وصف

ميں نوجوان ہوں اور تين برس قبل ميں نے اپنے سے ايك برس چھوٹى بيوى سے شادى كى، الحمد للہ ميرى اس سے دو برس كى بيٹى بھى ہے، مشكل يہ ہے كہ ہمارے درميان ابھى تك سمجھوتہ نہيں ہے، ہمارا ہميشہ آپس ميں تصادم ہى رہتا ہے كيونكہ وہ بہت غصہ والى ہے، اور اكثر اسے كوئى چيز پسند نہيں آتى اور پھر وہ بہت زيادہ شكوى شكايت كرنے والى بھى ہے، اور ميرے گھر والوں كے ساتھ سمجھوتہ نہيں كرتى.
اس پر مستزاد يہ كہ مجھے اس كے ماضى ميں شك ہے وہ شادى سے قبل يونيورسٹى ميں تعليم حاصل كرنے كے عرصہ ميں سگرٹ نوشى كرتى اور نائٹ كلب جانے والوں ميں شامل تھى، اس نے شادى سے قبل ميرے سامنے اس كا اعتراف بھى كيا تھا، اور يقين كے ساتھ كہنے لگى كہ ان امور سے تجاوز نہيں ہوا.
ليكن ايك برس قبل اچانك مجھے اس كے ذاتى كاغذات ميں سے ايك ميڈيكل سرٹيفكيٹ ملا ( اس كى تاريخ شادى سے ايك برس قبل كى ہے ) جس ميں اسے كنوارہ ثابت كيا گيا ہے، ميں نے اسے اس كے بارہ ميں دريافت كيا اور اس سے اس سرٹيفكيٹ حاصل كرنے كى وجہ دريافت كى كہ اگر وہ اپنے كنوارہ ہونے ميں شك نہيں ركھتى تھى تو پھر وہ ڈاكٹر سے يہ رپورٹ لينے كيوں گئى ؟
اس نے جواب ديا: كہ اس كى كچھ سہيلوں نے يہ كہا كہ ايسا كرنا روٹين كى بات ہے جو لڑكى اس ليے كرتى ہے كہ كہيں رخصتى كى رات كچھ خاوند حضرات مشكل كھڑى كر ديتے ہيں اس سے بچنے كے ليے ايسا كيا جاتا ہے، ليكن ميں مطمئن نہ ہوا، حالانكہ مجھے اس كے كنوارہ ہونے كا يقين تھا ليكن اس كے باوجود ميں شك ميں پڑا رہا.
آپس ميں مشكلات كى كثرت اور سمجھوتے ميں صعوبت ہونے كے ساتھ ساتھ شك كى بنا پر ميں حقيقى طور پر اسے طلاق دينے كے بارہ ميں سوچنے لگا تا كہ فتنہ و خرابى سے اجتناب كر سكوں اور اپنے اور اس پر رحم كروں.
ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا ہر حال ميں طلاق حرام ہے يا حلال، اور اگر اس حالت ميں طلاق ديتا ہوں تو كيا گنہگار شمار كيا جاؤنگا ؟
برائے مہربانى شافى جواب سے نوازيں، اور آپ كے وسعت صدر سے سوال قبول كرنے پر آپ كا شكريہ.

فیڈ بیک