اسلام - اسلام کا مختصر تعارف: قرآن کریم اور سنت نبوی کی روشنی میں ()

محمد بن عبد الله بن صالح السحيم

 

یہ اسلام کے مختصر تعارف پر مشتمل، ایک انتہائی اہم کتاب ہے جو اسلام کے اصول و تعلیمات اور محاسن کو اس کے اصلی مصادر یعنی قرآن کریم اور سنت نبوی کے سرچشمہ سے کشید کر کے واضح انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کے مخاطبین، احوال و ظروف اور زبان و بولی کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوصف، ہر مکلف مسلم و غیر مسلم افراد ہیں۔
اسلام - اسلام کا مختصر تعارف: قرآن کریم اور سنت نبوی کی روشنی میں

|

 اسلام

اسلام کا مختصر تعارف قرآن کریم اور سنت نبوی کی روشنی میں

یہ اسلام کے مختصر تعارف پر مشتمل ایک انتہائی اہم کتاب ہے جو اسلام کے اصول وتعلیمات اور محاسن کو اس کے اصلی مصادر یعنی قرآن کریم اور سنت نبوی کے سرچشمہ سے کشید کر کے واضح انداز میں پیش کرتی ہے،اس کتاب کے مخاطبین احوال و ظروف اور زبان و بولی کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ہر مکلف مسلم و غیر مسلم افراد ہیں۔

یہ قرآن کریم اور سنت نبوی سے ماخوذ دلائل سے آراستہ نسحہ ہے۔

 1- اسلام دنیا کے تمام لوگوں کے نام اللہ کا آخری و ابدی پیغام ہے۔

اسلام دنیا کے تمام لوگوں کے نام اللہ تعالی کا پیغام ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے، مگر لوگوں کی اکثریت بےعلم ہے۔سبا- 28اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:”آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں“۔الاعراف: 158اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر رسول آگیا ہے، پس تم ایمان ﻻؤ تاکہ تمہارے لیے بہتری ہو اور اگر تم کافر ہوگئے تو اللہ ہی کی ہے ہر وه چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت واﻻ ہے۔النساء: 170اسلام اللہ کا ابدی پیغام اور سلسلۂ نبوت و رسالت کا خاتمہ بھی ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور آخری نبی ہیں اور اللہ تعالی ہر چیز کا بخوبی جاننے واﻻ ہے.الاحزاب: 40

 2- اسلام کسی خاص جنس یا خاص قوم کا دین نہیں بلکہ دنیا کے تمام لوگوں کے لیے اللہ کا بھیجا ہوا دین ہے:

اسلام کسی خاص جنس یا خاص قوم کا دین نہیں بلکہ دنیا کے تمام لوگوں کے لیے اللہ کا بھیجا ہوا دین ہے اور قرآن کریم میں پہلی حکم اللہ تعالی کا یہ ارشاد ہے:

اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔

البقرہ: 21

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

اے لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلادیں۔

النساء: 1

اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

اے لوگو! اللہ تعالی نے تمہارے سر سے جاہلیت کی نخوت اور اس کا اپنے آبا واجداد پر فخر جتانے کی چادر اتار دی ہے، اب دو ہی قسم کے لوگ رہ گئے ہیں: پہلا، نیک، پرہیزگار اور اللہ تعالی کی نظر میں معزز اور دوسرا گناہ گار، بدبخت اور اللہ کی نظر میں کمترین، تمام ہی لوگ آدم کی اولاد ہیں اور اللہ تعالى نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا تھا, اللہ تعالی کا ارشاد ہے: اے لوگو! بے شک ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور باہمی تعارف کے لیے گروہوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا ہے، بے شک تم میں اللہ کے نزدیک وہی سب سے زیادہ عزت دار ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے، بے شک اللہ تعالی جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے۔ (الحجرات: 13)

ترمذی (3270) نے اس کی روایت کی ہے۔

آپ کو قرآن کریم اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے احکام و فرامین میں ایک بھی ایسا کوئی خاص قانون نہیں ملے گا جو کسی قوم یا گروہ کی نسل یا قومیت یا جنس کی رعایت کرتے ہوئے بنایا گیا ہو۔

 3- اسلام، اللہ کا وہ آخری پیغام ہے جو سابقہ انبیا و رسل علیہم السلام کے اپنی اپنی قوم کی طرف لائے ہوئے پیغامات کی تکمیل کے لیے آیا ہے۔

اسلام، اللہ کا وہ آخری پیغام ہے جو سابقہ انبیا و رسل علیہم السلام کے اپنی اپنی قوم کی طرف لائے ہوئے پیغامات کی تکمیل کے لیے آیا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

یقیناً ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف کی، اور ہم نے وحی کی ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اوﻻد پر اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی۔

النساء: 163

یہ دین جس کی وحی اللہ تعالی نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کی ہے وہی دین ہے جسے اللہ تعالی نے سابقہ تمام انبیا و رسل علیہم السلام کو دے کر بھیجا تھا، اور جس کا انہیں تاکید حکم دیا تھا, اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا، کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وه تو (ان) مشرکین پر گراں گزرتی ہے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنا برگزیده بناتا ہے اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وه اس کی صحیح ره نمائی کرتا ہے۔

الشوری: 13

یہ دین، جس کی اللہ تعالی نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف وحی کی ہے سابقہ کتب الہیہ جیسے تحریف سے پہلے کی تورات اور انجیل وغیرہ کی تصدیق کرتا ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے:

اور یہ کتاب جو ہم نے آپ کے پاس وحی کے طور پر بھیجی ہے یہ بالکل ٹھیک ہے جو کہ اپنے سے پہلی کتابوں کی بھی تصدیق کرتی ہے،اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے واﻻ خوب دیکھنے واﻻ ہے۔

فاطر: 31

 4- تمام انبیا علیہم السلام کا دین ایک ہی ہے، مگر ان کى شریعتیں مختلف ہیں۔

تمام انبیا علیہم السلام کا دین ایک ہی ہے مگر ان کى شریعتیں مختلف ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ ہے، اس لیے آپ ان کے آپس کے معاملات میں اسی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے ساتھ فیصلہ کیجیے، اس حق سے ہٹ کر ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ جائیے تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک دستور اور راه مقرر کردی ہے، اگر منظور مولیٰ ہوتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن اس کی چاہت ہے کہ جو تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے، تم نیکیوں کی طرف جلدی کرو، تم سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے، پھر وه تمہیں ہر وه چیز بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہتے ہو۔المائدہ: 48اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے:میں دنیا اور آخرت میں تمام لوگوں سے زیادہ عیسی بن مریم (علیہ السلام) کا حق دار ہوں، تمام انبیا علاتی بھائی ہیں، ان سب کی مائیں الگ الگ ہیں لیکن سب کا دین ایک ہی ہے۔بخاری (3443) نے اس کی روایت کی ہے۔

 5- دوسرے تمام انبیا و رسل جیسے نوح، ابراہیم، موسی، سلیمان، داود اور عیسی علیہم السلام کی طرح اسلام بھی اس بات پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے کہ رب صرف اور صرف اللہ ہے، جو پوری کائنات کا خالق، رازق، زندگی دینے والا، مارنے والا اور پوری کائنات کا مالک و مختار ہے، وہی ہے جو تمام معاملات کا مدبر اور بے انتہا کرم گر، نہایت رحم والا ہے۔

دوسرے تمام انبیا و رسل جیسے نوح، ابراہیم، موسی، سلیمان، داود اور عیسی علیہم السلام کی طرح اسلام بھی اس بات پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے کہ رب صرف اور صرف اللہ ہے۔ جو پوری کائنات کا خالق، رازق، زندگی دینے والا، مارنے والا اور پوری کائنات کا مالک و مختار ہے، وہی ہے جو تمام معاملات کا مدبر اور بے انتہا کرم گر، نہایت رحم والا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:لوگو! تم پر جو انعامات اللہ تعالیٰ نے کیے ہیں انہیں یاد کرو، کیا اللہ کے سوا اور کوئی بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے روزی پہنچائے؟ اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، پس تم کہاں الٹے جاتے ہو؟فاطر: 3اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:آپ کہیے کہ وه کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وه کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وه کون ہے جو زنده کو مرده سے نکالتا ہے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ اللہ تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے۔یونس: 31اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:کیا وه جو مخلوق کی اول دفعہ پیدائش کرتا ہے پھر اسے لوٹائے گا اور جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزیاں دے رہا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ کہہ دیجیے کہ اگر سچے ہو تو اپنی دلیل ﻻؤ۔النمل: 64تمام انبیا و رسل علیہم السلام کو صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دینے کی خاطر مبعوث کیا گیا تھا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ﺛابت ہوگئی، پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟النحل: 36اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔الانبیاء: 25چنانچہ اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا:ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا توانہوں نے کہا: اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں، مجھ کو تمہارے لیے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔الاعراف: 59جیسا کہ اللہ تعالی نے خبر دی ہے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا:اور ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اوراس سے ڈرتے رہو اگر تم میں دانائی ہے تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔العنکبوت: 16سیدنا صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا جیسا کہ اللہ تعالی نے خبر دی ہے:اور ہم نے ﺛمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو بھیجا, انہوں نے فرمایا: اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا سچا معبود نہیں، تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی ہے، یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لیے دلیل ہے، سو اس کو چھوڑ دو کہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا کہ کہیں تم کو دردناک عذاب آپکڑے۔الاعراف: 73اسی طرح سیدنا شعیب علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے بھی اپنی قوم سے کہا:اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا حقیقی معبود نہیں، تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے، پس تم ناپ اور تول پورا پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے مت دو اور روئے زمین میں اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی فساد مت پھیلاو، یہ تمہارے لیے نافع ہے اگر تم تصدیق کرو۔الاعراف: 85پہلی بات جو اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ السلام سے کی، یہ تھی:اور میں نے تجھے منتخب کر لیا اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سن۔ (13)بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا عبادت کے ﻻئق اور کوئی نہیں،پس تو میری ہی عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔ (14)طہ: 13-14اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ السلام کے بارے میں بتاتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے یہ کہہ کر اللہ تعالی کی پناہ مانگی:موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں ہر اس تکبر کرنے والے شخص (کی برائی) سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔غافر: 27اللہ تعالی نے سیدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا:یقین مانو! میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے، تم سب اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راه ہے۔سورۂ آل عمران: 51سیدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں ہی خبر دیتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے یہ بھی کہا:اے بنو اسرائیل! تم سب لوگ بس اسی اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی، بے شک جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔المائدہ: 72بلکہ تورات اور انجیل میں بھی اس بات کی سخت تاکید آئی ہوئی ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے، جیسا کہ سفر تثنیہ میں سیدنا موسی علیہ السلام کا یہ قول اب بھی موجود ہے:سن لے اے اسرائیل!رب ہمارا معبود صرف ایک ہے!انجیل مرقص میں توحید کی ڈگر پر چلتے رہنے کی تاکید ان الفاظ میں آئی ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام نے فرمایا:اولین وصیت یہ ہے : سن لے اے اسرائیل! ہمارا رب ہمارا معبود صرف ایک ہے۔اللہ تعالی نے اس بات کی پوری وضاحت فرما دی ہے کہ تمام انبیا و رسل علیہم السلام جس مہم اور مشن پر مبعوث کیے گئے تھے وہ صرف اور صرف دعوت توحید تھی، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:ہم نے ہر امت میں ایک نہ ایک رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو،پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ﺛابت ہوگئی۔النحل: 36اللہ تعالی کا فرمان ہے:آپ کہہ دیجئے! بھلا دیکھو تو کہ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا ٹکڑا بنایا ہے یا آسمانوں میں ان کا کون سا حصہ ہے؟ اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے ہی کی کوئی کتاب یا کوئی علم ہی جو نقل کیا جاتا ہو، میرے پاس ﻻؤ۔الاحقاف: 4شیخ عبد اللہ بن ناصر السعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:معلوم یہ ہوا کہ مشرکین اپنے شرک پر بحث و جدال کا جو بازار گرم کیے ہوئے تھے وہ بے سر و پا اور بے بنیاد تھی، وہ تو بس جھوٹے گمانوں، بودی رایوں اور بگڑی ہوئی عقلوں پر تکیہ کیے ہوئے تھے، اگر آپ ان کے احوال و علوم کا معروضی مطالعہ کریں گے، ان کی کارستانیوں اور اعمال کا جائزہ لیں گے اور ان لوگوں کے حالات زندگی پر نظر ڈالیں گے جنہوں نے بتوں کی پوجا کرتے ہوئے اپنی عمریں گزار دیں تو آپ کو ان کی عقلوں کے فساد و بگاڑ کا آسانی سے پتہ چل جائے گا،کیا اللہ کے علاوہ وہ جن معبودوں کی پوجا کرتے تھے انہوں نے ان کو دنیا اور آخرت میں ذرا بھی فائدہ پہنچایا؟ ہرگز نہیں اور بالکل نہیں۔تیسیر الکریم الرحمان: 779

 6- صرف اور صرف اللہ تعالی ہی خالق ہے اور بس وہی ہر قسم کی عبادت کا حق دار ہے،اس کے ساتھ کسی اور کی عبادت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

صرف اور صرف اللہ تعالی ہی اس بات کا مستحق ہے کہ صرف اسى کى عبادت کى جائے اور اس کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کى جائے اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، تاکہ تم پرہیزگار بن سکو۔ (21)جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کرکے تمہیں روزی دی، خبردار! باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو۔ (22)البقرہ: 21-22پس جس نے ہمیں اور ہم سے پہلے کی نسلوں کو پیدا کیا، زمین کو ہمارے لیے فرش بنایا اور آسمان سے بارش کی صورت میں پانی برسا کر اس سے پھل پیدا کرکے ہماری روزی کا سامان کیا تو ظاہر ہے کہ صرف وہی ہر طرح کی عبادت کا حق دار ہوگا، وہ کہتا ہے:لوگو! تم پر جو انعامات اللہ تعالیٰ نے کیے ہیں، انہیں یاد کرو، کیا اللہ کے سوا اور کوئی بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے روزی پہنچائے؟ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، پس تم کہاں الٹے جاتے ہو؟فاطر: 3پس جو پیدا کرتا اور روزی دیتا ہے صرف وہی عبادت کا مستحق ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا رب! اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں، ہر چیز کا پیدا کرنے واﻻ ہے، تو تم اسی کی عبادت کرو اور وه ہر چیز کا کارساز ہے۔الانعام: 102ہر وہ شخص یا چیز جس کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے وہ کسی بھی حال میں عبادت کا حق دار نہیں ہے کیونکہ وہ آسمانوں اور زمین کے ایک ذرے کا بھی مالک نہیں ہے، نہ ہی کسی چیز میں اللہ کا شریک کار اور معین و مددگار ہے،پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اسے بھی اللہ کے ساتھ پکارا جائے یا اس کا ساجھی و شریک کار تصور کیا جائے؟ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:کہہ دیجیے! کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے (سب) کو پکار لو، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمین میں سے ایک ذره کا اختیار ہے نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔سبا: 22وہ تو صرف اور صرف اللہ ہے جس نے ان تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو عدم سے وجود بخشا ہے اور ان کا وجود اللہ تعالی کے وجود اور اس کی ربوبیت والوہیت کا شاہد ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب انسان بن کر (چلتے پھرتے) پھیل رہے ہو (20)۔اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ، اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی، یقیناً غور وفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں (21)۔اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی) ہے، دانش مندوں کے لیے اس میں یقیناً بڑی نشانیاں ہیں (22)۔اور (بھی) اس کی (قدرت کی) نشانی تمہاری راتوں اور دن کی نیند میں ہے اور اس کے فضل (یعنی روزی) کو تمہارا تلاش کرنا بھی ہے، جو لوگ (کان لگا کر) سننے کے عادی ہیں ان کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں (23)۔اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ (بھی) ہے کہ وه تمہیں ڈرانے اور امیدوار بنانے کے لیے بجلیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس مرده زمین کو زنده کر دیتا ہے، اس میں (بھی) عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں (24)۔اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وه تمہیں آواز دے گا صرف ایک بار کی آواز کے ساتھ ہی تم سب زمین سے نکل آؤ گے (25)۔اور زمین وآسمان کی ہر چیز اس کی ملکیت ہےاور ہر ایک اس کے فرمان کے ماتحت ہے (26)۔اور وہی ہے جو تخلیق کا آغاز کرتا اور پھر اسے دوبارہ زندگی دیتا ہے اور دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے زیادہ آسان ہے (27)۔الروم: 20-27نمرود نے اللہ تعالی کے وجود کا انکار کیا تو جیسا کہ اللہ نے خبر دی ہے، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس سے کہا:ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ تعالی سورج کو مشرق سے اگاتا ہے، تم ایسا کرو کہ اسے مغرب سے اگا کر دکھا دو تو کافر یہ سن کر مبہوت رہ گیا اور اللہ تعالی ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔البقرہ: 258اسی طرح، ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو بس اللہ ہے جس نے مجھے ہدایت دی ہے، وہی مجھے کھلاتا پلاتا ہے، جب بیمار ہوتا ہوں تو شفا وہی عطا کرتا ہے اور وہی جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ زندہ کرے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے خبر دی ہے، انہوں نے کہا:جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے (78)۔وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے (79)۔اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے (80)۔اور وہی مجھے مار ڈالے گا، پھر زنده کردے گا (81)۔الشعراء: 78-81اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ السلام کے بارے میں خبر دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فرعون پر اللہ تعالی کے رب ہونے پر حجت تمام کرتے ہوئے کہا:جس نے ہر چیز کو تخلیق کا جامہ دیا اور پھر اسے استوار کیا۔طہ: 50آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے، سب کو اللہ تعالی نے انسان کے لیے مسخر کر دیا ہے اور اس پر اپنی نعمتوں کی بارش کر رکھی ہے، یہ سب کچھ اس لیے ہے تاکہ وہ صرف اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کفر نہ کرے۔ ارشاد الہی ہے:کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کو ہمارے کام میں لگا رکھا ہے اور تمہیں اپنی ﻇاہری و باطنی نعمتیں بھرپور دے رکھی ہیں، بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑا کرتے ہیں۔لقمان: 20ایک طرف اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو انسان کے لیے مسخر کر رکھا ہے تو دوسری طرف اسے اس کی ضرورت کی تمام چیزوں، جیسے کان، آنکھ اور دل، سے لیس کرکے پیدا کیا ہے تاکہ وہ فائدہ بخش علم حاصل کرے جو اسے اس کے حقیقی آقا و خالق کا پتہ بتائے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ہے کہ اس وقت تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے، اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے کہ تم شکر گزاری کرو۔النحل: 78

پس ثابت ہوا کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمام جہانوں کو پیدا کیا ہے اور انسان کو بھی اور اس کوتیار کیا ان تمام اعضا وجوارح اور قوتوں کے ساتھ جن کى اسے حاجت ہے اوراسے ہر وہ سامان بھی مہیا کیا ہے جو اس کا اللہ کی عبادت کرنے اور زمین کو آباد کرنے میں معاون و مددگار بن سکتا ہے، مزید براں آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو اس کے لیے مسخر بھی کر دیا ہے۔

اللہ تعالی نے ان عظیم مخلوقات کی تخلیق اور پیدائش کو اپنی الوہیت کو مستلزم ربوبیت پر دلیل بناتے ہوئے فرمایا ہے:آپ کہیے کہ وه کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وه کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وه کون ہے جو زنده کو مرده سے نکالتا ہے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ اللہ، تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے۔یونس: 31اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:آپ کہہ دیجیے کہ بھلا دیکھو تو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا ٹکڑا بنایا ہے یا آسمانوں میں ان کا کون سا حصہ ہے؟ اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے ہی کی کوئی کتاب یا کوئی علم ہی جو نقل کیا جاتا ہو میرے پاس ﻻؤ۔الاحقاف: 4اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کا بنایا ہے، زمین پر گہرائی تک دھنسے ہوئے پہاڑ ڈال دیے ہیں تاکہ وہ تمہیں لے کر پھسل نہ جائے اور اس میں ہر طرح کے چوپائے پیدا کرکے پھیلا دیے ہیں اور آسمان سے بارش برسا کر اس میں ہر چیز کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے، یہ ہے اللہ کی تخلیق، اب ذرا مجھے دکھا دو کہ اس اللہ کے علاوہ جن کو تم پوجتے ہو انہوں نے کیا کچھ پیدا کیا ہے؟ بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔لقمان: 10-11اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:کیا یہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟ (35)۔کیا انہوں نے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں (36)۔یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا (ان خزانوں کے) یہ داروغہ ہیں (37)۔الطور: 35-37شیخ ناصر السعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:یہ ان کے خلاف ایسى چیز سے دلیل پکڑنا ہے, جس کے پیش ہونے کے بعد ان کے سامنے صرف دو ہی صورتیں رہ جاتی ہیں: ایک یہ کہ وہ حق کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں اور دوسری یہ کہ عقل اور دین کے دائرے سے نکل جائیں۔تفسیر ابن سعدی: 816

 7- کائنات کی ہر چیز کا,خواہ ہم اسے دیکھ سکیں یا نہ دیکھ سکیں, خالق صرف اللہ ہے اور اس کے سوا جو کچھ بھی ہے مخلوق ہے اور اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے۔

کائنات کی ہر چیز کا، خواہ ہم اسے دیکھ سکیں یا نہ دیکھ سکیں, خالق صرف اللہ ہے اور اس کے سوا جو کچھ بھی ہے مخلوق ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:آپ پوچھیے کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ کہہ دیجیے کہ اللہ ہے،یہ بھی کہہ دیجیے کہ کیا تم پھر بھی اس کے سوا اوروں کو حمایتی بنا رہے ہو جو خود اپنی جان کے بھی بھلے برے کا اختیار نہیں رکھتے، کہہ دیجیے کہ کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں؟ یا کیا اندھیریاں اور روشنی برابر ہو سکتی ہیں؟ کیا جنہیں یہ اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہیں انہوں نے بھی اللہ کی طرح مخلوق پیدا کی ہے کہ ان کی نظر میں پیدائش مشتبہ ہوگئی ہو، کہہ دیجیے کہ صرف اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق ہے وه اکیلا ہے اور زبردست غالب ہے۔(الرعد: 16)۔ اللہ تعالی نے مزید فرمایا ہے:اور وہ ان چیزوں کو بھی پیدا کرتا ہے جن کو تم جانتے بھی نہیں ہو۔النحل: 8اور اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے جیسا کہ اس کا فرمان ہے:وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا۔ وه (خوب) جانتا ہےاس چیز کو جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے اور جو آسمان سے نیچے آئے اور جو کچھ چڑھ کر اس میں جائے، اور جہاں کہیں تم ہو وه تمہارے ساتھ ہے اور جو تم کر رہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے۔الحدید: 4اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کو (صرف) چھ دن میں پیدا کر دیا اور ہمیں تھکان نے چھوا تک نہیں۔ق: 38

 8- ملکیت، تخلیق، تدبیر اور عبادت میں اللہ تعالی کا کوئی شریک نہیں ہے۔

ملکیت، تخلیق، تدبیر اور عبادت میں اللہ تعالی کا کوئی شریک و ساجھی نہیں ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:آپ کہہ دیجیے کہ بھلا دیکھو تو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا ٹکڑا بنایا ہے یا آسمانوں میں ان کا کون سا حصہ ہے؟ اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے ہی کی کوئی کتاب یا کوئی علم ہی جو نقل کیا جاتا ہو میرے پاس ﻻؤ۔الاحقاف: 4شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:یعنی جنہوں نے اللہ تعالی کے ساتھ ان گنت اوثان اور بتوں کو شریک و ساجھی بنا رکھا ہے، آپ ان سے کہیے کہ ان کے ہاتھوں میں نفع ونقصان، موت وحیات اور بعث ونشور کا ایک ذرہ بھی نہیں ہے،آپ ان کے اوثان اور بتوں کی بے بسی اور لاچاری کو ان کے سامنے واضح کرتے ہوئے اور یہ بات اچھی طرح جتلاتے ہوئے کہ وہ کسی بھی طرح کی عبادت کے ذرہ برابر بھی حق دار نہیں ہیں، ان سے کہیے: (مجھے دکھاؤ تو سہی انہوں نے زمین کا کون سا ٹکڑا پیدا کیا ہے یا آسمانوں کی تخلیق میں انہوں نے کون سی شراکت داری نبھائی ہے؟)۔ کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کا کوئی ٹکڑا پیدا کیا ہے؟ کیا انہوں نے پہاڑوں کو پیدا کیا ہے؟ کیا انہوں نے ہی نہریں جاری کی ہیں؟ کیا انہوں نے کوئی جانور پیدا کیا ہے؟ کیا انہوں نے ہی درختوں کو پیدا کیا ہے؟ کیا ان چیزوں کی تخلیق میں ان کی کوئی معاونت و شراکت شامل تھی؟ ان میں سے کسی بھی سوال کا جواب وہ ہاں میں نہیں دے سکیں گے اور دوسروں کا معاملہ تو رہنے دیجیے وہ خود اس بات کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے کہ ان میں سے کسی بھی چیز کی تخلیق میں ان کے کسی بھی بت یا دیوتا کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ لہذا یہ اس بات کی قطعی عقلی دلیل ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی بھی چیز کی عبادت کرنا باطل ہے۔پھر اس بات کے لئے عقلى دلیل کی نفی کرتے ہوئے فرمایا: {اس سے پہلے کی کوئی کتاب ہی لے آؤ}, ایسى کتاب جو شرک کی دعوت دیتی ہو {یا کوئی علم ہی جو نقل کیا جاتا ہو} رسولوں سے موروثی طور پر, جو شرک کرنے کا حکم دیتا ہو۔ ظاہر ہے وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے کہ کسی نبی یا رسول کی طرف سے کوئی ایسی دلیل پیش کر دیں جو شرک کو ثابت کرتی ہو، بلکہ ہمارا پختہ ایمان و یقین ہے کہ تمام انبیا و رسل علیہم الصلاۃ والسلام نے اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی، اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے منع فرمایا اور یہی وہ سب سے بڑا علم ہے جو ان سے منقول و ماثور ہے۔تفسیر ابن سعدی: 779اللہ تعالی ہی پوری کائنات کا اکیلا مالک و مختار ہے اور اس میں اللہ کا کوئی شریک و ساجھی نہیں ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:آپ کہہ دیجیے اے اللہ! اے تمام جہانوں کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اورجسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔آل عمران: 26اللہ تعالی نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کے دن پوری سلطنت بس اسی کے ہاتھ میں ہوگی:جس دن سب لوگ ﻇاہر ہو جائیں گے، ان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیده نہ ہو گی، آج کس کی بادشاہی ہے؟ فقط اللہ واحد و قہار کی۔غافر: 16سلطنت، خلفت، تدبیر اور عبادت میں اللہ تعالی کا کوئی شریک نہیں، اس کا فرمان ہے:اور یہ کہہ دیجیے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اوﻻد رکھتا ہے نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک وساجھی رکھتا ہے اور نہ وه کمزور ہے کہ اسے کسی حمایتی کی ضرورت ہو اور تو اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتا ره۔الاسراء: 111اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اسی اللہ کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور وه کوئی اوﻻد نہیں رکھتا، نہ اس کی سلطنت میں کوئی اس کا ساجھی ہے اور ہر چیز کو اس نے پیدا کرکے ایک مناسب اندازه ٹھہرا دیا ہے۔الفرقان: 2تو معلوم ہوا کہ بس وہی آقا ہے اور اس کے علاوہ جو بھی ہے، اس کا غلام ہے۔ بس وہی خالق ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے مخلوق ہے، وہی سارے معاملات کی تدبیر کرتا ہے، اب جس کی یہ شان ہے اسى کا یہ حق بنتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اسی سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنا نقص عقل و خرد ہے اور ایسا شرک ہے جو دنیا اور آخرت دونوں کو بگاڑ کر رکھ دینے والا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:یہ کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے،تم کہو بلکہ صحیح راه پر ملت ابراہیمی والے ہیں اور ابراہیم خالص اللہ کے پرستار تھے اور مشرک نہ تھے۔البقرہ: 135اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:دین کے اعتبار سے اس سے اچھا کون ہے جو اپنے کو اللہ کے تابع کر دے اور ہو بھی نیکو کار، ساتھ ہی یکسوئی والے ابراہیم کے دین کی پیروی کر رہا ہو اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دوست بنا لیا ہے۔النساء: 125اللہ تعالی نے اس بات کی بھی وضاحت فرما دی ہے کہ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی ملت کے علاوہ کسی اور ملت کی پیروی وہی کرے گا جو خودفریبی میں مبتلا ہوگا،چنانچہ وہ فرماتا ہے:دین ابراہیمی سے وہی بے رغبتی کرے گا جو محض بےوقوف ہو، ہم نے تو اسے دنیا میں بھی برگزیده کیا تھا اور آخرت میں بھی وه نیکوکاروں میں سے ہے۔البقرہ: 130

 9- اللہ تعالی نے کسی کو جنا، نہ ہی وہ جنا گیا، نہ اس کا کوئی ہمسر ہے اور نہ ہی اس جیسا کوئی ہے۔

اللہ تعالی نے کسی کو جنا، نہ ہی وہ جنا گیا، نہ اس کا کوئی ہمسر ہے اور نہ ہی اس جیسا کوئی ہے۔ وہ کہتا ہے:آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے (1)۔اللہ بے نیاز ہے (2)۔نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا (3)۔اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے (4)۔الاخلاص: 1-4اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:آسمانوں کا زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب وہی ہے تو اسی کی بندگی کر اور اس کی عبادت پر جم جا، کیا تیرے علم میں اس کا ہمنام و ہم پلہ کوئی اور بھی ہے؟مریم: 65اس نے مزید فرمایا:وه آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے واﻻ ہے، اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس کے جوڑے بنادیے ہیں اور چوپایوں کے جوڑے بنائے ہیں، تمہیں وه اس میں پھیلا رہا ہے، اس جیسی کوئی چیز نہیں، وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے۔الشوری: 11

 10- اللہ تعالی کسی چیز میں حلول نہیں کرتا اور نہ ہی اپنی مخلوقات میں سے کسی چیز میں مجسم ہوتا ہے۔

اللہ تعالی کسی چیز میں حلول نہیں کرتا، نہ ہی اپنی مخلوقات میں سے کسی چیز میں مجسم ہوتا ہے اور نہ ہی کسی چیز کے ساتھ متحد ہوتا ہے، کیونکہ بس اللہ ہی خالق ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے مخلوق ہے، اسی کو بقائے دوام حاصل ہے اور اس کے علاوہ ہر چیز کا مقدر فنا ہے، ہر چیز اسی کی ملکیت ہے اور وہ ہر چیز کا مالک ہے،اس لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ اپنی مخلوقات میں سے کسی مخلوق میں حلول کرے اور کوئی مخلوق اس کے اندر حلول کرے, اللہ تعالی ہر چیز سے بڑا ہے، ہر چیز سے عظیم ہے, جو لوگ اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ اللہ تعالی نے مسیح علیہ السلام کے اندر حلول کیا تھا ان پر سخت نکیر کرتے ہوئے وہ خود فرماتا ہے:یقیناً وه لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے، آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم اور اس کی والده اور روئے زمین کے سب لوگوں کو ہلاک کر دینا چاہے تو کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر کچھ بھی اختیار رکھتا ہو؟ آسمانوں وزمین اور دونوں کے درمیان کا کل ملک اللہ تعالیٰ ہی کا ہے، وه جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔المائدہ: 17اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اور مشرق و مغرب کا مالک اللہ ہی ہے، تم جدھر بھی منھ کرو ادھر ہی اللہ کا منھ ہے، اللہ تعالیٰ کشادگی اور وسعت واﻻ اور بڑے علم واﻻ ہے (115)۔یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اوﻻد ہے، (نہیں بلکہ) وه پاک ہے، زمین اور آسمانوں کی تمام مخلوق اس کی ملکیت میں ہے اور ہر ایک اس کافرمانبردار ہے (116)۔وه زمین اور آسمانوں کا ابتداءً پیدا کرنے واﻻ ہے، وه جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا بس وه وہیں ہوجاتا ہے (117)۔البقرہ: 115-117اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:وہ کہتے ہیں کہ رحمان (اللہ) نے اولاد بنائی ہے (88)۔یقیناً تم بہت بری اور بھاری چیز ﻻئے ہو (89)۔قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزے ریزے ہو جائیں (90)۔کہ انہوں نے رحمان (اللہ) کی اولاد ہونے کا دعوی کیا ہے (91)۔شان رحمٰن کے ﻻئق نہیں کہ وه اوﻻد رکھے (92)۔آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں (93)۔ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو پوری طرح گن بھی رکھا ہے (94)۔یہ سب کے سب قیامت کے دن تنہا تنہا اس کے پاس آنے والے ہیں (95)۔مریم: 88-95اللہ تعالی کا فرمان ہے:اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔البقرہ: 255تو جس کی یہ نرالی شان ہو اور جس کی مخلوق اس قدر کمتر ہو وہ ان میں سے کسی کے اندر کیسے حلول کر سکتا ہے؟ یا ان میں سے کسی کو کیسے اپنی اولاد بنا سکتا ہے؟ یا اپنے ساتھ کیسے کسی کو معبودیت میں شریک کر سکتا ہے؟

 11- اللہ تعالی اپنے بندوں پر بے انتہا کرم گر، بے حد رحم والا ہے، اس لیے اس نے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں۔

