وصف

ميں جوان ہوں اور الحمد للہ اللہ تعالى نے مجھے تقريبا چارہ ماہ سے ہدايت، مجھے بہت حيرانگى ہوتى ہے كہ لوگ بہت سارى بدعات اور غلط كاموں ميں پڑے ہوئے ہيں، اس ليے ميں مسلسل آپ كى اس ويب سائٹ كى سرچ كرتا رہتا ہوں.
اس كے بعد جناب مولانا صاحب گزارش ہے كہ ميں ايسے خاندان كا فرد ہوں الحمد للہ جس كے سب افراد نمازى ہيں، ميرى ( چودہ اور سولہ برس ) كى دو بہنيں ہيں، وہ مكمل پردہ نہيں كرتيں بلكہ صرف سر پر اسكارف اوڑھتى ہيں، اور جب ميں انہيں پردہ كے متعلق قائل كرنے كى كوشش كرتا ہوں تو ميرى والدہ راہ ميں ركاوٹ بن جاتى ہيں، حالانكہ وہ خود مكمل پردہ كرتى ہيں، مجھے كہتى ہيں: جب يہ دونوں بڑى ہو جائينگى تو مكمل پردہ اور برقع پہن لينگى.
ليكن ميں قرآن مجيد كے احكام پر عمل كرتے ہوئے كہ والدين كا احترام كرنا چاہيے خاموشى اختيار كر ليتا ہوں، ميرا سوال يہ ہے كہ:
1 - كيا ميں خاموشى اختيار كروں حتى كہ بہنيں بڑى ہو جائيں ؟
2 - كيا ميں اپنے والدين كى مخالفت كرتے ہوئے ا نكى نافرمانى كروں اور بہنوں كو پردہ كرنے پر مجبور كروں، خاص كر ميرے والدين اس وقت اس كى شديد مخالفت كرتے ہيں ؟

فیڈ بیک