر ونہی اور ترغیب وترہیب کی پوری تفصیل تھی ۔ **- یعنی رخصتوں کی ہی تلاش میں نہ رہیں جیسا کہ سہولت پسندوں کا حال ہوتا ہے ۔ ***- مقام (دار) سے مراد یا تو انجام یعنی ہلاکت ہے یا اس کا مطلب ہے کہ فاسقوں کے ملک پر تمہیں حکمرانی عطا کروں گا اور اس سے مراد ملک شام ہے جس پر اس وقت عمالقہ کی حکمرانی تھی ۔ جو اللہ کے نافرمان تھے ۔ (ابن کثیر)

(146) میں ایسے لوگوں کو اپنے احکام سے برگشتہ ہی رکھوں گا جو دنیا میں تکبر کرتے ہیں، جس کا ان کو کوئی حق حاصل نہیں اور اگر تمام نشانیاں دیکھ لیں تب بھی وه ان پر ایمان نہ ﻻئیں،* اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ بنالیں**۔ یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غافل رہے۔***
* تکبر کا مطلب ہے اللہ کی آیات واحکام کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور لوگوں کو حقیر گرداننا۔ یہ تکبر، انسان کے لیے زیبا نہیں۔ کیونکہ اللہ خالق ہے اور وہ اس کی مخلوق ۔ مخلوق ہوکر، خالق کا مقابلہ کرنا اور اس کے احکام وہدایات سے اعراض وغفلت کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ اسی لیے تکبر اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ اس آیت میں تکبر کا نتیجہ بتلایا گیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ انہیں آیات الٰہی سے دور ہی رکھتا ہے اور پھر وہ اتنے دور ہوجاتے ہیں کہ کسی طرح کی بھی نشانی انہیں حق کی طرف لانے میں کامیاب نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا: «إِنَّ ٱلَّذِينَ حَقَّتۡ عَلَيۡهِمۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُونَ، وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ ءَايَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُاْ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ» [يونس: 96-97]. ”جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوگئی وہ ایمان نہیں لائیں گے، چاہے ان کے پاس ہر طرح کی نشانی آجائے ۔ حتیٰ کہ وہ درد ناک عذاب دیکھ لیں“۔ **- اس میں احکام الٰہیٰ سے اعراض کرنے والوں کی ایک اور عادت یا نفسیات کا بیان ہے کہ ہدایت کی کوئی بات ان کے سامنے آئے تو اسے تو نہیں مانتے، البتہ گمراہی کی کوئی چیز دیکھتے ہیں تو اسے فوراً اپنا لیتے اور راہ عمل بنا لیتے ہیں ۔ قرآن کریم کی بیان کردہ اس حقیقت کا ہر دور میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ آج ہم بھی ہر جگہ اور ہر معاشرے میں حتیٰ کہ مسلمان معاشروں میں بھی یہی کچھ دیکھ رہے ہیں کہ نیکی منہ چھپائے پھر رہی ہے اور بدی کو ہر کوئی لپک لپک کر اختیار کر رہا ہے۔ ***- یہ اس بات کا سبب بتلایا جارہا ہے کہ لوگ نیکی کے مقابلے میں بدی کو اور حق کے مقابلے میں باطل کو کیوں زیادہ اختیار کرتے ہیں؟ یہ سبب ہے آیات الٰہی کی تکذیب اور ان سے غفلت واعراض کا۔ یہ ہر معاشرے میں عام ہے۔

(147) اور یہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو اور قیامت کے پیش آنے کو جھٹلایا ان کے سب کام غارت گئے۔ ان کو وہی سزا دی جائے گی جو کچھ یہ کرتے تھے۔*
* اس میں آیات الٰہی کی تکذیب اور آخرت کا انکار کرنے والوں کا انجام بتلایا گیا ہے کہ چونکہ ان کے عمل کی اساس عدل وحق نہیں، ظلم وباطل ہے۔ اس لیے ان کے نامۂ اعمال میں شرہی شر ہوگا جس کی کوئی قیمت اللہ کے ہاں نہ ہو گی ۔ ہاں اس شر کا بدلہ ان کو وہاں ضرور دیا جائے گا۔

(148) اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں کا ایک بچھڑا معبود ٹھہرا لیا جو کہ ایک قالب تھا جس میں ایک آواز تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وه ان سے بات نہیں کرتا تھا اور نہ ان کو کوئی راه بتلاتا تھا اس کو انہوں نے معبود قرار دیا اور بڑی بے انصافی کا کام کیا۔*
* موسیٰ (عليه السلام) جب چالیس راتوں کے لیے کوہ طور پر گئے تو پیچھے سے سامری نامی شخص نے سونے کے زیورات اکٹھے کرکے ایک بچھڑا تیار کیا جس میں اس نے جبریل (عليه السلام) کے گھوڑے کے سموں کے نیچے کی مٹی بھی، جو اس نے سنبھال کر رکھی ہوئی تھی شامل کر دی، جس میں اللہ نے زندگی کی تاثیر رکھی تھی، جس کی وجہ سے بچھڑا کچھ کچھ بیل کی آواز نکالتا تھا۔ (گو واضح کلام کرنے اور رہنمائی کرنے سے عاجز تھا جیسا کہ قرآن کے الفاظ واضح کر رہے ہیں) اس میں اختلاف ہے کہ وہ فی الواقع گوشت پوست کا بچھڑا بن گیا تھا، یا تھا وہ سونے کا ہی۔ لیکن کسی طریقے سے اس میں ہوا داخل ہوتی تو گائے، بیل کی سی آواز اس میں سے نکلتی۔ (ابن کثیر) اس آواز سے سامری نے بنی اسرائیل کو گمراہ کیا کہ تمہارا معبود تو یہ ہے، موسیٰ (عليه السلام) بھول گئے ہیں اور وہ معبود کی تلاش میں کوہ طور پر گئے ہیں۔ ( یہ واقعہ سورۂ طٰہ میں آئے گا )

(149) اور جب نادم ہوئے* اور معلوم ہوا کہ واقعی وه لوگ گمراہی میں پڑ گئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمارا گناه معاف نہ کرے تو ہم بالکل گئے گزرے ہو جائیں گے۔
* ”سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ“ محاورہ ہے جس کے معنی نادم ہونا ہیں، یہ ندامت موسیٰ (عليه السلام) کی واپسی کے بعد ہوئی، جب انہوں نے آکر اس پر ان کی زجرو توبیخ کی، جیسا کہ سورۂ طٰہ میں ہے۔ یہاں اسے مقدم اس لیے کر دیا گیا ہے کہ ان کا فعل اور قول اکٹھا ہو جائے۔ ( فتح القدیر)

(150) اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف واپس آئے غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے تو فرمایا کہ تم نے میرے بعد یہ بڑی بری جانشینی کی؟ کیا اپنے رب کے حکم سے پہلے ہی تم نے جلد بازی کرلی، اور جلدی سے تختیاں ایک طرف رکھیں* اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر ان کو اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ ہارون (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے ماں جائے!** ان لوگوں نے مجھ کو بےحقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کر ڈالیں*** تو تم مجھ پر دشمنوں کو مت ہنساؤ**** اور مجھ کو ان ﻇالموں کے ذیل میں مت شمار کرو۔*****
* جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے آکر دیکھا کہ وہ بچھڑے کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں تو سخت غضب ناک ہوئے اور جلدی میں تختیاں بھی، جو کوہ طور سے لائے تھے، ایسے طور پر رکھیں کہ دیکھنے والوں کو محسوس ہوا کہ انہوں نے نیچے پھینک دی ہیں، جسے قرآن نے ”ڈال دیں“ سے تعبیر کیا ہے ۔ تاہم اگر پھینک بھی دی ہوں تو اس میں سوء ادبی نہیں کیونکہ مقصد ان کا تختیوں کی بےادبی نہیں تھا، بلکہ دینی غیرت وحمیّت میں بے خود ہوکر غیر اختیاری طور پر ان سے یہ فعل سرزد ہوا۔ **- حضرت ہارون وموسیٰ علیہما السلام آپس میں سگے بھائی تھے، لیکن یہاں حضرت ہارون (عليه السلام) نے (ماں جائے) اس لیے کہا کہ اس لفظ میں پیار اور نرمی کا پہلو زیادہ ہے۔ ***- حضرت ہارون (عليه السلام) نے یہ اپنا عذر پیش کیا جس کی وجہ سے وہ قوم کو شرک جیسے جرم عظیم سے روکنے میں ناکام رہے۔ ایک اپنی کمزوری اور دوسرا، بنی اسرائیل کا عناد اور سرکشی کہ وہ انہیں قتل تک کر دینے پر آمادہ ہوگئے تھے اور انہیں اپنی جان بچانے کے لیے خاموش ہونا پڑا، جس کی اجازت ایسے موقعوں پر اللہ نے دی ہے۔ ****- میری ہی سرزنش کرنے سے دشمن خوش ہوں گے، جب کہ یہ موقع تو دشمنوں کی سرکوبی اور ان سے اپنی قوم کو بچانے کا ہے۔ *****- اور ویسے بھی عقیدہ وعمل میں مجھے کس طرح ان کے ساتھ شمار کیا جاسکتا ہے؟ میں نے نہ شرک کا ارتکاب کیا، نہ اس کی اجازت دی، نہ اس پر خوش ہوا، صرف خاموش رہا اور اس کے لیے بھی میرے پاس معقول عذر موجود ہے، پھر میرا شمار ظالموں (مشرکوں) کے ساتھ کس طرح ہوسکتا ہے؟ چنانچہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے اپنے اور اپنے بھائی ہارون (عليه السلام) کے لیے مغفرت ورحمت کی دعا مانگی۔

