علمی زمرے

  • PDF

    زیرنظرکتاب میں نکاح وشادی کے احکام ومسائل کو کتاب وسنت کی روشنی میں نہایت ہی بہترین انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ زوجین ان احکام ومسائل کی معرفت حاصل کرکے ازدواجی زندگی کو خوشحالی وسعادت کے ساتھ بسرکرسکیں اور نکاح کا حقیقی مقصد حصول ہوسکے۔

  • PDF

    زیر نظر فتوی میں بہرہ کا تعارف،ان کے عقائد اور ان سے شادی بیاہ کرنے کے حکم کو کتاب وسنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔

  • PDF

    زیر مطالعہ کتاب’’ 477 سوال وجواب برائے نکاح وطلاق‘‘ سعودی عرب کے معتمد وکبار علمائے کرام کے نکاح ،طلاق ،خلع اور عدّت وغیرہ جیسے اہم مسائل کےجوابات پر مشتمل ہے تاکہ مسلمان شخص نکاح وطلاق کے جملہ مسائل کو کتاب وسنت کی روشنی میں جان کر ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنا سکے، کتاب کی افادیت کے پیش نظر جناب محمد یاسر حفظہ اللہ نے اسے نہایت جانفشانی وعرق ریزی سے بہترین اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ اور ادارہ بیت السلام، ریاض نے اسے زیور طباعت سے آراستہ کرکےہدیہ قارئین کیا ہے، رب العالمین اس کتاب کے نفع کو عام کرے، اور کتاب کے مؤلف،مترجم ،ناشر وجملہ متعاونین کی مساعی جمیلہ کو قبول کرکے ان سب کے لئے صدقہ جاریہ بنائےآمین۔

  • PDF

    ميرے عزيز بھائيو ميں كيتھولك مذہب ركھنے والى عورت ہوں اور كئى برس سے شادى شدہ بھى ميرى خوبصورت سى دو بيٹياں بھى ہيں، تقريبا پانچ برس سے ميں اپنے خاوند كو پسند نہيں كرتى، ليكن طلاق كے متعلق كبھى سوچا بھى نہيں تھا، كيونكہ ميرا دين اس كى اجازت نہيں ديتا. پچھلے برس ميں اپنے آپ پر كنٹرول نہ ركھ سكى اور ايك چھوٹى عمر كے مسلمان نوجوان كے ساتھ حرام تعلقات قائم كر بيٹھى، اور اس بنا پر كہ وہ ہمارے ليے ايك فليٹ كرايہ پر لے ميں نے اس كے ساتھ عرفى نكاح پر دستخط بھى كر ديے، ليكن جب اس كے خاندان والوں كو علم ہوا تو اس نے وہ كاغذ پھاڑ ديا، ہمارے يہ تعلقات صرف ايك ہفتہ رہے اور پھر ميں نے توبہ كر لى، اور وہ بھى اس سے توبہ كر چكا ہے. اور اس نے اب ايك مسلمان لڑكى سے منگنى كر لى ہے، اور مجھے بھى پچھلے ماہ ايك اچھا سا مسلمان شخص ملا جو شادى شدہ بھى ہے اور اس كے دو بچے بھى ہيں، اور بعض اوقات ہمارى ڈيوٹى اكٹھى ہوتى ہے اور اچھے دوست بھى ہيں اور ہم اس دوسرے كے بہت قريب بھى ہيں، ليكن ابھى تك كوئى حرام كام نہيں كيا، ميرے كچھ سوالات ہيں: 1 ـ كيا ميرى پہلى عرفى شادى ابھى تك موجود ہے، ہم نے دو گواہوں اور ايك وكيل كى موجودگى ميں شادى كى تھى، ليكن مجھے يہ علم نہ تھا كہ يہ حقيقى شادى ہے اور پھر ميں شادى شدہ بھى تھى ؟ 2 ـ اب ميں اپنے خاوند سے طلاق لينا چاہتى ہوں، كيونكہ ميں اس سے محبت نہيں كرتى اور نہ ہى خاوند اور اپنى بچيوں كے ساتھ مسلسل جھوٹ بول سكتى ہوں ؟ 3 ـ اگر مجھے طلاق ہو جاتى ہے تو كيا ميرے ليے اس اچھے مسلمان دوست سے اسلامى شادى كر كے دوسرى بيوى بننا جائز ہے، اور عدت كى مدت كتنى ہو گى ؟ 4 ـ اس نے مجھے بتايا ہے كہ اس كى پہلى بيوى كہتى ہے اگر اس نے دوسرى شادى كى تو وہ اس سے طلاق لے كر بچوں سميت چلى جائيگى اس ليے ميں آپ سے شادى نہيں كر سكتا، تو كيا اس كى پہلى بيوى كو ايسا كرنے كا حق حاصل ہے ؟ ميں نے چاہتى كہ ميرى وجہ سے اسے تكليف اور اذيت سے دوچار ہونا پڑے كہ وہ اپنے خاندان سے دور رہے، اور خاندان كو ملنے نہ جائے، ميں نہ تو اس سے مال حاصل كرنا چاہتى ہوں اور نہ ہى ميں اس كے خاندان كا خسارہ اور نقصان كرنا چاہتى ہوں اور نہ ہى اس كى پہلى بيوى كے ساتھ كوئى برائى كرنا چاہتى ہوں، اور نہ ہى ميں اس پر غيرت ركھتى ہوں بلكہ ميں تو اس كى دوسرى بيوى بن كر اس كے ملك ميں بھى رہنے كے ليے تيار ہوں اور بعض اوقات اپنے ملك آ جايا كرونگى تا كہ اپنى بيٹيوں كو مل ليا كروں. اگر آپ اس موضوع ميں ميرا تعاون كرينگے تو ميں آپ كى مشكور رہوں گى، اللہ تعالى آپ كى حسنات و نيكيوں ميں اضافہ فرمائے.

