• PDF

    مقالاتِ محدًث مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ: یہ ایک حقیقت ہے کہ برصغیرپاک وہند میں علم حدیث کی تاریخ تب تلک تشنہ تکمیل رہے گی جب تک علامہ محمد عبد الرحمن محدّث مبارک پوریؒ کا ذکرخیرنہ ہو۔ آپ اپنے وقت کے بہت بڑے محدّث،مفسّر،محقّق،مفتی،ادیب اورنقّاد تھے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انہیں علم کی غیرمعمولی بصیرت وبصارت ،نظروفکر کی گہرائی،تحقیق وتنقیح میں باریک بینی اورژرف نگاہی عطاء فرمائی تھی۔ زہد وتقوی،اخلاص وللہیت،حسن عمل اورحسن اخلاق کے پیکرتھے۔ ’’تحفۃ الاحوذی‘‘ ان کا علمی شاہکارہے،اس کے علاوہ دو درجن سے زائد مختلف عناوین پران کی تحقیقی کاوشیں صحیفہ قرطاس پرمرتسم ہیں۔ ’’تحقیق الکلام فی وجوب القراءۃ خلف الامام‘‘ توکئی بار زیور طبع سے آراستہ ہوئی،مگراکثرایسی ہیں جو ایک یا دوبار شائع ہوئیں اورپھر دستیاب نہ ہوسکیں۔ اب ’’ادارۃ العلوم الاثریہ‘‘ آپ کی کمیاب بلکہ نایاب تصانیف کو’’مقالات محدّث مبارکپوری‘‘ کے عنوان سے شائع کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے جوحسب ذٰیل ہیں: 1-نورالأبصار في تائيد نور الأبصار 2- ضياء الأبصار في ردّ تبصرة الأنظار. 3-ضياء الأبصار في رد تبصرة الأنظار 4-المقالة الحسنى في سنّية المصافحة باليد اليمنى 5-القول السديد فيما يتعلق بتكبيرات العيد 6-تكبيرة الجنائز 8-إعلام أهل الزمن 9-خير الماعون في منع الفرار من الطاعون اس مجموعہ مقالات کی مراجعت ادارہ کے رفیق مولانا حافظ محمد خبیب احمد صاحب نے کی اورمقدور بھرحوالہ جات کا بھی تقابل کیا ہے۔ رب العالمین اس کتاب کے نفع کوعام کرے اورجملہ ناشرین کے حق میں صدقہ جاریہ بنائے آمین۔(ش۔ر)

  • PDF

    جسطرح قرآن مجيد كي تفسيروتعبير نبي صلى الله عليه وسلم کی سیرت طیبہ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی بالکل اسی طرح رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کی تعبیروتکمیل اور بقا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل وکردار کے بغیر ممکن نہیں’ کیونکہ صحابہ کرام ہی رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے علم کے وارث’آپ کے سفیر اور آپ کے مبلغ ہیں’ سارا دین ان ہی کے توسط سے امت کے پاس پہنچا اور وہ پوری امت کے محسن ہیں. امام ابوبكر الآجري رحمه الله نے بسند حسن امام حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:"وہ محمد صلى اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تھے وہ اس امت کے سب سے زیادہ نیک دل’ سب سے زیادہ گہرا علم رکھنے والے اور سب سے کم تکلّف کرنے والے تھے’ وہ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ تعالى نے اپنے دین کو سرفراز کرنے اور اپنے نبی کی صحبت کیلئے منتخب کیا’ انکے اخلاق واطوار کو اختیارکرو’ ربِ کعبہ کی قسم وہ صراطِ مستقیم پر تھے-" (کتاب الشریعة: 1/1686). /1686). یہ رُتبہ بلند ملا جسکو مل گیا ہرمُدّعى کے واسطے دار و رَسَن کہاں کتاب مذکورمیں محقّقِ عصرعلّامہ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے انہی نفوس قدسیہ کے مقام ومرتبہ کواجاگرکرکے ان سے اپنی محبت وعقیدت کا اظہار کیاہے،اوران ميں سے بعض کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے فکر کی کجی اور زیع کو بھی طشت ازبام کیاہے بلکہ علامہ ابن الوزیرالیمانی رحمہ اللہ نے جواپنی تمام ترعظمتوں کے باوجود اس مسئلہ میں سلفِ امت سے علیحدگی اختیارکرکے بعض صحابہ کی عدالت کو ہدف تنقید بنایا ہے اسے بھی بے نقاب کیا ہے اور انکی بے اعتدالیوں کو اجاگرکیاہے نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ فرمائیں.

فیڈ بیک