<     >  

71 - سورۂ نوح ()

|

(1) یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف* بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو (اور خبردار کردو) اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آجائے.**
* حضرت نوح (عليه السلام) جلیل القدر پیغمبروں میں سے ہیں، صحیح مسلم وغیرہ کی حدیث شفاعت میں ہے کہ یہ پہلے رسول ہیں، نیز کہا جاتا ہے کہ انہی کی قوم سے شرک کا آغاز ہوا، چنانچہ اللہ تعالٰی نے انہیں اپنی قوم کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔ **- قیامت کے دن عذاب یا دنیا میں عذاب آنے سے قبل، جیسے اس قوم پر طوفان آیا۔

(2) (نوح علیہ السلام نے) کہا اے میری قوم! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے واﻻ ہوں.*
* اللہ کے عذاب سے اگر تم ایمان نہ لائے اسی لیے عذاب سے نجات کا نسخہ تمہیں بتلانے آیا ہوں جو آگے بیان ہو رہا ہے۔

(3) کہ تم اللہ کی عبادت کرو* اور اسی سے ڈرو** اور میرا کہا مانو.***
* اور شرک چھوڑ دو، صرف اسی کی عبادت کرو۔ **- اللہ کی نافرمانیوں سے اجتناب کرو، جن سے تم عذاب الٰہی کے مستحق قرار پا سکتے ہو، ***- یعنی میں تمہیں جن باتوں کا حکم دوں اس میں میری اطاعت کرو، اس لئے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول اور اس کا نمائندہ بن کر آیا ہوں۔

(4) تو وه تمہارے گناه بخش دے گا اور تمہیں ایک وقت مقرره تک چھوڑ دے گا*۔ یقیناً اللہ کا وعده جب آجاتا ہے تو مؤخر نہیں ہوتا**۔ کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی.***
* اس کے معنی یہ کیے گیے ہیں کہ ایمان لانے کی صورت میں تمہاری موت کی جو مدت مقرر ہے اس کو مؤخر کرکے تمہیں مذید مہلت عمر عطا فرمائے گا اور وہ عذاب تم سے دور کردے گا جو عدم ایمان کی صورت میں تمہارے لیے مقدر تھا۔ چنانچہ اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اطاعت، نیکی اور صلۂ رحمی سے عمر میں حقیقتاً اضافہ ہوتا ہے۔ حدیث میں بھی ہے: « صِلَةُ الرَّحِمِ تَزِيدُ فِي الْعُمُرِ »، «صلۂ رحمی، اضافہ عمر کا باعث ہے»۔ (ابن کثیر) بعض کہتے ہیں، تاخیر کا مطلب برکت ہے، ایمان سے عمر میں برکت ہوگی۔ ایمان نہیں لاؤگے تو اس برکت سے محروم رہوگے۔ **- بلکہ لامحالہ واقع ہو کر رہنا ہے اسی لیے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ ایمان واطاعت کا راستہ فورا اپنا لو تاخیر خطرہ ہے کہ وعدہ عذاب الہی کی لپیٹ میں نہ آجاؤ۔ ***- یعنی اگر تمہیں علم ہوتا تو تم اسے اپنانے میں جلدی کرتے جس کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں یا اگر تم یہ بات جانتے ہوتے کہ اللہ کا عذاب جب آجاتا ہے تو ٹلتا نہیں ہے۔

(5) (نوح علیہ السلام نے) کہا اے میرے پرورگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ہے.*
* یعنی تیرے حکم کی تعمیل میں، بغیر کسی کوتاہی کے رات دن میں نے تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچایا ہے۔

(6) مگر میرے بلانے سے یہ لوگ اور زیاده بھاگنے لگے.*
* یعنی میری پکار سے یہ ایمان سے اور زیادہ دور ہوگئے ہیں۔ جب کوئی قوم گمراہی کے آخری کنارے پر پہنچ جائے تو پھر اس کا یہی حال ہوتا ہے، اسے جتنا اللہ کی طرف بلاؤ، وہ اتنا ہی دور بھاگتی ہے۔

