<     >  

95 - سورۂ تین ()

|

(1) قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی.

(2) اور طور سِینِین کی.*
* یہ وہی کوہ طور ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (عليه السلام) سے ہم کلام ہوا تھا۔

(3) اور اس امن والے شہر کی.*
* اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جس میں قتال کی اجازت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں جو اس میں داخل ہو جائے، اسے بھی امن حاصل ہو جاتا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دراصل تین مقامات کی قسم ہے، جن میں سے ہر ایک جگہ میں جلیل القدر، صاحب شریعت پیغمبر مبعوث ہوا۔ انجیر اور زیتون سے مراد وہ علاقہ ہے جہاں اس کی پیداوار ہے اور وہ ہے بیت المقدس، جہاں حضرت عیسیٰ (عليه السلام) پیغمبر بن کر ائے۔ طور سینا یا سینین پر حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو نبوت عطا کی گئی اور شہر مکہ میں سید الرسل حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی بعثت ہوئی۔ ابن کثیر ) ۔

(4) یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا.*
* یہ جواب قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس کا منہ نیچے کو جھکا ہوا ہے صرف انسان کو دراز قامت، سیدھا بنایا ہے جو اپنے ہاتھوں سے کھاتا پیتاہے۔ پھر اس کے اعضا کو نہایت تناسب کے ساتھ بنایا، ان میں جانوروں کی طرح بےڈھنگا پن نہیں ہے۔ ہر اہم عضو دو دو بنائے اور ان میں نہایت مناسب فاصلہ رکھا، پھر اس میں عقل وتدبر، فہم وحکمت اور سمع وبصر کی قوتیں ودیعت کیں، جو دراصل یہ انسان اللہ کی قدرت کا مظہر اور اس کا پر تو ہے۔ بعض علما نے اس حدیث کوبھی اسی معنی ومفہوم پر محمول کیا ہے، جس میں ہے کہ إِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ ( مسلم، كتاب البر والصلة والآداب ) اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت میں پیدا فرمایا انسان کی پیدائش میں ان تمام چیزوں کا اہتمام ہی احسن تقویم ہے، جس کا ذکر اللہ نے تین قسموں کے بعد فرمایا۔ (فتح القدیر)۔

(5) پھر اسے نیچوں سے نیچا کر دیا.*
* یہ اشارہ انسان کے ارذل عمر ( بہت زیادہ عمر ) کی طرف۔ جس میں جوانی اور قوت کے بعد بڑھاپا اور ضعف آجاتا ہے اور انسان کی عقل اور ذہن بچے کی طرح ہو جاتا ہے۔ بعض نے اس سے کردار کا وہ سفلہ پن لیا ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان انتہائی پست اور سانپ بچھو سے بھی زیادہ گیا گزرا ہو جاتا ہے اور بعض نے اس سے ذلت ورسوائی کا وہ عذاب مراد لیا ہے جو جہنم میں کافروں کے لئے ہے۔ گویا انسان اللہ اور رسول کی اطاعت سے انحراف کرکے اپنے کو احسن تقویم کے بلند رتبہ واعزاز سے گرا کر جہنم کی اسفل سافلین میں ڈال لیتا ہے۔

(6) لیکن جو لوگ ایمان ﻻئے اور (پھر) نیک عمل کیے تو ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا.*
* آیت ماقبل کے پہلے مفہوم کے اعتبار سے یہ جملہ مبینہ ہے، مومنوں کی کیفیت بیان کر رہا ہے اور دوسرے تیسرے مفہوم کے اعتبار سے، ماقبل کی تاکید ہے کہ اس انجام سے اس نے مومنوں کا استثنا کردیا۔ ( فتح القدیر ) ۔

(7) پس تجھے اب روز جزا کے جھٹلانے پر کون سی چیز آماده کرتی ہے.*
* یہ انسان سے خطاب ہے، زجر وتوبیخ کے لئے۔ کہ اللہ نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا اور وہ تجھے اس کے برعکس قعر مذلت میں بھی گرانے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے لئے دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔ اس کے بعد بھی تو قیامت اور جزا کا انکار کرتا ہے؟

(8) کیا اللہ تعالیٰ (سب) حاکموں کا حاکم نہیں ہے.*
* جو کسی پر ظلم نہیں کرتا اور اس کے عدل ہی کا یہ تقاضا ہے کہ وہ قیامت برپا کرے اور ان کی داد رسی کرے جن پر دنیا میں ظلم ہوا۔ پہلے گزر چکا ہے کہ ایک ضعیف حدیث میں اس کا یہ جواب دینا منقول ہے۔ بَلَى، وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ ) ( الترمذي ) ۔

<     >