<     >  

77 - سورۂ مُرسلات ()

|

(1) دل خوش کن چلتی ہواؤں کی قسم.*
* والظالمین اس لیے منصوب ہے کہ اس سے پہلے یعذب محذوف ہے۔ کے لائق ہوتا ہے۔ **- اس مفہوم کے اعتبار سے عرفاً کے معنی پے درپے ہوں گے، بعض نے مُرسلات سے فرشتے یا انبیا مراد لئے ہیں اس صورت میں عرفاً کے معنی وحی الٰہی، یا احکام شریعت ہوں گے۔ یہ مفعول لہ ہوگا لاجل العرف یا منصوب بنزع الخافض۔ بالعرف

(2) پھر زور سے جھونکا دینے والیوں کی قسم.*

(3) پھر (ابر کو) ابھار کر پراگنده کرنے والیوں* کی قسم.
* یا فرشتے مراد ہیں، جو بعض دفعہ ہواؤں کے عذاب کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں۔ **- یا ان فرشتوں کی قسم، جو بادلوں کو منتشر کرتے ہیں یا فضائے آسمانی میں اپنے پر پھیلاتے ہیں۔ تاہم امام ابن کثیر اور امام طبری نے ان تینوں ہوائیں مراد لینے کو راجح قرار دیا ہے، جیسے کہ ترجمے میں بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔

(4) پھر حق وباطل کو جدا جدا کر دینے والے.*
* یعنی ان فرشتوں کی قسم جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے احکام لے کر اترتے ہیں۔ یا مراد آیات قرآنیہ ہیں، جن سے حق و باطل اور حلال و حرام کی تمیز ہوتی ہے یا رسول مراد ہیں جو وحی الٰہی کے ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں۔

(5) اور وحی ﻻنے والے فرشتوں کی قسم.*
* جو اللہ کا کلام پیغمبروں تک پہنچاتے ہیں یا رسول مراد ہیں جو اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی، اپنی امتوں کو پہنچاتے ہیں۔

(6) جو (وحی) الزام اتارنے یا آگاه کردینے کے لیے ہوتی ہے.*
* دونوں مفعول لہ ہیں، لأجل العذار والإنذار یعنی فرشتے وحی لے کر آتے ہیں تاکہ لوگوں پر دلیل قائم ہو جائے اور یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمارے پاس تو کوئی اللہ کا پیغام ہی لے کر نہیں آیا یا مقصد ڈرانا ہے ان کو جو انکار یا کفر کرنے والے ہوں گے۔ یا معنی ہیں مومنوں کے لئے خوشخبری، اور کافروں کے لئے ڈراوا۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ مرسلات، عاصفات، اور ناشرات سے مراد ہوائیں اور فارقات، اور ملقیات سے فرشتے ہیں۔ یہی بات راجح ہے۔

(7) جس چیز کا تم سے وعده کیا جاتا ہے وہ یقیناً ہونے والی ہے.*
* قسموں سے مراد، مقسم علیہ کی اہمیت سامعین پر واضح کرنا اور اس کی صداقت کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ مقسم علیہ (یا جواب قسم) یہ ہے کہ تم سے قیامت کا جو وعدہ کیا جاتا ہے، وہ یقینا واضح ہونے والی ہے، یعنی اس میں شک کرنے کی نہیں بلکہ اس کے لئے تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ قیامت کب واقع ہوگی؟ اگلی سورت میں اس کو واضح کیا جا رہا ہے۔

(8) پس جب ستارے بے نور کردئے جائیں گے.*
* طَمْس کے معنی مٹ جانے اور بےنشان ہونے کے ہیں، یعنی جب ستاروں کی روشنی ختم بلکہ ان کا نشان تک مٹ جائے گا۔

(9) اور جب آسمان توڑ پھوڑ دیا جائے گا.

(10) اور جب پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کر کے اڑا دیئے جائیں گے.*
* یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا اور زمین بالکل صاف اور ہموار کر دی جائے گی۔

(11) اور جب رسولوں کو وقت مقرره پر ﻻیا جائے گا.*
* یعنی فصل وقضا کے لیے ان کے بیانات سن کر ان کی قوموں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

(12) کس دن کے لیے (ان سب کو) مؤخر کیا گیا ہے؟*
* یہ استفہام تعظیم اور تعجب کے لئے ہےیعنی کیسے عظیم دن کے لئے، جس کی شدت اور ہولناکی، لوگوں کے لئے سخت تعجب انگیز ہوگی، ان پیغمبروں کے جمع ہونے کا وقت دیا گیا ہے۔

(13) فیصلے کے دن کے لیے.*
* یعنی جس دن لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا کوئی جنت میں اور کوئی دوزخ میں جائے گا۔