(7) میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لیے بلایا* انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں** اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا*** اور اڑ گئے**** اور بڑا تکبر کیا.*****
* یعنی ایمان اور اطاعت کی طرف، جو سبب مغفرت ہے۔ **- تاکہ میری آواز سن سکیں۔ ***- تاکہ میرا چہرہ نہ دیکھ سکیں یا اپنے سروں پر کپڑے ڈال دیے تاکہ میرا کلام نہ سن سکیں، یہ ان کی طرف سے شدت عداوت کا اور وعظ و نصیحت سے بے نیازی کا اظہار ہے۔ بعض کہتے ہیں، اپنے کپڑوں سے ڈھانک لینے کا مقصد یہ تھا کہ پیغمبر ان کو پہچان نہ سکے اور انہیں قبولیت دعوت کے لئے مجبور نہ کرے۔ ****- یعنی کفر پر مصر رہے، اس سے باز نہ آئے اور توبہ نہیں کی۔ *****- قبول حق اور امتثال امر سے انہوں نے سخت تکبر کیا۔

(8) پھر میں نے انہیں بﺂواز بلند بلایا.

(9) اور بیشک میں نےان سے علانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی.*
* یعنی مختلف انداز اور طریقوں سے انہیں دعوت دی۔ بعض کہتے ہیں، کہ اجتماعات اور مجلسوں میں بھی انہیں دعوت دی اور گھروں میں فرساً فرداً بھی تیرا پیغام پہنچایا۔

(10) اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناه بخشواؤ* (اور معافی مانگو) وه یقیناً بڑا بخشنے واﻻ ہے.**
* یعنی ایمان اور اطاعت کا راستہ اپنالو، اور اپنے رب سے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگ لو۔ **- وہ توبہ کرنے والوں کے لئے بڑا رحیم و غفار ہے۔

(11) وه تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا.*
* بعض علماء اسی آیت کی وجہ سے نماز استسقاء میں سورہ نوح کے پڑھنے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ مروی ہے کہ حضرت عمر سبھی ایک مرتبہ نماز استسقاء کے لئے منبر پر چڑھے تو صرف آیات استغفار (جن میں یہ آیت بھی تھی) پڑھ کر منبر سے اتر آئے۔ اور فرمایا کہ میں نے بارش کو، بارش کے ان راستوں سے طلب کیا ہے جو آسمانوں میں ہیں جن سے بارش زمین پر اترتی ہے (ابن کثیر) حضرت حسن بصری کے متعلق مروی ہے کہ ان سے آکر کسی نے قحط سالی کی شکایت کی تو انہوں نے اسے استغفار کی تلقین کی، کسی دوسرے شخص نے فقرو فاقہ کی شکایت کی، اسے بھی انہوں نے یہی نسخہ بتلایا۔ ایک اور شخص نے اپنے باغ کے خشک ہونے کا شکوہ کیا، اسے بھی فرمایا، استغفار کر۔ ایک شخص نے کہا، میرے گھر اولاد نہیں ہوتی، اسے بھی کہا اپنے رب سے استغفار کر۔ کسی نے جب ان سے کہا کہ آپ نے استغفار ہی کی تلقین کیوں کی؟ تو آپ نے یہی آیت تلاوت کرکے فرمایا، کہ میں نے اپنے پاس سے یہ بات نہیں کی، یہ وہ نسخہ ہے جو ان سب باتوں کے لئے اللہ نے بتلایا ہے۔ (السیر التفاسیر)

(12) اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اوﻻد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا.*
* یعنی ایمان و اطاعت سے تمہیں اخروی نعمتیں ملیں گی بلکہ دنیاوی مال ودولت اور بیٹوں کی کثرت سے بھی نوازے جاؤ گے۔

(13) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیده نہیں رکھتے.*
* وقار، توقیر سے ہے، بمعنی عظمت اور رجاء خوف کے معنی میں ہے، یعنی جس طرح اس کی عظمت کا حق ہے تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں ہو؟ اور اس کو ایک کیوں نہیں مانتے اور اس کی اطاعت کیوں نہیں کرتے؟۔

