وصف

الحمد للہ ميں دو يا تين برس سے مسلمان ہو چكى ہوں يونيورسٹى ميں اپنے كلاس فيلو سے متاثر ہوئى اور پھر ہم ايك دوسرے كو پسند كرنے لگے، اور ميں نے اسلام قبول كر ليا اور اب ہم شادى كى رغبت ركھتے ہيں، كيونكہ خاندان كافر ہے اس ليے وہ ان تعلقات كى مخالفت كرتا ہے، اور اسى طرح اس نوجوان كے والدين كى بھى يہى حالت ہے، ميرے والدين كو ميرے اسلام قبول كرنے كا كوئى علم نہيں، كيونكہ نے اسلام ظاہر نہيں كيا اور خفيہ طور پر اسلامى امور پر عمل كرتى ہوں.
اور ميں آپ كو يہ بھى معلومات دينا چاہتى ہوں كہ ميں مذكورہ نوجوان سے شادى كر كے ايك اسلامى زندگى بسر كرنا چاہتى ہوں، ميں كسى كافر شخص سے شادى نہيں كرنا چاہتى ميرے والدين چاہتے ہيں كہ ميں اپنے ملك واپس جا كر ايسے شخص سے شادى كروں جو ان كے دين پر ہى عمل كرتا ہے.
كيا ہمارى شادى كے ليے ہمارے والدين كى موافقت ضرورى ہے، اور كيا ان كے علم كے بغير ہمارى شادى ممكن ہے يا كہ اسے ان كى اجازت تك مؤخر كر ديا جائے، مجھے خدشہ ہے كہ اگر ميرے والدين كو پتہ چل گيا كہ ميں مسلمان ہو گئى ہوں تو وہ زندگى سے ہاتھ دھو بيٹھيں گے اور مر جائينگے، كيونكہ وہ مسلمانوں كو ناپسند كرتے ہيں، اور ميں نہيں جانتى كہ انہيں كيسے مطمئن كيا جائے، كيا ميرى شادى كے ليے انہيں مطمئن كرنا ضرورى ہے، يا كہ ميرے ليے ان كى رغبت كى مخالفت كرنا جائز ہے ؟

فیڈ بیک