<     >  

91 - سورۂ شمس ()

|

(1) قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی.*
* ﯾﺎ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻛﯽ, ﯾﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺿﺤﲐ ﺳﮯ ﺩﻥ ﮨﮯ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻮﺭﺝ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻥ ﻛﯽ ﻗﺴﻢ۔

(2) قسم ہے چاند کی جب اس کے پیچھے آئے.*
* یعنی جب سورج غروب ہونے کے بعد وہ طلوع ہو، جیسا کہ پہلے نصف مہینے میں ایسا ہوتا ہے۔

(3) قسم ہے دن کی جب سورج کو نمایاں کرے.*
* یا تاریکی کو دور کرے، ظلمت کا پہلے ذکر تو نہیں ہے لیکن سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ (فتح القدیر)۔

(4) قسم ہے رات کی جب اسے ڈھانﭗ لے.*
* یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور ہر سمت اندھیرا چھا جائے۔

(5) قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے کی.*
* یا اس ذات کی جس نے اسے بنایا۔ پہلی معنی کی رو سے ما بمعنی مَنْ ہوگا۔

(6) قسم ہے زمین کی اور اسے ہموار کرنے کی.*
* یا جس نے اسے ہموار کیا۔

(7) قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی.*
* یا جس نے اسے درست کیا۔ درست کرنے کا مطلب ہے، اسے متناسب الاعضاء بنایا، بےڈھبا اور بےڈھنگا نہیں بنایا۔

(8) پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی.*
* الہام کا مطلب یا تو یہ ہے کہ انہیں اچھی طرح سمجھا دیا اور انہیں انبیا علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے خیر وشر کی پہچان کروا دی۔ یا مطلب ہے کہ ان کی عقل اور فطرت میں خیر اور شر، نیکی اور بدی کا شعور ودیعت کر دیا۔ تاکہ وہ نیکی کو اپنائیں اور بدی سے اجتناب کریں۔

(9) جس نے اسے پاک کیا وه کامیاب ہوا.*
* شرک سے، معصیت سے اور اخلاقی آلائشوں سے پاک کیا، وہ آخروی فوز وفلاح سے ہمکنار ہوگا۔

(10) اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا وه ناکام ہوا.*
* یعنی جس نے اسے گمراہ کر لیا، وہ خسارے میں رہا۔ دَسٌّ، تَدْسِيسٌ سے ہے، جس کے معنی ہیں۔ ایک چیز کو دوسری چیز میں چھپا دینا۔ دَسَّاهَا کے معنی ہوں گے جس نے اپنے نفس کو چھپا دیا اور اسے بے کار چھوڑ دیا اور اسے اللہ کی اطاعت اور عمل صالح کے ساتھ مشہور نہیں کیا۔

(11) (قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا.*
* طُغْيَانٌ وہ سرکشی جو حد سےتجاوز کر جائے اسی طغیان نے انہیں تکذیب پر آمادہ کیا۔

(12) جب ان میں کا بڑا بدبخت اٹھ کھڑا ہوا.*
* جس کا نام مفسرین قدار بن سالف بتلاتے ہیں۔ اس کا ایسا کام کیا کہ یہ رئیس الاشقیاء بن گیا سب سے بڑا شقی (بدبخت)۔

(13) انہیں اللہ کے رسول نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی (حفاظت کرو).*
* یعنی اس اونٹنی کو کوئی نقصان نہ پہنچائے، اسی طرح اس کے لئے پانی پینے کا جو دن ہو، اس میں بھی گڑ بڑ نہ کی جائے۔ اونٹنی اور قوم ثمود دونوں کے لئے پانی کا ایک ایک دن مقرر کر دیا گیا تھا۔ اس کی حفاظت کی تاکید کی گئی۔ لیکن ان ظالموں نے پروا نہیں کی۔

(14) ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں*، پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعث ان پر ہلاکت ڈالی** اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو برابر کردیا.***
* یہ کام ایک ہی شخص قدار نے کیا تھا۔ لیکن چوں کہ اس شرارت میں قوم بھی اس کے ساتھ تھی اس لئے اس میں سب کو برابر کا مجرم قرار دیا گیا۔ اور تکذیب اور اونٹنی کی کوچیں کاٹنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کی گئی۔ جس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ ایک برائی کا ارتکاب کرنے والے اگر چند ایک افراد ہوں لیکن پوری قوم اس برائی پر نکیر کرنے کے بجائے اسےپسند کرتی ہو تو اللہ کے ہاں پوری قوم اس برائی کی مرتکب قرار پائے گی اور اس جرم یا برائی میں برابر کی شریک سمجھی جائے گی۔ ** دَمْدَمَ عَلَيْهِمْ ، ان کو ہلاک کر دیا اور ان پر سخت عذاب نازل کیا۔ ***- عام کر دیا، یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا، کسی کو نہیں چھوڑا، چھوٹا بڑا، سب کو نیست ونابود کر دیا گیا۔ یا زمین کو ان پر برابر کر دیا یعنی سب کو تہ خاک کر دیا۔

(15) وه نہیں ڈرتا اس کے تباه کن انجام سے.*
* یعنی اللہ تعالیٰ کو یہ ڈر نہیں ہے کہ اس نے انہیں سزا دی ہے کہ کوئی بڑی طاقت اس کا اس سے بدلہ لے گی۔ وہ انجام سے بےخوف ہے کیوں کہ کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو اس سے بڑھ کر یا اس کے برابر ہی ہو، جو اس سے انتقام لینے کی قدرت رکھتی ہو۔

<     >