اللہ تعالی اپنے بندوں پر بے انتہا کرم گر، بے حد رحم والا ہے اور اس کی بےپایاں رحمت و رافت کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں، تاکہ ان کو کفر و شرک کے اندھیروں سے نکال کر توحید و ہدایت کی روشنی میں لے آئے،وہ فرماتا ہے:وه (اللہ) ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے تاکہ وه تمہیں اندھیروں سے نور کی طرف لے جائے، یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نرمی کرنے واﻻ اور رحم کرنے واﻻ ہے۔الحدید: 9اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔الانبیاء: 107اللہ تعالی نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ و سلم) کو حکم دیا کہ وہ تمام بندوں کو یہ بات بتا دیں کہ وہ (اللہ) بہت زیادہ بخشنے والا، بہت مہربان ہے، چناں چہ ارشاد فرمایا:میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے واﻻ اور بڑا ہی مہربان ہوں۔الحجر: 49اس کی بے انتہا رافت و رحمت ہی ہے کہ وہ اپنے بندوں کی مصیبتوں کو دور کرتا اور ان پر خیر و برکت نازل فرماتا ہے، وہ کہتا ہے:اور اگر تم کو اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو بجز اس کے اور کوئی اس کو دور کرنے واﻻ نہیں ہے اور اگر وه تم کو کوئی خیر پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کا کوئی ہٹانے واﻻ نہیں، وه اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نچھاور کردے اور وه بڑی مغفرت اور بڑی رحمت واﻻ ہے۔یونس: 107

 12- اللہ ہی وہ اکیلا رب رحیم ہے جو قیامت کے دن اپنی تمام مخلوقات کا انہیں ان کی قبروں سے زندہ کرکے اٹھانے کے بعد حساب کتاب لے گا اور ہر شخص کو اس کے اچھے یا برے عمل کا بدلہ دے گا، چناں چہ جس نے ایمان لانے کے بعد اچھے اعمال کیے ہوں گے، اس کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنت ہوگی اور جس نے کافر رہتے ہوئے برے اعمال کیے ہوں گے اس کے لیے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہوگا۔

اللہ ہی رب رحیم ہے وه اكيلا ہے, اور وہی ہے جو قیامت کے دن اپنی تمام مخلوقات کا انہیں ان کی قبروں سے زندہ کرکے اٹھانے کے بعد حساب کتاب لے گا اور ہر شخص کو اس کے اچھے یا برے عمل کا بدلہ دے گا، چنا نچہ جس نے ایمان لانے کے بعد اچھے اعمال کیے ہوں گے اس کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنت ہوگی اور جس نے کافر رہتے ہوئے برے اعمال کیے ہوں گے اس کے لیے قیامت کے دن بہت بڑا عذاب ہوگا، اللہ تعالی کا اپنی مخلوق کے ساتھ کمال عدل و انصاف اور کمال حکمت و رحمت ہی ہے کہ اس نے اس دنیا کو عمل کا گھر بنایا اور ایک ایسا دوسرا گھر بھی بنایا جہاں جزا و ثواب اور حساب کتاب ہوگا، تاکہ محسن اپنے احسان کا بدلہ پا لے اور بدکار, ظالم اور سرکش لوگ اپنی سرکشی اور ظلم کا انجام بد بھگت لیں، اب چونکہ بعض لوگوں کے لیے ان سب امور پر یقین کرنا محال لگتا ہے، اس لیے اللہ تعالی نے بہت ساری دلیلیں قائم کرکے انہیں یقین دلایا کہ موت کے بعد کی زندگی ایک اٹل حقیقت ہے جس میں, کوئی شک نہیں ہے، چنانچہ اس نے فرمایا:اس اللہ کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وه تر وتازه ہوکر ابھرنے لگتی ہے، جس نے اسے زنده کیا وہی یقینی طور پر مُردوں کو بھی زنده کرنے واﻻ ہے، بیشک وه ہر چیز پر قادر ہے۔فصلت: 39اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور بے نقشہ تھا۔ یہ ہم تم پر ﻇاہر کر دیتے ہیں اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں، پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں ﻻتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو، تم میں سے بعض تو وه ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دیے جاتے ہیں کہ وه ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائیں۔ تو دیکھتا ہے کہ زمین (بنجر اور) خشک ہے, پھر ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وه ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق افزا نباتات اگاتی ہے۔الحج: 5اس طرح، اللہ تعالی نے اس ایک آیت کریمہ میں تین ایسی عقلی دلیلیں پیش کی ہیں جو بعث و نشور پر دلالت کرتی ہیں:

1- انسان کو اللہ تعالی نے پہلی مرتبہ مٹی سے پیدا کیا ہے اور جو اسے مٹی سے پیدا کر سکا ہے، وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ جب وہ مٹی ہو جائے تو اسے دوبارہ زندگی کى طرف لوٹا دے۔

2- جو نطفے سے انسان کو پیدا کر سکتا ہے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ انسان کو اس کی موت کے بعد دوبارہ زندگی کى طرف لوٹا دے۔

3- جو زمین کو اس کی موت کے بعد بارش سے دوبارہ زندہ کر سکتا ہے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ انسانوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دے۔ اس آیت کریمہ میں قرآن کریم کی معجزہ نمائی کی بھی ایک عظیم دلیل موجود ہے کہ کس طرح ایک آیت نے جو زیادہ لمبی بھی نہیں ہے، ایک عظیم مسئلے کی تین تین واضح عقلی دلیلوں کو اپنے اندر بڑی جامعیت کے ساتھ سمیٹ لیا ہے۔

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:جس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ لیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوباره کریں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعده ہے اور ہم اسے ضرور کر کے (ہی) رہیں گے۔الانبیاء: 104اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اور اس نے ہمارے لئے مثال بیان کی اور اپنی (اصل) پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا کہ ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زنده کر سکتا ہے؟ (78)۔آپ جواب دیجیے کہ انہیں وه زنده کرے گا جس نے انہیں اول مرتبہ پیدا کیا ہے جو سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے واﻻ ہے۔یس: 78اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:کیا تمہارا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا آسمان کا؟ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا (27)۔اس کی بلندی اونچی کی اور پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا (28)۔اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو نکالا (29)۔اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا (30)۔اس میں سے پانی اور چاره نکالا (31)۔اور پہاڑوں کو مضبوطی کے ساتھ گاڑ دیا (32)۔النازعات: 27-32یوں اللہ تعالی نے واضح کر دیا کہ انسان کی تخلیق, آسمان و زمین اور ان دونوں میں جو کچھ ہے, کی تخلیق سے زیادہ مشکل نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر قادر ذات انسان کو دوبارہ جلا کر اٹھانے میں قطعی بے بس اور لاچار نہیں ہے۔

 13- اللہ تعالی نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور ان کے بعد ان کی ذریت پھلنے پھولنے اور بڑھنے لگی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سارے انسان اپنی اصل کے اعتبار سے برابر ہیں، ایک جنس کو دوسری جنس پر اور ایک قوم کو دوسری قوم پر تقوی کے سوا کسی اور چیز کى بنا پر کوئی فوقیت و برتری حاصل نہیں ہے۔

اللہ تعالی نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور ان کے بعد ان کی ذریت پھلنے پھولنے اور بڑھنے لگی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سارے انسان اپنی اصل کے اعتبار سے برابر ہیں،ایک جنس کو دوسری جنس پر اور ایک قوم کو دوسری قوم پر تقوی کے سوا کسی اور چیز میں کوئی فوقیت و برتری حاصل نہیں ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں، اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے، یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے۔الحجرات: 13اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفہ سے پیدا کیا ہے، پھر تمہیں جوڑے جوڑے (مرد و عورت) بنا دیا ہے، عورتوں کا حاملہ ہونا اور بچوں کا تولد ہونا سب اس کے علم سے ہی ہے، اور جو بڑی عمر واﻻ عمر دیا جائے اور جس کی عمر گھٹے وه سب کتاب میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ پر یہ بات بالکل آسان ہے۔فاطر: 11اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:وه وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا، پھر تمہیں بچہ کی صورت میں نکالتا ہے، پھر (تمہیں بڑھاتا ہے کہ) تم اپنی پوری قوت کو پہنچ جاؤ پھر بوڑھے ہو جاؤ، تم میں سے بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں، (وه تمہیں چھوڑ دیتا ہے) تاکہ تم مدت معین تک پہنچ جاؤ اور تاکہ تم سوچ سمجھ لو۔غافر: 67اللہ تعالی نے پوری وضاحت کے ساتھ فرما دیا ہے کہ اس نے سیدنا عیسی مسیح علیہ السلام کو اسی طرح امور کونیہ کے تحت پیدا کیا تھا جس طرح سیدنا آدم علیہ السلام کو مٹی سے امور کونیہ کے تحت پیدا کیا تھا، اس کا ارشاد ہے:اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال ہو بہو آدم (علیہ السلام) کی مثال ہے جسے مٹی سے بنا کر کے کہہ دیا کہ ہو جا! پس وه ہو گیا۔آل عمران: 59میں فقرہ نمبر: 2 کے تحت اس بات کا تذکرہ کر چکا ہوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ سارے انسان اصل کے اعتبار سے برابر ہیں، کسی کو کسی پر تقوی کے سوا کسی بھی وجہ سے کوئی فضل و شرف حاصل نہیں ہے۔

 14- ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔

ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:پس آپ یک سو ہو کر اپنا منھ دین کی طرف متوجہ کر دیں،اللہ تعالیٰ کی وه فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں ہے، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔(الروم: 30)۔ حنیفیت، دراصل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ملت کا نام ہے، اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے:پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں جو مشرکوں میں سے نہ تھے۔النحل: 123اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے، پھر یہ اس کے والدین ہیں جو اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے چوپایوں سے صحیح سالم چوپائے پیدا ہوتے ہیں،کیا تم ان میں سے کسى کو کن کٹا پاتے ہو.حدیث کو بیان کرنے کے بعد سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:اللہ تعالیٰ کی وه فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے میں کسی تبدیلی کا گزر نہیں ہے، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔الروم: 30صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4775اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آگاہ رہو! بے شک میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس نے مجھے جو کچھ آج سکھایا ہے, جسے تم نہیں جانتے, میں تمہیں وہ باتیں سکھا دوں, اور وہ یہ ہے کہ (وہ کہتا ہے) میں نے اپنے بندے کو جو بھی مال(شرعی طریقے سے) دے دیا ہے وہ اس کے لیے حلال ہے، اور بلا شبہ میں نے اپنے تمام بندوں کو دین اسلام اور راہ راست پر پیدا کیا, لیکن شیاطین نے میرے بندوں کے پاس آکر انہیں ان کے دین سے بہکا دیا، میں نے جو کچھ ان کے لیے حلال کیا تھا اسے شیاطین نے ان پر حرام کر دیا اور ان کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ ان معبودان باطلہ کو شریک ٹھہرائیں جن پر میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری ہے۔اسے امام مسلم نے اپنی صحیح (2865) میں روایت کیا ہے۔

 15- کوئی بھی انسان پیدائشی گناہ گار نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کسی دوسرے کے گناہ کا وارث و ذمہ دار ہوتا ہے:

کوئی بھی انسان پیدائشی گناہ گار نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کسی دوسرے کے گناہ کا وارث و ذمہ دار ہوتا ہے،اللہ تعالی نے ہمیں بتایا ہے کہ جب سیدنا آدم علیہ السلام سے حکم الہی کی خلاف ورزی صادر ہوئی اور انہوں نے اور ان کی بیوی حوا علیہما السلام نے شجر ممنوعہ سے کھا لیا تو دونوں اپنی اس کرنی پر نادم و تائب ہوئے اور اللہ تعالی سے مغفرت طلب کی تو اللہ تعالی نے ان پر بہترین کلمات الہام کیے، پھر جب انہوں نے ان کلمات کے ذریعے اللہ سے اپنے گناہ سے توبہ کی تو اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول کرتے ہوئے ان کو معاف کر دیا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور ہم نے کہہ دیا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں کہیں سے چاہو بافراغت کھاؤ پیو، لیکن اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ورنہ ﻇالم ہوجاؤ گے (35)۔لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں سے نکلوا ہی دیا اور ہم نے کہہ دیا کہ اتر جاؤ! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک وقت مقرر تک تمہارے لیے زمین میں ٹھہرنا اور فائده اٹھانا ہے (36)۔آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، بےشک وہی توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم کرنے واﻻ ہے (37)۔ہم نے کہا کہ تم سب یہاں سے چلے جاؤ، جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت پہنچے تو اس کی تابعداری کرنے والوں پر کوئی خوف وغم نہیں (38)۔البقرہ: 35-38چوں کہ اللہ تعالی نے سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ کو شرف قبولیت سے نواز دیا اس لیے وہ گناہ کے حامل ہی نہیں رہے،اس طرح ان کی ذریت بھی ان کے کیے گناہ کی وارث نہیں ہوگی کیوں کہ وہ تو توبہ سے زائل ہو چکا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ کوئی کسی کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:جو جیسا کرے گا ویسا بھرے گا اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تم سب کو تمہارے رب کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے اور پھر وہ تمہیں ان باتوں کی خبر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔الانعام: 164اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:جو راه راست حاصل کرلے وه خود اپنے ہی بھلے کے لیے راه یافتہ ہوتا ہے اور جو بھٹک جائے اس کا بوجھ اسی کے اوپر ہے، کوئی بوجھ واﻻ کسی اور کا بوجھ اپنے اوپر نہ ﻻدے گا اور ہماری سنت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب کرنے لگیں۔الاسراء: 15اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:کوئی بھی بوجھ اٹھانے واﻻ دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اگر کوئی گراں بار دوسرے کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے بلائے گا تو وه اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھائے گا گو قرابت دار ہی ہو، تو صرف ان ہی کو آگاه کرسکتا ہے جو غائبانہ طور پر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور جو بھی پاک ہوجائے وه اپنے ہی نفع کے لئے پاک ہوگا، لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے۔فاطر: 18

 16- انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ایک اللہ کی عبادت کرنا ہے:

انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ایک اللہ کی عبادت کرنا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔الذاریات: 56

 17- اسلام نے ہر انسان - خواہ وہ مرد ہو یا عورت - کو عزت بخشی ہے، اس کے تمام حقوق کی ضمانت دی ہے، اس کے تمام تر اختیارات اور اعمال و تصرفات کا ذمہ دار اسے ہی بنایا اور اس کے ہر اس عمل کی جواب دہی بھی اسی پر ڈالی ہے جس سے خود اس کو یا دوسرے کو نقصان پہنچے۔

اسلام نے انسان خواہ مرد ہو یا عورت کو شرف و عزت سے نوازا ہے، پس اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا تاکہ زمین کى آباد کارى میں وہ آ پس میں ایک دوسرے کا جانشیں بنتے رہیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں (ایسىقوم کو) بنانے والا ہوں, جو زمین کى آبادکاری میں آپس میں ایک دوسے کا جانشیں بنتى رہے گى۔البقرہ: 30یہ تکریم و شرف ہر انسان کو شامل ہے، اللہ کا فرمان ہے:یقیناً ہم نے اوﻻد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزه چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔الاسراء: 70اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا۔التین: 4اللہ تعالی نے انسان کو اس بات سے منع کیا ہے کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی جھوٹے معبود یا پیشوا یا مطاع کا تابعدار بن کر ذلیل و خوار ہو، اللہ تعالی کا فرمان ہے:بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں، کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر (جان لیں گے) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے واﻻ ہے (تو ہرگز شرک نہ کرتے) اس وقت کہ جب سارے پیشوا اپنے پیروکاروں سے پلو جھاڑ لیں گے عذاب کو اپنے سامنے دیکھیں گے اور عذاب سے بچنے کی ساری امیدیں ختم ہو جائیں گی۔البقرہ: 165- 166باطل کے پیروکاروں اور جھوٹے پیشواؤں کی بروز قیامت بننے والی حالت زار کا نقشہ کھینچتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا:یہ بڑے لوگ ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس ہدایت آچکنے کے بعد ہم نے تمہیں اس سے روکا تھا؟ (نہیں) بلکہ تم (خود) ہی مجرم تھے (32)۔(اس کے جواب میں) یہ کمزور لوگ ان متکبروں سے کہیں گے، (نہیں نہیں) بلکہ دن رات مکر و فریب سے ہمیں اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے شریک مقرر کرنے کا تمہارا حکم دینا ہماری بےایمانی کے باعﺚ ہوا، اور عذاب کو دیکھتے ہی سب کے سب دل میں پشیمان ہو رہے ہوں گے، اور کافروں کی گردنوں میں ہم طوق ڈال دیں گے،انہیں صرف ان کے کئے کرائے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا (33)۔سبا: 32- 33یہ اللہ تعالی کا کمال عدل و انصاف ہوگا کہ وہ قیامت کے دن گمراہ کرنے والے ائمہ و دعاۃ کے پلے خود ان کے گناہوں کا اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی باندھ دے گا جن کو وہ انجام بد کی پرواہ کیے بغیر گمراہ کرتے تھے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اسی کا نتیجہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ لوگ اپنے پورے بوجھ کے ساتھ ہی ان کے بوجھ کے بھی حصے دار ہوں گے جنہیں بے علمی سے گمراه کرتے رہے، دیکھو تو کیسا برا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔النحل: 25اسلام نے انسان کے تمام دنیوی و اخروی حقوق کی ضمانت دی ہے اور سب سے بڑے حقوق جن کی ضمانت اسلام نے دی اور جن کو لوگوں کے سامنے پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے یہ ہیں: انسانوں پر اللہ کا حق اور اللہ پر انسانوں کا حق۔سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سواری پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ اثنائے سفر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:اے معاذ! میں نے کہا: میں جاضر ہوں اور یہ میری خوش بختی ہے! آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی طرح تین بار کہنے کے بعد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: نہیں فرمایا: بندوں پر اللہ تعالی کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں۔ پھر تھوڑی دیر تک چلنے کے بعد فرمایا: اے معاذ! میں نے کہا: میں جاضر ہوں اور یہ میری خوش بختی ہے! فرمایا: کیا تم کو معلوم ہے کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ ان کا اللہ پر حق یہ ہے کہ اگر بندے ایسا کر لیں تو وہ انہیں عذاب نہ دے۔صحیح البخاری، حدیث نمبر: 6840اسلام نے انسان کو اس کے سچے دین، ذریت، مال و دولت اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:بے شک اللہ تعالی نے تم پر تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزت و آبرو کو اس دن، اس ماہ اور اس شہر کی حرمت کی طرح، حرام کر دیا ہے۔صحیح البخاری، حدیث نمبر: 6501اس منشور عظیم کا اعلان اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں فرمایا اور پھر حجۃ الوداع ہی کے دوران قربانی کے دن اسے دوہرایا اور اس پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید فرمائی۔اسلام نے انسان کو ہی اپنے سارے اختیارات، اعمال اور تصرفات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:ہم نے انسان کی برائی بھلائی کو اس کے گلے لگا دیا ہے اور بروز قیامت ہم اس کے سامنے اس کا نامۂ اعمال نکالیں گے جسے وہ اپنے سامنے کھلا ہوا پائے گا۔ لے! خود ہی اپنی کتاب آپ پڑھ لے، آج تو تو آپ ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔الاسراء: 13- 14یعنی اس نے اچھا برا جیسا بھی عمل کیا ہوگا اسے اللہ تعالی اسی کے گلے لگا دے گا، کسى دوسے کا کوئى ناطہ اس سے ہ ہوگا، پس کسی دوسرے انسان کے عمل کا حساب اس سے اور اس کے عمل کا حساب کسی دوسرے انسان سے نہیں لیا جائے گا، اللہ تعالی فرماتا ہے:اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے واﻻ ہے۔الانشقاق: 6اللہ تعالی کا فرمان ہے:جو شخص نیک کام کرے گا وه اپنے نفع کے لیے کرے گا اور جو برا کام کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے، اور آپ کا رب بندوں پر ﻇلم کرنے واﻻ نہیں۔فصلت: 46اسلام نے انسان پر اس کے ہر اس عمل کی جواب دہی بھی اسی پر ڈالی ہے جس سے خود اس کو یا دوسرے کو نقصان پہنچے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:اور جو گناه کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے اور اللہ بخوبی جاننے واﻻ اور پوری حکمت واﻻ ہے۔النساء: 111اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کر دیا۔المائدہ: 32اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص بھی ظلما قتل کر دیا جاتا ہے اس کے قتل کے گناہ کا ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے کو بھی جاتا ہے؛ کیوں کہ قتلِ ناحق کی ریت اسی نے ڈالی تھی۔صحیح مسلم: 5150

 18- اسلام نے مرد اور عورت کو عمل، ذمہ داری اور جزا و ثواب کے اعتبار سے برابر کا درجہ دیا ہے۔

اسلام نے مرد اور عورت کو عمل، ذمہ داری اور جزا و ثواب کے اعتبار سے برابر کا درجہ دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:جو ایمان واﻻ ہو مرد ہو یا عورت اور وه نیک اعمال کرے یقیناً ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا۔النساء: 124اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے، اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔النحل: 97اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:جس نے گناه کیا ہے اسے تو برابر برابر کا بدلہ ہی ہے اور جس نے نیکی کی ہے خواه وه مرد ہو یا عورت اور وه ایمان واﻻ ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے شمار روزی پائیں گے۔غافر: 40اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرمانبردار عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں، اپنی شرمگاه کی حفاﻇت کرنے والے مرد اور حفاﻇت کرنے والیاں، بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں، ان (سب کے) لیے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ﺛواب تیار کر رکھا ہے۔الاحزاب: 35

 19- اسلام نے عورت کو عزت و عظمت بخشی ہے اور اسے مرد کا ہی ایک حصہ قرار دیتے ہوئے اس کے تمام تر خرچ اور صرفے کا ذمہ دار اس مرد کو ٹھہرایا ہے جس میں اس کی صلاحیت ہو، چنانچھ بیٹی کے خرچ کا ذمہ باپ پر، ماں کے خرچ کا ذمہ صاحب استطاعت بالغ بیٹے پر اور بیوی کے خرچ کا ذمہ شوہر پر ڈالا ہے.

اسلام نے عورتوں کو مردوں کا ہم مثل او مشابہ مانا مانا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:بے شک عورتیں مردوں کے ہم مثل او مشابہ ہیں۔ترمذی (113) نے اس کی روایت کی ہے۔اسلام کی تکریم عورت کا ایک منظرنامہ یہ ہے کہ اس نے ماں کے تمام تر خرچوں اور صرفوں کا ذمہ صاحب استطاعت بیٹے پر ڈالا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:دینے والے کا ہاتھ برتر ہوتا ہے، خرچ کرنے کے معاملے میں اپنے اہل و عیال سے ابتدا کرو یعنی اپنے ماں باپ، بہن، بھائی اور پھر اُن لوگوں سے جو تمہارے قریب تر ہوں ۔اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔باذن الہی، والدین کے مقام و مرتبے کا تذکرہ، عنقریب فقرہ نمبر (29) کے تحت آئے گا۔اسلام کی تکریم عورت کا ایک منظرنامہ یہ بھی ہے کہ اس نے بیوی کی تمام تر ضروریات کی تکمیل کی ذمہ داری صاحب استطاعت شوہر پر ڈالی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہیے اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اسی میں سے (اپنی حسب حیثیت) دے، کسی شخص کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اسے دے رکھی ہے، اللہ تنگی کے بعد آسانی وفراغت بھی کر دے گا۔الطلاق: 7ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا: بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ اور اس کے چہرے پر مت مارو، اور اس کو کوئى قبیح بات نہ کہو ۔اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے شوہروں پر بیویوں کے بعض حقوق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:ان کے کھان پان اور پہناوے کی اچھائی کے ساتھ پوری ذمہ داری تم مردوں پر ہے۔صحیح مسلم۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مزید فرمایا:ایک انسان کے گناہ گار ہونے کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ان اشخاص کو برباد کر دے جن کے کھان پان کی ذمہ داری اس پر ہے۔اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔امام خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں:آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے "من يقوت، یعنى جن کے کھان پان کى ذمہ دارى اس پر ہے" کہنے سے مراد وہ شخص ہے جس پر مخصوص افراد کے نان و نفقہ کی ذمہ داری ہے، مفہوم اس کا یہ ہے کہ گویا آپ صلى اللہ علیہ وسلم صدقہ کرنے والے سے کہا: کہ اہل و عیال کے صرفہ سے جو زیادہ نہ ہو اس کو ثواب کى امید میں صدقہ نہ کرو، پس ، کیونکہ اس صورت میں تم نے ان کو ضائع وبرباد کردیا تو وہ گناہ کا کام ہوجائے گا)۔اسلام کی تکریم عورت کا ایک منظرنامہ یہ بھی ہے کہ اس نے بیٹی کی تمام تر ضروریات کی تکمیل کا ذمہ باپ پر ڈالا ہے، ارشاد ربانی ہے:مائیں اپنی اولادوں کو دو سال کامل دودھ پلائیں جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو اور جن کے بچے ہیں ان کے ذمے ان کا روٹی کپڑا ہے جو دستور کے مطابق ہو۔البقرہ: 233پس اللہ تعالی نے یہ واضح کر دیا کہ جس باپ کا بچہ ہے اسی کے ذمے اس بچے کا روٹی کپڑا دستور کے مطابق ہے، فرمان الہی ہے:"اگر وہ تمہارے بچوں کو دودھ پلائیں تو تم ان (عورتوں) کو ان کی مزدوری دے دو"۔الطلاق: 6یوں اللہ تعالی نے بچے کی رضاعت کی مزدوری کی ادائیگی باپ پر واجب کی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کی روٹی اور کپڑے کا ذمہ والد پر ہے اور ولد(بچے) کا اطلاق مذکر ومونث دونوں پر ہوتا ہے، آگے آنے والی حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ باپ پر بیوی بچوں کا خرچ اٹھانا واجب ہے:سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہند (رضی اللہ عنہا) نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا: ابو سفیان (رضی اللہ عنہ) کنجوس آدمی ہیں اس لیے مجھے ان کے مال میں سے تھوڑا بہت (چپکے سے) لینے کی ضرورت پڑ جاتی ہے (کیا یہ میرے لیے جائز ہے؟)آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:"نیک نیتی کے ساتھ اتنا لے سکتی ہو جو تمہارے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو"۔اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیٹیوں اور بہنوں پر خرچ کرنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:"جس نے دو یا تین بیٹیوں یا دو یا تین بہنوں کی ان کا گھر بس جانے تک پرورش و پرداخت کی یا پھر ایسا ہوا ہو کہ ان کى ذمہ دارى اٹھاتے ہوئے اس کو موت آگئى ہو تو میں اور وہ اس طرح ہیں۔ یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے شہادت اور بیچ والی انگلیوں سے اشارہ فرمایا"۔السلسلۃ الصحیحۃ: 296

 20- اسلامی نقطۂ نظر سے موت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان ہمیشہ کے لیے فنا ہو گیا، بلکہ اصل یہ ہے کہ موت دار عمل سے دار جزا کی طرف ایک سفر ہے،موت جسم اور روح دونوں کو آتی ہے اور روح کی موت کا مطلب ہے بدن سے اس کا جدا ہو جانا،روح ایک بار پھر قیامت کے دن بعث و نشر کے بعد اپنے اسی جسم میں عود کر آئے گی جس سے وہ دنیا میں نکلی تھی، روح موت کے بعد کسی دوسرے جسم میں منتقل نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی دوسرے جسم میں عمل تناسخ کے ذریعے داخل ہوتی ہے۔

موت کا مطلب ہمیشہ کے لیے فنا ہو جانا نہیں ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:کہہ دیجیے کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔السجدہ: 11موت جسم اور روح دونوں کو آتی ہے اور روح کی موت کا مطلب ہے: بدن سے اس کا جدا ہو جانا،روح ایک بار پھر قیامت کے دن بعث و نشر کے بعد اپنے اسی جسم میں عود کر آئے گی، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے، غور کرنے والوں کے لیے اس میں یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں۔الزمر: 42اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جب روح قبض کی جاتی ہے تو آنکھ اس کا پیچھا کرتی ہے"۔اسے امام مسلم (920) نے روایت کیا ہے۔موت کے بعد انسان عمل کے گھر سے جزا کے گھر میں منتقل ہو جاتا ہے، اللہ تعالی کہتا ہے:تم سب کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے، اللہ نے سچا وعده کر رکھا ہے، بے شک وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوباره بھی پیدا کرے گا تاکہ ایسے لوگوں کو جو کہ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام کیے، انصاف کے ساتھ جزا دے اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے واسطے کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور دردناک عذاب ہوگا ان کے کفر کی وجہ سے۔یونس: 4

روح موت کے بعد کسی دوسرے جسم میں منتقل نہیں ہوتی اور نہ عمل تناسخ سے گذرتی ہے ، بلکہ یہ ایک ایسا دعوی ہے جس کو عقل مانتی ہے اور نہ حس اور نہ ہی اس بے بنیاد عقیدے پر انبیا علیہم السلام سے منقول کوئی دلیل ملتی ہے۔

 21- اسلام انسان کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ ایمان کو اس کے تمام بڑے ارکان کے اقرار کے ساتھ قبول کرے جو یہ ہیں: اللہ پر ایمان لانا، فرشتوں پر ایمان لانا، اللہ کی نازل کی ہوئی تمام کتابوں پر ایمان لانا جیسے تورات، زبور اور انجیل ان میں تحریف کے وقوع سے پہلے اور قرآن کریم، تمام انبیا و رسل علیہم السلام پر اور ان کے سلسلۂ زریں کی آخری کڑی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانا اور آخرت کے دن پر ایمان لانا، یہاں پر یہ بات ذہن نشیں رہے کہ اگر دنیوی زندگی ہی منتہائے مقصود ہوتی تو زندگی اور وجود کا یہ کار عظیم کار عبث کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا، اور قضا و قدر پر ایمان لانا۔

اسلام انسان کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ ایمان کو اس کے تمام بڑے ارکان کے اقرار کے ساتھ قبول کرے جس کی تمام انبیا و رسل علیہم السلام نے دعوت دی ہے اور جو یہ ہیں:

پہلا رکن یہ ہے کہ اس بات پر ایمان لایا جائے کہ صرف اللہ تعالی ہی اس پوری کائنات کا رب، خالق، رازق اور مدبر ہے اور صرف وہی ہر قسم کی عبادت کا تنہا حق دار ہے، اس کے سوا کسی بھی چیز کی عبادت اور اس کے علاوہ ہر معبود باطل محض ہے، عبادت صرف اسی کو زیب دیتی ہے اور اس کے علاوہ کسی کی بھی عبادت کرنا صحیح اور درست نہیں ہے۔ فقرہ نمبر (8) میں اس مسئلے پر دلیلوں کا بیان گزر چکا ہے۔

