وصف

ميں نے سوال نمبر ( 2803 ) كے جواب ميں پڑھا جس ميں آپ نے سوال كرنے والى كو اپنى شادى كے اعلان كى نصيحت كى ہے كيونكہ يہى سنت ہے جيسا كہ ميں نے ايك دوسرے سوال ميں پڑھا ہے كہ كئى ايك اسباب كى بنا پر والدين نے اپنے بيٹے يا بيٹى كى شادى كى رغبت كو ٹھكرا ديا ہے تو اس سلسلہ ميں آپ اس بہن كو كيا نصيحت كرتے ہيں:
ايك عورت جس كا خاوند ہندو ہے اس كو طلاق ہو چكى اور پھر اس عورت نے اسلام قبول كر ليا كيونكہ وہ حق كو پہچان گئى اور اسے صراط مستقيم كى راہنمائى حاصل ہو گئى ہے الحمد للہ.
اس نے اپنے خاندان والوں سے كسى معروف سبب كى بنا اپنا اسلام مخفى ركھا، ليكن اس كے دونوں بچے ابھى تك ہندو ہى ہيں، اس ليے كہ اس كا سابقہ خاوند اسلام دشمن ہونے كى بنا پر بيوى كو قتل كرنا بہتر سمجھتا ہے كہ اس كے دونوں بچے اسلام قبول كر ليں، وہ شخص دين اسلام اور اللہ سبحانہ و تعالى پر كئى ايك موقع پر سب و شتم بھى كر چكا ہے.
يہ بہن اب ايك دين والے مسلمان شخص كو پسند كرتى ہے جو اخلاق عاليہ كا مالك ہے، ليكن مشكل يہ درپيش ہے كہ اس شخص كے والدين اس شادى كے خلاف ہيں، اس كى والدہ كا اعتقاد ہے كہ جو نئے مسلمان ہوتے ہيں وہ اچھے نہيں ہوتے بلكہ وہ كہتى ہے " يہ ممكن ہى نہيں ہو سكتا كہ وہ كسى دن ہم ميں سے ہوں "
جب وہ شادى كا فيصلہ كرے تو كيا دونوں كے ليے اس شادى كو ان اسباب كى بنا پر خفيہ ركھنا جائز ہے ؟
جو شخص اس عورت سے شادى كرنا چاہتا ہے وہ ان دونوں بچوں كو اپنے ساتھ ركھنے پر متفق ہيں، اور وہ انہيں اسلام كى دعوت دے كر انہيں مسلمان بنائيں گے، وہ شخص كہتا ہے كہ ايك ہى گھر ميں دو دين پر عمل نہيں ہو سكتا.
ان دو مشكلات كى موجودگى ميں وہ دونوں كس طرح زندگى بسر كر سكتے ہيں، يعنى خاوند كى جانب سے گھر والوں كى مشكل، اور بيوى كى جانب سے سابقہ خاوند جو اپنے بچوں كو اسلام ميں داخل نہيں ہونے ديتا، اور ميرى يہ سہيلى بچوں كى پرورش كا حق چھنوانا نہيں چاہتى كيونكہ ان كا باپ برے اخلاق كا مالك ہے اور ان پر ظلم و زيادتى كريگا.
برائے مہربانى اس بہن كو جلد از جلد كوئى ايسى نصيحت كريں جو اس كو مشكلات سے نكالنے كا باعث بن سكے، كيونكہ وہ رات كو بھى سو نہيں سكتى، و صلى اللہ علي نبى محمد عليہ السلام.

فیڈ بیک