وصف

ميں شادى شدہ ہوں اور ميرے تين بچے بھى ہيں، ميرا خاوند ہميشہ دعوى كرتا ہے كہ ميں اس كى اطاعت نہيں كرتى اور جھگڑا رہتا ہے، بعض اوقات تو جھگڑے كے آخر ميں ايسے الفاظ نكال ديتى ہوں جو متقى لوگوں كى زبان سے صادر نہيں ہوتے، اور اسى فيصد حالت ميں مجھے محسوس ہوتا ہے كہ ميں ايك برى عورت ہوں، اور رات بھر مجھ پر فرشتے لعنت كرتے رہتے ہيں.
ميں محسوس كرتى ہوں كہ چاہے ميرى غلطى نہ بھى ہو پھر بھى معذرت كر لوں تو اس طرح مجھے كچھ راحت حاصل ہوتى ہے، ليكن جب ميرا خاوند كہتا ہے كہ ميں ہميشہ شكوى و شكايت ہى زبان پر لاتى ہوں تو مجھے گناہ كا احساس ہوتا ہے، اگر ميں خاوند كى سب باتيں بيان كروں جو وہ كہتا رہتا ہے تو كئى گھنٹے لگ جائيں.
ميرا خاوند مبالغہ كرتا ہوا كہتا ہے كہ وہ ايك مرد بننا چاہتا ہے تو ميں نے اسے كہا: تو پھر جيسے آيت ميں آيا ہے ہم عليحدہ كيوں نہيں ہو جاتے، ميں اس زندگى ميں كوئى سعادت نہيں پا رہى، اور نہ ہى خاوند اس زندگى سے خوش ہے.
ميں يہ محسوس كرتى ہوں كہ ميرا خاوند اپنے ساتھ بھى سچائى نہيں برت رہا كيونكہ اگر ميں اس كى اطاعت نہيں كرتى اور ہميشہ شكوى شكايت كى كرتى رہتى ہوں اور مردوں كى طرح تصرف كرتى ہوں، اگر ايسا ہى ہے تو پھر اس نے مجھے ابھى تك اپنے ساتھ كيوں ركھا ہوا ہے ؟ برائے مہربانى ميرى مدد كريں، اور كوئى نصيحت فرمائيں كيونكہ ميں اللہ اور اپنے خاوند كو ناراض نہيں كرنا چاہتى، وہ كہتا ہے ميں اسے ہر روز ناراض كرتى اور اس سے لڑائى جھگڑا كرتى ہوں، ميں اللہ سے بخشش كى طلبگار ہوں اللہ سبحانہ و تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

فیڈ بیک