(14) اور تجھے کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟

(15) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے.*
* یعنی ہلاکت ہے بعض کہتے ہیں "ویل"جہنم کی ایک وادی کا نام ہے، یہ آیت اس سورت میں بار بار دہرائی گئی ہے۔ اس لیے کہ ہر مکذب کا جرم ایک دوسرے سے مختلف نوعیت کا ہوگا اور اسی حساب سے عذاب کی نوعیتیں بھی مختلف ہوں گی، بنابریں اسی ویل کی مختلف قسمیں ہیں جسے مختلف مکذبین کے لیے الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ (فتح القدیر)

(16) کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟

(17) پھر ہم ان کے بعد پچھلوں کو ﻻئے.*
* یعنی کفار مکہ اور ان کے ہم مشرب، جنہوں نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی تکذیب کی۔

(18) ہم گنہگاروں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں.*
* یعنی سزا دیتے ہیں دنیا میں اور آخرت میں۔

(19) اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ویل (افسوس) ہے.

(20) کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے (منی سے) پیدا نہیں کیا.

(21) پھر ہم نے اسے مضبوط ومحفوظ جگہ میں رکھا.*
* یعنی رحم مادر میں۔

(22) ایک مقرره وقت تک.*
* یعنی مدت حمل تک نو یا چھ مہینے۔

(23) پھر ہم نے اندازه کیا* اور ہم کیا خوب اندازه کرنے والے ہیں.
* یعنی رحم مادر میں جسمانی ساخت و ترکیب و صحیح اندازہ کیا کہ دونوں آنکھوں، دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں اور دونوں کانوں کے درمیان اور دیگر اعضا کا ایک دوسرے کے درمیان کتنا فاصلہ رہنا چاہیئے۔

(24) اس دن تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے.

(25) کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟

(26) زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی.*
* یعنی زمین زندوں کو اپنی پشت پر اور مردوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔

(27) اور ہم نے اس میں بلند وبھاری پہاڑ بنادیے* اور تمہیں سیراب کرنے واﻻ میٹھا پانی پلایا.
* رواسي راسية کی جمع۔ ثاوبت، جمے ہوئے پہاڑ، شامخات، بلند۔

(28) اس دن جھٹلانے والوں کے لیے وائے اور افسوس ہے.

(29) اس دوزخ کی طرف جاؤ جسے تم جھٹلاتے رہے تھے.*
* یہ فرشتے جہنمیوں کو کہیں گے۔

(30) چلو تین شاخوں والے سائے کی طرف.*
* جہنم سے جو دھواں آئے گا وہ بلند ہو کر تین طرفوں میں پھیل جائے گا، یعنی جس طرح دیوار یا درخت کا سایہ ہوتا ہے، یہ دھواں حقیقت میں اس طرح کا سایہ نہیں ہوگا جس میں جہنمی کچھ سکون حاصل کرلیں۔

(31) جو در اصل نہ سایہ دینے واﻻ ہے اور نہ شعلے سے بچاسکتا ہے.*
- یعنی جہنم کی حرارت سے بچنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔

(32) یقیناً دوزخ چنگاریاں پھینکتی ہے جو مثل محل کے ہیں.*
* اس کا ایک ترجمہ ہے جو لکڑی کے بوٹے یعنی بھاری ٹکڑے کے مثل ہیں۔ (بوٹے بمعنی شہتیر کے ٹکڑے، جسے گیلی بھی کہتے ہیں)۔

(33) گویا کہ وه زرد اونٹ ہیں.*
* صفر، أصفر (زرد) کی جمع ہے، لیکن عرب میں اس کا استعمال اسود کے معنی میں بھی ہے۔ اس معنی کی بناء پر مطلب یہ ہے کہ اس کی ایک ایک چنگاڑی اتنی اتنی بڑی ہوگی جیسے محل یا قلعہ۔ پھر ہر چنگاڑی کے مذید اتنے بڑے بڑے ٹکڑے ہو جائیں گے جیسے اونٹ ہوتے ہیں۔

(34) آج ان جھٹلانے والوں کی درگت ہے.

(35) آج (کا دن) وه دن ہے کہ یہ بول بھی نہ سکیں گے.*
* محشر میں کافروں کی مختلف حالتیں ہوں گی۔ ایک وقت وہ ہوگا کہ وہ وہاں بھی جھوٹ بولیں گے پھر اللہ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے پھر جس وقت ان کو جہنم میں لے جایا جارہا ہوگا اس وقت عالم اضطراب وپریشانی میں ان کی زبانیں بھی گنگ ہو جائیں گی۔ بعض کہتے ہیں کہ بولیں گے تو سہی لیکن ان کے پاس حجت کوئی نہیں ہوگی۔ گویا ان کو بات کرنی ہی نہیں آئے گی۔ جیسے ہم دنیا میں ایسے شخص کی بابت کہتے ہیں جس کے پاس کوئی تسلی بخش دلیل نہیں ہوتی، وہ تو ہمارے سامنے بول ہی نہیں سکا۔