(14) حاﻻنکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے* پیدا کیا ہے.
* پہلے نطفہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر عظام اور لحم اور پھر خلق تام، جیسا کہ (الانبیاء:5)، (المؤمنون:14) اور (المؤمن: 67) وغیرھا میں تفصیل گزری۔

(15) کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کر دیئے ہیں.*
* جو اس کی قدرت اور کمال صناعت پر دلالت کرتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عبادت کے لائق صرف وہی ایک اللہ ہے۔

(16) اور ان میں چاند کو جگمگاتا بنایا ہے* اور سورج کو روشن چراغ بنایا ہے.**
* جو روئے زمین کو منور کرنے والا اور اس کے ماتھے کا جھومر ہے۔ **- تاکہ اس کی روشنی میں انسان معاش کے لیے جو انسانوں کی انتہائی ناگزیر ضرورت ہے کسب و محنت کر سکے۔

(17) اور تم کو زمین سے ایک (خاص اہتمام سے) اگایا ہے* (اور پیدا کیا ہے).
* یعنی تمہارے باپ آدم (عليه السلام) کو، جنہیں مٹی سے بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ یا اگر تمام انسانوں کو مخاطب سمجھا جائے، تو مطلب ہوگا کہ تم جس نطفے سے پیدا ہوتے ہو وہ اسی خوراک سے بنتا ہے جو زمین سے حاصل ہوتی ہے، اس اعتبار سے سب کی پیدائش کی اصل زمین ہی قرار پاتی ہے۔

(18) پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا اور (ایک خاص طریقہ) سے پھر نکالے گا.*
* یعنی مر کر، پھر اسی مٹی میں دفن ہونا ہے اور پھر قیامت والے دن اسی زمین سے تمہیں زندہ کرکے نکالا جائے گا۔

(19) اور تمہارے لیے زمین کو اللہ تعالیٰ نے فرش بنادیا ہے.*
* یعنی اسے فرش کی طرح بچھا دیا ہے تم اس پر اسی طرح چلتے پھرتے ہو جیسے اپنے گھر میں بچھے ہوئے فرش پر چلتے اور اٹھتے بیٹھتے ہو۔

(20) تاکہ تم اس کی کشاده راہوں میں چلو پھرو.*
* سُبُلٌ، سَبِیلٌ کی جمع ہے اور فِجَاجٌ، فَجٌّ (کشادہ راستہ) کی جمع ہے۔ یعنی اس زمین پر اللہ تعالٰی نے بڑے بڑے کشادہ راستے بنا دیے ہیں تاکہ انسان آسانی کے ساتھ ایک دوسری جگہ، ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاسکے اس لیے یہ راستے بھی انسان کی کاروباری اور تمدنی ضرورت ہے جس کا انتظام کرکے اللہ نے انسانوں پر احسان عظیم کیا ہے۔

(21) نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے میری تو نافرمانی کی* اور ایسوں کی فرمانبرداری کی جن کے مال واوﻻد نے ان کو (یقیناً) نقصان ہی میں بڑھایا ہے.**
* یعنی میری نافرمانی پر اڑے ہوئے ہیں اور میری دعوت پر لبیک نہیں کہہ رہے ہیں ۔ **- یعنی ان کے اصاغر نے اپنے بڑوں اور صاحب ثروت ہی کی پیروی کی جن کے مال و اولاد نے انہیں دنیا اور آخرت کے خسارے میں ہی بڑھایا ہے۔

(22) اور ان لوگوں نے بڑا سخت فریب کیا.*
* یہ مکر یا فریب کیا تھا ؟بعض کہتے ہیں ان کا بعض لوگوں کو حضرت نوح (عليه السلام) کے قتل پر ابھارنا تھا بعض کہتے ہیں کہ مال واولاد کی وجہ سے جس فریب نفس کا وہ شکار ہوئے حتی کہ بعض نے کہا کہ اگر یہ حق پر نہ ہوتے تو ان کو یہ نعمتیں کیوں میسر آتیں؟ اور بعض کے نزدیک ان کے بڑوں کا یہ کہنا تھا کہ تم اپنے معبودوں کی عبادت مت چھوڑنا، بعض کے نزدیک ان کا کفر ہی، بڑا مکر تھا۔

