پاک و ہند میں علمائے اہلحدیث کی خدماتِ حدیث

وصف

پاک وہند میں علمائے اہل حدیث کی خدماتِ حدیث:
برصغیرپاک وہند میں ’’اہل حدیث‘‘ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی اسلام کی۔
اسلام کا ابتدائی قافلہ جب وارد ہند ہوا تو اس وقت تقلیدی مذاہب کا کہیں وجود نہ تھا، تمام کا ملجا وماویٰ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت تھی۔ بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: لاتزال طائفۃ من أمتی ظاھرین علی الحق (الحدیث) کے مطابق تقلید وجمود کے رواج پاجانے کے باوجود یہاں ہردورمیں خال خال ہستیاں ایسی رہی ہیں جنہوں نے صحابہ کرامؓ اورتابعین عظامؓ کے نقشِ قدم پرکتاب وسنت کو ہی دین کی اصل بنیاد قراردیا۔ پھرآخری دورمیں حضرت مجدّدالفؒ ثانی اورحضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بڑے پرحکمت انداز سے یہاں کے جامد ماحول میں تحریرا اوران کے بعد حضرت امام شاہ محمد اسماعیل شہیدؒ اوران کے رفقاء نے عملا ایسا ارتعاش پیدا کیا جس کی صدائے بازگشت بستی بستی سنائی دینے لگی۔ شرک کی جگہ توحید اوربدعات کی جگہ سنّت کا چرچا ہونے لگا۔
مدارس میں(جہاں پہلے حدیث پاک کی ایک آدھ کتاب محض بطورتبرّک پڑھائی جاتی تھی) کتب ستّہ کو شامل نصاب کرکے اس کی تعلیم وتدریس کا آغاز کیا گیا، اورکتب احادیث کی شروح وحواشی،نیزان کے تراجم اوران کی نشرواشاعت کا اہتمام کیا جانے لگا۔تاکہ دین اسلام کے دوسرے بڑے ماخذ سے براہ راست تعلق عام اورآسان ہوسکے، اس سلسلے میں علمائے اہلحدیث نےکیا خدمات سرانجام دیں؟ اس اجمال کی ضروری تفصیل آپ کو ان شاء اللہ زیرنظررسالہ میں ملے گی۔ تصنیف: علامہ ارشادالحق اثری حفظہ اللہ، ناشر:ادارۃ العلوم الاثریہ،فیصل آباد۔
نوٹ:اس کتاب میں ہندوستانی مدارس کے ضمن میں ہندوستان کی راجدہانی دلی میں واقع سابق ناظم جمعیت اہل حدیث ہند علامہ عبدالحمید عبدالجباررحمانیؒ کا مشہوردینی ادارہ جامعہ اسلامیہ سنابلؔ کا تذکرہ لاعلمی میں چھوٹ گیا ہے جس کا تذکرہ کئے بغیرہندوستانی مدارس نا مکمل ہیں۔(ش،ر)

فیڈ بیک