رمضان كى قضاء ميں دوسرا رمضان شروع ہونے تك تاخير كرنا

وصف

شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ سے پوچھا گیا : "کہ میں نےحيض کی بنا پر كئی برس سے رمضان ميں بعض ايام كےروزے نہيں ركھے اور ابھى تك نہيں ركھ سكى، مجھےكيا كرنا ہوگا ؟ اسى كا مختصر جواب فتوى مذكور میں ذکرہے. نہایت ہی مفید فتوى ہے ضرور مطالعہ کریں.

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    رمضان كى قضاء ميں دوسرا رمضان شروع ہونے تك تاخير كرنا

    ﴿ تأخير قضاء رمضان حتى يدخل رمضان الثاني ﴾

    [ أردو- الأردية - Urdu]

    فتوى

    محمد صالح المنجد حفظہ اللہ

    مراجعہ

    شفیق الرحمن ضیاء اللہ مد نی

    ناشر

    2010 - 1431

    ﴿ تأخير قضاء رمضان حتى يدخل رمضان الثاني ﴾

    (باللغة الأردية)

    فتوى

    محمد صالح المنجد حفظه الله

    مراجعة

    شفيق الرحمن ضياء الله المد ني

    الناشر

    2010 - 1431

    بسم الله الرحمن الرحيم

    ميں نےحيض کی بنا پر كئی برس سے رمضان ميں بعض ايام كےروزے نہيں ركھے اور ابھى تك نہيں ركھ سكى، مجھےكيا كرنا ہوگا ؟

    الحمد للہ :

    علماء كرام اس بات پر متفق ہيں كہ جس نےبھى رمضان المبارك كےروزے نہ ركھے اس پرآئندہ رمضان آنے سے قبل روزوں كى قضاء كرنى واجب ہے .

    اس پر انہوں نے مندرجہ ذيل حديث سے استدلال كيا ہے:

    "حضرت عائشہ رضی اللہ کہتی تھیں کہ مجھ پررمضان کی قضا باقی ہوتی تھی میں اسکو رکھ نہ سکتی یہاں تک کہ شعبان آجاتا"- حدیث کے راوی یحیی بن ابی کثیرنے کہا اسکی وجہ یہ تھی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغول رہتى تھیں" بخاری حدیث نمبر :1950)

    ححافظ بن حجر رحمہ اللہ تعالى كہتےہيں:

    عائشہ رضي اللہ تعالى عنہا كى شعبان ميں حرص كى بنا پر يہ اخذ كيا جا سكتا ہے كہ رمضان كے روزوں كى قضاء ميں اتنى تاخير كرنى جائز نہيں كہ دوسرا رمضان شروع ہوجائے اھ .

    اور اگر كسى نے رمضان كى قضاء ميں اتنى تاخير كردى كہ دوسرا رمضان بھى شروع ہوگيا تويہ دوحالتوں سے خالى نہيں :

    پہلى حالت :

    يہ تاخير كسى عذر كى بنا پر ہو، مثلا اگروہ مريض تھا اور دوسرا رمضان شروع ہونے تك وہ بيمار ہى رہا تواس پر تاخير كرنے ميں كوئى گناہ نہيں كيونكہ يہ معذور ہے، اوراس كےذمہ قضاء كےعلاوہ كچھ نہيں لھذا وہ ان ايام كى قضاء كرے گا جواس نے روزے ترك كيے تھے.

    دوسرى حالت :

    بغير كسى عذر كےتاخير كرنا : مثلا اگر وہ قضاء كرنا چاہتا تو كرسكتا تھا ليكن اس نےآئندہ رمضان شروع ہونےتك قضاء كے روزے نہيں ركھے .

    تو يہ شخص بغير كسى عذر كےقضاء ميں تاخير كرنے پر گنہگار ہوگا، اور علماء كرام كا متفقہ فيصلہ ہے كہ اس پر قضاءلازم ہے، ليكن قضاء كےساتھ ہر دن كےبدلے ايك مسكين كوكھانا كھلانے ميں اختلاف ہے كہ آيا وہ كھانا كھلائے يا نہيں ؟

    آئمہ ثلاثہ امام مالك، امام شافعي اور امام احمد رحمھم اللہ تعالي كہتے ہيں كہ اس كےذمہ كھانا ہے اور انہوں نےاس سے استدلال كيا ہے كہ: بعض صحابہ كرام مثلا ابوھريرہ اور ابن عباس رضي اللہ تعالي عنھم سے يہ ثابت ہے .