اللہ تعالی نے اس عظیم ترین اصول کو قرآن عظیم کی بہت ساری الگ الگ آیتوں میں بیان کیا ہے، ان میں سے ایک اللہ تعالی کا یہ قول مبارک بھی ہے:رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔البقرہ: 285اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوٰة کی ادائیگی کرے، جب وعده کرے تب اسے پورا کرے، تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔البقرہ: 177اللہ تعالی نے ان اصولوں پر ایمان لانے کی دعوت دی ہے اور واضح کر دیا ہے کہ جو ان کے ساتھ کفر کرتا ہے، وہ بھٹک کر بہت دور جا گرتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں، ایمان لاؤ! جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وه تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا۔النساء: 136سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آیا ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص نمودار ہوا جس کے کپڑے نہایت سفید اور بال انتہائی سیاہ تھے، اس پر نہ سفر کے کوئی آثار دکھائی دے رہے تھے اور نہ ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا، (وہ آیا) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اس طرح بیٹھا کہ اس نے اپنے دونوں گھٹنے آپ کے گھٹنوں سے ملادیے اور اپنی ہتھیلیوں کو اپنی دونوں رانوں پر رکهـ لیا اور سوال کیا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ مجھے اسلام کے بارے میں بتلائیے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو اگر وہاں تک پہنچنے کی استطاعت ہے، اس نےکہا: آپ نے سچ فرمایا،(عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) ہمیں اس پر بڑا تعجب ہوا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کررہا ہے اور خود ہی آپ کی تصدیق کر رہا ہے، اس نے پھر سوال کیا: مجھے ایمان کے بارے میں بتلائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی نازل کردہ کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاؤ، نيز اچھی اور بری تقدیر (کے اللہ کی طرف سے ہونے) پر ایمان لاؤ، اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر پوچھا: مجھے احسان کے بارے میں بتلائیے،آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ ر ہے ہو، اگر یہ خيال نہیں کر سکتے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو تو(كم از كم یہ خیال رہے کہ) یقیناً وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔صحیح مسلم: 8اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سیدنا جبریل علیہ السلام اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور دین کے مراتب: اسلام، ایمان اور احسان، کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو بتایا اور پھر آپ نے اپنے اصحاب کو خبر دی کہ وہ جبریل علیہ السلام تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے، یہی ہے پیغام الہی اسلام جس کو سیدنا جبریل علیہ السلام اللہ تعالی سے لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے دنیا کے لوگوں تک پہنچایا، پھر آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی پوری پوری حفاظت کی اور آپ کے بعد اسے دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دیا۔دوسرا رکن فرشتوں پر ایمان لانا ہے، فرشتے عالم غیب سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو اللہ تعالی نے ایک خاص ہیئت و شکل دے کر پیدا کیا ہے اور عظیم ذمہ داریاں سونپی ہیں جن میں سب سے اہم ذمہ داری انبیا و رسل علیہم السلام تک اللہ تعالی کے پیغامات کی ترسیل و ابلاغ ہے۔ سب سے زیادہ معزز و مکرم فرشتہ سیدنا جبریل علیہ السلام ہیں، وہ انبیا و رسل علیہم السلام کے پاس اللہ تعالی کی وحی لے کر آتے تھے، اور اس بات کی دلیل اللہ تعالی کا یہ ارشاد مبارک ہے:وہی فرشتوں کو اپنی وحی دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اتارتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاه کر دو کہ میرے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں، پس تم مجھ سے ڈرو۔النحل: 2اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اور بے شک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے (192)۔اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے (193)۔آپ کے دل پر اترا ہے کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں (194)۔صاف عربی زبان میں ہے (195)۔اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکره ہے (196)۔الشعراء: 192- 196تیسرا رکن اللہ تعالی کی نازل کردہ کتابوں, جیسےتورات و انجیل اور زبور پر ان میں تحریف کے وقوع سے پہلے اور قرآن, پر ایمان لانا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں ایمان لاؤ! جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وه تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا۔النساء: 136اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:جس نے آپ پر حق کے ساتھ اس کتاب کو نازل فرمایا ہے جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے، اسی نے اس سے پہلے تورات اور انجیل کو اتارا تھا (3)۔اس سے پہلے لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر اور قرآن بھی اسی نے اتارا، جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے اور بدلہ لینے واﻻ ہے (4)۔آل عمران: 3- 4اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔البقرہ: 285اللہ تعالی کا فرمان ہے:آپ کہہ دیجیے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اوﻻد پر اتارا گیا اور جو کچھ موسیٰ وعیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیا (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے گئے ان سب پر ایمان ﻻئے، ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔آل عمران: 84چوتھا رکن: تمام انبیا و رسل علیہم السلام پر ایمان لانا ہے سو ان تمام پر ایمان لا نا واحب ہے، نیز اس بات کا اعتقاد رکھنا بھی واجب ہے کہ وہ سب اللہ تعالی کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے جنہوں نے اپنی اپنی امت تک اللہ تعالی کے پیغامات، اس کے دین اور اس کی شریعت کی ترسیل و ابلاغ کی ذمہ داری ادا کر دی ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اے مسلمانو! تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان ﻻئے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو چیز ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اوﻻد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیا (علیہم السلام) دیئے گئے، ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔البقرہ: 136اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔البقرہ: 285اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:آپ کہہ دیجیے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اوﻻد پر اتارا گیا اور جو کچھ موسیٰ وعیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیا (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے گئے، ان سب پر ایمان ﻻئے، ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔آل عمران: 84اس بات پر بھی ایمان لانا واجب ہے کہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم سب سے آخری نبی اور رسول ہیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب وحکمت دوں پھر تمہارے پاس وه رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لیے اس پر ایمان ﻻنا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے، فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے، فرمایا تو اب گواه رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔آل عمران: 81اس طرح اسلام تمام انبیا و رسل علیہم السلام پر عمومی ایمان لانا واجب گردانتا ہے اور اسى طرح آخری نبی و رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانے کو لازم و ناگزیر ٹھہراتا ہے، اللہ تعالی کہتا ہے:آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب! تم در اصل کسى چیز نہیں جب تک کہ تورات وانجیل اور جو کچھ تمہارى طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گیا ہے, قائم نہ کرو ۔المائدہ: 68اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں، نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں،پس اگر وه منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو مسلمان ہیں۔آل عمران: 64اس لیے جس نے ایک بھی نبی کا انکار کیا تو اس نے بلاشبہ تمام انبیا و رسل (علیہم السلام) کا انکار کر دیا، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے سیدنا نوح علیہ السلام کی قوم کے بارے میں صادر کیے گئے اپنے حکم کی خبر دیتے ہوئے فرمایا:قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا۔الشعراء: 105جب کہ یہ بات معلوم ہے کہ نوح علیہ السلام سے پہلے کوئی رسول نہیں آیا، لیکن اس کے باوجود ان کی قوم کا انہیں جھٹلانا ان کى طرف سے تمام نبیوں اور رسولوں کو جھٹلانا تھا، کیونکہ تمام انبیا کی دعوت بھی ایک تھی اور غایت بھی ایک۔پانچواں رکن: آخرى دین یعنی قیامت کے دن پر ایمان رکھنا ہے، اس دنیوی زندگی کے آخری وقت میں اللہ تعالی سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو بے ہوشی کا صور پھونکنے کا حکم دے گا تو وہ صور پھونک دیں گے جس سے ہر وہ شخص مر جائے گا جس کو اللہ تعالی مارنا چاہے گا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور صور پھونک دیا جائے گا پس آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہوکر گر پڑیں گے مگر جسے اللہ چاہے، پھر دوباره صور پھونکا جائے گا پس وه ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے۔الزمر: 68جب آسمانوں اور زمین میں جتنے بھی جاندار ہیں سب مر جائیں گے مگر اللہ جسے چاہے تو اللہ تعالی آسمانوں اور زمین کو لپیٹ دے گا جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:جس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ لیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں، جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوباره کریں گے، یہ ہمارے ذمے وعده ہے اور ہم اسے ضرور کر کے (ہی) رہیں گے۔الانبیاء: 104اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی نہیں کی، ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے، وه پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔الزمر: 67اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"روز قیامت اللہ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور پھر فرمائے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں وہ لوگ جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو متکبر بنے پھرتے تھے؟ پھر اللہ ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں جو متکبر بنے پھرتے تھے؟"۔اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔پھر اللہ تعالی فرشتے (اسرافیل علیہ السلام) کو حکم دے گا تو وہ دوسری بار صور پھونکے گا جس سے سارے لوگ اٹھ کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے اللہ تعالی کا ارشاد ہے:۔"پھر دوسری بار صور پھونکا حائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے"۔الزمر: 68پھر جب اللہ تعالی تمام مخلوقات کو زندہ کر لے گا تو سب کو یکجا کرے گا،اللہ تعالی کہتا ہے:جس دن زمین پھٹ جائے گی اور یہ دوڑتے ہوئے (نکل پڑیں گے) یہ جمع کر لینا ہم پر بہت ہی آسان ہے۔ق: 44اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:جس دن سب لوگ ﻇاہر ہو جائیں گے ان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیده نہ رہے گی، آج کس کی بادشاہی ہے؟ فقط اللہ واحد و قہار کی۔غافر: 16اس دن اللہ تعالی تمام لوگوں کا حساب لے گا، ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا اور ہر انسان کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دے گا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:آج ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا، آج (کسی قسم کا) ﻇلم نہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کرنے واﻻ ہے۔غافر: 17اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ ایک ذره برابر ﻇلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو تو اسے بڑھا کر دیتا ہے اور خاص اپنے پاس سے بہت بڑا ﺛواب بھی دیتا ہے۔النساء: 40اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے: جس نے ذرہ برابر بھی بھلا کیا ہوگا وہ اسے دیکھے گا (7)۔اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه بھی اسے دیکھ لے گا (8)۔الزلزلۃ: 7- 8اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:قیامت کے دن ہم درمیان میں ﻻ رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو، پھر کسی پر کچھ بھی ﻇلم نہ کیا جائے گا، اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا تو ہم اسے ﻻ حاضر کریں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے۔الانبیاء: 47بعث و نشور اور حساب کتاب کے بعد جزا اور بدلہ دینے کا مرحلہ آئے گا، جس نے اچھا عمل کیا ہوگا اس کے لیے ہمیشہ رہنے والی اور غیر فانی نعمتیں ہوں گی اور جس نے برا عمل اور کفر کیا ہوگا اس کے لیے عذاب ہی عذاب ہوگا، ارشاد باری ہے:اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہوگی، وہی ان میں فیصلے فرمائے گا، ایمان اور نیک عمل والے تو نعمتوں سے بھری جنتوں میں ہوں گے (56)۔اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کے لیے ذلیل کرنے والے عذاب ہیں (57)۔الحج: 56- 57اور ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر یہی دنیوی زندگی پہلی اور آخری زندگی ہوتی تو یہ زندگی اور وجود خالص کار عبث ہوتا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:کیا تم یہ گمان کیے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے۔المومنون: 115چھٹا رکن قضا و قدر پر ایمان لانا ہے، مطلب یہ کہ اس بات پر ایمان لانا واجب ہے کہ اللہ تعالی ہر اس بات کو جانتا ہے جو پہلے واقع ہو چکی ہے، جو ہو رہا ہے، اسے بھی جانتا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے اسے بھی جانتا ہے، اور یہ کہ اللہ تعالى نے اپنے اس ساے علم کو زمین وآسمان کى تخلیق سے پہلے لکھ بھی دیا ہے, وہ کہتا ہے:اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، (خزانے) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے، اور وه تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہیں اور جو کچھ دریاؤں میں ہیں اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وه اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں۔الانعام: 59اللہ تعالی ہر چیز کا علم کے اعتبار سے احاطہ کیے ہوئے ہے،ارشاد ربانی ہے:اللہ وه ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی، اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے۔الطلاق: 12اس کائنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ کے ارادہ و مشیئت کے تحت ہی ہوتا ہے، وہی اس کی تخلیق کرتا اور وہی اس کے اسباب مہیا کرتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اسی اللہ کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور وه کوئی اوﻻد نہیں رکھتا، نہ اس کی سلطنت میں کوئی اس کا ساجھی ہے اور ہر چیز کو اس نے پیدا کرکے ایک مناسب اندازه ٹھہرا دیا ہے۔الفرقان: 2اور ان تمام باتوں میں اس کی حکمت بالغہ مضمر ہے جس کا احاطہ کوئی انسان نہیں کر سکتا، اللہ تعالی کہتا ہے:اور (یہ قرآن) عظیم حکمت ہے جو اپے غایت کو پہونچی ہوئى ہو, لیکن ان ڈراونی باتوں نے بھی (ان کفار اور جھٹلانے والوں کو) کچھ فائدہ نہ دیا۔القمر: 5اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر اسے دوباره پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے، اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے آسمانوں میں اور زمین میں بھی اور وہی غلبے واﻻ حکمت واﻻ ہے۔الروم: 27اللہ تعالی نے خود کو "حکمت" کی صفت سے متصف کیا اور اپنا نام حکیم یعنی حکمت والا رکھا ہے، اس کا ارشاد ہے:اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور وه عدل کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں ہے۔آل عمران: 18اللہ تعالی نے سیدنا عیسی علیہ السلام کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالی سے ان الفاظ میں مخاطب ہوں گے:اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف فرما دے تو تو زبردست ہے حکمت واﻻ ہے۔المائدہ: 118اور اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ السلام سے جب وہ طور پہاڑ کے ایک کنارے پر تھے ان کو پکارتے ہوئے فرمایا:موسیٰ! سن بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں غالب با حکمت۔النمل: 9اللہ تعالی نے قرآن عظیم کو بھی "حکمت" سے متصف قرار دیتے ہوئے فرمایا:الرٰ، یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں، پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے۔ھود: 1اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:یہ بھی منجملہ اس وحی کے ہے جو تیری جانب تیرے رب نے حکمت سے اتاری ہے۔ تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنانا کہ ملامت خورده اور راندۂ درگاہ کرکے دوزخ میں ڈال دیا جائے۔الاسراء: 39

 22- انبیائے کرام علیہم السلام صرف اللہ تعالی کے دین و شریعت کی تبلیغ کے معاملے میں ہی معصوم نہیں تھے، بلکہ ہر اس چیز کے معاملے میں معصوم تھے جن کا عقل انسانی اور فطرت سلیمہ ابا و انکار کرتی ہے، وہ اللہ تعالی کے احکام کو اس کے بندوں تک پہنچا دینے کے مکلف بنائے گئے تھے، ان کے اندر ربوبیت و الوہیت کی ذرہ برابر بھی خصوصیت نہیں تھی، وہ بھی دیگر انسانوں کی طرح ہی بس انسان تھے جن کی طرف اللہ تعالی نے اپنے پیغامات کی وحی فرمائی تھی۔

انبیا و رسل علیہم السلام اللہ تعالی کے پیغامات کی تبلیغ و ترسیل میں بالکل معصوم تھے، کیونکہ وہ اس مشن کے لیے اپنے بہترین بندوں کا انتخاب فرماتا رہا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے پیغام پہنچانے والوں کو اللہ ہی چھانٹ لیتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ سننے واﻻ دیکھنے واﻻ ہے۔الحج: 75اللہ تعالی کا فرمان ہے:بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام جہان کے لوگوں میں سے آدم (علیہ السلام) کو اور نوح (علیہ السلام) کواور ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان اور عمران کے خاندان کو منتخب فرما لیا ہے۔آل عمران: 33اللہ تعالی کا فرمان ہے:ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ! میں نے پیغمبری اور اپنی ہمکلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے، تو جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے اس کو لو اور شکر کرو۔الاعراف: 144انبیا و رسل علیہم السلام یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ جو کچھ نازل ہوتا ہے وحی الہی ہے، وہ فرشتوں کو وحی لاتے ہوئے بچشم خویش دیکھا بھی کرتے تھے،اللہ تعالی کہتا ہے:وه غیب کا جاننے واﻻ ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا (26)۔سوائے اس پیغمبر کے جسے وه پسند کرلے لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کردیتا ہے (27)۔تاکہ ان کے اپنے رب کے پیغام پہنچا دینے کا علم ہو جائے، اللہ تعالیٰ نے ان کے آس پاس (کی تمام چیزوں) کا احاطہ کر رکھا ہے اور ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھی ہے (28)۔الجن: 26- 28اللہ تعالی نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے رب کا پیغام پہنچا دیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اے رسول! جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیے، اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچا لے گا، بے شک اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔المائدہ: 67اللہ تعالی کا فرمان ہے:ہم نے انہیں رسول بنایا ہے خوشخبریاں سنانے والے اور آگاه کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر ره نہ جائے، اللہ تعالی بڑا غالب اور بڑا باحکمت ہے۔النساء: 165انبیا و رسل علیہم السلام اللہ تعالی سے دنیا کے تمام لوگوں سے کہیں زیادہ ڈرتے تھے، اس لیے وہ اللہ کے پیغامات میں ذرہ برابر کمی بیشی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور اگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا (44)تو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے (45)پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے (46)پھر تم میں سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے واﻻ نہ ہوتا (47)الحاقۃ: 44- 47ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا: اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے بتایا ہے کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) جیسا کہ یہ کفار و مشرکین سوچتے ہیں ہم پر جھوٹ باندھتے اور ہمارے پیغام میں ذرہ برابر بھی کمی بیشی کر دیتے یا اپنی طرف سے کچھ کہہ کر ہماری طرف منسوب کر دیتے (حالاں کہ وہ ایسا کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتے) تو ہم ان کو بہت جلد عذاب میں گرفتار کر دیتے، اسی لیے {لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ} فرمایا یعنی ہم اسے عذاب داہنے ہاتھ سے دیتے ، کیوں کہ داہنے ہاتھ کىگرفت زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ اور ایک قول کے مطابق اس کا معنى یہ ہے کہ: ہم اس کا داہنا ہاـہ پکڑ لیتے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:جب اللہ تعالی (قیامت کے دن) کہے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسی (علیہما السلام)! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ معبود بنا لو؟ وہ کہیں گے: تیری ذات پاک ہے، ایسا کیوں کر ہو سکتا ہے کہ میں وہ بات کہوں جسے کہنے کا میرا کوئی حق ہی نہیں بنتا؟ اگر میں نے ایسا کہا تھا تو پھر تو اچھی طرح جانتا ہے، کیوں کہ تو میرے دل کی بات بھی اچھی طرح جانتا ہے، لیکن میں نہیں جانتا کہ تیرے دل میں کیا ہے، بے شک تو غیب کی باتوں کو بخوبی جانتا ہے،میں نے تو ان سے وہی بات کہی تھی جسے کہنے کا تو نے مجھے حکم دیا تھا، میں نے ان سے کہا تھا کہ اس اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے،جب تک میں ان کے درمیان رہا ان پر گواہ رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگہبان رہا اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے۔المائدہ: 116- 117انبیا و رسل علیہم السلام پر اللہ تعالی کا یہ خصوصی فضل و کرم بنا رہا کہ اس نے انہیں اپنے پیغامات کی تبلیغ کی راہ میں ثابت قدمی عطا فرمائی، ارشاد ربانی ہے:کہا کہ میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ہر اس چیز سے بری ہوں جس کو تم اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہو (54) تو ٹھیک ہے تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چلو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو (55)۔میرا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہی ہے، جو میرا اور تم سب کا پروردگار ہے، جتنے بھی پاؤں دھرنے والے ہیں سب کی پیشانی وہی تھامے ہوئے ہے، یقیناً میرا رب بالکل صحیح راه پر ہے (56)۔ھود: 54- 56اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:یہ لوگ آپ کو اس وحی سے جو ہم نے آپ پر اتاری ہے بہکانا چاہتے ہیں تاکہ آپ اس کے سوا کچھ اور ہی ہمارے نام سے گھڑ گھڑا لیں، تب تو آپ کو یہ لوگ اپنا ولی و دوست بنا لیتے (73)۔اگر ہم آپ کو ﺛابت قدم نہ رکھتے تو بہت ممکن تھا کہ ان کی طرف قدرے مائل ہو ہی جاتے (74)۔پھر تو ہم بھی آپ کو دوہرا عذاب دنیا کا کرتے اور دوہرا ہی موت کا، پھر آپ تو اپنے لیے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار بھی نہ پاتے (75)۔الاسراء: 73- 75یہ اور اس سے پہلے کی آیات کریمہ اس بات کی شاہد و دلیل ہیں کہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے، کیوں کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی لکھی یا گھڑی ہوئی کتاب ہوتی تو اس میں اس طرح کا کلام نہ ہوتا جو خود انہی کو مخاطب کرتا ہے۔اللہ تعالی، لوگوں کے شر سے اپنے رسولوں کی خود حفاظت کرتا ہے، وہ کہتا ہے:اے رسول! جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیے، اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچا لے گا، بے شک اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔المائدہ: 67اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اور آپ ان کو نوح﴿علیہ السلام﴾ کا قصہ پڑھ کر سنائیے جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر تم کو میرا رہنا اور احکام الٰہی کی نصیحت کرنا بھاری معلوم ہوتا ہے تو میرا تو اللہ ہی پر بھروسہ ہے، تم اپنی تدبیر مع اپنے شرکا کے پختہ کرلو، پھر تمہاری تدبیر تمہاری گھٹن کا باعث نہیں ہونی چاہیے، پھر میرے ساتھ کر گزرو اور مجھ کو مہلت نہ دو۔یونس: 71اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ السلام کے قول کی خبر دیتے ہوئے فرمایا:ان دونوں نے کہا: اے ہمارے پروردگار! ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہم سے بدتمیزی یا سرکشی کرے گا، اللہ تعالی نے کہا: تم دونوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ میں تمہارے ساتھ رہوں گا اور تمہاری باتیں سنتا اور تمہاری حفاظت کرتا رہوں گا۔طہ: 45- 46یوں اللہ تعالی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے رسولوں کی ان کے دشمنوں سے حفاظت کرتا ہے، اس لیے وہ ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا پاتے، اللہ تعالی نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ وہ اپنی وحی کی حفاظت کرتا ہے،اس لیے اس میں کمی بیشی ہرگز نہیں کی جا سکتی، اللہ تعالی کہتا ہے:ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔الحجر: 9انبیا علیہم السلام ہر اس چیز سے محفوظ و مامون ہیں جو عقل اور اخلاق کے مخالف ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا تزکیہ کرتے ہوئے فرمایا:اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے۔القلم: 4اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے بارے میں یہ بھی فرمایا:اور تمہارا ساتھی دیوانہ نہیں ہے۔۔التکویر: 22اور ایسا اس لیے تاکہ وہ رسالت کی ادائیگی بہترین انداز سے کر سکیں، یاد رکھنا چاہیے کہ انبیا علیہم السلام صرف اللہ تعالی کے احکام کو اس کے بندوں تک پہنچانے کے مکلف و ذمہ دار ہیں،ان کے اندر ربوبیت یا الوہیت کے امتیازات میں سے کوئی بھی امتیاز نہیں ہے، بلکہ وہ دیگر انسانوں کی طرح کے محض انسان ہیں جن کی طرف اللہ تعالی نے اپنے پیغامات کی وحی فرمائی تھی، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا کہ یہ تو سچ ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل کرتا ہے،اللہ کے حکم کے بغیر ہماری مجال نہیں کہ ہم کوئی معجزه تمہیں ﻻ دکھائیں اور ایمان والوں کو صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ابراہیم: 11اللہ تعالی نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ اپنی قوم سے کہہ دیں:آپ کہہ دیجیے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں،(ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔الکہف: 110

 23- اسلام, عبادت کے تمام بڑے اصولوں کے ساتھ, تنہا اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دیتا ہے، اور وہ اصول یہ ہیں: نماز ہے جو قیام، رکوع، سجود، ذکر الہی، ثنائے الہی اور دعا پر مشتمل ہے، جسے انسان رات دن میں پانچ بار ادا کرتا ہے اور جس کی ادائیگی کے دوران جب مال دار و فقیر اور راجہ و رعیت سب ایک ہی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں تو ان کے درمیان کا ہر فرق و امتیاز مٹ جاتا ہے، انہی اصولوں میں سےزکوۃ ہے، زکوۃ: مال کی وہ تھوڑی سی مقدار ہے جو اللہ تعالی کی مقرر کردہ شرطوں اور پیمانوں کے مطابق سال میں ایک بار مال داروں سے لی جاتی ہے اور غریبوں وغیرہ میں تقسیم کر دی جاتی ہے، روزہ بھی انہی اصولوں میں سے ہے، اور روزہ رمضان کے دنوں میں ہر طرح کے نواقض روزہ سے اجتناب کرنے کا نام ہے، یہ انسان کے دل میں قوت ارادی اور صبر کا مادہ پیدا کرتا ہے۔ حج بھی انہی اصولوں میں سے ہے، اس عبادت کا بجا لانا ایسے شخص پر عمر بھر میں بس ایک بار واجب ہے جو مکہ مکرمہ میں واقع اللہ کے گھر کعبۂ مقدس کی زیارت کرنے پر جسمانی اور مالی اعتبار سے قادر ہو، یہ ایسی عبادت ہے جس میں تمام لوگ صرف اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہونے میں برابر ہو جاتے ہیں اور جس کی ادائیگی کے دوران سارے امتیازات و انتسابات کے قلعے زمیں بوس ہو جاتے ہیں۔

اسلام، تمام چھوٹی بڑی عبادتوں کو اللہ تعالی کے لیے خاص کرنے کا حکم اور دعوت دیتا ہے،جن عظیم عبادتوں کا ذکر ہم آئندہ سطور میں کرنے جا رہے ہیں، ان کو اللہ تعالی نے تمام نبیوں اور رسولوں علیہم السلام پر واجب کیا تھا:

پہلی عبادت نماز ہے جسے اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں پر اسی طرح فرض کیا ہے جس طرح سارے نبیوں اور رسولوں علیہم السلام پر کیا تھا، چنانچہ اللہ تعالی نے اپنے نبی ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اللہ کے گھر کو طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، رکوع کرنے والوں اور سجدے کرنے والوں کے لیے پاک صاف کر دیں، اللہ تعالی نے فرمایا:ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ﺛواب اور امن وامان کی جگہ بنائی، تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کرلو، ہم نے ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ سے وعده لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجده کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھو۔البقرہ: 125جب اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ السلام کو پہلی بار پکارا تو ان پر نماز فرض کرتے ہوئے فرمایا:یقیناً میں ہی تیرا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتار دے، کیونکہ تو پاک میدان طویٰ میں ہے (12)اور میں نے تجھے منتخب کر لیا، اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سن (13)بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا عبادت کے ﻻئق اور کوئی نہیں، پس تو میری ہی عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔ (14)۔طہ: 12- 14مسیح علیہ السلام نے بھی بتایا کہ اللہ تعالی نے انہیں نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے خبر دی ہے، انہوں نے کہا:اور اس نے مجھے بابرکت کیا ہے جہاں بھی میں ہوں، اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰة کا حکم دیا ہے جب تک بھی میں زنده رہوں۔مریم: 31اسلامی نماز قیام و رکوع، سجود، ذکر الہی، ثنائے ربانی اور دعا پر مشتمل ہوتی ہے۔ اسے ایک مسلمان کو دن رات میں پانچ بار ادا کرنا ہوتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:نمازوں کی حفاﻇت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لیے باادب کھڑے رہا کرو۔البقرہ: 238اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:نماز کو قائم کریں آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی، یقیناً فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا ہے۔الاسراء: 78اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:رہا رکوع تو اس میں اللہ تعالی کی عظمت بیان کرو اور جہاں تک معاملہ ہے سجدوں کا تو ان میں خوب دعائیں کرو کیونکہ سجدوں کى دعاؤں کی قبولیت کی امید بہت زیادہ ہوتی ہے۔صحیح مسلمدوسری عبادت زکوۃ ہے جس کو اللہ تعالی نے مسلمانوں پر اسی طرح فرض کیا ہے جس طرح تمام نبیوں اور رسولوں علیہم السلام پر کیا تھا۔ زکوۃ اللہ تعالی کے مقرر کردہ اندازوں اور شرطوں کے مطابق سال بھر میں ایک بار امیروں سے لے کر غریبوں وغیرہ میں تقسیم کیے جانے والے تھوڑے سے مال کو کہتے ہیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجیے، جس کے ذریعے سے آپ ان کو پاک صاف کردیں اور ان کے لیے دعا کیجیے، بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لیے موجب اطمینان ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سنتا ہے خوب جانتا ہے۔التوبۃ: 103اور جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تھا تو ان سے فرمایا تھا:"تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں،تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودد برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں،اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالی نے ان پر دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں خبر دینا کہ اللہ تعالی نے ان کے مال پر زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے امیروں سے لے کر انہی کے غریب لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو زکوۃ میں ان کا بہترین مال ہرگز نہ لینا اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اس کے اور اللہ تعالی کے درمیان کوئی آڑ نہیں ہے"۔اسےترمذی(625) نے روایت کیا ہے۔تیسری عبادت روزہ ہے جسے اللہ تعالی نے مسلمانوں پر اسی طرح فرض کیا ہے، جس طرح تمام انبیا و رسل علیہم السلام پر فرض کیا تھا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے کے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔البقرہ: 183ماہ رمضان کے دنوں میں ہر طرح کی روزہ توڑنے والی چیزوں سے رک جانے کو روزہ کہتے ہیں، روزہ انسان کے اندر قوت ارادی اور صبر کا مادہ پیدا کرتا ہے۔اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:"اللہ تعالی کہتا ہے: روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، بندہ میرے لیے اپنی شہوت اور کھان پان کو چھوڑ دیتا ہے، روزہ ڈھال ہے اور روزہ دار کے لیے دو خصوصی خوشیاں ہیں: ایک افطار کرتے وقت ہوتی ہے اور دوسری خوشی اس وقت حاصل ہوگی، جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا"۔صحیح بخاری: 7492چوتھی عظیم ترین عبادت حج ہے، اسے بھی اللہ تعالی نے مسلمانوں پر اسی طرح فرض کیا ہے جس طرح تمام نبیوں اور رسولوں علیہم السلام پر فرض کیا تھا، اللہ تعالی نے اپنے نبی و خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو حج کی منادی کرنے کا حکم دیا تھا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے، لوگ تیرے پاس پا پیاده بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی اور دور دراز کی تمام راہوں سے آئیں گے۔الحج: 27ان کو اللہ تعالی نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ وہ حاجیوں کے لیے بیت اللہ کو پاک صاف رکھیں، چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا:اور جب کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو کعبہ کے مکان کی جگہ مقرر کر دی اس شرط پر کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف، قیام، رکوع اور سجده کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھنا۔الحج: 26حج:مخصوص اعمال کی انحام دہی کے لیے مکہ مکرمہ میں واقع بیت اللہ کی زیارت کرنے کو کہتے ہیں، یہ عمر بھر میں صرف ایک بار ایسے شخص پر واجب ہے جو وہاں تک پہنچنے کا خرچ اور قوت رکھتا ہو،اللہ تعالی کا فرمان ہے:”اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے۔ اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ (اس سے بلکہ) تمام دنیا سے بے پروا ہے“۔آل عمران: 97حج میں مسلمان حجاج کرام اخلاص کا پیکر بن کر صرف اللہ تعالی کی عبادت بجا لانے کے لیے ایک ہی جگہ جمع ہوتے ہیں اور سب ایسے بےنظیر طریقے سے حج کے مناسک ادا کرتے ہیں جس سے ماحول، ثقافت اور مالی حالت کے سارے فرق اور پیمانے مٹ جاتے ہیں۔

 24- اسلامی عبادات کا اہم ترین خاصہ یہ ہے کہ ان کی ادائیگی کی ساری کیفیات، اوقات اور شرائط بذات خود اللہ تعالی کے مقرر کیے ہوئے ہیں جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت تک من و عن پہنچا دیا ہے، ان میں کمی بیشی کرنے کے لیے کوئی بھی انسان آج تک دخل اندازی نہیں کر سکا ہے اور نہ آئندہ کر سکے گا،یہ تمام بڑى عبادتیں ایسی ہیں جن کی دعوت تمام انبیا و رسل علیہم السلام نے اپنی اپنی امت کو دی تھی۔

اسلامی عبادات کا اہم ترین خاصہ یہ ہے کہ ان کی ادائیگی کی ساری کیفیات، اوقات اور شرائط بذات خود اللہ تعالی کے مقرر کیے ہوئے ہیں جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت تک من و عن پہنچا دیا ہے،ان میں کمی بیشی کرنے کے لیے کوئی بھی انسان آج تک دخل اندازی نہیں کر سکا ہے اور نہ آئندہ کر سکے گا،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:"آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو پورا کر دیا، تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور اسلام کو دین کے طور پر چن لیا"۔المائدہ: 3اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:پس جو وحی آپ کی طرف کی گئی ہے اسے مضبوط تھامے رہیں، بے شک آپ راه راست پر ہیں۔الزخرف: 43اللہ تعالی کا نماز کے بارے میں ارشاد ہے:پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہو اور جب اطمینان پاؤ تو نماز قائم کرو! یقیناً نماز مومنوں پر مقرره وقتوں پر فرض ہے۔النساء: 103اور زکوۃ کے مصارف کے بارے میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:صدقے صرف فقیروں کے لیے ہیں اور مسکینوں کے لیے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لیے اور ان کے لیے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لیے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لیے، فرض ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے۔التوبۃ: 60اور اللہ تعالی نے روزہ کے بارے میں ارشاد فرمایا:ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے واﻻ ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہیے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو، اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے، اللہ تعالیٰ کا اراده تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں، وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو۔البقرہ: 185اور حج کے بارے میں ارشاد ربانی ہے:حج کے مہینے مقرر ہیں اس لیے جو شخص ان میں حج ﻻزم کرلے وه اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے، گناه کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے، تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے اور اے عقل مندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو۔البقرہ: 197ان تمام عظیم عبادتوں کی طرف دعوت تمام نبیوں اور رسولوں علیہم السلام نے دی ہے۔

 25- اسلام کے پیغمبر کا نام نامی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہے جو سیدنا اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام کے خاندان سے تھے، آپ کی پیدائش مکہ میں 571 عیسوی میں ہوئی اور وہیں پر نبوت و رسالت سے سرفراز ہوئے، پھر ہجرت کرکے مدینے چلے گئے، آپ نے بت پرستی کے کسی بھی معاملے میں اپنی قوم کا ساتھ نہیں دیا لیکن دیگر بہت سے کارہائے خیر میں ان کا بہت ہاتھ بٹایا، آپ اپنی بعثت سے پہلے بھی اخلاق فاضلانہ سے متصف تھے اور یہی وجہ تھی کہ لوگ آپ کو امین و صادق کہہ کر پکارا کرتے تھے، جب آپ کی عمر چالیس برس کی ہوئی تو اللہ تعالی نے آپ کو نبوت و رسالت سے نوازا اور بہت سارے عظیم معجزات سے آپ کی تائید فرمائی، جن میں سے سب سے اہم اور سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے، یہی قرآن تمام انبیا و رسل علیہم السلام کا بھی سب سے بڑا معجزہ ہے اور آج تک باقی رہنے والی ان کی سب سے بڑی نشانی بھی یہی ہے، پھر جب اللہ تعالی نے اپنے دین و شریعت کی تکمیل فرما دی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے پوری امانت داری کے ساتھ اپنی امت تک پہنچا دیا تو 63 سال کی عمر میں آپ کا انتقال ہو گیا اور مدینہ نبویہ میں مدفون ہوئے، اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم سلسلۂ انبیا و رسل علیہم السلام کی سب سے آخری کڑی تھے جن کو اللہ تعالی نے ہدایت اور دین حق کے ساتھ اس لیے مبعوث فرمایا تھا کہ آپ دنیا کے لوگوں کو بت پرستی اور کفر و جہالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید و ایمان کی روشنی میں لے آئیں، اللہ تعالی نے آپ کے بارے میں یہ گواہی دی ہے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے حکم سے اپنا داعی بنا کر مبعوث فرمایا تھا۔

