وصف

ميں تئيس سالہ لڑكى ہوں اور پندرہ برس سے اپنى والدہ كے ساتھ جرمنى ميں رہائش پذير ہوں، والدين ميں طلاق كے بعد ايك برس قبل ميرى والدہ اور بھائى نے مجھے ايك شخص كے ساتھ شادى كرنے پر مجبور كيا، والدہ كا دعوى تھا كہ وہ شخص بہت مجبور ہے اور معاونت كا محتاج ہے، والدہ كے اصرار اور ہر وقت ناراضگى كى دھمكى سن كر ميرے ليے اسے قبول كرنے كے علاوہ كوئى اختيار باقى نہ رہا كيونكہ بھائى نے بھى ميرى مسؤليت ختم كرنے كا كہہ ديا تھا.
ميرى والدہ اپنے ہر معاملے كو دين كہہ كر صحيح قرار ديتى، جرمنى كى عدالت ميں يہ عقد نكاح ہو گيا اور ميں نے اس شخص كو صرف عقد نكاح كے وقت ہى ديكھا ہے اس كے بعد نہيں، كيونكہ اس طرح جرمنى كى نيشنلٹى حاصل ہو سكتى ہے، دو برس كے بعد كئى ايك كوشش كرنے كے بعد ميں نے والدہ كو طلاق لينے كا معاملہ شروع كرنے پر تيار كيا، وہ شخص آج جرمنى ميں رہنے پر قادر ہے طلاق پر راضى موافق ہوگيا جيسا كہ شروع سے ہى ميرى والدہ كے ساتھ متفق تھا.
ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا ميرے ذمہ مطلقہ كى عدت ہے اور ميں اپنے اس گناہ كا كفارہ كس طرح ادا كروں، ميں بہت پريشان ہوں، كيونكہ ميرے ليے ايك نوجوان كا رشتہ آيا ہے اور اگر ميں اسے اپنے مطلقہ ہونے كا بتاتى ہوں تو وہ مجھ سے دور ہو جائيگا، اور اگر نہ بتاؤں تو ميں اسے دھوكہ ميں ركھوں گى، مجھے خدشہ ہے كہ وہ مجھے چھوڑ دےگا، پھر يہ كہ ميں اس كے ليے كب حلال ہونگى آيا باطل شادى سے طلاق كے بعد يا كہ اس سے قبل ؟

فیڈ بیک