<     >  

89 - سورۂ فجر ()

|

(1) قسم ہے فجر کی!*
* اس سے مراد مطلق فجر ہے، کسی خاص دن کی فجر نہیں۔

(2) اور دس راتوں کی!*
* اس سے اکثر مفسرین کے نزدیک ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔ جن کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”عشرہ ذوالحجہ میں کیے گئے عمل صالح اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ حتیٰ کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا پسندیدہ نہیں، سوائے اس جہاد کے جس میں انسان شہید ہی ہو جائے“۔ (البخاري، كتاب العيدين، باب فضل العمل في أيام التشريق)۔

(3) اور جفت اور طاق کی!*
* اس سے مراد جفت اور طاق عدد ہیں یا وہ معدودات جو جفت اور طاق ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں، کہ یہ دراصل مخلوق کی قسم ہے، اس لئے کہ مخلوق جفت (جوڑا) یا طاق (فرد) ہے۔ اس کے علاوہ نہیں۔ (ایسر التفاسیر)۔

(4) اور رات کی جب وه چلنے لگے.*
* یعنی جب آئے اور جب جائے، کیوں کہ سَيْرٌ (چلنا) آتے، جاتے دونوں صورتوں میں ہوتا ہے۔

(5) کیا ان میں عقلمند کے واسطے کافی قسم ہے.*
* ذَلِكَ سے مذکور مقسم بہ اشیا کی طرف اشارہ ہے یعنی کیا ان کی قسم اہل عقل ودانش کے واسطے کافی نہیں ہے ؟ حِجْرٌ کے معنی ہوتے ہیں، روکنا، منع کرنا۔ انسانی عقل بھی انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے، اس لئے عقل کو بھی حجر کہا جاتا ہے، جس طرح اسی مفہوم کے اعتبار سے اسے نھیہ بھی کہتے ہیں۔ جواب قسم یا مقسم علیہ لَتُبْعَثُنَّ ہے کیوں کہ مکی سورتوں میں عقیدے کی اصلاح پر زور دیا گیا ہے۔ بعض کے نزدیک جواب قسم آگے آنے والے الفاظ ”إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ“ ہے۔ آگے بہ طریق استشہاد اللہ تعالیٰ بعض ان قوموں کا ذکر فرما رہاہے جو تکذیب وعناد کی بنا پر ہلاک کی گئی تھیں۔ مقصد اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر تم ہمارے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی تکذیب سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی اسی طرح مواخذہ ہو سکتا ہے، جیسے گزشتہ قوموں کا اللہ نے کیا۔

(6) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عادیوں کے ساتھ کیا کیا.*
* ان کی طرف حضرت ہود (عليه السلام) نبی بنا کر بھیجے گئے تھے انہوں نے تکذیب کی، بالآخر اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کا عذاب ان پر نازل کیا جو متواتر سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی ( الحاقہ: 7 - 10 ) اور انہیں تہس نہس کرکے رکھ دیا۔

(7) ستونوں والے ارم کے ساتھ.*
* إِرَمَ، عَادٍ سے عطف بیان یا بدل ہے۔ یہ قوم عاد کے دادا کا نام ہے۔ ان کا سلسلہ نسب ہے، عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح۔ ( فتح القدیر ) اس کا مقصد یہ وضاحت ہے کہ یہ عاد اولیٰ ہے۔ ذات العماد ( ستونوں والے ) سے اشارہ ہے ان کی قوت وطاقت اور دراز قامتی کی طرف۔ علاوہ ازیں وہ فن تعمیر میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے اور نہایت مضبوط بنیادوں پر عظم الشان عمارتیں تعمیر کرتے تھے۔ ذات العماد میں دونوں مفہوم شامل ہیں۔

(8) جس کی مانند (کوئی قوم) ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی.*
* یعنی ان جیسی دراز قامت اور قوت وطاقت والی قوم کوئی اور پیدا نہیں ہوئی۔ یہ قوم کہا کرتی تھی مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ( حم السجدة،: 15 ) (ہم سے زیادہ کوئی طاقت ور ہے) ؟۔

(9) اور ثمودیوں کے ساتھ جنہوں نے وادی میں بڑے بڑے پتھر تراشے تھے.*
* یہ حضرت صالح (عليه السلام) کی قوم تھی، اللہ نے اسے پتھر تراشنے کی خاص صلاحیت وقوت عطا کی تھی، حتیٰ کہ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنی رہائش گاہیں تعمیر کر لیتے تھے، جیسا کہ قرآن نے کہا ہے وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ ( الشعراء: 149 ) ۔

(10) اور فرعون کے ساتھ جو میخوں واﻻ تھا.*
* اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے لشکروں والا تھا جس کے پاس میخوں کی کثرت تھی جنہیں میخیں گاڑ کر کھڑا کیا جاتا تھا۔ یا اس سے اس کے ظلم وستم کی طرف اشارہ ہے کہ میخوں کے ذریعے وہ لوگوں کو سزائیں دیتا تھا۔ (فتح القدیر) ۔

(11) ان سبھوں نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھا.

(12) اور بہت فساد مچا رکھا تھا.

