رمضان المبارك کے روزے کس پرفرض ہیں؟

وصف

شیخ محمد صالح المنجد حفظہ اللہ سے پوچھا گیا :" رمضان المبارک کے روزے کس شخص پرفرض ہيں ؟" اسى كا مختصر جواب فتوى مذكور میں دیا گیا ہے.

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    رمضان المبارک کے روزے کس پر فرض ہيں؟

    ﴿ على من يجب صوم رمضان؟ ﴾

    [ أردو- الأردية - Urdu]

    فتوى

    محمد صالح المنجد حفظہ اللہ

    مراجعہ

    شفیق الرحمن ضیاء اللہ مد نی

    ناشر

    2010 - 1431

    ﴿ على من يجب صوم رمضان ؟ ﴾

    (باللغة الأردية)

    فتوى

    محمد صالح المنجد حفظه الله

    مراجعة

    شفيق الرحمن ضياء الله المد ني

    الناشر

    2010 - 1431

    بسم الله الرحمن الرحيم

    رمضان المبارک کے روزے کس شخص پرفرض ہيں ؟

    الحمد للہ
    جس شخص میں بھی پانچ شرطیں پائی جائيں اس پر روزے فرض ہیں :

    پہلی :

    وہ شخص مسلمان ہو ۔

    دوسری :

    مکلف ہو ۔

    تیسری :

    روزہ رکھنے پرقادر ہو ۔

    چوتھی :

    مقیم ہو ۔

    پانچویں :

    اس میں کوئی مانع نہ پایا جائے ۔

    مندرجہ بالا پانچ شروط جب بھی کسی شخص میں پائی جائيں اس پر رمضان المبارک کے روزے رکھنا فرض ہوں گے ۔

    پہلی شرط کی وجہ سے کافر روزہ رکھنے کے حکم سے خارج ہے کیونکہ اس پر روزہ رکھنا لازم نہيں اورنہ ہی اس کا روزہ رکھنا صحیح ہے ، اوراگر وہ مسلمان ہوجائے تو اسے روزہ قضاء کرنے کو نہیں کہا جائے گا ۔

    اس کی دلیل اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

    " ان کے نفقات کے قبول نہ ہونے کے اس کے علاوہ اورکوئي سبب نہیں کہ انہوں نے اللہ تعالی اوراس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اورنماز کے لیے بھی بڑی سستی اورکاہلی سے آتے ہیں اور برے دل سے ہی خرچ کرتے ہیں " التوبۃ ( 54)

    جب ان کے کفر کی وجہ سے ان کے نفقات قبول نہیں توپھر خاص عبادات تو بدرجہ اولی قبول نہیں ہونگی ۔

    اوراسلام میں داخل ہونے سے قبل والے روزوں کی قضاء ادا نہيں کریں گے کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

    " آپ کافروں سے کہہ دیجیۓ کہ اگر وہ اپنے کفرسے باز آجائيں توان کے پچھلے سارے گناہ بخش دیے جائيں گے " (38) سورة الأنفال

    اورنبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ جوشخص بھی مسلمان ہوا آپ نے ان کے کفر کی حالت میں رہ جانے والے واجبات کی ادائيگي کا کبھی حکم نہیں دیا ۔

    یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ :

    آیا کافرجب وہ مسلمان نہ ہوتواس کو روزے نہ رکھنے پر آخرت میں سزا دی جائے گی ؟

    تواس کاجواب یہ ہے کہ :

    جی ہاں اسے روزه ترك كرنےٍ اسی طرح تمام واجبات كوترک کرنے پرسزا دی جائے گى ، کیونکہ جب مسلمان جو کہ اللہ تعالی کا مطیع اورشریعت اسلامیہ کے احکام پر التزام کرنے کا پاپند ہونے والا شخص اس کے ترک کرنے پر سزا کا مستحق ہے تو کافرجو کہ ایک متکبر ہے کو بدرجہ اولی سزا ملے گی ۔

    اورپھردوسری بات یہ بھی ہے کہ جب کافر کو ان دنیاوی نعمتوں جن میں کھانا پینا اورلباس وغیرہ شامل ہے سے نفع اٹھانے کی بنا پر عذاب دیا جائے گا توحرام کام کے ارتکاب اورواجبات کو ترک کرنے پر بالاولی سزا دی جائےگی ، یہ توقیاس تھا اوراس کی دلیل بھی قرآن مجید میں موجود ہے :

    اللہ تعالی نے مجرموں سے اصحاب یمین کا سوال کا ذکر کرتے ہوۓ فرمايا:

    " تمہیں جہنم میں کس چيز نے لاڈالا ؟ انہوں نے کہا ہم نہ تو نماز پڑھتے تھے اور نہ ہی مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے ، اورہم بحث کرنے والے انکاریوں کے ساتھ مل کر بحث مباحثہ میں مشغول رہا کرتے تھے ، اورقیامت کے دن کو جھٹلاتے تھے " المدثر ( 42 - 46 ) ۔

    توان چار چيزوں نے انہیں جہنم میں داخل کیا وہ یہ ہیں :

    پہلی چيز نماز ہے " ہم نماز نہيں پڑھتے تھے "