  • PDF

    ميرے ليے ايك شخص كا رشتہ آيا ہے جس كے بارہ ميں ميرا خيال ہے كہ وہ نيك و صالح اور سلف صالحين كے منہج پر ہے، باقى معاملہ اللہ ہى جانتا ہے، اور وہ عمر ميں مجھ سے چھوٹا ہے، اس نے شرط ركھى ہے كہ اس كى شادى ميں اس كے گھر والے نہيں آئينگے؛ كيونكہ وہ گھر والوں كو اپنى شادى كے بارہ ميں نہيں بتانا چاہتا، اس ليے كہ اسے اس شادى سے انكار كا خدشہ ہے، كيونكہ ميں عمر ميں اس سے بڑى ہوں. اس ليے اس نے واضح كر ديا ہے، تو كيا يہ شخص صحيح كر رہا ہے، اور مجھے كيا كرنا چاہيے ؟ برائے مہربانى مجھے معلومات فراہم كريں.

  • PDF

    ميرى چار برس قبل ايك شخص سے شادى ہوئى اور اس كى ايك بيٹى بھى ہو چكى ہے، خاوند مجھے كہنے لگا يہ شادى ميرى بيوى اور والد پر مخفى رہنى چاہيے حتى انہيں لوگوں كے ذريعہ ہى علم ہو ميرى جانب سے پتہ نہ چلے، ميں نے اس كى موافقت كى اور جب سے ہم نے شادى كى ہے وہ ميرے پاس صرف ايك ہفتہ سويا ہے، وہ بھى اس طرح كہ سفر كا بہانہ كر كے اور اس كے بعد وہ ميرے پاس گھر ميں نہيں سويا، ميں اكيلى رہ رہى ہوں وہ روزانہ آتا تھا اور مجھے حمل بھى ٹھر گيا اور ميں نے ايك بچى بھى جنم دى جس كى عمر دو برس ہو چكى ہے اور آج تك اس بچى كا نام اندارج نہيں كرايا گيا اس خوف سے كہ كہيں اس كى بيوى كو علم نہ ہو جائے، يہ سارا وقت ميں صبر و شكر ميں بسر كرتى رہى اور كہتى كہ كوئى حرج نہيں كيونكہ صراحتا ميرا خاوند ايك انسان ہے جس كى كوئى مثال نہيں ملتى، وہ مجھ سے محبت كرتا ہے. ليكن ساڑھےتين برس گزرنے كے بعد اس كى پہلى بيوى اور اس كے والد كو علم ہو گيا اور وہ مجھے طلاق دينے كا مطالبہ كرنے لگى ليكن خاوند نے مجھے طلاق دينے سے انكار كر ديا اور اسے بھى طلاق دينے سے انكار كر ديا، ليكن اب تك وہ ہمارے درميان عدل نہيں كر پا رہا، اور ميرے اور اپنى بيٹى كے ہاں كبھى نہيں سويا، اور نہ ہى اس نے بچى كا اپنے نام سے اندراج كرايا ہے مجھے اس كا سبب معلوم نہيں كہ ايسا كيوں ہے، حتى كہ جمعہ كے دن بھى اس كے ليے ہمارے ہاں آنا مشكل ہو چكا ہے، يہاں تك كہ اگر ميرى بيٹى رات كو بيمار ہو جائے تو ميں اسے نہيں بتا سكتى اور ہميشہ اكيلے ہى ہاسپٹل لے جاتى ہوں مجھے سمجھ نہيں آ رہى كہ ميں كيا كروں، اللہ كى قسم ميں ہر وقت اللہ سے دعا كرتى ہوں كے وہ مجھے صبر دے كيونكہ ان برسوں ميں مجھے بہت زيادہ اكتاہٹ و تھكاوٹ ہو چكى ہے، اور پتہ نہيں كب تك ايسا ہو. يہ علم ميں رہے كہ ميرا خاوند اللہ سے ڈرنے والا ہے،اور كبھى نماز ترك نہيں كى، اور نيكى و بھلائى كے عمل كرنے والا ہے، جب بھى ميں نے اس سے بات كى تو وہ مجھے كہتا ہے ہر چيز اپنے وقت پر اچھى ہوتى ہے، اور تم نے بہت صبر كيا ہے، اب تم زيادہ صبر نہيں كر سكتى، برائے مہربانى ميرا تعاون كريں كيونكہ حقيقتا ميں زيادہ ظلم برداشت نہيں كر سكتى ؟