اسلام کے پیغمبر کا نام نامی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہے،آپ سیدنا اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام کے خاندان سے تھے، آپ کی پیدائش مکہ میں 571 عیسوی میں ہوئی اور وہیں پر نبوت و رسالت سے سرفراز ہوئے، پھر ہجرت کرکے مدینے چلے گئے، آپ نے بت پرستی کے کسی بھی معاملے میں اپنی قوم کا ساتھ نہیں دیا لیکن دیگر بہت سے کارہائے خیر میں ان کا بہت ہاتھ بٹایا۔ آپ کی قوم کے لوگ آپ کو امین و صادق کہہ کر پکارا کرتے تھے، آپ اپنی بعثت سے پہلے بھی اخلاق فاضلانہ سے متصف تھے، آپ کو رب کائنات نے صاحب "خلق عظیم" ہونے کی سند عطا فرمائی ہے، ارشاد ربانی ہے:اور بے شک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے۔القلم: 4جب آپ کی عمر چالیس برس کی ہوئی تو اللہ تعالی نے آپ کو نبوت و رسالت سے نوازا اور بہت سارے عظیم معجزات سے آپ کی تائید فرمائی جن میں سے سب سے اہم اور سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:"ہر نبی کو اللہ تعالی نے کوئی نہ کوئی معجزہ ضرور عطا کیا اور اسی حساب سے لوگ اس پر ایمان لے آئے اور چونکہ اللہ تعالی نے مجھ پر ایک ایسی کتاب (قرآن کریم) وحی کی ہے جو تمام معجزات سے بڑا معجزہ ہے اس لیے مجھے امید ہے کہ میرے پیروکاروں کی تعداد قیامت کے دن سب سے زیادہ ہوگی"۔صحیح بخاریقرآن عظیم اللہ تعالی کی طرف سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف وحی کی ہوئی کتاب ہے، اللہ تعالی اس کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:اس کتاب (کے اللہ کی کتاب ہونے) میں کوئی شک نہیں، پرہیزگاروں کو راه دکھانے والی ہے۔البقرہ: 2جس کے بارے میں اللہ تعالی كا فرمان ہے:کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔النساء: 82اللہ تعالی نے تمام جنوں اور انسانوں کو چیلنج دیا کہ اس جیسی کتاب گھڑ کر پیش کر دیں، اللہ تعالی نے فرمایا:کہہ دیجیے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل ﻻنا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل ﻻنا ناممکن ہے، گو وه (آپس میں) ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔الاسراء: 88پھر یہ چیلنج دیا کہ اس کے جیسی صرف دس سورتیں ہی بنا کر لے آئیں، اللہ تعالی نے کہا:کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو اسی نے گھڑا ہے، جواب دیجیے کہ پھر تم بھی اسی کی مثل دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے چاہو اپنے ساتھ بلا بھی لو اگر تم سچے ہو۔ھود: 13اتنے ہی پر بس نہیں کیا بلکہ یہ چیلنج دیا کہ اس کی مثل صرف ایک سورہ گھڑ کر لے آئیں، فرمایا:ہم نے جو کچھ اپنے بندے پر اتارا ہے، اس میں اگر تمہیں شک ہو اور تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت تو بنا لاؤ، تمہیں اختیار ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو۔البقرہ: 23

الاسراء: 88

پھر یہ چیلنج دیا کہ اس کے جیسی صرف دس سورتیں ہی بنا کر لے آئیں، اللہ تعالی نے کہا:

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو اسی نے گھڑا ہے، جواب دیجیے کہ پھر تم بھی اسی کی مثل دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے چاہو اپنے ساتھ بلا بھی لو اگر تم سچے ہو۔

ھود: 13

اتنے ہی پر بس نہیں کیا بلکہ یہ چیلنج دیا کہ اس کی مثل صرف ایک سورہ گھڑ کر لے آئیں، فرمایا:

ہم نے جو کچھ اپنے بندے پر اتارا ہے، اس میں اگر تمہیں شک ہو اور تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت تو بنا لاؤ، تمہیں اختیار ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو۔

البقرہ: 23

یہی قرآن عظیم انبیا علیہم السلام کی آج تک باقی رہنے والی سب سے بڑی اکیلی نشانی بھی ہے، پھر جب اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے اپنے دین و شریعت کی تکمیل فرما دی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے پوری امانت داری کے ساتھ اپنی امت تک پہنچا دیا تو 63 سال کی عمر میں آپ کا انتقال ہو گیا اور مدینہ نبویہ میں مدفون ہوئے۔

سیدنا محمد صلى اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبیوں اور رسولوں کے سلسلۂ زریں کی آخری کڑی تھے، اللہش تعالی کا ارشاد ہے:(لوگو!) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں ہیں، بلکہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی اور اللہ تعالی ہر چیز کا (بخوبی) جاننے واﻻ ہے۔الاحزاب: 40اور سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"میری اور مجھ سے پہلے کے نبیوں کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس نے ایک بہت خوب اور بے حد خوبصورت گھر بنایا مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی، لوگ اس کے چاروں طرف گھوم گھوم کر دیکھنے لگے اور اس پر حیرت کا اظہار کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ اینٹ کیوں نہیں جوڑی گئی؟! آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میں وہی اینٹ ہوں، میں ہی آخری نبی ہوں"۔صحیح بخاریانجیل میں سیدنا مسیح علیہ السلام نے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی آمد کی بشارت سناتے ہوئے کہا ہے:"جس پتھر کو جوڑنے سے معماروں نے منع کر دیا، وہی اس گھر کا سرتاج بن گیا، کیا تم نے کبھی کتابوں میں نہیں پڑھا؟: ان سے عیسی (علیہ السلام) نے کہا: کہ پروردگار کی طرف سے ایسا ہوا, اور یہ ہماری آنکھوں کے لیے بڑا عجیب ہے"۔ آج کی موجودہ تورات میں بھی وہ بات درج ہے جو اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ السلام سے کہی تھی: "میں ان کے ہی بھائیوں میں سے تیرے جیسا ایک نبی مبعوث کروں گا، اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا اور وہ بس وہی بات کہے گا جس کی میں اسے حکم دوں گا"۔اللہ تعالی نے اپنے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تھا، اللہ تعالی نے آپ کے بارے میں خود یہ گواہی دی ہے کہ آپ حق پر ہیں اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے حکم سے اپنا داعی بنا کر مبعوث فرمایا تھا۔جو کچھ آپ کی طرف اتارا ہے اس کی بابت خود اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ اسے اپنے علم سے اتارا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بطور گواه کافی ہے۔النساء: 166اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:وہی ہے جس نےاپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی دینے واﻻ۔الفتح: 28اللہ تعالی نے انہیں ہدایت کے ساتھ اس لیے بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کو بت پرستی، کفر اور جہالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید و ایمان کی روشنی میں لے آئیں، ارشاد ربانی ہے:جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انہیں جو رضائے رب کے حصول کے امیدوار ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتا ہے اور اپنی توفیق سے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف ﻻتا ہے اور راه راست کی طرف ان کی رہبری کرتا ہے۔المائدہ: 16اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:الرٰ! یہ عالی شان کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف ﻻئیں، ان کے پروردگار کے حکم سے، زبردست اور تعریفوں والے اللہ کی راہ کی طرف۔ابراہیم: 1

(لوگو!) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں ہیں، بلکہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی اور اللہ تعالی ہر چیز کا (بخوبی) جاننے واﻻ ہے۔

الاحزاب: 40

اور سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"میری اور مجھ سے پہلے کے نبیوں کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس نے ایک بہت خوب اور بے حد خوبصورت گھر بنایا مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی، لوگ اس کے چاروں طرف گھوم گھوم کر دیکھنے لگے اور اس پر حیرت کا اظہار کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ اینٹ کیوں نہیں جوڑی گئی؟! آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میں وہی اینٹ ہوں، میں ہی آخری نبی ہوں"۔

صحیح بخاری

انجیل میں سیدنا مسیح علیہ السلام نے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی آمد کی بشارت سناتے ہوئے کہا ہے:

"جس پتھر کو جوڑنے سے معماروں نے منع کر دیا، وہی اس گھر کا سرتاج بن گیا، کیا تم نے کبھی کتابوں میں نہیں پڑھا؟: ان سے عیسی (علیہ السلام) نے کہا: کہ پروردگار کی طرف سے ایسا ہوا, اور یہ ہماری آنکھوں کے لیے بڑا عجیب ہے"۔ آج کی موجودہ تورات میں بھی وہ بات درج ہے جو اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ السلام سے کہی تھی: "میں ان کے ہی بھائیوں میں سے تیرے جیسا ایک نبی مبعوث کروں گا، اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا اور وہ بس وہی بات کہے گا جس کی میں اسے حکم دوں گا"۔

اللہ تعالی نے اپنے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تھا، اللہ تعالی نے آپ کے بارے میں خود یہ گواہی دی ہے کہ آپ حق پر ہیں اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے حکم سے اپنا داعی بنا کر مبعوث فرمایا تھا۔

جو کچھ آپ کی طرف اتارا ہے اس کی بابت خود اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ اسے اپنے علم سے اتارا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بطور گواه کافی ہے۔

النساء: 166

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

وہی ہے جس نےاپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی دینے واﻻ۔

الفتح: 28

اللہ تعالی نے انہیں ہدایت کے ساتھ اس لیے بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کو بت پرستی، کفر اور جہالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید و ایمان کی روشنی میں لے آئیں، ارشاد ربانی ہے:

جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انہیں جو رضائے رب کے حصول کے امیدوار ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتا ہے اور اپنی توفیق سے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف ﻻتا ہے اور راه راست کی طرف ان کی رہبری کرتا ہے۔

المائدہ: 16

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

الرٰ! یہ عالی شان کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف ﻻئیں، ان کے پروردگار کے حکم سے، زبردست اور تعریفوں والے اللہ کی راہ کی طرف۔

ابراہیم: 1

 26- اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی لائی ہوئی شریعت تمام تر پیغامات الہیہ اور شرائع ربانیہ کا خاتمہ ہے وہ ایک ایسی کامل و مکمل شریعت ہے جس میں لوگوں کے دین اور دنیا دونوں کی صلاح و فلاح مضمر ہے،اتنا ہی نہیں بلکہ یہ لوگوں کے ادیان و مذاہب، خون و مال اور عقل و ذریت کی محافظ و نگہبان بھی ہے، اس نے سابقہ تمام شریعتوں پر اسی طرح قلم تنسیخ پھیر دیا ہے جس طرح پہلے کی ایک شریعت دوسری شریعت کو منسوخ کر دیتی تھی۔

اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی لائی ہوئی شریعت تمام تر پیغامات الہیہ اور شرائع ربانیہ کا خاتمہ ہے، اس کے ذریعے اللہ تعالی نے دین کی تکمیل کر دی اور اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے ساتھ ہی لوگوں پر اپنی نعمت کا اتمام کر دیا، فرمان باری تعالی ہے:”آج میں نے تمھارے لیے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھر پور کردیا اور تمھارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا“۔المائدہ: 3اسلامی شریعت ایک کامل و مکمل شریعت ہے جس میں لوگوں کے دین اور دنیا دونوں کی فلاح و کامرانی ہے، کیونکہ یہ تمام سابقہ شریعتوں کی جامع اور ان سب کی تکمیل و اتمام ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:یقیناً یہ قرآن وه راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔الاسراء: 9اسلامی شریعت نے لوگوں کے سر سے وہ سارے بوجھ اتار دیے جو سابقہ امتوں کے سروں پر لدے ہوئے تھے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:جو لوگ ایسے رسول و نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وه لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، وه ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزه چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں، سو جو لوگ اس نبی پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں۔الاعراف: 157اسلامی شریعت تمام سابقہ شریعتوں کی ناسخ ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ ہے، اس لیے آپ ان کے آپس کے معاملات میں اسی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے، اس حق سے ہٹ کر ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ جائیے تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک دستور اور راه مقرر کردی ہے، اگر منظور مولیٰ ہوتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن اس کی چاہت ہے کہ جو تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے، تم نیکیوں کی طرف جلدی کرو، تم سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے، پھر وه تمہیں ہر وه چیز بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہتے ہو۔المائدہ: 48پس قرآن کریم جس میں ایک مکمل شریعت موجود ہے سابقہ کتب الہیہ کی تصدیق کرنے والا، ان کا فیصل اور ان کا ناسخ بن کر نازل ہوا ہے۔

”آج میں نے تمھارے لیے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھر پور کردیا اور تمھارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا“۔

المائدہ: 3

اسلامی شریعت ایک کامل و مکمل شریعت ہے جس میں لوگوں کے دین اور دنیا دونوں کی فلاح و کامرانی ہے، کیونکہ یہ تمام سابقہ شریعتوں کی جامع اور ان سب کی تکمیل و اتمام ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

یقیناً یہ قرآن وه راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔

الاسراء: 9

اسلامی شریعت نے لوگوں کے سر سے وہ سارے بوجھ اتار دیے جو سابقہ امتوں کے سروں پر لدے ہوئے تھے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

جو لوگ ایسے رسول و نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وه لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، وه ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزه چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں، سو جو لوگ اس نبی پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں۔

الاعراف: 157

اسلامی شریعت تمام سابقہ شریعتوں کی ناسخ ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ ہے، اس لیے آپ ان کے آپس کے معاملات میں اسی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے، اس حق سے ہٹ کر ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ جائیے تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک دستور اور راه مقرر کردی ہے، اگر منظور مولیٰ ہوتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن اس کی چاہت ہے کہ جو تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے، تم نیکیوں کی طرف جلدی کرو، تم سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے، پھر وه تمہیں ہر وه چیز بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہتے ہو۔

المائدہ: 48

پس قرآن کریم جس میں ایک مکمل شریعت موجود ہے سابقہ کتب الہیہ کی تصدیق کرنے والا، ان کا فیصل اور ان کا ناسخ بن کر نازل ہوا ہے۔

 27- اللہ تعالی کی نظر میں اس اسلام کے علاوہ کوئی اور دین مقبول نہیں جسے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم لے کر آئے ہیں اور جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین و شریعت کو گلے لگائے گا اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔

محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے بعد، اللہ تعالی کی نظر میں اس اسلام کے علاوہ کوئی اور دین مقبول نہیں جسے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم لے کر آئے ہیں اور جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین و شریعت کو گلے لگائے گا اسے اس کی طرف سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے گا اس کا دین ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔آل عمران: 85اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا جلد حساب لینے واﻻ ہے۔آل عمران: 19یہ اسلام، ملت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:دین ابراہیمی سے وہی بے رغبتی اختیار کرے گا جو محض بے وقوف ہو، ہم نے تو اسے دنیا میں بھی برگزیده کیا تھا اور آخرت میں بھی وه نیکوکاروں میں سے ہے۔البقرہ: 130اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:باعتبار دین کے اس سے اچھا کون ہے؟ جو اپنے کو اللہ کے تابع کر دے اور ہو بھی نیکوکار، ساتھ ہی یکسوئی والے ابراہیم کے دین کی پیروی کر رہا ہو اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دوست بنا لیا ہے۔النساء: 125اور اللہ تعالی نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ کہنے کا حکم بھی دیا ہے:آپ کہہ دیجیے کہ مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا راستہ بتا دیا ہے کہ وه ایک دین مستحکم ہے جو طریقہ ہے ابراہیم (علیہ السلام) کا جو اللہ کی طرف یکسو تھے اور وه شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے۔الانعام: 161

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے گا اس کا دین ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔

آل عمران: 85

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا جلد حساب لینے واﻻ ہے۔

آل عمران: 19

یہ اسلام، ملت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

دین ابراہیمی سے وہی بے رغبتی اختیار کرے گا جو محض بے وقوف ہو، ہم نے تو اسے دنیا میں بھی برگزیده کیا تھا اور آخرت میں بھی وه نیکوکاروں میں سے ہے۔

البقرہ: 130

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

باعتبار دین کے اس سے اچھا کون ہے؟ جو اپنے کو اللہ کے تابع کر دے اور ہو بھی نیکوکار، ساتھ ہی یکسوئی والے ابراہیم کے دین کی پیروی کر رہا ہو اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دوست بنا لیا ہے۔

النساء: 125

اور اللہ تعالی نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ کہنے کا حکم بھی دیا ہے:

آپ کہہ دیجیے کہ مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا راستہ بتا دیا ہے کہ وه ایک دین مستحکم ہے جو طریقہ ہے ابراہیم (علیہ السلام) کا جو اللہ کی طرف یکسو تھے اور وه شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے۔

الانعام: 161

 28- قرآن کریم اللہ کی وہ کتاب ہے جسے اس نے اپنے نبی و رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر بذریعہ وحی نازل کیا ہے، وہ بے شک تمام جہانوں کے پروردگار کا کلام ہے، اللہ تعالی نے تمام انسانوں اور جنوں کو چیلنج دیا ہے کہ وہ قرآن جیسی کوئی کتاب یا اس کی کسی سورہ جیسی صرف ایک سورہ ہی بنا کر پیش کر دیں، مگر اس چیلنج کا جواب آج تک کسی سے نہیں بن سکا، حالاں کہ وہ آج بھی بدستور برقرار ہے، قرآن کریم ایسے بہت سے سوالوں کا جواب دیتا ہے جس سے لاکھوں لوگ ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتے ہیں، قرآن کریم آج بھی اسی عربی زبان میں محفوظ ہے جس میں وہ نازل ہوا تھا، اس کا ایک حرف بھی کم نہیں ہوا، وہ مطبوع و منشور ہے اور ایک ایسی معجز نما عظیم کتاب ہے جس کا مطالعہ کرنا یا کم از کم جس کے ترجمۂ معانی کا مطالعہ کرنا از حد ضروری ہے،اسی طرح اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت، تعلیمات اور سیرت بھی معتمد اور موثوق بہ راویوں کے حوالے سے منقول و محفوظ ہیں، یہ ساری چیزیں بھی اسی عربی زبان میں مطبوع ہیں جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بات چیت کیا کرتے تھے، ان کا ترجمہ بھی دنیا کی بہت ساری زبانوں میں ہوا ہے، قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہی دو ایسے مصادر ہیں جن سے اسلامی احکام اور قوانین اخذ کیے جاتے ہیں، اس لیے اسلام کو اس کی طرف منسوب افراد کے اعمال و تصرفات کو دیکھ کر نہیں، بلکہ وحی الہی یعنی قرآن و سنت سے لیا جائے گا۔

قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کی وحی اللہ تعالی نے اپنے عربی رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر عربی زبان میں کی، یہ کتاب تمام جہانوں کے پاک پروردگار کا کلام ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور بے شک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے (192)۔اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے (193)۔آپ کے دل پر اترا ہے کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں (194)۔صاف عربی زبان میں ہے (195)۔الشعراء: 192- 195اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:بے شک آپ کو اللہ حکیم وعلیم کی طرف سے قرآن سکھایا جارہا ہے۔النمل: 6یہ قرآن اللہ تعالی کی نازل کردہ اور اللہ کی اتاری ہوئی سابقہ کتابوں کی تصدیق کرنے والی کتاب ہے، ارشاد ربانی ہے:اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اللہ (کی وحی) کے بغیر (اپنے ہی سے) گھڑ لیا گیا ہو، بلکہ یہ تو (ان کتابوں کی) تصدیق کرنے واﻻ ہے جو اس سے قبل (نازل) ہوچکی ہیں اور کتاب (احکام ضروریہ) کی تفصیل بیان کرنے واﻻ ہے، اس میں کوئی بات شک کی نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔یونس: 37قرآن کریم بہت سارے ایسے دینی مسائل کی تفصیل بیان کرتا ہے جن میں یہود و نصاری دینی بنیاد پر آپس میں اختلاف کرچکے ہیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:یقیناً یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان اکثر چیزوں کا بیان کر رہا ہے جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں۔النمل: 76قرآن کریم کے اندر, اللہ تعالی، اس کے دین اور اس کی جزا سے متعلق حقائق کی معرفت و پہچان پر بے شمار ایسے دلائل و براہین ہیں جن سے تمام لوگوں پر حجت تمام ہو جاتی ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کر دی ہیں، کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کر لیں۔الزمر: 27اللہ تعالی کا فرمان ہے:"اور ہم نے آپ پر وہ کتاب اتاری ہے جو ہر چیز کا وضاحت نامہ اور مسلمانوں کے لیے ہدایت و رحمت اور خوش خبری ہے"۔النحل: 89قرآن کریم بہت سارے ایسے اہم سوالوں کا اس انداز سے جواب دیتا ہے جو لاکھوں لوگوں کو حیرت میں ڈال دیتا ہے، جیسے وہ پورے یقین و اعتماد کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کو کیسے پیدا کیا،ارشاد ہے:کیا کافروں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان وزمین باہم ملے جلے تھے، پھر ہم نے انہیں ایک دوسرے سے جدا کیا اور ہر زنده چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا، کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں ﻻتے۔الانبیاء: 30وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو کیسے پیدا کیا،ارشاد ہے:لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر خون بستہ سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور بے نقشہ تھا۔ یہ ہم تم پر ﻇاہر کر دیتے ہیں اور ہم جسے چاہیں، ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں ﻻتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو، تم میں سے بعض تو وه ہیں جو فوت کر لیے جاتے ہیں اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دیے جاتے ہیں کہ وه ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے، تو دیکھتا ہے کہ زمین (بنجر اور) خشک ہے پھر ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وه ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے۔(الحج: 5)۔ قرآن کریم یہ بھی بتاتا ہے کہ اس زندگی کے بعد انسان کا آخری ٹھکانہ کہاں ہوگا اور نیک و بد انسان کی جزا و سزا کیا ہوگی۔ اس مسئلے پر فقرہ (20) کے تحت دلیلیں بیان کی جا چکی ہیں، یہ اس سوال کا جواب بھی دیتا ہے کہ یہ اس کائنتات کا وجود بس اتفاقیہ ہے یا کسی اعلی مقصد کے تحت اسے وجود میں لایا گیا ہے؟اللہ تعالی کا فرمان ہے:اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں اور اس بات میں کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی آ پہنچی ہو،پھر قرآن کے بعد کون سی بات پر یہ لوگ ایمان ﻻئیں گے؟الاعراف: 185اللہ تعالی کا فرمان ہے:کیا تم یہ گمان کیے بیٹھے ہو کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے۔المومنون: 115قرآن کریم آج بھی اسی زبان میں محفوظ ہے جس میں نازل ہوا تھا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔الحجر: 9آج تک اس سے ایک حرف بھی کم نہ ہوا اور یہ ناممکن ہے کہ اس میں ذرا بھی تناقض یا نقص یا تبدیلی واقع ہو جائے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔النساء: 82وہ مطبوع و منشور ہے اور ایک ایسی معجز نما عظیم کتاب ہے جس کا مطالعہ کرنا یا سننا یا کم از کم جس کے ترجمۂ معانی کا مطالعہ کرنا از حد ضروری ہے،اسی طرح اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت، تعلیمات اور سیرت بھی معتمد اور موثوق بہ راویوں کے حوالے سے منقول و محفوظ ہیں، یہ ساری چیزیں بھی اسی عربی زبان میں مطبوع ہیں جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بات چیت کیا کرتے تھے، ان کا ترجمہ بھی دنیا کی بہت ساری زبانوں میں ہوا ہے، قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہی دو ایسے مصادر ہیں جن سے اسلامی احکام اور قوانین اخذ کیے جاتے ہیں، اس لیے اسلام کو اس کی طرف منسوب افراد یعنی مسلمانوں کے اعمال و تصرفات کو دیکھ کر نہیں، بلکہ وحی الہی یعنی قرآن و سنت سے لیا جائے گا، اللہ تعالی قرآن کی شان میں فرماتا ہے:بے شک جن لوگوں نے ذکر (قرآن) کے ان کے پاس آ جانے کے بعد کفر کیا، جب کہ یہ ایک ایسی غالب و محکم کتاب ہے کہ باطل نہ اس کے سامنے سے آ سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، یہ تو حکمت والے بے انتہا تعریف کے لائق اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے۔قصلت: 41- 42اللہ تعالی نے اپنے نبی کی سنت کی شان میں فرمایا کہ وہ بھی اللہ تعالی کی وحی ہے:"اور رسول (صلی اللہ علیہ و سلم) جو کچھ تمہیں دے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کرے اس سے باز رہو اور اللہ تعالی سے ڈرو، کیونکہ بے شک اللہ تعالی بہت سخت عذاب والا ہے"۔الحشر: 7

اور بے شک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے (192)۔

اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے (193)۔

آپ کے دل پر اترا ہے کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں (194)۔

صاف عربی زبان میں ہے (195)۔

الشعراء: 192- 195

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

بے شک آپ کو اللہ حکیم وعلیم کی طرف سے قرآن سکھایا جارہا ہے۔

النمل: 6

یہ قرآن اللہ تعالی کی نازل کردہ اور اللہ کی اتاری ہوئی سابقہ کتابوں کی تصدیق کرنے والی کتاب ہے، ارشاد ربانی ہے:

اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اللہ (کی وحی) کے بغیر (اپنے ہی سے) گھڑ لیا گیا ہو، بلکہ یہ تو (ان کتابوں کی) تصدیق کرنے واﻻ ہے جو اس سے قبل (نازل) ہوچکی ہیں اور کتاب (احکام ضروریہ) کی تفصیل بیان کرنے واﻻ ہے، اس میں کوئی بات شک کی نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔

یونس: 37

قرآن کریم بہت سارے ایسے دینی مسائل کی تفصیل بیان کرتا ہے جن میں یہود و نصاری دینی بنیاد پر آپس میں اختلاف کرچکے ہیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

یقیناً یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان اکثر چیزوں کا بیان کر رہا ہے جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں۔

النمل: 76

قرآن کریم کے اندر, اللہ تعالی، اس کے دین اور اس کی جزا سے متعلق حقائق کی معرفت و پہچان پر بے شمار ایسے دلائل و براہین ہیں جن سے تمام لوگوں پر حجت تمام ہو جاتی ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کر دی ہیں، کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کر لیں۔

الزمر: 27

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

"اور ہم نے آپ پر وہ کتاب اتاری ہے جو ہر چیز کا وضاحت نامہ اور مسلمانوں کے لیے ہدایت و رحمت اور خوش خبری ہے"۔

النحل: 89

قرآن کریم بہت سارے ایسے اہم سوالوں کا اس انداز سے جواب دیتا ہے جو لاکھوں لوگوں کو حیرت میں ڈال دیتا ہے، جیسے وہ پورے یقین و اعتماد کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کو کیسے پیدا کیا،ارشاد ہے:

کیا کافروں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان وزمین باہم ملے جلے تھے، پھر ہم نے انہیں ایک دوسرے سے جدا کیا اور ہر زنده چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا، کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں ﻻتے۔

الانبیاء: 30

وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو کیسے پیدا کیا،ارشاد ہے:

لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر خون بستہ سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور بے نقشہ تھا۔ یہ ہم تم پر ﻇاہر کر دیتے ہیں اور ہم جسے چاہیں، ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں ﻻتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو، تم میں سے بعض تو وه ہیں جو فوت کر لیے جاتے ہیں اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دیے جاتے ہیں کہ وه ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے، تو دیکھتا ہے کہ زمین (بنجر اور) خشک ہے پھر ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وه ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے۔

(الحج: 5)۔ قرآن کریم یہ بھی بتاتا ہے کہ اس زندگی کے بعد انسان کا آخری ٹھکانہ کہاں ہوگا اور نیک و بد انسان کی جزا و سزا کیا ہوگی۔ اس مسئلے پر فقرہ (20) کے تحت دلیلیں بیان کی جا چکی ہیں، یہ اس سوال کا جواب بھی دیتا ہے کہ یہ اس کائنتات کا وجود بس اتفاقیہ ہے یا کسی اعلی مقصد کے تحت اسے وجود میں لایا گیا ہے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں اور اس بات میں کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی آ پہنچی ہو،پھر قرآن کے بعد کون سی بات پر یہ لوگ ایمان ﻻئیں گے؟

الاعراف: 185

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

کیا تم یہ گمان کیے بیٹھے ہو کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے۔

المومنون: 115

قرآن کریم آج بھی اسی زبان میں محفوظ ہے جس میں نازل ہوا تھا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

الحجر: 9

آج تک اس سے ایک حرف بھی کم نہ ہوا اور یہ ناممکن ہے کہ اس میں ذرا بھی تناقض یا نقص یا تبدیلی واقع ہو جائے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔

النساء: 82

وہ مطبوع و منشور ہے اور ایک ایسی معجز نما عظیم کتاب ہے جس کا مطالعہ کرنا یا سننا یا کم از کم جس کے ترجمۂ معانی کا مطالعہ کرنا از حد ضروری ہے،اسی طرح اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت، تعلیمات اور سیرت بھی معتمد اور موثوق بہ راویوں کے حوالے سے منقول و محفوظ ہیں، یہ ساری چیزیں بھی اسی عربی زبان میں مطبوع ہیں جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بات چیت کیا کرتے تھے، ان کا ترجمہ بھی دنیا کی بہت ساری زبانوں میں ہوا ہے، قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہی دو ایسے مصادر ہیں جن سے اسلامی احکام اور قوانین اخذ کیے جاتے ہیں، اس لیے اسلام کو اس کی طرف منسوب افراد یعنی مسلمانوں کے اعمال و تصرفات کو دیکھ کر نہیں، بلکہ وحی الہی یعنی قرآن و سنت سے لیا جائے گا، اللہ تعالی قرآن کی شان میں فرماتا ہے:

بے شک جن لوگوں نے ذکر (قرآن) کے ان کے پاس آ جانے کے بعد کفر کیا، جب کہ یہ ایک ایسی غالب و محکم کتاب ہے کہ باطل نہ اس کے سامنے سے آ سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، یہ تو حکمت والے بے انتہا تعریف کے لائق اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے۔

قصلت: 41- 42

اللہ تعالی نے اپنے نبی کی سنت کی شان میں فرمایا کہ وہ بھی اللہ تعالی کی وحی ہے:

"اور رسول (صلی اللہ علیہ و سلم) جو کچھ تمہیں دے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کرے اس سے باز رہو اور اللہ تعالی سے ڈرو، کیونکہ بے شک اللہ تعالی بہت سخت عذاب والا ہے"۔

الحشر: 7

 29- اسلام والدین سے خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں، حسن سلوک کا حکم دیتا اور اولاد کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آنے کی وصیت کرتا ہے۔

اسلام والدین سے حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا، اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا۔الاسراء: 23اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔لقمان: 14اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے، یہاں تک کہ جب وه پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا: اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا ﻻؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اوﻻد بھی صالح بنا، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔الاحقاف: 15سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ فرمایا: تیری ماں۔ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: پھر تیری ماں۔ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: پھر تیری ماں۔ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: پھر تیرا باپ۔صحیح مسلموالدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا یہ حکم عام ہے یعنی والدین چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم، ان سے بہر حال حسن سلوک کرنا ہے۔سیدہ اسما بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ قریش سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے معاہدہ کے زمانے میں میری ماں جو اس وقت تک مشرک تھیں اپنے بیٹے کے ساتھ مجھ سے ملنے آئیں، میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس بابت استفسار کرتے ہوئے کہا: میری ماں جو مشرک ہیں لیکن اسلام کی طرف مائل ہیں مجھ سے ملنے آئی ہیں کیا میں ان کی خاطر داری کروں؟ فرمایا: ہاں اپنی ماں کی ضرور خاطر داری کرو۔صحیح بخاریلیکن اگر والدین اپنی اولاد کو اسلام سے پھیر کر کفر کے دامن میں واپس لانے کی کوشش کریں تو اسلام اسے حکم دیتا ہے کہ ایسی صورت میں وہ ان کی اطاعت نہ کرے، بلکہ اللہ تعالی پر ایمان بحال رکھے، ان کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی کا معاملہ کرے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور اگر وه دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا اور اس کی راه چلنا جو میری طرف جھکا ہوا ہو، تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے، تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کروں گا۔لقمان: 15اسلام ایک مسلمان کو قرابت دار یا غیر قرابت دار مشرکین سے اگر اس سے حالت جنگ میں نہ ہوں تو احسان کا معاملہ کرنے سے منع نہیں کرتا، اللہ تعالی فرماتا ہے:جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا، ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔الممتحنۃ: 8اسلام والدین کو اپنی اولاد کی بہترین پرورش و پرداخت کرنے کی تاکیدی حکم دیتا ہے، اسلام کا والد کو اس سلسلے میں سب سے بڑا حکم یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اس بات کی تعلیم دے کہ ان پر ان کے پروردگار کے کیا حقوق ہیں، جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے چچا زاد بھائی سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا:"اے بچے! یا فرمایا کہ اے ننھے! کیا میں تجھے ایسے چند کلمات نہ سکھا دوں جن سے اللہ تعالی تجھے فائدہ عطا کرے؟ میں نے کہا: ضرور۔ فرمایا: اللہ تعالی کو ہر لمحے یاد رکھ، وہ تجھے یاد رکھے گا، اللہ تعالی کو ہر گھڑی یاد رکھ تو اسے اپنے سامنے پائے گا،تو خوش حالی میں اسے یاد رکھ وہ تجھے تنگ حالی میں یاد رکھے گا، جب تجھے کچھ مانگنا ہو تو اللہ ہی سے مانگ اور جب مدد طلب کرنی ہو تو اللہ ہی سے طلب کر"۔اسے احمد (4/287) نے روایت کیا ہے۔اللہ تعالی نے والدین کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو نفع بخش دینی و دنیوی امور کی تعلیم دیں، اس نے فرمایا:اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا ﻻتے ہیں۔التحریم: 6سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالی کے قول:"خود کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاو"کى تفسیر و توضیح میں منقول ہے:"ان کو ادب سکھاؤ اور تعلیم دو"۔نبی صلىاللہ علیہ وسلم نے والد کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو نماز کی تعلیم دے تاکہ نماز اس کی گھٹی میں پڑ جائے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:"تمہاری اولاد جب سات سال کی ہو جائے تو ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو"۔اسے امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مزید فرمایا:"تم میں کا ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر کسی سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا،امام ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا،مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے گھر والوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر کی جوابدہ ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، نوکر اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے آقا کے مال کے بارے میں پوچھا جائے گا، غرض تم میں کا ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا"۔صحیح ابن حبان (4490)۔اسلام نے والد کو اپنی اولاد اور اپنے گھر والوں کا خرچ اٹھانے کا حکم دیا ہے، فقرہ (18) میں ہم اس کا مختصر ذکر بھی کر آئے ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اولاد کا خرچ اٹھانے کے فضائل بیان کوتے ہوئے فرمایا ہے:"بہترین دینار وہ ہے جو ایک آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے،اور وہ دینار ہے جو اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوئے اپنے سواری کے جانور پر خرچ کرتا ہے اوروہ دینار ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے دوست احباب پر خرچ کرتا ہے۔ ابو قلابہ کہتے ہیں:اہل و عیال سى شروعات سے کیا، پھر ابو قلابہ نے کہا کہ اجر و ثواب میں اس آدمی سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے جو چھوٹے چھوٹے بچوں پر اس لیے خرچ کرتا ہے کہ وہ بھیک مانگنے سے بچ جائیں یا اللہ تعالی اس سے ان کو نفع پہنچائے اور بے نیاز کر دے"۔صحیح مسلم: 994

اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا، اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا۔

الاسراء: 23

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

لقمان: 14

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے، یہاں تک کہ جب وه پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا: اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا ﻻؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اوﻻد بھی صالح بنا، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔

الاحقاف: 15

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ فرمایا: تیری ماں۔ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: پھر تیری ماں۔ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: پھر تیری ماں۔ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: پھر تیرا باپ۔

صحیح مسلم

والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا یہ حکم عام ہے یعنی والدین چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم، ان سے بہر حال حسن سلوک کرنا ہے۔

سیدہ اسما بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ قریش سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے معاہدہ کے زمانے میں میری ماں جو اس وقت تک مشرک تھیں اپنے بیٹے کے ساتھ مجھ سے ملنے آئیں، میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس بابت استفسار کرتے ہوئے کہا: میری ماں جو مشرک ہیں لیکن اسلام کی طرف مائل ہیں مجھ سے ملنے آئی ہیں کیا میں ان کی خاطر داری کروں؟ فرمایا: ہاں اپنی ماں کی ضرور خاطر داری کرو۔

صحیح بخاری

لیکن اگر والدین اپنی اولاد کو اسلام سے پھیر کر کفر کے دامن میں واپس لانے کی کوشش کریں تو اسلام اسے حکم دیتا ہے کہ ایسی صورت میں وہ ان کی اطاعت نہ کرے، بلکہ اللہ تعالی پر ایمان بحال رکھے، ان کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی کا معاملہ کرے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اور اگر وه دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا اور اس کی راه چلنا جو میری طرف جھکا ہوا ہو، تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے، تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کروں گا۔

لقمان: 15

اسلام ایک مسلمان کو قرابت دار یا غیر قرابت دار مشرکین سے اگر اس سے حالت جنگ میں نہ ہوں تو احسان کا معاملہ کرنے سے منع نہیں کرتا، اللہ تعالی فرماتا ہے:

جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا، ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

الممتحنۃ: 8

اسلام والدین کو اپنی اولاد کی بہترین پرورش و پرداخت کرنے کی تاکیدی حکم دیتا ہے، اسلام کا والد کو اس سلسلے میں سب سے بڑا حکم یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اس بات کی تعلیم دے کہ ان پر ان کے پروردگار کے کیا حقوق ہیں، جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے چچا زاد بھائی سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا:

"اے بچے! یا فرمایا کہ اے ننھے! کیا میں تجھے ایسے چند کلمات نہ سکھا دوں جن سے اللہ تعالی تجھے فائدہ عطا کرے؟ میں نے کہا: ضرور۔ فرمایا: اللہ تعالی کو ہر لمحے یاد رکھ، وہ تجھے یاد رکھے گا، اللہ تعالی کو ہر گھڑی یاد رکھ تو اسے اپنے سامنے پائے گا،تو خوش حالی میں اسے یاد رکھ وہ تجھے تنگ حالی میں یاد رکھے گا، جب تجھے کچھ مانگنا ہو تو اللہ ہی سے مانگ اور جب مدد طلب کرنی ہو تو اللہ ہی سے طلب کر"۔

اسے احمد (4/287) نے روایت کیا ہے۔

اللہ تعالی نے والدین کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو نفع بخش دینی و دنیوی امور کی تعلیم دیں، اس نے فرمایا:

اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا ﻻتے ہیں۔

التحریم: 6

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالی کے قول:

"خود کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاو"

کى تفسیر و توضیح میں منقول ہے:"ان کو ادب سکھاؤ اور تعلیم دو"۔

نبی صلىاللہ علیہ وسلم نے والد کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو نماز کی تعلیم دے تاکہ نماز اس کی گھٹی میں پڑ جائے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"تمہاری اولاد جب سات سال کی ہو جائے تو ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو"۔

اسے امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مزید فرمایا:

"تم میں کا ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر کسی سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا،امام ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا،مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے گھر والوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر کی جوابدہ ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، نوکر اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے آقا کے مال کے بارے میں پوچھا جائے گا، غرض تم میں کا ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا"۔

صحیح ابن حبان (4490)۔

اسلام نے والد کو اپنی اولاد اور اپنے گھر والوں کا خرچ اٹھانے کا حکم دیا ہے، فقرہ (18) میں ہم اس کا مختصر ذکر بھی کر آئے ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اولاد کا خرچ اٹھانے کے فضائل بیان کوتے ہوئے فرمایا ہے:

"بہترین دینار وہ ہے جو ایک آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے،اور وہ دینار ہے جو اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوئے اپنے سواری کے جانور پر خرچ کرتا ہے اوروہ دینار ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے دوست احباب پر خرچ کرتا ہے۔ ابو قلابہ کہتے ہیں:اہل و عیال سى شروعات سے کیا، پھر ابو قلابہ نے کہا کہ اجر و ثواب میں اس آدمی سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے جو چھوٹے چھوٹے بچوں پر اس لیے خرچ کرتا ہے کہ وہ بھیک مانگنے سے بچ جائیں یا اللہ تعالی اس سے ان کو نفع پہنچائے اور بے نیاز کر دے"۔

صحیح مسلم: 994

 30- اسلام قول و عمل میں دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کا اہتمام کرنے کا حکم دیتا ہے۔

اللہ تعالی اپنے افعال اور اپنے بندوں کے مابین معاملات کى تدبیر میں عدل و انصاف سے متصف ہے، اس نے جو حکم دیا، جس سے منع کیا، جو کچھ پیدا کیا اور جو تقدیر لکھی، ہر چیز میں وہ راہ راست پر ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وه عدل کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں۔آل عمران: 18اللہ تعالی عدل قائم کرنے کا حکم دیتا ہے، اس کا فرمان ہے:"آپ کہہ دیجیے کہ میرے رب نے مجھے عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم دیا ہے"۔الاعراف: 29تمام انبیا و رسل علیہم السلام عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے آئے تھے، اللہ تعالی کہتا ہے:"بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیاں دے کر بھیجا اور ان پر کتاب و میزان نازل کی تاکہ لوگ عدل پر قائم ہوں"۔الحدید: 25میزان کا مطلب ہے: اقوال اور افعال میں عدل و انصاف کا اہتمام کرنا۔اسلام قول و عمل میں دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف برقرار رکھنے کا حکم دیتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:اے ایمان والو! عدل وانصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی موﻻ کے لیے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ گو وه خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشتہ دار عزیزوں کے، وه شخص اگر امیر ہو تو اور فقیر ہو تو دونوں کے ساتھ اللہ کو زیاده تعلق ہے، اس لیے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا اور اگر تم نے کج بیانی یا پہلو تہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔النساء: 135اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:ان لوگوں کی دشمنی جنہوں نے تمہیں مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا تھا تمہیں حد سے تجاوز کرنے پر نہ اکسا دے، تم لوگ نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو، ظلم و عدوان پر تعاون ہرگز نہ کرو اور اللہ تعالی سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تعالی سخت عذاب والا ہے۔المائدہ: 2اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ، کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل کام کرنے پر آماده نہ کردے، عدل کیا کرو جو پرہیز گاری کے زیاده قریب ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔المائدہ: 8کیا آپ کو آج کی امتوں کے قوانین یا دوسرے لوگوں کے ادیان و مذاہب میں حق کی شہادت دینے اور ہر حال میں راستی اور سچائی کی ڈگر پر ثابت قدمی کے ساتھ چلتے رہنے کی ایسی تلقین چاہے وہ اپنےنفس، اپنے والدین اور قرابت داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اسلام کے علاوہ کہیں اور دکھائی دیتی ہے؟ کیا اسلام کے علاوہ کوئی اور مذہب بھی دوست دشمن سب کے ساتھ عدل و انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے؟اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اولاد کے درمیان بھی عدل و انصاف سے کام لینے کا حکم دیا ہے۔عامر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو منبر سے کہتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میرے ابو جان نے مجھے ایک عطیہ دیا تو عمرہ بنت رواحہ (ان کی ماں) کہنے لگیں: میں اس سے اسی وقت مطمئن اور خوش ہو سکتی ہوں جب آپ اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو گواہ بنا لیں،یہ سن کر وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور کہا: میں نے عمرہ بنت رواحہ کے بطن سے پیدا ہونے والے اپنے اس بیٹے کو ایک عطیہ دیا تو اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر آپ کو اے اللہ کے رسول! گواہ بنا دوں، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اتنا ہی تم نے اپنے سارے بچوں کو دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: تو اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف سے کام لو، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سن کر ابو جان لوٹ آئے اور اپنا عطیہ لوٹا لیا۔صحیح بخاری: 2587

اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وه عدل کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں۔

آل عمران: 18

اللہ تعالی عدل قائم کرنے کا حکم دیتا ہے، اس کا فرمان ہے:

"آپ کہہ دیجیے کہ میرے رب نے مجھے عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم دیا ہے"۔

الاعراف: 29

تمام انبیا و رسل علیہم السلام عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے آئے تھے، اللہ تعالی کہتا ہے:

"بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیاں دے کر بھیجا اور ان پر کتاب و میزان نازل کی تاکہ لوگ عدل پر قائم ہوں"۔

الحدید: 25

میزان کا مطلب ہے: اقوال اور افعال میں عدل و انصاف کا اہتمام کرنا۔

اسلام قول و عمل میں دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف برقرار رکھنے کا حکم دیتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

اے ایمان والو! عدل وانصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی موﻻ کے لیے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ گو وه خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشتہ دار عزیزوں کے، وه شخص اگر امیر ہو تو اور فقیر ہو تو دونوں کے ساتھ اللہ کو زیاده تعلق ہے، اس لیے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا اور اگر تم نے کج بیانی یا پہلو تہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

النساء: 135

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

ان لوگوں کی دشمنی جنہوں نے تمہیں مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا تھا تمہیں حد سے تجاوز کرنے پر نہ اکسا دے، تم لوگ نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو، ظلم و عدوان پر تعاون ہرگز نہ کرو اور اللہ تعالی سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تعالی سخت عذاب والا ہے۔

المائدہ: 2

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ، کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل کام کرنے پر آماده نہ کردے، عدل کیا کرو جو پرہیز گاری کے زیاده قریب ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔

المائدہ: 8

کیا آپ کو آج کی امتوں کے قوانین یا دوسرے لوگوں کے ادیان و مذاہب میں حق کی شہادت دینے اور ہر حال میں راستی اور سچائی کی ڈگر پر ثابت قدمی کے ساتھ چلتے رہنے کی ایسی تلقین چاہے وہ اپنےنفس، اپنے والدین اور قرابت داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اسلام کے علاوہ کہیں اور دکھائی دیتی ہے؟ کیا اسلام کے علاوہ کوئی اور مذہب بھی دوست دشمن سب کے ساتھ عدل و انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے؟

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اولاد کے درمیان بھی عدل و انصاف سے کام لینے کا حکم دیا ہے۔

عامر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو منبر سے کہتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میرے ابو جان نے مجھے ایک عطیہ دیا تو عمرہ بنت رواحہ (ان کی ماں) کہنے لگیں: میں اس سے اسی وقت مطمئن اور خوش ہو سکتی ہوں جب آپ اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو گواہ بنا لیں،یہ سن کر وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور کہا: میں نے عمرہ بنت رواحہ کے بطن سے پیدا ہونے والے اپنے اس بیٹے کو ایک عطیہ دیا تو اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر آپ کو اے اللہ کے رسول! گواہ بنا دوں، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اتنا ہی تم نے اپنے سارے بچوں کو دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: تو اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف سے کام لو، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سن کر ابو جان لوٹ آئے اور اپنا عطیہ لوٹا لیا۔

صحیح بخاری: 2587

ایسا اس لیے کیوں کہ عوام اور ملکوں کے تمام معاملات کی درستگی عدل ہی پر منحصر ہے اور لوگ اپنے مذاہب، خون، ذریت، عزت و آبرو، مال و دولت اور وطن کے معاملے میں مامون و محفوظ اسی وقت ہو سکتے ہیں جب عدل قائم ہو، اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ جب مکہ کے کافروں نے مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی، ان کا جینا محال کر دیا تو ان کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے جائیں اور اس کا سبب یہ بتایا کہ حبشہ پر ایک عادل و منصف بادشاہ حکومت کرتا ہے اور اس کے یہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا۔

 31- اسلام تمام مخلوقات پر احسان کرنے کا حکم دیتا ہے اور اخلاق فاضلانہ کے زیور سے آراستہ ہونے اور نیک اعمال کرنے کی دعوت و ترغیب دیتا ہے۔

اسلام تمام مخلوقات پر احسان کرنے کا حکم دیتا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:بے شک اللہ تعالی عدل و احسان اور قرابت داروں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے۔النحل: 90اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:جو لوگ آسانی میں اور سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے۔آل عمران: 134اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بے شک اللہ تعالی نے ہر چیز پر احسان کرنا ضروری قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب (جانور) ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ تم میں سے کوئی بھی شخص (جو جانور کو ذبح کرنا چاہتا ہو) اپنی چھری کو خوب تیز کرلے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو آرام پہنچائے۔صحیح مسلم: 1955اسلام اخلاق فاضلانہ کے زیور سے آراستہ ہونے اور نیک اعمال کرنے کی دعوت و ترغیب دیتا ہے، اللہ تعالی نے سابقہ کتابوں میں اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ صفت بتلائی ہے:جو لوگ ایسے رسول و نبی امی کی اتباع کرتے ہیں جن کو وه لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، وه ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزه چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں، سو جو لوگ اس نبی پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کی اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں۔الاعراف: 157اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اے عائشہ! اللہ تعالی بے حد نرم خو ہے اور نرمی کو پسند بھی کرتا ہے، وہ نرمی پر وہ کچھ عطا کرتا ہے جو سختی پر نہیں بخشتا اور نہ اس کے علاوہ کسی اور چیز پر نوازتا ہے"۔صحیح مسلم: 2593اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"بے شک اللہ تعالی نے تم پر ماؤں کی نافرمانی، لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے اور روک ومانگ کو حرام قرار دیا ہے اور تمہارے لئے قیل و قال، کثرت سوال اور مال کو یوں ہی برباد کرنے کو سخت ناپسند فرمایا ہے"۔صحیح بخاری: 2408اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم جنت میں اس وقت تک نہیں داخل ہو سکتے جب تک کہ تم ایمان نہ لے آؤ اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے اپنا لو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔"صحیح مسلم: 54

بے شک اللہ تعالی عدل و احسان اور قرابت داروں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے۔

النحل: 90

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

جو لوگ آسانی میں اور سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے۔

آل عمران: 134

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

بے شک اللہ تعالی نے ہر چیز پر احسان کرنا ضروری قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب (جانور) ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ تم میں سے کوئی بھی شخص (جو جانور کو ذبح کرنا چاہتا ہو) اپنی چھری کو خوب تیز کرلے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو آرام پہنچائے۔

صحیح مسلم: 1955

اسلام اخلاق فاضلانہ کے زیور سے آراستہ ہونے اور نیک اعمال کرنے کی دعوت و ترغیب دیتا ہے، اللہ تعالی نے سابقہ کتابوں میں اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ صفت بتلائی ہے:

جو لوگ ایسے رسول و نبی امی کی اتباع کرتے ہیں جن کو وه لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، وه ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزه چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں، سو جو لوگ اس نبی پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کی اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں۔

الاعراف: 157

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اے عائشہ! اللہ تعالی بے حد نرم خو ہے اور نرمی کو پسند بھی کرتا ہے، وہ نرمی پر وہ کچھ عطا کرتا ہے جو سختی پر نہیں بخشتا اور نہ اس کے علاوہ کسی اور چیز پر نوازتا ہے"۔

صحیح مسلم: 2593

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"بے شک اللہ تعالی نے تم پر ماؤں کی نافرمانی، لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے اور روک ومانگ کو حرام قرار دیا ہے اور تمہارے لئے قیل و قال، کثرت سوال اور مال کو یوں ہی برباد کرنے کو سخت ناپسند فرمایا ہے"۔

صحیح بخاری: 2408

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم جنت میں اس وقت تک نہیں داخل ہو سکتے جب تک کہ تم ایمان نہ لے آؤ اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے اپنا لو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔"

صحیح مسلم: 54

 32- اسلام اخلاق فاضلانہ کے زیورجیسے صدق گوئی، امانت کی ادائیگی، پاک دامنی، حیا داری، بہادری، جود و سخا، محتاج کی اعانت، مظلوم و مقہور کی فریاد رسی، بھوکے کو کھانا کھلانا، پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا، صلہ رحمی اور جانوروں پر رحم کھانا وغیرہ، سے آراستہ و پیراستہ ہونے کا حکم دیتا ہے۔

اسلام اخلاق فاضلانہ سے متصف ہونے کا حکم دیتا ہے، اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:(بے شک میں حسن اخلاق کے اتمام کے لیے بھیجا گیا ہوں)صحیح الادب المفرد: 207اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:(بے شک تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور بروز قیامت مجھ سے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ اخلاق مند ہیں اور میری نظر میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور بروز قیامت مجھ سے سب سے زیادہ دور بیٹھنے والے بد زبان و بدخلق، متشدق اور متفیہق لوگ ہوں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عرض پرداز ہوئے: ہم ثرثار اور متشدق کا مفہوم تو سمجھ گئے، مگر متفیہقون کا لفظ سمجھ میں نہیں آیا؟ فرمایا: غرور و تکبر کرنے والے۔)السلسلۃ الصحیحۃ: 791سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نہ تو فحش گو تھے اور نہ بہ تکلف بد زبانی کرنے والے تھے،آپﷺ فرمایا کرتے تھے کہ "تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔صحیح بخاری: 3559ان کے علاوہ بہت ساری آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ ایسی موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اسلام حسن اخلاق اور حسن عمل پر عمومی انداز میں ابھارتا ہے۔اسلام جن چیزوں کا حکم دیتا ہے ان میں سے ایک سچ بولنا بھی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے:"صدق گوئی کو لازم پکڑو، کیونکہ وہ نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے، ایک انسان سچ بولتا جاتا ہے اور سچ بولنے کو اپنی عادت بنا لیتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالی کے نزدیک "صدیق" یعنی بہت ہی سچا انسان لکھ لیا جاتا ہے"۔صحیح مسلم: 2607اسلام جن باتوں کا حکم دیتا ہے ان میں سے ایک امانت کی ادائیگی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:"بے شک اللہ تعالی تمہیں امانتوں کو ان کے مالکان کو ادا کر دینے کا حکم دیتا ہے"۔النساء: 58اسلام جن باتوں کا حکم دیتا ہے، ان میں سے ایک پاک دامنی اختیار کرنا بھی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے:"تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کا یہ حق بن جاتا ہے کہ اللہ تعالی ان کی مدد کرے اور پھر ان میں سے ایک اس آدمی کو شمار کیا جو اپنی عفت و پاک دامنی کی حفاظت کے لیے شادی کرتا ہے"۔سنن ترمذی: 1655اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک دعا یہ بھی تھی جس میں آپ کہا کرتے تھے:اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں۔صحیح مسلم: 2721اسلام جن خوبیوں کا خوگر بننے کا حکم دیتا ہےان میں سے ایک حیا داری بھی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:حیا تو بس خیر ہی لاتی ہے۔صحیح بخاری: 6117اور رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے:"ہر دین کا ایک امتیازی وصف ہوتا ہے اور اسلام کا امتیازی وصف، حیا داری ہے"۔اسے بیہقی نے شعب الایمان (6/2619) میں روایت کیا ہے۔اسلام جن امتیازی اوصاف کا پیکر بننے کا حکم دیتا ہے ان میں سے ایک شجاعت و بہادری بھی ہے، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:"اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں میں سب سے زیادہ حسین و خوب صورت، سب سے زیادہ بہادر اور سب سے زیادہ سخی انسان تھے،ایک بار جب اہل مدینہ کسی انہونی سے بہت زیادہ ڈر گئے تھے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہی گھوڑے پر سوار ہو کر ان میں سب سے پہلے اس کا ادراک کرنے تشریف لے گئے تھے"۔صحیح بخاری: 2820رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بزدلی سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے اور یہ دعا کیا کرتے تھے:"اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں"۔صحیح بخاری: 6374اسلام صدقہ و خیرات کی صورت میں کرم گستری کا بھی حکم دیتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوئے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے۔البقرہ: 261کرم گستری اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا وطیرہ تھی، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:"اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم خیر کے کاموں میں تمام لوگوں سے بڑھ کر کرم گستر تھے، آپ رمضان کے مہینے میں اور زیادہ اس وقت کرم گستر بن جاتے تھے جب سیدنا جبریل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے تھے اور وہ آپ سے ماہ رمضان کے خاتمے تک ہر رات ملاقات کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان سے قرآن کا دور کیا کرتے تھے،پس جب جبریل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے تو آپ تیز رو باد بہاری سے کہیں زیادہ کرم گستر بن جایا کرتے تھے"۔صحیح بخاری: 1902اسلام محتاج کی اعانت کرنے، لاچار کی فریاد رسی کرنے، بھوکے کو کھانا کھلانے، پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے، صلہ رحمی کرنے اور حیوانوں پر رحم کھانے کا بھی حکم دیتا ہے۔سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مرفوعا روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہترین ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "تم کھانا کھلاؤ اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی سلام کرو۔صحیح بخاری: 12اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:"ایک آدمی ایک راستے سے چلا جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی اتفاق سے اسے ایک کنواں ملا تو اس میں اترا اور پانی پی کر باہر نکل آیا تو دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی شدت کے مارے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے، اس نے دل ہی دل میں کہا کہ اس کتے کو بھی اتنی ہی پیاس لگی ہوئی ہے جتنی مجھے لگی تھی، یہ سوچ کر وہ دوبارہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھر کر اپنے منہ سے پکڑ کر باہر آیا اور کتے کو پانی پلا دیا، اللہ تعالی کو اس کا یہ عمل اس قدر بھایا کہ اس نے اس آدمی کو بخش دیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عرض پرداز ہوئے: اے اللہ کے رسول! کیا جانوروں میں بھی ہمارے لیے ثواب رکھا ہے؟ فرمایا: ہاں! ہر تر کلیجی والے میں اجر و ثواب ہے"۔صحیح ابن حبان: 544اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"بیواؤں اور مسکین کی اعانت میں دوڑ دھوپ کرنے والا، اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا رات کے عبادت گزار اور دن کے روزہ دار کی طرح ہے"۔صحیح بخاری: 5353اسلام رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کی تاکید کرتا اور صلہ رحمی کو واجب گردانتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:نبی مومنوں پر خود ان سے بھی زیاده حق رکھنے والے ہیں اور ان کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں اور رشتے دار کتاب اللہ کی رو سے بہ نسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیاده حق دار ہیں (ہاں) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو۔ یہ حکم کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے۔الاحزاب: 6مذہب اسلام نے قطع رحمی سے ڈرایا اور اسے زمین میں فساد مچانے سے تعبیر کیا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو (22)یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے (23)۔محمد: 22- 23اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے: رشتوں ناطوں کو پامال کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔صحیح مسلم: 2556وہ رشتے جن کو بنائے رکھنا واجب ہے یہ ہیں: والدین، بھائی، بہن، چچا پھوپھی، ماموں, خالہ۔اسلام پڑوسی کے حقوق کی ادائیگی کی تاکید کرتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راه کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں، (غلام، کنیز) یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا۔النساء: 36اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے (حق کے) بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے۔صحیح ابو داود: 5152

(بے شک میں حسن اخلاق کے اتمام کے لیے بھیجا گیا ہوں)

صحیح الادب المفرد: 207

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(بے شک تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور بروز قیامت مجھ سے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ اخلاق مند ہیں اور میری نظر میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور بروز قیامت مجھ سے سب سے زیادہ دور بیٹھنے والے بد زبان و بدخلق، متشدق اور متفیہق لوگ ہوں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عرض پرداز ہوئے: ہم ثرثار اور متشدق کا مفہوم تو سمجھ گئے، مگر متفیہقون کا لفظ سمجھ میں نہیں آیا؟ فرمایا: غرور و تکبر کرنے والے۔)

السلسلۃ الصحیحۃ: 791

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نہ تو فحش گو تھے اور نہ بہ تکلف بد زبانی کرنے والے تھے،آپﷺ فرمایا کرتے تھے کہ "تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔

صحیح بخاری: 3559

ان کے علاوہ بہت ساری آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ ایسی موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اسلام حسن اخلاق اور حسن عمل پر عمومی انداز میں ابھارتا ہے۔

اسلام جن چیزوں کا حکم دیتا ہے ان میں سے ایک سچ بولنا بھی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے:

"صدق گوئی کو لازم پکڑو، کیونکہ وہ نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے، ایک انسان سچ بولتا جاتا ہے اور سچ بولنے کو اپنی عادت بنا لیتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالی کے نزدیک "صدیق" یعنی بہت ہی سچا انسان لکھ لیا جاتا ہے"۔

صحیح مسلم: 2607

اسلام جن باتوں کا حکم دیتا ہے ان میں سے ایک امانت کی ادائیگی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

"بے شک اللہ تعالی تمہیں امانتوں کو ان کے مالکان کو ادا کر دینے کا حکم دیتا ہے"۔

النساء: 58

اسلام جن باتوں کا حکم دیتا ہے، ان میں سے ایک پاک دامنی اختیار کرنا بھی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے:

"تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کا یہ حق بن جاتا ہے کہ اللہ تعالی ان کی مدد کرے اور پھر ان میں سے ایک اس آدمی کو شمار کیا جو اپنی عفت و پاک دامنی کی حفاظت کے لیے شادی کرتا ہے"۔

سنن ترمذی: 1655

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک دعا یہ بھی تھی جس میں آپ کہا کرتے تھے:

اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں۔

صحیح مسلم: 2721

اسلام جن خوبیوں کا خوگر بننے کا حکم دیتا ہےان میں سے ایک حیا داری بھی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:

حیا تو بس خیر ہی لاتی ہے۔

صحیح بخاری: 6117

اور رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے:

"ہر دین کا ایک امتیازی وصف ہوتا ہے اور اسلام کا امتیازی وصف، حیا داری ہے"۔

اسے بیہقی نے شعب الایمان (6/2619) میں روایت کیا ہے۔

اسلام جن امتیازی اوصاف کا پیکر بننے کا حکم دیتا ہے ان میں سے ایک شجاعت و بہادری بھی ہے، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں میں سب سے زیادہ حسین و خوب صورت، سب سے زیادہ بہادر اور سب سے زیادہ سخی انسان تھے،ایک بار جب اہل مدینہ کسی انہونی سے بہت زیادہ ڈر گئے تھے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہی گھوڑے پر سوار ہو کر ان میں سب سے پہلے اس کا ادراک کرنے تشریف لے گئے تھے"۔

صحیح بخاری: 2820

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بزدلی سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے اور یہ دعا کیا کرتے تھے:

"اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں"۔

صحیح بخاری: 6374

اسلام صدقہ و خیرات کی صورت میں کرم گستری کا بھی حکم دیتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوئے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے۔

البقرہ: 261

کرم گستری اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا وطیرہ تھی، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

"اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم خیر کے کاموں میں تمام لوگوں سے بڑھ کر کرم گستر تھے، آپ رمضان کے مہینے میں اور زیادہ اس وقت کرم گستر بن جاتے تھے جب سیدنا جبریل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے تھے اور وہ آپ سے ماہ رمضان کے خاتمے تک ہر رات ملاقات کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان سے قرآن کا دور کیا کرتے تھے،پس جب جبریل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے تو آپ تیز رو باد بہاری سے کہیں زیادہ کرم گستر بن جایا کرتے تھے"۔

صحیح بخاری: 1902

اسلام محتاج کی اعانت کرنے، لاچار کی فریاد رسی کرنے، بھوکے کو کھانا کھلانے، پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے، صلہ رحمی کرنے اور حیوانوں پر رحم کھانے کا بھی حکم دیتا ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مرفوعا روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہترین ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "تم کھانا کھلاؤ اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی سلام کرو۔

صحیح بخاری: 12

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:

"ایک آدمی ایک راستے سے چلا جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی اتفاق سے اسے ایک کنواں ملا تو اس میں اترا اور پانی پی کر باہر نکل آیا تو دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی شدت کے مارے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے، اس نے دل ہی دل میں کہا کہ اس کتے کو بھی اتنی ہی پیاس لگی ہوئی ہے جتنی مجھے لگی تھی، یہ سوچ کر وہ دوبارہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھر کر اپنے منہ سے پکڑ کر باہر آیا اور کتے کو پانی پلا دیا، اللہ تعالی کو اس کا یہ عمل اس قدر بھایا کہ اس نے اس آدمی کو بخش دیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عرض پرداز ہوئے: اے اللہ کے رسول! کیا جانوروں میں بھی ہمارے لیے ثواب رکھا ہے؟ فرمایا: ہاں! ہر تر کلیجی والے میں اجر و ثواب ہے"۔

صحیح ابن حبان: 544

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"بیواؤں اور مسکین کی اعانت میں دوڑ دھوپ کرنے والا، اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا رات کے عبادت گزار اور دن کے روزہ دار کی طرح ہے"۔

صحیح بخاری: 5353

اسلام رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کی تاکید کرتا اور صلہ رحمی کو واجب گردانتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

نبی مومنوں پر خود ان سے بھی زیاده حق رکھنے والے ہیں اور ان کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں اور رشتے دار کتاب اللہ کی رو سے بہ نسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیاده حق دار ہیں (ہاں) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو۔ یہ حکم کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے۔

الاحزاب: 6

مذہب اسلام نے قطع رحمی سے ڈرایا اور اسے زمین میں فساد مچانے سے تعبیر کیا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو (22)

یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے (23)۔

محمد: 22- 23

اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے: رشتوں ناطوں کو پامال کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

صحیح مسلم: 2556

وہ رشتے جن کو بنائے رکھنا واجب ہے یہ ہیں: والدین، بھائی، بہن، چچا پھوپھی، ماموں, خالہ۔

اسلام پڑوسی کے حقوق کی ادائیگی کی تاکید کرتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راه کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں، (غلام، کنیز) یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا۔

النساء: 36

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے (حق کے) بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے۔

صحیح ابو داود: 5152

 33- اسلام نے کھانے پینے کی بہترین اور پاکیزہ چیزوں کو حلال ٹھہرایا اور جسم و دل اور گھر کو پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے نکاح کو حلال قرار دیا ہے، تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے بھی یہی حکم دیا ہے، پس وہ ہر قسم کی پاکیزگی کو اختیار کرنے کا حکم دیتے ہیں۔

مذہب اسلام نے کھانے پینے کی بہترین اور پاکیزہ چیزوں کو حلال ٹھہرایا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:”بے شک اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے،اور اللہ نے اپنے مومن بندوں کو اسی چیز کا حکم دیا ہے، جس کا حکم اپنے رسولوں کو دیا تھا، چنانچہ ارشاد فرمایا: ”يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا(اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو)۔ نیز ارشاد فرمایا: ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ(اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ)۔ پھر آپ ﷺ نےاس شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے، پراگندہ بال اور غبار آلود ہے اور وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا مانگتے ہوئے کہتا ہے:اے میرے رب! اے میرے رب!“ حالاں کہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام اور اس کا لباس حرام اور حرام ہی سے اس کی پرورش ہوئی ہے، تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو"؟صحیح مسلم: 1015اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:آپ فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے اسباب زینت کو، جن کو اس نے اپنے بندوں کے واسطے بنایا ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کو کس شخص نے حرام کیا ہے؟ آپ کہہ دیجیے کہ یہ اشیا اس طور پر کہ قیامت کے روز خالص ہوں گی اہل ایمان کے لیے، دنیوی زندگی میں مومنوں کے لیے بھی ہیں، ہم اسی طرح تمام آیات کو سمجھ داروں کے واسطے صاف صاف بیان کرتے ہیں۔الاعراف: 32مذہب اسلام نے جسم و دل اور گھر کو پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے نکاح کو حلال قرار دیا ہے، تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے بھی یہی حکم دیا ہے، پس وہ ہر قسم کی پاکیزگی کو اختیار کرنے کا حکم دیتے ہیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تم میں سے ہی تمہاری بیویاں پیدا کیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تمہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں، کیا پھر بھی لوگ باطل پر ایمان ﻻئیں گے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کریں گے؟النحل: 72اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھ (4)اور گندگی (بتوں کی) سے دور رہ (5)۔المدثر: 4- 5اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"وہ آدمی جنت میں نہیں جا سکے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی غرور و تکبر ہوگا، ایک آدمی نے کہا: انسان چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں، اس کے جوتے اچھے ہوں (تو کیا یہ بھی غرور میں شمار ہوگا؟)۔ فرمایا: اللہ خوب صورت ہے اور خوب صورتی کو پسند بھی کرتا ہے،غرور حق سے منہ موڑنے اور لوگوں کو حقیر جاننے کو کہتے ہیں"۔صحیح مسلم: 91

