کیا شيخ محمد بن عبدالوھاب رحمۃ اللہ علیہ نے خلافتِ عثمانیہ کے خلاف خروج کیا اوراس کے سقوط کا سبب بنے؟

وصف

شیخ محمد بن صالح المنجد ۔ حفظہ اللہ۔ سے پوچھا گیا: بعض لوگ محمد بن عبدالوھاب ؒکی بے عزتی کرتے ہیں اوریہ تہمت لگاتے ہيں کہ انہوں نے خلافت عثمانیہ اورخلیفۃ المسلمین کے خلاف خروج کیا تھا ، اس لیے وہ مسلمانوں کے دشمن ہيں ، اوران کا جدال و بحث اسی مسئلہ کی اردگرد ہی گھومتا ہے ،تو کیا یہ صحیح ہے
اوریہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ کوئی بھی شخص امیرالمومنین کے خلاف لڑائی کرے باوجودیہ کہ وہ خلیفہ نماز پڑھتا اورزکاۃ وغیرہ بھی ادا کرتا ہو ؟
اوروہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے انگريز فوج کے ساتھ اتفاق کیا تھا اوران کے ساتھ مل کرمسلمانوں کے خلاف لڑائی کی ۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ مجھےاس تاریخی مسئلہ کا مفصل جواب دیں گے اورمیرے لیےاس بات کی وضاحت کریں گے کہ ہم کسے سچا مانيں ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

کیا شیخ محمد بن عبد الوہاب ؒ نے خلافتِ عثمانیہ کے خلاف خروج کیا اور اس کے سقوط کا سبب بنے؟

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوی:شعبۂ علمی اسلام سوال وجواب سائٹ

—™

ترجمہ: اسلام سوال وجواب سائٹ

مراجعہ وتنسیق :شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

هل خرج الشيخ محمد بن عبد الوهاب على الخلافة العثمانية وكان سبباً في سقوطها؟

[الأُردية –اُردو Urdu]

فتوى:القسم العلمي بموقع الإسلام سؤال وجواب

—™

ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب

مراجعة وتنسيق:شفيق الرحمن ضياء الله المدني


  : 9243کیا شیخ محمد بن عبد الوہاب ؒ نے خلافتِ عثمانیہ کے خلاف خروج کیا اور اس کے سقوط کا سبب بنے؟

سوال: بعض لوگ محمد بن عبدالوھاب ؒکی بے عزتی کرتے ہیں اوریہ تہمت لگاتے ہيں کہ انہوں نے خلافت عثمانیہ اورخلیفۃ المسلمین کے خلاف خروج کیا تھا ، اس لیے وہ مسلمانوں کے دشمن ہيں ، اوران کا جدال و بحث اسی مسئلہ کی اردگرد ہی گھومتا ہے ،تو کیا یہ صحیح ہے ؟
اوریہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ کوئی بھی شخص امیرالمومنین کے خلاف لڑائی کرے باوجودیہ کہ وہ خلیفہ نماز پڑھتا اورزکاۃ وغیرہ بھی ادا کرتا ہو ؟
اوروہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے انگريز فوج کے ساتھ اتفاق کیا تھا اوران کے ساتھ مل کرمسلمانوں کے خلاف لڑائی کی ۔
میں امید کرتا ہوں کہ آپ مجھےاس تاریخی مسئلہ کا مفصل جواب دیں گے اورمیرے لیےاس بات کی وضاحت کریں گے کہ ہم کسے سچا مانيں ؟

بتاریخ 2004-01-09کو نشر کیا گیا

جواب

الحمد للہ:

دنیامیں جوشخص بھی خیرو بھلائی کاکام کرے اس کے انسانوں اورجناتوں میں دشمن بہت ہوتے ہیں حتیٰ کہ اللہ تعالی ٰکے انبیاء بھی اس سے محفوظ نہيں رہ سکے ۔

زمانہ قدیم سے علماء کرام کے بھی دشمن اورمخالف پائے جاتے رہے ہیں اورخاص کرحق کی دعوت دینے والوں کوتو لوگوں کی بہت ہی سخت قسم کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑ‌ا ۔

