حزب التحریر کی حقیقت

وصف

حزب التحریر، اہل سنت والجماعت سے ہٹ کر ایک عقل پرست فرقہ ہےجسے ازہر یونیورسٹی کے فارغ التحصیل مولاناتقی الدین نبہانی نے 1953ء میں بیت المقدّس میں قائم کیا تھا جو اس کے نظریہ ساز بھی تھے،پھروہیں سے پاکستان اور دیگرملکوں میں پروان چڑھی ۔اس فرقہ کی بیشتر عقائد معتزلہ کے اصولوں پرقائم ہیں۔یہ فرقہ ثقافتی وفکری پہلو پر کافی توجہ دیتی ہے، اور اسلامی سلطنت اور خلافت کے قیام کے لئے انقلابانہ وباغیانہ طریقہ کو اپناتی ہے، اس فرقہ کی بہت سے شاذ ومنحرف فتاوے ہیں: جیسے عریاں تصاویر دیکھنے ،اجنبی عورت کا بوسہ دینے کو درست ٹہرانا،فضا میں موجود مسلمان شخص اور منطقہ قطبیہ(poles region) کے باشندوں سے نماز کو ساقط کرنا،جمع کردہ مال کو حرام قراردینا گرچہ اس کی زکاۃ نکالی گئی ہووغیرہ۔ عقیدہ حز ب التحریر(شرعی) نص پر عقل کو مقدم کرتی ہے، رائے وقیاس میں وسعت سے کام لیتی ہے، کثرت سے جنگ وجدال کرتی ہے اور سیاست میں کافی انہماک دکھاتی ہے، معتزلہ کے عقلانی منہج کی راہ پرچلتے ہوئے بعض شخصیت جیسے مسیح دجالّ،عذاب قبر وغیرہ کا انکار کرتی ہے۔زیر تبصرہ کتاب میں اسی حزب تحریر کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئےاس کے اہداف ومقاصد ،افکارونظریات اوراس کے اصول وعقائد کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔(تحریر:علامہ ناصرالدین البانیؒ ترجمہ:مولانا طارق علی بروہی۔)

فیڈ بیک