حج کے بعد

وصف

زیرنظر مضمون چند اہم نصیحت وتنبیہ پر مشتمل ہے جس پر محافظت کرنا حج کے مقبولیت کی دلیل ہے.

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    حج کے بعد

    [ الأردية - أردو - urdu ]

    فالح بن محمد بن فالح الصغیّر

    ترجمہ: شفیق الرحمن ضیاء الله مدنی

    مراجعہ: افضل ضیاء شہزادہ

    2011 - 1432

    ماذا بعد الحجّ

    « باللغة الأردية»

    أ.د. فالح بن محمد بن فالح الصغيّر

    ترجمة: شفيق الرحمن ضياء الله المدني

    مراجعة: أفضل ضياء شهزادہ

    2011 - 1432

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    حج كے بعد

    ہرقسم کی تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس کے فضل وانعام سے نیک چیزیں تکمیل پاتی ہیں اور نیکیاں قبول کی جاتی ہیں ، میں اس پاکیزہ ذات کی تعریف بیان کرتا ہوں اور اسکا شکر اداکرتا ہوں، اوراس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ،اور محمد صلى اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، اور بکثرت درود وسلام ہو آپ پر اور آپ کے آل واصحاب پر، امابعد:

    قارئین کرام! حج ختم ہوا ،اور حج کے مہینے اپنی خیرات وبرکات کے ساتھ گزرگئے.

    یقیناً حج کے وہ مبارک ایام گزرگئے جسمیں مسلمانوں نے حج اداکیا ، ان میں سے بعض فرض حج اداکرنے والے تھے ،اوربعض نفلی حج کرنے والے تھے ، اور ان میں سے مقبول حضرات اپنے گناہوں سے بخشے بخشائے اس دن کی طرح واپس ہوئے گویا کہ ان کی ماں نے انہیں جنم دیا ہو. پس مبارکبادی ہو کامیاب ہونے والوں کواورخوش بختى ہو مقبولین حضرات کو.

    " بے شک اللہ تعالى تقوى والوں ہی کا عمل قبول کرتا ہے" (المائدہ:27).

    اور ہرمسلمان کویہ بات اچھی طرح جان لینی چاہئے کہ عمل کے مقبول ہونے کی کچھ علامتیں ہیں جن علامات میں سے نیکی کے بعد نیکی کرنا ہے اور عمل کے مردود ہونے کی علامات میں سے برائی کے بعد برائی کا ارتکاب کرنا ہے-

    پس جب حاجی حج سے واپس آکر اپنے نفس کو اطاعت الہی کی طرف متوجہ پائے ، خیر کی طرف رغبت کرنے والا پائے ، استقامت پے گامزن پائے اور گناہوں سے دوری اختیار کرنے والا پائے تو یہ اللہ کی طرف سے اسکے عمل کے قبولیت کی پہچان ہے.

    اور جب اپنے نفس کو اللہ کی طاعت سے پیچھے رہنے والا ، نیکیوں سے دور رہنے والا ، برائیوں کی طرف پلٹنے اور اسکا ارتکاب کرنے والا پائے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اسے مزید توبہ اور انابت الى اللہ کی ضرورت ہے.

    تو اے وہ شخص جس نے اللہ کے محترم گھرکا قصد کیا ، تم پر حج کے مبارک ایام گزرے اور تم نے ان مقدس مقامات پر اپنے ایام بتائے تو اب تمہارا یہ عمل تمہاری طرف سے ہدایت وحق کے راستہ کی طرف گامزن ہونا چاہئے.

    اے حج میں اللہ کی پکارپر لبیک کہنے والے! اور اے لبیک اللہم لبیک (میں حاضرہوں اے اللہ! میں حاضرہوں ) کہنے والے ! تمہاری یہ اللہ کیلئے حاضرى وپکار تمام امور میں ہمیشہ کیلئے ہونی چاہئے اور تمہاری یہ طاعت ہمیشہ اسی کیلئے جاری رہنی چاہئے.کیونکہ حج کے مہینہ کا رب تمام مہینوں کا رب ہے ،اور ہمیں اللہ سے استعانت اور اسکی عبادت کا حکم موت تک دیا گیا ہے.

    " اوراپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے" (الحجر:99).

    پیارے مسلمان بھائی!

    بھلائى کے موسم انسانی زندگی میں وقتی طور پر تبدیلی نہیں چاہتے بلکہ مکمل طور سے لہو ولعب اور غفلت وکوتاہی سے اطاعت اورکامل عبودیت الہی کی طرف منتقلی کا مطالبہ کرتے ہیں.

    اور بھلائی کے مواسم ايسی جگہوں کی طرح نہیں ہیں جہاں انسان اپنی گناہوں میں تخفیف حاصل كرلے اور گناہوں سے چھٹکارا پالے تاکہ دوبارہ پھر دوسری گناہ کا ارتکاب کرے کیونکہ یہ لوگوں کی ناسمجهى ہے اور جولوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ ان مواسم کی حقیقت کا ادراک نہیں رکھتے ، بلکہ یہ مواسم ایسی جگہیں ہیں جو غافلوں کیلئے تنبیہ کا کام کرتى ہیں اور کوتاہی کرنے والوں کیلئے باعث نصیحت ہیں تاکہ لوگ اپنے گناہوں پے نادم ہوکراس سے باز آجائیں اور آئندہ نہ کرنے کا عزم مصمّم کریں اور اللہ کی طرف لوٹیں .

    " ہاں بے شک میں انہیں بخش دینے والا ہوں جوتوبہ کریں ، ایمان لائیں ،نیک عمل کریں اور راہ راست پربھی رہیں "- (طہ:82)

    اوراكثر لوگ اپنے نفس کے دھوکے کا شکارہوجاتے ہیں اورشیطانوں کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں یہاں تک کہ اسی حالت پے انہیں موت آپہنچتی ہے.