اس کی مثال شيخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ہیں جنہوں نے بعض حاسدین کی طرف سے بہت تکلیف اٹھائی ،بلکہ ان حاسدین نے تو ان کے قتل کرنے کو بھی حلال ٹہرادیا ، اورکچھ نے ان پر گمراہ اورمرتد ہونے کی تہمت لگائی ۔

اورشيخ محمد بن عبدالوھاب رحمۃ اللہ علیہ بھی ان مظلوم علماء کرام میں سے ایک تھے جن کےبارے میں لوگوں نے فتنہ پھیلانے کےلیے بغیر علم کے بہت کچھ کہا اوراس کام پر انہیں صرف حسد و بغض اوراپنے اندر بدعات کے رچ بس جانے کے علاوہ کسی اورچیز نے نہیں ابھارا، یاپھر اس کا سبب جہالت اورخواہش پرستوں کی تقلید تھی ۔

آپ کی خدمت میں ہم شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمۃ اللہ علیہ کےمتعلق موجود بعض شبہات اوران کا رد پیش کرتے ہیں :

شيخ عبدالعزیز عبداللطیف رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں :

’’سلفی دعوت کے کچھ مخالفین کا دعوی ہے کہ شيخ محمد بن عبدالوھاب رحمۃ اللہ علیہ نے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج کیااورجماعت میں افتراق کا باعث بنے اورسمع و اطاعت کوختم کرکے رکھ دیا‘‘ ۔

دیکھیں کتاب :( دعاوی المناوئین لدعوۃ الشيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ ،ص 233 : )

اورایک دوسری کتاب میں کچھ اس طرح رقمطراز ہیں :

’’اور " عبدالقدیم زلّوم " کا دعوی ہے کہ وہابیوں کی دعوت کا ظاہر ہونا ہی خلافت عثمانیہ کے سقوط کا سبب تھا ۔

اوراس کا یہ بھی کہنا ہے کہ : دولت اسلامیہ میں وہابیوں نے محمد بن سعود اورپھر اس کے بیٹے عبدالعزيز کی زير قیادت شورش بپا کی توبرطانیہ نے انہیں مال واسلحہ مہیا کیا ،اوران کی یہ شورش سلطان و خلیفہ کے ماتحت بلاد اسلامیہ پرقبضہ کرنے کے لیے مذہبی اساس پرتھی۔

یعنی انہوں نے انگریز کے تعاون اوراس کے ابھارنے کی بنا پر خلیفہ کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی اوراسلامی لشکر سے لڑائی کی جو کہ امیر المومنین کا لشکر تھا ‘‘۔ دیکھیں کتاب: (کیف ھدمت الخلافة؟ ’’ خلافت کا خاتمہ کیسے ہوا ‘‘، ص: 10 ) ۔

خلافت اور سلطنتِ عثمانیہ کےخلاف محمد بن عبدالوھابؒ کے خروج کے بارے میں پائے جانے والے شبہات کا جواب ذکر کرنے سے قبل مناسب ہے کہ ہم شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمۃ اللہ علیہ کا خلیفۃ اورائمۃ المسلمین کی سمع واطاعت کے بارے میں عقیدہ ذکر کردیں ۔

ان کا عقیدہ یہ تھا کہ خلیفہ اورامیر چاہے نیک و صالح ہو یا پھر فاسق و فاجر، جب تک وہ معصیت کا حکم نہ دے اس کی سمع واطاعت واجب ہے اس لیے کہ اطاعت صرف اورصرف نیکی کے کام میں ہوتی ہے ۔

شیخ امام محمد بن عبد الوہابؒ اہل قصیم کے نام بھیجے گئے اپنےایک خط میں لکھتے ہیں کہ:

’’میرا عقیدہ ہے کہ امام المسلمین کی سمع واطاعت کرنی چاہیے چاہے وہ امام نیک و صالح ہو یا پھر فاسق و فاجر، جب تک وہ نیکی کا حکم دیتا رہے اس کی اطاعت واجب ہے ، اورجب اللہ تعالیٰ کی معصیت کاحکم دے تواس میں اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی ۔