  • PDF

    ميرے منگيتر كو علم ہے كہ اس سے معرفت سے قبل ميرے ايك دوسرے شخص كے ساتھ تعلقات تھے جو اس كا دوست بھى ہے اس شخص اور ميرے مابين كئى كچھ ہوتا رہا ليكن بڑا اور فحش كام نہيں ہوا، ليكن يہ كام حرام ضرور تھا. مگر اب ميں توبہ كر چكى ہوں اور اللہ سے بخشش كى دعا كرتى ہوں مشكل يہ درپيش ہے كہ ماضى ميں ميرے اور اس كے دوست ميں جو كچھ ہوتا رہا ہے اس ميں اسے شك ہے، اور پھر اس نے اپنے كچھ دوستوں سے ميرے بارہ ميں غلط قسم كى باتيں سنى ہيں، اوراس كے اس دوست نے جو كچھ ہمارے مابين ہوا تھا اسے فاش كر ديا ہے. اس ليے ميرے منگيتر نے مجھے قسم دى كہ ميں جو كچھ ہوا ميں سب بيان كروں اور قسم اٹھائى كہ اگر ميں نے جھوٹ بولا يا كچھ چھپايا تو شادى كے بعد ميں اس پر حرام ہوں، ميں مسجد ميں قرآن پكڑ كر قسم اٹھائى كہ مجھ پر كچھ چھپانا حرام ہے، حالانكہ حقيقت ميں جو كچھ ماضى ميں ہوا ميں نے اسے چھپايا تھا. يہ علم ميں رہے كہ ان شاء ميرى شادى قريب ہى ہونے والى ہے، مجھے خوف ہے كہ كہيں ميں اس كے حق ميں گنہگار تو نہيں، اور وہ ہميشں مجھے كہتا ہے كہ اگر كچھ چھپايا تو ميں اسے معاف نہيں كرونگا، اور اللہ كے سامنے اس پر راضى نہيں ہونگا، برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے ؟

  • PDF

    كيا مسلمان لڑكى كے ليے آسٹريليا ميں مقيم شخص سے شاى كرنا جائز ہے، وہ وہى پيدا ہوا ہے اور اب پى ايچ ڈى كى تعليم مكمل كر رہا ہے، اس نوجوان كا اس لڑكى سے رشتہ طے ہو چكا ہے تقريبا ايك برس بعد وہ شادى كرينگے؛ كيا لڑكى كے ليے وہاں جا كر اس كے ساتھ رہنا جائز ہوگا ـ آپ جناب كے ليے واضح ہے كہ اس ملك ميں كيا كچھ قباحتيں موجود ہيں ـ يہ علم ميں رہے كہ لڑكى بھى سب دينى تعليمات كا التزام نہيں كرتى، اور اسى طرح وہ شخص بھى مكمل دينى تعليمات پر عمل نہيں كرتا يا اس سے كم كرتا ہے، برائے مہربانى اگر آپ ہميں اس كے بارہ ميں معلومات فراہم كريں تو بہتر ہے، اور لڑكى كے گھر والوں كو آپ كيا نصيحت كرتے ہيں كيونكہ وہ دينى التزام كرتے ہيں ؟

  • PDF

    ميں اٹھائيس برس كى ہوں، بااعتماد اور دين كا التزام كرنے والى ہوں، الحمد للہ ہر كوئى ميرا احترام كرتا اور مجھ سے محبت كرتا ہے، ميرى شادى نہيں ہوئى، سبب يہ ہے كہ جب بھى ميرا كوئى رشتہ آتا ہے تو ميں كوشش كرتى ہوں كہ اس ميں كوئى عيب نكالوں تا كہ اس رشتہ سے انكار كر دوں، ليكن پھر بعد ميں نادم ہوتى ہوں. ميرى ايك سہيلى جو مجھ سے محبت بھى كرتى ہے اور ميرى مصلحت بھى چاہتى ہے كچھ ايام قبل اس نے مجھ سے كہا يہ جادو كى وجہ سے ہے جو چاہتا ہے كہ آپ كى شادى نہ ہو اس نے آپ پر جادو كر ركھا ہے. ميں اس موضوع كے متعلق شرعى حكم معلوم كرنا چاہتى ہوں، آيا كيا ممكن ہے كہ واقعى ايسا ہو سكتا ہے ؟ يعنى كيا يہ ممكن ہے كہ وہ مجھے ايسا جادو كر ديں جو ميرے خيال ميں رشتہ سے انكار پيدا كر دے چاہے آنے والے رشتہ پر مطمئن بھى ہوں. اور اگر يہ بات صحيح ہے تو يہ بتائيں كہ اس كا حل كيا ہے ؟ ميرى سہيلى نے مجھے يہ بھى كہا كہ كچھ ايسے افراد موجود ہيں جو يہ جادو ختم كر سكتے ہيں، برائے مہربانى ميرى مدد فرمائيں كيونكہ ميں اس واقع كى تصديق نہيں كرتى.