”بے شک اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے،اور اللہ نے اپنے مومن بندوں کو اسی چیز کا حکم دیا ہے، جس کا حکم اپنے رسولوں کو دیا تھا، چنانچہ ارشاد فرمایا: ”يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا(اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو)۔ نیز ارشاد فرمایا: ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ(اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ)۔ پھر آپ ﷺ نےاس شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے، پراگندہ بال اور غبار آلود ہے اور وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا مانگتے ہوئے کہتا ہے:اے میرے رب! اے میرے رب!“ حالاں کہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام اور اس کا لباس حرام اور حرام ہی سے اس کی پرورش ہوئی ہے، تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو"؟

صحیح مسلم: 1015

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

آپ فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے اسباب زینت کو، جن کو اس نے اپنے بندوں کے واسطے بنایا ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کو کس شخص نے حرام کیا ہے؟ آپ کہہ دیجیے کہ یہ اشیا اس طور پر کہ قیامت کے روز خالص ہوں گی اہل ایمان کے لیے، دنیوی زندگی میں مومنوں کے لیے بھی ہیں، ہم اسی طرح تمام آیات کو سمجھ داروں کے واسطے صاف صاف بیان کرتے ہیں۔

الاعراف: 32

مذہب اسلام نے جسم و دل اور گھر کو پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے نکاح کو حلال قرار دیا ہے، تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے بھی یہی حکم دیا ہے، پس وہ ہر قسم کی پاکیزگی کو اختیار کرنے کا حکم دیتے ہیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تم میں سے ہی تمہاری بیویاں پیدا کیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تمہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں، کیا پھر بھی لوگ باطل پر ایمان ﻻئیں گے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کریں گے؟

النحل: 72

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھ (4)

اور گندگی (بتوں کی) سے دور رہ (5)۔

المدثر: 4- 5

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"وہ آدمی جنت میں نہیں جا سکے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی غرور و تکبر ہوگا، ایک آدمی نے کہا: انسان چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں، اس کے جوتے اچھے ہوں (تو کیا یہ بھی غرور میں شمار ہوگا؟)۔ فرمایا: اللہ خوب صورت ہے اور خوب صورتی کو پسند بھی کرتا ہے،غرور حق سے منہ موڑنے اور لوگوں کو حقیر جاننے کو کہتے ہیں"۔

صحیح مسلم: 91

 34- اسلام نے تمام حرام کاموں سے باز رہنے کا حکم دیا ہے جیسے اللہ کے ساتھ شرک و کفر کرنا، بتوں کی پرستش کرنا، بغیر علم کے اللہ تعالی کے بارے میں زبان چلانا، اولاد کو قتل کرنا، ناجائز قتل و خون کرنا، زمین پر فساد مچانا، جادو ٹونا کرنا یا کرانا، کھلے یا چھپے طور پر برائیاں کرنا، زنا کرنا اور لواطت کرنا، اس نے سودی لین دین، مردار کھانے، بتوں کے نام پر اور استھانوں میں ذبح کیے جانے والے جانوروں کا گوشت کھانے، سور کا گوشت کھانے اور دیگر تمام گندی اور خبیث اشیا کا استعمال کرنے کو حرام قرار دیا ہے،اسلام نے یتیموں کا مال کھانے، ناپ تول میں کمی بیشی کرنے اور رشتوں ناطوں کو توڑنے کو بھی حرام کیا ہے اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام بھی ان تمام چیزوں کے حرام ہونے پر متفق ہیں۔

اسلام نے تمام حرام کاموں سے باز رہنے کا حکم دیا ہے جیسے اللہ کے ساتھ شرک و کفر کرنا، بتوں کی پرستش کرنا، بغیر علم کے اللہ تعالی کے بارے میں زبان چلانا اور اولاد کو قتل کرنا،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وه چیزیں پڑھ کر سناؤں جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے، وه یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اوﻻد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو،۔ ہم تم کو اور ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں، ان کے پاس بھی مت پھٹکو، خواه علانیہ ہوں یاپوشیده، اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق کے ساتھ، ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو۔اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے یہاں تک کہ وه اپنے سن رشد کو پہنچ جائے اور ناپ تول پورا پورا کرو انصاف کے ساتھ، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتے، اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو، گو وه شخص قرابت دار ہی ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو، ان کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔الانعام: 151- 152اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں اور جو پوشیده ہیں اور ہر گناه کی بات کو اور ناحق کسی پر ﻇلم کرنے کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگا دو جس کو تم جانتے نہیں۔الاعراف: 33مذہب اسلام نے محترم نفس کو قتل کرنا حرام قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہے، ہرگز ناحق قتل نہ کرنا اور جو شخص مظلوم ہونے کی صورت میں مار ڈاﻻ جائے ہم نے اس کے وارث کو طاقت دے رکھی ہے، پس اسے چاہیے کہ مار ڈالنے میں زیادتی نہ کرے بےشک وه مدد کیا گیا ہے۔الاسراء: 33اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو، بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وه اپنے اوپر سخت وبال ﻻئے گا۔الفرقان: 68مذہب اسلام نے زمین میں فساد پھیلانا حرام کیا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:"اور زمین میں اس کی درستی ہو چکنے کے بعد فساد مت مچاؤ"۔الاعراف: 56اللہ تعالی نے اپنے نبی سیدنا شعیب علیہ السلام کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا:اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا، انہوں نے فرمایا؛ اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود برحق نہیں، تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے۔ پس تم ناپ اور تول پورا پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے مت دو اور روئے زمین میں اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی فساد مت پھیلاؤ، یہ تمہارے لیے نافع ہے اگر تم تصدیق کرو۔الاعراف: 85اسلام نے جادو ٹونے کو حرام قرار دیا ہے،اللہ تعالی کا فرمان ہے:اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈال دے کہ ان کی تمام کاریگری کو وه نگل جائے، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔طہ: 69اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: ’’سات ہلاک کرنے والی چيزوں (گناہوں) سے بچو،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کيا ہيں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، لڑائی کے موقع پر پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور بھولی بھالی پاک دامن مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا‘‘۔صحیح بخاری: 6857اسلام نے ہر طرح کی ظاہری و باطنی برائیوں، زناکاری اور لواطت کو حرام کیا ہے، اس فقرہ کے آغاز میں ان آیات کا ذکر ہو چکا ہے، جو ان برائیوں کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں، اللہ تعالی نے سود کو بھی حرام قرار دیا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو (278)اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ، ہاں اگر توبہ کرلو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے، نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا (279)۔البقرہ: 278- 279کسی گناہ گار کو اللہ تعالی نے اس طرح حنگ کی دھمکی نہیں دی ہے حس طرح سود کھانے والے کو دی ہے کیونکہ سودی کاروبار میں دین و وطن اور جان و مال کی ہلاکت و بربادی کا سامان ہے۔اسلام نے مردار کھانا، بتوں کے نام پر اور استھانوں میں ذبح کیے جانے والے جانوروں اور سور کا گوشت کھانا حرام کیا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:"تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کا نام پکارا گیا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو اور جو کسی قسم کی چوٹ لگنے سے مر گیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گرنے سے مر گیا ہو اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مر گیا ہو اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں سے فال گیری کرو، یہ سب بدترین گناہ ہیں"۔المائدہ: 3اسلام نے شراب نوشی اور تمام گندی اور خبیث چیزوں کے استعمال کو بھی حرام ٹھہرایا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے:اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر یہ سب گندی باتیں اورشیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو (90)شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سو اب بھی باز آجاؤ (91)۔المائدہ: 90- 91فقرہ نمبر (31) اللہ تعالی کے خبر دینے کا ذکر ہو چکا ہے کہ تورات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی صفات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ ان پر گندی اور خبیث اشیا کو حرام کریں گے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:جو لوگ ایسے رسول نبی امی کی اتباع کرتے ہیں جن کو وه لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں،وه ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزه چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں،سو جو لوگ اس نبی پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کی اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں۔الاعراف: 157اسلام نے یتیم کا مال کھانا بھی حرام کیا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور پاک اور حلال چیز کے بدلے ناپاک اور حرام چیز نہ لو، اور اپنے مالوں کے ساتھ ان کے مال ملا کر کھا نہ جاؤ، بے شک یہ بہت بڑا گناه ہے۔النساء: 2اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:جو لوگ ﻇالمانہ طریقے سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وه اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وه دوزخ میں جائیں گے۔النساء: 10اسلام نے ناپ تول میں کمی بیشی کرنا بھی حرام ٹھہرایا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والے کی (1)کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں (2)اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں (3)کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیں (4)۔المطففین: 1- 4

آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وه چیزیں پڑھ کر سناؤں جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے، وه یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اوﻻد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو،۔ ہم تم کو اور ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں، ان کے پاس بھی مت پھٹکو، خواه علانیہ ہوں یاپوشیده، اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق کے ساتھ، ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو۔

اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے یہاں تک کہ وه اپنے سن رشد کو پہنچ جائے اور ناپ تول پورا پورا کرو انصاف کے ساتھ، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتے، اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو، گو وه شخص قرابت دار ہی ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو، ان کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔

الانعام: 151- 152

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں اور جو پوشیده ہیں اور ہر گناه کی بات کو اور ناحق کسی پر ﻇلم کرنے کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگا دو جس کو تم جانتے نہیں۔

الاعراف: 33

مذہب اسلام نے محترم نفس کو قتل کرنا حرام قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہے، ہرگز ناحق قتل نہ کرنا اور جو شخص مظلوم ہونے کی صورت میں مار ڈاﻻ جائے ہم نے اس کے وارث کو طاقت دے رکھی ہے، پس اسے چاہیے کہ مار ڈالنے میں زیادتی نہ کرے بےشک وه مدد کیا گیا ہے۔

الاسراء: 33

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو، بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وه اپنے اوپر سخت وبال ﻻئے گا۔

الفرقان: 68

مذہب اسلام نے زمین میں فساد پھیلانا حرام کیا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"اور زمین میں اس کی درستی ہو چکنے کے بعد فساد مت مچاؤ"۔

الاعراف: 56

اللہ تعالی نے اپنے نبی سیدنا شعیب علیہ السلام کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا:

اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا، انہوں نے فرمایا؛ اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود برحق نہیں، تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے۔ پس تم ناپ اور تول پورا پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے مت دو اور روئے زمین میں اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی فساد مت پھیلاؤ، یہ تمہارے لیے نافع ہے اگر تم تصدیق کرو۔

الاعراف: 85

اسلام نے جادو ٹونے کو حرام قرار دیا ہے،اللہ تعالی کا فرمان ہے:

اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈال دے کہ ان کی تمام کاریگری کو وه نگل جائے، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔

طہ: 69

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: ’’سات ہلاک کرنے والی چيزوں (گناہوں) سے بچو،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کيا ہيں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، لڑائی کے موقع پر پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور بھولی بھالی پاک دامن مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا‘‘۔

صحیح بخاری: 6857

اسلام نے ہر طرح کی ظاہری و باطنی برائیوں، زناکاری اور لواطت کو حرام کیا ہے، اس فقرہ کے آغاز میں ان آیات کا ذکر ہو چکا ہے، جو ان برائیوں کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں، اللہ تعالی نے سود کو بھی حرام قرار دیا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو (278)

اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ، ہاں اگر توبہ کرلو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے، نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا (279)۔

البقرہ: 278- 279

کسی گناہ گار کو اللہ تعالی نے اس طرح حنگ کی دھمکی نہیں دی ہے حس طرح سود کھانے والے کو دی ہے کیونکہ سودی کاروبار میں دین و وطن اور جان و مال کی ہلاکت و بربادی کا سامان ہے۔

اسلام نے مردار کھانا، بتوں کے نام پر اور استھانوں میں ذبح کیے جانے والے جانوروں اور سور کا گوشت کھانا حرام کیا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کا نام پکارا گیا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو اور جو کسی قسم کی چوٹ لگنے سے مر گیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گرنے سے مر گیا ہو اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مر گیا ہو اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں سے فال گیری کرو، یہ سب بدترین گناہ ہیں"۔

المائدہ: 3

اسلام نے شراب نوشی اور تمام گندی اور خبیث چیزوں کے استعمال کو بھی حرام ٹھہرایا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے:

اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر یہ سب گندی باتیں اورشیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو (90)

شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سو اب بھی باز آجاؤ (91)۔

المائدہ: 90- 91

فقرہ نمبر (31) اللہ تعالی کے خبر دینے کا ذکر ہو چکا ہے کہ تورات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی صفات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ ان پر گندی اور خبیث اشیا کو حرام کریں گے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

جو لوگ ایسے رسول نبی امی کی اتباع کرتے ہیں جن کو وه لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں،وه ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزه چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں،سو جو لوگ اس نبی پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کی اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں۔

الاعراف: 157

اسلام نے یتیم کا مال کھانا بھی حرام کیا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور پاک اور حلال چیز کے بدلے ناپاک اور حرام چیز نہ لو، اور اپنے مالوں کے ساتھ ان کے مال ملا کر کھا نہ جاؤ، بے شک یہ بہت بڑا گناه ہے۔

النساء: 2

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

جو لوگ ﻇالمانہ طریقے سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وه اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وه دوزخ میں جائیں گے۔

النساء: 10

اسلام نے ناپ تول میں کمی بیشی کرنا بھی حرام ٹھہرایا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والے کی (1)

کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں (2)

اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں (3)

کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیں (4)۔

المطففین: 1- 4

اسلام نے رشتوں ناطوں کو پامال کرنا بھی حرام قرار دیا ہے، فقرہ نمبر (31) میں ان آیات و احادیث کا ذکر ہو چکا ہے جو اس پر دلالت کرتی ہیں، اور تمام انبیا و رسل علیہم السلام بھی ان حرام کردہ اشیا کی حرمت پر متفق ہیں

 35- اسلام جھوٹ، فریب کاری، غداری، خیانت، دھوکہ بازی، حسد و جلن، چال بازی، چوری، سرکشی اور ظلم و عدوان جیسی بداخلاقیوں، بلکہ ہر طرح کی بدخلقی سے منع کرتا ہے۔

اسلام عام بداخلاقیوں سے منع کرتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا اور زمین پر اترا کر نہ چل کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا۔لقمان: 18رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:”میرے نزدیک تم میں سے (دنیا میں) سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں بہترین اخلاق والے ہیں اور میرے نزدیک تم میں (دنیا میں) سب سے زیادہ قابل نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے دور بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو باتونی، بلااحتیاط بولنے والے زبان دراز اور”متفيهقون“ ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے ”ثرثارون(باتونی) اور ”متشدقون(بلااحتیاط بولنے والے) کو تو جان لیا لیکن یہ ”متفیھقون“ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:تکبر کرنے والے“۔السلسلۃ الصحیحۃ: 791اسلام جھوٹ بولنے سے بھی سختی سے منع کرتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:بے شک اللہ تعالی اس شخص کو ہدایت سے نہیں نوازتا جو اسراف کرنے والا، بہت جھوٹا ہے۔غافر: 28اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:"خبردار! جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے، ایک انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کو اپنا پیشہ بنا لیتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اسے جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے"۔صحیح مسلم: 2607اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:"منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب وہ بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، وعدہ کرکے توڑ دیتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو وہ اس میں خیانت کرتا ہے"۔صحیح بخاری: 6095اسلام فریب کاری سے منع کرتا ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے تو اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا، ہاتھ نکالا تو انگلیاں تر ہو کر باہر آئیں، آپ نے اس سے فرمایا: اناج والے! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! اس میں بارش کا پانی پڑ گیا تھا، فرمایا: تو پھر اسے اناج کے اوپر کیوں نہ رکھ دیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ یاد رکھو! جو لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔صحیح مسلم: 102اسلام دھوکہ بازی، خیانت اور غداری سے روکتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول (کے حقوق) میں جانتے ہوئے خیانت مت کرو اور اپنی قابل حفاظت چیزوں میں خیانت مت کرو۔الانفال: 27اللہ تعالی کا فرمان ہے:جو اللہ کے عہد (وپیمان) کو پورا کرتے ہیں اور قول وقرار کو توڑتے نہیں۔الرعد: 20اللہ کے رسول ﷺ اپنے لشکروں سے جب وہ جہاد کے لیے نکلتے تھےتو فرمایا کرتے تھے:"جاؤ جنگ کرو، خیانت نہ کرو, دھوکہ نہ دو، مثلہ نہ کرو اور کسی بچے کو قتل مت کرو"۔صحیح مسلم: 1731اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:"جس میں چار خصلتیں ہوں گی، وہ پکا منافق ہوگا اور جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک بھی خصلت ہوگی تو مانو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑدے: جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت کرے، جب بولے تو جھوٹ بولے، عہدوپیمان کرے تو دھوکہ دے اور جب کسی سے جھگڑا کرے تو گالیاں بکے"۔صحیح بخاری: 34اسلام حسد و جلن سے بھی منع کرتا ہے، اللہ پاک کا ارشاد ہے:یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے، پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت بھی دی ہے اور بڑی سلطنت بھی عطا فرمائی ہے۔النساء: 54اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے محض حسد وبغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں، تم بھی معاف کرو اور چھوڑو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم ﻻئے،یقیناً اللہ تعالے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔البقرہ: 109اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:"تمہارے اندر تم سے پہلے کی امتوں کی حسد و بغض جیسی مونڈ ڈالنے والی بیماریاں سرایت کر جائیں گی، میں یہ نہیں کہتا کہ وہ بالوں کو مونڈتی ہیں، بلکہ وہ تو دین کو ہی مونڈ دیتی ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لوگ جنت میں داخل نہیں ہو سکو گے جب تک کہ ایمان نہیں لاؤ گے اور اس وقت تک تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوگا جب تک کہ تم ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتا دوں جو تمہاری آپسی محبت کو مضبوط کر دے؟ آپس میں سلام پھیلاؤ"۔سنن ترمذی: 2510اسلام گندی چال بازی سے بھی سختی سے منع کرتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں ہی کو جرائم کا مرتکب بنایا تاکہ وه لوگ وہاں فریب کریں، اور وه لوگ اپنے ہی ساتھ فریب کررہے ہیں اور ان کو ذرا خبر نہیں۔الانعام: 123اللہ تعالی نے یہ راز کھول دیا ہے کہ یہودیوں نے سیدنا مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے اپنی سازش مکمل بھی کر لی تھی لیکن اللہ تعالی نے اپنی چال چلی اور واضح کر دیا کہ گندی سازش اور چال بازی کا نقصان چال باز اور سازشی پر ہی پلٹ آتا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:مگر جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کا کفر محسوس کر لیا تو کہنے لگے: اللہ تعالیٰ کی راه میں میری مدد کرنے واﻻ کون کون ہے؟ حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی راه کے مددگار ہیں، ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اور آپ گواه رہیے کہ ہم تابعدار ہیں (52)اے ہمارے پالنے والے معبود! ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان ﻻئے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی، پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے (53)اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی (مکر) خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے (54)جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے واﻻ ہوں اور تجھے اپنی جانب اٹھانے واﻻ ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے واﻻ ہوں اور تیرے تابعداروں کو کافروں کے اوپر غالب کرنے واﻻ ہوں قیامت کے دن تک، پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے، میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا (55)۔آل عمران: 52- 55اللہ تعالی نے یہ بھی بتایا ہے کہ اللہ کے نبی سیدنا صالح علیہ السلام کی قوم نے جب ان کو قتل کرنے کی سازش رچی تو اللہ تعالی نے بھی ان کے خلاف خفیہ تدبیر کی اور سازش کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ان کی قوم کے تمام لوگوں کو نیست و نابود کر دیا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:انہوں نے آپس میں بڑی قسمیں کھا کھا کر عہد کیا کہ رات ہی کو صالح اور اس کے گھر والوں پر ہم چھاپہ ماریں گے، اور اس کے وارﺛوں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور ہم بالکل سچے ہیں (49)انہوں نے مکر (خفیہ تدبیر) کیا اور ہم نے بھی اور وه اسے سمجھتے ہی نہ تھے (50)(اب) دیکھ لے ان کے مکر کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ کہ ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو غارت کردیا (51)۔النمل: 49- 51اسلام چوری چکاری سے بھی منع کرتا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے:"زناکار جب زنا کر رہا ہوتا ہے تو وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا، جب چوری کر رہا ہوتا ہے اس وقت بھی مومن نہیں ہوتا اور جب شراب پی رہا ہوتا ہے تو اس وقت بھی مومن نہیں ہوتا، اس کے بعد توبہ کا دروازہ یہ سب کرنے والے کے لئے کھلا رہتا ہے"۔صحیح بخاری: 6810اسلام سرکشی وزیادتى سے بھی منع کرتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور سرکشى وزیادتی سے روکتا ہے، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔النحل: 90اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:"الله تعالی نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر سرکشى وزیادتی نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر فخر کرے"۔صحیح ابو داود: 4895اسلام ظلم سے منع کرتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ہے۔آل عمران: 57اللہ تعالی کا فرمان ہے:بے شک ظالم لوگ کامیاب نہیں ہو سکتے۔الانعام: 21اللہ تعالی کا فرمان ہے:اور ظالموں کے لیے اللہ تعالی نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔الانسان: 31اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:"تین لوگوں کی دعا رد نہیں کی جاتی ہے: امام عادل، روزہ دار جب تک افطار نہ کر لے اور مظلوم کی دعا بادلوں پر سوار ہو کر اوپر جاتی ہے، اس کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اللہ تعالی کہتا ہے: میری عزت کی قسم! چاہے کچھ دیر بعد ہی سہی میں تیری مدد ضرور کروں گا"۔اسے مسلم (2749) نے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ مختصرا اورترمذی (2526) نے بھی الفاظ کے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ اور احمد (8043) نے روایت کیا ہے، یہاں الفاظ مسند احمد سے لیے گئے ہیں۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کرتے وقت ان کو نصیحت کرتے ہوئے جو باتیں ارشاد فرمائی تھیں ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی:"مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی آڑ نہیں ہوتی"۔صحیح بخاری: 1496اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:خبردار! جس نے کسی معاہد پر ظلم کیا یا اس سے بدتمیزی کی یا اس کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف کیا یا اس سے اس کے طیب خاطر کے خلاف کچھ لیا تو میں بروز قیامت اس معاہد کا وکیل بنوں گا'۔سننِ ابو داود: 3052تو اسلام، جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا ہر بری عادت اور ہر ظالمانہ کام سے منع کرتا ہے۔

لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا اور زمین پر اترا کر نہ چل کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا۔

لقمان: 18

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:

”میرے نزدیک تم میں سے (دنیا میں) سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں بہترین اخلاق والے ہیں اور میرے نزدیک تم میں (دنیا میں) سب سے زیادہ قابل نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے دور بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو باتونی، بلااحتیاط بولنے والے زبان دراز اور”متفيهقون“ ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے ”ثرثارون(باتونی) اور ”متشدقون(بلااحتیاط بولنے والے) کو تو جان لیا لیکن یہ ”متفیھقون“ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:تکبر کرنے والے“۔

السلسلۃ الصحیحۃ: 791

اسلام جھوٹ بولنے سے بھی سختی سے منع کرتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

بے شک اللہ تعالی اس شخص کو ہدایت سے نہیں نوازتا جو اسراف کرنے والا، بہت جھوٹا ہے۔

غافر: 28

اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"خبردار! جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے، ایک انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کو اپنا پیشہ بنا لیتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اسے جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے"۔

صحیح مسلم: 2607

اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب وہ بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، وعدہ کرکے توڑ دیتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو وہ اس میں خیانت کرتا ہے"۔

صحیح بخاری: 6095

اسلام فریب کاری سے منع کرتا ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے تو اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا، ہاتھ نکالا تو انگلیاں تر ہو کر باہر آئیں، آپ نے اس سے فرمایا: اناج والے! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! اس میں بارش کا پانی پڑ گیا تھا، فرمایا: تو پھر اسے اناج کے اوپر کیوں نہ رکھ دیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ یاد رکھو! جو لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔

صحیح مسلم: 102

اسلام دھوکہ بازی، خیانت اور غداری سے روکتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول (کے حقوق) میں جانتے ہوئے خیانت مت کرو اور اپنی قابل حفاظت چیزوں میں خیانت مت کرو۔

الانفال: 27

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

جو اللہ کے عہد (وپیمان) کو پورا کرتے ہیں اور قول وقرار کو توڑتے نہیں۔

الرعد: 20

اللہ کے رسول ﷺ اپنے لشکروں سے جب وہ جہاد کے لیے نکلتے تھےتو فرمایا کرتے تھے:

"جاؤ جنگ کرو، خیانت نہ کرو, دھوکہ نہ دو، مثلہ نہ کرو اور کسی بچے کو قتل مت کرو"۔

صحیح مسلم: 1731

اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"جس میں چار خصلتیں ہوں گی، وہ پکا منافق ہوگا اور جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک بھی خصلت ہوگی تو مانو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑدے: جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت کرے، جب بولے تو جھوٹ بولے، عہدوپیمان کرے تو دھوکہ دے اور جب کسی سے جھگڑا کرے تو گالیاں بکے"۔

صحیح بخاری: 34

اسلام حسد و جلن سے بھی منع کرتا ہے، اللہ پاک کا ارشاد ہے:

یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے، پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت بھی دی ہے اور بڑی سلطنت بھی عطا فرمائی ہے۔

النساء: 54

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے محض حسد وبغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں، تم بھی معاف کرو اور چھوڑو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم ﻻئے،یقیناً اللہ تعالے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

البقرہ: 109

اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"تمہارے اندر تم سے پہلے کی امتوں کی حسد و بغض جیسی مونڈ ڈالنے والی بیماریاں سرایت کر جائیں گی، میں یہ نہیں کہتا کہ وہ بالوں کو مونڈتی ہیں، بلکہ وہ تو دین کو ہی مونڈ دیتی ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لوگ جنت میں داخل نہیں ہو سکو گے جب تک کہ ایمان نہیں لاؤ گے اور اس وقت تک تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوگا جب تک کہ تم ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتا دوں جو تمہاری آپسی محبت کو مضبوط کر دے؟ آپس میں سلام پھیلاؤ"۔

سنن ترمذی: 2510

اسلام گندی چال بازی سے بھی سختی سے منع کرتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں ہی کو جرائم کا مرتکب بنایا تاکہ وه لوگ وہاں فریب کریں، اور وه لوگ اپنے ہی ساتھ فریب کررہے ہیں اور ان کو ذرا خبر نہیں۔

الانعام: 123

اللہ تعالی نے یہ راز کھول دیا ہے کہ یہودیوں نے سیدنا مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے اپنی سازش مکمل بھی کر لی تھی لیکن اللہ تعالی نے اپنی چال چلی اور واضح کر دیا کہ گندی سازش اور چال بازی کا نقصان چال باز اور سازشی پر ہی پلٹ آتا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

مگر جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کا کفر محسوس کر لیا تو کہنے لگے: اللہ تعالیٰ کی راه میں میری مدد کرنے واﻻ کون کون ہے؟ حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی راه کے مددگار ہیں، ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اور آپ گواه رہیے کہ ہم تابعدار ہیں (52)

اے ہمارے پالنے والے معبود! ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان ﻻئے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی، پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے (53)

اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی (مکر) خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے (54)

جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے واﻻ ہوں اور تجھے اپنی جانب اٹھانے واﻻ ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے واﻻ ہوں اور تیرے تابعداروں کو کافروں کے اوپر غالب کرنے واﻻ ہوں قیامت کے دن تک، پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے، میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا (55)۔

آل عمران: 52- 55

اللہ تعالی نے یہ بھی بتایا ہے کہ اللہ کے نبی سیدنا صالح علیہ السلام کی قوم نے جب ان کو قتل کرنے کی سازش رچی تو اللہ تعالی نے بھی ان کے خلاف خفیہ تدبیر کی اور سازش کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ان کی قوم کے تمام لوگوں کو نیست و نابود کر دیا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

انہوں نے آپس میں بڑی قسمیں کھا کھا کر عہد کیا کہ رات ہی کو صالح اور اس کے گھر والوں پر ہم چھاپہ ماریں گے، اور اس کے وارﺛوں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور ہم بالکل سچے ہیں (49)

انہوں نے مکر (خفیہ تدبیر) کیا اور ہم نے بھی اور وه اسے سمجھتے ہی نہ تھے (50)

(اب) دیکھ لے ان کے مکر کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ کہ ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو غارت کردیا (51)۔

النمل: 49- 51

اسلام چوری چکاری سے بھی منع کرتا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے:

"زناکار جب زنا کر رہا ہوتا ہے تو وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا، جب چوری کر رہا ہوتا ہے اس وقت بھی مومن نہیں ہوتا اور جب شراب پی رہا ہوتا ہے تو اس وقت بھی مومن نہیں ہوتا، اس کے بعد توبہ کا دروازہ یہ سب کرنے والے کے لئے کھلا رہتا ہے"۔

صحیح بخاری: 6810

اسلام سرکشی وزیادتى سے بھی منع کرتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور سرکشى وزیادتی سے روکتا ہے، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔

النحل: 90

اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"الله تعالی نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر سرکشى وزیادتی نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر فخر کرے"۔

صحیح ابو داود: 4895

اسلام ظلم سے منع کرتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ہے۔

آل عمران: 57

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

بے شک ظالم لوگ کامیاب نہیں ہو سکتے۔

الانعام: 21

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

اور ظالموں کے لیے اللہ تعالی نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

الانسان: 31

اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"تین لوگوں کی دعا رد نہیں کی جاتی ہے: امام عادل، روزہ دار جب تک افطار نہ کر لے اور مظلوم کی دعا بادلوں پر سوار ہو کر اوپر جاتی ہے، اس کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اللہ تعالی کہتا ہے: میری عزت کی قسم! چاہے کچھ دیر بعد ہی سہی میں تیری مدد ضرور کروں گا"۔

اسے مسلم (2749) نے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ مختصرا اورترمذی (2526) نے بھی الفاظ کے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ اور احمد (8043) نے روایت کیا ہے، یہاں الفاظ مسند احمد سے لیے گئے ہیں۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کرتے وقت ان کو نصیحت کرتے ہوئے جو باتیں ارشاد فرمائی تھیں ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی:

"مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی آڑ نہیں ہوتی"۔

صحیح بخاری: 1496

اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

خبردار! جس نے کسی معاہد پر ظلم کیا یا اس سے بدتمیزی کی یا اس کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف کیا یا اس سے اس کے طیب خاطر کے خلاف کچھ لیا تو میں بروز قیامت اس معاہد کا وکیل بنوں گا'۔

سننِ ابو داود: 3052

تو اسلام، جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا ہر بری عادت اور ہر ظالمانہ کام سے منع کرتا ہے۔

 36- اسلام ان تمام مالی معاملات سے منع کرتا ہے جن میں سودی لین دین ہویا کسی کو نقصان پہنچے یا جو دھوکہ بازی يا ظلم یا فریب کاری پر مشتمل ہوں یا جو بحرانوں کا سبب بن سکتے ہویں اور سماج و معاشرہ اور افراد کو عمومی نقصان کے گڑھے میں دھکیل سکتے ہوں۔

اسلام ان تمام مالی معاملات سے منع کرتا ہے جن میں سودی لین دین ہویا کسی کو نقصان پہنچے, یا جو دھوکہ بازی يا ظلم یا فریب کاری پر مشتمل ہوں یا جو بحرانوں کا سبب بن سکتے ہویں اور سماج و معاشرہ اور افراد کو عمومی نقصان کے گڑھے میں دھکیل سکتے ہوں۔اس فقرہ کے آغاز میں ان آیات و احادیث کا ذکر ہو چکا ہے جو سود، ظلم، دھوکہ دھڑی یا زمین میں فساد برپا کرنے کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیں بغیر کسی جرم کے جو ان سے سرزد ہوا ہوتو وه (بڑے ہی) بہتان اور صریح گناه کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔الاحزاب: 58اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:جو شخص نیک کام کرے گا وه اپنے نفع کے لیے اور جو برا کام کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے اور آپ کا رب بندوں پر ﻇلم کرنے واﻻ نہیں۔فصلت: 46سنت نبویہ میں آیا ہے: "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ نہ خود نقصان اٹھانا ہے اور نہ دوسرے کو نقصان پہنچانا ہے"۔سنن ابو داوداور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:"جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت و تکریم کرے۔ جس کا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان ہو وہ بھلی بات کہے ورنہ چپ رہے، ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اسے اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے"۔صحیح مسلم: 47اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:"ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا, ہوا یہ کہ اس عورت نے اس بلی کو قید کر دیا، یہاں تک کہ وہ مر گئی تووہ عورت اس بلی کى وجہ سے جہنم میں داخل کر دی گئی، جب اس نے اسے قید کیا تو کھلایا پلایا بھی نہیں اور نہ آزاد کیا کہ وہ بلی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی"۔صحیح بخاری: 3482ایسی سزا اسے ملی جس نے ایک بلی کو تکلیف پہنچائی تھی،ذرا سوچیے کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جو کسی انسان کو تکلیف دے گا؟ سیدنا عبد اللہ عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور اونچی آواز میں پکار کر فرمایا:"اے وہ لوگو جنہوں نے محض زبان سے اسلام قبول کیا اور ایمان جن کے حلق سے نیچے نہیں اترا ہے! مسلمانوں کو تکلیف نہ دو، ان کو عار مت دلاؤ اور نہ ان کی پوشیدہ باتوں کی ٹوہ میں پڑو ورنہ یاد رکھو کہ جس نے اپنے مسلمان بھائی کی پوشیدہ باتوں کی ٹوہ لی اللہ تعالی اس کی ٹوہ میں پڑ جائے گا اور جس کی ٹوہ میں اللہ پڑ گیا تو جان لو کہ وہ اسے سر عام ننگا کر دے گا، چاہے وہ اپنے کجاوہ کے اندر کیوں نہ چھپ جائے"۔ راوی کہتا ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دن کعبے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: کتنی عظیم ہے تیری شان اور کس قدر عظیم ہے تیری حرمت! لیکن ایک مومن کی حرمت و شان اللہ تعالی کی نظر میں تجھ سے کہیں بڑھ کر ہے۔اسے ترمذی (2032) اور ابن حبان (5763) نے روایت کیا ہے۔اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے“۔صحیح بخاری: 6018سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟ صحابہ نے جواب دیا: ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو،اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوۃ جیسے اعمال لے کر آئے گا، تاہم اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت دھری ہو گی، کسی کا مال (ناحق) کھایا ہو گا اور کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا،چنانچہ اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں, اس کے گناہوں کا بدلہ پورا ہونے سے پہلے, ختم ہو گئیں, تو ان لوگوں کے گناہ لے کر اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔اسے مسلم (2581)، ترمذی (2418) اور احمد (8029) نے روایت کیا ہے،یہاں پر الفاظ مسند احمد سے منقول ہیں۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مزید فرمایا:"ایک راستے پر درخت کی ایک ڈالی پڑی تھی جس سے لوگوں کو تکلیف ہو رہی تھی، ایک آدمی نے اسے راستے سے ہٹا دیا تو اسے جنت میں داخل کر دیا گیا"۔اسے بخاری (652) نے اسی معنی میں، مسلم (1914) نے انہی جیسے الفاظ میں، نیز ابن ماجہ (3682) اور احمد (10432) نے روایت کیا ہے، یہاں الفاظ ابن ماجہ اور مسند احمد کے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینے سے بھی جنت میں داخلہ مل سکتا ہے،اب ذرا سوچیے کہ جو لوگوں کو تکلیف دیتا اور ان کی زندگی میں بگاڑ لانا چاہتا ہے، اس کو کتنی بڑی سزا دی جانی چاہیے؟!