    پس اے اللہ کے محترم گھر کا قصد کرنے والے! اس آدمی کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے مضبوط محل بنایا پھراسے اسکی بنیاد سے ڈھانا شروع کردیا.

    " اور اس عورت کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈالا " (النحل:92).

    اورسب سے خطرناک بات جس سے ہرمسلمان کو متنبہ ہونا چاہئے یہ ہے کہ بعض لوگ اللہ کے مقدس گھرکا قصد کرتے ہیں اور اس سے زیادہ اہم چیز کو ترک کردیتے ہیں کیونکہ لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو پنجوقتہ نماز ہی نہیں پڑھتے ہیں اور ایسے شخص کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اسکا حج ہی نہیں کیونکہ اس نے نماز کو چھوڑا ہے جبکہ تارک صلاۃ کے بارے میں سخت وعید آئی ہیں اللہ کا فرمان ہے:

    "تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا وہ جواب دیں گے کہ ہم نماز ی نہ تھے " (المدّثر:42-43)

    اوراللہ نے فرمایا:

    " ہاں اگروہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکاۃ ادا کرنے لگیں تو تم ان کی راہیں چھوڑدو-یقیناً اللہ تعالى بخشنے والا مہربان ہے "- ( التوبة:5)

    اور نبی صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    "بے شک آدمى اور شرک وکفرکے درمیان فاصلہ نمازچھوڑنے کا ہے" اسے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے جابررضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت کیا ہے.

    اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے بریدہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کی ہے:

    "ہمارے اور اہل کتاب کے ما بین عہد نماز کا ہے تو جسنے نماز چھوڑی تو گویا اس نے کفرکی"

    اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح سند کے ساتھ کتاب الایمان میں شقیق بن عبد اللہ تابعی سے روایت کی ہے فرماتے ہیں:

    "صحابہ کرام نماز کے علاوہ کسی اعمال کو چھوڑنے کو کفرنہیں سمجھتے تھے"-

    بعض لوگ بیت اللہ کا حج کرتے ہیں لیکن زکاۃ ادا نہیں کرتے جبکہ کتاب اللہ میں زکاۃ کا ذکر نماز کے ساتھ ہوا ہے. اللہ کا فرمان ہے:

    "نماز قائم کرو اور زکاۃ ادا کرو"-(البقرۃ: 43)

    اورنبی صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    "بے شک مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ لا اللہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیں اور نماز قائم کریں اور زکاۃ دیں جب وہ ایسا کرلیں تو مجھ سے انکے خون ومال محفوظ ہوگئے مگراسلام کے حق کے ساتھ اور انکا معاملہ اللہ پر ہے". اسے بخاری ومسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت کی ہے.

    اورابوبكررضى اللہ عنہ نے مانعین زکاۃ سے جنگ لڑی اور وہ مشہور قول فرمایا:

    "اللہ کی قسم! میں اس شخص سے ضرورباضرور لڑوں گاجونماز وزکاۃ کے درمیان تفریق کرے گا. اللہ کی قسم! اگر رسی یا بکری کا بچہ جسے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیا کرتے تھے مجھ سے روکیں گے تو اس پر بھی ان سے جنگ کروں گا"-

    اور بعض لوگ حج کرتے ہیں مگر رمضان کا روزہ نہیں رکھتے ،جبکہ روزہ حج سے زیادہ ضروری ہے اور حج سے فرضیت میں اولیت رکھتا ہے .جولوگ حج اداکر تے ہیں اور دیگرارکان میں غفلت سے کام لیتے ہیں ان کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو ایسے جسم کے عضو کا علاج کرتا ہے جسکا سرکٹا ہوا ہو.

    اور مسلمان کیلئے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اپنے دین کی حفاظت اور اسکے کمال کی حرص رکھے اور اس دین کی زوال اور اس میں خلل واقع ہونے سے محفوظ رکھے، اور واجبات کی ادائیگی کرے اور حرام چیزوں سے بچے ، اور موت تک اللہ کے دین پر قائم رہے.

    الله كا فرمان ہے:

    " بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھراس پر جمے رہے توان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے،یہ تو اہل جنت ہیں جو سدا اسی میں رہیں گے ان اعمال کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے"-(الأحقاف:13-14)

    اور جس بات کی خاص تاکید کی جاتی ہے وہ یہ کہ مسلمان اپنے کئے ہوئے اعمال کا محاسبہ اورجانچ پڑتال کرے پھر اپنے لئے ایک ایسا پروگرام بنائے جسکی اللہ کی مدد کا سہارا لیکرادائیگی کرسکے تاکہ اس عمارت کی تکمیل ہوسکے جسے حج میں شروع کیا تھا.

    یہ سب اسلئے تاکہ مسلمان بندہ فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد اہم اعمال پر محافظت کرسکے ، اللہ اسے اس بات کی توفیق دے.

    الله سے میری دعا ہے کہ تمام لوگوں کے حج کو قبول فرمائے اور اسے مقبول حج بنائے اور ان کی کوششوں کو قبول فرمائے اور انکے گناہوں کی مغفرت فرمائے ، اور ہمارے اقوال وافعال میں اخلاص عطا فرمائے اور مخلوق کے سردار محمد صلى اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے. اور ہمار ے اس عمل کو زندگی اور موت کے بعد ذخیرہ آخرت بنائے. بے شک وہی بہترین کارساز اوربڑی قدرت رکھنے والا ہے.

    علمی زمرے: