• اردو

    ميں ايك ايسے شخص سے شادى شدہ ہوں جو مجھ سے محبت نہيں كرتا، اور نہ ہى ميرے اخراجات برداشت كرتا ہے اور ميرے ساتھ معاملات بھى صحيح نہيں كرتا، اور سنت پر ميرا عمل كرنا بھى اسے برا لگتا ہے، اور مجھے ملازمت كرنے پر مجبور كرتا ہے، ميں اس سے خلع لينا چاہتى ہوں، ليكن ميرے والدين انكار كرتے ہيں، اس سلسلہ ميں شريعت كى رائے كيا ہے ؟

  • اردو

    ميرى مشكل يہ ہے كہ ميں بچپن سے ہى والد صاحب پر اعتماد كرتا رہا، ميرا سارا خرچ والد صاحب ہى برداشت كرتے رہے، اور ہر چيز لا كر دى ـ ميں اپنى تعليم اس ليے مكمل نہ كر سكا كہ والد صاحب كا اصرار تھا كہ ميں ان كے ساتھ تجارتى معاملات ميں ہاتھ بٹاؤں، اس ليے ميں نے مڈل تك ہى تعليم حاصلى كى، حالانكہ ميں ان كے ساتھ كام نہيں كرنا چاہتا تھا اس كے باوجود والد صاحب كے اصرار پر ميں نے ان كے ساتھ دينا شروع كر ديا. اور وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ ميں كام كرنے كا عادى بھى ہو گيا، اور تقريبا ساٹھ فيصد كام كو پسند كرنا شروع كر ديا، ميں نے والد صاحب كے ساتھ مسلسل سولہ برس تك كام كيا ہے، جس ميں كوئى واضح ترقى نہ ہوئى، يا پھر ميں محسوس كرتا ہوں كہ ميرى ايك اچھى آزمائش تھى. اللہ تعالى والد صاحب كو جزائے خير عطا فرمائے ميرے سارے اخراجات وہى كرتے رہے، ابتدائى برسوں ميں تو ميں بغير تنخواہ كے كام كرتا رہا، والد صاحب مجھے ايك ہفتہ كا خرچ دے ديتے، يا پھر ميں انصاف كى اور سچى بات كروں تو مجھے اتنا خرچ دے ديتے جو ايك ماہ كے ليے كافى ہوتا. ليكن يہ خرچ اتنا نہيں تھا كہ ميں اس سے كچھ بچا سكوں، اسى طرح دن گزرتے رہے، اور ميں نے شادى كرنے كا فيصلہ كيا، اللہ تعالى والد صاحب كو جزائے خير عطا فرمائے انہوں نے شادى كے اخراجات كيے، اور مجھے اپنے گھر ميں ہى ايك فليٹ رہائش كے ليے دے ديا، ميں اس نيكى كا كبھى انكار نہيں كرونگا. اس كے بعد والد صاحب نے دو ہزار ريال ميرى تنخواہ مقرر كر دى، اور كچھ سال كے بعد بڑھا كر تين ہزار كر دى، ليكن ميں محسوس كرتا تھا كہ ميں اپنے اس كام پر راضى نہيں ہوں، كيونكہ يہ تنخواہ ميرى ذاتى اور گھريلو ضروريات كے ليے كافى نہ تھى. تين برس گزرنے كے بعد ميں نے اپنے والد صاحب كى جانب سے برا سلوك ديكھنا شروع كرديا جو بعض اوقات تو گاليوں تك پہنچ جاتى اور دوسروں كو مجھ پر فضيلت ديتے كہ تم سے تو فلاں شخص ہى اچھا ہے، اور فلاں شخص ديكھو وہ تم سے بہتر ہے... ميں محسوس كرنے لگا كہ والد صاحب دوسروں كو اچھا سمجھتے ہيں، اور انہيں راضى كرنے كى كوشش كرتے ہيں، ليكن ميرے بارہ ميں ان كا رويہ اچھا نہيں ميرے ساتھ معاملات اچھے نہيں كر رہے، مجھے والد صاحب كوئى كام كرنے كا كہتے اور مجھے اس كا صلہ دينے كا بھى وعدہ كرتے ليكن بعد ميں فيصلہ تبديل كرتے ہوئے اپنا وعدہ پورا نہ كرتے اور كہتے كہ مجھے تو كوئى وعدہ ياد نہيں ہے، يا پھر كہتے كہ تم نے كام ميں كوتاہى كى ہے، اس كے علاوہ كئى طرح كے بہانے بنا كر انكار كر ديتے. اس سب كچھ كے بعد انہوں نے ميرى تنخواہ بھى كم كر كے دو ہزار ريال كردى حالانكہ ميرى عمر اب سينتيس برس ہو چكى ہے، اور ميں شادى شدہ ہوں اور ميرى اولاد بھى ہے، اور ميرے ذمہ كئى قسم كى ذمہ دارياں ہيں، بلاشك آپ كو علم ہے كہ اس وقت مہنگائى كتنى ہو چكى ہے، دو ہزار ريال كس طرح ايك ماہ كے اخراجات پورے كر سكتے ہيں، اور آئندہ مستقبل كى كيا ضمانت ہو سكتى ہے ؟ اور مستقبل ميں بچوں كے ليے كيا بنايا جا سكتا ہے، مجھے كئى قسم كے افكار اور سوچيں گھيرے ركھتى ہيں كہ ميں كوئى اور كام كر لوں، ليكن جب بھى ميں والد صاحب كا سوچتا ہوں تو مجھے پريشانى لاحق ہو جاتى ہے، اور ميں خوف محسوس كرتا ہوں كہ والد صاحب اكيلے رہ جائيں گے اور وہ اس كا اثر بھى ليں گے. اور اسى طرح ميں ان كى ناراضگى كا خدشہ بھى محسوس كرتا ہوں، جب انہيں علم ہوگا كہ ميں كوئى اور كام تلاش كر رہا ہوں تو وہ ناراض ہونگے، كيونكہ وہ ہر مسئلہ ميں مجھ پر اعتماد كرتے ہيں، چاہے تجارت ہو يا گھر كا كام، يا خاندان كا كوئى معاملہ ہو، ہر كوئى يہى كہتا ہے كہ ميں ہى اس خاندان كا سب كچھ اور محور ہوں. وہ يہ سمجھتے ہيں كہ اس كام كے پيچھے مجھے بہت كچھ ملتا ہے، حالانكہ فى الواقع ايسا نہيں ہے، بلكہ ميں تو يہ سمجھتا ہوں كہ اس ميں جو خير پائى جاتى ہے وہ يہ كہ اللہ كے حكم سے ميں حسب استطاعت اپنے والد كے ساتھ حسن سلوك كر رہا ہوں، حالانكہ مجھے وہ كچھ حاصل نہيں ہوتا جو ميرے باقى بھائي حاصل كرتے ہيں. ميرے سارے بھائى مجھ سے چھوٹے ہيں، اور ميں ہى سب سے بڑا ہوں، وہ سب اچھى ملازمت كر رہے ہيں اور ان ميں سے سب كى كم از كم تنخواہ پانچ ہزار ريال ماہانہ ہے، اور پھر وہ غير شادى شدہ ہيں، ليكن ميرى تنخواہ صرف دو ہزار ريال ہے، مجھے علم ہے كہ ميرے مقدر ميں يہى ہے، اور روزى كى تقسيم تو اللہ سبحانہ و تعالى ہى كرتا ہے اس نے ہر انسان كا رزق اور اسكى زندگى اور تقدير لكھ ركھى ہے... اللہ گواہ ہے ميرا اس پر ايمان ہے كہ يہ اللہ كى جانب سے ہے، اللہ نے ميرے ليے جو لكھ ركھا ہے ميں اس پر راضى ہوں، اللہ سبحانہ و تعالى نے انسان كے ليے بہتر ہى لكھا ہے، ہر حالت ميں اللہ سبحانہ و تعالى كا شكر ہے. ليكن انسان طبعى طور پر كمزور واقع ہوا ہے، اور وہ بعض اوقات دنياوى امور كى طرف مائل ہو كر اس كى جانب جھك جاتا ہے، كہ وہ اپنے كسى دوست يا كسى رشتہ دار يا پھر اپنے ارد گرد رہنے والوں كو ديكھتا اور كہتا ہے كہ: ميں بھى ان جيسى صفات كا مالك كيوں نہيں، وہ اچھا لباس زيب تن كرتے ہيں، اور بہترين گاڑيوں پر سفر كرتے ہيں اور اپنى اولاد كے ليے جو چاہيں لا كر ديتے ہيں ..... ليكن ميں ايسا نہيں ؟ بعض اوقات ميں بھى محسوس كرتا ہوں كہ ميں بھى اس امر واقع كے سامنے سرتسليم خم كر چكا ہوں، ميرے پاس كوئى اچھى ملازمت نہيں ہے، اور نہ ہى ميرے پاس كوئى ايسى تعليمى ڈگرى ہے جو مجھے كوئى اچھى ملازمت دلا دے جس كے ذريعہ ميں اپنے بيوى بچوں كے صحيح طرح اخراجات پورے كر سكوں، اور نہ ہى ميرے پاس كوئى جمع پونجى ہے جس كے ذريعہ كوئى كاروبار شروع كروں. خلاصہ يہ ہے كہ: اس وقت تو ميرى حالت اور بھى زيادہ خراب ہو چكى ہے كيونكہ گھريلو اخراجات بڑھ چكے ہيں اور ميں محسوس كرتا ہوں كہ دنيا ميرے سر پر سوار ہے ميں اس كا وزن برداشت نہيں كر سكتا، ہر وقت پريشان اور غم كا شكار رہتا ہوں، اور دن بدن نيچے كى طرف ہى جا رہا ہوں، اور پريشانى بھى بڑھ رہى ہے. اس ليے ميں نے يہ فيصلہ كيا كہ مجھے كوئى اور كام كرنا چاہيے، اور اس كوئى ايسا كام تلاش كروں جو ميرے حالات بدل دے، ميں محسوس كرتا ہوں كہ كسى بھى وقت اپنى بيوى كھو سكتا ہوں، كيونكہ وہ مجھے ہر وقت كوئى اور كام تلاش كرنے پر ابھارتى رہتى ہے، كيونكہ وہ خود بھى ملازمت كرتى ہے اور ميرى تنخواہ سے تين گناہ زيادہ تنخواہ ليتى ہے، اور گھريلو اخراجات ميں ميرى مدد كرتى، بلكہ مجھ سے بھى زيادہ اخراجات برداشت كرتى ہے. ليكن مرد كى بھى كوئى عزت ہونى چاہيے، اور اس كے نفس كى عزت ہو، ميں جانتا ہوں كہ ان دنياوى امور ميں بيوى اپنے خاوند كى معاونت كر سكتى ہے اس ميں كوئى حرج نہيں ليكن معاملہ مختلف ہے كيونكہ وہ ميرى عيالدارى ميں ہے اس كے اخراجات ميرے ذمہ ہيں، بلكہ ايك دفعہ تو ايسا بھى ہوا كہ ميرى بيوى ميرے فقر كى بنا پر اپنے ميكے بھى چلى گئى اور وہ اس صورت حال سے خوش نہيں ہے، ميں محسوس كرتا ہوں كہ وہ حق پر ہے. وہ ايسا كرے بھى كيوں نہ، اور كيسے اپنے ميكے جا كر نہ بيٹھے، كيونكہ وہ ديكھتى ہے كہ اس كى سارى سہيلياں اور سارى بہنيں شادى شدہ ہيں اور وہ اپنے ملكيتى گھروں ميں رہتى ہيں، اور اچھى سے اچھى گاڑى ركھى ہوئى ہے، اور بہتر سے بہتر وسائل راحت اختيار كيے ہوئے ہيں، ليكن اسے ان اشياء ميں سے كچھ بھى حاصل نہيں ہے. اہم يہ ہے كہ ميں نے جب بھى عزم كيا يا ارادہ كيا كہ ميں كوئى اور كام تلاش كروں تو مجھے خوف اور ڈر سا لگا رہتا ہے كہ كہيں مستقبل ميں ناكام نہ ہو جاؤں، جيسا كہ ميں اوپر كى سطور ميں بيان كر چكا ہوں كہ ميں اپنے والد صاحب پر ہى اعتماد كرتا رہا ہوں، اور ميں نے كبھى بھى عليحدہ اكيلے كام نہيں كيا، ميرے والد صاحب نے مجھے عادى بنا ديا ہے كہ ميں ہر چيز ميں ان ميں پر اعتماد كرنے لگا ہوں، اور ميں يہ نقطہ ان كى مصلحت كے ليے ہى استعمال كرتا ہوں. ليكن اب مجھے ايك ايسا كام ملا ہے جس كے بارہ ميں معلومات اكٹھى كرنے اور الحمد للہ استخارہ كرنے كے بعد مجھے علم ہوا ہے كہ اس ميں ان شاء اللہ خير پائى جاتى ہے، ليكن اندر سے مجھے بہت زيادہ ڈر بھى محسوس ہو رہا ہے استخارہ كے بعد مجھے پچاس فيصد سكون حاصل ہوا ہے، ليكن باقى خوف اور حيرانى پائى جاتى ہے كہ كہيں ناكام نہ ہو جاؤں، ميں وضاحت كے ساتھ بتانا چاہتا ہوں كہ وہ كام درج ذيل ہے: سامان كى نقل و حمل كے ليے گاڑى چلانا، كہ ہر چيز ايك علاقے سے دوسرے علاقے ميں نقل كى جائے كچھ لوگ حتى كہ ميرے بھائى بھى مجھے يہ كام كرنے پر طعنے ديتے اور عار دلاتے ہيں، حتى كہ ابتدا ميں تو ميرے والد صاحب بھى ميرے ساتھ مذاق كرنے والوں ميں شامل تھے. ان كا كہنا تھا كہ ميں نے وہ كام شروع كيا ہے جو دوسرے ملكوں سے يہاں كر دوسرے ملازمين كرتے ہيں، ليكن مجھے تو يہ كام اچھا لگا ہے، ميں اس سے اپنى روزى كماتا اور اپنے بيوى بچوں كے اخراجات پورے كرتا ہوں، اللہ سے توفيق كى دعا ہے. برائے مہربانى يہ بتائيں كہ اس كام كے متعلق آپ كى رائے كيا ہے ؟ اور ميرى حالت كے بارہ ميں آپ كى رائے ميں كيا حل ہے اور مجھے كيا كرنا چاہيے، اور كيا اگر ميں اپنے والد سے عليحدہ اور دور رہ كر كوئى كام كرتا ہوں تو كيا ميں نافرمان كہلاؤنگا، كيونكہ مجھے ڈر ہے كہ كہيں ميں والد صاحب كا نافرمان نہ بن جاؤں، اللہ سے ميرى دعا ہے كہ ميں اپنے والدين سے حسن سلوك كرنے والا بنوں ؟

  • اردو

    ميرى بہن كى شادى كو آٹھ ماہ ہوئے ہيں، اور اسے شكايت ہے كہ وہ اپنے خاوند سے محبت نہيں كرتى اس ليے طلاق چاہتى ہے، حالانكہ اس كا خاوند ايك اچھے اخلاق والا اور صاحب علم اور نوجوانوں ميں افضل ہے، ميرا سوال يہ ہے كہ ان دونوں كى اصلاح كے ليے آپ مجھے كيا نصيحت كرتے ہيں، يا كہ ان كے ليے طلاق ہى مناسب ہو گى ؟

  • اردو

    ميرے عزيز بھائيو ميں كيتھولك مذہب ركھنے والى عورت ہوں اور كئى برس سے شادى شدہ بھى ميرى خوبصورت سى دو بيٹياں بھى ہيں، تقريبا پانچ برس سے ميں اپنے خاوند كو پسند نہيں كرتى، ليكن طلاق كے متعلق كبھى سوچا بھى نہيں تھا، كيونكہ ميرا دين اس كى اجازت نہيں ديتا. پچھلے برس ميں اپنے آپ پر كنٹرول نہ ركھ سكى اور ايك چھوٹى عمر كے مسلمان نوجوان كے ساتھ حرام تعلقات قائم كر بيٹھى، اور اس بنا پر كہ وہ ہمارے ليے ايك فليٹ كرايہ پر لے ميں نے اس كے ساتھ عرفى نكاح پر دستخط بھى كر ديے، ليكن جب اس كے خاندان والوں كو علم ہوا تو اس نے وہ كاغذ پھاڑ ديا، ہمارے يہ تعلقات صرف ايك ہفتہ رہے اور پھر ميں نے توبہ كر لى، اور وہ بھى اس سے توبہ كر چكا ہے. اور اس نے اب ايك مسلمان لڑكى سے منگنى كر لى ہے، اور مجھے بھى پچھلے ماہ ايك اچھا سا مسلمان شخص ملا جو شادى شدہ بھى ہے اور اس كے دو بچے بھى ہيں، اور بعض اوقات ہمارى ڈيوٹى اكٹھى ہوتى ہے اور اچھے دوست بھى ہيں اور ہم اس دوسرے كے بہت قريب بھى ہيں، ليكن ابھى تك كوئى حرام كام نہيں كيا، ميرے كچھ سوالات ہيں: 1 ـ كيا ميرى پہلى عرفى شادى ابھى تك موجود ہے، ہم نے دو گواہوں اور ايك وكيل كى موجودگى ميں شادى كى تھى، ليكن مجھے يہ علم نہ تھا كہ يہ حقيقى شادى ہے اور پھر ميں شادى شدہ بھى تھى ؟ 2 ـ اب ميں اپنے خاوند سے طلاق لينا چاہتى ہوں، كيونكہ ميں اس سے محبت نہيں كرتى اور نہ ہى خاوند اور اپنى بچيوں كے ساتھ مسلسل جھوٹ بول سكتى ہوں ؟ 3 ـ اگر مجھے طلاق ہو جاتى ہے تو كيا ميرے ليے اس اچھے مسلمان دوست سے اسلامى شادى كر كے دوسرى بيوى بننا جائز ہے، اور عدت كى مدت كتنى ہو گى ؟ 4 ـ اس نے مجھے بتايا ہے كہ اس كى پہلى بيوى كہتى ہے اگر اس نے دوسرى شادى كى تو وہ اس سے طلاق لے كر بچوں سميت چلى جائيگى اس ليے ميں آپ سے شادى نہيں كر سكتا، تو كيا اس كى پہلى بيوى كو ايسا كرنے كا حق حاصل ہے ؟ ميں نے چاہتى كہ ميرى وجہ سے اسے تكليف اور اذيت سے دوچار ہونا پڑے كہ وہ اپنے خاندان سے دور رہے، اور خاندان كو ملنے نہ جائے، ميں نہ تو اس سے مال حاصل كرنا چاہتى ہوں اور نہ ہى ميں اس كے خاندان كا خسارہ اور نقصان كرنا چاہتى ہوں اور نہ ہى اس كى پہلى بيوى كے ساتھ كوئى برائى كرنا چاہتى ہوں، اور نہ ہى ميں اس پر غيرت ركھتى ہوں بلكہ ميں تو اس كى دوسرى بيوى بن كر اس كے ملك ميں بھى رہنے كے ليے تيار ہوں اور بعض اوقات اپنے ملك آ جايا كرونگى تا كہ اپنى بيٹيوں كو مل ليا كروں. اگر آپ اس موضوع ميں ميرا تعاون كرينگے تو ميں آپ كى مشكور رہوں گى، اللہ تعالى آپ كى حسنات و نيكيوں ميں اضافہ فرمائے.

  • اردو

    ميرى والدہ ميرى بيوى كو بغير ناحق تنگ كرتى ہے حتى كہ بيوى كے خاندان والوں كو بھى برا كہتى ہے، اور بيوى اور اس كے خاندان والوں پر ناحق غلط قسم كے الزامات لگاتى رہتى ہے، اس كے نتيجہ ميرى بيوى اپنى ساس سے قطع تعلق كرنے لگى ہے. يہ علم ميں رہے كہ ميں والدہ كو ملتا رہتا اور ٹيلى فون پر بھى ان كى خيريت دريافت كرتا رہتا ہوں، ميرى والدہ كو ميرى بيوى كى جانب سے قطع تعلقى كى توقع نہ تھى ليكن جب بيوى نے ايسا كيا تو والدہ اس كا الزام مجھ پر لگانے لگى كہ ميں نے ہى بيوى كو ايسا كرنے كى اجازت دى ہے، والدہ كہتى ہے كہ جب تك ميرى بيوى كے اس سے تعلقات صحيح نہيں ہوتے تو وہ مجھ سے قيامت تك راضى نہيں ہوگى، ميں بيوى پر سختى نہيں كرنا چاہتا بلكہ اسے اختيار ديا ہے كہ وہ رابطہ ركھے يا نہ ركھے، اب تو والدہ مجھے ناحق بد دعائيں دينے لگى ہيں. ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا ميرى بيوى كا اپنى ساس سے قطع تلقى كرنے ميں كوئى محروميت ہے يا پھر ايسا كرنے كا حكم كيا ہے ؟ دوسرا سوال يہ ہے كہ: كيا والدہ كو حق ہے كہ وہ مجھ پر راضى ہونے كے ليے اپنے ساتھ ميرى بيوى كے تعلقات بحال كرنے اور ملنے كى شرط ركھے، حالانكہ ميں نماز ميں والدہ كے ليے دعا مانگتا رہتا ہوں، اور والدہ كى جانب سے صدقہ بھى كرتا ہوں ؟ تيسرا سوال يہ ہے كہ: اگر ميرى بيوى قطع تعلقى پر مصر رہے تو كيا والدہ كى ناراضگى كا گناہ مجھ پر ہوگا يا نہيں ؟ برائے مہربانى معلومات فراہم كر كے عند اللہ ماجور ہوں.

  • اردو

    ميرے ليے ايك شخص كا رشتہ آيا ہے جس كے بارہ ميں ميرا خيال ہے كہ وہ نيك و صالح اور سلف صالحين كے منہج پر ہے، باقى معاملہ اللہ ہى جانتا ہے، اور وہ عمر ميں مجھ سے چھوٹا ہے، اس نے شرط ركھى ہے كہ اس كى شادى ميں اس كے گھر والے نہيں آئينگے؛ كيونكہ وہ گھر والوں كو اپنى شادى كے بارہ ميں نہيں بتانا چاہتا، اس ليے كہ اسے اس شادى سے انكار كا خدشہ ہے، كيونكہ ميں عمر ميں اس سے بڑى ہوں. اس ليے اس نے واضح كر ديا ہے، تو كيا يہ شخص صحيح كر رہا ہے، اور مجھے كيا كرنا چاہيے ؟ برائے مہربانى مجھے معلومات فراہم كريں.

  • اردو

    ميں شيطانى چالوں سے كس طرح چھٹكارا حاصل كر سكتا ہوں، ميرى بيوى زبان دراز اور برى زبان والى ہے، ميں نے كئى بار اسے طلاق دينے اور اسے چھوڑنے كا سوچ چكا ہوں پھر ميں اپنى تقدير كے بارہ ميں سوچ كر كہتا ہوں: اللہ سبحانہ و تعالى نے ميرے ليے يہ حالت كيوں اختيار كي ہے ؟! اور اس كے نتيجہ ميں نماز چھوڑ ديتا ہوں، پھر اللہ سے استغفار كر كے توبہ كرتا ہوں، برائے مہربانى آپ مجھے كيا نصيحت كرتے ہيں، اور كيا تقدير كے مسئلہ كى شرح كر سكتے ہيں ؟

  • اردو

    ميرى چار برس قبل ايك شخص سے شادى ہوئى اور اس كى ايك بيٹى بھى ہو چكى ہے، خاوند مجھے كہنے لگا يہ شادى ميرى بيوى اور والد پر مخفى رہنى چاہيے حتى انہيں لوگوں كے ذريعہ ہى علم ہو ميرى جانب سے پتہ نہ چلے، ميں نے اس كى موافقت كى اور جب سے ہم نے شادى كى ہے وہ ميرے پاس صرف ايك ہفتہ سويا ہے، وہ بھى اس طرح كہ سفر كا بہانہ كر كے اور اس كے بعد وہ ميرے پاس گھر ميں نہيں سويا، ميں اكيلى رہ رہى ہوں وہ روزانہ آتا تھا اور مجھے حمل بھى ٹھر گيا اور ميں نے ايك بچى بھى جنم دى جس كى عمر دو برس ہو چكى ہے اور آج تك اس بچى كا نام اندارج نہيں كرايا گيا اس خوف سے كہ كہيں اس كى بيوى كو علم نہ ہو جائے، يہ سارا وقت ميں صبر و شكر ميں بسر كرتى رہى اور كہتى كہ كوئى حرج نہيں كيونكہ صراحتا ميرا خاوند ايك انسان ہے جس كى كوئى مثال نہيں ملتى، وہ مجھ سے محبت كرتا ہے. ليكن ساڑھےتين برس گزرنے كے بعد اس كى پہلى بيوى اور اس كے والد كو علم ہو گيا اور وہ مجھے طلاق دينے كا مطالبہ كرنے لگى ليكن خاوند نے مجھے طلاق دينے سے انكار كر ديا اور اسے بھى طلاق دينے سے انكار كر ديا، ليكن اب تك وہ ہمارے درميان عدل نہيں كر پا رہا، اور ميرے اور اپنى بيٹى كے ہاں كبھى نہيں سويا، اور نہ ہى اس نے بچى كا اپنے نام سے اندراج كرايا ہے مجھے اس كا سبب معلوم نہيں كہ ايسا كيوں ہے، حتى كہ جمعہ كے دن بھى اس كے ليے ہمارے ہاں آنا مشكل ہو چكا ہے، يہاں تك كہ اگر ميرى بيٹى رات كو بيمار ہو جائے تو ميں اسے نہيں بتا سكتى اور ہميشہ اكيلے ہى ہاسپٹل لے جاتى ہوں مجھے سمجھ نہيں آ رہى كہ ميں كيا كروں، اللہ كى قسم ميں ہر وقت اللہ سے دعا كرتى ہوں كے وہ مجھے صبر دے كيونكہ ان برسوں ميں مجھے بہت زيادہ اكتاہٹ و تھكاوٹ ہو چكى ہے، اور پتہ نہيں كب تك ايسا ہو. يہ علم ميں رہے كہ ميرا خاوند اللہ سے ڈرنے والا ہے،اور كبھى نماز ترك نہيں كى، اور نيكى و بھلائى كے عمل كرنے والا ہے، جب بھى ميں نے اس سے بات كى تو وہ مجھے كہتا ہے ہر چيز اپنے وقت پر اچھى ہوتى ہے، اور تم نے بہت صبر كيا ہے، اب تم زيادہ صبر نہيں كر سكتى، برائے مہربانى ميرا تعاون كريں كيونكہ حقيقتا ميں زيادہ ظلم برداشت نہيں كر سكتى ؟

  • اردو

    خاوند كى منت و سماجت اور اصرار كے بعد ميں نے اپنے ماضى كے بارہ ميں بتا ديا، حالانكہ ميں توبہ كر چكى تھى اور شادى سے تين برس قبل اپنى اصلاح كر كے دين احكام كا التزام بھى كرنا شروع كر ديا تھا، اور اللہ كے فضل و كرم سے اب تك اس پر قائم ہوں. ليكن مجھے اس كى باتيں پريشان كرتى ہيں، اور وہ مجھے طعنے ديتا اور فاسق قسم كى عورتوں كے ساتھ تشبيہ ديتا ہے اور كہتا ہے كہ ميرى تربيت اچھى نہيں كى گئى، ميں اپنى تقدير پر راضى ہوں، اور اپنے خاوند سے محبت كرتى ہوں اللہ سے دعا ہے كہ وہ ہميں ہدايت نصيب فرمائے، اور ہمارے حالات كى اصلاح فرمائے، اور جن اور انسانوں ميں سے شيطان كو ہم سے دور كرے. ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا ميرى غلطياں اور وہ گناہ جو ميں ماضى ميں كر چكى ہوں، ان كى بنا پر مجھے پاك اور عفت و عصمت والى كہنے ميں مانع ہيں، كہ ميں ايك اچھى اور فاضل پاكباز مسلمان عورت نہيں كہلا سكتى ؟ اور كيا ميرا خاوند ميرے بارہ ميں سوء ظن ركھنے كى بنا پر اور مجھ پر سب و شتم كرنے كى وجہ سے گنہگار ہوگا ؟ اور كيا ايسا كرنے پر ميرا خاوند ايك پاكباز عورت پر بہتان لگانے والا شمار كيا جائيگا يا نہيں، يا كہ ميرى جيسى عورت كو پاكباز عورت كہنا جائز نہيں ہے ؟

  • اردو

    ميرے منگيتر كو علم ہے كہ اس سے معرفت سے قبل ميرے ايك دوسرے شخص كے ساتھ تعلقات تھے جو اس كا دوست بھى ہے اس شخص اور ميرے مابين كئى كچھ ہوتا رہا ليكن بڑا اور فحش كام نہيں ہوا، ليكن يہ كام حرام ضرور تھا. مگر اب ميں توبہ كر چكى ہوں اور اللہ سے بخشش كى دعا كرتى ہوں مشكل يہ درپيش ہے كہ ماضى ميں ميرے اور اس كے دوست ميں جو كچھ ہوتا رہا ہے اس ميں اسے شك ہے، اور پھر اس نے اپنے كچھ دوستوں سے ميرے بارہ ميں غلط قسم كى باتيں سنى ہيں، اوراس كے اس دوست نے جو كچھ ہمارے مابين ہوا تھا اسے فاش كر ديا ہے. اس ليے ميرے منگيتر نے مجھے قسم دى كہ ميں جو كچھ ہوا ميں سب بيان كروں اور قسم اٹھائى كہ اگر ميں نے جھوٹ بولا يا كچھ چھپايا تو شادى كے بعد ميں اس پر حرام ہوں، ميں مسجد ميں قرآن پكڑ كر قسم اٹھائى كہ مجھ پر كچھ چھپانا حرام ہے، حالانكہ حقيقت ميں جو كچھ ماضى ميں ہوا ميں نے اسے چھپايا تھا. يہ علم ميں رہے كہ ان شاء ميرى شادى قريب ہى ہونے والى ہے، مجھے خوف ہے كہ كہيں ميں اس كے حق ميں گنہگار تو نہيں، اور وہ ہميشں مجھے كہتا ہے كہ اگر كچھ چھپايا تو ميں اسے معاف نہيں كرونگا، اور اللہ كے سامنے اس پر راضى نہيں ہونگا، برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے ؟

  • اردو

    ميں دو بچوں كى ماں ہوں، ايك بچے نے شادى كر كے عليحدہ فليٹ ميں رہائش اختيار كر لى تو ميں اور ميرا خاوند اس كے ساتھ والے فليٹ ميں رہنے لگے، دوسرے بچے كى شادى ہوئى تو وہ ہمارے ساتھ ہى فليٹ ميں رہنے لگا، ميرى دوسرى بہو ميرے خاوند كى بھتيجى ہے اور ہمارے اس بچى اور اس كى والدہ كے ساتھ بہت ہى اچھے تعلقات تھے، ليكن شادى كے كچھ عرصہ بعد ہى مجھے ريڑھ كى ہڈى ميں تكليف كى بنا ہلنے جلنے سے قاصر ہونا پڑا، اس ليے ميں كوئى بھى كام كرنے سے قاصر ہو گئى. تقريبا دو برس تك ميرى بہو ہمارے ساتھ رہى اور اچانك ہى گھر چھوڑ كر ميكے چلى گئى اور عليحدہ گھر ميں رہنے كا مطالبہ كرنے لگى، حالانكہ اس كا كوئى سبب بھى نہيں تھا، اور خاص كر ميرے دو بچوں كے علاوہ اور كوئى اولاد بھى نہيں ہے، اور نہ ہى كوئى بيٹى ہے، ميں اپنا اور اپنے خاوند كى ديكھ بھال تك نہيں كر سكتى، اور مجھ سے كوئى ايسا عمل بھى نہيں ہوا جو بہو كى ناراضگى كا سبب بن سكتا ہو، بلكہ ميں نے اس سے اپنى بيٹى جيسا برتاؤ ہى كرتى رہى ہوں، اور اپنى اولاد كو چھوڑ نہيں سكتى، ايك دن كے ليے بھى ان كے بغير نہيں رہ سكتى. ہم نے اصلاح كى پورى كوشش كى تا كہ وہ واپس گھر آ جائے ليكن ان كا مطالبہ شدت اختيار كرتا گيا كہ عليحدہ گھر ميں ہى رہيگى، وقتى طور پر يہ حل بھى پيش كيا كہ ہم ايك ماہ بڑے بچے كے ساتھ رہيں گے، حالانكہ بڑى بہو ملازمت بھى كرتى ہے، اور اس كے تين بچے بھى ہيں، اور اسى طرح ايك ماہ چھوٹى بہو كے ساتھ رہيں گے، چھوٹى بہو كا كوئى بچہ بھى نہيں ہے، بلكہ چھوٹى بہو والدين كا گھر قريب ہونے كى بنا پر صبح و شام اكثر اپنے والدين كے گھر ہى رہتى تھى. ہم نے اس كى يہ كوتاہى بھى برداشت كى اور رضامندى ہى ظاہر كرتے رہے، اور اپنے بيٹے سے بھى اسے چھپا كر ركھا كہ كہيں مشكلات نہ كھڑى ہو جائيں، ہمارے ليے تو بہو اور اس كے گھر والوں كى جانب سے يہ مشكل كھڑى كرنا بہت بڑا صدمے كا باعث بن گيا ہے، كيونكہ اس كا كوئى سبب بھى نہيں، اور ہمارے تعلقات بھى بہت قوى تھے، اور پھر ميں اپنے بيٹے كو چھوڑ بھى نہيں سكتى، ميں اور خاوند نے چھوٹى بہو كے ليے گھر خالى كر ديا اور بڑے بيٹے كے پاس جا كر رہنے لگے گھر سے نكلى تو ميں بلند آواز سے پھوٹ پھوٹ كر رو رہى تھى، كيونكہ مجھے توقع نہ تھى كہ زندگى ميں مجھے ايسا دن بھى ديكھنا پڑےگا. اس كے بعد بہو كے والد نے لوگوں كى باتوں كى خاطر اور لوگوں سے بچنے كے ليے بہو كو اس شرط پر واپس لانے كى رضامندى ظاہر كى كہ ہم ميں سے كوئى بھى اس كے گھر ميں داخل نہيں ہوگا، اور نہ ہى بہو كے ميكے كوئى جائيگا، اس طرح ميرى بہو سے محبت كراہت ميں تبديل ہو گئى اور ميں اس كے ليے بد دعا كرنے لگى، اس حالت كو اب تقريبا دس ماہ ہو چكے ہيں، اور اس كے مقابلہ ميں بہو كے ميكے والوں كى جانب سے قطع رحمى بھى ہو رہى ہے، ميں بہت پريشان ہوں اور حرام كام ميں پڑنے سے خوفزدہ ہوں، كہ كہيں يہ حرام نہ ہو، اور ميں اپنے آپ پر كنٹرول بھى نہيں كر سكتى كہ اسے پسند كرنے لگوں، اس ليے آپ سے گزارش ہے كہ آپ ہميں اس سلسلہ ميں معلومات فراہم كريں، كہ ہميں كيا كرنا چاہيے تا كہ ہم حرام عمل ميں نہ پڑ جائيں، اور اللہ كى ناراضگى سے بچ سكيں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

  • اردو

    كيا مسلمان لڑكى كے ليے آسٹريليا ميں مقيم شخص سے شاى كرنا جائز ہے، وہ وہى پيدا ہوا ہے اور اب پى ايچ ڈى كى تعليم مكمل كر رہا ہے، اس نوجوان كا اس لڑكى سے رشتہ طے ہو چكا ہے تقريبا ايك برس بعد وہ شادى كرينگے؛ كيا لڑكى كے ليے وہاں جا كر اس كے ساتھ رہنا جائز ہوگا ـ آپ جناب كے ليے واضح ہے كہ اس ملك ميں كيا كچھ قباحتيں موجود ہيں ـ يہ علم ميں رہے كہ لڑكى بھى سب دينى تعليمات كا التزام نہيں كرتى، اور اسى طرح وہ شخص بھى مكمل دينى تعليمات پر عمل نہيں كرتا يا اس سے كم كرتا ہے، برائے مہربانى اگر آپ ہميں اس كے بارہ ميں معلومات فراہم كريں تو بہتر ہے، اور لڑكى كے گھر والوں كو آپ كيا نصيحت كرتے ہيں كيونكہ وہ دينى التزام كرتے ہيں ؟

  • اردو

    ميں ايك نيك و صالح اور دين كا التزام كرنے والے شخص سے شادى شدہ ہوں، اس نے اپنے خاندان والوں سے خفيہ طور پر ميرے ساتھ شادى كى كيونكہ وہ پہلے بھى شادى شدہ تھا، اس كى رغبت كا احترام كرتے ہوئے ميں نے بہت سارے حقوق ختم كر ديے تا كہ يہ راز قائم رہے، اس طرح ميں اس سے رابطہ كرنے ميں مشكل سے دوچار رہنے لگى، ميرى شادى كو ايك برس ہو چكا ہے ليكن اس عرصے ميں اسے ميں نے صرف چوبيس دن ديكھا ہے. اور بالآخر ميں نے فيصلہ كيا كہ ميں اس كى بيويوں اور خاندان والوں كو بتا دوں ہو سكتا ہے وہ ميرے ساتھ نرمى و رحمدلى كا سلوك كرتے ہوئے ميرا تعاون كريں، ليكن اچانك مشكل اور بڑھ گئى كيونكہ ميں چھ ماہ كى حاملہ ہوں اس حالت ميں خاوند نے مجھے موبائل ميسج كر كے طلاق دے دى. مجھے حق سننے والا كوئى نہيں ملا ليكن اس سے بھى بڑھ كر ظلم يہ كہ ميرا خاوند حمل گرانے كا مطالبہ كر رہا ہے! اس سلسلہ ميں شريعت كيا كہتى ہے ؟ ميں تو ضائع اور تباہ ہو گئى ہوں كيونكہ ميرا نكاح سركارى طور پر رجسٹر نہيں ہوا، بلكہ صرف شرعى طور پر والد صاحب اور دو گواہوں كى موجودگى ميں نكاح ہوا تھا، اب ميں تو يہى كہتى ہوں كہ مجھے اللہ ہى كافى ہے، ميں نے اس كے خاندان والوں كو بتا كر كوئى برائى نہيں كى، كيونكہ ميرا خيال تھا كہ وہ سمجھتے ہيں، ليكن معاملہ اس كے برعكس اور الٹ ہو كيا، اب مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

  • اردو

    ميں چاليس سالہ طلاق يافتہ ايك حسب و نسب والى عورت ہوں، ميں نے سابقہ تجربہ سے بہت سخت سبق سيكھا ہے كيونكہ اختيار ظاہر كو ديكھ ہوا نہ كہ دين و اخلاق كو، اب ميرے ليے ايك دين و اخلاق والا رشتہ آيا ہے اور لوگ بھى اسےنيك و صالح كہتے ہيں، ليكن وہ شادى شدہ ہے اور اس بيوى ہمارے خاندان كى سہيلى ہے. اسى طرح معاشرتى طور پر بھى وہ ميرے خاندان سے كم درجہ كا شخص ہے، معاشرے كى نظر سے ميں اسے قبول كرنے سے خوفزدہ ہوں كہ اگر وہ رشتہ قبول كر لوں تو معاشرے ميں باتيں ہونگى، اور اسى طرح بيوى كى نظروں ميں بھى، ميں مصر سے تعلق ركھتى ہوں، مولانا صاحب آپ كو علم ہے كہ مصرى معاشرے ميں دوسرى بيوى كے بارہ ميں كيا نظريات ہيں. ميں نے نماز استخارہ كے بعد راحت محسوس كى ہے اور قريب ہے كہ بھائى سے يہ رشتہ قبول كرنے كا كہہ دوں، ليكن جب معاشرے كو ديكھتى ہوں اور لوگوں كے سوالات ذہن ميں آتے ہيں كہ اپنے سے كم درجہ كے خاندان كا رشتہ كيوں قبول كيا، اور ايك بيوى اور اس كى اولاد سے كس طرح خاوند چھين ليا حالانكہ وہ ميرے خاندان كى سہيلى بھى ہے تو ميرا سينہ تنگ ہو جاتا ہے. اس شخص نے ميرا رشتہ صرف مسلمان لڑكيوں كى عفت و عصمت محفوظ كرنے كے ليے طلب كيا ہے كسى مالى لالچ كى خاطر نہيں، خاص كر جب لڑكى نيك و صالح ہو، بلكہ وہ تو دوسروں كو بھى دوسرى شادى كى ترغيب دلاتا ہے تا كہ معاشرہ اور عورتيں عفت اختيار كريں، اس كى گواہى ميرا بھائى بھى ديتا ہے، اور پھر ميں كوئى جوان اور خوبصورت بھى نہيں كہ كوئى اور رشتہ آ جائے، وہ چھوٹى عمر كى كسى خوبصورت عورت سے بھى رشتہ كر سكتا ہے، ميرا سوال يہ ہے كہ آيا اگر ميں اس رشتہ كو ٹھكرا دوں تو كيا مجھ پر كوئى گناہ ہوگا، اور اس سلسلہ ميں آپ كى رائے كيا

  • اردو

    ايك عورت اپنے خاوند كے بارہ ميں دريافت كرتى ہے كہ اس كا خاوند نفسياتى مريض ہے، اور عقل ميں بھى خلل پايا جاتا ہے، گھريلو امور ميں تو كوئى دخل اندازى نہيں كرتا ليكن بيوى پر ہميشہ گناہ كا الزام لگاتا ہے، حالانكہ بيوى اس سے كوسوں دور ہے، يہ شخص دس افراد كا باپ ہے، اس كى اولاد نے باپ كى معاونت كے بغير ہى شادياں كى ہيں، جس كى بنا پر بيوى كے جذبات الٹ گئے اور وہ خاوند سے بات كرنے كى بھى طاقت نہيں ركھتى، برائے مہربانى ہميں بتائيں كہ اس سلسلہ شرعى حكم كيا ہے ؟

  • اردو

    مجھ پر منكشف ہوا كہ ميرى بيوى كے ايك نوجوان كے ساتھ عشقيہ تعلقات ہيں، ابتدا ميں تو يہ ٹيلى فونك رابطے تك ہى محدود تھے، ليكن معاملہ اس حد تك پہنچ گيا كہ ميرى بيوى نے اسے ميرى غير موجودگى ميں گھر بھى بلايا. اب تك ميرى بيوى كو معلوم نہيں كہ مجھے ان كے تعلقات كا علم ہو چكا ہے، ميں اسے طلاق دينے كى نيت كر چكا ہوں، ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا مجھے شرعى طور پر حق حاصل ہے كہ ميں اسے ديا ہوا مہر واپس لے لوں، اور بيوى كو شرعى عدالت ميں اسٹام ميں تحرير كردہ باقى مانندہ مہر سے بھى دستبردار ہونے پر مجبور كروں ؟ ميرا دوسرا سوال يہ ہے كہ: ميرى بيوى نے ميرى كئى بار كچھ رقم بھى چورى كى ہے، اس كا انكشاف اس كى آخرى چورى كے بعد ہوا ہے، تو كيا مجھے حق حاصل ہے كہ ميں اس كے گھر والوں سے چورى كردہ مال اور مندرجہ بالا سوال ميں بيان كيا گيا مہر واپس كرنے كا مطالبہ كروں ؟ ميرا تيسرا سوال يہ ہے كہ: ہمارى دو بچياں ہيں بڑى بچى كى عمر ڈھائى بر ساور چھوٹى كى عمر دس ماہ ہے، اور ماہ كا دودھ بھى چھوڑ چكى ہے كيا مجھے حق حاصل ہے كہ ميں طلاق دينے كے بعد بيوى كو بچيوں كى تربيت محروم كردوں؛ كيونكہ اس نے جو كچھ كيا ہے وہ خيانت ہے ؟ بيوى كے برے اخلاق كى بنا پر ميں اپنى بچيوں كى تربيت خود كرنا چاہتا ہوں. ميرا چوتھا سوال يہ ہے كہ: ميرى بيوى اب حاملہ ہے كيا ميں حاملہ بيوى كو طلاق دے سكتا ہوں ؟ ميرى پانچواں سوال يہ ہے كہ: ميڈيكل رپورٹ كے مطابق اب تك حمل پورى طرح صحيح حالت ميں نہيں، اور ہو سكتا ہے حمل ضائع ہو جائے، اور اگر ايسا ہوتا ہے تو كيا مجھے طلاق دينے كے ليے ايك حيض انتظار كرنا ضرورى ہو گا، طلاق دينے كے ليے شرعى وقت كيا ہے ؟ ميرا چھٹا سوال يہ ہے كہ: كيا ايك ہى طلاق كافى ہے يا كہ وقفہ وقفہ سے اسے تين طلاق دينا ہونگى، برائے مہربانى مجھے معلومات فراہم كريں، اللہ سبحانہ و تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے، ميں اسے طلاق دينے كے ليے آپ كے فتوى كا انتظار كرونگا ؟

  • اردو

    ميرى خالہ كے خاوند نے طلاق كى قسم اٹھائى كہ خالہ ہمارے گھر ميں نہ آئے، اور ميرى خالہ كو اس كا علم ہى نہ تھا وہ صلہ رحمى اور ہمارے ساتھ صلح كرنے كے ليے ہمارے گھر آ گئى، ہميں كوئى علم نہيں كہ ميرے خالو نے كب قسم اٹھائى ليكن اس نے طلاق كى قسم اٹھائى تھى كہ وہ يہاں نہ آئے. اللہ ہدايت دے ميرے والد صاحب ہميشہ طلاق كى قسم اٹھا ليتے ہيں، اور ميرى والدہ كو اب ايك طلاق ہى باقى ہے برائے مہربانى يہ بتائيں كہ اس ميں شرعى حكم كيا ہے ؟ صراحت كے ساتھ يہ ہے كہ ميرے والدين ہميشہ ہى اپنى سارى زندگى ہى لڑائى جھگڑے ميں گزار رہے ہيں، اور ہر بار ہمارى زندگى تباہ ہونے كے اور زيادہ قريب ہو جاتى ہے.

  • اردو

    ميرى شادى كو دس برس ہو چكے ہيں، اور ميرے دو بيٹے اور ايك بيٹى ہے، ميرى شادى محبت كى شادى تو نہيں تھى، ليكن ميں اپنے خاوند سے بہت زيادہ محبت كرتى ہوں؛ كيونكہ شادى كے ابتدا ميں خاوند ميرى بہت عزت كرتا اور ہر معاملہ ميں مجھ سے مشورہ كرتا تھا، اور ميرے ساتھ الفت و محبت كى باتيں كرتا حتى كہ ميں اسے مكمل طور پر محبوب جاننے لگى. صريح بات ہے كہ وہ نماز باجماعت مسجد ميں جا كر ادا كرتا تھا، اور ہر معاملہ ميں ميرى معاونت كرتا، حتى كہ بچوں كى تعليم و تربيت اور گھر كے كام كاج ميں بھى ميرا ہاتھ بٹاتا ليكن شادى كے چار برس بعد اس كے دوسرے نوجوان لڑكوں سے تعلقات بننا شروع ہوئے. اور اچانك انكشاف ہوا كہ وہ تمباكو نوشى كرنے لگا ہے جس سے مجھے بہت دكھ اور صدمہ ہوا، اس نے مجھ سے وعدہ كيا كہ وہ دوبارہ ايسا نہيں كريگا، ليكن شديد افسوس كے ساتھ كہنا پڑتا ہے كہ وہ اب تك تمباكونوشى كر رہا ہے، اور اس كا اتنا عادى ہو چكا ہے كہ صبح كے وقت روزانہ كيفے جا كر حقہ پيتا ہے. جب ميں اسے روكتى ہوں تو وہ مجھ پر چيخنے چلانے لگتا ہے كہ مجھے اس كے معاملات ميں دخل اندازى نہيں كرنى چاہيے، يہ بھى علم رہے كہ وہ ميرے حقوق ميں بھى كوتاہى كر رہا ہے، اور بچوں كے حقوق بھى صحيح طور پر ادا نہيں كرتا، اپنے دوست و احباب كے ساتھ بہت زيادہ مشغول رہتا ہے، بلكہ صبح گھر سے نكلتا ہے تو رات كے آخرى حصہ ميں ہى واپس پلٹتا ہے. ميں نے اس موضوع ميں اس كے خاندان والوں كو بھى شامل كرنے كى كوشش كى كہ وہ اسے سمجھائيں ليكن اس كا بھى كوئى فائدہ نہيں ہوا، وہ كسى كى بات سنتا ہى نہيں، ميں اس سلسلہ ميں بہت پريشان ہوں، كيونكہ وہ ميرے ساتھ بہت زيادہ عصبيت كا معاملہ كرنے لگا ہے اور بات بات پر غصہ ہونا شروع ہو جاتا ہے. ليكن اپنے دوستوں كے ساتھ ہنستا اور مذاق كرتا رہتا ہے ان سے خوش رہتا ہے، اسى طرح اگر ہم اسے كہيں كہ ہم سب اكٹھے كہيں گھومنے جاتے ہيں تو وہ راضى نہيں ہوتا، اور اگر ہمارے ساتھ كہيں چلا بھى جائے تو بالكل خاموش رہتا ہے اور كسى سے بات تك بھى نہيں كرتا، موبائل كے ساتھ ہى لگا رہتا ہے يا تو ميسج كرتا ہے يا پھر فون پر بات چيت، يہ اس حد تك تھا كہ ابتدائى طور پر تو ميں خيال كرنے لگى كہ اس كے ميرے علاوہ كسى اور كے ساتھ بھى تعلقات ہيں. ليكن اس كے تصرفات كے مطابق تو ميں يہى سمجھتى ہوں كہ وہ اپنے دوستوں كے ساتھ مشغول رہتا ہے، ميں اس سے ہر طرح محبت كرتى ہو اور دل و جان سے چاہتى ہوں. ملاحظات: وہ مسجد ميں نماز ادا كيا كرتا تھا، ليكن اب كئى نمازيں تو وہ ادا ہى نہيں كرتا، وہ مجھے اكثر طور پر مجروح كرتا اور ميرى اہانت كرتا رہتا ہے، اولاد كے سامنے مجھے غصہ ہوتا اور چيختا ہے، بلكہ كسى بھى شخص كے سامنے ميرى بےعزتى كر ديتا ہے اور ميرے جذبات كا خيال بھى نہيں كرتا كہ كسى دوسرے كے سامنے ذليل كر رہا ہے. اكثر طور پر وہ تمباكونوشى كے عادى نوجوانوں كے ساتھ ٹور پر جاتا ہے، اپنے لباس وغيرہ پر فضول خرچى اور اسراف كا مرتكب ہوتا ہے، ليكن اسے گھريلو اخراجات اور ضروريات كى كوئى فكر نہيں كہ گھر ميں كيا چيز كم ہے يا كچھ لانا ہے اس پر قرض بہت زيادہ ہے، اور اس كے پاس كوئى قيمتى چيز تك نہيں رہى. يہ علم ميں رہے كہ ميں كام كرتى اور اپنے اخراجات خود برداشت كرتى ہوں، گھر كا كرايہ بھى ديتى ہوں، اور گھر كى ملازمہ كى تنخواہ بھى ميرے ذمہ ہے، اور گھر كى اكثر ضروريات بھى پورى كرتى ہوں، ليكن اسے كوئى فكر ہى نہيں مجھے بتائيں كہ ميں اس كے ساتھ معاملات ميں كيا طريقہ اختيار كروں ؟

  • اردو

    ميں اٹھائيس برس كى ہوں، بااعتماد اور دين كا التزام كرنے والى ہوں، الحمد للہ ہر كوئى ميرا احترام كرتا اور مجھ سے محبت كرتا ہے، ميرى شادى نہيں ہوئى، سبب يہ ہے كہ جب بھى ميرا كوئى رشتہ آتا ہے تو ميں كوشش كرتى ہوں كہ اس ميں كوئى عيب نكالوں تا كہ اس رشتہ سے انكار كر دوں، ليكن پھر بعد ميں نادم ہوتى ہوں. ميرى ايك سہيلى جو مجھ سے محبت بھى كرتى ہے اور ميرى مصلحت بھى چاہتى ہے كچھ ايام قبل اس نے مجھ سے كہا يہ جادو كى وجہ سے ہے جو چاہتا ہے كہ آپ كى شادى نہ ہو اس نے آپ پر جادو كر ركھا ہے. ميں اس موضوع كے متعلق شرعى حكم معلوم كرنا چاہتى ہوں، آيا كيا ممكن ہے كہ واقعى ايسا ہو سكتا ہے ؟ يعنى كيا يہ ممكن ہے كہ وہ مجھے ايسا جادو كر ديں جو ميرے خيال ميں رشتہ سے انكار پيدا كر دے چاہے آنے والے رشتہ پر مطمئن بھى ہوں. اور اگر يہ بات صحيح ہے تو يہ بتائيں كہ اس كا حل كيا ہے ؟ ميرى سہيلى نے مجھے يہ بھى كہا كہ كچھ ايسے افراد موجود ہيں جو يہ جادو ختم كر سكتے ہيں، برائے مہربانى ميرى مدد فرمائيں كيونكہ ميں اس واقع كى تصديق نہيں كرتى.

  • اردو

    جو شخص كچھ دير جہنم ميں رہا اور پھر اسے نكال كر جنت ميں داخل كر ديا جائے تو وہ جنت ميں كس طرح فائدہ حاصل كريگا؟ اور جہنم ميں گزرے ہوئے وقت كے نفسياتى دباؤ كے ہوتے ہوئے وہ جنت كے فائدہ كو كس طرح محسوس كرينگے ؟

فیڈ بیک