(151) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے رب! میری خطا معاف فرما اور میرے بھائی کی بھی اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیاده رحم کرنے واﻻ ہے۔

(152) بےشک جن لوگوں نے گوسالہ پرستی کی ہے ان پر بہت جلد ان کے رب کی طرف سے غضب اور ذلت اس دنیوی زندگی ہی میں پڑے گی* اور ہم افترا پردازوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔**
* اللہ کا غضب یہ تھا کہ توبہ کے لیے قتل ضروری قرار پایا۔ اور اس سے قبل جب تک جیتے رہے، ذلت ورسوائی کے وہ مستحق قرار پائے۔ **- اور یہ سزا ان ہی کے لیے خاص نہیں ہے، جو بھی اللہ پر افترا کرتا ہے، اس کو ہم یہی سزا دیتے ہیں۔

(153) اور جن لوگوں نے گناه کے کام کئے پھر وه ان کے بعد توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں تو تمہارا رب اس توبہ کے بعد گناه معاف کر دینے واﻻ، رحمت کرنے واﻻ ہے۔*
* ہاں جنہوں نے توبہ کرلی، ان کے لیے اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے ۔ معلوم ہوا کہ توبہ سے ہر گناہ معاف ہو جاتا ہے بشرطیکہ خالص توبہ ہو۔

(154) اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرد ہوا تو ان تختیوں کو اٹھا لیا اور ان کے مضامین میں* ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ہدایت اور رحمت تھی۔**
* ”نُسْخَةٌ“ فُعْلَةٌ کے وزن پر بمعنی مفعول ہے ۔ یہ اس اصل کو بھی کہتے ہیں جس سے نقل کیا جائے اور نقل شدہ کو بھی نسخہ کہہ دیا جاتا ہے۔ یہاں نسخہ سے مراد یا تو وہ اصل الواح ہیں جن پر تورات لکھی گئی تھی، یا اس سے مراد وہ دوسرا نسخہ ہے جو تختیاں زور سے پھینکنے کی وجہ سے ٹوٹ جانے کے بعد اس سے نقل کرکے تیار کیا گیا تھا۔ تاہم صحیح بات پہلی ہی لگتی ہے۔ کیونکہ آگے چل کر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے ان ”تختیوں کو اٹھا لیا“ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تختیاں ٹوٹی نہیں تھیں ۔ بہرحال اس کا مرادی مفہوم ”مضامین“ ہے جو ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے ۔ **- تورات کو بھی، قرآن کریم کی طرح، انہی لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت قرار دیا گیا ہے جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں، کیونکہ اصل فائدہ آسمانی کتابوں سے ایسے ہی لوگوں کو ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ تو چونکہ اپنے کانوں کو حق کے سننے سے، آنکھوں کو حق کے دیکھنے سے بند کئے ہوئے ہوتے ہیں، اس چشمۂ فیض سے وہ بالعموم محروم ہی رہتے ہیں۔

(155) اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمی اپنی قوم میں سے ہمارے وقت معین کے لیے منتخب کئے، سو جب ان کو زلزلہ نے آپکڑا* تو موسیٰ (علیہ السلام) عرض کرنے لگے کہ اے میرے پروردگار! اگر تجھ کو یہ منظور ہوتا تو اس سے قبل ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کر دیتا۔ کیا تو ہم میں سے چند بے وقوفوں کی حرکت پر سب کو ہلاک کردے گا؟ یہ واقعہ محض تیری طرف سے ایک امتحان ہے، ایسے امتحانات سے جس کو تو چاہے گمراہی میں ڈال دے اور جس کو چاہے ہدایت پر قائم رکھے۔ تو ہی تو ہمارا کارساز ہے پس ہم پر مغفرت اور رحمت فرما اور تو سب معافی دینے والوں سے زیاده اچھا ہے۔**
* ان ستر آدمیوں کی تفصیل اگلے حاشیے میں آرہی ہے ۔ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے اپنی قوم کے ستر آدمی چنے اور انہیں کوہ طور پر لے گئے، جہاں بطور عذاب انہیں ہلاک کر دیا گیا، جس پر حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے کہا۔ **- بنی اسرائیل کے یہ ستر آدمی کون تھے؟ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے تورات کے احکام انہیں سنائے تو انہوں نے کہا ہم کیسے یقین کرلیں کہ یہ کتاب واقعی اللہ تعالی کی طرف سے ہی نازل شدہ ہے؟ ہم تو جب تک خود اللہ تعالیٰ کو کلام کرتے ہوئے نہ سن لیں، اسے نہیں مانیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ستر برگزیدہ آدمیوں کا انتخاب کیا اور انہیں کوہ طور پر لے گئے ۔ وہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (عليه السلام) سے ہمکلام ہوا جسے ان لوگوں نے بھی سنا لیکن وہاں انہوں نے ایک نیا مطالبہ کر دیا کہ ہم تو جب تک اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیں گے، ایمان نہیں لائیں گے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ ستر آدمی وہ ہیں جو پوری قوم کی طرف سے بچھڑے کی عبادت کے جرم عظیم کی توبہ اور معذرت کے لیے کوہ طور پر لے جائے گئے تھے اور وہاں جاکر انہوں نے اللہ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ تیسری رائے یہ ہے کہ یہ ستر آدمی وہی ہیں کہ جنہوں نے بنی اسرائیل کو بچھڑے کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا لیکن انہیں اس سے منع نہیں کیا۔ ایک چوتھی رائے یہ ہے کہ یہ ستر آدمی وہ ہیں جنہیں اللہ کے حکم سے کوہ طور پر لے جانے کے لیے چنا گیا تھا، وہاں جاکر انہوں نے اللہ سے دعائیں کیں۔ جن میں ایک دعا یہ بھی تھی کہ ”یا اللہ، ہمیں تو وہ کچھ عطا فرما، جو اس سے قبل تو نے کسی کو عطا نہیں کیا اور نہ آئندہ وہ کسی کو عطا کرنا “۔ اللہ تعالیٰ کو یہ دعا پسند نہیں آئی، جس پر وہ زلزلے کے ذریعے سے ہلاک کر دیئے گئے ۔ زیادہ مفسرین دوسری رائے کے قائل ہیں اور انہوں نے وہی واقعہ قرار دیا ہے جس کا ذکر سورہ بقرہ آیت 56 میں آیا ہے ۔ جہاں ان پر صاعقہ (بجلی کی کڑک) سے موت وارد ہونے کا ذکر ہے اور یہاں رَجْفَةٌ (زلزلے) سے موت کا ذکر ہے۔ اس کی توجیہ میں کہا گیا ہے کہ ممکن ہے دونوں ہی عذاب آئے ہوں اوپر سے بجلی کی کڑک اور نیچے سے زلزلہ ۔ بہرحال حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی اس دعا والتجا کے بعد کہ اگر ان کو ہلاک ہی کرنا تھا تو اس سے قبل اس وقت ہلاک کرتا جب یہ بچھڑے کی عبادت میں مصروف تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کر دیا ۔

(156) اور ہم لوگوں کے نام دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دے اور آخرت میں بھی، ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں*۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنا عذاب اسی پر واقع کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے**۔ تو وه رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻتے ہیں۔
* یعنی توبہ کرتے ہیں۔ **- یہ اس کی وسعت رحمت ہی ہے کہ دنیا میں صالح وفاسق اور مومن وکافر دونوں ہی اس کی رحمت سے فیض یاب ہورہے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے ”اللہ تعالیٰ کی رحمت کے 100 حصے ہیں۔ یہ اس کی رحمت کا ایک حصہ ہے کہ جس سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی اور وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور اس نے اپنی رحمت کے 99 حصے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔“ (صحيح مسلم، نمبر2108 وابن ماجه ، نمبر4293)

