وصف

ميں روزہ كے متعلق وسوسہ كى شديد بيمارى ميں مبتلا ہوں جس كا بشرى عقل تصور بھى نہيں كر سكتى، رمضان المبارك ميں جب ميں روزہ كى حالت ميں ہوتى ہوں تو چھوٹے سے چھوٹے سبب كى وجہ سے كئى قسم كے وسوسے پيدا ہوتے ہيں، فجر سے قبل اور بعد ميں يہى ہوتا ہے كہ ميرا روزہ صحيح نہيں، اور بعض اوقات تو مغرب سے قبل بھى پيدا ہوتا ہے.
جس كى بنا پر ميں نے اس دن كا روزہ بھى ركھا ہوتا ہے ليكن پھر بھى نيت كرتى ہوں اس دن كا روزہ دوبارہ ركھوں گى، اور جب رمضان المبارك ختم ہو جاتا ہے تو دل ميں كہتى ہوں كہ صرف رہنے والے روزے ہى ركھونگى كيونكہ باقى ايام كے روزے تو ركھے تھے.
ليكن مجھے دوبارہ وسوسے گھير ليتے ہيں كہ ميں نے تو روزے دوبارہ ركھنے كى نيت كى تھى، اب مجھے يہ پتہ نہيں چلتا كہ آيا ميں يہ روزے دوبارہ ركھوں يا كہ اللہ تعالى سے وہى روزے قبول كرنے كى دعاء كروں ؟
اس پر مستزاد يہ كہ رجب، شعبان اور رمضان ميں مجھے طہر اور پاكى ہونے كے بعد پھر زرد قسم كا مادہ آيا تھا، اور پھر اس كے بعد كسى بھى ماہ نہيں آيا يعنى ان تين ماہ كے بعد ماہوارى سے پاك ہونے كى نشانى كے بعد كوئى زرد قسم كا مادہ يا گدلا پانى نہيں آيا، جو ان وسوسوں كا بہت زيادہ ممد و معاون ثابت ہوا ہے، اور رمضان كے بعد ان وسوسوں كى بنا پر ميرے بہت سے ايام ضائع ہوئے كبھى تو ميں نيت ہى نہ كر سكى، اور كبھى دو نيتيں ہو گئيں، يہ چيز ميرے حلق ميں اٹكى ہوئى ہے، اور رمضان المبارك پھر قريب آ گيا ہے، ليكن ميں پچھلے رمضان كى قضاء بھى نہيں كر سكى، ميں اس حالت ميں پہنچ چكى ہو جو اللہ كے علاوہ كسى كو علم نہيں، برائے مہربانى مجھے اس مسئلہ ميں معلومات فراہم كريں.

فیڈ بیک