علمی زمرے

  • PDF

    ہمارے ملك ميں شادى بياہ كى تقريبات موسقيى و گانے اور رقص و سرور پر مشتمل ہوتى ہيں، كيا اگر ميں شادى ميں تقريب ميں جا كر گانے كى مجلس سے دور بيٹھوں خاص كر اپنے اور سسرالى خاندان كى شادى تقريب ميں جاؤں تو كيا گنہگار ٹھرونگى، ميں وہاں نہ جانے اور كھانے وغيرہ مباح امور ميں شركت نہ كرنے كى استطاعت نہيں ركھتى ؟

  • PDF

    اس دور ميں شادى بياہ كى تقريبات بعض برائى اور منكرات كے ارتكاب سے خالى نہيں ہوتيں مثلا ان ميں گانا بجانا اور موسيقى و رقص اور بےپردگى اور شارٹ لباس ضرور ہوتا ہے ميرا بہت اہم سوال ہے: 1 ـ كيا اس طرح كى تقريب ميں شركت كى دعوت قبول كرنى جائز ہے ؟ 2 ـ اگرچہ ان تقريبات ميں ننانوے فيصد تقريبات گانے بجانے سے خالى نہيں ہوتيں خاص كر ان ميں حرام موسيقى يا فحش كلمات ضرور پائے جاتے ہيں، تو كيا اس كا معنى يہ ہے كہ اس طرح كى تقريبات ميں بالكل شريك نہ ہوا جائے ؟ 3 ـ اگر ہم اس طرح كى تقريبات ميں شامل نہ ہوں تو كيا يہ قطع رحمى ميں شامل ہوگا اور لوگوں كے درميان عداوت و بغض كا باعث تو نہيں بنےگا ؟ 4 ـ اس طرح كى تقريبات ميں شركت كے ليے علماء شرط لگاتے ہيں كہ وہاں اس برائى سے روكا جائے، ليكن اس روكنے والے كى بات كو كہاں تسليم كيا جاتا ہے، اور اصل ميں اس طرح كے اوقات جسے وہ خوشى و سرور كے اوقات سمجھتے ہيں روكنے كى فرصت كہاں ہوتى ہے ؟ برائے مہربانى مولانا صاحب اگر آپ كے پاس وقت ہے تو اس سلسلہ ميں وافى و شافى معلومات فراہم كريں كيونكہ ہمارے دور ميں يہ مسئلہ بہت پھيل چكا ہے ؟

فیڈ بیک