وصف

اللہ تعالى آپ كو اتنى اچھى ويب سائٹ قائم كرنے پر جزائے خير عطا فرمائے، ميرے ذہن ميں جو سوال بھى ابھرا مجھے اس كا آپ كى ويب سائٹ سے جواب ضرور ملا.
اس وقت ميرا سوال والدہ كے ساتھ حسن سلوك اور صلہ رحمى كرنے كے متعلق ہے، ميرى عمر تقريبا بيس برس سے زائد ہے اور ہم پانچ بھائى ہيں سب ايك ہى گھر ميں والدہ كے ساتھ رہائش پذير ہيں، دس برس گيارہ برس قبل ہمارے والد صاحب فوت ہوئے تو ہمارى والدہ نے ہمارے سارے تعليمى اور معاشى اخراجات خود اٹھائے اور اس طرح ہم نے گريجويشن كر ليا.
الحمد للہ اللہ كے فضل و كرم سے گھر كے سارے اخراجات اور بھائيوں كے اخراجات بھى ميں برداشت كرتا ہوں، ليكن درج ذيل دو اشياء كے بارہ ميں دريافت كرنا چاہتا ہوں:
اول:
ايك بار بہت بڑى رقم جو ميں نے جمع كر ركھى تھى ميرى والدہ نے خرچ كر لى كيونكہ ميرے ماموں كى مالى حالت بہت تنگ تھى تو والدہ نے وہاں رقم خرچ كر دى تو اس وقت ميں بہت ناراض ہوا كہ والدہ نے مجھے بتائے بغير ميرے پيسے وہاں صرف كر ديے.
ليكن ميں نے ناراضگى كے متعلق والدہ كو نہيں بتايا اور اس رقم كے متعلق ميں نے والدہ سے كوئى باز پرس بھى نہيں، گويا كہ كچھ ہوا ہى نہ ہو.
ليكن اس كے كئى ماہ بعد ميرى بڑى بہن كو آپريش كى بنا پر بہت زيادہ مالى تنگى سے گزرنا پڑا، تو اس وقت بھى والدہ نے پہلا جيسا عمل ہى كيا، اور جو رقم ميں نے دوبارہ جمع كى تھى وہ بھى مجھے بتائے بغير وہاں خرچ كر دى. ميں نے سوچا كہ مجھے اس سلسلہ ميں خاموش نہيں رہنا چاہيے بلكہ بات چيت كرنى چاہيے تاكہ پھر دوبارہ ايسا نہ ہو، ميں نے بات كى تو والدہ نے كہا آپ كى بہن كو پيسوں كى ضرورت تھى تو ميں نے اسے دے ديے اور تجھے بتانا بھول گئى تو ميں نے والدہ سے كہا كہ ميرے علم كے بغير آپ ميرے پيسے خرچ مت كيا كريں، تو والدہ نے خاموشى اختيار كر لى ليكن مجھے بعد ميں محسوس ہوا كہ والدہ كے ساتھ مجھے ايسا نہيں كرنا چاہيے تھا.
ميرا سوال يہ ہے كہ آيا ميرى والدہ كو ميرے مال ميں ميرے علم كے بغير تصرف كا حق حاصل ہے ؟
ميں نے يہ بات صرف اس ليے كى كہ دوبارہ ايسا نہ كيا جائے، كيا ميرا يہ عمل اور والدہ كو كہنا غلط تو نہيں تھا ؟
دوم:
دوسرا سوال اوپر بيان كردہ معلومات اور نيت كے متعلق ہے: ميں نے نيت كر ركھى تھى كہ گھر كے سارے اخراجات اور بھائيوں كا خرچ اللہ كے ليے ميں خود ہى برداشت كرونگا، تاكہ والدہ سے صلہ رحمى اور حسن سلوك كر سكوں، اكثر اوقات ميرے اور والدہ كے مابين كسى چيز ميں بہت زيادہ اختلافات ہو جاتے ہيں، ان اختلافات كے بعد مجھے شيطانى وسوسہ سا ہوتا ہے كہ تمہارى نيت خالص اللہ كے ليے نہ تھى، اور خاص كر جب يہ اختلافات پيسوں اور خرچ كرنے كے طريقہ كے بارہ ميں ہوتے ہيں، ميں ڈرتا ہوں كہ كہيں ميرى نيت ميں فتور تو نہيں برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ ميں اپنى نيت كو كيسے كنٹرول كر سكتا ہوں تا كہ شيطانى وسوسوں سے بچ كر خالصتا اللہ كے ليے نيت ركھوں ؟

فیڈ بیک