• PDF

    زیرمطالعہ کتاب میں مولانا محمد نافع –رحمہ اللہ- نے خلیفہ سوم عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اقربا پروری سے متعلق سبائیت کے ناپاک سازش وجھوٹے اتہامات سے پردہ اٹھا کر صدیق اکبر’فاروق اعظم’اورسیدنا عثمان غنی ’تینوں خلفاء کے ساتھ على اور اولاد على رضی اللہ عنہم کے حسن سلوک’باہمى تعاون’خانگی مراسم’نسبی تعلقات اور امورخلافت میں بھرپوراعانت کوکم وبیش دوسوسے زائد قدیم وجدید کتب کے حوالہ جات سے روزِ روشن کی طرح واضح کیا ہے. یہ کہنا بے جا نہیں کہ اس موضوع پر اس دور میں یہ پہلی مدلل تحقیقی کتا ب ہے جو سادہ’رواں اور عام فہم اردوزبان میں لکھی گئی ہے. اتحاد بین المسلمین اوراتحادِعالم اسلام کے ضمن میں اس کتاب کو اس لحاظ سے اساسی اور بنیادی حیثیت حاصل ہے کہ موصوف نے مخالفین اسلام کے تفرقہ اندازی کی اصل بنیادوں کی نشاندہی کرکے اِس سازش کے تاروپَود بکھیردئے ہیں. کتاب کے مطالعہ سے جہاں یہ اطمینان قلبی حاصل ہوگا کہ تمام صحابہ کرام ’اہل بیت عظام سمیت باہمی شیروشکرتھے. ان میں اختلاف کا شائبہ تک نہ تھا-وہیں یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ اسلام کی صداقت وحقانیت ’عالمگیرحیثیت اورغلبہ کے سامنے باطل کبھی ٹہرنہیں سکا.اورجب بھی اسے ضعف پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے.اسکے لئے افتراق وتشتت ہی کا حربہ استعمال میں لایا گیا.

  • PDF

    سیرت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ : حضرت مولانا محمد نافع صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اس بات کی خصوصی توفیق عطا فرمائی ہے کہ انھوں نے اپنی متعدد تالیفات کے ذریعے سے حضرات صحابہ کرام کے حقیقی سیرت و کردار کو مستحکم علمی اور تاریخی دلائل کے ساتھ واضح فرمایا ہے۔ جن انصاف نا آشنا حلقوں نے ان حضرات پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کیے ہیں ان کا شافی اور اطمینان بخش جواب دیا ہے اور حضرات صحابہ کرام کے درمیان جو علمی اور سیاسی اختلافات پیش آئے، ان کے حقیقی اسباب کی دلنشیں وضاحت فرمائی۔ حضرت معاویہ ان صحابہ کرام میں سے ہیں جن کے خلاف اعتراضات و مطاعن کے ترکش سے کوئی تیر بچا کر نہیں رکھا گیا۔ زیر تبصرہ کتاب "سیرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ" میں حضرت مولانا محمد نافع صاحب نے ان کی سیرت کے حقیقی روشن پہلوؤں کو مضبوط دلائل کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ پہلی جلد کے پہلے حصے میں حضرت معاویہ کے سوانح، عہد رسالت میں ان کے منصب و مقام اور کارنامے اور ان کے مناقب کی احادیث کو پوری تحقیق کے ساتھ بیان کیا ہے۔ دوسرے حصے میں حضرات خلفائے ثلاثہ کے عہد مبارک میں حضرت معاویہ کی خدمات اور دیگر کارناموں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تیسرے حصے میں حضرت عثمان کی شہادت کے بعد کے واقعات زیر بحث لائے گئےہیں۔ چوتھے اور آخری حصے میں فاضل مؤلف نے حضرت معاویہ کے عہد خلافت کے کارناموں، فتوحات، ان کے قائم کیے ہوئے انتظامی ڈھانچے، ان کی رفاہی اور ترقیاتی خدمات، ان کی علمی کاوشوں، ان کے مکارم اخلاق اور اہل بیت کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا ذکر ہے۔ آخر میں رسول اقدسﷺ کے ساتھ ان کے محبت کے مظاہر اور ان کے بارے میں اکابر امت کی آراء نہایت تفصیل اور استقصا کے ساتھ پیش کی ہیں۔ کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے "روافض" و" خوارج "کے بے بنیاد اعتراضات اور پروپیگنڈے سے بچنے کے لیے اس کتاب کا ہر ایمان والے شخص کے گھر میں ہونا ضروری ہے (ع۔م).

فیڈ بیک