    دوسری زکاۃ ہے : " ہم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے"

    تیسری : اللہ تعالی کی آیات سے استھزاء اورمذاق" ہم بحث کرنے والے انکاریوں کے ساتھ مل کر بحث مباحثہ کرتے تھے"

    چوتھی : روزقیامت کی تکذیب : " اورہم روزقیامت کو جھٹلاتے تھے " ۔

    دوسری شرط :

    مکلف ہو ۔ مکلف وہ ہوتا ہے جو عاقل اوربالغ ہو ، کیونکہ بچہ اور مجنون مکلف نہیں ، تین اشیاء میں سے کسی ایک کے بھی پائے جانے پر بلوغت حاصل ہوجاتی ہے اس کی تفصیل دیکھنے کے لیے آپ سوال نمبر ( 20475 ) کے جواب کا مطالعہ کریں ۔

    اورعاقل وہ ہے جومجنون نہ ہو یعنی اس کی عقل صحیح ہو بے عقل نہ ہو ، اس لیے جوبھی بے عقل ہے وہ مکلف نہیں اوراس پر دین کے واجبات و فرائض نماز ، روزہ وغیرہ کوئى بھی چيز واجب نہيں ہے ۔

    تیسری شرط :

    اسے قادر ہونا چاہیے :

    یعنی وہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہو ، اوروہ شخص جوروزہ رکھنے سے عاجز ہے اس پر کوئى روزہ نہیں لیکن وہ اس کی قضاء کرے گا ۔

    اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

    " ہاں جوبیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہۓ " ۔

    لیکن یہ عجز اورقدرت نہ رکھنا دوقسموں میں تقسیم ہوتا ہے :

    دائمی اورمستقل عاجز ، اورغیرمستقل عاجز ۔

    مندرجہ بالا آیت میں غیرمستقل عاجز کا بیان ہے ، ( مثلا وہ مریض جس کے شفایاب ہونے کی امید ہو یا مسافر توان کے لیے روزہ چھوڑنا جائز ہے لیکن وہ فوت شدہ روزے بعد میں رکھیں گے ) ۔

    دائمی اورمستقل عاجز : ( مثلا وہ مریض جس کے شفا یابابی کی کوئي امید نہيں ، اور وہ بوڑھا جوروزے رکھنے سے عاجز ہو ) ان کا ذکر مندرجہ ذيل فرمان باری تعالی میں ہے :

    "اوراس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں" (184) سورة البقرة

    ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما اس کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہيں :

    جب کوئى بوڑھا مرد اورعورت روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھیں تو ہر دن کے بدلے میں وہ ایک مسکین کو کھانا کھلائيں ۔

    چوتھی شرط :

    مقیم ہو ۔

    اگر کوئى شخص مسافر ہو تو اس پر روزہ رکھنا واجب نہيں کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    " اورجومریض یا مسافر ہو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے"

    علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ مسافر کے لیے روزہ افطار کرنا جائز ہے ، اورمسافر کے لیے افضل یہ ہے کہ وہ آسانی والا کام کرے اگر اس کے لیے روزہ رکھنے میں کوئي نقصان ہو تو روزہ رکھنا حرام ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    "اوراپنے آپ کو قتل نہ کرو یقینا اللہ تعالی تمہارے ساتھ بڑا مہربان اوررحم کرنے والا ہے " ۔

    اس آیت میں دلیل ہے کہ انسان کو جس میں نقصان ہو وہ اس کے لیے منع ہے ، آپ اس کی مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر ( 20165 ) کے جواب کا مطالعہ کریں ۔

    اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ :

    اس ضررکا پیمانہ کیا ہے جس کی وجہ سے روزہ رکھنا حرام ہے ؟

    تواس کا جواب یہ ہے کہ :

    اس کا ضرر حسی یا پھر خبر کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے ، حسی ضرر یہ ہے کہ مریض یہ محسوس کرے کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کی بیماری میں اضافہ ہوگا اوراسے ضرور دے گا جس کی وجہ سے اس کی شفایابی میں دیر ہوگی ۔

    خبرکے ذریعہ ضرر یہ ہےکہ کوئي ماہر ڈاکٹر اسے بتائے کہ اس کے لیے روزہ رکھنا ضرر کا باعث ہوگا ۔

    پانچویں شرط :

    اس شخص میں کوئی مانع نہ پایا جائے ، اوریہ صرف عورتوں کے ساتھ خاص ہے ، اس لیے حائضہ اورنفاس والی عورت پر روزہ رکھنا لازم نہیں لیکن وہ بعد میں اس کی قضا کرے گی ۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

    ( کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت کو حیض یا نفاس آتا ہے نہ تو وہ روزہ رکھتی ہے اور نہ ہی نماز پڑھتی ہے ) ۔

    اس لیے اس پر اس حالت میں روزہ رکھنا لازم نہيں اورعلماء کرام کا اجماع ہے کہ اگر وہ رکھ بھی لے تو اس کا روزہ صحیح نہيں ہوگا ، بلکہ اس پر اس کی قضاء ضروری ہے ۔ واللہ اعلم . الاسلام سوال وجواب

    فیڈ بیک