اورجوخلیفہ بنا دیاجائے اورلوگ اس پرراضی ہوں اورلوگ اس کے پاس جمع ہوجائيں ،یا وہ تلوار کے زورسے ان پر غالب ہوحتیٰ کہ وہ خلیفہ بن جائےتواس کی اطاعت واجب ہے اوراس کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔‘‘دیکھیں کتاب:( مجموع مؤلفات الشیخ ( 5 /11)

اورایک دوسری جگہ پر شيخ کہتے ہیں :

’’اجتماعیت کی تکمیل میں یہ بھی شامل ہے کہ جو بھی ہم پرامیر بنادیا جائے ہم اس کی سمع واطاعت کریں اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو‘‘ ۔ (مجموع مؤلفات الشیخ ( 1 / 394 ) بحوالہ: دعاوی المناوئین ( 233 - 234 ) ۔

اورشیخ عبدالعزيز عبداللطیف کہتے ہیں :

’’اوراس مختصر سے نوٹ کے بعد کہ جس میں شیخ رحمۃ اللہ علیہ کا ائمۃ المسلمین چاہے وہ نیک ہویا فاجر جب تک وہ اللہ تعالی کی معصیت کا حکم نہ دے اس کی سمع وطاعت کے وجوب کا عقیدہ سامنے رکھا گیا ہے ۔

تواب ہم اس اہم مسئلہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جواس شبہ کا جواب ہے ، یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ :

’’کیا " نجد " جواس دعوت کا محل اوروطن تھا اور جہاں پریہ (دعوت) پروان چڑھی تھی دولت عثمانیہ کے ماتحت تھا ؟ ‘‘

ڈاکٹر صالح عبود اس کا جواب دیتے ہوئےکہتے ہیں :

’’نجدتک عمومی طورپرخلافت عثمانیہ کا نفوذ ہی نہیں ہوا اورنہ ہی اس کی حکومت وہاں تک آئی اور نہ ہی وہاں پر کوئی خلافت عثمانیہ کی طرف سے گورنر ہی مقرر ہوا ، اورجب شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت کا ظہورہوا تواس وقت ترکی حکومت کی کوئی فوج بھی وہاں نہیں تھی۔

اس تاریخی حقیقت کی دلیل دولت عثمانیہ کی ادارتی تقسیمات کا استقرار بھی ہيں جن میں سے ایک ترکی لیٹر جس کا مضمون " آل عثمان کے دیوانی رجسٹرمیں قوانین کے مضامین " ہے یعنی دیوانی رجسٹر میں آل عثمان کے قوانین ،جسے یمین افندی نے تالیف کیا ہے جو کہ خاقانی دفتر کا 1018ھ موافق 1609میلادی میں خزانچی تھا ۔ تو اس خط سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ گیارہ ہجری کے اوائل میں دولت عثمانیہ بتیس 32 حکومتوں میں منقسم تھی جن میں چودہ عرب حکومتیں تھیں جن میں نجد شامل نہیں تھا سوائےاحساء کا علاقہ اگرہم اسے نجد میں شمار کریں تو...دیکھیں کتاب :( عقیدہ الشيخ محمد بن عبدالوھاب واثرھا فی العالم الاسلامی ( غیرمطبوع ) ( 1 / 27 )۔

اورڈاکٹر عبداللہ عثیمین کا کہنا ہے :

’’اورجو کچھ بھی ہو بہرحال نجد نے شیخ محمد بن عبدالوھاب ؒ کی دعوت کے ظہور سےقبل عثمانیوں کا نفوذ مباشر نہیں دیکھا ، اوراسی طرح نجد نے کسی طرف سے بھی کوئی قوی نفوذ نہيں دیکھا جو وہاں کےحوادث پر اپنا وجود برقرار رکھے ،اس کے اطراف میں نہ تو بنوجبر کا نفوذ تھا یا پھر بنو خالد اورنہ ہی اس کے کسی سمت میں اشراف کے نفوذ نے کوئی سیاسی استقرار قائم کیا ، بلکہ نجدی علاقوں کی جنگیں اورلڑائياں قائم رہیں اوران کے مختلف قبائل کے درمیان جنگ وجدال بہت تیزي سے چلتا رہا ‘‘۔

