<     >  

92 - سورۂ لیل ()

|

(1) قسم ہے رات کی جب چھا جائے.*
* - یعنی افق پر چھا جائے جس سے دن کی روشنی ختم اور اندھیرا ہو جائے۔

(2) اور قسم ہے دن کی جب روشن ہو.*
* یعنی رات کا اندھیرا ختم اور دن کا اجالا پھیل جائے۔

(3) اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر وماده کو پیدا کیا.*
* یہ اللہ نے اپنی قسم کھائی، کیونکہ مرد وعورت دونوں کا خالق اللہ ہی ہے ماموصولہ ہے۔ - یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔

(4) یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے.*
* یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔ یہ جواب قسم ہے شَتَّى، شَتِيتٌ کی جمع ہے، جیسے مَرِيضٌ کی جمع مَرْضَى۔

(5) جس نے دیا (اللہ کی راه میں) اور ڈرا (اپنے رب سے).*
* یعنی خیر کے کاموں میں خرچ کرے گا اور محارم سے بچے گا۔

(6) اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا.*
* یا اچھے صلے کی تصدیق کرے گا، یعنی اس بات پر یقین رکھے گا کہ انفاق اور تقویٰ کا اللہ کی طرف سے عمدہ صلہ ملے گا۔

(7) تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے.*
* يُسْرَى کا مطلب نیکی اور الْخَصْلَةُ الْحُسْنَى ہے۔ یعنی ہم اس کو نیکی واطاعت کی توفیق دیتے اور ان کو اس کے لئے آسان کر دیتے ہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہوں نے چھ غلام آزاد کیے، جنہیں اہل مکہ مسلمان ہونے کی وجہ سے سخت اذیت دیتے تھے۔ ( فتح القدیر ) ۔

(8) لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی.*
* یعنی اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرے گا اور اللہ کے حکم سے بے پرواہی، کرے گا۔ - یا آخرت کی جزا اور حساب کتاب کا انکار کرے گا۔

(9) اور نیک بات کی تکذیب کی.*
* یا آخرت کی جزا اور حساب کتاب کا انکار کرے گا۔-

(10) تو ہم بھی اس کی تنگی ومشکل کے سامان میسر کر دیں گے.*
* عُسْرَى( تنگی ) سےمراد کفر ومعصیت اور طریق شر ہے۔ یعنی ہم اس کے لئے نافرمانی کا راستہ آسان کر دیں گے، جس سے اس کے لئے خیر وسعادت کے راستے مشکل ہو جائیں گے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ جو خیر ورشد کا راستہ اپناتا ہے، اس کے صلے میں اللہ اسے خیر کی توفیق سے نوازتا ہے اور جو شر ومعصیت کو اختیار کرتا ہے، اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑدیتا ہے اور یہ اس تقدیر کے مطابق ہی ہوتا ہے جو اللہ نے اپنے علم سے لکھ رکھی ہے۔ ( ابن کثیر ) یہ مضمون حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا تم عمل کرو، ہر شخص جس کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لئے آسان کر دیا جاتا ہے، جو اہل سعادت سے ہوتا ہے، اسے اہل سعادت والے عمل کی توفیق دے دی جاتی ہے اور جو اہل شقاوت سے ہوتا ہے، اس کے لئے اہل شقاوت والے عمل آسان کر دیئے جاتے ہیں۔ ( صحيح البخاري، تفسير سورة الليل )

(11) اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا.*
* یعنی جب جہنم میں گرے گا تو یہ مال، جسے وہ خرچ نہیں کرتا تھا، کچھ کام نہ آئے گا۔

(12) بیشک راه دکھا دینا ہمارے ذمہ ہے.*
* یعنی حلال اور حرام، خیر اور شر، ہدایت اور ضلالت کو واضح اور بیان کرنا ہمارے ذمے ہے۔ ( جو کہ ہم نے کر دیا ہے)

(13) اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے.*
* یعنی دونوں کے مالک ہم ہی ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں اس لئے ان دونوں کے یا ان میں سے کسی ایک کے طالب ہم سے ہی مانگیں کیوں کہ ہر طالب کو ہم ہی اپنی مشیت کے مطابق دیتے ہیں۔

(14) میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے.

(15) جس میں صرف وہی بدبخت داخل ہوگا.

(16) جس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منھ پھیر لیا.*
* اس آیت سے مرجئہ فرقے نے (جو ایک باطل فرقہ گزرا ہے) استدلال کیا ہے کہ جہنم میں صرف کافر ہی جائیں گے۔ کوئی مسلمان چاہے کتنا ہی گناہ گار ہو، وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ لیکن یہ عقیدہ ان نصوص صریحہ کے خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان بھی، جن کو اللہ تعالیٰ کچھ سزا دینا چاہے گا، کچھ عرصے کے لئے جہنم میں جائیں گے، پھر وہ نبی (صلى الله عليه وسلم) ، ملائکہ اور دیگر صالحین کی شفاعت سے نکال لئے جائیں گے، یہاں حصر کے انداز میں جو کہا گیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ جو لوگ پکے کافر اور نہایت بدبخت ہیں، جہنم دراصل ان ہی کے لئے بنائی گئی ہے، جس میں وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لئے داخل ہوں گے۔ اگر کچھ نافرمان قسم کے مسلمان جہنم میں جائیں گے تو وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لئے نہیں جائیں گے، بلکہ بطور سزا ان کا یہ دخول عارضی ہوگا۔ ( فتح القدیر )۔

(17) اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہو گا.
* یعنی جہنم سے دور رہے گا اور جنت میں داخل ہوگا۔

(18) جو پاکی حاصل کرنے کے لئے اپنا مال دیتا ہے.
* یعنی جو اپنا مال اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا نفس بھی اور اس کا مال بھی پاک ہو جائے۔

(19) کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو.*
* یعنی بدلہ اتارنے کے لیے خرچ نہ کرتا ہو۔

(20) بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ وبلند کی رضا چاہنے کے لئے.*
* بلکہ اخلاص سے اللہ کی رضا اور جنت میں اس کے دیدار کے لئے خرچ کرتا ہے۔

(21) یقیناً وه (اللہ بھی) عنقریب رضامند ہو جائے گا.*
* یا وہ راضی ہو جائے گا، یعنی جو شخص ان صفات کا حامل ہوگا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کی نعمتیں اور عزت وشرف عطا فرمائے گا، جس سے وہ راضی ہو جائے گا۔ اکثر مفسرین نے کہا ہے بلکہ بعض نے اجماع تک نقل کیا ہے کہ یہ آیات حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ تاہم معنی ومفہوم کے اعتبار سے یہ عام ہیں۔ جو بھی ان صفات عالیہ سے متصف ہوگا، وہ بارگاہ الٰہی میں ان کا مصداق قرار پائے گا۔

<     >