(157) جو لوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وه لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں*۔ وه ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں** اور پاکیزه چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے*** ان کو دور کرتے ہیں۔ سو جو لوگ اس نبی پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں۔*
* یہ آیت بھی اس امر کی وضاحت کے لیے نص قطعی کی حیثیت رکھتی ہے کہ رسالت محمدیہ پر ایمان لائے بغیر نجات اخروی ممکن نہیں اور ایمان وہی معبتر ہے جس کی تفصیلات محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے بیان فرمائی ہیں۔ اس آیت سے بھی تصور (وحدت ادیان) کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ **- معروف، وہ ہے جسے شریعت نے اچھا اور منکر، وہ ہے جسے شریعت نے برا قرار دیا ہے ۔ ***- یہ بوجھ اور طوق وہ ہیں جو پچھلی شریعت میں تھے، مثلاً نفس کے بدلے نفس کا قتل ضروری تھا، (دیت یا معافی نہیں تھی) یا جس کپڑے کو نجاست لگ جاتی، اس کا قطع کرنا ضروری تھا، شریعت اسلامیہ نے اسے صرف دھونے کا حکم دیا ۔ جس طرح قصاص میں دیت اور معافی کی بھی اجازت دی ۔ وغیرہ اور آپ (صلى الله عليه وسلم) نے بھی فرمایا ہے کہ ”مجھے آسان دین حنیفی کے ساتھ بھیجا گیا ہے“۔ ( مسند أحمد جلد 5۔ ص 266جلد ۔ ٦،ص116،233) لیکن افسوس! اس امت نے اپنے طور پر رسوم ورواج کے بہت سے بوجھ اپنے اوپر لاد لیے ہیں اور جاہلیت کے طوق زیب گلو کر لیے ہیں، جن سے شادی اور مرگ دونوں عذاب بن گئے ہیں ۔ هَدَاهَا اللهُ تَعَالَى ۔ ****- ان آخری الفاظ سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) پر ایمان لانے والے اور ان کی پیروی کرنے والے ہوں گے۔ جو رسالت محمدیہ پر ایمان نہیں لائیں گے، وہ کامیاب نہیں، خاسر اور ناکام ہوں گے ۔ علاوہ ازیں کامیابی سے مراد بھی آخرت کی کامیابی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی قوم رسالت محمدیہ پر ایمان نہ رکھتی ہو اور اسے دنیاوی خوش حالی وفراوانی حاصل ہو۔ جس طرح اس وقت مغربی اور یورپی اور دیگر بعض قوموں کا حال ہے کہ وہ عیسائی یا یہودی یا کافر ومشرک ہونے کے باوجود مادی ترقی اور خوش حالی میں ممتاز ہیں۔ لیکن ان کی یہ ترقی عارضی وبطور امتحان واستدراج ہے۔ یہ ان کی اخروی کامیابی کی ضمانت یا علامت نہیں۔ اسی طرح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ المائدہ کی آیت 15میں نور سے مراد قرآن مجید ہی ہے ۔ (جیسا وہاں بھی وضاحت کی گئی تھی) کیوں کہ جو نور آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے، وہ قرآن مجید ہی ہے اس لیے اس (نور) سے خود نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی ذات مراد نہیں ہے ۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ آپ کی صفات میں ایک صفت نور بھی ہے۔ جس سے کفروشرک کی تاریکیاں دور ہوئیں۔ لیکن آپ کے نوری صفت ہونے سے آپ کا نُورٌ مِنْ نُورِ اللهِ ہونا ثابت نہیں ہوسکتا، جس طرح اہل بدعت یہ ثابت کرتے ہیں۔ (مزید دیکھئے سورۂ المائدۂ آیت 15 کا حاشیہ)

(158) آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راه پر آجاؤ۔*
* یہ آیت بھی رسالت محمدیہ کی عالم گیر رسالت کے اثبات میں بالکل واضح ہے ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو حکم دیا کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کہہ دیجئے کہ اے کائنات کے انسانو! میں سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ یوں آپ (صلى الله عليه وسلم) پوری بنی نوع انسان کے نجات دہندہ اور رسول ہیں۔ اب نجات اور ہدایت نہ عیسائیت میں ہے نہ یہودیت میں، نہ کسی اور مذہب میں۔ نجات اور ہدایت اگر ہے تو صرف اسلام کے اپنانے اور اسے ہی اختیار کرنے میں ہے۔ اس آیت میں اور اس سے پہلی آیت میں بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) کو النبی الاّمی کہا گیا ہے ۔ یہ آپ کی ایک خاص صفت ہے۔ امّی کے معنی ہیں ان پڑھ۔ یعنی آپ نے کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذت (شاگردی) نہیں کیے، کسی سے کسی قسم کی تعلیم حاصل نہیں کی۔ لیکن اس کے باوجود آپ (صلى الله عليه وسلم) نے جو قرآن کریم پیش کیا، اس کے اعجاز وبلاغت کے سامنے دنیا بھر کے فصحا وبلغا عاجز آگئے اور آپ نے جو تعلیمات پیش کیں، ان کی صداقت وحقانیت کی ایک دنیا معترف ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ واقعی اللہ کے سچے رسول ہیں ورنہ ایک امی نہ ایسا قرآن پیش کرسکتا ہے اور نہ ایسی تعلیمات بیان کرسکتا ہے جو عدل وانصاف کا بہترین نمونہ اور انسانیت کی فلاح وکامرانی کے لیے ناگزیر ہیں، انہیں اپنائے بغیر دنیا حقیقی امن وسکون اور راحت وعافیت سے ہمکنار نہیں ہوسکتی۔

(159) اور قوم موسیٰ میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے مطابق ہدایت کرتی ہے اور اسی کے مطابق انصاف بھی کرتی ہے۔*
* اس سے مراد وہی چند لوگ ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے، عبداللہ بن سلام وغیرہ ۔ رَضِي اللهُ عَنْهُمْ

(160) اور ہم نے ان کو باره خاندانوں میں تقسیم کرکے سب کی الگ الگ جماعت مقرر کر دی* اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا جب کہ ان کی قوم نے ان سے پانی مانگا کہ اپنے عصا کو فلاں پتھر پر مارو پس فوراً اس سے باره چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے کا موقع معلوم کر لیا۔ اور ہم نے ان پر ابر کو سایہ فگن کیا اور ان کو من وسلوی (ترنجبین اور بٹیریں) پہنچائیں، کھاؤ نفیس چیزوں سے جو کہ ہم نے تم کو دی ہیں اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے۔
* ”أَسْبَاطٌ“ سِبْطٌ کی جمع ہے، بمعنی پوتا۔ یہاں اسباط قبائل کے معنی میں ہیں۔ یعنی حضرت یعقوب (عليه السلام) کے بارہ بیٹوں سے بارہ قبیلے معرض وجود میں آئے، ہر قبیلے پر اللہ تعالیٰ نے ایک ایک نقیب (نگران ) بھی مقرر فرما دیا تھا، ”وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ ٱثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيبٗا“ [المائدة: 12]. یہاں اللہ تعالیٰ ان بارہ قبیلوں کے بعض بعض صفات میں ایک دوسرے سے ممتاز ہونے کی بنا پر ان کے الگ الگ گروہ ہونے کو بطور امتنان کے ذکر فرما رہا ہے ۔

(161) اور جب ان کو حکم دیا گیا کہ تم لوگ اس آبادی میں جاکر رہو اور کھاؤ اس سے جس جگہ تم رغبت کرو اور زبان سے یہ کہتے جانا کہ توبہ ہے اور جھکے جھکے دروازه میں داخل ہونا ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے۔ جو لوگ نیک کام کریں گے ان کو مزید برآں اور دیں گے۔

(162) سو بدل ڈاﻻ ان ﻇالموں نے ایک اور کلمہ جو خلاف تھا اس کلمہ کے جس کی ان سے فرمائش کی گئی تھی، اس پر ہم نے ان پر ایک آفت سماوی بھیجی اس وجہ سے کہ وه حکم کو ضائع کرتے تھے۔*
* 160 تا 162 آیات میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں، یہ وہ ہیں جو پارہ آلم، سورۂ بقرہ کے آغاز میں بیان کی گئی ہیں ۔ وہاں ان کی تفصیل ملاحظہ فرما لی جائے۔

(163) اور آپ ان لوگوں سے*، اس بستی والوں کا** جو کہ دریائے (شور) کے قریب آباد تھے اس وقت کا حال پوچھئے! جب کہ وه ہفتہ کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان کی مچھلیاں ﻇاہر ہو ہو کر ان کے سامنے آتی تھیں، اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں، ہم ان کی اس طرح پر آزمائش کرتے تھے اس سبب سے کہ وه بےحکمی کیا کرتے تھے۔*
* ”وَسْئَلْهُمْ“ میں ”هُمْ“ ضمیر سے مراد یہود ہیں ۔ یعنی ان سے پوچھئے۔ اس میں یہودیوں کو یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ اس واقعے کا علم نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو بھی ہے جو آپ (صلى الله عليه وسلم) کی صداقت کی دلیل ہے، کیونکہ اللہ کی طرف سے وحی کے بغیر آپ (صلى الله عليه وسلم) کو اس واقعے کا علم نہیں ہوسکتا تھا ۔ **- اس بستی کی تعیین میں اختلاف ہے، کوئی اس کا نام ایلہ کوئی طبریہ کوئی ایلیا اور کوئی شام کی کوئی بستی، جو سمندر کے قریب تھی، بتلاتا ہے ۔ مفسرین کا زیادہ رجحان ”ایلہ“ کی طرف ہے جو مدین اور کوہ طور کے درمیان دریائے قلزم کے ساحل پر تھی۔ ***- ”حِيتَانٌ“ حُوتٌ ( مچھلی ) کی جمع ہے۔ ”شُرَّعًا“ شَارِعٌ کی جمع ہے ۔ معنی ہیں پانی کے اوپر ابھر ابھر کر آنے والیاں ۔ یہ یہودیوں کے اس واقعے کی طرف اشارہ ہیں جس میں انہیں ہفتے والے دن مچھلیوں کا شکار کرنے سے منع کردیا گیا تھا ۔ لیکن بطور آزمائش ہفتے والے دن مچھلیاں کثرت سے آتیں اور پانی کے اوپر ظاہر ہوہو کر انہیں دعوت شکار دیتیں ۔ اور جب یہ دن گزر جاتا تو اس طرح نہ آتیں۔ بالآخر یہودیوں نے ایک حیلہ کرکے حکم الٰہی سے تجاوز کیا کہ گڑھے کھود لیے تا کہ مچھلیاں اس میں پھنسی رہیں اور جب ہفتے کا دن گزر جاتا تو پھر انہیں پکڑ لیتے۔

