وصف

ميں مصرى ہوں اور ايك مصرى عورت سے شادى كى جس كے پاس كينڈا كى شہريت ہے، پھر ميں اس كے ساتھ كينڈا گيا ـ يہ علم ميں رہے كہ ميرے پاس امريكہ كى شہريت ہے ـ جب ميں كينڈا گيا تو مجھ پر انكشاف ہوا كہ بيوى كے خاندان ميں بہت سارى غير اسلامى روايات ہيں، حالانكہ ميں نے شادى سے قبل اس سے اس كے متعلق دريافت بھى كيا تھا مثلا: نماز وغيرہ.
ہمارے مابين اتفاق ہوا تھا كہ ميرا كينڈا ميں رہنے كى عدم رغبت يا وہاں نہ رہ سكنے كى صورت ميں واپس خليج چلا جاؤنگا، اور بيوى نے اس پر موافقت كى تھى، جب ميں وہاں گيا تو اس كے خاندان ميں حالات غير مطمئن ديكھے اور وہاں زندگى بسر كرنے ميں اپنے ليے خطرہ محسوس كيا، اور اسلامى امور ميں اس كے خاندان كى دخل اندازى ديكھى اور ديكھا كہ وہ ميرے اسلامى مظہر پر بھى اثرانداز ہو كر مجھے تبديل كرنے كى كوشش كرنے لگے كہ ايك ماڈرن مسلمان بن جاؤں جو پردہ وغيرہ نہ كيا جائے اور شراب كى محفل ميں بيٹھا جائے.
ميرى بيوى نے مجھے قسطوں (mortgage) پر گھر خريدنے پر راضى كر ليا، كچھ عرصہ بعد مجھے علم ہوا كہ يہ حرام ہے، اور بعض علماء نے مجبور شخص كے ليے اس كى اجازت دى ہے، لہذا ميں نے اسے فروخت كرنے كا عزم كر ليا، ليكن اس ليے نہيں كہ يہ حرام ہے بلكہ اس ليے كہ وہ راضى نہيں ہوئے، اور اسى اثناء ميں ميرى بيوى حاملہ ہو گئى تو ميں نے صبر كيا حتى كہ اس كے ہاں بچہ پيدا ہو گيا، اس كے بعد ميں نے اسے كہا چلو يہاں سے واپس خليج چلتے ہيں تو وہ بادل نخواستہ تيار ہو گئى، ليكن اس كے گھر والوں نے انكار كر ديا اور وہ اپنى ماں كى موافقت كے بغير خود كچھ بھى نہيں كر سكتى؛ كيونكہ اس كى ماں ہى گھر ميں سياہ و سفيد كى مالك ہے اور باپ كى نہيں چلتى، كئى ايك مشكلات كے بعد ميں نے كہا كہ چلو ميں اكيلا ہى واپس چلا جاتا ہوں ـ اور ان كى تجويز كى بنا پر ـ ميں نے كہا وقت فوقتا بيوى كو ملنے آ جايا كرونگا، اور جب ميں نے گھر فروخت كرنے كا كہا تو وہ پاگل ہو گئے اور گھر فروخت كرنے سے انكار كر ديا اور كہا كہ بيوى كو طلاق دے دو اور گھر فروخت كر دو، اور ميرى بيوى كو بھى ميرے خلاف كر ديا اور اسے ميرے گھر سے نكال كر لے گئے.
اسى دن اس كے بھائى نے ميرے ساتھ بات كى اور مجھ سے طلاق كا مطالبہ كيا تا كہ مجھے سفر سے روك دے، اور وكيل نے مجھے طلاق دينے كے ليے طلب كيا پھر ميرے مالى حالات كچھ سخت ہو گئے حتى كہ ميں نے اپنا گھر بھى چھوڑ ديا اور اپنى بيٹى كو بھى پرورش ميں نہ لينے پر مجبور كر ديا گيا... الخ.
ميں اب ايك اسلامى عربى ملك جانا چاہتا ہوں اور اپنى عفت و عصمت كو بچانے كے ليے شادى كرونگا ليكن اپنى بيٹى كو كينڈا ميں چھوڑوں جس كى عمر ابھى صرف ڈيڑھ برس ہے اور ميں مقروض بھى ہوں اور اپنى بچى كو اپنى پرورش ميں لينے پر قادر ہوں ليكن اس كے ليے مجھے وہاں كينڈا ميں ہى رہنا پڑيگا ليكن ميں اپنى اولاد كى پرورش اسلامى معاشرے ميں كرنا چاہتا ہوں كسى غير اسلامى معاشرے ميں نہيں برائے مہربانى كوئى نصيحت فرمائيں، اور كيا اگر ميں كينڈا ترك كر كے آ جاؤں اور كبھى اپنى بيٹى كو ملنے كے ليے جاؤں تو اللہ ميرى پكڑ كريگا اور كيا ميں اس حديث كے تحت تو نہيں آتا " آدمى كے ليے يہى كافى ہے كہ وہ اپنى پرورش اور عيالت دارى ميں رہنے والے كو ضائع كر دے " ؟

فیڈ بیک