کیا بیوی کے حج کا خرچہ خاوند کے ذمہ ہے

مُفتی : محمد صالح

وصف

کیا اگرمسلمان کے پاس بیوی کوحج کرانے کے لیے مال ہوتو توکیا اس پراپنی بیوی کوحج کرانا واجب ہے ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    کیا بیوی کے حج کا خرچہ خاوند کے ذمہ ہے

    هل يلزم الزوج نفقة حج زوجته؟

    [ اردو- أردو - urdu ]

    شیخ محمد صالح المنجد

    ترجمہ: اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    تنسیق: اسلام ہا ؤس ویب سائٹ

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب
    تنسيق: موقع islamhouse

    2012 - 1433

    کیا بیوی کے حج کا خرچہ خاوند کے ذمہ ہے

    کیا اگرمسلمان کے پاس بیوی کوحج کرانے کے لیے مال ہوتو توکیا اس پراپنی بیوی کوحج کرانا واجب ہے ؟

    الحمد للہ

    خاوند کے مالدار ہونے کے باوجود بھی اس پربیوی کوحج کا خرچہ برداشت کرنا واجب نہیں ، بلکہ یہ مستحب اورافضل ہے جس پر اسے اجر وثواب ملے گا اوراگر وہ یہ کام نہیں کرتا تو اسے کوئ گناہ نہیں ۔

    اس لیے کہ نہ توقرآن مجید نے اورنہ ہی سنت نبویہ نے ہی اسے واجب کیا ہے ، اوراسلام نے بیوی کے لیے مہر مقرر کیا ہے جوکہ صرف خالصتا بیوی کا ہی حق ہے اوراسے اپنے مال میں تصرف کرنے کی اجازت دی ہے ۔

    شریعت نے خاوند کے ذمہ واجب کیا ہے کہ وہ بیوی پر اچھے اوراحسن طریقے سے خرچ کرے اورپھر خاوند پر شریعت نے اس کی دیت ادا کرنی بھی واجب نہیں کیااور اسی طرح بیوی کی جانب سے زکاة بھی خاوند پر واجب نہیں اورنہ ہی حج کا خرچہ وغیرہ بھی ۔

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی سے مندرجہ ذيل سوال کیا گیا :

    اگر بیوی حج کیے بغیر فوت ہوجاۓ اورخاوند کسی کواس کی طرف سے حج کرنے پر وکیل بناۓ توکیا خاوند کواجروثواب حاصل ہوگا ۔۔۔۔۔۔؟

    شیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :

    افضل تو یہ ہے کہ خاوند فوت شدہ بیوی کی جانب سے خود حج کرے تا کہ وہ واجب کردہ مناسک کوصحیح طور پرادا کرسکیں ۔۔۔

    پھر اسی جواب میں آگے کہتے ہیں کہ اوررہا وجوب کا مسئلہ توخاوند پر واجب نہيں ہے ۔

    ماہانہ ملاقات ( اللقاء الشہری ) نمبر ( 34 ) سوال نمبر ( 579 ) ۔

    توجب فوت شدہ بیوی کی جانب سے خاوند پر واجب نہیں تو اسی طرح اس کی زندگی میں بھی اس پر بیوی کو حج کرانا واجب نہیں ۔

    یہ توتھا واجب ہونے کے اعتبار سے ، لیکن نیکی اورمعاشرتی بہتری کے اعتبار سے یہ ہے کہ اگروہ یہ کام کرتا ہے تواسے اجروثواب حاصل ہوگا اورپھر اللہ تعالی محسنین کا اجروثواب ضائع نہیں کرتا تواللہ تعالی اس کےحج کا اجر وثواب خاوند کودے گا ۔

    فقھاء رحمہم اللہ نے یہ ذکر کیا ہے کہ مثلا: خاوند پر اس حالت میں بیوی کے حج کا خرچہ واجب ہے جب اس نے بیوی کے ساتھ تحلل اول سے قبل زبردستی جماع کرکے اس کا حج فاسد کیا ہو ۔

    شیخ عبدالکریم زيدان کا کنہا ہے :

    بیوی کے حقوق میں سے خاوند کےذمہ یہ نہیں کہ وہ بیوی کے حج کا خرچہ برداشت کرے یا اس کے خرچہ میں شراکت کرے ۔ المفصل فی احکام المراة ( 2 / 177 ) ۔

    اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی سے اس مسئلہ کے بارہ میں سوال کیا گیاتو توان کا جواب تھا :

    خاوند پر بیوی کے حج کا خرچہ ادا کرنا واجب نہیں ، یہ توخاوند کے بارہ میں ہے لیکن اگر عورت کے پاس اتنا مال ہو جوحج کے لیے کافی ہے توعورت پر حج واجب ہوگا ، اوراگر اس کے پاس مال نہیں تواس پر حج واجب نہیں ہے ۔

    واللہ اعلم .