وصف

ہم ہر ماہ كے آخرى اتوار تقريبا تيس يا اس سے زيادہ عورتيں اكٹھى ہو كر قرآن خوانى كرتى ہيں اور ہر ايك تقريبا ايك سپارہ پڑھ كر ايك يا ڈيڑھ گھنٹہ ميں مكمل قرآن ختم ہو جاتا ہے، ہميں كہا جاتا ہے كہ اس طرح ہر ايك كے ليے ـ ان شاء اللہ ـ پورا قرآن شمار ہو گا، كيا يہ كلام صحيح ہے ؟
اس كے بعد ہم دعا كرتى ہيں كہ اللہ تعالى اس قرآن خوانى كا ثواب زندہ اور فوت شدگان مومنوں كو پہنچے تو كيا يہ ثواب ان كو پہنچتا ہے ؟
وہ اس كى دليل نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا درج ذيل فرمان بناتے ہيں:
\” جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس كے عمل منقطع ہو جاتے ہيں ليكن تين قسم كے نہيں، صدقہ جاريہ يا فائدہ مند علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائيں يا نيك و صالح اولاد جو اس كے دعا كرے \”
اسى طرح وہ عيد ميلاد النبى مناتے ہيں جو صبح دس بجے شروع ہو كر شام تين بجے تك رہتى ہے، اس ميں ابتدا استغفار اور حمد و تسبيح اور تكبير اور نبى صلى اللہ عليہ وسلم پر درود و سلام سے ہوتى ہے اور پھر قرآن پڑھتے ہيں، اور بعض عورتيں اس دن روزہ بھى ركھتى ہيں تو كيا اس دن كو يہ سارى عبادات كے ليے مخصوص كرنا بدعت شمار ہوتا ہے ؟
اسى طرح ہمارے ہاں ايك بہت لمبى دعا ہے جو سحرى كے وقت كى جاتى ہے جو اس كى استطاعت ركھتا ہو اس دعا كا نام \” دعاء رابطہ \” ہے يہ دعا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر دورد و سلام اور آپ كى جماعت پر رحمت اور سارے انبياء اور امہات المؤمنين اور صحابيات پر سلام اور خلفاء راشدين اور تابعين عظام اور اولياء و صالحين پر رحمت كى دعا كے ساتھ ہر ايك اپنا نام ذكر كرتا ہے.
اور كيا يہ صحيح ہے كہ ان سب ناموں كا ذكر كرنے سے وہ ہمارا تعارف كر ليتے ہيں اور جنت ميں ہميں پكارينگے، كيا يہ دعاء بدعت ہے ؟
ميں تو يہى سمجھتى ہوں كہ يہ بدعت ہے، ليكن اكثر عورتيں ميرى مخالفت كرتى ہيں، اگر ميں غلطى پر ہوں تو كيا اللہ مجھے سزا ديگا، اور ميں حق پر ہوں تو مجھے بتائيں كہ ميں انہيں كيسے مطمئن كر سكتى ہوں ؟
ميں اس مسئلہ سے بہت پريشان ہوں جب بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى درج ذيل حديث ذہن ميں آتى ہے تو ميرى پريشانى اور غم اور بھى زيادہ ہو جاتا ہے:
نبى كريم صلى اللہ عليہ و سلم كا فرمان ہے:
\” ہر نيا كام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہى ہے، اور ہر گمراہى آگ ميں ہے \”

فیڈ بیک