وصف

ميرى شادى كوتيرہ برس ہو چكے ہيں اور ميرى دو بيٹياں ايك كى عمر گيارہ اور دوسرى كى نو برس ہے، كئى ہفتے قبل مجھ پر اچانك انكشاف ہوا كہ گھر كے ٹيلى فون پر غير معروف نمبر پر لمبى لمبى ٹيلى فون كاليں ہوئى ہيں.
اس كے بعد مجھے علم ہوا كہ ميرى بيوى كے پاس خفيہ طور پر موبائل ٹيلى فون بھى ہے، اور اس سے بھى زيادہ خطرناك بات يہ كہ ميرے علم كے بغير بيوى گھر سے باہر جاتى ہے.
جب ميں اس سے دريافت كرتا ہوں يا تو وہ انكار كر ديتى ہے، يا پھر تسلى بخش جواب نہيں دے سكتى، ميں نے سسرال والوں سے اس كى شكايت كى ليكن اس سے بھى كوئى فائدہ نہ ہوا، اس كے مسلسل انكار كہ اس سے كوئى غلطى سرزد نہيں ہوئى اور قوى شخص نہ ہونے كى بنا پر بالآخر مجھے اپنے موبائل پر كئى كاليں موصول ہوئيں.
اس ميں بتايا گيا كہ ميرى بيوى نے اپنے عاشق سے بہت سارى رقم چورى كى ہے، پھر اس شخص نے مجھ سے ملاقات بھى كى اور يہ دعوى كيا كہ اس نے ميرى بيوى كے ساتھ ميرے ہى گھر ميں كئى بار زنا بھى كيا ہے.
اس شخص نے ميرے گھر كا باريك بينى سے پورا نقشہ بھى بتايا، اور ازدواجى راز بھى بتائے جسے ميں اور بيوى كے علاوہ كوئى اور شخص نہيں جانتا تھا، وہ راز ميرے اور بيٹيوں اور بيوى كے خاندان والوں كے متعلق تھے، اور ميرے بيڈ روم كے قالين اور فرش كے متعلق بھى بتايا.
اور اسى طرح بيوى كے موبائل نمبر كا بھى جسے ميں بالكل نہيں جانتا تھا كہ موبائل بھى بيوى كے پاس ہے، اور ہمارے ازدواجى اختلافات بھى بتائے، اور ميرے اور ميرے گھر والوں كے بارہ ميں جھوٹى باتيں بھى.
پھر اس شخص نے دعوى كيا كہ ايك بار زنا كے بعد ميرى بيوى نے اس كى رقم بھى چورى كر لى، اس سے بڑھ كر مصيبت يہ ہے كہ وہ اب تك انكار كرتى ہے اور ان معلومات كے بارہ ميں كوئى بات نہيں كرتى جو كہ تفصيلى اور صحيح ہيں!!
وہ اس اعتبار سے طلاق كا بھى انكار كرتى ہے كہ اس لعنتى شخص كى قربانى بن رہى ہے!! بعض اوقات وہ ميرے سامنے توبہ ظاہر كرتى اور قرآن مجيد كى تلاوت كرتى ہے، اور بعض اوقات مجھے چھوٹى سى بات پر بھى گالياں دينے لگتى ہے!!
ہمارے درميان مشكلات بڑھ رہى ہيں، اور ازدواجى زندگى كا قائم رہنا محال ہو چكا ہے، بيٹياں زندگى تباہ كر رہى ہيں اور ميرى نفسياتى حالت بھى بہت خراب ہے، اور اسى طرح ملازمت ميں بھى ميرا مورال كم ہو رہا ہے.
دسيوں بار نماز استخارہ ادا كرنے كے بعد ميں اسے اپنى بيوى بنانے پر تيار نہيں ہوا، اس ليے ميرے سامنے يہى راہ رہا ہے كہ راضى و خوشى طلاق پر سمجھوتہ كيا جائے، ليكن اس كى مالى شروط بہت ہى زيادہ ہيں اس ليے كہ وہ اپنے آپ كو برى سمجھتى ہے اور طلاق سے انكار كرتى ہے:
اس كے مطالبات يہ ہيں:
تيس ہزار خرچ بطور فائدہ ( متعہ ) اور پانچ ہزار باقى مانندہ مہر، بيٹيوں كے ليے بارہ ماہانہ، مكمل ازدواجى گھر كے ساز و سامان كے ساتھ فليٹ، علاج معالجہ اور تعليمى اور لباس كے اخراجات، بچوں كى پرورش كے ليے ايك ملكيتى فليٹ!!
سوالات يہ ہيں: كيا عورت كو حق حاصل ہے كہ وہ اس طرح كے مطالبات كرے، خاص كر متعہ كے اخراجات ؟
كيا مجھے لعان كرنے كا حق حاصل ہے، اور كيا مجھے حق ہے كہ ميں اسے اپنے فليٹ سے باہر نكال دوں، يا كسى اور گھر ميں منتقل ہو جاؤں ؟
جو كچھ ہوا ہے اس ميں دين اور قانون كى رائے كيا ہے اور آپ مجھے كيا نصيحت كرتے ہيں كہ مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

فیڈ بیک