  • PDF

    ميں ٹيچر ہوں اور ميرى عمر اكتيس برس ہے، ميں ( 1996 ) سے ليكر ( 1997 ) كے آخر تك محكمہ تربيت و تعليم ميں ملازم رہى ہوں، ميرے ليے ميرے سكول كے ايك ساتھى نے رشتہ طلب كيا تو ميں نے اسے انتظار كرنے كا كہا كہ پہلے ميرى بڑى بہن كى شادى ہونے دو، چنانچہ ( 2000 ) ميں بڑى بہن كى شادى كے بعد اس مدرس نے گھر آ كر ميرا رشتہ طلب كيا ليكن ميرے والد نے اس رشتہ سے انكار كر ديا حالانكہ والدہ راضى تھى. والد صاحب نے انكار كرنے كى دليل يہ دى كہ اس نے تو ابھى ايم اے اور پى ايچ ڈى كرنى ہے، اور احتمال ہے كہ يونيورسٹى ميں اسے پڑھانا بھى پڑے، اسى طرح كئى ايك اور بھى رشتے آئے تو ان سے بھى انكار كر ديا، سبب يہ تھا كہ يونيورسٹى ميں ملازمت كے بعد اس سے بھى بہتر رشتہ آئيگا ( جن رشتوں كا انكار كيا گيا اس ميں ايك انجينئر كا بھى رشتہ آيا تھا ) اور ( 2002 ) ميں مجھے يونيورسٹى ميں بطور استاد متعين كر ديا گيا، اور بھى كئى ايك رشتے آئے، ليكن والد صاحب نے ان سے كئى اسباب كى بنا پر انكار كر ديا. جو رشتہ بھى آتا اسے يہ كہہ كر انكار كر ديا گيا كہ وہ تو پڑھائى ميں مشغول ہے... جس ميں ايك ڈاكٹر كا بھى رشتہ آيا تھا اس كا رشتہ اس ليے رد كيا گيا كہ وہ ميرى نوكرى اور مرتبہ كا لالچى تھا، جس مدرس اور ٹيچر كا سب سے پہلے رشتہ آيا تھا اس نے دوبارہ رشتہ لينے كى كوشش كى اور ميرى مكمل اور واضح موافقت كے اعلان كے باوجود اس رشتہ سے انكار كر ديا گيا اور والد نے دليل يہ دى كہ تمہارا پيشہ مختلف ہے ( وہ مدرس ہے اور ميں يونيورسٹى ميں ليكچرار ). باوجود اس كے كہ وہ علمى طور پر ميرا ہم پلہ ہے كيونكہ وہ يونيورسٹى كى تعليم بھى اسى شعبہ ميں مكمل كريگا، اور ثقافتى اور معاشرتى طور پر بھى وہ ميرے مناسب ہے، اور اسى طرح مالى حالت بھى اچھى ہے، اور اخلاقى اور دينى اعتبار سے بھى بہتر ہے. ( 2003 ) سے اب ( 2006 ) تك سوائے اس شخص كے ميرے ليے كسى اور كا رشتہ نہيں آيا اور وہ اب تك مجھ سے شادى كرنے پر مصر ہے، اور ميں بھى اس سے شادى كرنے كى رغبت ركھتى ہوں، ميرے والد صاحب نے مجھے بتايا ہے كہ تمہارا مدرس سے شادى كرنے سے غير شادى شدہ رہنا ہى افضل ہے، اور دليل يہ دى كہ ميرى ملازمت پكى ہے، اور پھر آمدنى بھى بہت زيادہ ہے ميں شادى كى محتاج نہيں. اور اس كے نزديك يہ چيز حقيقت پر مبنى ہے، اور يہ چيز ميرے ليے نفسياتى ضرر اور پريشانى كا باعث ہوگا، كيونكہ ميرے رائے اور لالچ ملازمت ميں نہيں بلكہ ميں تو ايك خاندان اور گھر بنانا چاہتى ہوں. ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا مجھے حق حاصل ہے كہ ميں ولى كے علم كے بغير ہى شادى كر لوں ؟ اور كيا يہ رشتہ ميرے ليے كفؤ شمار نہيں ہوتا، برائے مہربانى اس سلسلہ ميں مجھے تفصيل سے معلومات عنائت كريں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

  • PDF

    ایک جدید مسلم دوست کا سوال : ایک آدمی نے شادی کی جس سے اس کے دو بچے ہيں ، وہ کام کے سلسلے میں سعودیہ گیا اوراپنے بیوی بچوں کوملک میں ہی چھوڑ دیا ، سعودیہ میں ایک عورت سے تعارف کے بعد پہلی بیوی کے علم کے بغیر ہی دوسری شادی کرلی اوراس سے بھی ایک بچہ پیدا ہوا اورسعودیہ میں کام کرنے والے دونوں میاں بیوی نے اسلام قبول کرلیا ۔ اس لیے کہ وہ دونوں جدید مسلمان ہیں ان کوخدشہ ہے کہ ہم نے گناہ کا کام کیا ہے ، توکیا ممکن ہے کہ آپ ہمیں کوئ نصیحت کریں ؟ 1 - مذکورہ تعلق کا کیا حکم ہے ؟ 2 - آدمی کے ذمہ پہلی بیوی اوربچوں کے بارہ میں کیا واجبات ہیں ؟ 3 - وہ کون سے گناہ کے مرتکب ہوۓ ہيں اوراس سے بچنے کے لیے انہيں کیا کرنا چاہیے تا کہ آئندء وقوع پذیر نہ ہو ؟ گزارش ہے کہ اس جیسے حالات کوختم کرنے کے لیے کو‏ئ نصیت فرمائيں

  • PDF

    ميرى عمر چاليس برس ہو چكى ہے اور ميں دس برس سے شادى شدہ ہوں اور بيوى كے اعضاء تناسليہ ميں پرابلم كى وجہ سے اب تك كوئى اولاد پيدا نہيں ہوئى، ہم نے بہت سارے ڈاكٹر حضرات سے رابطہ كيا اور بہت علاج كيا ہے ليكن كوئى فائدہ نہيں ہوا، اب ميرے گھر والے مجھ پر دوسرى شادى كرنے كا دباؤ ڈال رہے ہيں اور ميں بھى اس سوچ پر مطمئن ہوں، ليكن اپنى بيوى كے دل كو زخمى نہيں كرنا چاہتا، كيونكہ اس نے دوسرى شادى كى سوچ رد كر دى ہے اور شادى كى صورت ميں خود كشى كرنے كى دھمكى دى ہے، برائے مہربانى مجھے راہنمائى كريں كہ مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