(164) اور جب کہ ان میں سے ایک جماعت نے یوں کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ بالکل ہلاک کرنے واﻻ ہے یا ان کو سخت سزا دینے واﻻ ہے؟* انہو ں نے جواب دیا کہ تمہارے رب کے روبرو عذر کرنے کے لیے اور اس لیے کہ شاید یہ ڈر جائیں۔
* اس جماعت سے صالحین کی وہ جماعت مراد ہے جو اس حیلے کا ارتکاب بھی نہیں کرتی تھی اور حیلہ گروں کو سمجھا سمجھا کر ان کی اصلاح سے مایوس بھی ہوگئی تھی ۔ تاہم کچھ اور لوگ بھی سمجھانے والے تھے جو انہیں وعظ ونصیحت کرتے تھے ۔ صالحین کی یہ جماعت انہیں یہ کہتی کہ ایسے لوگوں کو وعظ ونصیحت کا کیا فائدہ جن کی قسمت میں ہلاکت وعذاب الٰہی ہے ۔ یا اس جماعت سے وہی نافرمان اور تجاوز کرنے والے مراد ہیں، جب ان کو وعظ کرنے والے نصیحت کرتے تو یہ کہتے کہ جب تمہارے خیال میں ہلاکت یا عذاب الٰہی ہمارا مقدر ہے تو پھر ہمیں کیوں وعظ کرتے ہو؟ تو وہ جواب دیتے کہ ایک تو اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کرنے کے لیے تاکہ ہم تو اللہ کی گرفت سے محفوظ رہیں۔ کیونکہ معصیت الٰہی کا ارتکاب ہوتے ہوئے دیکھنا اور پھر اسے روکنے کی کوشش نہ کرنا بھی جرم ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کی گرفت ہوسکتی ہے۔ اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ شاید یہ لوگ حکم الٰہی سے تجاوز کرنے سے باز ہی آجائیں ۔ پہلی تفسیر کی رو سے یہ تین جماعتیں ہوئیں ۔ (1) ۔ نافرمان اور شکار کرنے والی جماعت (2) ۔ وہ جماعت جو بالکل کنارہ کش ہوگئی، نہ وہ نافرمانوں میں تھی نہ منع کرنے والوں میں (3) ۔ وہ جماعت جو نافرمان بھی نہیں تھی۔ اور بالکل کنارہ کش بھی نہیں ہوئی تھی ۔ بلکہ نافرمانوں کو منع کرتی تھی۔ دوسری تفسیر کی رو سے یہ دو جماعتیں ہوں گی ۔ ایک نافرمانوں کی اور دوسری منع کرنے والوں کی۔

(165) سو جب وه اس کو بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا* تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو کہ زیادتی کرتے تھے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا اس وجہ سے کہ وه بےحکمی کیا کرتے تھے۔**
* یعنی وعظ ونصیحت کی انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی اور نافرمانی پر اڑے رہے ۔ **- یعنی وہ ظالم بھی تھے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کا ارتکاب کرکے انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور انہیں جہنم کا ایندھن بنا لیا اور فاسق بھی، کہ اللہ کے حکموں سے سرتابی کو انہوں نے اپناشیوہ اور وطیرہ بنا لیا ۔

(166) یعنی جب وه، جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا اس میں حد سے نکل گئے تو ہم نے ان کو کہہ دیا تم ذلیل بندر بن جاؤ۔*
* ”عَتَوْا“ کے معنی ہیں، جنہوں نے اللہ کی نافرمانی میں حد سے تجاوز کیا۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ نجات پانے والے صرف وہی تھے، جو منع کرتے تھے اور باقی دونوں عذاب الٰہی کی زد میں آئے؟ یا زد میں آنے والے صرف معصیت کار تھے؟ اور باقی دو جماعتیں نجات پانے والی تھیں؟ امام ابن کثیر نے دوسری رائے کو ترجیح دی ہے۔

(167) اور وه وقت یاد کرنا چاہیئے کہ آپ کے رب نے یہ بات بتلا دی کہ وه ان یہود پر قیامت تک ایسے شخص کو ضرور مسلط کرتا رہے گا* جو ان کو سزائے شدید کی تکلیف پہنچاتا رہے گا، بلاشبہ آپ کا رب جلدی ہی سزا دے دیتا ہے اور بلاشبہ وه واقعی بڑی مغفرت اور بڑی رحمت واﻻ ہے۔**
* ”تَأَذَّنَ“ إِيذَانٌ بمعنی إِعْلامٍ (خبر دینا، جتلا دینا) سے باب تفعل ہے۔ یعنی وہ وقت بھی یاد کرو! جب آپ کے رب نے ان یہودیوں کو اچھی طرح باخبر کر دیا یا جتلا دیا تھا، ”لَيَبْعَثَنَّ“ میں لام تاکید ہے جو قسم کے معنی کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی قسم کھا کر نہایت تاکید کے ساتھ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سخت عذاب میں مبتلا رکھیں گے، چنانچہ یہودیوں کی پوری تاریخ اسی ذلت ومسکنت اور غلامی ومحکومی کی تاریخ ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دی ہے۔ اسرائیل کی موجودہ حکومت قرآن کی بیان کردہ اس حقیقت کے خلاف نہیں ہے اس لیے کہ وہ قرآن ہی کے بیان کردہ استثنا وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ کی مظہر ہے جو قرآنی حقیقت کے خلاف نہیں بلکہ اس کی مؤید ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے آل عمران: 112 کا حاشیہ) **- یعنی اگر ان میں سے کوئی توبہ کرکے مسلمان ہو جائے گا تو وہ اس ذلت وسوء عذاب سے بچ جائے گا۔

(168) اور ہم نے دنیا میں ان کی مختلف جماعتیں کر دیں۔ بعض ان میں نیک تھے اور بعض ان میں اور طرح تھے اور ہم ان کو خوش حالیوں اور بدحالیوں سے آزماتے رہے کہ شاید باز آجائیں۔*
* اس میں یہود کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے اور ان میں سے بعض کے نیک ہونےکا ذکر ہے۔ اور ان کو دونوں طریقوں سے آزمائے جانے کا بیان ہے کہ شاید وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔

(169) پھر ان کے بعد ایسے لوگ ان کے جانشین ہوئے* کہ کتاب کو ان سے حاصل کیا وه اس دنیائے فانی کا مال متاع لے لیتے ہیں** اور کہتے ہیں کہ ہماری ضرور مغفرت ہو جائے گی*** حاﻻنکہ اگر ان کے پاس ویسا ہی مال متاع آنے لگے تو اس کو بھی لے لیں گے۔ کیا ان سے اس کتاب کے اس مضمون کا عہد نہیں لیا گیا کہ اللہ کی طرف بجز حق بات کے اور کسی بات کی نسبت نہ کریں****، اور انہوں نے اس کتاب میں جو کچھ تھا اس کو پڑھ لیا**** اور آخرت واﻻ گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ رکھتے ہیں، پھر کیا تم نہیں سمجھتے۔
* ”خَلَفٌ“ (لام پر زبرکے ساتھ) صالح اولاد کو اور خَلْفٌ (بِسُكُونِ اللامِ) نالائق اولاد کو کہتے ہیں۔ اردو میں بھی ناخلف کی ترکیب نالائق اولاد کے معنی میں مستعمل ہے۔ **- ”أَدْنَى“ دُنُوٌّ (قریب) سے ماخوذ ہے یعنی قریب کا مال حاصل کرتے ہیں جس سے دنیا مراد ہے یا یہ دَنَاءَةٌ سے ماخوذ ہے جس سے مراد حقیر اور گرا پڑا مال ہے۔ مطلب دونوں سے ان کے دنیا کے مال ومتاع کے حرص کی وضاحت ہے۔ ***- یعنی طالب دنیا ہونے کے باوجود، مغفرت کی امید رکھتے ہیں۔ جیسے آج کل کے مسلمانوں کا بھی حال ہے۔ ****- اس کے باوجود وہ اللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنے سے باز نہیں آتے، مثلاً وہی مغفرت کی بات، جو اوپر گزری۔ *****- اس کا ایک دوسرا مفہوم مٹانا بھی ہوسکتا ہے، جیسے دَرَسَتِ الرِّيحُ الآثَارَ (ہوا نے نشانات مٹا ڈالے) یعنی کتاب کی باتوں کو مٹا ڈالا، محو کر دیا یعنی ان پر عمل ترک کر دیا۔

