وصف

خضرعلیہ السلام کے نبی یا ولی ہونے اور ان کے اب تک زندہ رہنے نیز بعض لوگوں کے خضر علیہ السلام سے ملاقات کرنے اور خضر علیہ السلام کے ان کی رہنمائی کرنے کا مسئلہ عرصہ دراز سے موضوع بحث بنا ہوا ہے،اور لوگوں کے درمیان سیدنا خضر کے حوالے سے بے شمار بے تکی،غیر مستند اور جھوٹی کہانیاں زیر گردش ہیں۔ اس سلسلے میں عربی زبان میں اگرچہ کچھ کتابیں موجود ہیں ،لیکن اردو زبان کا دامن اب تک اس سے خالی تھا،اور اس امر کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ اس نازک موضوع پر اردو میں بھی کچھ لکھا جائےتاکہ لوگوں کے عقائد کی اصلاح کی جاسکے۔ مقام مسرت ہے کہ جامعہ عالیہ عربیہ مئو انڈیا کے ایک عالم دین محترم جناب مولانا عبد اللطیف اثری حفظہ اللہ نے اس ضرورت کو محسوس کیا اور صحیح بخاری کے شارح علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی کتاب"الزھر النضر فی حال الخضر " کا اردو ترجمہ کر کے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ نے اس ترجمہ کا اردو نام " کیا خضرعلیہ السلام ابھی زندہ ہیں؟"رکھا ہے۔جس پر تحقیق ،تخریج اور تحشیہ کاکام شیخ صلاح الدین مقبول احمد ہندی نے کیا ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں خضر کا قصہ، خضر کے بارے میں خلاصہ بحث، خضر سے کون مراد ہیں؟ خضر فرشتہ ہیں یا ولی یا نبی ؟،نبوت ورسالت پر ولایت کی برتری کی تردید،شارح العقیدہ الطحاویہ کی ایک نفیس بات، قرآن وحدیث سے نبوت خضر پر دلائل،استمرار حیات کا سبب اس کے قائلین کی نظر میں، استمرار حیات خضر کے قائلین کی آراء وغیرہ جیسی مباحث بیان کی ہیں۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف،مترجم ،محقّق اور تمام معاونین کی اس محنت کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

فیڈ بیک