  • PDF

    ميں ستائيس برس كى مسلمان لڑكى ہوں، مجھے دينى التزام كا كچھ علم نہ تھا، يا اس كى طرف راہ كا بھى علم نہ تھا، بہر حال ميں نے ايك عيسائى نوجوان سے محبت كرنا شروع كر دى اور مجھے اس نے بتايا كہ وہ مجھ سے شادى كرنے كے ليے مسلمان ہو رہا ہے، ليكن وہ اپنے اسلام كو ظاہر نہيں كرنا چاہتا كيونكہ چرچ والے اس كو قتل كر دينگے. ہم نے آپس ميں ايك ورقہ لكھا جسے " عرفى زنا يا نكاح " كا نام ديا جاتا ہے، ليكن مجھے اس وقت نكاح كے معنى كا علم نہ تھا، اور اس لڑكے نے ميرے گھر والوں كے علم كے بغير مجھ سے دخول اور جماع بھى كيا، ميں بہت خوش تھى كہ اس نے ميرى وجہ سے اسلام قبول كر ليا ہے، مجھے حمل بھى ہو گيا اور ميں نے اس كے اسلام كے اظہار كا انتظار كيا ليكن وہ بہت ہى گندا اور برا شخص نكلا اس نے مجھے بتايا كہ وہ مسلمان نہيں ہوا اور نہ ہى اس نے ميرے ساتھ شادى كو ظاہر كيا، اور امريكہ چلا گيا. اس كے بعد مجھے احساس ہوا كہ ميرا انجام قريب ہے، اور جو كچھ ميں نے كيا ہے اللہ اس كا مجھ سے انتقام لينے والا ہے ليكن اللہ تعالى نے ميرا پردہ ركھا جو كہ اللہ كى جانب سے عظيم احسان تھا، ميں نے پورى كوشش كى كہ كسى طريقہ سے اس بچہ سے چھٹكارا حاصل كر لوں، ليكن ايسا نہ ہو سكتا، ميں ولادت سے قبل گھر سے بھاگ گئى اور بچہ پيدا ہوا تو ميں نے اسے كچھ غريب و فقير افراد كے حوالے كر ديا اور انہيں اس كے اخراجات كے ليے كچھ رقم بھى دى. اللہ كى قسم پھر اللہ كى قسم ميں نے ہر قسم كے گناہ سے اللہ كے ہاں توبہ كر لى، اور اب پردہ بھى كرنے لگى ہوں اور روزے ركھتى ہوں اور نماز پنجگانہ كى پابندى كرنے لگى ہوں، اس كے چار برس بعد ميرے ليے ايك دين پر عمل كرنے والے نوجوان كا رشتہ آيا تو ميں نے بالكل صراحت كے ساتھ اس كو سب كچھ بيان كر ديا، ليكن ميں اس سے حيران ہوئى كہ اس كے باوجود اس نے مجھے نہيں چھوڑا اور ميرا ساتھ ديا اور ميرا پردہ ركھا اور ميں نے اس سے شادى كر لى. اب وہ ميرے ساتھ بہت اچھا معاملہ كر رہا ہے؛ كيونكہ وہ دين پر عمل كرتا ہے، اب ہمارى زندگى ايمان سے بھرپور ہے اور تقوى و دين پايا جاتا ہے، اب مجھے معلوم نہيں كہ اس بچے كا حكم كيا ہے كيا وہ بالفعل ميرا بچہ ہے يا كہ نہيں، اور يہ كيسے اور ميرى اس حالت كا شرعى حكم كيا ہے، اور كيا ميرے اس خاوند سے بچوں كا بھائى ہے يا نہيں ؟

  • PDF

    ميرے كئى ايك رشتے آئے ليكن والد صاحب نے يہ كہہ كر رد كر ديے كہ ابھى ميرى تعليم مكمل نہيں ہوئى، ميں نے والدين كو منانے كى كوشش كى كہ مجھے شادى كى رغبت ہے اور شادى ميرى تعليم ميں ركاوٹ پيدا نہيں كريگى، ليكن والدين اپنے موقف پر قائم رہے، تو كيا والدين كى رضامندى كے بغير ميرے ليے شادى كرنا جائز ہے، وگرنہ مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

  • PDF

    ميں آپ كے سامنے اپنى مشكل ركھنا چاہتى ہوں مجھے اميد ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالى مشكل كا كوئى حل نكالےگا: ميں بھى ايك لڑكى ہوں جس طرح دوسرى لڑكياں اس عمر ميں محبت كا شكار ہوتى ہيں ميں بھى شريف قسم كى محبت كا شكار رہى ہوں، اس طرح نوجوانوں كے ساتھ بات چيت شروع كى ، بہر حال جس نوجوان كے ساتھ وہ اس وقت بات چيت كرتى اور تعلق ركھتى ہے وہ لڑكا اس سے عشق كے درجہ كى محبت ركھتا ہے، حتى كہ اس نے لڑكى كے گھر والوں سے اس كا رشتہ طلب كيا ليكن گھر والوں نے نشئى ہونے كى بنا پر اس نوجوان كا رشتہ قبول نہ كيا. ليكن نوجوان كہتا ہے كہ شادى ہوتے ہى وہ نشہ چھوڑ دے گا، شادى كا انكار ہونے كے بعد اس نوجوان نے كئى ايك بار خود كشى كرنے كى كوشش كى، حتى كہ اس نوجوان كى والدہ نے لڑكى سے رابطہ كر كے بتايا كہ وہ لڑكى اس كے بيٹے كے قتل كا سبب بن رہى ہے. ليكن اب وہ لڑكى اس لڑكے كو پسند نہيں كرتى.. كيونكہ وہ اسے پاگل اور مجنون سمجھتى ہے، ايك اور نوجوان كا رشتہ آيا ہے اور لڑكى نے يہ رشتہ قبول كر ليا، ليكن جب پہلے نوجوان كو علم ہوا تو وہ آ كر كہنے لگا: اب وہ اپنے آپ كو نہيں بلكہ تجھے يعنى لڑكى كو قتل كريگا، اور وہ كہتى ہے كہ وہ نوجوان كچھ بھى كر سكتا ہے تا كہ كسى اور سے شادى نہ كرے. ميرا سوال يہ ہے كہ: اب اس لڑكى كو كيا كرنا چاہيے، كيا وہ كسى دوسرے نوجوان كا رشتہ قبول كر لے يا كيا كرے، برائے مہربانى آپ سوال كا جواب دے كر عند اللہ ماجور ہوں.