(170) اور جو لوگ کتاب کے پابند ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں، ہم ایسے لوگوں کا جو اپنی اصلاح کریں ﺛواب ضائع نہ کریں گے۔*
* ان لوگوں میں سے جو تقویٰ کا راستہ اختیار کرلیں، کتاب کو مضبوطی سے تھام لیں، جس سے مراد اصلی تورات ہے اور جس پر عمل کرتے ہوئے نبوت محمدی پر ایمان لے آئیں، نماز وغیرہ کی پابندی کریں، تو اللہ ایسے مصلحین کا اجر ضائع نہیں کرے گا ۔ اس میں ان اہل کتاب (سیاق کلام سے یہاں بطور خاص یہود) کا ذکر ہے جو تقویٰ ، تمسک بالکتاب اور اقامت صلوٰۃٔ کا اہتمام کریں اور ان کے لیے آخرت کی خوش خبری ہے۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمان ہوجائیں اور رسالت محمدیہ پر ایمان لے آئیں۔ کیونکہ اب پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ (صلى الله عليه وسلم) پر ایمان لائے بغیر نجات اخروی ممکن نہیں۔

(171) اور وه وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے اوپر معلق کر دیا اور ان کو یقین ہوگیا کہ اب ان پر گرا اور کہا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اسے مضبوطی کے ساتھ قبول کرو اور یاد رکھو جو احکام اس میں ہیں اس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاؤ۔*
* یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) ان کے پاس تورات لائے اور اس کے احکام ان کو سنائے۔ تو انہوں نے پھر حسب عادت ان پر عمل کرنے سے انکار واعراض کیا، جس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر پہاڑ کو بلند کر دیا کہ تم پر گرا کر تمہیں کچل دیا جائے گا، جس سے ڈرتے ہوئے انہوں نے تورات پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ رفع جبل کا یہ واقعہ ان کے مطالبے پر پیش آیا، جب انہوں نے کہا کہ ہم تورات پر عمل اس وقت کریں گے جب اللہ تعالیٰ پہاڑ کو ہمارے اوپر بلند کرکے دکھائے۔ لیکن پہلی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے واللهُ أَعْلَمُ ۔ یہاں مطلق پہاڑ کا ذکر ہے۔ لیکن اس سے قبل سورہ بقرہ آیت 63 اور آیت 93 میں دو جگہ اس واقعہ کا ذکر آیا ہے، وہاں اس کا نام صراحت کے ساتھ کوہ طور بتلایا گیا ہے۔

(172) اور جب آپ کے رب نے اوﻻد آدم کی پشت سے ان کی اوﻻد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواه بنتے ہیں*۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔
* یہ عَهْدِ أَلَسْتُ کہلاتا ہے جو أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ سے بنی ہوئی ترکیب ہے ۔ یہ عہد حضرت آدم (عليه السلام) کی تخلیق کے بعد ان کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد سے لیا گیا۔ اس کی تفصیل ایک صحیح حدیث میں اس طرح آتی ہے کہ ”عرفہ والے دن نعمان جگہ میں اللہ تعالیٰ نے اصلاب آدم سے عہد (میثاق) لیا۔ پس آدم کی پشت سے ان کی ہونے والی تمام اولاد کو نکالا اور اس کو اپنے سامنے پھیلا دیا اور ان سے پوچھا، (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟) سب نے کہا ” بَلَى، شَهِدْنَا“ (کیوں نہیں۔ ہم سب رب ہونے کی گواہی دیتے ہیں) (مسند أحمد ۔ جلد 1ص 272، والحاكم ۔ جلد ،2 ص 544، وصححه ووافقه الذهبي) امام شوکانی اس حدیث کی بابت لکھتے ہیں ”وَإِسْنَادُهُ لا مَطْعَنَ فِيهِ“ (فتح القدیر) (اس کی سند میں کوئی طعن نہیں) نیز امام شوکانی فرماتے ہیں ”یہ عالم ذر کہلاتا ہے اس کی یہی تفسیر صحیح اور حق ہے جس سے عدول اور کسی اور مفہوم کی طرف جانا صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ مرفوع حدیث اور آثار صحابہ سے ثابت ہے اور اسے مجاز پر بھی محمول کرنا جائز نہیں ہے“۔ بہرحال اللہ کی ربوبیت کی یہ گواہی ہر انسان کی فطرت میں ودیعت ہے۔ اسی مفہوم کو رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ۔ جس طرح جانور کابچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے، اس کا ناک، کان کٹا نہیں ہوتا“۔ (صحيح بخاري- كتاب الجنائز ومسلم، كتاب القدر) اور صحیح مسلم کی روایت ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”میں نے اپنے بندوں کو حنیف (اللہ کی طرف یکسوئی سے متوجہ ہونے والا) پیدا کیا ہے۔ پس شیطان ان کو ان کے دین (فطری) سے گمراہ کر دیتا ہے“۔ الحدیث (صحيح مسلم- كتاب الجنة) یہ فطرت یا دین فطرت، یہی رب کی توحید اور اس کی نازل کردہ شریعت ہے جو اب اسلام کی صورت میں محفوظ اور موجود ہے۔

(173) یا یوں کہو کہ پہلے پہلے شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راه والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا؟*
* یعنی ہم نے یہ اخذ عہد اور اپنی ربوبیت کی گواہی اس لیے لی تاکہ تم یہ عذر پیش نہ کرسکو کہ ہم تو غافل تھے یا ہمارے باپ دادا شرک کرتے آئے تھے، یہ عذر قیامت والے دن بارگاہ الٰہی میں مسموع نہیں ہوں گے۔

(174) ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں اور تاکہ وه باز آجائیں۔

(175) اور ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنائیے کہ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں پھر وه ان سے بالکل ہی نکل گیا، پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا سو وه گمراه لوگوں میں شامل ہوگیا۔*
* مفسرین نے اسے کسی ایک متعین شخص سے متعلق قرار دیا ہے جسے کتاب الٰہی کا علم حاصل تھا لیکن پھر وہ دنیا اور شیطان کے پیچھے لگ کر گمراہ ہوگیا ۔ تاہم اس کی تعیین میں کوئی مستند بات مروی بھی نہیں۔ اس لیے اس تکلیف کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ عام ہے اور ایسے افراد ہر امت اور ہر دور میں ہوتے رہے ہیں، جو بھی اس صفت کا حامل ہوگا، وہ اس کا مصداق قرار پائے گا۔

(176) اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کر دیتے لیکن وه تو دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگا سو اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تو اس پر حملہ کرے تب بھی ہانپے یا اس کو چھوڑ دے تب بھی ہانپے*، یہی حالت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ سو آپ اس حال کو بیان کر دیجئے شاید وه لوگ کچھ سوچیں۔**
* ”لَهَثٌ“ کہتے ہیں تھکاوٹ یا پیاس وغیرہ کی وجہ سے زبان کے باہر نکالے کو۔ کتے کی یہ عادت ہے کہ تم اسے ڈانٹو ڈپٹو یا اس کے حال پر چھوڑ دو، دونوں حالتوں میں وہ بھونکنے سے باز نہیں آتا، اسی طرح اس کی یہ عادت بھی ہے کہ وہ شکم سیر ہویا بھوکا، تندرست ہو یا بیمار، تھکا ماندہ ہو یا توانا، ہر حال میں زبان باہر نکالنے ہانپتا رہتا ہے۔ یہی حال ایسے شخص کا ہے، اسے وعظ کرو یا نہ کرو، اس کا حال ایک ہی رہے گا اور دنیا کے مال ومتاع کے لیے اس کی رال ٹپکتی رہے گی۔ **- اور اس قسم کے لوگوں سے عبرت حاصل کرکے، گمراہی سے بچیں اور حق کو اپنائیں۔

(177) ان لوگوں کی حالت بھی بری حالت ہے* جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں اور وه اپنا نقصان کرتے ہیں۔
* مثلاً تمیز ہے ۔ اصل عبارت یوں ہوگی سَاءَ مَثَلا! مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا۔

(178) جس کو اللہ ہدایت کرتا ہے سو ہدایت پانے واﻻ وہی ہوتا ہے اور جس کو وه گمراه کر دے سو ایسے ہی لوگ خسارے میں پڑنے والے ہیں۔*
* یہ اس کے قانون مشیت کا بیان ہے جس کی وضاحت پہلے دو تین مرتبہ کی جاچکی ہے۔