(13) آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا.*
* یعنی ان پر آسمان سے اپنا عذاب نازل فرما کر ان کو تباہ وبرباد یا انہیں عبرت ناک انجام سےدوچار کر دیا۔

(14) یقیناً تیرا رب گھات میں ہے.*
* یعنی تمام مخلوقات کے اعمال دیکھ رہا ہے اور اس کے مطابق وہ دنیا اور آخرت میں جزا دیتا ہے۔

(15) انسان (کا یہ حال ہے کہ) جب اسے اس کا رب آزماتا ہے اور عزت ونعمت دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا.*
* یعنی جب اللہ کسی کو رزق ودولت کی فراوانی عطا فرماتا ہے تو وہ اپنی بابت اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے کہ اللہ اس پر بہت مہربان ہے، حالانکہ یہ فراوانی امتحان اور آزمائش کے طور پر ہوتی ہے۔

(16) اور جب وه اس کو آزماتا ہے اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے میری اہانت کی (اور ذلیل کیا).*
* یعنی وہ تنگی میں مبتلا کرکے آزماتا ہے تو اللہ کے بارے میں بدگمانی کا اظہار کرتا ہے۔

(17) ایسا ہرگز نہیں بلکہ (بات یہ ہے) کہ تم (ہی) لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے.*
* یعنی بات اس طرح نہیں ہے جیسے لوگ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مال اپنے محبوب بندوں کو بھی دیتا ہے اور ناپسندیدہ افراد کو بھی، تنگی میں بھی وہ اپنوں اور بیگانوں دونوں کو مبتلا کرتا ہے۔ اصل مدار دونوں حالتوں میں اللہ کی اطاعت پر ہے۔ جب اللہ مال دے تو اللہ کا شکر کرے، تنگی آئے تو صبر کرے۔ **- ) یعنی ان کے ساتھ وہ حسن سلوک نہیں کرتے جس کے وہ مستحق ہیں، نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے ”وہ گھر سب سے بہتر ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور وہ گھر بدترین ہے جس میں اس کے ساتھ بدسلوکی کی جائے۔ پھر انگلی کے ساتھ اشارہ کرکے فرمایا، میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ساتھ ہوں گے جیسے یہ دونگلیاں ساتھ ملی ہوئی ہیں“۔ ( أبو داود، كتاب الأدب، باب في ضم اليتيم)

(18) اور مسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے.

(19) اور (مردوں کی) میراث سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو.
* یعنی جس طریقے سے بھی حاصل ہو، حلال طریقے سے یا حرام طریقے سے لَمَّا بمعنی جَمْعًا

(20) اور مال کو جی بھر کر عزیز رکھتے ہو.*
* جَمًّا بمعنی كَثِيرًا ۔

(21) یقیناً* جس وقت زمین کوٹ کوٹ کر برابر کر دی جائے گی.
* یا تمہارا عمل ایسا نہیں ہونا چاہئے جو مذکور ہوا، کیوں کہ ایک وقت آنے والا ہے جب ۔۔۔

(22) اور تیرا رب (خود) آجائے گا اور فرشتے صفیں باندھ کر (آ جائیں گے).*
* کہا جاتا ہے کہ جب فرشتے، قیامت والے دن آسمان سے نیچے اتریں گے تو ہر آسمان کے فرشتوں کی الگ صف ہو گی، اس طرح سات صفیں ہوں گی جو زمین کو گھیر لیں گی ۔

(23) اور جس دن جہنم بھی ﻻئی جائے گی* اس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر آج اس کے سمجھنے کا فائده کہاں؟**
* ستر ہزار لگاموں کے ساتھ جہنم جکڑی ہوئی ہوگی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے۔ (صحيح مسلم، كتاب الجنة، باب في شدة حر نار جهنم وبعد قعرها ترمذي، أبواب صفة جهنم، باب ما جاء في صفة النار) اسے عرش کے بائیں جانب کھڑا کر دیا جائے گا، پس اسے دیکھ کر تمام مقرب اور انبیا علیہم السلام گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور ”يَا رَبِّ! نَفْسِي نَفْسِي“ پکاریں گے۔ (فتح القدیر) ۔ **- یعنی یہ ہولناک منظر دیکھ کر انسان کی آنکھیں کھلیں گی اور اپنے کفر ومعاصی پر نادم ہوگا، لیکن اس روز اس ندامت اور نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

(24) وه کہے گا کہ کاش کہ میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا.**
* یہ افسوس اور حسرت کا اظہار، اسی ندامت کا حصہ ہے جو اس روز فائدہ مند نہیں ہوگی۔

(25) پس آج اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کا نہ ہوگا.

(26) نہ اسکی قید وبند جیسی کسی کی قید وبند ہوگی.*
* اس لئے کہ اس روز تمام اختیارات صرف ایک اللہ کےپاس ہوں گے۔ دوسرے، کسی کو اس کے سامنے رائے یا دم زنی نہیں ہوگا حتیٰ کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کی سفارش تک نہیں کر سکے گا۔ ایسے حالات میں کافروں کو جو عذاب ہوگا اور جس طرح وہ اللہ کی قید وبند میں جکڑے ہوں گے، اس کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا چہ جائکہ اس کا کچھ اندازہ ممکن ہو۔ یہ تو مجرموں اور ظالموں کا حال ہوگا لیکن اہل ایمان وطاعت کا حال اس سے بالکل مختلف ہوگا، جیسا کہ اگلی آیات میں ہے۔

(27) اے اطمینان والی روح.

(28) تو اپنے رب کی طرف* لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وه تجھ سے خوش.
* یعنی اس کے اجر وثواب اور ان نعمتوں کی طرف جو اس نے اپنے بندوں کے لئے جنت میں تیار کی ہے۔ بعض کہتے ہیں قیامت والے دن کہا جائے گا بعض کہتے ہیں کہ موت کے وقت بھی فرشتے خوشخبری دیتے ہیں، اسی طرح قیامت والے دن بھی اسے یہ کہا جائے گا جو یہاں مذکور ہے۔ حافظ ابن کثیر نے ابن عسا کرکے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے ایک آدمی کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا، بِكَ مُطْمَئِنَّةً، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ“۔ (ابن كثير)۔

(29) پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا.

(30) اور میری جنت میں چلی جا.

<     >