  • PDF

    ميں تئيس سالہ لڑكى ہوں اور پندرہ برس سے اپنى والدہ كے ساتھ جرمنى ميں رہائش پذير ہوں، والدين ميں طلاق كے بعد ايك برس قبل ميرى والدہ اور بھائى نے مجھے ايك شخص كے ساتھ شادى كرنے پر مجبور كيا، والدہ كا دعوى تھا كہ وہ شخص بہت مجبور ہے اور معاونت كا محتاج ہے، والدہ كے اصرار اور ہر وقت ناراضگى كى دھمكى سن كر ميرے ليے اسے قبول كرنے كے علاوہ كوئى اختيار باقى نہ رہا كيونكہ بھائى نے بھى ميرى مسؤليت ختم كرنے كا كہہ ديا تھا. ميرى والدہ اپنے ہر معاملے كو دين كہہ كر صحيح قرار ديتى، جرمنى كى عدالت ميں يہ عقد نكاح ہو گيا اور ميں نے اس شخص كو صرف عقد نكاح كے وقت ہى ديكھا ہے اس كے بعد نہيں، كيونكہ اس طرح جرمنى كى نيشنلٹى حاصل ہو سكتى ہے، دو برس كے بعد كئى ايك كوشش كرنے كے بعد ميں نے والدہ كو طلاق لينے كا معاملہ شروع كرنے پر تيار كيا، وہ شخص آج جرمنى ميں رہنے پر قادر ہے طلاق پر راضى موافق ہوگيا جيسا كہ شروع سے ہى ميرى والدہ كے ساتھ متفق تھا. ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا ميرے ذمہ مطلقہ كى عدت ہے اور ميں اپنے اس گناہ كا كفارہ كس طرح ادا كروں، ميں بہت پريشان ہوں، كيونكہ ميرے ليے ايك نوجوان كا رشتہ آيا ہے اور اگر ميں اسے اپنے مطلقہ ہونے كا بتاتى ہوں تو وہ مجھ سے دور ہو جائيگا، اور اگر نہ بتاؤں تو ميں اسے دھوكہ ميں ركھوں گى، مجھے خدشہ ہے كہ وہ مجھے چھوڑ دےگا، پھر يہ كہ ميں اس كے ليے كب حلال ہونگى آيا باطل شادى سے طلاق كے بعد يا كہ اس سے قبل ؟

  • PDF

    ميرے ايك ايسے نوجوان سے تعلقات تھے جس نے ميرا كنوارہ پن ختم كر ديا تھا، اور اب ميں كنوارى نہيں رہى، ميں اب اس فعل سے توبہ كر چكى ہوں اور اللہ سے دعا ہے كہ وہ ميرى توبہ قبول فرمائے، اور اس نوجوان نے مجھے شادى كا پيغام بھيجا ہے ليكن وہ اسلامى تعليمات كا پابند نہيں، بلكہ كسى بھى نوجوان كى طرح حشيش اور شراب اور سگرٹ نوشى كرتا ہے. اس نے ميرے ساتھ جو كچھ كيا ہے اس كى وجہ سے ميرے ليے زيادہ بہتر ہے اب ميں كيا كروں، يا ميں اسے چھوڑ كر آپريشن كے ذريعہ بكارت كا پردہ صحيح كروا كر كسى اور نوجوان سے شادى كر لوں جو اسلامى تعليمات پر عمل كرنے والا ہو ؟ يہ علم ميں رہے كہ ميں اس زنا سے حاملہ بھى تھى اور حمل ضائع كروا ديا تھا، ميرى توبہ كى سچائى كا اللہ كو ہى علم ہے ؟