    اور امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں كہ قضاء كےساتھ كھانا كھلانا واجب نہيں .

    انہوں نے اس سے استدلال كيا ہے كہ: اللہ تعالي نے رمضان ميں روزہ چھوڑنے والےكوصرف قضاء كا حكم ديا ہے اور كھانا كھلانے كا ذكر نہيں كيا، فرمان بارى تعالي ہے:

    ( وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ) البقرة/185.

    "اور جوكوئي مريض ہو يا مسافر وہ دوسرےايام ميں گنتى پورى كرے"البقرۃ ( 185 )

    ديكھيں: المجوع ( 6 / 366 ) المعني ( 4 / 400 )

    اورامام بخاري رحمہ اللہ نے اپني صحيح بخارى ميں اس دوسرے قول كو ہى اختيار كيا ہے. امام بخارى كہتےہيں:

    ابراھيم نخعى رحمہ اللہ تعالى كہتےہيں: جب كسى نے كوتاہى كى حتى كہ دوسرا رمضان شروع ہوگيا تووہ روزے ركھےگا اور اس كےذمہ كھانا كھلانا نہيں

    اور ابي ھريرہ رضي اللہ اورابن عباس رضى اللہ تعالى عنھم سے مرسلا مروى ہےكہ وہ كھانا كھلائےگا، پھر امام بخارى كہتے ہيں: اور اللہ تعالى نے كھانا كھلانےكا ذكر نہيں كيا بلكہ يہ فرمايا: ( دوسرے ايام ميں گنتى پورى كرے ) اھ .

    اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كھانا كےعدم وجوب كا فيصلہ كرتے ہوئے كہتےہيں:

    اور رہا صحابہ كرام رضوان اللہ عليھم اجمعين كےاقوال جب قرآن مجيد كےظاہرکے خلاف ہوں تو اسے حجت ماننا محل نظر ہے، اور يہاں كھانا كھلانا قرآن مجيد كےظاہرکے خلاف ہے كيونكہ اللہ تعالى نے توصرف دوسرے ايام ميں گنتى پورى كرنا واجب قرار ديا ہے، اس سےزيادہ كچھ واجب نہيں كيا، تواس بنا پر ہم اللہ كے بندوں پروہ لازم نہيں كرينگےجواللہ تعالي نےان پرلازم نہيں كيا الا یہ کہ اس پر کوئی دلیل ہو تا كہ ذمہ سے برى ہوسكيں،

    ابن عباس اور ابو ھريرہ رضي اللہ تعالى عنھم سےجومروى ہے يہ ممكن ہےكہ اسے استحباب پر محمول كيا جائے نہ كہ وجوب پر، تواس مسئلہ ميں صحيح يہى ہے كہ اس پر روزوں سے زيادہ كسى چيز كو لازم نہيں كيا جائےگا، ليكن تاخير كى بنا پر وہ گنہگار ضرور ہے. اھ

    ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 451 )

    اور اس بناپر واجب توصرف قضاء ہى ہے، اور جب انسان احتياط كرنا چاہے تو ہر دن كےبدلے ايك مسكين كو كھانا بھى كھلائے توبہتر اوراحسن اقدام ہوگا.

    (پس اگر بغير كسى عذر كے تاخير كى ہے تو ) سوال كرنے والى كو چاہيے كہ وہ اللہ تعالى سےتوبہ واستغفار كرے اور يہ عزم كرے كہ آئندہ مستقبل ميں اس طرح كا كام نہيں كرے گى .

    اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ ہميں اپنى رضا و خوشنودى اور پسند كےكام كرنے كى توفيق عطا فرمائے . واللہ اعلم . الاسلام سوال وجواب

    فیڈ بیک