پشاور آرمی پبلک اسکول میں حملہ اور132سے زیادہ بچوں کا قتل کس دین وعقل کی بنیاد پرہے؟! ()

عاصم بن عبد اللہ قریوتی

پشاور آرمی پبلک اسکول میں حملہ اور132سے زیادہ بچوں کا قتل کس دین وعقل کی بنیاد پرہے؟!: پشاور میں آرمی پبلک اسکول میں بروز منگل 16 دیسمبر 2014ء کو سات خود کش جیکٹ ملبوس حملہ آوروں کی طرف سے جو حملہ ہوا ،اور جس کی وجہ سے 132 سے زیاد ہ بچے اور 9 تدریسی عملے مارے گئے اور دسیوں زخمی ہوئے یہ قاتلوں ،خونیوں اور بے رحموں کا کام ہے،اسلامی ممالک میں قتل وغارت گری اورجائداد کی تباہی جیسے گھناؤنے عمل کوکسی بھی درست عقل کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا چہ جائیکہ اسے اسلام کی طرف منسوب کیا جائے! اسلام اس جیسے عمل سے اتنا ہی بری وپاک ہے جتناکہ بھیڑیا یوسف علیہ السلام کی خون سے پاک تھا۔اور مسلمانوں اور ان کے بچوں کا قتل کرنا بہت بڑےگناہ میں سے ہے، بلکہ یہ مکمل طور پر دین ، اس کی تعلیمات ،اور اس پر ثابت قدمی سے دوری کا سبب ہے،اور یہ دشمنان اسلام کی طرف سے بعض ملکوں میں مسلمانوں کے ساتھ کئے جانے والے مظالم سے بڑھ چڑھ کر ہے۔

    |

    پشاور آرمی پبلک اسکول میں حملہ اور ۱۳۲ سے زیادہ بچوں کا قتل کس دین وعقل کی بنیاد پرہے؟!

    بأي دين وعقل الهجوم على مدرسة ببيشاور وقتل أزيد من 132 طفلا؟

    (باللغة الأردية)

    تحریر: پروفیسر عاصم قریوتی حفظہ اللہ

    ترجمہ: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنیؔ

    2014 – 1436

    بسم اللہ الرّحمن الرحیم

    پشاور آرمی پبلک اسکول میں حملہ اور ۱۳۲ سے زیادہ بچوں کا قتل کس دین وعقل کی بنیاد پرہے؟

    تحریر: پروفیسر عاصم قریوتی ،۱۷ دیسمبر۲۰۱۴ء

    ترجمانی: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنیؔ

    پشاور آرمی پبلک اسکول میں حملہ اور ۱۳۲ سے زیادہ بچوں کا قتل کس دین وعقل کی بنیاد پر درست ہے؟

    پشاور میں آرمی پبلک اسکول میں کل منگل کو سات خود کش جیکٹ میں ملبوس حملہ آور وں کی طرف سے جو حملہ ہوا ،اور جس کی وجہ سے ۱۳۲ سے زیاد ہ بچے اور ۹ تدریسی عملے مارے گئے اور دسیوں زخمی ہوئے یہ قاتلوں ،خونیوں اور بے رحموں کا کام ہے،اسلامی ممالک میں قتل وغارت گری اورجائداد کی تباہی جیسے گھناؤنے عمل کوکسی بھی درست عقل کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا چہ جائیکہ اسے اسلام کی طرف منسوب کیا جائے!

    اسلام اس جیسے عمل سے اتنا ہی بری وپاک ہے جتناکہ بھیڑیا یوسف علیہ السلام کی خون سے پاک تھا۔اور مسلمانوں اور ان کے بچوں کا قتل کرنا بہت بڑےگناہ میں سے ہے، بلکہ یہ مکمل طور پر دین ، اس کی تعلیمات ،اور اس پر ثابت قدمی سے دوری کا سبب ہے،اور یہ دشمنان اسلام کی طرف سے بعض ملکوں میں مسلمانوں کے ساتھ کئے جانے والے مظالم سے بڑھ چڑھ کر ہے۔

    اور جب مسلمان شخص کو شرعا ڈرانا دھمکانا حرام ہے حتّٰی کہ جانور کو بھی خوف دلانا جائز نہیں ہے جیسا کہ حاکم نے مستدرک علی الصحیحین میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:

    ’’ ایک دفعہ ہم لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے،اور ہمارا گزر ایک ایسے درخت کے پاس سے ہوا جس میں ایک حُمرہ نامی چڑیا کے دو بچےتھے، تو ہم نے انہیں پکڑلیا، راوی کہتے ہیں کہ: یہ جان کر حمرہ نامی چڑیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر چیخنے لگی، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کس نے اس کے دونوں بچوں کو چھین کر اسے تکلیف پہنچائی ہے؟‘‘، راوی کہتے ہیں کہ: تو ہم لوگوں نے کہا کہ : ہم سب نے یہ کیا ہے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )نے فرمایا کہ: ’’ان دونوں بچوں کو اس کے پاس لوٹادو‘‘۔

    تو مسلمانوں کے بچوں کے ساتھ ان (حملہ آوروں )کا رویّہ کیسے درست ہوسکتا ہے؟

    اور کہاں (غافل) ہیں یہ لوگ اللہ کے اس قول سے:

    ﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا ﴾[النساء:93]

    ’’ اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے ‘‘۔

    اللہ مرنے والوں پر رحم کرے، اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے،اوراپنے گم گشتہ راہ بندوں کو ہدایت عطاکرے، اورہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