اس فقرہ کے آغاز میں ان آیات و احادیث کا ذکر ہو چکا ہے جو سود، ظلم، دھوکہ دھڑی یا زمین میں فساد برپا کرنے کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیں بغیر کسی جرم کے جو ان سے سرزد ہوا ہوتو وه (بڑے ہی) بہتان اور صریح گناه کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔

الاحزاب: 58

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

جو شخص نیک کام کرے گا وه اپنے نفع کے لیے اور جو برا کام کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے اور آپ کا رب بندوں پر ﻇلم کرنے واﻻ نہیں۔

فصلت: 46

سنت نبویہ میں آیا ہے: "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ نہ خود نقصان اٹھانا ہے اور نہ دوسرے کو نقصان پہنچانا ہے"۔

سنن ابو داود

اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت و تکریم کرے۔ جس کا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان ہو وہ بھلی بات کہے ورنہ چپ رہے، ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اسے اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے"۔

صحیح مسلم: 47

اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا, ہوا یہ کہ اس عورت نے اس بلی کو قید کر دیا، یہاں تک کہ وہ مر گئی تووہ عورت اس بلی کى وجہ سے جہنم میں داخل کر دی گئی، جب اس نے اسے قید کیا تو کھلایا پلایا بھی نہیں اور نہ آزاد کیا کہ وہ بلی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی"۔

صحیح بخاری: 3482

ایسی سزا اسے ملی جس نے ایک بلی کو تکلیف پہنچائی تھی،ذرا سوچیے کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جو کسی انسان کو تکلیف دے گا؟ سیدنا عبد اللہ عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور اونچی آواز میں پکار کر فرمایا:

"اے وہ لوگو جنہوں نے محض زبان سے اسلام قبول کیا اور ایمان جن کے حلق سے نیچے نہیں اترا ہے! مسلمانوں کو تکلیف نہ دو، ان کو عار مت دلاؤ اور نہ ان کی پوشیدہ باتوں کی ٹوہ میں پڑو ورنہ یاد رکھو کہ جس نے اپنے مسلمان بھائی کی پوشیدہ باتوں کی ٹوہ لی اللہ تعالی اس کی ٹوہ میں پڑ جائے گا اور جس کی ٹوہ میں اللہ پڑ گیا تو جان لو کہ وہ اسے سر عام ننگا کر دے گا، چاہے وہ اپنے کجاوہ کے اندر کیوں نہ چھپ جائے"۔ راوی کہتا ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دن کعبے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: کتنی عظیم ہے تیری شان اور کس قدر عظیم ہے تیری حرمت! لیکن ایک مومن کی حرمت و شان اللہ تعالی کی نظر میں تجھ سے کہیں بڑھ کر ہے۔

اسے ترمذی (2032) اور ابن حبان (5763) نے روایت کیا ہے۔

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے“۔

صحیح بخاری: 6018

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟ صحابہ نے جواب دیا: ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو،اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوۃ جیسے اعمال لے کر آئے گا، تاہم اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت دھری ہو گی، کسی کا مال (ناحق) کھایا ہو گا اور کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا،چنانچہ اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں, اس کے گناہوں کا بدلہ پورا ہونے سے پہلے, ختم ہو گئیں, تو ان لوگوں کے گناہ لے کر اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

اسے مسلم (2581)، ترمذی (2418) اور احمد (8029) نے روایت کیا ہے،یہاں پر الفاظ مسند احمد سے منقول ہیں۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مزید فرمایا:

"ایک راستے پر درخت کی ایک ڈالی پڑی تھی جس سے لوگوں کو تکلیف ہو رہی تھی، ایک آدمی نے اسے راستے سے ہٹا دیا تو اسے جنت میں داخل کر دیا گیا"۔

اسے بخاری (652) نے اسی معنی میں، مسلم (1914) نے انہی جیسے الفاظ میں، نیز ابن ماجہ (3682) اور احمد (10432) نے روایت کیا ہے، یہاں الفاظ ابن ماجہ اور مسند احمد کے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینے سے بھی جنت میں داخلہ مل سکتا ہے،اب ذرا سوچیے کہ جو لوگوں کو تکلیف دیتا اور ان کی زندگی میں بگاڑ لانا چاہتا ہے، اس کو کتنی بڑی سزا دی جانی چاہیے؟!

 37- اسلام حفظان عقل و خرد اور ہر اس چیز کو حرام قرار دینے کے لیے آیا ہے جو اسے بگاڑ سکتی ہے جیسے شراب نوشی، اس نے عقل و خرد کو شان و رفعت عطا کی، اسے ہی تمام تر شرعی تکالیف کا محور قرار دیا اور خرافات و شرکیات کی بیڑیوں سے آزاد کیا ہے، اسلام میں ایسے راز اور احکام ہیں ہی نہیں جو کسی خاص طبقہ کے ساتھ خاص ہوں، اس کے تمام احکام و قوانین عقل صحیح کے موافق اور مقتضائے عدل و حکمت کے مطابق ہیں۔

اسلام حفظان عقل و خرد اور اس کی شان کو دوبالا کرنے آیا ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے:"بے شک کان، آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک کے بارے میں پوچھا جائے گا"۔الاسراء: 36اس لیے ہر انسان کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی عقل و خرد کی حفاظت کرے، کیونکہ اسی لیے اسلام نے شراب اور دوسری نشہ آور اشیا کو حرام کیا ہے، میں نے شراب نوشی کی حرمت کو فقرہ نمبر (34) میں بیان کیا ہے، اس پر قرآن کریم کی بہت سی آیتیں ہیں جو اللہ تعالی کے اس قول مبارک پر ختم ہوتی ہیں:"شاید کہ تم سمجھ جاؤ"۔البقرہ: 242اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اور دنیاوی زندگانی تو کچھ بھی نہیں بجز لہو ولعب کے، اور دار آخرت متقیوں کے لئے بہتر ہے، کیا تم سوچتے سمجھتے نہیں ہو؟الانعام: 32اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:یقیناً ہم نے اس قرآن عربی کو نازل فرمایا ہے کہ تم سمجھ سکو.یوسف: 2ساتھ ہی، اللہ تعالی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ہدایت و حکمت سے استفادہ صاحبان عقل و دانش ہی کر پاتے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے:وه جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے اور جو شخص حکمت اور سمجھ دیا جائے وه بہت ساری بھلائی دیا گیا اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں۔البقرہ: 269یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عقل ہی کو تکالیف شرعی کا محور قرار دیا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے:تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؛ سوئے ہوئے شخص سے، یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے۔بخاری نے اسے معلقا صیغۂ جزم کے ساتھ حدیث نمبر (5269) سے پہلے اسی طرح اور ابو داود (4402) نے موصولا روایت کیا ہے، الفاظ ابو داود کے ہیں، ترمذی نے اپنی سنن میں (1423) کے تحت، نسائی نے السنن الکبری (7346) میں اور احمد (956) نے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ اور ابن ماجہ (2042) نے مختصرا روایت کیا ہے۔اور انسان کو خرافات کی بیڑیوں اور وثنیت کی آلائشوں سے آزاد اور پاک کیا ہے، اللہ تعالی نے خرافات میں گلے گلے تک ڈوبی رہنے والی اور اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے حق اور سچ کو ماننے سے انکار کرنے والی امتوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے واﻻ بھیجا، وہاں کے آسوده حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو (ایک راه پر اور) ایک دین پر پایا اور ہم تو انہی کے نقش پا کی پیروی کرنے والے ہیں۔الزخرف: 23اللہ تعالی نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا:یہ مجسمے کیا ہیں جن کا تم اعتکاف کرتے ہو؟ (52)سب نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی عبادت کرتے ہوئے پایا (53)۔الانبیاء: 52- 53پھر اسلام آیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بت پرستی چھوڑ دیں، باپ دادوں سے چلی آ رہی خرافاتوں سے کنارہ کش ہو جائیں اور انبیا و رسل علیہہم السلام کے نقش قدم کی پیروی کریں۔اسلام میں ایسے اسرار و رموز اور احکام نہیں ہیں جو کسی خاص طبقے کے ساتھ خاص ہوں۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے چچازاد بھائی اور داماد سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ لوگوں کو کسی خاص امتیاز سے نوازا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں کسی خصوصی امتیاز سے نہیں نوازا ہے، بلکہ ہر چیز کو آپ نے عام رکھا ہے، بس میری تلوار کے دستے میں جو کچھ ہے اسی کو ہمارے ساتھ خاص کیا ہے، پھر انہوں نے اپنی تلوار کے دستے سے ایک صحیفہ (کاغذ کا ایک ٹکڑا) نکالا جس میں لکھا تھا: اس پر اللہ تعالی کی لعنت ہو جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام پر جانور کو ذبح کیا، اس پر اللہ کی لعنت و پھٹکار ہو جس نے زمین کی علامت کو چرایا، اس پر اللہ کی لعنت ہو جس نے اپنے والد کو لعن طعن کیا، اور اس پر بھی اللہ تعالی کی لعنت ہو جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی۔صحیح مسلم: 1978اسلام کے تمام احکام صائب عقل و دانش کے عین موافق اور مقتضائے عدل و حکمت کے عین مطابق ہیں۔

"بے شک کان، آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک کے بارے میں پوچھا جائے گا"۔

الاسراء: 36

اس لیے ہر انسان کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی عقل و خرد کی حفاظت کرے، کیونکہ اسی لیے اسلام نے شراب اور دوسری نشہ آور اشیا کو حرام کیا ہے، میں نے شراب نوشی کی حرمت کو فقرہ نمبر (34) میں بیان کیا ہے، اس پر قرآن کریم کی بہت سی آیتیں ہیں جو اللہ تعالی کے اس قول مبارک پر ختم ہوتی ہیں:

"شاید کہ تم سمجھ جاؤ"۔

البقرہ: 242

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

اور دنیاوی زندگانی تو کچھ بھی نہیں بجز لہو ولعب کے، اور دار آخرت متقیوں کے لئے بہتر ہے، کیا تم سوچتے سمجھتے نہیں ہو؟

الانعام: 32

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

یقیناً ہم نے اس قرآن عربی کو نازل فرمایا ہے کہ تم سمجھ سکو.

یوسف: 2

ساتھ ہی، اللہ تعالی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ہدایت و حکمت سے استفادہ صاحبان عقل و دانش ہی کر پاتے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے:

وه جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے اور جو شخص حکمت اور سمجھ دیا جائے وه بہت ساری بھلائی دیا گیا اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں۔

البقرہ: 269

یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عقل ہی کو تکالیف شرعی کا محور قرار دیا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے:

تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؛ سوئے ہوئے شخص سے، یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے۔

بخاری نے اسے معلقا صیغۂ جزم کے ساتھ حدیث نمبر (5269) سے پہلے اسی طرح اور ابو داود (4402) نے موصولا روایت کیا ہے، الفاظ ابو داود کے ہیں، ترمذی نے اپنی سنن میں (1423) کے تحت، نسائی نے السنن الکبری (7346) میں اور احمد (956) نے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ اور ابن ماجہ (2042) نے مختصرا روایت کیا ہے۔

اور انسان کو خرافات کی بیڑیوں اور وثنیت کی آلائشوں سے آزاد اور پاک کیا ہے، اللہ تعالی نے خرافات میں گلے گلے تک ڈوبی رہنے والی اور اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے حق اور سچ کو ماننے سے انکار کرنے والی امتوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:

اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے واﻻ بھیجا، وہاں کے آسوده حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو (ایک راه پر اور) ایک دین پر پایا اور ہم تو انہی کے نقش پا کی پیروی کرنے والے ہیں۔

الزخرف: 23

اللہ تعالی نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا:

یہ مجسمے کیا ہیں جن کا تم اعتکاف کرتے ہو؟ (52)

سب نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی عبادت کرتے ہوئے پایا (53)۔

الانبیاء: 52- 53

پھر اسلام آیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بت پرستی چھوڑ دیں، باپ دادوں سے چلی آ رہی خرافاتوں سے کنارہ کش ہو جائیں اور انبیا و رسل علیہہم السلام کے نقش قدم کی پیروی کریں۔

اسلام میں ایسے اسرار و رموز اور احکام نہیں ہیں جو کسی خاص طبقے کے ساتھ خاص ہوں۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے چچازاد بھائی اور داماد سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ لوگوں کو کسی خاص امتیاز سے نوازا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں کسی خصوصی امتیاز سے نہیں نوازا ہے، بلکہ ہر چیز کو آپ نے عام رکھا ہے، بس میری تلوار کے دستے میں جو کچھ ہے اسی کو ہمارے ساتھ خاص کیا ہے، پھر انہوں نے اپنی تلوار کے دستے سے ایک صحیفہ (کاغذ کا ایک ٹکڑا) نکالا جس میں لکھا تھا: اس پر اللہ تعالی کی لعنت ہو جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام پر جانور کو ذبح کیا، اس پر اللہ کی لعنت و پھٹکار ہو جس نے زمین کی علامت کو چرایا، اس پر اللہ کی لعنت ہو جس نے اپنے والد کو لعن طعن کیا، اور اس پر بھی اللہ تعالی کی لعنت ہو جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی۔

صحیح مسلم: 1978

اسلام کے تمام احکام صائب عقل و دانش کے عین موافق اور مقتضائے عدل و حکمت کے عین مطابق ہیں۔

 38- اگر ادیان باطلہ کے پیروکار اپنے ادیان و مذاہب میں پائے جانے والے تناقض اور ان امور کا گہرائی سے مطالعہ نہیں کریں گے جن کو عقل سلیم قبول نہیں کرتی ہے تو دین کے ٹھیکے دار انہیں اس وہم میں ڈال دیں گے کہ دین عقل و خرد سے پرے ہے اور اس کو پوری طرح سمجھنا اس کے لیے ناممکن ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام دین کو ایک ایسی روشنی قرار دیتا ہے جو عقل کے لیے اس کا راستہ روشن کرتی ہے، اسی لیے ادیان باطلہ کے ٹھیکے دار چاہتے ہیں کہ انسان اپنی عقل کا استعمال کرنا چھوڑ دے اور صرف انہی کی پیروی کرے، جب کہ اسلام چاہتا ہے کہ انسان اپنی عقل کو بیدار کرے تاکہ معاملات کے حقائق کو ان کی اصلی صورت میں دیکھ سکے۔۔

اگر ادیان باطلہ کے پیروکار اپنے ادیان و مذاہب میں پائے جانے والے تناقض اور ان امور کا گہرائی سے مطالعہ نہیں کریں گے جن کو عقل سلیم قبول نہیں کرتی ہے تو دین کے ٹھیکے دار انہیں اس وہم میں ڈال دیں گے کہ دین عقل و خرد سے پرے ہے اور اس کو پوری طرح سمجھنا اس کے لیے ناممکن ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام دین کو ایک ایسی روشنی قرار دیتا ہے جو عقل کے لیے اس کا راستہ روشن کرتی ہے، اسی لیے ادیان باطلہ کے ٹھیکے دار چاہتے ہیں کہ انسان اپنی عقل کا استعمال کرنا چھوڑ دے اور صرف انہی کی پیروی کرے، جب کہ اسلام چاہتا ہے کہ انسان اپنی عقل کو بیدار کرے تاکہ معاملات کے حقائق کو ان کی اصلی صورت میں دیکھ سکے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے، آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور بنایا، اس کے ذریعے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں، بے شک آپ راه راست کی رہنمائی کر رہے ہیں۔الشوری: 52وحی الہی ایسے دلائل و براہین پیش کرتی ہے جو عقل سلیم کو ان حقائق کی طرف کشاں کشاں لے جاتے ہیں جن کی معرفت حاصل کرنا اور جن پر ایمان لانا واجب اور ضروری ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سند اور دلیل آپہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتار دیا ہے۔النساء: 174وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی چاہتا ہے کہ انسان ہدایت، علم اور حقیقت کی روشنی میں زندگی گزارے، جب کہ شیاطین اور طواغیت کی چاہت و مراد یہ ہوتی ہے کہ انسان کفر و جہالت اور گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹکتا رہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:ایمان ﻻنے والوں کا کارساز اللہ تعالیٰ خود ہے، وه انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیا شیاطین ہیں۔ وه انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔البقرہ: 257

اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے، آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور بنایا، اس کے ذریعے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں، بے شک آپ راه راست کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

الشوری: 52

وحی الہی ایسے دلائل و براہین پیش کرتی ہے جو عقل سلیم کو ان حقائق کی طرف کشاں کشاں لے جاتے ہیں جن کی معرفت حاصل کرنا اور جن پر ایمان لانا واجب اور ضروری ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سند اور دلیل آپہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتار دیا ہے۔

النساء: 174

وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی چاہتا ہے کہ انسان ہدایت، علم اور حقیقت کی روشنی میں زندگی گزارے، جب کہ شیاطین اور طواغیت کی چاہت و مراد یہ ہوتی ہے کہ انسان کفر و جہالت اور گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹکتا رہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ایمان ﻻنے والوں کا کارساز اللہ تعالیٰ خود ہے، وه انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیا شیاطین ہیں۔ وه انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔

البقرہ: 257

 39- اسلام، صحیح علم کی عزت افزائی کرتا، نفسانی خواہشات سے خالی سائنسی تحقیقات پر ابھارتا اور ہمارے اپنے نفس کے اندر جھانکنے اور ہمارے ارد گرد پھیلی کائنات پر غور و خوض کرنے کی دعوت دیتا ہے،ٹھوس سائنسی تحقیقات کے نتائج اسلام سے متصادم نہیں ہیں۔

اسلام صحیح علم و معرفت کی تعظیم کرتا ہے، اللہ تعالی کہتا ہے:اللہ تعالی ایمان اور علم والوں کے درجات کو بلند کرے گا اور اللہ تعالی ہر اس چیز سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔المجادلۃ: 11اللہ تعالی نے علما کی شہادت کو سب سے عظیم استشہاد میں اپنی اور اپنے فرشتوں کی شہادت سے ملا کر بیان فرمایا ہے، ارشاد ہے:اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وه عدل کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں۔آل عمران: 18یہ آیت اسلام میں اہل علم کی رفعت مکانی کو واضح کرتی ہے، نیز اہل علم کی عظمت ورفعت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو صرف علم و معرفت میں اضافہ کرنے کی دعا کرنے کا حکم دیا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور آپ کہیے کہ اے میرے پروردگار! میرے علم میں اضافہ کر۔طہ: 114اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:"جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے، بے شک فرشتے طالب علم کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ اور یقینا عالم کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی۔ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے، جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر۔ بے شک علما انبیا کے وارث ہیں اور انبیا نے کسی کو دینار اور درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انھوں نے علم کا وارث بنایا ہے،اس لیے جس نے یہ علم حاصل کر لیا اس نے (علم نبوی اور وراثت نبوی سے) پورا پورا حصہ لیا"۔اسے ابو داود (3641)، ترمذی (2682) اور ابن ماجہ (223) نے روایت کیا ہے، الفاظ ابن ماجہ کے ہیں،اور احمد (21715) نے بھی اسے روایت کیا ہے۔اسلام، نفسانی خواہشات سے خالی سائنسی تحقیقات پر ابھارتا اور ہمارے اپنے نفس کے اندر جھانکنے اور ہمارے ارد گرد پھیلی کائنات پر غور و خوض کرنے کی دعوت دیتا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی ذات میں بھی، یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ حق یہی ہے، کیا آپ کے رب کا ہر چیز سے واقف و آگاه ہونا کافی نہیں۔فصلت: 53اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں اور اس بات میں کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی آ پہنچی ہو، پھر قرآن کے بعد کون سی بات پر یہ لوگ ایمان ﻻئیں گے؟الاعراف: 185اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:کیا انہوں نے زمین پر چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا (برا) ہوا؟ وه ان سے بہت زیاده توانا (اور طاقتور) تھے اور انہوں نے (بھی) زمین بوئی جوتی تھی اور ان سے زیاده آباد کی تھی اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دﻻئل لے کر آئے تھے۔ یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر ﻇلم کرتا لیکن (دراصل) وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے۔الروم: 9سائنس کے صحیح تحقیقاتی نتائج, اسلام سے متعارض و متصادم نہیں ہوتے ہیں، ہم یہاں پر صرف ایک ایسی مثال پیش کرنے پر اکتفا کریں گے جس کی باریک تفصیلات قرآن کریم نے آج سے چودہ سو سال پہلے بیان کر دی تھیں مگر سائنس نے اس کا اکتشاف حالیہ دنوں میں کیا ہے لیکن اس پر کی گئی تحقیقات کا نتیجہ وہی سامنے آیا ہے جو قرآن نے بیان کیا تھا اور وہ ہے ماں کے پیٹ میں جنین کی پیدائش و افزائش، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا (12)پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرار دے دیا (13)پھر نطفے کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا، پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کردیا، پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا، پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کردیا، برکتوں واﻻ ہے وه اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے واﻻ ہے (14)۔المومنون: 12- 14

اللہ تعالی ایمان اور علم والوں کے درجات کو بلند کرے گا اور اللہ تعالی ہر اس چیز سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔

المجادلۃ: 11

اللہ تعالی نے علما کی شہادت کو سب سے عظیم استشہاد میں اپنی اور اپنے فرشتوں کی شہادت سے ملا کر بیان فرمایا ہے، ارشاد ہے:

اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وه عدل کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں۔

آل عمران: 18

یہ آیت اسلام میں اہل علم کی رفعت مکانی کو واضح کرتی ہے، نیز اہل علم کی عظمت ورفعت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو صرف علم و معرفت میں اضافہ کرنے کی دعا کرنے کا حکم دیا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اور آپ کہیے کہ اے میرے پروردگار! میرے علم میں اضافہ کر۔

طہ: 114

اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے، بے شک فرشتے طالب علم کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ اور یقینا عالم کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی۔ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے، جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر۔ بے شک علما انبیا کے وارث ہیں اور انبیا نے کسی کو دینار اور درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انھوں نے علم کا وارث بنایا ہے،اس لیے جس نے یہ علم حاصل کر لیا اس نے (علم نبوی اور وراثت نبوی سے) پورا پورا حصہ لیا"۔

اسے ابو داود (3641)، ترمذی (2682) اور ابن ماجہ (223) نے روایت کیا ہے، الفاظ ابن ماجہ کے ہیں،اور احمد (21715) نے بھی اسے روایت کیا ہے۔

اسلام، نفسانی خواہشات سے خالی سائنسی تحقیقات پر ابھارتا اور ہمارے اپنے نفس کے اندر جھانکنے اور ہمارے ارد گرد پھیلی کائنات پر غور و خوض کرنے کی دعوت دیتا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی ذات میں بھی، یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ حق یہی ہے، کیا آپ کے رب کا ہر چیز سے واقف و آگاه ہونا کافی نہیں۔

فصلت: 53

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں اور اس بات میں کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی آ پہنچی ہو، پھر قرآن کے بعد کون سی بات پر یہ لوگ ایمان ﻻئیں گے؟

الاعراف: 185

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

کیا انہوں نے زمین پر چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا (برا) ہوا؟ وه ان سے بہت زیاده توانا (اور طاقتور) تھے اور انہوں نے (بھی) زمین بوئی جوتی تھی اور ان سے زیاده آباد کی تھی اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دﻻئل لے کر آئے تھے۔ یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر ﻇلم کرتا لیکن (دراصل) وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے۔

الروم: 9

سائنس کے صحیح تحقیقاتی نتائج, اسلام سے متعارض و متصادم نہیں ہوتے ہیں، ہم یہاں پر صرف ایک ایسی مثال پیش کرنے پر اکتفا کریں گے جس کی باریک تفصیلات قرآن کریم نے آج سے چودہ سو سال پہلے بیان کر دی تھیں مگر سائنس نے اس کا اکتشاف حالیہ دنوں میں کیا ہے لیکن اس پر کی گئی تحقیقات کا نتیجہ وہی سامنے آیا ہے جو قرآن نے بیان کیا تھا اور وہ ہے ماں کے پیٹ میں جنین کی پیدائش و افزائش، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا (12)

پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرار دے دیا (13)

پھر نطفے کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا، پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کردیا، پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا، پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کردیا، برکتوں واﻻ ہے وه اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے واﻻ ہے (14)۔

المومنون: 12- 14

 40- اللہ تعالی صرف اسی شخص کے عمل کو شرف قبول سے نوازتا ہے اور اسی شخص کے عمل کا اجر و ثواب آخرت میں عطا کرے گا جو اللہ پر ایمان لائے، اس کی اطاعت کرے اور اس کے بھیجے ہوئے تمام رسولوں علیہم السلام کی تصدیق کرے، اللہ تعالی صرف انہی عبادات کو قبول کرتا ہے جن کو اس نے خود جاری فرمایا ہے، ایسا بھلا کیوں کر ممکن ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ کفر بھی کرے اور اللہ اسے اجر و ثواب سے نواز دے؟ اللہ تعالی کسی شخص کے ایمان کو اسی صورت میں قبول فرماتا ہے جب وہ تمام انبیا و رسل علیہم السلام اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت پر ایمان لائے۔

اللہ تعالی صرف اسی شخص کے عمل کو شرف قبولیت سے نوازتا ہے اور اسی شخص کے عمل کا اجر و ثواب آخرت میں عطا کرے گا جو اللہ پر ایمان لائے، اس کی اطاعت کرے اور اس کے بھیجے ہوئے تمام رسولوں علیہم السلام کی تصدیق کرے، اللہ تعالی کہتا ہے:جس کا اراده صرف اس جلدی والی دنیا (فوری فائده) کا ہی ہو اسے ہم یہاں جس قدر جس کے لیے چاہیں سردست دیتے ہیں بالآخر اس کے لیے ہم جہنم مقرر کردیتے ہیں جہاں وه برے حالوں دھتکارا ہوا داخل ہوگا (18)اور جس کا اراده آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لیے ہونی چاہیے وه کرتا بھی ہو اور وه باایمان بھی ہو پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدردانی کی جائے گی (19)۔الاسراء: 18- 19اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:پھر جو بھی نیک عمل کرے اور وه مومن (بھی) ہو تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں کی جائے گی، ہم تو اس کے لکھنے والے ہیں۔الانبیاء: 94اللہ تعالی صرف انہی عبادتوں کو شرف قبول بخشتا ہے جن کی سند خود اسی نے جاری فرمائی ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:”تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے“۔الکہف: 110واضح کر دیا کہ وہی عمل صالح اور نیک سمجھا جائے گا جو اللہ تعالی کی طرف سے سند یافتہ ہو، عمل کرنے والا اسے اللہ تعالی کے لیے خالص کر دے، اللہ تعالی پر ایمان رکھنے والا ہو اور تمام انبیا و رسل علیہم السلام کی تصدیق کرنے والا ہو، جس کا عمل اس طریقے سے ہٹ کر ہوگا اس کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور انہوں نے جو جو اعمال کیے تھے ہم نےان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگنده ذروں کی طرح کردیا۔الفرقان: 23اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے (2)محنت کرنے والے تھکے ہوئے (3)وہ دہکتی ہوئی آگ میں جائیں گے (4)۔الغاشیۃ: 2- 4پس یہ چہرے لٹکے ہوئے اور عمل سے تھکے ہوئے ہوں گے لیکن چونکہ انہوں نے وہ سارے اعمال اللہ تعالی کے بتائے ہوئے طریقے سے ہٹ کر کیے ہوں گے اس لیے اللہ تعالی ان کا مآل کار جہنم کو ٹھہرائے گا۔ وجہ یہ ہوگی کہ انہوں نے اللہ کی جاری کردہ عبادتیں نہیں کی ہوں گی، بلکہ باطل عبادتیں کی ہوں گی اور گمراہی کے ان سرداروں کی پیروی کی ہوگی جو ان کے لیے دنیا میں باطل اور واہیات ادیان و مذاہب ایجاد کرتے رہے تھے، تو معلوم یہ ہوا کہ اللہ تعالی کے نزدیک وہی عمل صالح اور مقبول ٹھہرے گا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق ہوگا، یہ ناممکن ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ کفر بھی کرے اور اس سے جزائے خیر کی امید بھی پالے رکھے۔اللہ تعالی کسی کا ایمان جبھی قبول کرتا ہے جب وہ تمام انبیا علیہم السلام اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت پر ایمان لائے، فقرہ نمبر (20) میں ہم نے اس موضوع پر کچھ دلیلیں پیش کی ہیں، اللہ تعالی مزید فرماتا ہے:رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔البقرہ: 285اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں ایمان لاؤ! جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وه تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا۔النساء: 136اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب وحکمت دوں پھر تمہارے پاس وه رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لیے اس پر ایمان ﻻنا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے، فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے، فرمایا تو اب گواه رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔آل عمران: 81

جس کا اراده صرف اس جلدی والی دنیا (فوری فائده) کا ہی ہو اسے ہم یہاں جس قدر جس کے لیے چاہیں سردست دیتے ہیں بالآخر اس کے لیے ہم جہنم مقرر کردیتے ہیں جہاں وه برے حالوں دھتکارا ہوا داخل ہوگا (18)

اور جس کا اراده آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لیے ہونی چاہیے وه کرتا بھی ہو اور وه باایمان بھی ہو پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدردانی کی جائے گی (19)۔

الاسراء: 18- 19

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

پھر جو بھی نیک عمل کرے اور وه مومن (بھی) ہو تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں کی جائے گی، ہم تو اس کے لکھنے والے ہیں۔

الانبیاء: 94

اللہ تعالی صرف انہی عبادتوں کو شرف قبول بخشتا ہے جن کی سند خود اسی نے جاری فرمائی ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

”تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے“۔

الکہف: 110

واضح کر دیا کہ وہی عمل صالح اور نیک سمجھا جائے گا جو اللہ تعالی کی طرف سے سند یافتہ ہو، عمل کرنے والا اسے اللہ تعالی کے لیے خالص کر دے، اللہ تعالی پر ایمان رکھنے والا ہو اور تمام انبیا و رسل علیہم السلام کی تصدیق کرنے والا ہو، جس کا عمل اس طریقے سے ہٹ کر ہوگا اس کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اور انہوں نے جو جو اعمال کیے تھے ہم نےان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگنده ذروں کی طرح کردیا۔

الفرقان: 23

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

اس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے (2)

محنت کرنے والے تھکے ہوئے (3)

وہ دہکتی ہوئی آگ میں جائیں گے (4)۔

الغاشیۃ: 2- 4

پس یہ چہرے لٹکے ہوئے اور عمل سے تھکے ہوئے ہوں گے لیکن چونکہ انہوں نے وہ سارے اعمال اللہ تعالی کے بتائے ہوئے طریقے سے ہٹ کر کیے ہوں گے اس لیے اللہ تعالی ان کا مآل کار جہنم کو ٹھہرائے گا۔ وجہ یہ ہوگی کہ انہوں نے اللہ کی جاری کردہ عبادتیں نہیں کی ہوں گی، بلکہ باطل عبادتیں کی ہوں گی اور گمراہی کے ان سرداروں کی پیروی کی ہوگی جو ان کے لیے دنیا میں باطل اور واہیات ادیان و مذاہب ایجاد کرتے رہے تھے، تو معلوم یہ ہوا کہ اللہ تعالی کے نزدیک وہی عمل صالح اور مقبول ٹھہرے گا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق ہوگا، یہ ناممکن ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ کفر بھی کرے اور اس سے جزائے خیر کی امید بھی پالے رکھے۔

اللہ تعالی کسی کا ایمان جبھی قبول کرتا ہے جب وہ تمام انبیا علیہم السلام اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت پر ایمان لائے، فقرہ نمبر (20) میں ہم نے اس موضوع پر کچھ دلیلیں پیش کی ہیں، اللہ تعالی مزید فرماتا ہے:

رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

البقرہ: 285

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں ایمان لاؤ! جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وه تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا۔

النساء: 136

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب وحکمت دوں پھر تمہارے پاس وه رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لیے اس پر ایمان ﻻنا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے، فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے، فرمایا تو اب گواه رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔

آل عمران: 81

 41- تمام پیغامات الہیہ کا اصلی مقصد یہ ہے کہ دین حق انسان کی روح میں بس جائے اور وہ سارے جہانوں کے پروردگار اللہ کا پکا اور سچا بندہ بن جائے، اسلام در اصل انسان کو انسان یا مادہ یا خرافاتوں کی غلامی سے آزاد کرنے کے لیے آیا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں اشخاص کی تقدیس کا قائل نہیں ہے، نہ ہی ان کو ان کے قد سے زیادہ درجہ دیتا ہے اور نہ ہی ان کو رب اور معبود بنانے کی اجازت دیتا ہے۔

تمام پیغامات الہیہ کا اصلی مقصد یہ ہے کہ دین حق انسان کی روح میں بس جائے اور وہ سارے جہانوں کے پروردگار اللہ کا پکا اور سچا بندہ بن جائے، اسلام در اصل انسان کو انسان یا مادہ یا خرافاتوں کی غلامی سے آزاد کرنے کے لیے آیا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:"دینار و درہم اور دھاری دار چادر و ریشمی لباس کا غلام نامراد ہوا, کیونکہ اسے دیا جائے تو خوش اور نہ دیا جائے تو ناخوش"۔صحیح بخاری: 6435پس سمجھ دار انسان اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں جھک سکتا اور نہ مال و جاہ اور منصب و خاندان اسے غلام بنا سکتے ہیں، آئندہ سطور میں جو قصہ نقل کیا جا رہا ہے وہ قاری پر اچھی طرح واضح کر دے گا کہ رسالت سے پہلے لوگ کیسے تھے اور رسالت کے بعد کیسے ہو گئے۔جب اولین مسلمان ہجرت کرکے حبشہ گئے اور ان سے اس وقت کے شاہ حبشہ نجاشی نے سوال کیا تو کہا:"یہ کون سا دین ہے جس کی وجہ سے تم نے اپنی قوم سے الگ راہ اختیار کر لی اور میرے دین میں اور نہ ہی دنیا کی کسی بھی امت کے دین میں داخل ہوئے"؟شاہ حبشہ کو سیدنا جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:"اے بادشاہ! ہم جاہلیت والے لوگ تھے، بتوں کی پوجا کرتے تھے، مردار کھاتے تھے، ہر طرح کی برائیاں کرتے تھے، قطع رحمی کرتے تھے، پڑوسی کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے، ہم میں کا مضبوط آدمی کمزور کو کھائے جا رہا تھا، ہم ایسی ہی زندگی جی رہے تھے کہ اللہ تعالی نے ہم ہی میں سے ایک ایسا رسول بھیجا جس کے حسب و نسب، صدق و راستی، امانت داری اور پاک دامنی سے ہم خوب واقف و آشنا ہیں،اس نے ہمیں صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے علاوہ جن پتھروں اور بتوں کی ہم اور ہمارے آبا و اجداد پوجا کرتے تھے انہیں چھوڑ دینے کی دعوت دی، اس نے ہمیں سچ بولنے، امانت کو ادا کرنے، رشتوں ناطوں کو جوڑنے، پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے، حرام کاموں سے اور خوں ریزی سے باز آنے کا حکم دیا اور برائیوں سے، جھوٹ بولنے سے، یتیم کا مال کھانے اور پاک دامن عورت پر تہمت لگانے سے منع کیا، اس نے ہمیں حکم دیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں،اس نے ہمیں نماز پڑھنے، زکوۃ ادا کرنے اور روزہ رکھنے کا بھی حکم دیا،راوی کہتا ہے کہ انہوں نے اسلام کے کئی اور امور بھی گنائے، اس کے بعد کہا کہ پھر ہم نے اس کی تصدیق کی، اس پر ایمان لے آئے اور وہ جو کچھ لے کر آیا ہے اس کی پیروی کرتے ہوئے صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا شروع کیا، اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے باز آ گئے، اس نے جس چیز کو حرام کہا ہم نے اسے حرام مان لیا اور جس چیز کو حلال کہا ہم نے اسے حلال جان لیا"۔اسے احمد (1740) نے تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء (1/115) میں مختصرا روایت کیا ہے۔پس آپ نے دیکھا کہ اسلام اشخاص کی تقدیس کا قائل نہیں ہے، نہ انہیں ان کے مقام سے اونچا کرتا ہے اور نہ ہی انہیں رب اور معبود بناتا ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:”آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں، نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں، پس اگر وه منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو مسلمان ہیں“۔آل عمران: 64اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:اور یہ نہیں (ہو سکتا) کہ وه تمہیں فرشتوں اورنبیوں کو رب بنا لینے کا حکم کرے، کیا وه تمہارے مسلمان ہونے کے بعد بھی تمہیں کفر کا حکم دے گا؟آل عمران: 80اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم علیہ السلام کی تعریف میں حد سے گزر گئے، میں تو محض ایک بندہ ہوں اس لیے یوں کہو: اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔صحیح بخاری: 3445

"دینار و درہم اور دھاری دار چادر و ریشمی لباس کا غلام نامراد ہوا, کیونکہ اسے دیا جائے تو خوش اور نہ دیا جائے تو ناخوش"۔

صحیح بخاری: 6435

پس سمجھ دار انسان اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں جھک سکتا اور نہ مال و جاہ اور منصب و خاندان اسے غلام بنا سکتے ہیں، آئندہ سطور میں جو قصہ نقل کیا جا رہا ہے وہ قاری پر اچھی طرح واضح کر دے گا کہ رسالت سے پہلے لوگ کیسے تھے اور رسالت کے بعد کیسے ہو گئے۔

جب اولین مسلمان ہجرت کرکے حبشہ گئے اور ان سے اس وقت کے شاہ حبشہ نجاشی نے سوال کیا تو کہا:

"یہ کون سا دین ہے جس کی وجہ سے تم نے اپنی قوم سے الگ راہ اختیار کر لی اور میرے دین میں اور نہ ہی دنیا کی کسی بھی امت کے دین میں داخل ہوئے"؟

شاہ حبشہ کو سیدنا جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:

"اے بادشاہ! ہم جاہلیت والے لوگ تھے، بتوں کی پوجا کرتے تھے، مردار کھاتے تھے، ہر طرح کی برائیاں کرتے تھے، قطع رحمی کرتے تھے، پڑوسی کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے، ہم میں کا مضبوط آدمی کمزور کو کھائے جا رہا تھا، ہم ایسی ہی زندگی جی رہے تھے کہ اللہ تعالی نے ہم ہی میں سے ایک ایسا رسول بھیجا جس کے حسب و نسب، صدق و راستی، امانت داری اور پاک دامنی سے ہم خوب واقف و آشنا ہیں،اس نے ہمیں صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے علاوہ جن پتھروں اور بتوں کی ہم اور ہمارے آبا و اجداد پوجا کرتے تھے انہیں چھوڑ دینے کی دعوت دی، اس نے ہمیں سچ بولنے، امانت کو ادا کرنے، رشتوں ناطوں کو جوڑنے، پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے، حرام کاموں سے اور خوں ریزی سے باز آنے کا حکم دیا اور برائیوں سے، جھوٹ بولنے سے، یتیم کا مال کھانے اور پاک دامن عورت پر تہمت لگانے سے منع کیا، اس نے ہمیں حکم دیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں،اس نے ہمیں نماز پڑھنے، زکوۃ ادا کرنے اور روزہ رکھنے کا بھی حکم دیا،راوی کہتا ہے کہ انہوں نے اسلام کے کئی اور امور بھی گنائے، اس کے بعد کہا کہ پھر ہم نے اس کی تصدیق کی، اس پر ایمان لے آئے اور وہ جو کچھ لے کر آیا ہے اس کی پیروی کرتے ہوئے صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا شروع کیا، اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے باز آ گئے، اس نے جس چیز کو حرام کہا ہم نے اسے حرام مان لیا اور جس چیز کو حلال کہا ہم نے اسے حلال جان لیا"۔

اسے احمد (1740) نے تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء (1/115) میں مختصرا روایت کیا ہے۔

پس آپ نے دیکھا کہ اسلام اشخاص کی تقدیس کا قائل نہیں ہے، نہ انہیں ان کے مقام سے اونچا کرتا ہے اور نہ ہی انہیں رب اور معبود بناتا ہے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

”آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں، نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں، پس اگر وه منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو مسلمان ہیں“۔

آل عمران: 64

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

اور یہ نہیں (ہو سکتا) کہ وه تمہیں فرشتوں اورنبیوں کو رب بنا لینے کا حکم کرے، کیا وه تمہارے مسلمان ہونے کے بعد بھی تمہیں کفر کا حکم دے گا؟

آل عمران: 80

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم علیہ السلام کی تعریف میں حد سے گزر گئے، میں تو محض ایک بندہ ہوں اس لیے یوں کہو: اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔

صحیح بخاری: 3445

 42- اللہ تعالی نے اسلام میں توبہ کو مشروع فرمایا ہے، توبہ انسان کے اپنے رب کی طرف رجوع ہونے اور گناہ کو چھوڑ دینے کو کہتے ہیں،جس طرح اسلام لانے سے پہلے کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اسی طرح توبہ بھی پہلے کے سارے گناہوں کو دھو دیتی ہے، اس لیے کسی انسان کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اللہ تعالی نے اسلام میں توبہ کو مشروع فرمایا ہے،توبہ انسان کے اپنے رب کی طرف رجوع ہونے اور گناہ کو چھوڑ دینے کو کہتے ہیں،اللہ تعالی کا فرمان ہے:"اور اے مومنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ کامیاب ہو جاؤ"۔النور: 31اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:کیا ان کو یہ خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے میں اور رحمت کرنے میں کامل ہے۔التوبۃ: 104اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کررہے ہو (سب) جانتا ہے۔الشوری: 25اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:" اللہ تعالی اپنے مومن بندے کی توبہ سے اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو ہلا کت خیز بیابان میں ہوتا ہے،اس کی سواری پر اس کے کھان پان کا سامان ہوتا ہے اور وہ سو جاتا ہے، جب وہ بیدار ہوتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی سواری غائب ہے، وہ اسے ڈھونڈتا ہے، یہاں تک کہ اسے پیاس لگ جاتی ہے، پھر وہ اپنے دل میں کہتا ہے: میں وہیں لوٹ جاتا ہوں جہاں تھا اور سو جاتا ہوں یہاں تک کہ مر جاؤں، پھر وہ اپنی کلائی پر سر رکھ کر مرنے کے لیے سو جاتا ہے،لیکن جب وہ جاگتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کے پاس ہی اس کی سواری کھڑی ہے اور اس پر اس کا ساز و سامان اور کھان پان اسی طرح رکھا ہوا ہے،تو اللہ تعالی اپنے بندۂ مومن کی توبہ سے اس آدمی سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی گم شدہ سواری اور ساز و سامان کو دوبارہ پا کر خوش ہوتا ہے"۔صحیح مسلم: 2744اسلام قبول اسلام سے پہلے کے گناہوں کو دھو دیتا ہے اور توبہ سے بھی پہلے کے سارے گناہ دھل جاتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:آپ ان کافروں سے کہہ دیجیے کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دیے جائیں گے اور اگر اپنی وہی عادت رکھیں گے تو (کفار) سابقین کے حق میں قانون نافذ ہو چکا ہے۔الانفال: 38اللہ تعالی نے عیسائیوں کو توبہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:یہ لوگ کیوں اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں استغفار نہیں کرتے؟ اللہ تعالیٰ تو بہت ہی بخشنے واﻻ اور بڑا ہی مہربان ہے۔المائدہ: 74اللہ تعالی نے تمام نافرمانوں اور گناہ گاروں کو توبہ کرنے کی ترغیب دی ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے۔الزمر: 53جب سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے کا ارادہ کیا تو ان کے اندر ڈر پیدا ہوا کہ انہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے جتنے گناہ کیے ہیں وہ معاف نہیں کیے جائیں گے، وہ خود اپنے اس خیال کی روایت ان الفاظ میں کرتے ہیں:جب اللہ تعالی نے میرے دل میں اسلام قبول کرنے کا جذبۂ صادق ڈال دیا تو میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے بیعت کرنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا،آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا دست مبارک میری طرف بڑھایا تو میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! میں آپ سے اس وقت تک بیعت نہیں کروں گا جب تک آپ میرے پچھلے سارے گناہ معاف نہیں کر دیتے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا: اے عمرو! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہجرت اپنے سے پہلے کے سارے گناہوں کو دھو دیتی ہے؟ اے عمرو! کیا تمہیں پتہ نہیں کہ اسلام قبول اسلام سے پہلے کے سارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے؟!اسے مسلم (121) نے اسی طرح پوری طوالت کے ساتھ اور احمد (17827) نے روایت کیا ہے، الفاظ مسند احمد کے ہیں۔

"اور اے مومنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ کامیاب ہو جاؤ"۔

النور: 31

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

کیا ان کو یہ خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے میں اور رحمت کرنے میں کامل ہے۔

التوبۃ: 104

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کررہے ہو (سب) جانتا ہے۔

الشوری: 25

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:

" اللہ تعالی اپنے مومن بندے کی توبہ سے اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو ہلا کت خیز بیابان میں ہوتا ہے،اس کی سواری پر اس کے کھان پان کا سامان ہوتا ہے اور وہ سو جاتا ہے، جب وہ بیدار ہوتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی سواری غائب ہے، وہ اسے ڈھونڈتا ہے، یہاں تک کہ اسے پیاس لگ جاتی ہے، پھر وہ اپنے دل میں کہتا ہے: میں وہیں لوٹ جاتا ہوں جہاں تھا اور سو جاتا ہوں یہاں تک کہ مر جاؤں، پھر وہ اپنی کلائی پر سر رکھ کر مرنے کے لیے سو جاتا ہے،لیکن جب وہ جاگتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کے پاس ہی اس کی سواری کھڑی ہے اور اس پر اس کا ساز و سامان اور کھان پان اسی طرح رکھا ہوا ہے،تو اللہ تعالی اپنے بندۂ مومن کی توبہ سے اس آدمی سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی گم شدہ سواری اور ساز و سامان کو دوبارہ پا کر خوش ہوتا ہے"۔

صحیح مسلم: 2744

اسلام قبول اسلام سے پہلے کے گناہوں کو دھو دیتا ہے اور توبہ سے بھی پہلے کے سارے گناہ دھل جاتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

آپ ان کافروں سے کہہ دیجیے کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دیے جائیں گے اور اگر اپنی وہی عادت رکھیں گے تو (کفار) سابقین کے حق میں قانون نافذ ہو چکا ہے۔

الانفال: 38

اللہ تعالی نے عیسائیوں کو توبہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:

یہ لوگ کیوں اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں استغفار نہیں کرتے؟ اللہ تعالیٰ تو بہت ہی بخشنے واﻻ اور بڑا ہی مہربان ہے۔

المائدہ: 74

اللہ تعالی نے تمام نافرمانوں اور گناہ گاروں کو توبہ کرنے کی ترغیب دی ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے۔

الزمر: 53

جب سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے کا ارادہ کیا تو ان کے اندر ڈر پیدا ہوا کہ انہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے جتنے گناہ کیے ہیں وہ معاف نہیں کیے جائیں گے، وہ خود اپنے اس خیال کی روایت ان الفاظ میں کرتے ہیں:

جب اللہ تعالی نے میرے دل میں اسلام قبول کرنے کا جذبۂ صادق ڈال دیا تو میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے بیعت کرنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا،آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا دست مبارک میری طرف بڑھایا تو میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! میں آپ سے اس وقت تک بیعت نہیں کروں گا جب تک آپ میرے پچھلے سارے گناہ معاف نہیں کر دیتے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا: اے عمرو! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہجرت اپنے سے پہلے کے سارے گناہوں کو دھو دیتی ہے؟ اے عمرو! کیا تمہیں پتہ نہیں کہ اسلام قبول اسلام سے پہلے کے سارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے؟!

اسے مسلم (121) نے اسی طرح پوری طوالت کے ساتھ اور احمد (17827) نے روایت کیا ہے، الفاظ مسند احمد کے ہیں۔

 43- اسلام میں اللہ اور انسان کے درمیان براہ راست تعلق استوار ہوتا ہے،اس لیے آپ کو کسی ایسے شخص کی قطعی ضرورت نہیں ہے جو آپ اور اللہ تعالی کے درمیان واسطہ بنے،اسلام ہمیں اس بات سے سختی سے منع کرتا ہے کہ ہم اپنے ہی جیسے انسانوں کو معبود بنا لیں یا اللہ تعالی کی ربوبیت و الوہیت میں ان کو شریک و ساجھی ٹھہرا لیں

اسلام میں کسی انسان کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار و اعتراف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ انسان اور اللہ کے درمیان براہ راست تعلق ہوتا ہے، اس لیے آپ کے لیے یہ بالکل بھی ضروری نہیں کہ کوئی آپ اور اللہ کے درمیان کا واسطہ بنے، جیسا کہ فقرہ نمبر (36) میں گزر چکا ہے، اللہ تعالی نے تمام انسانوں کو توبہ و انابت کی دعوت دی ہے، اسی طرح اس نے منع فرمایا ہے کہ لوگ انبیا یا فرشتوں کو اللہ اور بندوں کے درمیان واسطہ بنائیں، اللہ کا فرمان ہے:اور یہ نہیں (ہو سکتا) کہ وه تمہیں فرشتوں اورنبیوں کو رب بنا لینے کا حکم کرے، کیا وه تمہارے مسلمان ہونے کے بعد بھی تمہیں کفر کا حکم دے گا؟آل عمران: 80پس اسلام جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ہمیں انسانوں کو معبود بنانے یا ربوبیت یا الوہیت میں اللہ کے شریک کار ٹھہرانے سے منع کرتا ہے، اللہ تعالی نصارى کے بارے میں فرماتا ہے:ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو حاﻻں کہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وه پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔التوبۃ: 31اللہ تعالی نے کافروں کے اس رویے کی نکیر فرمائی کہ وہ اپنے اور اللہ تعالی کے درمیان ثالث بناتے ہیں، چناں چہ ارشاد فرمایا:خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خالص عبادت کرنا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا۔الزمر: 3اللہ تعالی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ عہد جاہلیت کے بت پرست لوگ اپنے اور اللہ کے درمیان ثالث بناتے تھے اور کہتے تھے: یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں گے۔جب اللہ تعالی خود لوگوں کو اپنے اور بندوں کے درمیان انبیا یا فرشتوں کو ثالث بنانے سے منع کرتا ہے تو پھر دوسرے تو بدرجہ اولی اس ممانعت میں داخل ہو جاتے ہیں، انبیا و رسل علیہم السلام کو واسطہ بھلا کیسے بنایا جا سکتا ہے جب کہ وہ تو خود اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے میں بہت جلد بازی کرتے نظر آتے ہیں؟ اللہ تعالی انبیا و رسل علیہم السلام کے احوال کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:”یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں ﻻلچ، طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے“۔الانبیاء: 90اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وه اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیاده نزدیک ہوجائے، وه خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوفزده رہتے ہیں، (بات بھی یہی ہے) کہ تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہی ہے۔الاسراء: 57یعنی جن انبیا و صالحین کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو وہ تو خود اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں، اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں،تو پھر اللہ کو چھوڑ کر ان کو کیسے پکارا جا سکتا ہے بھلا؟

اور یہ نہیں (ہو سکتا) کہ وه تمہیں فرشتوں اورنبیوں کو رب بنا لینے کا حکم کرے، کیا وه تمہارے مسلمان ہونے کے بعد بھی تمہیں کفر کا حکم دے گا؟

آل عمران: 80

پس اسلام جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ہمیں انسانوں کو معبود بنانے یا ربوبیت یا الوہیت میں اللہ کے شریک کار ٹھہرانے سے منع کرتا ہے، اللہ تعالی نصارى کے بارے میں فرماتا ہے:

ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو حاﻻں کہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وه پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔

التوبۃ: 31

اللہ تعالی نے کافروں کے اس رویے کی نکیر فرمائی کہ وہ اپنے اور اللہ تعالی کے درمیان ثالث بناتے ہیں، چناں چہ ارشاد فرمایا:

خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خالص عبادت کرنا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا۔

الزمر: 3

اللہ تعالی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ عہد جاہلیت کے بت پرست لوگ اپنے اور اللہ کے درمیان ثالث بناتے تھے اور کہتے تھے: یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں گے۔

جب اللہ تعالی خود لوگوں کو اپنے اور بندوں کے درمیان انبیا یا فرشتوں کو ثالث بنانے سے منع کرتا ہے تو پھر دوسرے تو بدرجہ اولی اس ممانعت میں داخل ہو جاتے ہیں، انبیا و رسل علیہم السلام کو واسطہ بھلا کیسے بنایا جا سکتا ہے جب کہ وہ تو خود اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے میں بہت جلد بازی کرتے نظر آتے ہیں؟ اللہ تعالی انبیا و رسل علیہم السلام کے احوال کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:

”یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں ﻻلچ، طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے“۔

الانبیاء: 90

اللہ تعالی نے ایک اور جگہ فرمایا:

جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وه اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیاده نزدیک ہوجائے، وه خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوفزده رہتے ہیں، (بات بھی یہی ہے) کہ تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہی ہے۔

الاسراء: 57

یعنی جن انبیا و صالحین کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو وہ تو خود اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں، اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں،تو پھر اللہ کو چھوڑ کر ان کو کیسے پکارا جا سکتا ہے بھلا؟

 44- اس رسالے کے آخر میں ہم اس بات کا تذکرہ کر دینا مناسب سمجھتے ہیں کہ لوگ زمانوں، قومیتوں اور شہریتوں میں منقسم ہیں، بلکہ پورا انسانی سماج ہی مختلف افکار و خیالات، مقاصد اور ماحول و اعمال کے اعتبار سے متعدد طبقات اور گروہوں میں بٹا ہوا ہے، ایسے میں انہیں ضرورت ہے ایک ایسے رہنما کی جو ان کی صحیح رہنمائی کر سکے، ایک ایسے نظام کی جو انہیں یکجٹ کر سکے اور ایک ایسے حاکم کی جو ان کی حفاظت و نگہداشت کر سکے، رسولان عظام علیہم الصلاۃ والسلام اس مقدس فریضے کو وحی الہی کی رہنمائی میں بہ حسن و خوبی ادا کرتے تھے، وہ لوگوں کو خیر و ہدایت کی راہ دکھاتے تھے، انہیں اللہ کی شریعت پر جمع کرتے تھے اور ان کے درمیان حق و صداقت کے ساتھ فیصلے کرتے تھے اور اس طرح وہ لوگ جس قدر ان انبیا و رسل علیہم الصلاۃ والسلام کی فرماں پذیری کرتے تھے، اسی قدر ان کے معاملات صحیح ڈگر پر ہوا کرتے تھے، پھر پیغامات الہیہ کے نزول کا زمانہ جن سے جس قدر قریب ہوتا تھا وہ بھی اسی قدر صحیح ڈگر چلا کرتے تھے، مگر اب تو اللہ تعالی نے نبیوں اور رسولوں کا سلسلہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت و رسالت پر ختم فرما دیا ہے، اسی کے مقدر میں دوام و بقا لکھ دیا ہے، اسی کو لوگوں کے لیے ہدایت، رحمت، نور اور اللہ تک پہنچانے والے راستے کا واحد رہنما بنا دیا گیا ہے۔

اس رسالے کے آخر میں ہم اس بات کا تذکرہ کر دینا مناسب سمجھتے ہیں کہ لوگ زمانوں، قومیتوں اور شہریتوں میں منقسم ہیں، بلکہ پورا انسانی سماج ہی مختلف افکار و خیالات، مقاصد اور ماحول و اعمال کے اعتبار سے متعدد طبقات اور گروہوں میں بٹا ہوا ہے، ایسے میں انہیں ضرورت ہے ایک ایسے رہنما کی جو ان کی صحیح رہنمائی کر سکے، ایک ایسے نظام کی جو انہیں یکجٹ کر سکے اور ایک ایسے حاکم کی جو ان کی حفاظت و نگہداشت کر سکے، رسولان عظام علیہم الصلاۃ والسلام اس مقدس فریضے کو وحی الہی کی رہنمائی میں بہ حسن و خوبی ادا کرتے تھے، وہ لوگوں کو خیر و ہدایت کی راہ دکھاتے تھے، انہیں اللہ کی شریعت پر جمع کرتے تھے اور ان کے درمیان حق و صداقت کے ساتھ فیصلے کرتے تھے اور اس طرح وہ لوگ جس قدر ان انبیا و رسل علیہم الصلاۃ والسلام کی فرماں پذیری کرتے تھے اسی قدر ان کے معاملات صحیح ڈگر پر ہوا کرتے تھے۔ پھر پیغامات الہیہ کے نزول کا زمانہ جن سے جس قدر قریب ہوتا تھا وہ بھی اسی قدر صحیح ڈگر چلا کرتے تھے، مگر اب تو اللہ تعالی نے نبیوں اور رسولوں کا سلسلہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت و رسالت پر ختم فرما دیا ہے، اسی کے مقدر میں دوام و بقا لکھ دیا ہے، اسی کو لوگوں کے لیے ہدایت، رحمت، نور اور اللہ تک پہنچانے والے راستے کا واحد رہنما بنا دیا گیا ہے۔

 45- اس لیے اے انسان! میں تمہیں تقلید و خرافات کی زنجیریں اتار کر اللہ تعالی کے لیے سچے دل اور سچے من سے اٹھ کھڑے ہونے کی پرخلوص دعوت دیتا ہوں، یاد رکھو کہ تم مرنے کے بعد اپنے رب کے پاس ہی لوٹنے والے ہو، میں تمہیں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم اپنے دل و نفس کے اندر جھانک کر دیکھو اور اپنے ارد گرد کے آفاق و انفس میں غور و تدبر کرو اور اسلام قبول کر لو،دنیا و آخرت دونوں جہانوں کی سعادت اور خوش بختی تمہارا انتظار کر رہی ہے، اگر تم اسلام میں داخل ہونا چاہتے ہو تو تمہیں بس اتنا کرنا ہوگا کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، پھر تمہیں ہر اس چیز سے اپنی براءت کا اظہار کرنا ہوگا جس کی اللہ کے علاوہ پرستش کی جاتی ہے، تمہیں اس بات پر ایمان لانا ہوگا کہ اللہ تعالی تمام لوگوں کو ان کی قبروں سے زندہ کرکے اٹھائے گا اور اس بات کا اقرار کرنا ہوگا کہ حساب و جزا برحق ہے، اتنا کر لینے پر تم مسلمان بن جاؤ گے اور پھر تمہیں اللہ تعالی کی مقرر کردہ عبادتیں انجام دینا ہوں گی، جیسے نماز، زکوۃ، روزہ اور اگر سفر خرچ ہو تو حج۔

اس لیے اے انسان! میں تمہیں تقلید و خرافات کی زنجیریں اتار کر اللہ تعالی کے لیے سچے دل اور سچے من سے اٹھ کھڑے ہونے کی اسی طرح پرخلوص دعوت دیتا ہوں جس طرح اللہ تعالی نے اپنے اس قول میں تجھے آواز دی ہے:کہہ دیجیے کہ میں تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے واسطے (ضد چھوڑ کر) دو, مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر سوچو تو سہی، تمہارے اس رفیق کو کوئی جنون نہیں، وه تو تمہیں ایک بڑے (سخت) عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے واﻻ ہے۔سبا: 46اور آپ یہ جان لیں کہ مرنے کے بعد آپ اپنے رب کے پاس ہی لوٹنے والے ہیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور یہ کہ ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی (39)اور اس کی کوشش اسے دکھا دی جائے گی (40)پھر اسے اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا (41)اور بے شک آپ کے رب ہی کى طرف پہوںچنا ہے (42)۔النجم: 39- 42اور آپ کو اپنے نفس اور آپ کے ارد گرد پھیلی کائنات پر غور و تدبر کرنا چاہیے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں اور اس بات میں کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی آ پہنچی ہو، پھر قرآن کے بعد کون سی بات پر یہ لوگ ایمان ﻻئیں گے؟الاعراف: 185تو آئیے اسلام قبول کر لیجیے! آپ کی دنیا اور آخرت دونوں سعادتوں سے بہرہ ور ہو جائیں گی، اگر آپ اسلام میں داخل ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو بس اتنا کرنا ہوگا کہ آپ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو اسلام کا داعی بنا کر یمن بھیجا تو ان سے فرمایا تھا:"تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں، تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالی نے ان پر دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں،اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں خبر دینا کہ اللہ تعالی نے ان کے مال پر زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے امیروں سے لے کر انہی کے غریب لوگوں میں تقسیم کر دی جائے گی، اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو زکوۃ میں ان کا بہترین مال ہرگز نہ لینا"۔صحیح مسلم: 19اور آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ اللہ تعالی کے علاوہ جس بھی چیز کی عبادت کی جاتی ہے اس سے اپنی براءت کا کھل کر اظہار کریں کہ یہی براءت دراصل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ملت "حنیفیت" کا طرۂ امتیاز ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:بس شک ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور اللہ کے علاوہ جن چیزوں کو پوجتے ہو ان سے بری ہیں، ہم تمہارا کھل کر کفر کر رہے ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان سدا کی دشمنی اور نفرت کا آغاز ہو رہا ہے یہاں تک کہ تم صرف ایک اللہ پر ایمان لے آؤ۔الممتحنۃ: 4اور آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس بات پر ایمان لے آئیں کہ اللہ تعالی تمام انسانوں کو قبر سے زندہ کرکے اٹھائے گا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہی مردوں کو جِلاتا ہے اور وه ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے (6)اور یہ کہ قیامت قطعاً آنے والی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ قبروں والوں کو دوباره زنده فرمائے گا (7)۔الحج: 6- 7اور اس بات پر بھی ایمان لائیں کہ حساب و جزا برحق ہے، ارشاد ربانی ہے:اور آسمانوں اور زمین کو اللہ نے بہت ہی عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کام کا پورا بدلہ دیا جائے اور ان پر ﻇلم نہ کیا جائے گا۔الجاثیۃ: 22

کہہ دیجیے کہ میں تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے واسطے (ضد چھوڑ کر) دو, مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر سوچو تو سہی، تمہارے اس رفیق کو کوئی جنون نہیں، وه تو تمہیں ایک بڑے (سخت) عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے واﻻ ہے۔

سبا: 46

اور آپ یہ جان لیں کہ مرنے کے بعد آپ اپنے رب کے پاس ہی لوٹنے والے ہیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اور یہ کہ ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی (39)

اور اس کی کوشش اسے دکھا دی جائے گی (40)

پھر اسے اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا (41)

اور بے شک آپ کے رب ہی کى طرف پہوںچنا ہے (42)۔

النجم: 39- 42

اور آپ کو اپنے نفس اور آپ کے ارد گرد پھیلی کائنات پر غور و تدبر کرنا چاہیے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں اور اس بات میں کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی آ پہنچی ہو، پھر قرآن کے بعد کون سی بات پر یہ لوگ ایمان ﻻئیں گے؟

الاعراف: 185

تو آئیے اسلام قبول کر لیجیے! آپ کی دنیا اور آخرت دونوں سعادتوں سے بہرہ ور ہو جائیں گی، اگر آپ اسلام میں داخل ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو بس اتنا کرنا ہوگا کہ آپ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔

جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو اسلام کا داعی بنا کر یمن بھیجا تو ان سے فرمایا تھا:

"تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں، تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالی نے ان پر دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں،اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں خبر دینا کہ اللہ تعالی نے ان کے مال پر زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے امیروں سے لے کر انہی کے غریب لوگوں میں تقسیم کر دی جائے گی، اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو زکوۃ میں ان کا بہترین مال ہرگز نہ لینا"۔

صحیح مسلم: 19

اور آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ اللہ تعالی کے علاوہ جس بھی چیز کی عبادت کی جاتی ہے اس سے اپنی براءت کا کھل کر اظہار کریں کہ یہی براءت دراصل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ملت "حنیفیت" کا طرۂ امتیاز ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

بس شک ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور اللہ کے علاوہ جن چیزوں کو پوجتے ہو ان سے بری ہیں، ہم تمہارا کھل کر کفر کر رہے ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان سدا کی دشمنی اور نفرت کا آغاز ہو رہا ہے یہاں تک کہ تم صرف ایک اللہ پر ایمان لے آؤ۔

الممتحنۃ: 4

اور آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس بات پر ایمان لے آئیں کہ اللہ تعالی تمام انسانوں کو قبر سے زندہ کرکے اٹھائے گا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہی مردوں کو جِلاتا ہے اور وه ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے (6)

اور یہ کہ قیامت قطعاً آنے والی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ قبروں والوں کو دوباره زنده فرمائے گا (7)۔

الحج: 6- 7

اور اس بات پر بھی ایمان لائیں کہ حساب و جزا برحق ہے، ارشاد ربانی ہے:

اور آسمانوں اور زمین کو اللہ نے بہت ہی عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کام کا پورا بدلہ دیا جائے اور ان پر ﻇلم نہ کیا جائے گا۔

الجاثیۃ: 22

جب آپ نے یہ شہادتیں دے دیں تو آپ مسلمان ہو گئے، اب آپ کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالی نے جو عبادتیں مشروع فرمائی ہیں ان کو بجا لائیں، جیسے نماز، زکوۃ، روزہ اور اگر استطاعت ہو تو حج, اور دیگر عبادتیں۔

کتاب کا یہ نسخہ بتاریخ 19- 11- 1441 کو مکمل ہوا۔

مصنف: پروفیسر ڈاکٹر محمد بن عبد اللہ السحیم

سابق استاد عقیدہ شعبۂ اسلامی مطالعات

ٹریننگ کالج شاہ سعود یونی ورسٹی

ریاض، مملکت سعودیہ عربیہ