صرف اکیلے یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم

مُفتی : محمد صالح

وصف

کیامیں صرف دس محرم کا روزہ رکھ سکتاہوں یعنی اس سے ایک دن قبل یا ایک دن بعد میں روزہ نہ رکھوں ؟

Download
اس پیج کے ذمّے دار کو اپنا تبصرہ لکھیں

کامل بیان

    صرف اکیلے یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم

    حكم إفراد عاشوراء بالصيام

    [ اردو- أردو - urdu ]

    شیخ محمد صالح المنجد

    ترجمہ: اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    تنسیق: اسلام ہا ؤس ویب سائٹ

    ترجمة: موقع الإسلام سؤال وجواب
    تنسيق: موقع islamhouse

    2012 - 1433

    صرف اکیلے یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم

    کیامیں صرف دس محرم کا روزہ رکھ سکتاہوں یعنی اس سے ایک دن قبل یا ایک دن بعد میں روزہ نہ رکھوں ؟

    الحمد للہ

    شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

    یوم عاشوراء کا روزہ ایک برس کے گناہوں کا کفارہ ہے ، اکیلا دس محرم کا روزہ رکھنا مکروہ نہيں ۔ دیکھیں الفتاوی الکبری جلد نمبر ( 5 ) ۔

    ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    صرف اکیلا عاشوراء کا روزہ رکھنے میں کوئي حرج نہيں ۔ دیکھیں کتاب : تحفة المحتاج باب صوم التطوع جلدنمبر ( 3 ) ۔

    یہی سوال لجنة الدائمة سے کیاگيا تواس کا جواب تھا :

    یوم عاشوراء کا اکیلا روزہ رکھنا جائز ہے ، لیکن افضل اوربہتر یہ ہے کہ اس سے دن قبل یا بعد میں بھی روزہ رکھا جائے ، کیونکہ یہ سنت طریقہ ہے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت بھی ہے ۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اگر میں اگلے برس تک باقی رہا تو نومحرم کا روزہ رکھوں گا ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1134 ) ۔

    ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں کہ : دس کے ساتھ نومحرم کا بھی ۔

    اللہ تعالی کی توفیق بخشنے والا ہے ۔

    دیکھیں: اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة الافتاء ( 11 / 401 ) ۔

    واللہ اعلم .