وصف

قرآن مجيد كى نص كے مطابق جب خاوند ہى بيوى كا كفيل ہے اور وہ اس كا محافظ بھى ہے اور اسے بيوى پر حكمرانى اور نگرانى كا حق حاصل ہے جيسا كہ درج ذيل فرمان بارى ميں ہے:
{ مرد عورتوں پر نگران اور حاكم ہيں اس ليے كہ اللہ تعالى نے بعض كو بعض پر فضيلت دى ہے، اور اس ليے كہ انہوں نے اپنا مال خرچ كيا ہے }النساء ( 34 ).
اس ميں كوئى شك و شبہ نہيں كہ خاوند پر واجب اور ضرورى ہے كہ وہ شرعى احكام كى پابندى كرے، ليكن يہ كيسے ہو سكتا ہے جب ايك شخص عيسائى عورت سے شادى شدہ ہو يا يہودى عورت سے نكاح كر ركھا ہو تو پھر وہ روز قيامت انہيں آگ سے كيسے بچا سكےگا ؟
اس ليے كہ غير مسلم يعنى عيسائى اور يہودى بيوى نہ تو محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر ايمان ركھتى ہے، اور نہ ہى وہ قرآن مجيد كو مانتى ہے، اور يہى دو چيزيں جہنم كى آگ سے بچانے والى ہيں، تو پھر اللہ سبحانہ و تعالى نے غير مسلم عفيفہ عورتوں سے شادى كرنا كس طرح مباح كر ديا ؟
ميرى رائے تو يہ ہے كہ مسلمانوں كو صرف مسلمان عورتوں سے ہى شادى كرنى چاہيے، كيا يہ صحيح نہيں ؟
برائے مہربانى مجھے اس سلسلہ ميں معلومات مہيا كر كے عند اللہ ماجور ہوں.

فیڈ بیک