  • PDF

    ميرى عمر چھبيس برس ہے اور سال بھر خاوند كا گھر چھوڑنے كے بعد اب تقريبا ايك ہفتہ قبل مجھے طلاق ہوئى ہے ميں اس وقت اپنے بچے كے ساتھ ميكے ميں ہوں بچے كى عمر تقريبا دو برس ہے. يہ شادى محبت كى شادى تھى ابتدا ميں تو ميں اپنى ساس كے ساتھ رہائش پذير رہى اور ميرى ساس ہر چيز ميں دخل اندازى كرنے لگى. اور خاوند نے مجھ سے ملازمت كا مطالبہ كيا تا كہ شادى كے ليے حاصل كردہ قرض كى ادائيگى ميں مدد ہو سكے، اور مجھے ملازمت مل گئى ميں نے ملازمت كر كے قرض كى ادائيگى ميں مدد بھى كى. ميرى ايك ہى شرط تھى كہ ہم اپنے عليحدہ گھر ميں رہيں جہاں ساس كا دخل نہ ہو، اور خاوند نے مجھ سے اس كا وعدہ بھى كيا تھا، كيونكہ گھر ميں والدہ ہى ہر كام كو كنٹرول كرتى تھى، اور ميرا خاوند كوئى اعتراض نہيں كر سكتاتھا، اگر اعتراض كرتا تو والدہ اسے گھر سے نكال ديتى، ميرى ساس بھى ملازمت كرتى ہے. ميں نے دو برس اپنے خاوند كا تجربہ كيا اور اس كے ساتھ رہى ہوں تو ميں نے اسے وہ شخص نہيں پايا جسے ميں نے ابتدا ميں جانا تھا، وہ تو صرف ايك نقاب اور ماسك تھا جو اس نے پہن ركھا تھا. ميرا خاوند ميرى سارى تنخواہ لے ليتا اور مجھے يوميہ اخراجات كے علاوہ كچھ نہ ديتا، جب بھى اسے رقم كى ضرورت ہوتى يا پھر كام چھوڑ ديتا تو مجھ سے زيور فروخت كرنے كا مطالبہ كرتا، اور ميں نے ايسا ہى كيا اور اپنا زيور تك فروخت كر ديا، اور بعض اوقات اس نے بھى ايسا ہى كيا. ميرا خاوند مجھ سے كہتا كہ جاؤ اپنے گھر والوں سے قرض لاؤ تو ميں اپنے ميكے سے رقم حاصل كرتى، ليكن اس كے مقابلہ ميں وہ مجھے كچھ نہ ديتا، ميں ہر چيز سے محروم تھى، اور وہ ہميشہ مجھے يہى كہتا تھا " تمہيں ہمارى حالت كا علم ہے اور تم اسے برداشت كرو " وہ اپنا بٹوہ گاڑى ميں چھپا كر ركھتا تھا اور كہتا كہ مجھے كوئى حق نہيں پہنچتا كہ اسے معلوم ہو اس كے پاس كتنى رقم ہے، يا كچھ بھى نہيں. اس طرح ہمارے مابين مشكلات ميں اضافہ ہوتا رہا، اور ميں مطالبہ كرتى رہى كہ ہمارا عليحدہ گھر ہونا چاہيے كيونكہ ميں اس كى عادى نہ تھى كہ ايسے گھر ميں رہوں جہاں جو مرضى ہوتا رہے اور خارج والا خارج رہے. كيونكہ اس كى ايك مطلقہ بہن تھى جو ملازمت كرتى اور اپنى ملازمت والى جگہ پر ہى ہوٹل ميں رات بسر كرتى تھى جو ہمارے علاقے سے باہر تھا، اور ہميں ملتى آتى تو اس دوران بھى ہر رات باہر رہتى اور آدھى رات كے بعد گھر واپس آتى مجھے يہ چيز اچھى نہ لگتى اور ميں اپنے محترم خاوند سے كہتى: ہمارے پڑوسى اس گھر والوں كے متعلق كيا كہيں گے جہاں ہم رہتے ہيں ؟ يہ عيب ہے تو خاوند جواب ديتا: ميں ان سے بات كرونگا مجھے بھى يہ چيز اچھى نہيں لگتى، اور مجھے صبر كرنے كا كہتا، اور بالآخر اس نے يہ كہا: يہ ہمارى عادت اور رسم و رواج ہے ( كيونكہ وہ عرب نہيں ہيں غير عرب ہيں " اور ميں اپنى والدہ اور بہن كو اكيلے اپنے سے دور نہيں ركھ سكتا، ميں نے اپنے گھر والوں كو بالكل كچھ نہيں بتايا كيونكہ وہ تو شروع سے ہى اس شخص كے ساتھ شادى كرنے كى مخالفت كرتے تھے، ليكن ميں نے اس سے شادى كرنے پر اصرار كيا تھا اس ليے كہ ميں نے اس ميں اچھا اخلاق ديكھا اور يہ كہ وہ اچھے دل كا مالك ہے، ميں اس وقت كتنى اندھى ہو چكى تھى. بالآخر ميں نے اپنے گھر والوں كو بتا ديا كيونكہ ميں نے اپنے كانوں سے سنا كہ وہ اپنى والدہ كو ميرى شكايت لگا رہا ہے اور والدہ اسے مجھے زدكوب كر كے مجھ سے بچہ لينے كا كہہ رہى ہے، سب سے آخرى بات يہى ہے اس كے بعد ميں نے اچھے چھوڑ ديا اور اپنے ميكے چلى آئى. اس كے پندرہ روز كے بعد ميرا خاوند يہ معلوم كرنے آيا كہ ميں نے گھر كيوں چھوڑا ہے، ليكن ميں نے اسے يہ نہ بتايا كہ ميں اس كى والدہ كے ساتھ ہونے والى بات سن چكى ہوں، ميں نے اس سے عليحدہ گھر كا مطالبہ كيا اور اس نے موافقت كى. جب ہم نے مكان ديكھا اور خاوند مكان ديكھنے گيا تو اس نے اپنى رائے بدل لى اور دو برس تك ايسے ہى حالت رہى، اس دوران ميرے خاوند نے مجھ پر الزام لگايا كہ ميرے كسى كے ساتھ تعلقات ہيں، اور ميرى عقل كے ساتھ كھيل رہا ہے، يہ اس وقت ہوا كہ جب اس نے ديكھا كہ ميرے والد كے جاننے والے شخص نے مجھے ميرى ملازمت والى جگہ سے مجھے گھر پہنچايا، جسے ميں نے ايك روز اچانك اپنے آفس ديكھا اور نيچے ميرا خاوند ميرا انتظار كر رہا تھا تو مجھے خوف ہوا كہ كہيں خاوند مجھے نقصان نہ پہنچائے لہذا ميں نے والد صاحب كو جاننے والے شخص سے كہا كہ وہ مجھے گھر پہنچا دے. اس كے بعد ميرے كچھ جاننے والے لوگوں كو بھيجا كہ يا تو ميں اپنے سسرالى گھر ميں واپس آ جاؤں يا پھر طلاق كے مقابلہ ميں اپنے حقوق سے دستبردار ہو جاؤں، ليكن ميں نے انكار كر ديا، اور ميں نے طلاق لينے پر اصرار كيا، ميں گھر نہيں چاہتى. اس نے دو بار مقدمہ بھى كيا اور بالآخر ميں نے بھى طلاق كا مقدمہ كر ديا، ليكن ان آخرى پانچ ماہ ميں ميں نے بغير كسى قصد و ارادہ كے اچانك اسى شخص سے بات كى جس نے مجھے گھر پہنچايا تھا اور اسے ميرے والد صاحب جانتے ہيں اور وہ مجھ سے چودہ برس بڑا بھى ہے، ميرے ساتھ جو كچھ ہوا ميں نے اسے سب كچھ بتايا، تو اس نے ميرا ساتھ ديا، اور زندگى اور لوگوں كے متعلق اس نے مجھے كئى ايك امور سمجھائے، اور كچھ ايسے امور ہوتے ہيں جن پر خاموش نہيں رہنا چاہيے. كہ ابتدا سے ہى ميرا اس شخص كے قريب ہونا غلط تھا اور ميں نے كسى كى كوئى نصيحت نہ سنى اور سب كى رائے كو ٹھكرا ديا، ميں ہى غلط تھى، اس كے بعد مجھے محسوس ہوا كہ ميں اس كى جانب كھنچى جا رہى ہوں، مجھے اندر سے معلوم ہے كہ ايسا كرنا غلط ہے، اور مجھے ہر وقت يہ احساس نادم كرتا رہا ہے، خاص كر اب تو ميں اس سے محبت كرنے لگى ہوں، اور جانتى ہوں كہ وہ بھى مجھ سے محبت كرتا ہے، يہ ايسا معاملہ ہے جس كى كوئى پلاننگ نہيں كى گئى تھى. ہم كئى ايك بار مل بھى چكے ہيں، اور بيٹھ كر بہت باتيں بھى كى ہيں حتى كہ طلاق ہونے سے قبل اس نے شادى كا مطالبہ بھى كيا تھا، ميں بھى يہ چاہتى ہوں ليكن مجھے خوف ہے كہ كہيں بعد ميں مخالفت نہ ہو جائے، خاص كر جن حالات ميں يہ تعلقات قائم ہوئے ہيں، مجھے اللہ سے بھى خوف ہے كہ كہيں ميں غلطى پر تو نہيں كہ ميں نے كسى اور شخص سے محبت كى ہے حالانكہ ميں ابھى كسى اور كے نكاح ميں تھى. يہ علم ميں رہے كہ ميں نے اپنے خاوند كو ايك بر ساور تين ماہ سے چھوڑ ركھا ہے، اور اب مجھے دو ہفتے قبل طلاق ہوئى ہے، برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ آيا ميں غلطى پر ہوں اور كيا ميں نے جو كچھ كيا ہے وہ حرام ہے ؟ ميں ہميشہ اپنے اندر كى مخالفت كرتى ہوں اور بہت پريشان ہوں؛ كيونكہ ميں اللہ كو ناراض نہيں كرنا چاہتى اور كہيں ميں معصيت و نافرمانى كا ارتكاب تو نہيں كر بيٹھى.