(179) اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کئے ہیں*، جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیاده گمراه ہیں**۔ یہی لوگ غافل ہیں۔
* اس کا تعلق تقدیر سے ہے ۔ یعنی ہر انسان اور جن کی بابت اللہ کو علم تھا کہ وہ دنیا میں جاکر اچھے یا برے کیا عمل کرے گا، اس کے مطابق اس نے لکھ رکھا ہے ۔ یہاں انہی دوزخیوں کا ذکر ہے جنہیں اللہ کے علم کے مطابق دوزخ والے ہی کام کرنے تھے۔ آگے ان کی مزید صفات بیان کرکے بتا دیا گیا کہ جن لوگوں کے اندر یہ چیزیں اسی انداز میں ہوں جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے، تو سمجھ لو کہ اس کا انجام برا ہے۔ **- یعنی دل، آنکھ، کان یہ چیز یں اللہ نے اس لیے دی ہیں کہ انسان ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پروردگار کو سمجھے، اس کی آیات کامشاہدہ کرے اور حق کی بات کو غور سے سنے۔ لیکن جو شخص ان مشاعر سے یہ کام نہیں لیتا، وہ گویا ان سے عدم انتفاع (فائدہ نہ اٹھانے) میں چوپایوں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔ اس لیے کہ چوپایے تو پھر بھی اپنے نفع نقصان کا کچھ شعور رکھتے ہیں اور نفع والی چیزوں سے نفع اٹھاتے اور نقصان دینے والی چیزوں سے بچ کر رہتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے اعراض کرنے والے شخص کے اندر تو یہ تمیز کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہو جاتی ہے کہ اس کے لیے مفید چیز کون سی ہے اور مضر کون سی؟ اسی لیے اگلے جملے میں انہیں غافل بھی کہا گیا ہے۔

(180) اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو* اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں**، ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔
* ”حُسْنَى“ أَحْسَنُ کی تانیث ہے ۔ اللہ کے ان اچھے ناموں سے مراد اللہ کے وہ نام ہیں جن سے اس کی مختلف صفات، اس کی عظمت وجلالت اور اس کی قدرت وطاقت کا اظہار ہوتا ہے ۔ صحیحین کی حدیث میں ان کی تعداد 99 (ایک کم سو) بتائی گئی ۔ اور فرمایا کہ ”جو ان کو شمار کرے گا، جنت میں داخل ہوگا، اللہ تعالیٰ طاق ہے طاق کو پسند فرماتا ہے“۔ ( بخاري، كتاب الدعوات، باب لله مائة اسم غير واحد- مسلم، كتاب الذكر، باب في أسماء الله تعالى وفضل من أحصاها)، شمار کرنے کا مطلب ہے: ان پر ایمان لانا، یا ان کو گننا اور انہیں ایک ایک کرکے بطور تبرک اخلاص کے ساتھ پڑھنا، یا ان کا حفظ، ان کے معانی کا جاننا اور ان سے اپنے کو متصف کرنا۔ ( مرقاۂ شرح مشکوٰۂ ، کتاب الدعوات، باب اسماء اللہ تعالیٰ ) بعض روایات میں ان 99ناموں کو ذکر کیا گیا ہے لیکن یہ روایات ضعیف ہیں اور علما نے انہیں مدرج قرار دیا ہے یعنی راویوں کا اضافہ۔ وہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی حدیث کا حصہ نہیں ہیں۔ نیز علما نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اللہ کے ناموں کی تعداد 99 میں منحصر نہیں ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ ہیں۔ (ابن کثیر وفتح القدیر)۔ **- ”الحاد“ کے معنی ہیں کسی ایک طرف مائل ہونا۔ اسی سے لحد ہے جو اس قبر کو کہا جاتا ہے جو ایک طرف بنائی جاتی ہے۔ دین میں الحاد اختیار کرنے کا مطلب کج روی اور گمراہی اختیار کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد (کج روی) کی تین صورتیں ہیں۔ (1)۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں تبدیلی کر دی جائے ۔ جیسے مشرکین نے کیا ۔ مثلاً اللہ کے ذاتی نام سے اپنے ایک بت کا نام لات اور اس کے صفاتی ناموں عَزِيزٌ سے عُزَّى ٰبنا لیا۔ (2)۔ یا اللہ کے ناموں میں اپنی طرف سے اضافے کر لینا، جس کا حکم اللہ نے نہیں دیا۔ (3)۔ یا اس کے ناموں میں کمی کر دی جائے مثلاً اسے کسی ایک ہی مخصوص نام سے پکارا جائے اور دوسرے صفاتی ناموں سے پکارنے کو برا سمجھا جائے۔ (فتح القدیر) اللہ کے ناموں میں الحاد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان میں تاویل یا تعطیل یا تشبیہ سے کام لیا جائے (ایسر التفاسیر) جس طرح معتزلہ، معطلہ اور مشبہ وغیرہ گمراہ فرقوں کا طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان سب سے بچ کر رہو۔

(181) اور ہماری مخلوق میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے موافق ہدایت کرتی ہے اور اس کے موافق انصاف بھی کرتی ہے۔

(182) اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ہم ان کو بتدریج (گرفت میں) لئے جارہے ہیں اس طور پر کہ ان کو خبر بھی نہیں۔

(183) اور ان کو مہلت دیتا ہوں بےشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔*
* یہ وہی استدراج وامہال ہے جو بطور امتحان اللہ تعالیٰ افراد اور قوموں کو دیتا ہے۔ پھر جب اس کی مشیت مؤاخذہ کرنے کی ہوتی ہے تو کوئی اس سے بچانے پر قادر نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس کی تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

(184) کیا ان لوگوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ ان کے ساتھی کو ذرا بھی جنون نہیں وه تو صرف ایک صاف صاف ڈرانے والے ہیں۔*
* ”صَاحِبٌ“ سے مراد نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی ذات گرامی ہے جن کی بابت مشرکین کبھی ساحر اور کبھی مجنون (نعوذ باللہ) کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تمہارے عدم تفکر کا نتیجہ ہے۔ وہ تو ہمارا پیغامبر ہے جو ہمارے احکام پہنچانے والا اور ان سے غفلت واعراض کرنے والوں کو ڈرانے والا ہے۔

(185) اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں اور اس بات میں کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی آ پہنچی ہو*۔ پھر قرآن کے بعد کون سی بات پر یہ لوگ ایمان ﻻئیں گے؟**
* مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں پر بھی اگر یہ غور کریں تو یقیناً یہ اللہ پر ایمان لے آئیں، اس کے رسول کی تصدیق اور اس کی اطاعت اختیار کرلیں اور انہوں نے جو اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں، انہیں چھوڑ دیں اور اس بات سے ڈریں کہ انہیں موت اس حال میں آجائے کہ وہ کفر پر قائم ہوں۔ **- ”حَدِيثٌ“ سے مراد یہاں قرآن کریم ہے ۔ یعنی نبی (صلى الله عليه وسلم) کے انذار وتہدید اور قرآ ن کریم کے بعد بھی اگر یہ ایمان نہ لائیں تو ان سے بڑھ کر انہیں ڈرانے والی چیز اور کیا ہوگی جو اللہ کی طرف سے نازل ہو اور پھر یہ اس پر ایمان لائیں؟

(186) جس کو اللہ تعالیٰ گمراه کر دے اس کو کوئی راه پر نہیں ﻻ سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ ان کو ان کی گمراہی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے۔

(187) یہ لوگ آپ سے قیامت* کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟** آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے***، اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی اور ﻇاہر نہ کرے گا۔ وه آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادﺛہ) ہوگا**** وه تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وه آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں*****۔ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
* ”سَاعَةٌ“ کے معنی گھڑی (لمحہ یا پل) کے ہیں ۔ قیامت کو ساعۃ اس لیے کہا گا ہے کہ یہ اچانک اس طرح آجائے گی کہ پل بھر میں ساری کائنات درہم برہم ہو جائے گی یا سرعت حساب کے اعتبار سے قیامت کی گھڑی کو ساعۃ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ **- ”أَرْسَى“ ”يُرْسِي“ کے معنی اثبات ووقوع کے ہیں، یعنی کب یہ قیامت ثابت یا واقع ہوگی؟ ***- یعنی اس کا یقینی علم نہ کسی فرشتے کو ہے نہ کسی نبی کو، اللہ کے سوا اس کا علم کسی کے پاس نہیں، وہی اس کو اپنے وقت پر ظاہر فرمائے گا۔ ****- اس کے ایک دوسرے معنی ہیں ۔ اس کا علم آسمان اور زمین والوں پر بھاری ہے، کیونکہ وہ مخفی ہے اور مخفی چیز دلوں پر بھاری ہوتی ہے ۔ *****- حَفِيٌّ کہتے ہیں پیچھے پڑ کر سوال کرنے اور تحقیق کرنے کو ۔ یعنی یہ آپ (صلى الله عليه وسلم) سے قیامت کے بارے میں اس طرح سوال کرتے ہیں کہ گویا آپ نے رب کے پیچھے پڑ کر اس کی بابت ضروری علم حاصل کر رکھا ہے۔