(23) اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (چھوڑنا).*
* یہ قوم نوح (عليه السلام) کے وہ لوگ تھے جن کی وہ عبادت کرتے تھے اور ان کی اتنی شہرت ہوئی کہ عرب میں بھی ان کی پوجا ہوتی رہی، چنانچہ ود دومة الجندل میں قبیلہ کلب کا، سواع ساحل بحر کے قبیلہ ھذیل کا، یغوث سبا کے قریب جرف جگہ میں مراد اور بنی غطیف کا، یعوق، ہمدان قبیلے کا اور نسر، حمیر قبیلہ ذوالکلاع کا معبود رہا۔ (ابن کثیرو فتح القدیر) یہ پانچوں قوم نوح (عليه السلام) کے نیک آدمیوں کے نام تھے، جب یہ مر گئے تو شیطان نے ان کے عقیدت مندوں کو کہا کہ ان کی تصوریں بنا کر تم اپنے گھروں اور دکانوں میں رکھ لو تاکہ ان کی یاد تازہ رہے اور ان کے تصور سے تم بھی ان کی طرح نیکیاں کرتے رہو، جب یہ تصویریں بنا کر رکھنے والے فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی نسلوں کو یہ کہہ کر کہ شرک میں ملوث کر دیا کہ تمہارے آباء تو ان کی عبادت کرتے تھے جن کی تصویریں تمہارے گھروں میں لٹک رہی ہیں چنانچہ انہوں نے ان کی پوجا شروع کر دی (صحیح بخاری، تفسیر سورة نوح)

(24) اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراه کیا (الٰہی) تو ان ﻇالموں کی گمراہی اور بڑھا.*
* أَضَلُّوا کا فاعل (مرجع) قوم نوح کے رؤسا ہیں۔ یعنی انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا اور اس کا مرجع یہی مذکورہ پانچ بت ہیں، اس کا مطلب ہوگا کہ ان کے سبب بہت سے لوگ گمراہی میں مبتلا ہوئے۔ جیسے ابراہیم (عليه السلام) نے بھی کہا تھا۔«رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ» (ابراھیم: 36)

(25) یہ لوگ بہ سبب* اپنے گناہوں کے ڈبو دیئے گئے اور جہنم میں پہنچا دیئے گئے اور اللہ کے سوا اپنا کوئی مددگار انہوں نے نہ پایا.
* مِمَّا میں ما زائد ہے، مِنْ خَطِيئَاتِهِمْ، ائ: مِنْ أجْلِها وبِسَبَبِهَا أغْرِقُوا بالطُوفَانِ (فتح القدیر)

(26) اور (حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پالنے والے! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے واﻻ نہ چھوڑ.*
* یہ بد دعا اس وقت کی جب حضرت نوح (عليه السلام) ان کے ایمان لانے سے بالکل نا امید ہوگئے اور اللہ نے بھی اطلاع کر دی کہ اب ان میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا (ھود:36) دیار، فیعال کے وزن پر دیوار ہے۔ واؤ کو یا سے بدل کر ادغام مکردیا گیا ، من یسکن الدیار، مطلب ہے کسی کو باقی نہ چھوڑ۔

(27) اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو (یقیناً) یہ تیرے (اور) بندوں کو (بھی) گمراه کر دیں گے اور یہ فاجروں اور ڈھیٹ کافروں ہی کو جنم دیں گے.

(28) اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایمان کی حالت میں میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے* اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا.**
* کافروں کے لیے بدعا کی تو مومنین کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ **- یہ بددعا قیامت تک آنے والے ظالموں کے لئے ہے جس طرح مذکورہ دعا تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں کے لئے ہے۔

<     >