  • PDF

    ايك شادى شدہ عورت كے خاوند نے بيوى كى ماں سے كئى بار زنا كا ارتكاب كيا ہے، بيوى كو معلوم نہيں ہو رہا كہ وہ ماں كے ساتھ كيا كرے اور خاوند كے ساتھ كيا سلوك كرے، وہ ا اس معاملہ سے بہت پريشان ہے اسے كيا كرنا چاہيے ؟

  • PDF

    ميں چوبيس برس كى ہوں ميرے ليےا يكن وجوان كا رشتہ آيا ہے جس ميں وہ سارى اخلاقى صفات موجود ہيں جنہيں ميں چاہتى ہوں، ميں نے اس نوجوان كو بہت پسند كيا، ليكن چند ماہ كے بعد يہ خبر ملى كہ وہ تو لواطت كا ارتكاب كرتا ہے، اس ليے ميرے والد صاحب نے فيصلہ كيا كہ وہ يہ شادى نہيں كرينگے، اور يہ فيصلہ اس تحقيق كے بعد كيا كہ وہ واقعى لواطت جيسى معصيت كا مرتكب ہے، اور ميرا دل اس كے ساتھ لگ چكا ہے، اور جو رشتہ بھى آتا ہے ميں انكار كر ديتى ہوں. وہ نوجوان اب دوبارہ ميرا رشتہ طلب كرنا چاہتا ہے اور مجھ سے محبت كرتا ہے؛ كيا يہ صحيح ہے كہ يہ شخص صحيح طريقہ سے ازدواجى تعلقات قائم نہيں كر سكتا، ميں زيادہ سے زيادہ معلومات حاصل كرنا چاہتى ہوں، اور كيا يہ ممكن ہے كہ شادى اس كى لواطت جيسى عادت ميں كمى كا باعث بن جائے ؟

صفحہ : 2 - سے : 1
فیڈ بیک