دیکھیں: (محمد بن عبدالوھاب حیاتہ وفکرہ ص ( 11 ) بحوالہ دعاوی المناوئین " ( 234 – 235 )۔

اس مضمون اوربحث کومکمل کرنے کے لیے ہم علامہ عبدالعزيز بن عبداللہ بن باز ؒ کا اس اعتراض کے بارے میں جواب ذکر کرتے ہيں :

’’میرے علم اوراعتقاد کے مطابق شیخ محمد بن عبدالوھاب ؒ نے سلطنت خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج نہيں کیا ، اورپھر نجد میں ترکیوں کی توامارت و اقتدار ہی نہیں تھی بلکہ نجد کے علاقے میں چھوٹی چھوٹی امارتیں اوربہت سی بستیاں پھیلی ہوئ تھیں ۔

اوران میں سے ہر ایک شہر یا علاقے اور بستی پر چاہے وہ جتنی بھی چھوٹی تھی امارت قائم تھی اورایک مستقل امیر تھا ۔۔۔ اوران امارتوں کے درمیان لڑائياں اورجنگيں اوراختلافات رہتے تھے ، اورشيخ محمد بن عبدالوھاب ؒ نے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج نہیں کیا ۔

بلکہ ان کا خروج تواپنے علاقے میں ان غلط اورفاسد حالات کے متعلق تھا جو پیدا ہوچکے تھے انہوں نے اللہ تعالی ٰکے لیےجہاد کیا اوراس کا حق بھی ادا کیا اوراس میں صبر کیا حتیٰ کہ اس دعوت کا نور اورروشنی دوسرے شہروں اورعلاقوں تک جا پہنچی‘‘ ۔ (کیسٹوں پر ریکارڈ کردہ مذاکرہ بحوالہ : دعاوی المناوئین ص : 237)

ڈاکٹر عجیل النشمی کہتے ہیں :

’’شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں خلافت عثمانیہ کی جانب سے نہ تو قابل ذکر اختلاف ہوااورنہ کسی قسم کی کوئی کبیدگی وخفگی ظاہر ہوئی اور نہ ہی خلافت عثمانیہ نے کسی ساکن کومتحرک کیا حالانکہ ان کی زندگی میں خلافت عثمانیہ کے مسلسل چار حکمراں ہوئے ۔۔۔‘‘ ۔ دیکھیں میگزین:( ’’المجتمع‘‘ عدد نمبر : 510 )

اوپر جو کچھ بیان کیا گیا وہ خلافت عثمانیہ کے بارے میں شیخ کےتصوّرکا بالکل عکس پیش کرتا ہے تو پھر شیخ محمد بن عبدالوھاب ؒ کی دعوت کی تصویر خلافت عثمانیہ کے پاس کیسی ہوگی ؟

ڈاکٹر نشمی اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں :

’’شیخ محمد بن عبدالوھاب ؒ کی تحریک کی تصویر کوخلافت عثمانیہ کے ہاں غلط رنگ دیا گيا اسی لئےدولت عثمانیہ نے شیخ محمد بن عبدالوھاب ؒ کی تحریک دعوت کے خلاف عداوت کا رویہ اختیار کرلیا ،اور اس معاندانہ روش کی وجہ حجاز یا پھر بغداد کے گورنروں کے ارسال کردہ رپورٹز تھے یا پھر ان افراد کی بنا پر جوکچھ خبریں لے کر "استانہ" پہنچتے تھے‘‘ ۔ دیکھیں میگزین :(’’المجتمع‘‘ عدد نمبر ( 504 ) بحوالہ دعاوی المناوئين ص ( 238 – 239)

اورزلّوم کا یہ دعویٰ کہ شیخ محمد بن عبدالوھاب ؒ کی دعوت ہی خلافت عثمانیہ کے سقوط کا سبب بنی ، اورانگریزنے خلافت عثمانیہ کے سقوط میں وہابیوں کی مدد وتعاون کیا :

تواس لمبے چوڑے دعویٰ کے جواب میں محمود مھدی استنبولی کا کہنا ہے :

