وصف

ميرا سوال طلاق ميں وسوسہ كے متعلق ہے: ميرا ايك لڑكى سے عقد نكاح ہوا ہے اور ميں اس سے بہت محبت كرتا ہوں عقد نكاح كے ايك روز بعد شطيان نے نماز ميں مجھے طلاق كا وسوسہ ڈالا كام پر ہوؤں يا گھر ميں يا بيت الخلا ميں يا سويا ہوا ہوں يہى وسوسہ رہتا ہے.
ايك دن ميں العفاسى چينل ديكھ رہا تھا جس ميں ازدواجى زندگى كے بارہ ميں ايك ويڈيو كلپ تھا جس ميں خاوند اور بيوى كے مابين پيدا ہونے والى مشكلات بيان ہوئى ہيں ايك شخص كہنے لگا: ميں جانے والا ہوں تو ميں نے اسے سنا اور آواز كے ساتھ دھرايا تجھے طلاق، ليكن مجھے كوئى علم نہيں اور نہ ہى ادراك تھا، اللہ ميرى نيت كو جانتا ہے ميں نے بغير شعور كے يہ الفاظ بولے.
اور ميرى نيت ميں ميرى بيوى كے متعلق كوئى چيز بھى نہ تھى بلكہ ميں تو اسے محبت كرتا اور چاہتا ہوں اس سلسلہ ميں شرعى حكم كيا ہے جس حالت ميں يہ الفاظ بولے ہيں آيا طلاق واقع ہوئى ہے يا نہيں اور اس وسوسہ كا علاج كيا ہے ؟

فیڈ بیک