وصف

ميں ايك مہاجر مسلمان ہوں اور اٹھارہ برس سے ايك عورت كے ساتھ شادى شدہ ہوں، ميرا كام ہى ايسا ہے كہ مجھے اكثر سفر پر جانا پڑتا ہے، اور بيوى اكيلى رہتى ہے، جب ميں ايك بار سفر سے واپس آيا تو بيوى نے مجھے بتايا كہ اس كے پاس ايك شخص آيا اور اس نے اس سے بوس و كنار كيا اور كہنے لگا تم بہت چھوٹى ہو.
آج اس واقعہ كو اٹھارہ برس گزرنے كے بعد بيوى نے مجھے بتايا ہے كہ وہ شخص اس كے پاس آيا اور بوس و كنار كرنے كے ساتھ ساتھ مجامعت بھى كى اور وہ اس كے سامنے زير ہو چكى تھى، اب ميں بہت ذلت محسوس كر رہا ہوں اور شديد غصہ ميں ہوں كيونكہ اس نے مجھے دھوكہ ميں ركھا اور اصل حقيقت نہيں بتائى، اور اس موضوع سے مجھے لاعلم ركھا.
اس كى بنا پر ميں نفسياتى طور پر تباہ ہوگيا ہوں اور نماز تك كے ليے مسجد جانے كى رغبت بھى نہيں ركھتا، برائے مہربانى مجھے يہ بتائيں كہ ميں كيا كروں، آيا ہمارى شادى شرعى ہے، يا كہ ميں اسے طلاق دے دوں ؟
اللہ سبحانہ و تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

فیڈ بیک