وصف

دينى امور كا التزام اور نفل و نوافل كا خيال ركھنے، اور حسب استطاعت اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرنے والا شخص بچپن سے ہى ايك بيمارى كا شكار ہے، كہ وہ عورتوں جيسا لباس پہن كر اپنى خواہش پورى كرنے كا عادى ہے، كيا وہ اس فعل كى بنا پر گنہگار ہے ؟
دين كا التزام كرنے كى بنا پر بالفعل وہ اس بيمارى سے رك گيا، ليكن ابھى تك اس كى سوچ عورتوں كے ماتحت ہے اور ان سے مشابہت اختيار كرنے كے ساتھ منى يا مذى خارج ہونے كا امكان بھى ہے، تو كيا اس سے گناہ ہو گا ؟
اور كيا بغير انزال كے صرف افكار و سوچ سے بھى گناہ ہوتا ہے ؟
اور اگر اس كا حل شادى ہے تو كيا وہ اپنى بيوى كو بتا دے ، يا اگر بيوى موافق ہو تو كيا اس كے ساتھ مشابہت وغيرہ كر سكتا ہے ؟
آپ سے گزارش ہے كہ تفصيلى جواب ديں، اللہ كى قسم كتنى بار وہ اس سے توبہ كر چكا ہے، ليكن اس كا نفس پھر غالب آ جاتا ہے، اور غالبا وہ شہوت اس ميں صرف كر رہا ہے، ہميں معلومات فراہم كريں، اللہ كى قسم مجھے اپنے دين كا خطرہ پڑ گيا ہے.

فیڈ بیک