<     >  

88 - سورۂ غاشیہ ()

|

(1) کیا تجھے بھی چھپا لینے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے.*
* هَلْ بمعنی قَدْ ہے۔ غَاشِيَةٌ سے مراد قیامت ہے۔ اس لئے کہ اس کی ہولناکیاں تمام مخلوق کو ڈھانک لیں گی۔

(2) اس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے.*
* یعنی کافروں کے چہرے۔ خَاشِعَةٌ جھکے ہوئے، پست اور ذلیل۔ جیسے، نمازی، نماز کی حالت میں اللہ کے سامنے عاجزی اور تذلل سےجھکا ہوتا ہے۔

(3) (اور) محنت کرنے والے تھکے ہوئے ہوں گے.*
* نَاصِبَةٌ کے معنی ہیں، تھک کر چور ہو جانا۔ یعنی انہیں اتنا پر مشقت عذاب ہوگا کہ اس سے ان کا سخت برا حال ہو گا۔ اس کا ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں عمل کرکرے تھکے ہوئے ہوں گے یعنی بہت عمل کرتے رہے ہوں گے۔ لیکن وہ عمل باطل مذہب کے مطابق یا بدعات پر مبنی ہوں گے، اس لئے عبادات اور اعمال شاقہ کے باوجود جہنم میں جائیں گے۔ چنانچہ اسی مفہوم کی رو سے حضرت ابن عباس (رضي الله عنه) ما نے ”عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ“ سے نصاریٰ مراد لئے ہیں (صحيح البخاري تفسير سورة غاشية)۔

(4) وه دہکتی ہوئی آگ میں جائیں گے.

(5) اور نہایت گرم چشمے کا پانی ان کو پلایا جائے گا.*
* یہاں وہ سخت کھولتا ہوا پانی مراد ہے جس کی گرمی انتہا کو پہنچی ہوئی ہو۔ ( فتح القدیر ) ۔

(6) ان کے لئے سوائے کانٹے دار درختوں کے اور کچھ کھانے کو نہ ہوگا.*
* یہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے جسے خشک ہونے پر جانور بھی کھانا پسند نہیں کرتے۔ بہرحال یہ بھی زقوم کی طرح ایک نہایت تلخ، بدمزہ اور ناپاک ترین کھانا ہوگا، جو جز وبدن بنے گا، نہ اس سے بھوک ہی مٹے گی۔

(7) جو نہ موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا.

(8) بہت سے چہرے اس دن تروتازه اور (آسوده حال) ہوں گے.

(9) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے.

(10) بلند وباﻻ جنتوں میں ہوں گے.

(11) جہاں کوئی بیہوده بات نہیں سنیں گے.

(12) جہاں بہتا ہوا چشمہ ہوگا.

(13) (اور) اس میں اونچے اونچے تخت ہوں گے.

(14) اور آبخورے رکھے ہوئے (ہوں گے).

(15) اور ایک قطار میں لگے ہوئے تکیے ہوں گے.

(16) اور مخملی مسندیں پھیلی پڑی ہوں گی.*
* یہ اہل جنت کا تذکرہ ہے، جو جہنمیوں کے برعکس نہایت آسودہ حال اور ہر قسم کی آسائشوں سے بہرہ ور ہوں گے۔ عَيْنٌ بطور جنس کے ہے یعنی متعدد چشمے ہوں گے۔ نَمَارِقُ بمعنی وَسَائِدَ ( تکیے ) ہے زَرَابِيُّ مسندیں، قالین اور گدے بستر مَبْثُوثَةٌ پھیلی ہوئی۔ یعنی یہ مسندیں جگہ جگہ بچھی ہوئی ہوں گی۔ اہل جنت جہاں آرام کرنا چاہیں گے، کر سکیں گے۔

(17) کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وه کس طرح پیدا کیے گئے ہیں.*
* اونٹ عرب میں عام تھے اور ان عربوں کی غالب سواری یہی تھی، اس لئے اللہ نے اسی کا ذکر کر کے فرمایا کہ اس کی خلقت پر غور کرو، اللہ نے اسے کتنا بڑا وجود عطا کیا ہے اور کتنی قوت وطاقت اس کے اندر رکھی ہے۔ اس کے باوجود وہ تمہارے لئے نرم اور تابع ہے، تم اس پر جتنا چاہو بوجھ لاد دو، وہ انکار نہیں کرے گا، تمہارا ماتحت ہو کر رہے گا۔ علاوہ ازیں اس کا گوشت تمہارے کھانے کے، اس کا دودھ تمہارے پینے کے اور اس کی اون، گرمی حاصل کرنے کے کام آتی ہے۔

(18) اور آسمان کو کہ کس طرح اونچا کیا گیا ہے.*
* یعنی آسمان کتنی بلندی پر ہے، پانچ سو سال کی مسافت پر، پھر بھی بغیر ستون کے وہ کھڑا ہے۔ اس میں کوئی شگاف اور کجی بھی نہیں ہے۔ نیز ہم نے اسے ستاروں سے مزین کیا ہوا ہے۔

(19) اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح گاڑ دیئے گئے ہیں.*
* یعنی کس طرح انہیں زمین پر میخوں کی طرح گاڑ دیا گیا ہے تاکہ زمین حرکت نہ کرے۔ نیز ان میں جو معدنیات اور دیگر منافع ہیں، وہ اس کے علاوہ ہیں۔

(20) اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے.*
* یعنی کس طرح اسے ہموار کرکے انسان کے رہنے کے قابل بنایا ہے، وہ اس پر چلتا پھرتا، کاروبار کرتا اور فلک بوس عمارتیں تعمیر کرتا ہے۔

(21) پس آپ نصیحت کر دیا کریں (کیونکہ) آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں.*
* یعنی آپ کا کام صرف تذکیر اور تبلیغ ودعوت ہے، اس کے علاوہ یا اس سے بڑھ کر نہیں۔

(22) آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں.*
* کہ انہیں ایمان لانے پر مجبور کریں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ ہجرت سے قبل کا حکم ہے جو آیت سیف سے منسوخ ہو گیا، کیوں کہ اس کے بعد نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا۔ ”أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لا إِلَهَ إِلا اللهُ فَإِذَا قَالُوهَا، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّهَا؛ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ“۔ (صحيح بخاري، باب وجوب الزكاة مسلم كتاب الإيمان، باب الأمر بقتال الناس حتى يقولوا...) ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیں۔ جب وہ یہ اقرار کر لیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خونوں اور مالوں کو بچا لیا۔ سوائے حق اسلام کے، ( جو اگر ہمارے علم میں نہ آیا تو ) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے“۔

(23) ہاں! جو شخص روگردانی کرے اور کفر کرے.

(24) اسے اللہ تعالیٰ بہت بڑا عذاب دے گا.*
* یعنی جہنم کا دائمی عذاب۔

(25) بیشک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے.

(26) پھر بیشک ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا.*
* مشہور ہے کہ اس کے جواب میں اللَّهُمَّ! حَاسِبْنَا حِسَابًا يَسِيرًا ۔ پڑھا جائے۔ یہ دعا تو نبی (صلى الله عليه وسلم) سے ثابت ہے جو آپ (صلى الله عليه وسلم) اپنی بعض نمازوں میں پڑھتے تھے، جیسا کہ سورۂ انشقاق میں گزرا۔ لیکن اس کے جواب میں پڑھنا، یہ آپ (صلى الله عليه وسلم) سے ثابت نہیں ہے۔

<     >