(188) آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا ہو اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں۔*
* یہ آیت اس بات میں کتنی واضح ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) عالم الغیب نہیں۔ عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے ۔ لیکن ظلم اور جہالت کی انتہا ہے کہ اس کے باوجود اہل بدعت آپ (صلى الله عليه وسلم) کو عالم الغیب باور کراتے ہیں۔ حالانکہ بعض جنگوں میں آپ کے دندان مبارک بھی شہید ہوئے، آپ (صلى الله عليه وسلم) کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہوا، اور آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ ”یہ قوم کیسے فلاح یاب ہوگی جس نے اپنے نبی کے سر کو زخمی کر دیا“، کتب حدیث میں یہ واقعات بھی اور ذیل کے واقعات بھی درج ہیں، حضرت عائشہ (رضي الله عنها) پر تہمت لگی تو آپ پورا ایک مہینہ سخت مضطرب اور نہایت پریشان رہے۔ ایک یہودی عورت نے آپ کی دعوت کی اور کھانے میں زہر ملا دیا، جسے آپ نے بھی تناول فرمایا اور صحابہ نے بھی، حتیٰ کہ بعض صحابہ تو کھانے کے زہر سے شہید ہی ہوگئے اور خود نبی (صلى الله عليه وسلم) عمر بھر اس زہر کے اثرات محسوس فرماتے رہے۔ یہ اور اس قسم کے متعدد واقعات ہیں جن سے واضح ہے کہ آپ کو عدم علم کی وجہ سے تکلیف پہنچی، نقصان اٹھانا پڑا، جس سے قرآن کی بیان کردہ حقیقت کا اثبات ہوتا ہے کہ ”اگر میں غیب جانتا ہوتا تو مجھے کوئی مضرت نہ پہنچتی“۔

(189) وه اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے تم کو ایک تن واحد سے پیدا کیا* اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا** تاکہ وه اس اپنے جوڑے سے انس حاصل کرے*** پھر جب میاں نے بیوی سے قربت کی تو**** اس کو حمل ره گیا ہلکا سا۔ سو وه اس کو لئے ہوئے چلتی پھرتی رہی*****، پھر جب وه بوجھل ہوگئی تو دونوں میاں بیوی اللہ سے جو ان کا مالک ہے دعا کرنے لگے کہ اگر تو نے ہم کو صحیح سالم اوﻻد دے دی تو ہم خوب شکر گزاری کریں گے۔******
* ابتدا یعنی حضرت آدم (عليه السلام) سے ۔ اسی لیے ان کو انسان اول اور ابو البشر کہا جاتا ہے۔ **- اس سے مراد حضرت حوا ہیں، جو حضرت آدم (عليه السلام) کی زوج بنیں۔ ان کی تخلیق حضرت آدم (عليه السلام) سے ہوئی، جس طرح کہ منھا کی ضمیر سے، جو نفس واحدۂ کی طرف راجع ہے، واضح ہے (مزید دیکھئے سورہ نساء آیت 1، کا حاشیہ) ***- یعنی اس سے اطمینان وسکون حاصل کرے۔ اس لیے کہ ایک جنس اپنے ہی ہم جنس سے صحیح معنوں میں مانوس اور قریب ہوسکتی ہے جو سکون حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ قربت کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنۡ خَلَقَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَٰجٗا لِّتَسۡكُنُوٓاْ إِلَيۡهَا وَجَعَلَ بَيۡنَكُم مَّوَدَّةٗ وَرَحۡمَةً» [الروم: 21]. ”اللہ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے ( یا تمہاری جنس ہی میں سے ) جوڑے پیدا کیے، تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان اس نے پیار ومحبت رکھ دی“۔ یعنی اللہ نے مرد اور عورت دونوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے جو جذبات اور کشش رکھی ہے، فطرت کے یہ تقاضے وہ جوڑا بن کر پورا کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے قرب وانس حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ جو باہمی پیار میاں بیوی کے درمیان ہوتا ہے وہ دنیا میں کسی اور کے ساتھ نہیں ہوتا۔ ****- یعنی یہ نسل انسانی اس طرح بڑھی اور آگے چل کر جب ان میں سے ایک زوج یعنی میاں بیوی نے ایک دوسرے سے قربت کی۔ ”تَغَشَّاهَا“ کے معنی بیوی سے ہم بستری کرنا ہیں۔ یعنی وطی کرنے کے لیے ڈھانپا۔ *****- یعنی حمل کے ابتدائی ایام میں حتیٰ کہ نطفے سے عَلَقَةٌ اور عَلَقَةٌ سے مُضْغَةٌ بننے تک، حمل خفیف ہی رہتا ہے، محسوس بھی نہیں ہوتا اور عورت کو زیادہ گرانی بھی نہیں ہوتی۔ ******- بوجھل ہو جانے سے مراد، جب بچہ پیٹ میں بڑا ہو جاتا ہے تو جوں جوں ولادت کا وقت قریب آتا جاتا ہے، والدین کے دل میں خطرات اور توہمات پیدا ہوتے جاتے ہیں (بالخصوص جب عورت کو اٹھراہ کی بیماری ہو) تو انسانی فطرت ہے کہ خطرات میں وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، چنانچہ وہ دونوں اللہ سے دعائیں کرتے ہیں اور شکر گزاری کا عہد کرتے ہیں۔

(190) سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اوﻻد دے دی تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وه دونوں اللہ کے شریک قرار دینے لگے*، سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے۔
* شریک قرار دینے سے مراد یا تو بچے کا نام ایسا رکھنا ہے، مثلاً امام بخش، پیراں دتہ ، عبد شمس، بندۂ علی، وغیرہ، جس سے یہ اظہار ہوتا ہو کہ یہ بچہ فلاں بزرگ، فلاں پیر کی (نعوذ باللہ) نظر کرم کا نتیجہ ہے۔ یا پھر اپنے اس عقیدے کا اظہار کرے کہ ہم فلاں بزرگ یا فلاں قبر پر گئے تھے جس کے نتیجے میں یہ بچہ پیدا ہوا ہے۔ یا کسی مردہ کے نام کی نذر نیاز دے یا بچے کو کسی قبر پر لے جاکر اس کا ماتھا وہاں ٹکائے کہ ان کے طفیل بچہ ہوا ہے۔ یہ ساری صورتیں اللہ کا شریک ٹھہرانے کی ہیں، جو بدقسمتی سے مسلمان عوام میں بھی عام ہیں۔ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ شرک کی تردید فرما رہا ہے ۔

(191) کیا ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وه خود ہی پیدا کئے گئے ہوں۔

(192) اور وه ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وه خود بھی مدد نہیں کرسکتے۔

(193) اور اگر تم ان کو کوئی بات بتلانے کو پکارو تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں* تمہارے اعتبار سے دونوں امر برابر ہیں خواه تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو۔
* یعنی تمہاری بتلائی ہوئی بات پر عمل نہیں کریں گے۔ ایک دوسرے مفہوم اس کا یہ ہے کہ اگر تم ان سے رشد وہدایت طلب کرو، تو وہ تمہاری بات نہیں مانیں گے، نہ تمہیں کوئی جواب ہی دیں گے (فتح القدیر)

(194) واقعی تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وه بھی تم ہی جیسے بندے ہیں* سو تم ان کو پکارو پھر ان کو چاہئے کہ تمہارا کہنا کر دیں اگر تم سچے ہو۔
* یعنی جب وہ زندہ تھے ۔ بلکہ اب تو تم خود ان سے زیادہ کامل ہو، اب وہ دیکھ نہیں سکتے، تم دیکھتے ہو۔ وہ سن نہیں سکتے، تم سنتے ہو۔ وہ کسی کی بات سمجھ نہیں سکتے، تم سمجھتے ہو۔ وہ جواب نہیں دے سکتے، تم دیتے ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین، جن کی مورتیاں بنا کر پوجتے تھے، وہ بھی پہلے اللہ کے بندے یعنی انسان ہی تھے، جیسے حضرت نوح (عليه السلام) کی قوم کے پانچ بتوں کی بابت صحیح بخاری میں صراحت موجود ہے کہ وہ اللہ کے نیک بندے تھے۔

(195) کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وه چلتے ہوں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وه کسی چیز کو تھام سکیں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وه دیکھتے ہوں، یا ان کے کان ہیں جن سے وه سنتے ہیں* آپ کہہ دیجئے! تم اپنے سب شرکا کو بلا لو، پھر میری ضرر رسانی کی تدبیر کرو پھر مجھ کو ذرا مہلت مت دو۔**
* یعنی اب ان میں سے کوئی چیز بھی ان کے پاس موجود نہیں ہے ۔ مرنے کے ساتھ ہی دیکھنے، سننے، سمجھنے اور چلنے کی طاقت ختم ہوگئی۔ اب ان کی طرف منسوب یا تو پتھر یا لکڑی کی خود تراشیدہ مورتیاں ہیں یا گنبد، قبے اور آستانے ہیں جو ان کی قبروں پر بنا لیے گئے اور یوں استخواں فروشی کا کاروبار فروغ پذیر ہے۔؎ اگرچہ پیر ہے آدم، جواں ہیں لات ومنات **- یعنی اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو کہ یہ تمہارے مددگار ہیں تو ان سے کہو کہ میرے خلاف تدبیر کریں۔

(196) یقیناً میرا مددگار اللہ تعالیٰ ہے جس نے یہ کتاب نازل فرمائی اور وه نیک بندوں کی مدد کرتا ہے۔

