وصف

ميرے والد نےوفات سے ايك برس قبل ہميں تين لڑكيوں اور ايك لڑكے كواس كے خاص مالي حساب وكتاب كےاوراق ديے جوانہوں نے ہمارے ليے ہم سے كئي برس دور رہ كر كتني مشكلات سے جمع كيے ، ہم سب جانتے ہيں كہ انہوں نے ہمارے ليے يہ سب كچھ كرنے ميں كتني مشكل اٹھائي اس ليے احتراما ہم ميں سےكسي ايك نے بھي يہ جرات نہيں كي كہ اس مال ميں سے ان كے پوچھےبغير كچھ رقم نكلوائے .
ميرےبھائي اور بہن كےدرميان جھگڑا ہوا جس كي بنا پر بھائي نے اكاؤنٹ سےساري رقم نكلوا لي ، والد مرحوم لڑكيوں كي طرف داري ميں تھے جس كي بنا پر بھائي ( اللہ اسے معاف فرمائے) نے وہ ساري رقم نكلوا لي جووالد صاحب نےاس كے اكاؤنٹ ميں ركھي تھي اور اس كےكاغذات بھي اسے دے ديے تھے، اور جب بھائي كواس وصيت كا علم ہوا تواس نے اس كےخلاف دعوي دائر كرديا جس ميں اس نے وصيت اور اس كي مشروعيت ميں كيڑے نكالنے كي كوشش شروع كردي .
جب والد صاحب كوبنك سے اس كا علم ہوا توانہيں بہت شديد صدمہ پہنچا ، اور اسے رقم واپس كرنے كا كہا اس ليے كہ انہيں بيماري ميں رقم كي ضرورت ہے ليكن بھائي نے والد صاحب كورقم واپس كرنے سے انكار كرديا جس كا والد صاحب پر بہت برا اثر ہوا ، اور والد صاحب بھائي پر ناراضگي كي حالت ميں ہي فوت ہوگئے ، صحيح ہوش وحواس ميں رہتے ہوئے انہوں نے وفات سے قبل بيٹيوں كےليے ايك تہائي كي وصيت لكھ دي يہ وصيت بھائي كےليے بطورسزا تھي .
ميں نے خود بھي يہ وصيت ماننے سے انكار كرديا تھا كيونكہ ميں اس وصيت پر خوش نہيں تھي اور ميں نے صرف اپنا شرعي حق ليا اور اپني بہنوں كي بھي نصيحت كي كہ اس وصيت كوچھوڑ ديں تا كہ اگر والد صاحب كسي غلطي ميں پڑے ہوں تو ہم اس شك سے بھي نكل سكيں ، اور اسي طرح بھائي كےساتھ بھي صلہ رحمي قائم رہے جيسا كہ اللہ تعالي نے ہميں حكم بھي ديا ہے ، ليكن انہيں اس پر مطمئن كرنے كي ميري كئي كوشش كامياب نہ ہوسكيں اور انہوں نے اس وصيت پر عمل كرنے كےليے مقدمہ بازي كا راستہ اختيار كر ليا .
ميري والدہ مرحومہ كےآنسو بھي انہيں اس مطالبہ سے باز نہ ركھ سكے ، ميں نے بھائي كےساتھ بھي كئي ايك بار كوشش كي كہ وہ والد صاحب كے نام اور شہرت كي حفاظت كي خاطر بہنوں كےساتھ مقدمہ بازي ميں نہ پڑے ليكن اس ميں بھي كامياب نہ ہوسكي ، اور اسے كہا كہ يہ سب كچھ وہ اپنے ليے دنيا ميں ان اعمال كي سزا تصور كرلے جو كچھ اس نے والد صاحب كے ساتھ كيا تھا ، ليكن اس نے جو اپنا حق سمجھ ركھا تھا اس سے پيچھے ہٹنے سے انكار كرديا ، اور دونوں فريق مجھے يہ كہنا شروع ہوگئے كہ تم حق كا ساتھ نہيں ديتي ، ميں نے ابتدا سے ہي اس جھگڑے ميں نہ پڑنے كا فيصلہ كرليا اور وكيل كےذريعہ اس معاملہ سے انكار كرتي رہي .
ميري گزارش ہے كہ اس بارہ ميں آپ جوشرعي حكم ديكھتے ہيں وہ بيان كريں اور ميري بہنوں كا اس ميں شرعي حق كيا ہوگا ، اور ان كےمتعلق ميرے كيا واجبات ہيں ميري صلہ رحمي كي كئي ايك كوشش كےباوجود انہوں نے ميرے بارہ ميں موقف اختيار كرركھا ہے ؟

فیڈ بیک