(36) نہ انہیں معذرت کی اجازت دی جائے گی.*
* مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس پیش کرنے کے لیے معقول عذر ہی نہیں ہوگا جسے وہ پیش کرسکیں گے۔

(37) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے.*

(38) یہ ہے فیصلے کا دن ہم نے تمہیں اور اگلوں کو سب کو جمع کرلیا ہے.*
* یہ اللہ کے بندوں سے خطاب فرمائے گا کہ ہم نے تمہیں اپنی قدرت کاملہ سے فیصلہ کرنے کے لئے ایک ہی میدان میں جمع کر لیا۔

(39) پس اگر تم مجھ سے کوئی چال چل سکتے ہو تو چل لو.*
* یہ سخت وعید اور تہدید ہے کہ اگر تم میری گرفت سے بچ سکتے ہو اور میرے حکم سے نکل سکتے ہو تو بچ اور نکل کے دکھاؤ۔ لیکن وہاں کس میں یہ طاقت ہوگی؟ یہ آیت بھی ایسے ہی ہے، جیسے یہ آیت ہے «يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ...» (الرحمٰن: 33)

(40) وائے ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے.

(41) بیشک پرہیزگار لوگ سایوں میں ہیں* اور بہتے چشموں میں.
* یعنی درختوں اور محلات کے سائے، آگ کے دھوئیں کا سایہ نہیں ہوگا جیسے مشرکین کے لئے ہوگا۔

(42) اور ان میووں میں جن کی وه خواہش کریں.
* ہر قسم کے پھل، جب بھی خواہش کریں گے، آ موجود ہونگے۔

(43) (اے جنتیو!) کھاؤ پیو مزے سےاپنے کیے ہوئے اعمال کے بدلے.*
* یہ بطور احسان انہیں کہا جائے گا۔ بما کنتم میں با سبب کے لئے ہے یعنی جنت کی یہ نعمتیں ان اعمال صالحہ کی وجہ سے تمہیں ملی ہیں جو تم دنیا میں کرتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ جس کی وجہ سے انسان جنت میں داخل ہوگا اعمال صالحہ ہیں۔ جو لوگ عمل صالح کے بغیر اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں ان کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی زمین میں ہل چلائے اور بیج بوئے بغیر فصل کا امیدوار ہو یا تخم حنظل بوکر خوش ذائقہ پھلوں کی امید رکھے۔

(44) یقیناً ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں.*
* اس میں بھی اس امر کی ترغیب و تلقین ہے کہ اگر آخرت میں حسن انجام کے طالب ہو تو دنیا میں نیکی اور بھلائی کا راستہ اپناؤ۔

(45) اس دن سچا نہ جاننے والوں کے لیے ویل (افسوس) ہے.*
* کہ اہل تقویٰ کے حصے میں جنت کی نعمتیں آئیں اور ان کے حصے میں بڑی بد بختی۔

(46) (اے جھٹلانے والو) تم دنیا میں تھوڑا سا کھا لو اور فائده اٹھا لو بیشک تم گنہگار ہو.*
* یہ مکذبین قیامت کو خطاب ہے اور یہ امر، تہدید و وعید کے لئے ہے، یعنی اچھا چند روز خوب عیش کر لو، تم جیسے مجرمین کے لئے شکنجہ عذاب تیار ہے۔

(47) اس دن جھٹلانے والوں کے لیے سخت ہلاکت ہے.

(48) ان سے جب کہا جاتا ہے کہ رکوع کر لو تو نہیں کرتے.*
* یعنی جب ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے، تو نماز نہیں پڑھتے۔

(49) اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے.*
* یعنی ان کے لیے جو اللہ کے اوامر ونواہی کو نہیں مانتے۔

(50) اب اس قرآن کے بعد کس بات پر ایمان ﻻئیں گے؟*
* یعنی جب قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے تو اس کے بعد اور کون سا کلام ہے جس پر ایمان لائیں گے؟ یہاں بھی حدیث کا اطلاق قرآن پر ہوا ہے، جیسا کہ اور بھی بعض مقامات پر کیا گیا ہے۔ ایک ضعیف روایت میں ہے کہ جو سورۂ تین کی آخری آیت أَلَيْسَ الله... الآية پڑھے تو وہ جواب میں کہے بَلَى ٰ وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ، اور سورۂ قیامت کے آخر کے جواب میں بَلَى اور فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ کے جواب میں آمَنَّا بِالله، کہے۔ (أبوداؤد، باب مقدار الرکوع والسجود، وضعیف أبی داود، ألبانی) بعض علماء کے نزدیک سامع کو بھی جواب دینا چاہیے۔

<     >