(197) اور تم جن لوگوں کی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وه تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے اور نہ وه اپنی مدد کرسکتے ہیں۔*
* جو اپنی مدد آپ کرنے پر قادر نہ ہوں، وہ بھلا دوسروں کی مدد کیا کریں گے؟ جو خود محتاج ہووے دوسرے کا بھلا اس سے مدد کا مانگنا کیا

(198) اور ان کو اگر کوئی بات بتلانے کو پکارو تو اس کو نہ سنیں* اور ان کو آپ دیکھتے ہیں کہ گویا وه آپ کو دیکھ رہے ہیں اور وه کچھ بھی نہیں دیکھتے۔
* اس کا وہی مفہوم ہے جو آیت 193 کا ہے۔

(199) آپ درگزر کو اختیار کریں* نیک کام کی تعلیم دیں** اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں۔***
* بعض علماء نے اس کے معنی کیے ہیں ”خُذْ مَا عَفَا لَكَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ أَيْ: مَا فَضَلَ“ یعنی ”جو ضرورت سے زائد مال ہو، وہ لے لو“ اور یہ زکوٰۂ کی فرضیت سے قبل کا حکم ہے۔ ( فتح الباري، جلد 8، ص 305) لیکن دوسرے مفسرین نے اس سے اخلاقی ہدایت یعنی عفو و درگزر مراد لیا ہے اور امام ابن جریر اور امام بخاری وغیرہ نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ چنانچہ امام بخاری نے اس کی تفسیر میں حضرت عمر (رضي الله عنه)، کا ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ عیینہ بن حصن حضرت عمر (رضي الله عنه)، کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر ان پر تنقید کرنے لگے کہ آپ ہمیں نہ پوری عطا دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہیں جس پر حضرت عمر (رضي الله عنه) غضب ناک ہوئے، یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عمر (رضي الله عنه)، کے مشیر حر بن قیس نے (جو عیینہ کے بھیتجے تھے) حضرت عمر س، سے کہا کہ ”اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی (صلى الله عليه وسلم) کو حکم فرمایا تھا۔ «خُذِ ٱلۡعَفۡوَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡعُرۡفِ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡجَٰهِلِينَ» [الأعراف: 199]. ”درگزر کو اختیار کیجئے اور نیکی کا حکم دیجئے اور جاہلوں سے اعراض کیجئے“۔ اور یہ بھی جاہلوں میں سے ہے“۔ جس پر حضرت عمر (رضي الله عنه)، نے درگزر فرما دیا۔ ”وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللهِ“ اور حضرت عمر (رضي الله عنه) اللہ کی کتاب کا حکم سن کر فوراً گردن خم کر دینے والے تھے۔ (صحيح بخاري - تفسير سورة الأعراف ) اس کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ظلم کے مقابلے میں معاف کر دینے، قطع رحمی کے مقابلے میں صلۂ رحمی اور برائی کے بدلے احسان کرنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ **- ”عُرْفٌ“ سے مراد معروف یعنی نیکی ہے ۔ ***- یعنی جب آپ نیکی کا حکم دینے میں اتمام حجت کر چکیں اور پھر بھی وہ نہ مانیں تو ان سے اعراض فرما لیں اور ان کے جھگڑوں اور حماقتوں کا جواب نہ دیں ۔

(200) اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے تو اللہ کی پناه مانگ لیا کیجئے* بلاشبہ وه خوب سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے۔
* اور اس موقعے پر اگر آپ کو شیطان اشتعال میں لانے کی کوشش کرے تو آپ اللہ کی پناہ طلب فرمائیں۔

(201) یقیناً جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی خطره شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وه یاد میں لگ جاتے ہیں، سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔*
* اس میں اہل تقویٰ کی بابت بتلایا گیا ہے کہ وہ شیطان سے چوکنا رہتے ہیں۔ طائف یا طیف، اس تخیل کو کہتے ہیں جو دل میں آئے یا خواب میں نظر آئے۔ یہاں اسے شیطانی وسوسے کے معنی میں استعمال کیا گیا، کیونکہ وسوسۂ شیطانی بھی خیالی تصورات کے مشابہ ہے۔ ( فتح القدیر)

(202) اور جو شیاطین کے تابع ہیں وه ان کو گمراہی میں کھینچے لے جاتے ہیں پس وه باز نہیں آتے۔*
* یعنی شیطان کافروں کو گمراہی کی طرف کھینچے لے جاتے ہیں، پھر وہ کافر (گمراہی کی طرف جانے میں) یا شیطان انکو لے جانے میں کوتاہی کمی نہیں کرتے۔ یعنی لا يُقْصِرُونَ کا فاعل کافر بھی بن سکتے ہیں اور إِخْوانُ الكُفَّارِ شیاطین بھی ۔

(203) اور جب آپ کوئی معجزه ان کے سامنے ﻇاہر نہیں کرتے تو وه لوگ کہتے ہیں کہ آپ یہ معجزه کیوں نہ ﻻئے؟* آپ فرما دیجئے! کہ میں اس کا اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر میرے رب کی طرف سے حکم بھیجا گیا ہے یہ گویا بہت سی دلیلیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔**
* مراد ایسا معجزہ ہے جو ان کے کہنے پر ان کی خواہش کے مطابق ظاہر کرکے دکھایا جائے۔ جیسے ان کے بعض مطالبات سورۂ بنی اسرائیل، آیت: 90۔ 93 میں بیان کیے گئے ہیں۔ **- ”لَوْلا اجْتَبَيْتَهَا“ کے معنی ہیں، تو اپنے پاس سے ہی کیوں نہیں بنا لاتا؟ اس کے جواب میں بتلایا گیا کہ آپ فرما دیں، معجزات پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے میں تو صرف وحی الٰہی کا پیروکار ہوں۔ ہاں البتہ یہ قرآن جو میرے پاس آیا ہے، یہ بجائے خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ اس میں تمہارے رب کی طرف سے بصائر ( دلائل وبراہین) اور ہدایت وہ رحمت ہے۔ بشرطیکہ کوئی ایمان لانے والا ہو۔

(204) اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو امید ہے کہ تم پر رحمت ہو۔*
* یہ ان کافروں کو کہا جارہا ہے جو قرآن کی تلاوت کرتے وقت شور کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں کو کہتے تھے: «لَا تَسۡمَعُواْ لِهَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ وَٱلۡغَوۡاْ فِيهِ» [فصلت: 26] ”یہ قرآن مت سنو اور شور کرو“، ان سے کہا گیا کہ اس کے بجائے تم اگر غور سے سنو اور خاموش رہو تو شاید اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نواز دے۔ اور یوں تم رحمت الٰہی کے مستحق بن جاؤ۔ بعض ائمۂ دین اسے عام مراد لیتے ہیں جب بھی قرآن پڑھا جائے، چاہے نماز ہو یا غیر نماز، سب کو خاموشی سے قرآن سننے کا حکم ہے اور پھر وہ اس عموم سے استدلال کرتے ہوئے جہری نمازوں میں مقتدی کے سورۂ فاتحہ پڑھنے کو بھی اس قرآنی حکم کے خلاف بتاتے ہیں ۔ لیکن دوسرے علماء کی رائے یہ ہے کہ جہری نمازوں میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کی تاکید نبی (صلى الله عليه وسلم) سے صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ ان کے نزدیک اس آیت کو صرف کفار کے متعلق ہی سمجھنا صحیح ہے، جیسا کہ اس کے مکی ہونے سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ لیکن اگر اسے عام سمجھا جائے تب بھی اس عموم سے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے مقتدیوں کو خارج فرما دیا اور یوں قرآن کے اس عموم کے باوجود جہری نمازوں میں مقتدیوں کا سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہوگا۔ کیونکہ قرآن کے اس عموم کی یہ تخصیص صحیح وقوی احادیث سے ثابت ہے۔ بنا بریں جس طرح اور بعض عمومات قرآنی کی تخصیص احادیث کی بنیاد پر تسلیم کی جاتی ہے، مثلاً آیت «الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا» الآية (النور: 2) کے عموم سے شادی شدہ زانی کا اخراج، اور «وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ» (المائدۃ: 38) کے عموم سے ایسے چور کا اخراج یا تخصیص جس نے ربع دینار سے کم مالیت کی چیز چوری کی ہو یا چوری شدہ چیز، حرز میں نہ رکھی ہو، وغیرہ۔ اسی طرح «فَٱسۡتَمِعُواْ لَهُۥ وَأَنصِتُواْ» کے عمومی حکم سے مقتدی خارج ہوں گے اور ان کے لیے جہری نمازوں میں بھی سورۂ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہوگا، کیونکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے اس کی تاکید فرمائی ہے۔ (جیسا کہ سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں یہ احادیث بیان کی گئی ہیں)۔

(205) اور(اے پیغمبر ) اپنے رب کي یاد کیا کراپنے دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ اور زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ صبح اور شام اور اہل غفلت میں سے مت ہونا۔

(206) یقیناً جو تیرے رب کے نزدیک ہیں وه اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس کو سجده کرتے ہیں۔

<     >