’’اس دعویٰ کے لکھنے والے پرضروری تھا کہ وہ اپنی اس رائے کے ثبوت میں دلائل بھی پیش کرتا ، اس لئے کہ زمانہ قدیم میں کسی شاعر نے کہا تھا :

اورجب دعویٰ کرنے والا اپنے دعویٰ پر کوئی بالنص دلیل قائم نہ کرسکے تووہ اس کے بے وقوفی کی دلیل ہے ۔

اوریہ بھی علم رہے کہ تاریخ اس بات کا تذکرہ کرتی ہے کہ ان انگریزوں نے تو عالم اسلام کی بیداری کے خوف سے اس دعوت کی ابتدا ہی سے مخالفت کی تھی ۔

دیکھیں کتاب : (الشيخ محمد بن عبدالوھاب فی مرآۃ الشرق والغرب ص ( 240 ) ( شیخ محمد بن عبدالوھاب مشرق و مغرب کے آئینہ میں ) ۔

اوران کا یہ بھی کہنا ہے کہ :

’’اوریہ ایک عجیب و غریب اوررلانے والی مضحکہ خيز بات ہے کہ یہ پروفیسر صاحب شیخ محمد بن عبدالوھاب ؒ کی تحریک پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ خلافت عثمانیہ کے سقوط کا سبب ہے جبکہ یہ علم ہونا چاہیے کہ یہ تحریک 1811 عیسوی میں قائم ہوئی اورخلافت عثمانیہ کا سقوط 1922 عیسوی میں ہوا ‘‘۔( حوالہ سابق ص : 64 ) ۔

انگریز کا وہابی تحریک کے خلاف ہونے کی دلیل یہ بھی ہے کہ انہوں نے ابراھیم پاشا کووہابیوں کے خلاف درعیہ کی لڑائ میں کامیابی حاصل کرنے پر مبارکباد دینے کے لیے کیپٹن فورسٹر سیڈلر کوبھیجا تھا ۔

اس پرمستزاد یہ کہ ان کا اس برطانوی تحریک کے ساتھ میلان پایا جاتا تھا جو کہ انہوں نے خلیج میں وہابی اعمال کوکم کرنے لیے قائم کررکھی تھی ۔

بلکہ اس لیٹر میں توحکوت برطانیہ اورابراہیم پاشا کے درمیان وہابیوں کے نفوذ کی مکمل سرکوبی کرنے پر اتفاق کی رغبت کا اظہار کیا گيا ہے ۔

اورمولانا محمد منظورنعمانی صاحب کہتے ہیں :

’’ہندوستان میں انگریز نے شیخ محمد بن عبدالوھاب ؒ کے مخالف حالات کوایک فرصت اورسنہری موقع سمجھتےہوئے اپنے مخالفین کووہابی کہنا شروع کردیا اوراپنے خلاف اٹھنے والی تحریک کو وہابیت کا نام دیا ،اوراسی طرح انگريز نے علماء دیوبند کوبھی انگريز کی مخالفت کرنے کی بنا پر وہابی کہنا شروع کیا اوران پر تنگی شروع کردی‘‘ ۔ دیکھیں کتاب : (دعایات مکثفۃ ضد الشيخ محمد بن عبدالوھاب ص ( 105 - 106 ) ( شيخ محمد بن عبدالوھاب کے خلاف بڑے بڑے الزامات ) ۔

ان مختلف بیانات اور شیخ محمد بن عبدالوھابؒ کی مؤلفات و رسائل کے واضح علمی دلائل و براھین سے اس شبہ کی جھوٹ وبطلان اور کھوٹا پن منکشف ہوجاتا ہے ،اسی طرح انصاف پسند مؤرخین کے تاریخی حقائق سے بھی اس شبہ کا بطلان واضح ہوجاتاہے‘‘ ( دعاوی المناوئين :ص 239 - 240 ) ۔

آخرمیں ہم شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں زبان درازی کرنے والے ہر شخص کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اپنی اس حرکت سے باز آجائے اوراپنے ہرمعاملات میں اللہ تعالیٰ کاتقوی اختیار کرے۔

امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرکے اسے سیدھی راہ کی ہدایت دیدے۔

واللہ اعلم

اسلام سوال وجواب

فیڈ بیک